About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, January 13, 2011

عمران خان کی سیاست

جمعرات ، 13 جنوری ، 2011
فضل حسین اعوان ـ
عمران خان کی تحریک انصاف اتنی نئی نہیں کہ جس کے بارے میں کہا جائے کہ ابھی تک پاکستانی اس سے متعارف نہیں ہوئے۔ نہ ہی اتنی پرانی ہے کہ پاکستانی اسے بوسیدہ قرار دے دیں۔ یہ جس بانکپن کے ساتھ پاکستان کے سیاسی آسمان پر نمودار ہوئی۔ اس کا پہلے دن کی طرح آج بھی جوبن برقرار ہے۔ اس میں کمی ہوئی نہ اضافہ۔ اس کی لیڈر شپ پر نظر ڈالی جائے تو عمران سے شروع ہو کر عمران پر ختم ہو جاتی ہے۔ بریگیڈیئر یوسف سے ملت پارٹی میں شمولیت کی وجہ پوچھی تو ان کا جواب تھا فاروق لغاری کی شرافت سے متاثر ہو کر ملت پارٹی جوائن کی۔ لہٰذا جب تک وہ ان کی شرافت اور دیانت کے قائل رہے دل و جان سے ساتھ نبھایا۔ تحریک انصاف سے وابستگان سے یہی سوال کیا جائے تو جواب ملتا ہے ’’عمران نے انتھک، کوشش جدوجہد اور دیانت سے شوکت خانم ہسپتال تعمیر کیا۔ تحریک انصاف تشکیل دی تو ہم اس میں چلے آئے‘‘۔ کھیل اور سیاست الگ الگ میدان عمل ہیں۔کھیل میں ذاتی کردار کی اتنی اہمیت نہیں جتنی سیاست میں ہے تاہم کھیل اور سیاست میں بروقت یا صحیح وقت پر صحیح فیصلے آپ کو دوسرں سے ممتاز اور منفرد کر دیتے ہیں۔ عمران کو کھیل کے میدان میں جو کامیابیاں حاصل ہوئیں سیاست میں اس کا عشر عشیر بھی ان کے حصے میں نہیں آیا۔ ان کی پارٹی میں یا تو کوئی بڑا لیڈر آیا نہیں اگر آیا تو تحریک انصاف میں آ کر چھوٹا ہو گیا اور صرف عمران خان ہی پارٹی کے واحد اور نمایاں لیڈر چلے آ رہے ہیں۔ عمران تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں میڈیا کے چند لوگوں کے سوا کتنے لوگوں کو ان کی پارٹی کے سیکرٹری جنرل کے نام سے واقفیت ہے؟ جسٹس (ر) وجیہہ الدین بڑی شخصیت ہیں انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان کراچی میں تھے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جسٹس صاحب نے تحریک انصاف جوائن کرنے کا فیصلہ کیا یا عمران کراچی اس لئے گئے کہ وجیہہ صاحب نے ان کی پارٹی میں شامل ہونا تھا۔ تاہم جسٹس وجیہہ الدین نے اس موقع پر کہا کہ ’’آج ملک میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ روایتی سیاستدان ملکی ترقی میں رکاوٹ ہیں‘‘۔ تبدیلی کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں لیکن عمران خان میں سوائے کرپشن کے روایتی سیاستدانوں والے تقریباً تمام جواہر موجود ہیں۔ نئی نسل عمران خان کو اپنا آئیڈیل سمجھتی ہے۔ اس کا عمران کو فائدہ صرف متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ جس کا دور دور تک بھی کوئی امکان نہیں۔ عام ووٹر عمران کی طرف کیوں راغب نہیں؟ عام آدمی سیاستدانوں کی کرپشن اور کہہ مکرنیوں سے تنگ ہے۔ کہہ مکرنی کو خوبصورت پیرائے میں یوں بیان کیا جاتا ہے ’’سیاست میں کوئی کچھ حرف آخر نہیں ہوتا‘‘ عمران مشرف کے زبردست حامی رہے اور اتنے ہی بڑے دشمن بن گئے۔ نواز شریف سے کبھی ہاتھ ملاتے اور کبھی روٹھ جاتے ہیں۔ چودھری برادران کو مشرف کا ساتھ دینے پر کیا کیا کہتے رہے۔ اب ان کی چوکھٹ پر بھی چلے گئے۔ الطاف حسین اور ان کی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا۔ الطاف حسین کو لندن سے نکلوانے کے بلند بانگ دعوے کئے پھر خاموشی اختیار کر لی۔ خاموشی اختیار کرنا تھی تو دشمنی مول لینے کی کیاضرورت تھی؟ عمران کے چاہنے والے ان کو پاکستان کی قیادت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران اپنی ادائوں پر غور کریں۔ پینترا بدل سیاست ان کے مستقبل کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ دوستوں کا مشورہ ہے کہ مستقل مزاجی سے کام لیں پارٹی کے اندر لیڈر شپ کو ابھرنے کا موقع دیں تو شاید عام آدمی مائل بہ تحریک انصاف ہو جائے

جمالی خربوزے


12-1-11....فضل حسین اعوان
گورنر ملک امیر محمد خان کچھ سیاستدانوں کو جمالی خربوزہ قرار دیا کرتے تھے۔ جمال والا یعنی خوبصورت نظر آنے والا خربوزہ۔ اس کا مطلب پوچھا گیا تو وضاحت کی یہ وہ اپوزیشن کے رہنما تھے۔ جو اسمبلی میں حکومت کے خلاف دھواں دھار تقریریں کرتے تھے لیکن احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ جو تقریر کرنا ہوتی رات کو گورنر ہاؤس جا کر خود کلیئر کرواتے تھے۔ ایسے کاموں کیلئے گورنر ہاؤس کا فرنٹ گیٹ نہیں بیک ڈور استعمال ہوتا تھا۔ اس دور کے جمالی خربوزوں کی اولادیں بڑے سیاستدانوں کے روپ میں آج بھی جمالی خربوزوں کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اپوزیشن کا چھوٹا لیڈر ہو یا بڑا۔ آخرکار گوشت پوست کا انسان ہے۔ اس کی بھی کچھ ضروریات ہیں۔ کاروبار ہیں۔ اولاد اور عزیز رشتہ دار ہیں۔ صحرا کا شجر بے ثمر بن کر تو 5 سال نہیں گزارے جا سکتے۔ زندگی کی درخشانی ویرانی میں کیوں ڈھلتی رہے۔ کچھ فرنٹ ڈور سے ضمیر بیچ کر رسوا‘ کچھ بیک ڈور سے مول لگوا کر پارسا ٹھہرتے ہیں۔ انسان کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ قسمت بدل سکتی ہے۔ ترقی کی انتہاؤں کو چھو سکتا ہے۔ ستاروں پہ کمند ڈال سکتا ہے۔ لیکن فطرت نہیں بدل سکتی۔ ہم عمر کے جس حصے میں ہیں سیاستدانوں کو دیکھ رہے ہیں۔ کبھی اقتدار کے اندر کبھی باہر‘ قسمت تو بہت سوں کی بدلتی دیکھی۔ فطرت کتنوں کی؟ وزیر مشیر نوکریاں بیچتے ہیں تو اوپر والے عہدے‘ کروڑوں اور اربوں روپے میں‘ پی ایچ ڈی کی اصل ڈگریاں تک بے کار‘ انڈر میٹرک قومی اداروں کے چیئرمین‘ جعلی ڈگری کا بھی تکلف نہیں۔ کوئی اقتدار میں ہے یا اپوزیشن میں‘ عوامی مسائل کا واویلا ضرور‘ حل کیلئے کوئی کوشش نہ خواہش۔ اپنے مفادات کو ترجیح‘ جے یو آئی اور ایم کیو ایم نے حکومت کا ساتھ چھوڑا تو زرداری صاحب تمام معاملات سے الگ تھلک ہو کر کراچی میں جا بیٹھے وزیراعظم حمایت کے لئے کبھی لاہور کبھی کراچی‘ کبھی اس کے پاس کبھی اس کے‘ سب نے بیک زبان تیل کی قیمتیں واپس لینے کیلئے کہا‘ عوامی مسائل حل کرنے پر زور دیا۔ ن لیگ نے ایجنڈا سامنے رکھتے ہوئے تین جمع 45 دن کی ڈیڈ لائن دیدی۔ گیلانی صاحب نے تیل کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لے لیا۔ ن لیگ کے ایجنڈے پر ہاں کہہ دی۔ اس پر سب شانت‘ ایم کیو ایم ’’آنے والی‘‘ جگہ پر لوٹ آئی۔ دوسرے ساتھ چھوڑنے والے بھی ’’بوڑھ تلے‘‘ آ جائیں گے۔ ق لیگ تیل کی قیمتیں کم ہونے پر شاداں ن لیگ ہاں پر فرحاں‘ حکمرانوں کے خلوص میں کھوٹ‘ سچ میں جھوٹ‘ نیت میں فتور اور بدستور‘ قول میں فریب‘ فعل میں دھوکہ ہے۔ تیل کی قیمتیں کم ہونے سے ہر چیز کی قیمت میں کمی ہونی چاہئے تھی۔ ایسا ہونے کے بجائے بہت سی چیزیں مزید مہنگی کر دی گئیں۔ مائع گیس کی قیمت میں اضافہ ہوا‘ بجلی کے نرخ دو فیصد بڑھانے کا اعلان‘ کرایوں میں کمی ہوئی نہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں کم‘ الٹا سب سے بڑے صوبے میں غیر معینہ مدت کیلئے صنعتوں کو گیس کی سپلائی بند کر دی گئی۔ کہاں گئے صنعتوں کو ہفتے میں 5 دن گیس کی فراہمی کے وعدے؟ سی این جی سٹیشن ہفتے میں دو دن بند رکھنے کا شیڈول تھا اچانک اس میں بھی اضافہ کر دیا گیا۔ گھریلو صارفین پریشان اکثر علاقوں میں صرف دو گھنٹے گیس فراہم کی جاتی ہے۔ سی این جی سٹیشن بند‘ صنعتوں کی سپلائی منقطع پھر گیس کہاں جاتی ہے۔ سردیوں میں بجلی کی بے محابا لوڈشیڈنگ‘ سیاسی لیڈر شپ کو اس کا احساس کیوں نہیں؟ 
پیپلز پارٹی رنگ و نور اور روشنیاں پھیلانے کا عہد لے کر اور وعدے دے کر اقتدار میں آئی اس نے ہر آنگن میں خاک اور ہر دامن میں راکھ بھر دی۔ ہر سو تاریکیاں پھیلا دیں۔ اپوزیشن نے مل کر حکومت کو تیل کی قیمتیں واپس لینے پر مجبور کرکے ثابت کر دیا کہ وہ حکومت کا قبلہ درست کر سکتی ہے لیکن یہ خاموش ہے۔ کیا حکومت کو بحران سے نکالنے کیلئے اس پر زور دینا ایک ڈرامہ تھا؟ عوام کا ایک ایک لمحہ اذیت میں گزر رہا ہے۔ نواز شریف 45 دن انتظار کریں گے۔ ساتھ فرما دیا الٹی میٹم کا لفظ ان کی لغت کا حصہ نہیں۔ یعنی 45 دن کے بعد بھی حکومت حوصلہ نہ ہارے۔ وزیراعلیٰ بلتستان مہدی شاہ کے تجزیہ پر غور فرمائیے ’’ن لیگ کے 45 دن ختم ہونے میں 2 سال لگ سکتے ہیں۔‘‘ میاں محمد نواز شریف ان کے برادر خورد شہباز شریف وفاقی حکومت کی وعدہ خلافی پر سیخ پا ہیں کہ پنجاب کو ہفتے میں 5 دن گیس کی فراہمی پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ گیلانی بحران سے نکل کر مطمئن‘ عوام بدستور اذیت میں ہیں اس پر اپوزیشن پرسکون کیوں؟ یہ جمالی خربوزوں سے بھی بڑھ گئے زوالی اور لا ابالی خربوزے ہو گئے۔

Tuesday, January 11, 2011

آر ایس ایس کی لیڈر شپ کا اعتراف گناہ

 منگل ، 11 جنوری ، 2011
فضل حسین اعوان
18 فروری 2007 کو بھی حسب معمول شام، صبح ہونے کے لئے ڈھلی تھی۔ دنیا میں رات کو سینکڑوں ٹرینیں مسافروں کو اپنی آغوش میں لئے رواں رہتی ہیں۔ دہلی سے لاہور آنیوالی سمجھوتہ ایکسپریس کے ہزار کے قریب مسافر بھی اپنے پیاروں سے ملنے کے خواب سجا کر برتھوں اور سیٹوں پر بڑی بے فکری سے سو رہے تھے یا اونگھ رہے تھے۔ گاڑی بھارتی فوج کی نگرانی میں اندھیروں کو چیرتے ہوئے ارض پاک کی طرف منزل پہ منزل مارتے چلی آ رہی تھی۔ چلتی ٹرین میں دو دھماکے ہوئے، ساتھ ہی آگ لگ گئی۔ موت نے کئی مسافروں کو آنکھ تک کھولنے کی مہلت بھی نہ دی۔ بہت سے بے بسی سے موت کو اپنی طرف بڑھتے دیکھنے پر مجبور تھے۔ ان کے لئے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا کر جان بچانے کا ایک موقع موجود تھا لیکن گاڑی کے محافظوں نے دروازے لاک کر دیے ہوئے تھے۔ اس سانحہ میں بچوں اور عورتوں سمیت 68 افراد موت کی لکیر پارکر گئے۔ ان میں زیادہ تر مسلمان اور پاکستانی، چند ایک ہندو تھے۔ رات دو بجے لوگوں نے جیسے تیسے دو بوگیوں میں موجود سڑی ہوئی لاشوں اور زخمیوں کو دروازے کھڑکیاں کاٹ کر نکالا۔ یہ دھماکے ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سیوک سنگھ نے کرنل پروہت سے مل کر کئے۔ بوگیوں میں ہندو بھی موجود تھے۔ لیکن ہندو انتہا پسندوں کے بوگیوں میں رکھے گئے بموں کو ہندو مسلم کی پہچان نہیں تھی۔ کرنل پروہت تو سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے کرانے پر پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔ دو روز قبل پنڈت آسیم نند نے مجسٹریٹ کے سامنے سمجھوتہ ایکسپریس مالیگاؤں اور اجمیر دھماکوں کا اعتراف کیا ہے۔ پنڈت آسیم نند آر ایس ایس کے سرکردہ رہنماؤں میں سے ہیں۔ وہ دھماکوں کے الزام میں ہی جیل میں تھے۔ کہتے ہیں دہشت گرد کا ضمیر ہوتا ہے نہ ایمان اور دھرم۔ بھارتی تفتیشی ادارے اقلیتوں، ان کی عبادت گاہوں اور املاک پر دہشت گردی کرنے والے ملزموں پر سختی نہیں کرتے۔ اقلیتوں خصوصی طور پر مسلمانوں کے حوالے سے معاملہ مختلف ہے۔ ان کو جھوٹے الزام میں ملوث کر کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پنڈت آسیم نند نے تشدد یا کسی خوف سے اعترافِ گناہ نہیں کیا، اس کے اندر ضمیر نام کی کوئی رمق موجود تھی، خود اس کا کہنا ہے ’’جیل میں بم دھماکوں کا ایک ملزم عبدالکلیم بھی موجود تھا جس پر جھوٹا الزام لگایا گیا اس پر تفتیشی ادارے انسانیت سوز تشدد کرتے تھے یہ نوجوان انسانی ہمدردی کے تحت میرا خیال رکھتا، اپنے گھر سے آیا کھانا مجھے کھلاتا، پانی پلاتا، اس کے حسنِ سلوک اور سچائی سے متاثر ہو کر میں نے اعتراف جرم کیا۔ مجھے معلوم ہے اس جرم کی سزا موت ہے، میں اس کے لئے تیار ہوں‘‘ پنڈت نے آر ایس ایس کے اندریش کمار اور تنظیم کے پرچارک سنیل جوشی کو بھی دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث قرار دیا ہے۔ پنڈت آسیم نند کا اصل نام جتن چٹر جی ہے جس نے اپنے ضمیر کی آواز پر آر ایس ایس کو مسلمہ دہشت گرد تنظیم ثابت کر دیا ہے۔ 
آر ایس ایس کے کارکنوں کی تعداد تنظیم کی طرف سے کبھی ظاہر نہیں کی گئی تاہم بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندازوں کے مطابق ان کی تعداد 25 سے 60 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ بظاہر آر ایس ایس کا مقصد تعلیم و صحت جیسے فلاحی کاموں کا فروغ ہے لیکن اس کے اصل مقاصد مسلمانوں کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہے یا مسلمانوں کو مکانا ہے۔ یہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ مل کر مکتی باہنی کی طرز پر کارروائیاں بھی کرتی ہے۔ 
ممبئی دھماکوں میں پہلی گولی چلنے کے ساتھ ہی پاکستان پر بھارت نے الزام لگایا اور اقوام متحدہ میں معاملہ لے جا کر متعدد تنظیموں کو کالعدم قرار دلایا، حافظ محمد سعید اور بہت سے رہنماؤں کو گرفتار اور نظر بند کروا دیا حالانکہ ممبئی دھماکے بھارت کا اپنا رچایا ہوا ڈرامہ تھا۔ اب آر ایس ایس کے رہنماؤں نے اپنی تنظیم کو خود دہشت گرد ثابت کر دیا ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ آر ایس ایس پر پابندی لگوائی جائے، کالعدم قرار دلایا جائے، اس کی پوری قیادت اندر ہو اور جیلوں میں سڑتی رہے۔ یہ کام خالی ہلکی پھلکی بیان بازی سے نہیں عالمی سطح پر تہلکہ مچانے سے ہو گا۔ ہماری خوابیدہ حکومت بھی اقوام متحدہ سے رجوع کرے جس طرح بھارت نے ممبئی حملوں کے بعد کیا تھا۔ وزارت خارجہ کے حکام سرکاری ملازم ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی بھی ہیں ان میں پاکستانیت نظر بھی آنی چاہیے۔ گرد نہیں طوفان بن کر اپنا کیس اٹھائیں جو ثابت شدہ بھی ہے اور مضبوط بھی۔


Monday, January 10, 2011

10-1-11کرپشن … ایجنڈے کا ایک مزید اہم نکتہ

فضل حسین اعوان
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ لسٹ کے مطابق گزشتہ سال 2009-10 کے مقابلے میں رواں سال 2010-11 میں کرپٹ ممالک کی لسٹ میں صومالیہ افغانستان کو پیچھے چھوڑ کر پہلے نمبر پر آ گیا۔ ٹاپ ٹن کرپٹ ممالک کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ (1) صومالیہ، (2) میانمار، (3) افغانستان، (4) عراق، (5) ازبکستان، (6) ترکمانستان، (7) سوڈان، (8) چاڈ، (9) برونڈی، (10) گیانا۔ گو اندھیر نگری چوپٹ راج کے باوجود پاکستان ٹاپ ٹن میں نہیں تاہم ان دس کرپٹ ترین ممالک میں اکثریت مسلمان ممالک کی ہے۔ گزشتہ دنوں برطانوی انٹرفیتھ تھنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ برطانیہ میں سالانہ 5 ہزار غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں بھی اسلام قبول کرنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ لوگ صرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ ہونے پر اسلامی تعلیمات کی طرف مائل ہوئے۔ اس دوران اسلام کی حقانیت واضح ہوئی تو اسلام قبول کر لیا۔ اگر 57 اسلامی ممالک اپنے قوانین قرآن و سنہ کے مطابق نافذ کر لیں اور ہم مسلمان اسوہ رسولؐ کو عملی زندگی میں اپنا لیں تو جہاں خود بہت سے مصائب سے بچ سکتے ہیں وہیں ہمارے کردار و عمل کو دیکھ غیر مسلم مزید تیزی سے اسلام قبول کرنے لگیں گے۔ 
چند سال قبل دنیا کے دس کرپٹ ترین حکمرانوں کی ان کے کرپشن سے بنائے گئے اثاثہ جات سمیت ایک فہرست جاری کی گئی۔ ان ٹاپ ٹن میں ٹاپ پر بھی ایک مسلم حکمران انڈونیشیا کے محمد سہارتو تھے۔ یہ 1967ء سے 1998ء تک صدر رہے اس دوران 35 ارب ڈالر تک کی لوٹ مار کی۔ فلپائن کے صدر مارکوس 10 ارب ڈالر کی کرپشن کے ساتھ دوسرے، زائرے کے صدر موبوتو سیکو 5 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ چوتھے نمبر پر نائجیریا کے صدر ثانی اباچہ، پانچویں صدر سربیا میلوسووچ، چھٹے صدر ہیٹی جین کلاڈا، ساتویں صدر پیرو البرٹو، آٹھویں وزیراعظم یوکرائن پیولو لازارینو، نویں صدر نکاراگوا آرنالڈو، دسویں صدر فلپائن جوزف اسٹراڈا۔ اگر یہ لسٹ آج ترتیب دی جاتی تو سابق صدر مشرف کرپٹ ترین حکمرانوں میں دوسرے نمبر پر ہوتے کیونکہ وہ اکیلے ہی امریکی امداد کے 10 ارب ڈالر ہضم کر گئے تھے۔ 2013 کے بعد غیر جانبداری سے مرتب کردہ فہرست میں شاید عالمی رینکنگ میں سوہارتو دوسرے اور مشرف تیسرے نمبر پر آ جائیں۔ 
آج ہم سب سے بڑی اور موذی بیماری کرپشن کا شکار ہیں۔ یوں تو چند ایک کے سوا تمام وزیر مشیر عوامی نمائندے اور بیورو کریٹس بدعنوان ہیں تاہم دو بڑوں کی طرف بڑی بڑی کرپشن کے حوالے سے انگلیاں اٹھتی رہتی ہیں۔ دو میں پہلے نمبر ایک کون ہے خُدا بہتر جانتا ہے۔ تاہم آج کل گیلانی صاحب کا نام خوب چمک رہا ہے۔ خود ان کے اپنے برطرف شدہ وزیر جناب اعظم سواتی نے ان کو پاکستان کی تاریخ کا کرپٹ ترین وزیراعظم قرار دیا ہے۔ اس پر شرمیلا فاروقی کا سوال بجا ہے کہ سواتی کو گیلانی صاحب کی کرپشن برطرفی کے بعد ہی کیوں یاد آئی؟ یہ سوال اپنی جگہ، اگر کرپشن ہوئی ہے تو اس کا جواب تو بہرحال دینا پڑے گا۔ گیلانی صاحب کے اہل خانہ کا نام بھی کرپشن کے حوالے سے لیا جاتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ وزیراعظم اپنی اولاد کو مالدار بنانے کے لئے آباء کا نام داغدار کر رہے ہیں۔ صدارت اور وزارت عظمٰی کے مناصب کا تقاضا ہے کہ ان پر متمکن شخصیات کا کردار کرسٹل کلیئر ہو۔ بعض اوقات الزام برائے الزام ہو سکتا ہے لیکن جس الزام سے پگڑی اچھلتی ہو، خاندان کی عزت و عظمت پر داغ لگ رہا ہو اس سے پیچھا ضرور چھڑانا چاہئے۔ وزراء حضرت بشمول دو بڑوں کے اپنے اوپر کرپشن کے الزام لگانے والوں کو عدالت میں لے جائیں۔ الزام غلط ہوں تو الزام لگانے والوں سے ہرجانہ وصول کیا جائے۔ خاموش بیٹھ جانے سے ثابت ہو جائے گا کہ الزامات درست ہیں۔ اگر درست ہیں تو ان کو اعلیٰ ترین مناصب پر جلوہ گر رہنے کا کوئی حق نہیں نوازشریف اپنے ایجنڈے میں بڑوں سے کرپشن کا مال نکلوانے کے نکتے کو سرفہرست رکھیں۔

Sunday, January 9, 2011

کونسا کتا اچھا

اتوار ، 09 جنوری ، 2011
فضل حسین اعوان
حضرت صاحب بول کیا رہے تھے‘ ہونٹوں سے پھول جھڑ رہے تھے۔ مجمع پر سحر طاری تھا۔ سانسوں کی آواز تک نہیں آرہی تھی۔ ان کی دعاؤں کی طرح ان کے وعظ میں بھی اثر تھا۔ جو جس خواہش کے ساتھ ان کے پاس آیا وہ خدا نے پوری کی۔ وہ دنیاوی زندگی سے تقریباً کٹ چکے تھے۔ خود کو خدا اور اس کے بندوں کی خدمت کیلئے وقف کر دیا تھا۔ جو ایک بار حضرت صاحب کی درگاہ پر آیا پھر ان کا ہو کر رہ گیا۔ آج بھی وہ توکل علی اللہ کی بات کر رہے تھے۔ حسب معمول اپنی بات ختم کی‘ حاضرین پر اچٹتی سی نظر ڈالی اور خاموش بیٹھ گئے۔ سامنے بیٹھا ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے گویا ہوا۔ ’’حضرت صاحب میں یہاں پہلی بار آیا ہوں لیکن مجھے پتہ ہے کہ چند سال قبل آپ بڑے سرمایہ دار تھے ایک کارخانے کے مالک پھر یہ انقلاب کیسے آگیا؟ حضرت صاحب نوجوان کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنی روداد بیان کرنے لگے ’’واقعی میں ایک بڑی فیکٹری کا مالک تھا۔ خدا کا بڑا کرم تھا۔ پانچ چھ سو مرد و خواتین ورکر کام کرتے تھے۔ ایک روز میں فیکٹری کے مین گیٹ پر کھڑا تھا کہ ایک کتا اگلی ٹانگوں کے سہارے اپنے وجود کو گھسیٹتا ہوا فیکٹری کے اندر چلا آرہا تھا۔ اس کی پچھلی ٹانگوں سے خون رس رہا تھا۔ یوں لگتا تھا اس کی ٹانگیں کسی گاڑی تلے آکر کچلی گئی ہیں۔ دفعتاً میرے دماغ میں خیالات کا ایک جھماکا کوندا‘ میں نے سن رکھا تھا خدا کیڑے کو پتھر میں بھی روزی دیتا ہے آج اس مقولے یا محاورے کو آزمانے کا موقع تھا۔ دیکھتے ہیں خدا اس معذور کتے کو روزی کیسے پہنچاتا ہے۔ زخمی کتا فیکٹری کے اندر ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور کتا فیکٹری کے اندر آیا اور زخمی ساتھی کے قریب چلا گیا۔ اس کے منہ میں گوشت کا ٹکڑا تھا۔ اس کو اچھی طرح چبا کر نیم بے ہوش کتے کے منہ کے آگے کر دیا۔ زخمی کتے نے آنکھیں کھولیں اور ٹکڑا بغیر چبائے نگل لیا۔ اس کے بعد تندرست کتا باہر چلا گیا تاہم چند منٹ بعد واپس آگیا۔ اب اس نے اپنی دم معذور کتے کے منہ کے آگے کی جسے وہ چاٹنے لگا دراصل کتا اپنی دم پانی سے بھگو کر لایا تھا۔ اپنی دانست میں وہ اپنے ہم جنس کو پانی پلا رہا تھا۔ چند ہفتوں میں زخمی کتا صحت یاب ہو گیا۔ اس دوران اس کا ساتھی کتا ہر روز بلاناغہ اس کے کھانے پینے کا اہتمام کرتا رہا… میں نے زخمی کتے کو کارخانہ قدرت سے روزی ملتے دیکھ کر استدلال لیا کہ جب خدا نے روزی دینی ہی ہے تو دنیا داری‘ ٹنشن‘ پریشانی اور جھنجٹ کی کیا ضرورت‘ اللہ پر توکل کرتے ہوئے کاروبار بند کیا خدا سے لو لگا لی خدا نے مریدوں اور عقیدت مندوں کی وساطت سے روزی میں فراخی فرما دی۔ روزانہ جو لوگ آتے ہیں وہ بھی کھاتے ہیں میں بھی‘‘ مجلس میں بیٹھے ایک اور نوجوان نے بڑے احترام اور دھیمی آواز میں کچھ عرض کرنے کی استدعا کی۔ اذن پر گویا ہوا ’’حضور آپ نے زخمی اور معذور کتے سے استدلال لیا جو اسے کھانا لا کر دیتا تھا اس سے کیوں نہیں؟ یہ فرما دیجئے کہ آپ کس کتے کو اچھا سمجھتے ہیں۔ کھانے والے کو یا کھانا لا کر دینے والے کو؟‘‘ حضرت صاحب کے دماغ میں ایک بار پھر اسی طرح خیالات کا جھماکا کوندا جس طرح زخمی کتے کو پہلی نظر میں دیکھ کر کوندا تھا۔ واقعی کھانا لا کر دینے والا کتا تو کل والے کتے سے اچھا تھا۔ حضرت صاحب نے پہلی بار سوچا کہ میرے ورکرز کا نہ جانے کیا بنا ہو گا میں نے دنیا داری چھوڑی تو ان کی نوکریاں چھوٹ گئیں۔ اف خدایا! اس کے ساتھ ہی حضرت صاحب نے پھر سے اپنا کاروبار شروع کیا۔ ورکرز ان سے خوش وہ ورکرز سے مطمئن۔
آپ عوامی نمائندے ہیں۔ بیورو کریٹ یا بزنس مین‘ خدا نے آپ کو دولت ثروت اور سطوت سے نوازا ہے آپ سرکاری علاج اور بہت سی مراعات کے مستحق ہیں۔ ذرا سوچئے آپ کے وطن کے عام آدمی کی کیا حالت ہے؟ ان کیلئے ہسپتال سکول و مدارس اور دیگر اداے بنائیے۔ کسی غریب کی مدد کیجئے۔ کسی کی بیٹی کی شادی کا اہتمام کیجئے۔ ایسا کاروبار کیجئے جس سے منافع بھی ہو اور کئی لوگوں کی روٹی روزی کا بندوبست بھی۔ (ختم شد)


Friday, January 7, 2011

کونسا کتا اچھا

فضل حسین اعوان
8-1-11
ہمارے ہاں کُتے کی توقیر اور بے توقیری کے معاملے میں دو انتہائیں ہیں۔ ایک طرف اسے نجس اور نفرین سمجھا جاتا ہے تو دوسری طرف کئی لوگ اسے بڑے شوق سے پالتے اور بڑے اہتمام سے اس کی ”ٹہل سیوا“ کرتے ہیں۔ ایسے ناز و نعمت کم کم کتوں کے حصے میں آتے ہیں۔ زیادہ تر کے ساتھ کتوں جیسی ہی ہوتی ہے، کسی نے پتھر مار دیا کسی نے دھتکار دیا۔ کتوں کی بہتات ہو گئی، ان کی آوارگی اور کاٹنے کی شکایتیں عام ہوئیں تو کارپوریشن نے جہاں اور جیسی حالت میں پایا پھڑکا دیا۔ وہ کتا آج بھی نہیں بھولتا جس نے مجھے سکول سے آتے ہوئے پنڈلی سے بڑی خاموشی سے آ کر پکڑ لیا۔ پنڈلی پر دانت چُبھے اور ”فانٹانوالہ“ پاجامہ بھی پھٹ گیا۔ یہ کوئی اجنبی نہیں جانا پہچانا کتا تھا۔ درجن بھر آوارہ کتوں میں سے ایک۔ کبھی اِس دَر اور کبھی اُس گھر۔ اس سے قبل اس نے کسی کے ساتھ بدمعاشی نہیں کی تھی۔ ٹانگ چھڑانے کے لئے بستے سے تختی نکالی گویا میان سے تلوار نکلتے دیکھ کر کتے نے ٹانگ چھوڑی اور بڑی شانِ بے نیازی سے ایک طرف چل دیا تاہم وقفے وقفے سے پیچھے مڑ کر ضرور دیکھتا جاتا تھا۔ میں گھر گیا غصے سے دماغ چکرا رہا تھا انتقام کا جذبہ دماغ میں پٹاخے چلا رہا تھا۔ اپنے حصے کی روٹی اٹھائی اور کتے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اس نے کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا تھا کہ گاﺅں چھوڑ جاتا۔ گاﺅں کی ایک نکر پر کوڑے کے ڈھیر پر محوِ استراحت مل گیا۔ مجھے اپنی طرف آتے دیکھ کر بھاگنے کے لئے پر تول رہا تھا کہ میں نے روٹی کا ٹکڑا اس کی طرف اچھال دیا۔ وہ اس پر لپکا جھپٹا اور پل بھر میں اچک کر نگل گیا۔ابھی آدھی سے زیادہ روٹی میرے ہاتھوں میں تھی۔ میں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پھینکتا گھر کی طرف چل دیا۔ کتا پیچھے پیچھے ٹکڑے کھاتا آ رہا تھا اسے گھر لا کر مزید ایک پوری روٹی بھی کھلا دی۔ ان دنوں گاﺅں میں بجلی نہیں تھی روشنی کے لئے لالٹین یا دیا استعمال کیا جاتا تھا۔ میں نے دیا اٹھایا اس کا ڈھکن اتارا اور اس میں سارا تیل کتے کی دم پر انڈیل دیا۔ وہ شاید تیسری روٹی کی آمد کا منتظر تھا۔ تیل کی ٹھنڈک سے چھلانگیں لگاتا ہوا بھاگ گیا تاہم چند منٹ بعد دوبارہ نہ جانے کس لالچ میں چلا آیا۔ اب میں نے چھابے میں پڑی تیسری اور آخری روٹی بھی اس کے سامنے پھینک دی۔ ساتھ ہی جیب سے ماچس نکالی، تیلی اس کی آنکھوں کے سامنے جلائی اور پھلجھڑی کی طرح اس کی دم پر پھینک دی، جس سے دم یکدم مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں آ گئی کتا ”چانگریں “مارتا، شعلہ فشاں و شعلہ زن دم کے ساتھ گلیوں سے ہوتا ہوا کھیتوں کے بیچوں بیچ جِدھر منہ ہوا بھاگتا چلا گیا۔ شاید غیرت کی کوئی رمق اس کے اندر موجود تھی یا ضمیر زندہ تھا وہ اس کے بعد گاﺅں نہیں آیا۔ 
کہتے ہیں جس گھر میں کتا ہو، اس میں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا تاہم کچھ کنڈیشنز کے ساتھ کتا رکھنے کی اجازت بھی ہے۔ اصحابِ کہف کے ساتھ موجود کتے کی فضیلت مسلمہ ہے۔ آج اس کتے کا کمال ملاحظہ جس کا ذکر الدر رالکامن حصہ تین صفحہ 202 پر ہے، کسی مہربان نے عربی سے ترجمہ کر کے بھجوایا ہے۔ 
”منگولوں کو عیسائی بنانے کے لئے مشنریز انکے قبیلوں میں بڑے جوش و خروش سے پرچار کیا کرتے تھے، اپنی عیسائی بیوی ظفر خاتون کی خوشی اور خواہش کے سامنے مجبور ہلاکو ان کی ہر قسم کی معاونت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ کسی منگول سردار کی تاج پوشی کی ایک بہت بڑی تقریب میں سرکردہ عیسائی مبلغین بھی شریک ہوئے۔ ایک مبلغ نے موقع کی مناسبت سے فائدہ اٹھانے کی خاطر وعظ و نصیحت شروع کی اور ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے لگا۔ وہیں پر ایک شکاری کتا بھی بندھا ہوا تھا۔ جیسے ہی اس بدبخت نے ذات اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دشنام طرازی شروع کی، کتے نے ایک زقند بھر کر اس کی ناک اور منہ کو بھنبھوڑ ڈالا کافی تگ و دو کے بعد کتے کو علیٰحدہ کیا گیا۔ مجمع میں سے کچھ لوگوں نے اس عیسائی سے پوچھا کہیں کتے نے تیری اس حرکت کی وجہ سے (نعوذباللہ: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے) تو تجھ پر حملہ نہیں کیا؟
عیسائی نے کہا بالکل نہیں، اصل میں یہ ایک غیرت مند کتا ہے، میں نے بات کرتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ کا اشارہ کیا تھا، اس نے سمجھا میں اسے مارنا چاہتا ہوں، اس لئے یہ مجھ پر حملہ آور ہو گیا۔ 
اس کے بعد مشنری نے دوبارہ شانِ رسالت میں گستاخی شروع کر دی، اب کی بار کتنے نے رسی تڑا کر اس کی گردن میں دانت گاڑ دئیے اور اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک وہ مر نہ گیا۔ موقع پر موجود یا اس واقعہ کو سننے والے لوگوں میں سے چالیس ہزار لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔ 
(جاری ہے) 

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام


فضل حسین اعوان
7-1-11
NOT PUBLISHED

بعض لوگ اپنی خواہش کا سوال کی صورت میں اظہار کر رہے ہیں کہ ممتاز قادری کو سلمان تاثیر کے قتل کے فوری بعد ساتھی محافظوں نے قتل کیوں نہیں کر دیا۔ اگر ان لوگوں کی خواہش کے مطابق اوپر نیچے دو قتل ہو جاتے تو تیسرا ساتھ ہی حقائق کا قتل بھی ہوتا۔ ملزم کا کوئی طالبان سے ناطہ جوڑتا کوئی القاعدہ سے۔ کوئی اسے ایجنسیوں کا پروردہ قرار دیتا کوئی را اور موساد کا ایجنٹ۔ ہر معاملے کو مفاداتی چشمے سے دیکھنے کے عادی کچھ مہربان تصویر پوری طرح واضح ہونے کے باوجود اسے سیاسی قتل ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں یہ ذمہ دار لوگوں کا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ ملزم زیر حراست، اس کا ریمانڈ مل گیا۔ حکومت آپ کی اپنی، حقائق منظر عام پر لانے کے لئے جوڈیشل کمشن سے بہتر کوئی فورم اور پلیٹ فارم نہیں ہو سکتا۔ کسی کو دوش دیں نہ جانبداری کا الزام خود پہ لیں۔ عدالتی کمشن کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے دیں۔ 
18 کروڑ لوگوں میں سے صرف ایک نے، خود اس کی اپنی سٹیٹمنٹ کے مطابق گورنر صاحب کو 295 سی کو کالا قانون کہنے پر قتل کیا۔ اس پر خودساختہ دانشمندوں اور خود پرداختہ عقلمندوں نے معاشرے میں عدم برداشت کلچر کے فروغ کا شور شرابہ اور واویلا شروع کر دیا۔ ان عقل کے سقراطوں اور حکمت کے بقراطوں کو کینیڈی، مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، اکینو، شاہ فیصل، جمال عبدالناصر، انور السادات، شیخ مجیب الرحمن بمعہ خاندان، شاہ بریندرہ بشمول اہل خانہ کے زمین و آسمان کو دہلا دینے والے قتلوں میں تو عدمِ برداشت کا کوئی پہلو نظر آتا۔ سلمان تاثیر کے قتل سے پورے معاشرے میں سمائی عدم برداشت نظر آ رہی ہے۔ بہت سوں کی سوئی اختلافِ رائے کے احترام پر اٹکی ہوئی ہے.... ایک طبقہ این آر او کو قومی مفاد میں دوسرا اسے کرپشن کا تحفظ قرار دیتا ہے۔ ایک گروپ ٹیکسوں کے نفاذ کا حامی دوسرا مخالف ہے۔ ایک گروہ امریکہ سے دوستانہ تعلقات کا قائل دوسرا چین کے ساتھ دوستی پر مائل ہے۔ اسے اختلافِ رائے کا نام دیا جا سکتا ہے۔ جنرل ضیاءنے بھٹو کو تخت سے اتار کر تختہ دار تک پہنچا دیا۔ مشرف نے نوازشریف کو روشنیوں میں نہائے اور بقعہ نور بنے وزیراعظم ہاﺅس سے اٹھوا کر اندھیری کوٹھڑی، پھر موت کی موری میں پھینک دیا۔ نوازشریف کے ناک کا بال حسین حقانی بینظیر بھٹو کی قابلِ اعتراض تصاویر ٹمپر کروا کے جہاز کے ذریعے برسواتا رہا۔ چند روز قبل چودھری نثار نے جو کچھ الطاف حسین اور وسیم اختر اور حیدر عباس رضوی نے نواز و شہباز شریف کے بارے میں کہا، کیا یہ معاملات بھی اختلافِ رائے کے زمرے میں آتے ہیں۔ کچھ حکومتی مبصرین، سیاسی اکابرین، اینکر پرسن اختلافِ رائے پر پُرزور اور پرجوش دلائل دیتے ہیں تو ان کے منہ سے جھاگ بہنے لگتی ہے۔ اختلافِ رائے اور دریدہ دہنی اور بدزبانی میں فرق یہ خود نہیں کر سکتے یا نہیں کرنا چاہتے، بُرا بھلا معاشرے کو کہہ رہے ہیں۔ سلمان تاثیر توہینِ رسالت قانون میں تبدیلی کی بات کرتے تو یقیناً بات ان کے قتل تک نہ پہنچتی۔ انہوں نے تحفظ ناموسِ رسالت قانون کو کالا قانون قرار دیا جس سے محبانِ رسول کے جذبات مجروح ہوئے۔ پھر گورنر صاحب کے موقف میں ان کو این جی اوز، جدت پسندوں کی طرف سے تھپکی ملنے پر سختی آتی گئی۔ سلمان تاثیر کے قتل کا اصل ذمہ دار یہی طبقہ اور حلقہ ہے جس نے ان کو اہل وطن کے شدید جذبات کا ادراک کرنے کا مشورہ دینے کے بجائے، آسیہ کو مظلوم ثابت کیا اور اس کی رہائی کی گنجلک ڈور سلمان تاثیر کو تھما دی۔ غامدی صاحب کی سوچ ملاحظہ کیجئے فرماتے ہیں گورنر کی بات کا جواب دلیل سے دیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے ناموسِ رسالت ایکٹ کو کالا قانون قرار دیا پھر اس پر ڈٹ بھی گئے۔ آپ اس کے جواب میں کیا دلیل دیں گے؟ سلمان تاثیر قتل کر دئیے گئے ان کے لواحقین پر قیامت گزر گئی ہر پاکستانی ان کے سوگوار خاندان کے ساتھ ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے۔ اب بھی کچھ لبرل طبقے ایسی باتیں کر رہے ہیں جو توہین رسالت کے زمرے میں آتی ہیں۔ مذہبی معاملات خصوصی طور پر توہین رسالت کے حوالے سے نہایت ہی احتیاط کی ضرورت ہے
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہہ شیشہ گری کا
یہ کہہ کر رحمن ملک نے ہر مسلمان کے جذبات کو زبان دیدی ”میرے سامنے کوئی شانِ رسالت میں گستاخی کرے تو اُسے گولی مار دوں“ علمائے کرام کا جنازہ پڑھانے سے انکار لبرل جدت پسندوں اور روشن خیالوں کے لئے واضح پیغام ہے۔