About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, July 20, 2011

بھارت کا افغانستان میں قبرستان

 بدھ ، 20 جولائی ، 2011

بھارت کا افغانستان میں قبرستان
فضل حسین اعوان 
صدر اوباما نے افغانستان سے 2014ءتک جس انخلا کی بات کی اس کی ابتدا 650 فوجیوں کی واپسی سے ہو گئی۔ اوباما کے اعلان کے مطابق رواں سال کے آخر تک 10 ہزار اور اگلے سال ستمبر تک مجموعی طور پر 33 ہزار فوجی افغانستان چھوڑ دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2009 کی سطح پر آ جائے گی۔ 2009 میں اوباما نے 30 ہزار فوجی افغانستان بھجوائے تھے۔ ستمبر 2012 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ رہ جائے گی۔ 2009 میں بھی ایک لاکھ امریکی فوجی افغانستان کو فتح کرنے کے لئے سرگرداں تھے۔ امریکہ نے افغانستان کو تاراج تو کیا اسے فتح کرنے کا تاج سر پر نہ سجا سکا۔ محض 650 امریکی فوجی جب کوچ کرنے کے لئے اپنا بوریا بستر باندھ رہے تو عین اس وقت حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی کو اس کے محافظ سید سرور جان نے قتل کر دیا۔ سرور جان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کمانڈر رہ چکا ہے۔ گو طالبان نے ولی کرزئی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم اس سے امریکی حکام بھی خوش نہ تھے۔ امریکی اس کی کرپشن، فوجی معاملات میں مداخلت، ہر شعبے میں کمشن سے تنگ تھے۔ وہ اسے مافیا ڈان سمجھتے۔ جنرل پیٹریاس سے اس کی ملاقاتیں رہتیں۔ پیٹریاس نے اسے قندھار میں بڑے عہدوں کی تعیناتیوں میں مداخلت سے منع کیا تھا۔ افغان صدر کے بھائی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے احمد ولی کرزئی کی ڈرگ ٹریڈ میں اجارہ داری تھی۔ دنیا کے سب سے بڑے ہیروئن سمگلر کا اعزاز بھی اسے حاصل رہا۔ اس کے محافظوں کی تعداد 500 تھی تمام کا تعلق اس کے اپنے قبیلے پوپلزئی سے تھا جن کی تنخواہ 3 لاکھ سے پانچ لاکھ افغانی تھی۔ اب شاید وہ امریکہ کے کام کا نہیں رہا تھا اس لئے امریکہ نے اسے مروا دیا یا طالبان کے ہاتھوں مرنے دیا۔ اگر طالبان نے مروایا تو یہ امریکہ کے لئے بڑا پیغام ہے کہ افغانستان سے نکل رہے ہو تو اس ملک سے اپنا سایہ بھی سمیٹ کر ساتھ لے جاﺅ۔ یہ سرزمین ہمیشہ جارح کا قبرستان بنی ہے۔ ابھی دوسرے امریکی دستے نے واپسی کی تیاری بھی نہیں پکڑی کہ احمد ولی کرزئی کے قتل کے چوتھے روز حامد کرزئی کے خصوصی مشیر جان محمد خان کو قتل کر دیا گیا۔ افغان دشمن کا سینہ تان کر مقابلے کا شہرہ تو رکھتے ہی ہیں بھاگتے دشمن کا تعاقب کر کے موت سے ہمکنار کرنے میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ 1842 میں ساڑھے 16 ہزار برطانوی فوجیوں کو کابل سے جلال آباد چھاﺅنی کی طرف فرار کے دوران ایک ایک کو بھون ڈالا تھا۔ صرف ڈاکٹر برائیڈن کو زندہ چھوڑا تاکہ وہ اپنے ساتھیوں کے انجام سے جارحیت کے عزائم لئے جلال آباد چھاﺅنی میں موجود انگریز افسروں کو آگاہ کر سکے۔ جان محمد خان کے قتل کے اگلے روز طالبان نے اپنی کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے 11 پولیس افسروں اور اہلکاروں کو ضلعی سربراہ سمیت مار ڈالا۔ ادھر جنرل پیٹریاس سبکدوش ہوئے جنرل جان ایلن نے افغانستان میں اتحادی افواج کی سربراہی سنبھالی اُدھر طالبان نے ننگرہار میں 6 امریکی فوجیوں کو قتل کر کے ایلن کو سلامی دیدی۔ امریکہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں لاﺅ لشکر کے ساتھ افغانستان آیا۔ وہ مقصد اس نے ایبٹ آباد میں آپریشن کے ذریعے اسامہ کے مبینہ قتل سے حاصل کر لیا۔ اب اسے اصولی طور پر جن سے حکومت چھینی تھی ان کے حوالے کر کے چلتا بننا چاہئے۔ یا افغانوں کو ان کی حالت پر چھوڑ کر چلا جائے۔ لیکن اس کی نیت میں فتور ہے۔ وہ افغانستان سے اپنی فوج تو واپس لے جانے کا اعلان کر چکا ہے خود اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ طالبان کی جارحانہ کارروائیوں کا بہانہ بنا کر فوجی انخلاءکے وعدے سے کسی بھی وقت مکر سکتا ہے۔ جنگ ہو یا امن کہہ مکرنی اس کا چلن ہے۔ اتوار 17 جولائی کو بامیان صوبہ کی سکیورٹی افغان فورسز کو سونپ دی گئی۔ افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان وحید عمر نے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں مقامی فورسز کو حوالے کرنے کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے اور پہلے مرحلے میں افغان سکیورٹی فورسز نے صوبہ بامیان کی سکیورٹی کے فرائض سنبھال لئے، سکیورٹی کی منتقلی کا عمل 2014ءکے آخر تک مرحلہ وار مکمل ہو گیا۔ افغانستان سے اتحادی فوج کے انخلاءکا مقصد افغانستان کو ہرگز اکیلا چھوڑنا نہیں، افغانستان سے انخلاءکے بعد بھی غیر ملکی طاقتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گی اور افغان فورسز کو تربیت اور آلات کی فراہمی کا عمل جاری رہے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں جہاں خواتین اور بچوں سمیت لاکھوں بے گناہوں کا خون بہا یا وہیں اپنے ہزاروں فوجیوں کے بھی تابوت اٹھائے۔ اب وہ افغانوں کو افغانوں سے لڑا کر ایک دوسرے کا خون کرا کر تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔ افغان نیشنل آرمی نہ صرف بامیان میں کامیابی سے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے گی بلکہ اسے جنوب کے ایک اور شمال مغربی 6 صوبوں میں بھی کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ اس کا امتحان مشرق اور جنوب کے پختون اکثریتی صوبوں میں تعیناتی سے شروع ہو گا۔ افغان نیشنل آرمی میں پختونوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان علاقوں میں امریکی اور اتحادی فوج کی جگہ نیشنل آرمی لے گی تو جنگجو پختون اسے کاٹ کے رکھ دیں گے۔ امریکہ کے لئے عراق کی طرز پر افغانستان میں فوج کے بغیر کٹھ پتلیوں کے زور پر موجود رہنا ممکن نہیں۔ خود کو اپنے اتحادیوں اور کرزئی جیسے غلاموں کو خونریزی سے بچانے کے لئے بہتر ہے ملا عمر سے براہِ راست مذاکرات کر کے یکبارگی ساری فوج نکال کر لے جائے۔ امریکہ انتظامیہ اور میڈیا پاکستان میں ملا عمر کی موجودگی اور کوئٹہ میں طالبان شوریٰ کی سرگرمیوں کا الزام لگاتا ہے۔ ملا عمر سے ملا عبدالبصیر نے افغان خاتون رکن پارلیمنٹ ہما سلطانی کی ملاقات کرا دی۔ جو افغانستان میں ہی ہوئی۔ یہ ملاقات امریکی ایما کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ دیگر طالبان سے امریکہ براہِ راست مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان پر طالبان سے دور رہنے کے لئے دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ عمران خان نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ حکومت وسیع تر قومی مفاد میں اسے قبول کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں خونریزی کا سلسلہ بند کرا سکتی ہے۔ امریکہ فوجی انخلا کے بعد افغانستان کو اپنی کالونی کا درجہ دیکر خود براجمان رہنے کی پلاننگ کر چکا ہے۔ وہ جہاں بھارت کو بھی کردار دینا چاہتا ہے۔ اس سے شاید بہت سے لوگ اختلاف کریں لیکن بہت سے متفق بھی ہیں کہ بھارت کو افغانستان میں کردار دیا جانا چاہئے۔ یقین کیجئے افغانوں یا طالبان کے ہاتھوں ان کی سرزمین پر موجود ایک بھی بھارتی فوجی یا سفارتکاروں کے بھیس میں تخریب کارسلامت نہیں رہے گا۔ قائداعظم کے قرار دیئے ہوئے پاکستان کے بازوئے شمشیر زن بھی آسانی سے ان پر جھپٹ سکیں گےاور پھر جب آئی ایس آئی بھی بھارت کا افغانستان میں قبرستان بنانے کا پاکستان کے پاس یہ بہترین موقع ہو گا۔


Tuesday, July 19, 2011

کرپشن آخر کہاں پہ ختم

منگل ، 19 جولائی ، 2011


کرپشن آخر کہاں پہ ختم
فضل حسین اعوان
میاں نوازشریف وفد کے ساتھ چین کے دورے پر گئے۔ جہاز میں دیسی اور روایتی کھانوں کی محفل جمی رہی۔ عملے نے سب کی خدمت میں سری پائے کے پیالے پیش کئے۔ اس کے بعد ہریسہ، نہاری، حلیم، تکے کباب اور دیگر لوازمات سے تواضع کی۔ آخر میں لسی کے جام لنڈھائے گئے۔ پیٹ ایسی نعمتوں سے گردن تک فل ہو تو نیند اپنی بانہوں میں کیوں نہ لے گی۔ اردو ڈائجسٹ کی سٹوری کے مطابق سب لوگ نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ چین میں ہوائی اڈے پر اُترے تو وزیراعظم سمیت تمام قافلے کو فوراً ہوٹل پہنچایا گیا۔ وفد کے تمام ارکان جی بھر کر سوئے اور اگلے روز اُٹھے تو پھر سرکاری دورہ شروع ہوا۔ ایسی خوراکیں ہمارے حکمران روز کھائیں اور بار بار کھائیں۔ اس سے قومی خزانے کا بال تک بیکا نہیں ہو گا۔ 
ایک بار بے نظیر نے اپنے بیٹے کی سالگرہ بحری جہاز میں منانے کا فیصلہ کیا۔ سالگرہ کے انتظامات مکمل ہو گئے تو کیک کاٹا گیا۔ اسی دوران بچے نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ بندر کا تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔ بچے کی ضد بڑھی تو بے نظیر بھٹو نے اسے پورا کرنے کا حکم دیا۔ آخر سرکاری کارندے ایک ہیلی کاپٹر میں کراچی کی دُور دراز بستی سے ایک تماشہ گر کو مع بندر ڈھونڈ لائے۔ تب بچے سمیت تمام مہمانوں نے بندر کا تماشا دیکھا اور پھر بندر والے کو ہیلی کاپٹر واپس چھوڑ آیا۔ ایسے تماشے ہمارے حکمران اپنے بچوں کو لگاتار دکھاتے رہیں۔ خزانے پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ 
آج کل ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاﺅس کے اخراجات کروڑوں کے ہیں۔ گورنرز اور وزرائے اعلیٰ ہاﺅسز کے اخراجات بھی ان کی آن بان اور شان کے مطابق ہیں۔ گزشتہ سال اداکارہ انجلینا جولی سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے پاکستان آئیں تو وزیراعظم گیلانی کا خاندان انجلینا سے ملاقات کے لئے ملتان سے طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچا۔ انجلینا ٹیبل پر انواع و اقسام کے کھانے دیکھ کر دنگ رہ گئی۔ ایسی دعوتیں اڑتی رہیں۔ بڑے ہاﺅسز کے اخراجات اگر تھوڑے سے مزید بڑھا دئیے جائیں تو بھی قومی خزانے کو کوئی ضعف نہیں پہنچے گا۔ پھر قومی خزانہ آخر لاغر کیوں ہو رہا ہے؟ اس کی وجہ لوٹ مار اور کرپشن ہے۔ جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ در اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی پاکستان میں ہونیوالی کرپشن پر مسلسل اور کڑی نظر ہے۔ اس کے تازہ ترین تجزئیے کے مطابق گزشتہ 3 برسوں میں صرف مخصوص شعبوں میں قوم کو 30 کھرب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ 3 سال کے محتاط اعداد و شمار 10 کھرب روپے سالانہ ہیں، جس میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوتا رہا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن کا اندازہ اس کی عالمی رینکنگ سے لگایا جا سکتا ہے جوکہ 2008ءمیں 47ویں 2009ءمیں 42ویں اور 2010ءمیں 34ویں ہو گئی۔ اس وقت کے وزیر خزانہ شوکت ترین کے بیان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں 2009ءکے دوران کم از کم کرپشن 5 سو ارب روپوں کی ہوئی جبکہ سرکاری ادارے جیسے پی آئی اے، واپڈا، اسٹیل ملز اور ریلویز ٹیکس دہندگان کے 3 سو ارب روپے ہڑپ کر گئے۔ 2009ءمیں کرپشن کی نذر ہونے والی رقم 195 ارب روپے تھی جوکہ 2010ءمیں 225 ارب روپے ہو گئی۔ کرپشن کی اس بھاری رقم میں لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والی بڑی کرپشن اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، سول ایوی ایشن اتھارٹی، نیشنل انشورنس کارپوریشن لمیٹڈ، پیپکو، ایرا، ایس وی بی پی، این بی پی، سی ڈی اے، وزارت دفاع، ڈیفنس ہاﺅسنگ اتھارٹی، نیشنل لاجسٹک سیل، پی ایس او، پی این ایس سی، کنٹونمنٹ بورڈز وغیرہ میں حکومت کی جانب سے کی گئی خریداری میں ہونے والی کرپشن شامل نہیں ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ حکومت کرپشن پر قابو پانے اور اس عفریت سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرنے کی بجائے کرپٹ لوگوں کو تحفظ دے رہی ہے جبکہ انسداد کرپشن کے ادارے جیسے کہ ایف آئی اے اور قومی احتساب بیورو کو حکومت کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے تاکہ قومی خزانہ لوٹنے والوں کو اور کرپٹ افراد کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ نامور معیشت دان اور معاشی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ اگر پاکستان میں موثر طریقے سے کرپشن پر قابو پا لیا جائے تو اسے امریکہ سمیت کسی ملک سے امداد کی ضرورت نہیں رہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی پاکستان میں اندھا دھند کرپشن کے حوالے سے سال بہ سال رپورٹ منظر پر آتی رہی ہے۔ جس کی حکومت کی طرف سے سخت الفاظ میں تردید کی جاتی رہی ہے اور جہاں تک کہا جاتا ہے کہ ایمنسٹی حکومت کے مخالفین کے ایما پر ایسی رپورٹیں جاری کر کے حکومت کو بدنام کرتی ہے۔ اگر حکومتی موقف کو وقتی طور پر تسلیم کر لیا جائے کہ ہمارے حکمران ایماندار دیانتدار اور پارسا ہیں۔ کرپشن اور حکمرانوں کے مابین فاصلہ بعد المشرقین ہے۔ کرپشن کی باتیں اپوزیشن نے پھیلائی ہیں یا پیپلز پارٹی کے ناراض ساتھیوں نے اڑائی ہیں۔ جمشید دستی نہ صرف حکومت کا حصہ بلکہ اس کے لاڈلے بھی ہیں۔ وزیراعظم گیلانی ان کی انتخابی مہم ان کے حلقے میں جا کر چلاتے رہے۔ جمشید دستی نے رحیم یار خان کے وکلا کے درمیان کھڑے ہو کر اپنے وزیراعظم پر کرپشن کے الزامات لگائے۔ ”پیپلز پارٹی اپنے منشور سے ہٹ کر کام کر رہی ہے جس کے سب سے بڑے ذمہ دار وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ہیں جنہوں نے ہر جگہ کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فارم بھی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی وجہ سے کرپشن کی نذر ہوئے“۔ جمشید دستی ذمہ دار سیاستدان ہیں۔ انہوں نے جو بات کی سوچ سمجھ کر کی ہو گی۔ وزیراعظم کا دامن کرپشن سے پاک ہے تو اب تک نوٹس لے لیا جانا چاہئے تھا۔ بہتر ہے وزیراعظم صاحب دستی صاحب کو عدالت میں لے جائیں۔
آج کرپشن، بدعنوانی اور بے ایمانی کا جس طرح چلن ہے۔ اس پر ہر کسی کی نظر ہے۔ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی خواہش رکھنے والوں کی اور جمہوریت کو پٹڑی پر چڑھانے اور چلائے رکھنے کی تمنا رکھنے والوں کی بھی۔ اگر سیاستدان خود اپنی اداﺅں سے جمہوریت کو ڈیل کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو تقویت پہنچائیں تو دوش کس کو دیا جائے گا؟

Sunday, July 17, 2011

جنگیں تباہی کا نشاں.... لیکن

 اتوار ، 17 جولائی ، 2011



جنگیں تباہی کا نشاں.... لیکن
فضل حسین اعوان 
امریکہ نے افغانستان سے واپسی کا اعلان تو کر دیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی افغانستان سے نکل رہا ہے۔ کیا وہ انخلا کے اپنے اعلان پر قائم رہے گا اور پرعزم بھی۔ جس مقصد کے لئے افغانستان آیا کیا وہ پورا ہو گیا؟ یقیناً امریکہ بظاہر جس مقصد کے لئے افغانستان آیا وہ پورا ہو گیا۔ اُس نے اسامہ بن لادن کو نائن الیون سانحے، واقعے یا اپنے رچائے ڈرامے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ طالبان حکومت نے بن لادن کو امریکہ کے حوالے نہ کیا تو وہ اسے بزور یہاں اٹھانے یا مار گرانے آیا تھا۔ یہی اس کا واحد مقصد تھا۔ جو 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ کے مبینہ قتل بعداز قتل سے پورا ہو گیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی گزشتہ سال لزبن کانفرنس میں افغانستان سے 2014ءتک انخلا پر متفق ہو چکے تھے۔ اسامہ کو ایبٹ آباد میں قتل کر کے امریکہ نے پھر سے 2014 تک افغانستان سے انخلا کا اعادہ کر دیا۔ جب آپ کا مقصد پورا ہو گیا تو انخلاء2014 تک کیوں؟ فوری ایک دو ماہ میں کیوں نہیں؟ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ امریکہ کا نہ صرف افغانستان بلکہ خطے میں آنے کا مقصد کچھ اور ہے۔ بن لادن کا تعاقب ایک بہانہ تھا۔ اس میں شک نہیں کہ افغانوں اور ملکِ افغاناں کو سکندراعظم اور اپنے اپنے دور کی سپر پاورز برطانیہ اور روس سمیت دنیائے تاریخ کی کوئی طاقت تسخیر نہیں کر سکی۔ فتح کا زعم لے کر آنے والا ہر کوئی رسوائیوں سے دوچار ہو کر لوٹا۔ اگر امریکہ کا مقصد افغانستان کو فتح کرنا تھا وہ تو پورا نہیں ہوا۔ البتہ ایک مقصد برطانیہ بھی لئے ہوئے ہے۔ امریکیوں نے آزادی اپنا خون دیکر اور برطانوی گوروں کا خون لے کر حاصل کی تھی۔ اہل برطانیہ کے دل میں بھی امریکہ کے افغانستان میں دفن ہونے کی امید کے چراغ جل رہے ہیں۔ ان کا مقصد امریکہ کو توڑنا ہے۔ برطانیہ کی معیشت ڈوبی تو بکھر کے رہ گیا۔ روس کے ٹکڑے بھی اس کی معیشت گرانے سے ہوئے۔ نائن الیون اگر ڈرامہ نہیں تو یہ سانحہ برپا کرنے والوں کا مقصد بھی امریکی معیشت کو بھنور میں پھنسانا تھا۔ برطانیہ بھی امریکہ کو اس کا ساتھی و اتحادی بن کر اس خطہ میں اس کے سلامت واپس نہ جانے کے خواب آنکھوں میں سجا آیا تھا۔ اب جن کے خلاف یہ صلیبی جنگ لڑی جا رہی ہے ان کا کیا مقصد ہونا چاہئے؟ امریکہ کا وہی انجام جو معیشتیں ڈوبنے پر برطانیہ اور روس کا ہوا؟
پاکستان کے موجودہ حالات پر ہر محب وطن پاکستانی دکھی ہے۔ ٹیکسلا سے دردِ دل رکھنے والے الشیخ احمد فضلی صاحب نے اپنے خط میں کچھ امید اور کچھ نومیدی کی باتیں کی ہیں ان کی نظر میں امریکہ کے افغانستان میں آنے کے مقاصد وہ نہیں جن کا امریکہ نے اظہار کیا۔ مختصراً ملاحظہ فرمائیے۔ 
لوگ امریکہ کو اپنے مشن میں ناکام سمجھ کر اس کے واپسی کے اعلانات پر قدرے خوش ہو رہے میں اسے نہ تو ناکام سمجھتا ہوں اور نہ ہی واپسی کے پروگرام میں مخلص۔ اس کا اصل مقصد اس علاقہ کو غیر مستحکم کر کے مسائل کے گرداب میں دھکیلنا تھا سو وہ اس میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اگر آج ہی وہ اپنے ساتھیوں سمیت افغانستان سے نکل جائے تو پھر بھی افغانستان کو ہوش سنبھالنے کیلئے اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کیلئے کم از کم ایک سو سال چاہئیں کیونکہ لوگوں کی سائیکی تنظیم کو قبول نہیں کرتی اور اداروں کے بغیر ترقی ممکن نہیں انتظامیہ حد درجہ کی کرپٹ اور نااہل ہے ملک ترقی کیسے کرے گا؟ اس سے ملتا جلتا حال پاکستان کا ہے۔ اہل اقتدار کو سونے کے دو پہاڑ دے دیں تو پھر بھی وہ دو اور کا مطالبہ کریں گے عوام تک ملکی وسائل کے ثمرات کا پہنچنا محال ہے۔ امریکہ کے عزائم اس اسلامی ریاست کے خلاف انتہائی بھیانک ہیں وہ اسے بالکل اپنی ایک ریاست بنانا چاہتا ہے۔ ہم اس کے ساتھ جنگ کرنے کے متحمل ہو سکتے یا نہیں یہ الگ بحث ہے۔ دانش مندی یہ ہے کہ جس طرح جناب قائداعظم نے بغیر کسی ٹکراﺅ کے حصول پاکستان کی جنگ جیتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کو بچانے کی جنگ بغیر کسی ٹکراﺅ کے جیتنے کی کوشش کی جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میدان جنگ نہ بن جائے۔ کیونکہ اس بلاوجہ کی جنگ میں انسانی جانوں اور املاک کا جو نقصان ہو گا اس کے تصور سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر جنگ کے بعد اس سے بچ جانے والوں کے لئے مسائل کا ایک نیا باب کھل جاتا ہے۔ ایسی تدبیر کی جائے کہ اس بے ایمان سے حواریوں سمیت جان چھوٹ جائے اور یہ اپنے اپنے ملکوں کو لوٹ جائیں۔ 
جنگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ مسائل کا حل نہیں لیکن اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض جنگیں تاریخ کا دھارا موڑ دیتی ہیں ان سے جغرافیائی تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ معرکہ بدر و حنین کی برکات سے آج نورِ اسلام دنیا کے کونے کونے میں ضوفشاں ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں لاکھوں انسانوں کا خون بہا لیکن یہ جنگ پاکستان سمیت کئی ممالک کی آزادی کی بنیاد بنی۔ جنگ سے ضرور گریز کرنا چاہئے۔ لیکن اگر یہ مسلط ہو جائے تو تیغ کے نیچے برضا و رغبت گردن رکھنے سے آمادہ پیکار ہو جانا بہتر ہے۔ اس میں موہوم ہی سہی کامیابی کی ایک امید تو ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے ایسی جنگ امہ کے لئے نوید سحر بن جائے۔ قدرت کاملہ حقیر سی مخلوق چیونٹی سے ہاتھی کو مروا دینے پر قادر ہے پاکستان تو ایک ایٹمی طاقت ہے۔ یہ اکیلا نہیں اس کی پشت پر 57 اسلامی ممالک ہونگے تو امریکہ بھارت یا کسی بھی طرف سے مسلط کردہ جنگ تیسری عالمی جنگ بن سکتی ہے۔ بشرطیکہ پاکستان مسلم امہ کو یکجا کر لے۔


Saturday, July 16, 2011

قرآنی

 ہفتہ ، 16 جولائی ، 2011

قرآنی
فضل حسین اعوان
کچھ اپنوں کی لگائی اور کچھ غیروں کی دہکائی آگ میں بلوچستان جل رہا ہے۔ یہ آگ کہیں پھونکوں سے اور کہیں پٹرول چھڑک کر بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ موجودہ دور میں معافیوں کا بڑا چلن ہے۔ ہماری حکومتیں بلوچوں سے معافیاں مانگتی رہی ہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی مانگی ہے۔ بلوچ بڑی غیرت مند اور خوددار قوم ہے۔ یہ کچھ نہیں مانگتے، نوکریاں نہ روٹیاں، عہدے نہ سرداریاں صرف عزت و وقار کے طلب گار ہیں۔ ہمارے حکمران معافی بھی مانگتے ہیں تو بندوق تان کر، گریبان پکڑ کر۔ دو روز قبل وزیراعظم کوئٹہ میں تھے ان کے وزیر داخلہ عبدالرحمن ملک بھی ان کے ساتھ گئے۔ 13 جولائی 2011 کو کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ملک صاحب نے کہا قومی پرچم جلانے والوں سے بات نہیں ہو سکتی۔ ساتھ یہ بھی فرما دیا معلوم ہے کہ شرپسندوں کو امداد کہاں سے ملتی ہے.... شرپسند بلوچستان میں پرچم جلا رہے ہیں۔ علیحدگی کی تحریک جاری ہے۔ ٹارگٹ کلنگ رکنے میں نہیں آ رہی۔ جتنے مستوجب سزا یہ لوگ ہیں اُتنے ہی وہ بھی ہیں جن کو معلوم ہے کہ شرپسندوں کو امداد کہاں سے ملتی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے خاموش ہیں۔ اس میں کیا مصلحت ہے، کیا یہاں بھی کمشن کا چکر ہے؟ پرچم جلانے والے اگر بھٹکے ہوئے ہیں تو بلوچستان کے مخصوص حالات کے باعث ان کو راہِ راست پر لانا چاہئے نہ کہ ان کی تحریک کو مضبوط تر بنانے کے مواقع پیدا کر دئیے جائیں۔
پیپلز پارٹی کی باقی بچی ڈیڑھ سالہ آئینی مدت کی تکمیل کے راستے میں آگ کا دریا حائل ہے۔ ساڑھے تین سال کا عرصہ فرینڈلی اپوزیشن کی نظرِ کرم سے بڑی آسانی سے گزر گیا۔ اب اپوزیشن اپنی آئی پر آ گئی ہے تو اقتدار کے ایوانوں کے در و دیوار ہل رہے اور ان کے مکینوں کے سانس پھولے ہوئے ہیں۔ اپنی مدت کے آغاز پر بلوچوں سے معافی مانگی اور ساڑھے تین سال اسی معافی کے زور پر نکال لئے۔ اب وزیراعظم آغاز حقوقِ بلوچستان کی پٹاری لے کر کوئٹہ جا پہنچے۔ وہی وعدے، وہی دعوے، وہی رسمی قسمیں اور عہد و پیمان۔ یہ کر دیا وہ کر دیں گے۔ ”آغاز حقوق بلوچستان“ جیسا نام ویسا کام اور انجام۔ تین سال قبل بھی آغاز اب بھی آغاز اقتدار سے جائیں تو بھی حقوق بلوچستان کی تفویض کا آغاز ہی ہو گا۔
وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا ہم اب بھی ناراض بھائیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں ہم سے مذاکرات کریں.... آپ نے کہہ دیا گویا ناراض بلوچوں نے مان لیا! اپنی خوش الحانی پہ کیسی خوش گمانی ہے! کیا ناراض بلوچوں کو ”پولیس صفت“ حکمرانوں پر اعتماد اور اعتبار ہے۔ براہمداغ بگتی، گزین مری، میر حیر بیار بگٹی اور خان آف قلات میر سلمان داﺅد اور بہت سے دیگر رہنما خلیجی ریاستوں، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں قیام پذیر ہیں۔ سلمان داﺅد تو جلاوطن حکومت بھی بنائے بیٹھے ہیں۔ سلمان داﺅد خان آف قلات میر احمد یار خان کے جاں نشین ہیں۔ میر احمد یار قائداعظم کے دست و بازو تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے دو مرتبہ قائداعظم اور مادرِ ملت کے وزن کے برابر سونا تحریک پاکستان کے لئے دان کر دیا تھا۔ ایسے محب وطن لوگوں کے ساتھ ہمارے حکمرانوں نے کیا سلوک کیا؟ ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا تو میر احمد یار خان کو گرفتار کر لیا۔ یہیں پہ بس نہیں۔ ایوب حکومت کے اس اقدام کے خلاف جھالاوان کے نواب میر نوروز خان زرک زئی نے مسلح جدوجہد شروع کر دی۔ جنرل ایوب خان نے نوروز خان کے ساتھ مذاکرات شروع کئے اور ہتھیار ڈالنے کی صورت میں معافی کا وعدہ کیا۔ وہ حکومت کے چکمے میں آنے پر تیار نہ تھے۔ ایوب خان نے نواب دودہ خان زرک زئی کو قرآن دے کر پہاڑیوں پر بھجوایا۔ اس پر نوروز خان نے ہتھیار ڈال دئیے لیکن فوجی حکومت نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے فوجی عدالت میں انکے خلاف مقدمہ چلایا۔ 80 سالہ نوروز خان کو عمرقید کی سزا دی اور انکے بیٹے میر بٹے خان سمیت پورے خاندان کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ کچھ عرصے کے بعد نوروز خان بھی جیل میں چل بسے۔ اس کے بعد سے بلوچ مزاحمت کریں یا امن سے رہیں حکومت پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ موجودہ حکمران تو ویسے بھی وعدے معاہدے کر کے کہتے ہیں یہ کوئی قرآن و حدیث نہیں۔ مدیر نوائے وقت خاں آف قلات میر احمد یار خاں سے قلات میں جا کر ملے حال احوال پوچھنے کے بعد بات چیت ہوتی رہی ضیاالحق کا دور تھا خان قلات کے فلیٹیز ہوٹل والی فرم میں شیئرز تھے انہوں نے کہا اب ریاست کے وہ مالک نہیں رہے۔ خزانہ خالی ہے۔ حکومت سے میری خدمات کے عوض یہ تین ہوٹل فلٹیز فلیش مین اور لورڈز سروسز مجھے دیدے میں اپنے قبیلے کے اخراجات کسی حد تک پورے کر سکونگا۔ مدیر نوائے وقت نے ضیاالحق تک یہ پیغام پہنچایا۔ انہوں نے ایک کان سے بات سنی دوسرے سے نکال دی۔ سروسز ہوٹل معلوم نہیں آج کس کی ملکیت ہیں!
بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کی بیل کیوں منڈھے نہیں چڑھ سکی؟ وہ حکمرانوں کو قرآنی (قرآن پر وعدہ کر کے مکر جانے والے) سمجھتے ہیں۔ حکومت پہلے اپنا اعتبار بحال کرے۔ عام معافی دے دی جائے تو بھی باہر بیٹھے ناراض بلوچ واپس نہیں آئیں گے۔ ایک طرف آپ ان کے ساتھ مذاکرات کرتے ہیں مفاہمت کی بات کرتے ہیں۔ معافی مانگتے ہیں اور معاف کرنے کے وعدے کرتے ہیں۔ دوسری طرف بلوچستان میں بندوق بردار بھی پھیلائے ہوئے ہیں۔ وہ بگتی ایسے سردار کو اگلے جہان پہنچا دیتے ہیں اور آج تک قاتل پکڑا نہیں جا سکا۔ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ آپ واقعی اپنے ان کو قومی دھارے میں لانا چاہئے۔ وہ پاکستان آئیں نہ آئیں۔ ان کی مسلح جدوجہد کے لئے حمایت ختم ہونی چاہئے۔ بلوچستان میں لگی علیحدگی پسندی کی آگ بجھانے اور بلوچستان کو بچانے کے لئے جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے سستا سودا ہے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو حکومت بااختیار بناتی ہے وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کو حقیقت میں بااختیار بنا دیں تو وہ معاملات راست سمت میں لانے میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں۔ زرداری صاحب خود بلوچ ہیں نوائے وقت کی تجویز پر وفاقی کابینہ کا اجلاس کوئٹہ میں ہوا اچھی بات ہے بلوچ صدر صاحب ہفتے میں کم از کم ایک دو دن بلوچستان میں گزاریں تو معاملات مزید تیزی سے بہتر ہو سکتے ہیں۔

Thursday, July 14, 2011

ناکام ریاست....پاکستان نہیں امریکہ

 جمعرات ، 14 جولائی ، 2011









ناکام ریاست....پاکستان نہیں امریکہ
فضل حسین اعوان
امریکی انتظامیہ لالچ یا دھونس (جسے Carrot and Stick Policy بھی کہا جاتا ہے) کے ذریعے دوسرے ممالک کو استعمال کرنے میں کمال مہارت، زبردست ملکہ اور ید طولیٰ رکھتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر کسی بھی ملک کو بدنام یا بلیک میل کرنے کے لئے فتنہ پرور امریکی میڈیا بھی انتظامیہ کے ہم زباں وہم عناں ہوتا ہے۔ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے خواہش کو خبر کا رنگ دے ڈالنا اس کی خوبو ہے جو اس کے خون میں شامل ہے۔ اصولوں اور غیر جانبداری کا پرچارک امریکی میڈیا اپنے ملک کے مفادات کے لئے مکمل طور پر جانبدار ہے۔ غیر جانبداری اصولوں کی پاسداری کے خبط میں مبتلا ہمارے میڈیا والے اپنی ماں (دھرتی بھی ماں ہی ہے) تک کا سکینڈل نشر اور شائع کرنے کو صحافت میں بڑی ناموری گردانتے ہیں۔
پاکستان 57 اسلامی ممالک کی واحد اور ساتویں عالمی ایٹمی طاقت ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، پاکستان دنیا کی 27ویں بڑی معیشت ہے۔ زرعی پیداوار کے لحاظ سے دنیائے اسلام میں اس کا نمبر پانچواں، جبکہ دنیا میں بیسواں ہے۔ یہاں دنیا میں کوئلے کے دوسرے بڑے ذخائر (1857 ارب ٹن) واقع ہیں۔ پاکستان ہی میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام موجود ہے۔ پاکستان برصغیر میں مسلمانوں کی نمائندہ مملکت ہے، مسلمانوں نے ہزار سال تک ہندوستان پر حکمرانی کی۔ یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے انگریز کی کبھی غلامی قبول نہیں کی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے انگریز ہمیشہ مسلمانوں سے شاکی رہے اور غلام ہندوﺅں کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرتے رہے۔ مسلمان انگریز کی غلامی قبول کر لیتے تو ان پر تعلیم، تحقیق اور اعلیٰ ملازمتوں کے دروازے بند نہ ہوتے۔ البتہ عبداللہ ابن اُبی مسلم معاشروں میں کبھی میر جعفر اور کبھی میر صادق کے روپ میں نمودار ہوتے رہے ہیں۔پاکستان ایسے ملک کو کوئی ناکام ریاست کہے تو یہ انسان کی نہیں، اس کے اندر کے شیطان کی آواز ہے۔ ایسا کسی اور نے نہیں پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دینے والے عالمی تھانیدار، اجارہ دار و ٹھیکیدار امریکہ کے حاشیہ بردار جریدے فارن پالیسی نے کہا ہے۔فارن پالیسی نے دنیا کی ناکام ریاستوں کی درجہ بندی میں پاکستان کو 12ویں نمبر پر رکھا ہے۔ فنڈ فارپیس نامی ادارے کے تعاون سے جریدے کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں دنیا بھر کے 177 ممالک ناکام ریاستوں کی درجہ بندی والی فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔ دنیا کی ناکام ریاستوں والی فہرست میں صومالیہ سرفہرست ہے جبکہ دنیا کی ٹاپ 10 ناکام ریاستوں میں چاڈ، سوڈان، کانگو، ہیٹی، زمبابوے، افغانستان، وسطی افریقہ ریپبلکن، عراق اور کوسٹ دی آئیوری شامل ہیں۔ افغانستان کو ٹاپ 10 ناکام ریاستوں میں شمار کیا گیا ہے جبکہ پاکستان کو ٹاپ 10 ناکام ریاستوں سے صرف 2نمبر اوپر دیئے گئے ہیں اور اسے ٹاپ 15میں شامل کیا گیا ہے۔ پاکستان کو ناکام ریاستوں میں 12 ویں نمبر پر رکھتے ہوئے جریدے نے لکھا ہے، پاکستان تا حال مغرب کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے جبکہ بیشتر وقتوں میں پاکستان خود اپنے عوام کیلئے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ کانگو، چاڈ، ہیٹی، سوڈان اور افغانستان جیسے ممالک جہاں امن ہے نہ سکون ہر طرف لاقانونیت، انارکی پھیلی ہوئی، خونریزی، قتل و غارت عروج پر ہے۔ حکومت اور حکمرانی کا تصور ناپید ہے، فارن پالیسی کا پاکستان کو ایسے ممالک کی صف میں شامل کرنا‘ شرمناک اور پاکستان کے خلاف اس کی خباثت کا مظہر ہے‘ ناکام ریاست (Failed State) کی مروجہ تعریف کے تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ پاکستان کی نسبت کہیں بڑی ناکام ریاست قرار پاتا ہے۔ آگے چلنے سے قبل سید عاصم محمود کی مختصراً رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:”خود امریکہ کے غیر جانبدار ماہرین اور دانشور ”امریکہ“ کے زوال کی پیشن گوئیاں کر رہے ہیں۔ اب امریکہ بھی زوال پذیر ہے اور امریکی حکومت کا اندرونی یا داخلی قرضہ 14.32 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو اس کی کل خام قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے برابر ہے۔ یوں امریکہ رقم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بن چکا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی امریکہ میں جنگ ہوئی، یا وہ جنگوں میں شریک ہوا تو وہاں معیشت خوب ترقی کرتی رہی، ہر قسم کی پیداوار بڑھتی، قرضے اترتے اور عوام خوشحال ہو جاتے۔ اسی لئے امریکی حکومت نے رفتہ رفتہ جنگ جوئی ہی کو امریکی انڈسٹری اور اپنی ترقی کا واحد راستہ بنا لیا۔ (جاری )
جارج بش کے دور حکومت میں تو امریکہ جیسے سفارت کاری کرنا بھول گیا اور اس نے جارحیت کو سکہ رائج الوقت بنا دیا۔ بش حکومت نے عراق و افغان جنگوں میں اربوں ڈالر پھونک ڈالے۔ ماہرین کے نزدیک یہ جنگیں اس لئے بھی شروع کی گئیں کہ بڑھتے داخلی قرضے کو محدود کیا جا سکے لیکن اس بار یہ جنگیں مطلوبہ نتائج....قرضے میں کمی، معاشی ترقی اور عوامی خوشحالی وغیرہ سامنے نہیں لا سکیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان جنگوں سے صرف امریکہ کے مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچا جو اسلحے کی صنعت، افواج اور متعلقہ شعبوں سے منسلک ہے۔ بش حکومت نے غیر ممالک اور بینکوں سے قرضے بھی لیے تاکہ روز بروز بڑھتے جنگی اخراجات پورے کئے جا سکیں۔ اندازہ کیجئے کہ آج افغانستان میں ہر امریکی فوجی پر امریکہ کے ”سات لاکھ پچاس ہزار ڈالر“ سالانہ خرچ ہو رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ رقم ادھار یا امریکیوں کے ٹیکسوں ہی سے آتی ہے۔ لہٰذا داخلی قرضے میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ بش حکومت جنگجوئی اور اپنی چودھراہٹ جمانے کے چکر میں سمجھ ہی نہ سکی کہ وہ اپنے ملک و قوم کو قرضوں کی دلدل میں اتار رہی ہے۔
امریکی حکومت پر قرضے چڑھنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ جب2008ءمیں امریکہ کا ”تعمیراتی بلبلہ“ پھٹا تو کئی بنک اور مالیاتی ادارے دیوالیہ ہو گئے کیونکہ امریکی عوام نے انہی سے قرض لے کر گھر بنائے تھے۔ جب گھر بکنا بند ہو گئے تو انہیں کہاں سے رقم ملتی، امریکی حکومت نے پھر بڑے سرکاری بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بچانے کے لئے کئی ارب ڈالر خرچ کئے۔ مگر یہ اضافی خرچ مجموعی قرضوں میں اضافہ کر گیا۔
یہ تھیں زوال کی معاشی و مالی نشانیاں، اخلاقی سطح پر بھی امریکی پہلے کی مانند بلند کردار کے مالک نہیں رہے۔ امیر طبقہ فحاشی، منشیات اور دیگر سماجی برائیوں میں مبتلا ہو چکا۔ ثبوت یہ ہے کہ امریکہ میں 43 فیصد بچے ناجائز پیدا ہوتے ہیں۔ نئی نسل پہلی نسلوں کی طرح محنتی، تجربے کار اور آگے بڑھنے کی شائق نہیں بلکہ اسے ڈیجیٹل آلات کی لت نے کام کرنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ ان عوامل کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ نیم ناکام ریاست میں بدل چکا جو تیزی سے اپنے زوال کی جانب گامزن ہے۔ اگر امریکہ میں سیاسی، اخلاقی، معاشرتی اور معاشی طور پر وسیع پیمانے پر اصلاحات نہ آئیں تو اسے تاریخ کے گڑھے میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا....وہ گڑھا جہاں ماضی کی کئی عظیم سلطنتیں روما‘ عثمانی سلطنت‘ برطانیہ اور روس دفن ہیں“۔
اب ملاحظہ فرمائیے خود امریکی کیا کہتے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے سابق ایڈیٹر اور امریکی وزارت خزانہ کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری پال کریگ رابرٹس نے اپنے آرٹیکل میں امریکہ کو ناکام ریاست قرار دیا ہے۔ ”امریکہ اپنے پروپیگنڈے کی وجہ سے دنیا میں سب سے زیادہ کامیاب ریاست سمجھا جاتا ہے۔ اگر سچی بات کی جائے تو امریکہ ایک ناکام ریاست ہے۔ امریکہ کی کامیابی کا امیج تین وجوہ کی بنا پر ہے۔ (1) وسیع سرزمین اور معدنی وسائل جو امریکہ نے ظلم و تشدد کے ذریعے مقامی باشندوں سے ”آزاد“ کرائے۔ (2) پہلی جنگ عظیم میں یورپ خصوصاً برطانیہ کی خود اپنے ہاتھوں اپنی تباہی اور (3) کمیونزم یا سوشلزم کی وجہ سے روس اور ایشیاءکے بیشتر ملکوں کی اقتصادی تباہی۔
”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ نے امریکہ کی آئینی اور قانونی ناکامی کو مکمل کر دیا ہے۔ اقتصادی طور پر امریکہ ناکام ہو چکا ہے۔ کم مدتی منافعوں کے لئے وال سٹریٹ کے دباﺅ کے تحت امریکی کارپوریشنیں امریکی کنزیومر مارکیٹوں کے لئے ملک سے باہر جا کر مصنوعات تیار کر رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امریکی جی ڈی پی اور بڑی تنخواہوں والی اسامیاں ان ملکوں مثلاً چین، اور ہندوستان میں چلی گئیں جہاں مزدوری اور پیشہ وارانہ صلاحیت ارزاں ہے۔ یہ عمل 1990ءسے جاری ہے۔ امریکہ اس لئے بھی ایک ناکام ریاست ہے کہ عوام کارپوریشنوں یا حکومت کا کسی بھی سطح پر احتساب نہیں کر سکتے، چاہے یہ سطح ریاستی ہو، مقامی یا وفاقی ہو، برٹش پٹرولیم خلیج میکسیکو کو تباہ کر رہی ہے۔ حکومت نے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا۔ اوبامہ حکومت کا بحران کے متعلق رد عمل غیر ذمہ دارانہ ہے۔ بہ نسبت اس ردعمل کے جو بش حکومت نے کترینہ ہری کین کے متعلق اختیار کیا تھا۔ امریکی عوام کو یہ احساس نہیں کہ ان کی شہری آزادیاں ضبط ہو چکی ہیں۔ انہیں بہت آہستہ آہستہ یہ بات سمجھ آرہی ہے کہ ان کی اقتصادی ناکامی پر سمجھوتہ کیا جا چکا ہے۔ انہیں یہ بھی احساس نہیں کہ امریکہ کی طرف سے دوسرے ملکوں میں تباہی پھیلانے کی وجہ سے دنیا میں امریکی عوام کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی اپنے آپ میں مگن ہیں، دنیا کے بیشتر عوام ایک ایسے ملک کی طرف دیکھ رہے ہیں جو احمق ہے اور انسان دوستی سے عاری بھی اور یہ عوام امریکیوں کی اپنے متعلق بڑی اچھی رائے پر حیران ہو رہے ہیں۔“
دوسری طرف برطانوی جریدے ”اکنامسٹ“ اور اخبار گارڈین نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ پاکستان کمزور ہو سکتا ہے لیکن ایک ناکام ریاست نہیں، پاکستانی معاشرہ مضبوط ہے۔ 
پاکستان ناکام ریاست کے زمرے میں آتا تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ کی بے پایاں خواہشات اور سازشوں کے باعث اس کی دسترس میں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کے خیال سے امریکہ اور مغرب خائف، اسرائیل کی سٹی گم اور ہندو بنیئے کی دھوتی گیلی ہو جاتی ہے۔ امریکہ کامیاب مملکت کیسے کہلا سکتا ہے؟ ویتنام سے لے کر افغانستان پر یلغار تک بتائے کہاں کامیابی حاصل کی۔ امریکہ دنیا میں جو کچھ کر رہا ہے وہ اس کے کامیاب ریاست ہونے کی علامت نہیں، بدمعاش ریاست ہونے کی دلیل ہے۔ پاکستان ناکام ہوتا تو مسلم امہ اسے اسلام کا قلعہ قرار نہ دیتی‘ امریکہ افغانستان پر دوبار وار اور یلغار کیلئے پاکستان کا محتاج نہ ہوتا۔ ناکام محتاج ہوتے ہیں احتیاج پوری کرنے والے نہیں۔ ناکام ریاستوں کو دنیا کی ایک تہائی آبادی متفقہ طور پر قلعے قرار نہیں دیتی۔ پاکستان ناکام ریاست نہیں اس کے حکمران ذاتی مفادات کا اسیر ہونے کے باعث ناکام ہو سکتے ہیں۔ یا جوج ماجوج کی طرح باری باری پاکستان کو چاٹ رہے ہیں۔ اپنی طرف سے صفایا کرکے رخصت ہوتے ہیں لیکن خدا کے فضل و کرم سے پاکستان پھر بھی قائم و دائم اور توانا ہے اور انشاءاللہ قیامت تک رہے گا۔ اگر رب ذوالجلال قائد اعظم جیسا ایک بھی رہنما چند سال کے لئے عنایت فرما دے تو پاکستان کا مقدر سنور جائے اور پاکستان حقیقت میں اسلام کا قلعہ بن جائے۔

نیلوں کے سنگم کی سرزمیں کی تقسیم

 جولائی,13 ، 2011

نیلوں کے سنگم کی سرزمیں کی تقسیم
فضل حسین اعوان
دریائے نیل میں گرنے والے دو اہم دریا نیل ابیض اور ارزق ہیں۔ قبل الذکر استوائی مشرقی افریقہ آخری الذکر ایتھوپیا سے نکلتا ہے۔ دونوں دریا سوڈان میں اس کے دارالحکومت خرطوم کی دہلیز پر باہم گلے ملتے یک رنگ و ہم آہنگ ہو کر دریائے نیل کی صورت میں اس کے پانی صحرا ¶ں اور دشت و بیبانوں میں لہراتے اور بل کھاتے مصر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جی ہاں! وہی دریائے نیل جو صدیوں سے ہر سال ایک دوشیزہ کا خون پی کر روانی پر آمادہ ہوتا تھا۔ جب مصر فتح ہوا تو اہل مصر نے فاتح مصر حضرت عمرو بن عاصؓ سے کہا کہ ہمارے ملک میں کاشتکاری کا دار و مدار دریائے نیل پر ہے‘ ہمارے ہاں یہ دستور ہے کہ ہر سال ایک حسین جمیل کنواری لڑکی دریا میں ڈالی جاتی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو دریا خشک ہو جاتا اور قحط پڑ جاتا ہے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے انہیں اس رسم سے روک دیا۔ جب دریا سوکھنے لگا تو حضرت عمرو بن عاصؓ نے یہ واقعہ خلیفہ وقت امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کو لکھ بھیجا۔ جواب میں حضرت عمرؓ نے تحریر فرمایا کہ دین اسلام ایسی وحشیانہ جاہلانہ رسموں کی اجازت نہیں دیتا اور آپؓ نے ایک خط دریائے نیل کے نام لکھ بھیجا اور اسے دریا میں ڈالنے کی ہدایت کی۔ اس خط کا مضمون یہ تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ خط اللہ کے بندے عمر بن خطاب کی طرف سے نیل مصر کے نام ہے اگر تو اپنے اختیار سے جاری ہے تو ہمیں تجھ سے کوئی کام نہیں اور اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو اب اللہ کے نام پر جاری رہنا‘ اس خط کے ڈالتے ہی دریائے نیل بڑھنا شروع ہوا‘ پچھلے سالوں کی نسبت چھ گز زیادہ بڑھا اور اس کے بعد سے کبھی خشک نہیں ہوا۔ 
آج نیلوں کی سنگم کی سرزمیں پر ایک طرف جشن اور رقص طرب جاری ہے تو دوسری طرف صف ماتم بچھی ہے۔ سوڈان 1956ءمیں آزاد ہوا 9 جولائی 2011ءکو اس کے دو ٹکڑے کر دئیے گئے۔ سوڈان سے عیسائی اکثریت پر مبنی شمالی سوڈان کو الگ ریاست قرار دے دیا گیا۔ تیل اور معدنیات کی دولت سے مالا مال شمالی سوڈان جنوبی سوڈان کے جسم پر اسرائیل کی طرح کا ایک ناسور ابھار دیا گیا۔ امریکہ کی نشتر زنی کے باعث یہ پھوڑا ہمیشہ رستا اور دکھتا رہے گا۔ عمر حسن البشیر 1989ءمیں اقتدار میں آئے تو سوڈان امریکہ تعلقات میں رخنہ آیا۔ امریکہ کب کسی کو معاف کرتا ہے۔ شمالی سوڈان کے لوگوں کو آمادہ فساد کیا۔ 21 سال میں 15 لاکھ انسانوں کا خون بہا دیا گیا۔ عمر البشیر پر پابندیاں اس کے ملک پر بار بار اقتصادی تجارتی اور مالیاتی پابندیاں لگائیں اور پھر 2005ءمیں سوڈانی صدر کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کروا دئیے گئے۔ ایسے میں عمر البشیر کے سامنے دو غیرت مندانہ راستے تھے ایران کی طرح امریکہ کے سامنے ڈٹ جاتا یا اقتدار سے ہٹ جاتا لیکن اس نے تیسرے راستے کا انتخابات کیا۔ ذلتوں کے راستے کا‘ امریکہ کی ڈکٹیشن مان لی اور صدام جیسے انجام سے محفوظ رہا۔ اس پر قائم ہم وطنوں کا اعتبار جاتا رہا لیکن اقتدار بچ گیا۔ وہ 68 سال کا ہونے والا ہے۔ صدارت کرتے 22 سال بیت گئے۔ اقتدار بچانے کے لئے ملک کے ٹکڑے کروانے پر اس کو کم از کم 500 سال تک اقتدار کی خیرات تو ملنی ہی چاہئے۔ دیکھئے قدرت کتنی مہلت دیتی ہے۔ بہرحال یہ امریکی صدر ریگن کے نیو ورلڈ آرڈر کے ایجنڈے کی تکمیل کی طرف پیشرفت ہے۔ جس کے تحت اسلامی ممالک کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے۔ اس ایجنڈے پر ہنود و یہود و نصاریٰ متحد اور متفق ہیں۔ رواں صدی کے آغاز میں انڈونیشیا کی وحدت ختم کرکے مشرقی تیمور نامی عیسائی ریاست قائم کی گئی۔ اب شمالی سوڈان کو جنوبی سوڈان سے الگ کر دیا گیا۔ عراق کو پانچ افغانستان کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ لیکن اس سے بھی قبل لیبیا کو تقسیم کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو متحرک رکھنا بھی مسلم ممالک کی تقسیم کی عالمی تحریک کا حصہ ہے۔ امریکہ کی سرپرستی میں مغرب اقوام متحدہ کے غلامانہ کردار کے باعث اپنے مقاصد بڑی آسانی اور بڑی تیزی سے حاصل کر رہا ہے۔ اگر مسلم امہ متحد نہ ہوئی تو اسلامی ممالک ٹکڑیوں میں بٹے نظر آئیں گے۔ بدقسمتی سے اکثر مسلمان حکمران مغرب کے ایجنڈے کی آبیاری کر رہے ہیں محض اپنے اپنے اقتدار کی طوالت کے لئے۔ 
امریکہ نے عمر البشیر کو شمالی سوڈان میں بغاوتیں اٹھا کر اس پر پابندیاں لگا کر اور عالمی عدالت انصاف سے وارنٹ گرفتاری نکلوا کر شمالی سوڈان میں ریفرنڈم کرانے‘ اس کے نتائج تسلیم کرنے اور آزادی کی تقریب تک میں شرکت پر مجبور کر دیا۔ نیلوں کی سنگم کی سرزمین کی تقسیم کا عمل محض 21 سال میں مکمل ہو گیا۔ مسئلہ کشمیر 64 سال سے دہک رہا ہے۔ اس کی طرف عالمی برادری کی نظر نہیں جاتی۔ بھارت خود مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیا تھا۔ جس نے اس مسئلے کا حل کشمیریوں کیلئے حق خودارادیت قرار دیا جسے بھارت نے بھی قبول کیا۔ امریکہ اقوام متحدہ اور اس مسئلے کا خالق برطانیہ ویسا ہی دبا ¶ بھارت پر استصواب کے لئے کیوں نہیں ڈالتے جیسا سوڈان پر شمالی سوڈان میں ریفرنڈم پر ڈالا۔ جس طرح انڈونیشیا پر مشرقی تیمور کی علیحدگی پر ڈالا؟ یقیناً اس لئے کہ شمالی سوڈان اور مشرقی تیمور کے آباد کار عیسائی اور کشمیر کے مسلمان ہیں۔ مسلمان یونہی بٹے ایک دوسرے سے کٹے رہے تو تنہائیاں‘ رسوائیاں بن کر ان کی ذلتوں کا سامان اور نشان بنتی رہیں گی حل ایک ہی عالم اسلام کے اتحاد ہیں۔ اتفاق میں اور ایک دوسرے کے لئے ایثار ہیں۔

Tuesday, July 12, 2011

منگل ، 12 جولائی ، 2011


بے رحمانہ احتساب
فضل حسین اعوان 
ہم چرچل کے افکار سے رہنمائی کیوں لیں‘ ہم مستنیر (جس کی چمک کسی اور کی روشنی کی محتاج ہے) سے مستفید کیوں ہوں؟ ہمارے پاس تو خود منبعِ ہدایت موجود ہے‘ سراج اور سراجاً منیرا موجود ہے‘ جس منیر سے مغرب مستفید ہو رہا ہے‘ ہم کیوں نہ ہوں۔ چرچل نے کئی صدیوں بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ کی بات دہرا دی کہ ملک میں انصاف کا دورہ ہے تو مملکت کو خطرہ نہیں۔ حضرت علی نے فرمایا تھا‘ ”کفر کی حکمرانی چل سکتی ہے‘ ظلم کی نہیں“۔ جس معاشرے میں انصاف نہ ملے یا بکنے لگے تو یہی ظلمت و ضلالت ہے‘ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں‘ انصاف بکتا‘ سائل بھٹکتا‘ منصف کہیں مصلحتوں کی بھینٹ چڑھتا اور کہیں انصاف کا خون کرتا نظر آئیگا۔ خود کو خدا کے سامنے جواب دہ سمجھنے والے منصف بھی یقیناً موجود ہیں لیکن انکی تعداد اتنی ہی ہے جتنی ہمارے وزیروں مشیروں کی بیگمات کی‘ سیلاب فنڈ میں زیورات جمع کرانے والیوں کی۔ ظلم کا خاتمہ تو یقینی ہے‘ اگر یہ قہر خداوندی کے ساتھ ہوا تو سوچیئے‘ غور فرمائیے‘ کون محفوظ رہ سکے گا۔ کسی اور نے نہیں پنجاب کے سب کے بڑے منصف نے پنجاب کی ماتحت عدلیہ کی کارکردگی کے چہرے سے نقاب سرکایا تو انصاف کا کیسا چہرہ نظر آیا‘اجلا‘ چمکتا‘ جگمگاتا ہوا ہے یا دھندلا‘ مرجھایا اور کملایا ہوا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اعجاز احمد چودھری نے ججوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”جوڈیشل پالیسی پر عملدرآمد نہ ہونے کے حوالے سے پاکستان بھر میں سب سے زیادہ خراب صورتحال پنجاب میں ہے۔ ماتحت عدلیہ کا 90 فیصد عملہ کرپشن میں ملوث ہے۔ اچھی شہرت کے حامل سیشن ججوں کی تعیناتیاں کی گئیں مگر کرپشن کے قلع قمع کے حوالے سے توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ مقدمات نمٹانے کا کام اس رفتار سے نہیں چل رہا‘ نئے مقدمات تو ایک طرف‘ ابھی تک 95 اور 96ءکے مقدمات بھی زیر التواءہیں۔ ہم نے پنجاب بھر میں اچھی شہرت کے حامل سیشن جج صاحبان کی تقرریاں کی تھیں تاکہ وہ بہتر طور پر کام کر سکیں اور ماتحت عدلیہ سے کرپشن کا قلع قمع کر سکیں لیکن ہمیں مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے اور وہ کام نہیں ہو رہا جس کی توقع کی تھی۔ ہم غلط شہرت رکھنے والوں کو فارغ اور اچھی شہرت کے حامل جوڈیشل افسران کی حوصلہ افزائی کرینگے۔“ 
جج صاحب نے 95ءاور 96ءسے زیر التواءمقدمات کی بات کی ہے۔ پندرہ سولہ سال میں کتنے ہونگے جو انصاف کیلئے ترستے ترستے موت کی وادی میں دل میں منصفوں کے بارے میں آزار اور فگار لے کر اتر گئے۔ انصاف کا قتل صرف ماتحت ہی نہیں‘ اعلیٰ اور عظمٰی عدالتوں تک میں بھی ہوتا چلا آرہا ہے۔ جہاں قتل‘ غداری اربوں کھربوں کی لوٹ مار کے مقدمات ہوں وہاں عتیقہ سے شراب کی بوتل برآمدگی پر اسے نشانِ عبرت نہ بنانے پر سوموٹو ؟ ایک مونس الٰہی کیس پوری حکومت اور عدلیہ پر بھاری پڑ گیا۔ مسٹر جسٹس اعجاز چودھری کی آخری بات بڑی غور طلب ہے ”ہم غلط شہرت رکھنے والوں کو فارغ کرینگے“ بڑی اچھی بات ہے لیکن فارغ کب کرینگے؟ انصاف کا خون اور عدلیہ کو بدنام کرنےوالے ججوں کو تو ایک لمحہ کےلئے برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ ججوں کی تنخواہیں دگنا کردی گئیں‘ پھر بھی کوئی رشوت لے یا رشوت لینے والے اپنے ساتھیوں کو برداشت کرے تو اسے اس مقام پر رہنے کا کیا حق ہے۔ آپ کرپشن غفلت اور کوتاہی پر سخت ایکشن لیں‘ 20 میں سے اٹھارہ بھی کرپٹ ہوں تو ان کا محاسبہ کریں۔ اگلے اٹھارہ میں سے مزید دو ایماندار مل جائینگے۔ دیانتداروں کی تعداد بڑھانے کیلئے نہ صرف عدلیہ بلکہ فوج پولیس اور دیگر محکموں میں بھی کڑے احتساب کی ضرورت ہے۔ 
بالکل ایسے احتساب کی جس طرح آسٹریلیا میں پولیس کمشنر بل ایلسن نے رشوت کے پیسے سے سڈنی میں محل نما گھر تعمیر کرلیا تھا‘ اسکی انکوائری ہو رہی تھی‘ اس دوران ایک کاروباری شخص نے ایلسن اور اسکی فیملی کو امریکہ اور جاپان کی سیر کرائی۔ ان اخراجات کی ادائیگی بذریعہ چیک ہوئی جس کے باعث ملزم آسانی سے مجرم بن گیا جس کی پاداش میں بل کو آئی جی کے عہدے سے ہٹا کر تھانیدار بنا دیا گیا۔ بتایئے آسٹریلیا میں اس واقعہ کے بعد کون لوٹ مار کرنے کی جرا ¿ت کریگا؟ چلتے چلتے امریکہ کی بھی ایک مثال ملاحظہ فرما لیجئے۔
مئی 2005ءمیں امریکی فوج کی بریگیڈیئر جنرل جینس کارپنسکی کی ابوغریب جیل میں قیدیوں سے بدسلوکی کے معاملے میں کوتاہی برتنے پر کرنل کے عہدے پر تنزلی کردی گئی تھی۔ اس سے بھی قبل ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جنرل ولیم لنڈرم بلی مچل کو 1925ءکو کرنل بنا دیا گیاتھا‘ اسکی امریکی فضائیہ کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں‘ اس کو امریکہ کا بابائے فضائیہ (Father of Air Force) کہا جاتا ہے۔ ترک وزیراعظم طیب اردگان نے اقتدار کے رسیا جرنیلوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا‘ سازشی بری‘ بحری اور فضائی افواج کے سربراہوں کو انکی ریٹائرمنٹ کے بعد ساتھیوں سمیت جیل میں ڈالا‘ دو ماہ قبل ایک ایئرچیف مارشل جوفل جرنیل کے برابر ہوتا ہے‘ کو اسکے دفتر سے گرفتار کرکے قید کر دیا۔ اسکے برعکس پاکستان میں اس قسم کے واقعات پر صرف میڈیا میں چند روز شور ہوتاہے‘ اسکے بعد مکمل خاموشی چھا جاتی ہے۔ معاشرے میں زندگی کی روانی و شادمانی اور ظلمت ضلالت و تاریکی سے نکلنے کیلئے کڑا احساب‘ ہر ادارے اور شعبے میں ناگزیر ہو چکا ہے۔