About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, November 23, 2011

”ہندو مسلم دالیں“

 بدھ ، 16 نومبر ، 2011


”ہندو مسلم دالیں“
فضل حسین اعوان ـ 16 نومبر ، 2011

 نہ جانے کسی نے کیا سونگھا دیا‘ پلا دیا یا لگا دیا۔ بھارت سے دوستی‘ تجارت اور تعلقات کے لئے ایک جنون سا بپا ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود ہر پارٹی کسی اور معاملے میں کوئی دوسری سوچ اور پالیسی رکھ سکتی ہے۔ بھارت کی پسندیدگی میں سب ایک دوسری سے آگے ہیں۔ پارلیمنٹ کی دہلیز پر بیٹھے عمران خان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ عمران خان نے نواز شریف کی طرح یہ بھی کہہ دیا کہ مسئلہ کشمیر کو بالائے طاق رکھ کر بھارت سے تجارت کی جائے۔ اس دوڑ میں حکمران‘ اپوزیشن اور عمران ہی کیا صحافی بھی پیچھے نہیں رہے۔ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کی موجودگی کے باوجود پیار کی پینگیں بڑھانے کی خواہش رکھنے والوں نے ”دل کو سمجھانے کے لئے“ خود ساختہ دلائل تراشے ہوئے ہیں۔ ایسے دلائل سے بھرپور جاوید چودھری نے ’ہندو مسلم دالیں“ کے عنوان سے کالم لکھا ہے۔ اس کالم میں چودھری صاحب نے سینٹ موریس سے پیرس تک بھارتی نوجوان ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ ٹرین میں ہمسفری کی روداد بیان کی ہے۔ ان کے ہمسفروں میں ایک لڑکا اور دو لڑکیاں تھیں۔ ”فلموں کی بات شروع ہوئی اور اجنبیت کی دیواریں تیزی سے گرتی چلی گئیں۔ کلکتہ سے تعلق رکھنے والی خاتون نے سپرش فلم کا نام لیا تو (جاوید چودھری نے) نہ صرف پوری فلم کی کہانی سنا دی بلکہ نصیر الدین شاہ اور شبانہ اعظمی کے چند ایسے شارٹس کی تفصیل بھی بتا دی جس کے بارے میں وہ واقف نہیں تھی۔“ پھر یوں ہوا کہ وہ محمد رفیع‘ آشا بھوسلے اور لتا منگیشر کے بول بتاتے اور چودھری صاحب اپنے آئی فون میں محفوظ 4 ہزار گانوں سے مطلوبہ نغمہ نکال کر ان کو سنا دیتے۔ خواتین نے باور کرایا کہ وہ پاکستان کے علی ظفر‘ عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان کی انتہائی فین ہیں۔ کالم نگار کے بقول ان کے تینوں ہمراہی کٹر ہندو تھے۔ ایک کلکتہ کے متعصب ترین خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ لیکن اس کے باوجود یہ کھلے ”ذہن اور معتدل مزاج کے لوگ تھے۔ ان کے دل میں اتر جانے والوں نے ان کو بتایا ”بھارت بدل رہا ہے‘ بھارت کا نوجوان بزرگ نسل سے مختلف ہے۔ بھارتی نوجوان ہندو اور مسلم کی تقسیم کو تسلیم نہیں کر رہے‘ ہم پاکستانیوں کو برا بھی نہیں سمجھتے اور ہم چھپ کر گوشت اور مچھلی بھی کھا لیتے ہیں اور اس سے ہمارا دھرم بھی بھرشٹ نہیں ہوتا۔ ہم لوگ بال ٹھاکرے جیسے شدت پسندوں کو بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔ عاطف اسلم‘ علی ظفر اور راحت فتح علی خان ہمارے ہیروز ہیں۔ ہم شعیب ملک‘ شاہد آفریدی اور عمران خان کو پسند کرتے ہیں اور ہمیں پاکستانی شاعروں کی شاعری اور لکھاریوں کی تحریریں بھی اچھی لگتی ہیں۔“ ایک خاتون نے حسرت سے پوچھا ”یہ سرحدیں کب کھلیں گی‘ میں لاہور دیکھنا چاہتی ہوں۔“ نوجوان کالم نگار نے اپنے جذبات چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ فرماتے ہےں”یہ اڑھائی گھنٹے کی ملاقات تھی ہم لوگ پیرس پہنچ کر ایک دوسرے سے الگ ہو گئے لیکن ہمارے جذبات‘ گفتگو کی حدت اور احساسات کا سفر ابھی تک جاری ہے۔“
چودھری نے مزید لکھا ”میں نے بھارتی سائنس دانوں کے ساتھ سفر کے دوران محسوس کیا بھارتی نوجوان انڈین بزرگوں کی طرح متعصب نہیں ہیں۔ ان کا ذہن کھل رہا ہے اور یہ پاکستان کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جس نظر سے رام لال یا نتھو رام دیکھتے تھے۔ پاکستان کے اندر بھی صورتحال مختلف نہیں۔ پاکستانی نوجوان بھی بدل رہا ہے۔ یہ 1947ءیا 1971ءمیں زندہ نہیں‘ اس کی سوچ بھی 2011ءکے سانچے میں ڈھل رہی ہے۔ یہ بھی اب مزید دشمنی کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ یہ درست ہے 1947ءسے پہلے برصغیر کے مسلمان اور ہندو ایک دوسرے سے خوش نہیں تھے۔ یہ بھی درست ہے 1947ءمیں مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کے ساتھ بے انتہا ظلم ہوا تھا اور پاکستانی پنجاب کے مسلمانوں نے اس کا دل کھول کر بدلہ بھی لیا‘ یہ بھی درست ہے آج بھی مشرقی پنجاب میں ایسی ہزاروں مسلمان خواتین موجود ہیں جنہیں سکھوں نے زبردستی سکھ بنا لیا تھا اور لاہور‘ قصور‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ اور فیصل آباد میں ایسی ہندو عورتیں بھی ہیں۔ جنہیں یہاں کے مسلمانوں نے زبردستی اپنے عقد میں لے لیا تھا اور یہ بھی ٹھیک ہے تقسیم کی لکیر خون کی لکیر تھی اور دونوں طرف آزادی کے نام پر اتنا خون بہایا گیا تھا کہ آج تک تاریخ کے ورق خون سے لتھڑے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے ماضی کو ماضی ہوئے 64 سال گزر چکے ہیں اور ان 64 برسوں میں تیسری نسل جوان ہو چکی ہے اور یہ نسل پچھلی تینوں نسلوں سے مختلف ہے‘ یہ نسل بھارتی فلمیں دیکھتی ہے اور سرحد کے دونوں طرف پاکستانی نغمہ نگاروں کی شاعری اور پاکستانی گلوکاروں کے گانے سنے جاتے ہیں چنانچہ اگر سرحد کے اس طرف سے فلمیں آسکتی ہیں اور ادھر سے راحت فتح علی‘ عاطف اسلم اور علی ظفر ادھر جا سکتا ہے تو پھر ادھر سے آلو‘ پیاز اور لہسن کیوں نہیں آسکتا ہے اور ادھر سے کاٹن‘ مٹر اور کوئلہ ادھر کیوں نہیں جا سکتا؟ ہمیں سرحدیں کھولنا ہوں گی کیونکہ یہ آج اور آنے والے کل کا سچ ہے‘ دنیا میں اگر یورپ کے وہ 25 ملک ایک ہو چکے ہیں جو بیس سال پہلے تک ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے تو ہم بھارت اور پاکستان کی سرحد کو کب تک بند رکھ لیں گے چنانچہ جو کام کل ہونا ہے وہ آج کیوں نہ ہو جائے؟ وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
حکومت نے بھارت کو تجارت کیلئے پسندیدہ ترین ملک قرار دیا‘ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے اور ہم اگر اس اچھے فیصلے کے دوران کشمیر اور کشمیریوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں تو اس کے نتائج بہت اچھے نکلیں گے‘ ہم اگر یہودی دالیں اور یہودی مشروبات پی سکتے ہیں تو ہندو دالیں‘ سبزیاں اور گندم اور مسلمان گنا‘ کپاس اور کوئلے کی تجارت کرنے میں کیا حرج ہے‘ نفرت کی یہ دیواریں گرنی چاہئیں کیونکہ اس سے بند معاشرے میں ہوا کا تازہ جھونکا بھی آئے گا اور ہمیں ترقی کا سبق سیکھنے کا موقع بھی ملے گا‘ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے اور میں حکومت کو اس پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔“ 
جس لکیر کو آج کالم نگار 64 سال بعد مٹانے کی بات کرتے ہیں وہ کھینچی ہی نہ گئی ہوتی توہم کہاں ہوتے؟ یقیناً ہمارا مقدر وہی ہوتا جو آج بھارت کے عام مسلمان کا ہے۔ بھارت مےں کتنے مسلمان صحافی اور اینکر ہیں جو کالم نگار مذکور کی طرح ملک ملک گھوم رہے ہیں؟ موصوف اگر فرانس تک گئے۔ وہاں ٹرین میں سفر کیا تو اسی لکیر کی بدولت جو پاکستان اور بھارت کی سرحد قرار پائی۔ سائیکل سے لگژری کاروں‘ گدھے سے جہازوں اور مکان سے محل تک کس نے پہنچایا؟ خدانخواستہ آج یہ لکیر مٹ جائے تو کل ہی جدید زندگی کو بیک گیئر لگ جائے گا۔ پھر سائیکل گدھے اور گھروندا اپنے وژن ادراک اور خواہشات کی آنکھ نہ دیکھیں۔ ادھر ادھر نظر دوڑائیں اب بھی کافی بزرگ مل جائیں گے۔ جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا ان سے پوچھیں امن کے بارڈر کو خون کی لکیر میں کس نے تبدیل کیا؟ قائداعظم کے وفاداروں نے یا گاندھی و نہرو کے چیلے چانٹوں نے۔
بھارتی نوجوانوں کے آئیڈیل‘ ہمارے گلوکار بھارت سے عزت اور عظمت سمیٹ کر نہیں جوتے گالیاں کھا کر، نفرتوں اور لعنتوں کا طوق پہن کر لوٹتے ہیں پھر بھی یہ بے غیرت ہمہ وقت بھارت یاترا کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ جو نوجوان موصوف کو ٹرین میں ملے کیا یہ واقعی بھارتی نوجوانوں اور نئی نسل کے نمائندہ ہیں؟ آپ 64 سال قبل کی قتل و غارت بھلانے کی بات کرتے ہیں۔ سمجھوتہ ایکپسریس کی آتشزنی کو صدیاں نہیں بیت گئیں۔ گجرات میں مسلمانوں کو چن چن کر قتل کیا گیا۔ خاندان کے خاندان جلا دئیے گئے۔ یہ کام ہندو بزرگوں نے نوجوانوں سے ہی کرایا۔ یقیناً ایسے ہندو نوجوان ضرور ہوں گے جو پاکستان کے ساتھ دوستوں کی طرح رہنا چاہتے ہیں ان کی تعداد اتنی ہی ہو گی جتنی پاکستان میں موجود پوتر جل کو مقدس قرار دینے والے نوجوانوں کی۔ ہندو تو اپنی نسل کو پہلا درس ہی اسلام اور مسلم دشمنی کا دیتا۔
آپ پاکستانی نوجوان کے بدلنے کی بات کرتے ہیں کہ وہ 1947ءیا 1971ءمیں زندہ نہیں۔ اس کی سوچ 2011ءمیں ڈھل رہی ہے۔ وہ مزید دشمنی کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔ پاکستانی نوجوان کی سوچ 47ءاور 71ءکی سوچ ہی نہیں 14 سو سال قبل کی سوچ ہے۔ ہندو سے دوستی کرنی اور سرحدیں کھولنی ہیں تو دل مسلم سے 14 سو سال قبل کی سوچ کھرچنا ہو گی۔ امن کی آشا والے ایسا کر دیکھیں۔ کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ملت کی نمائندگی اپنے آئی فون میں 4 ہزار انڈین گانے بھر کے سننے اور سنانے والے ہندو کلچر اپنانے والے‘ انڈین فلموں کے دیوانے نہیں‘ شمع رسالت کے پروانے‘ چراغ مصطفوی سے دلوں کو روشن بنانے اور اقبال قائد کی محبت کے دیپ جلانے والے کرتے ہیں۔
مسلم اور پاکستانی نوجوان 47 کے مظالم بھلا سکتا ہے نہ 71ءکی تلخ یادوں سے اپنا دامن چُھڑا سکتا ہے۔ البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم بھرنا شروع ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے۔ پاکستان کی شہ رگ پر دشمن بدستور قابض ہے اور آئے روز نئے زخم دے رہا ہے۔ کوئی بھی غیرت مند پاکستانی کشمیریوں کے قتل‘ خواتین کی بے حرمتی کو برداشت کیسے کر سکتا ہے۔ دست قاتل جو شناسا بھی ہے دست شفقت کیسے بن سکتا ہے؟ ساڑھے سات لاکھ بھارتی سفاک سپاہ کے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم کیا یہ دست شفقت ہے؟
کوئی بھی شخص اپنی رائے رکھنے میں حق بجانب ہے لیکن اظہار میں کسی کا دل دکھے اس کی اجازت شاید اخلاقیات نہیں دیتی۔ جب حقائق اور تاریخ کو اپنے جذبات کی تسکین اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے موم کی ناک بنا کر اسے مسخ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اہل دل کا دل کیوں نہیں جلے گا۔ چھوٹے بڑے‘ واجبی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم کے حامل تک جس کے سامنے بھی یہ دو معاملات رکھے وہ آگ بگولہ ہو گیا۔ (1) مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کے ساتھ بے انتہا ظلم ہوا اور پاکستانی پنجاب کے مسلمانوں نے اس کا دل کھول کر بدلہ لیا (2) یہ بھی درست ہے کہ آج بھی مشرقی پنجاب میں ایسی ہزاروں مسلمان خواتین موجود ہیں جنہیں سکھوں نے زبردستی سکھ بنا لیا اور لاہور‘ قصور‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ اور فیصل آباد میں ایسی ہندو عورتیں بھی ہیں جنہیں یہاں کے مسلمانوں نے زبردستی اپنے عقد میں لے لیا تھا۔ بعض اوقات انسان کو پتہ نہیں چلتا کہ اس کے قلم سے قرطاس پر بکھیرے ہوئے الفاظ کہاں تک کاٹ اور مار کریں گے۔ کسی کی سوچ پر پابندی نہیں۔ لوگ کہہ سکتے ہیں۔ نادانستگی میں آپ دشمن کے خیراتی گواہ بن رہے ہیں۔ کسی کی زبان نہیں پکڑی جا سکتی کہنے والوں کو نہیں روکا جاسکتا۔ اگر دانستہ یہ کہا ہے تو خدا جانے کیا قیمت وصول کی۔ اگر پاکستانی پنجاب میں ہندو قتل ہوئے تو کیا ان کی تعداد اور طریقہ کار وہی تھا جو بھارتی پنجاب میں اختیار کیا گیا۔ پاکستان بھارت سرحد خون کی لکیر نہیں مسلمانوں کے قتل عام سے خون کا قلزم بن گئی تھی۔ اسے قتل و غارت نہیں بلکہ ہالوکاسٹ کہنا زیادہ صحیح ہے۔ وہاں سے لاشوں سے اٹی کتنی ہی ٹرینیں آئیں اور یہاں سے ایک بھی نہیں گئی۔ لالہ موسیٰ میں اپنی عزتیں بچانے کے لئے ہندو عورتوں نے چھلانگیں لگا کر کتنے کنویں بھر دئیے تھے؟ شاید کالم نگار مذکور اپنے علاقے سے کسی پرانے بابے کو گواہی کے لئے ڈھونڈ لائیں۔ ناموس کی خاطر کنووں میں کودنے والی خواتین کو دیکھنے والی بوڑھی آنکھیں آج بھی ہزاروں نہیں تو سینکڑوں کی تعداد میں مل جائیں گی۔ ایسے بزرگ بھی زندہ ہیں جنہوں نے لاشوں سے اٹی ٹرینیں دیکھیں۔ وہاں گاوں کے گاوں اور بستیوں کی بستیاں جلا کر راکھ کر دی گئیں یہاں بتائیے ایک بھی گاوں جلا؟ 
جاوید چودھری بڑے نام والے کالم نگار اور اینکر ہیں۔ جمیلہ ہاشمی نے اپنے ناول میں ایک ہندو عورت کے مسلمان کے عقد میں جانے کا ذکر کیا ہے۔ ناول اور افسانے کتنے حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں؟ اس کے سوا کوئی تذکرہ نہیں سنا کہ ہندو عورتوں کو بالکل اسی طرح جبری نکاح میں لے لیا گیا ہو جس طرح مشرقی پنجاب میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان خواتین کے ساتھ ہوا۔ اگر ایسے واقعات یہاں بھی ہوئے تھے تو جاوید چودھری دوچار دس خواتین یا ان کو اپنے عقد میں لانے والوں کے انٹرویو کرکے اپنی افسانوی داستاں کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کریں۔ ہندو کو اب شاید مسلمانوں کے ہندووں پر مظالم ثابت کرنے کےلئے تاریخ کی خاک نہیں چھاننا پڑے گی۔ ان کو ہزار ہندو اور انگریز تاریخ دانوں سے بڑا پاکستانی مسلمان گواہ مل گیا.... جس طرح ہندو نوجوانوں کے گوشت اور مچھلی کھانے سے دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا اسی طرح اگر ہندو کلچر کے دلدادہ اور اس سے تعلقات و تجارت کے تمنائی گائے کو گﺅ ماتا قرار دے کر اس کا مُوت پینے پر تیار ہیں تو کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ البتہ ایک طرف کشمیریوں کا خون بہایا چلا جا رہا ہو اور دوسری طرف ان کے شانہ بشانہ ہو کر ان کی آزادی کے لئے کوششیں کرنے کے بجائے ان کے قاتلوں سے گلے ملنے کی خواہش رکھنے والوں کو کس نام سے پکارنا چاہئے؟ اس سوال کا جواب قارئین اور محب وطن پاکستانیوں کے ذمے رہا۔ 
موصوف نے سوال کیا ہے کہ اگر یورپ کے وہ 25 ممالک ایک ہو سکتے ہیں جو بیس سال پہلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ تو بھارت اور پاکستان کی سرحد کو کب تک بند رکھ لیں گے؟.... کیا یورپ کے ممالک کی آپس میں دشمنی اسی طرح کی تھی جیسی پاکستان بھارت کی ہے۔ ان کے ایک ہونے سے قبل کیا کوئی ملک دوسرے کے باشندوں کو اسی طرح قتل کرتا تھا جس طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج خونریزی کر رہی ہے؟ مقبوضہ کشمیر میں جب تک ہندو کا جبر بند نہیں ہوتا پاکستان بھارت سرحد نہیں کھل سکتی۔ وادی کے مکینوں کو حق خودارادیت دلا دیں سرحدیں خود بخود کھل جائیں گی۔ جذبات کی حدت لے کر وکالت کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس وقت تک بھارتی دالیں حرام ہیں۔ تعلقات و تجارت شجر ممنوعہ اور بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا قائد کے افکار کی توہین ہے۔



Monday, November 14, 2011

! ایران پر حملہ ہوا تو

نومبر ,2011,13، 


ایران پر حملہ ہوا تو
فضل حسین اعوان 
اسرائیل نے ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دی ہے۔ صدر شمعون پیریز نے حملے کا جواز تراشتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس لئے اسرائیل اور دیگر ممالک کی طرف سے ایران پر حملے کا جواز بڑھ گیا ہے۔ برطانیہ نے اسرائیل کے جارحانہ رویے کو جائز اور حملے کے ارادے کو اٹل قرار دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ اسرائیل کرسمس تک ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ برطانوی انٹیلی جنس چیف کی اس اطلاع یا وارننگ کے بعد برطانوی وزارت دفاع کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اس نے ایران اسرائیل جنگ کی صورت میں ہنگامی اقدامات کر لئے ہیں۔ گویا میدان لگنے کو ہے۔ اسرائیل کی طرف سے ایران کو پہلی بار جنگ کی دھمکی نہیں دی گئی۔ اس کا مربی امریکہ بھی ایران کو کئی بار دھمکا چکا ہے۔ اگر ہم ماضی کے جھروکوں میں جھانکیں تو امریکہ نے ایران پر حملہ کیا بھی تھا.... 24اپریل 1980ءکو جب ایران کی اسلامی انقلابی حکومت شہنشاہ ایران کے بکھرے ہوئے ملک کی شیرازہ بندی کر رہی تھی۔ امریکہ نے اپنے یرغمالی چھڑانے کے لئے ایگل کلا آپریشن کے نام سے ایران پر شب خون مارنے کا منصوبہ بنایا۔ اس آپریشن میں چھ ہیلی کاپٹروں نے حصہ لینا تھا۔ دو ساتھ ایمرجنسی کی صورت میں استعمال کے لئے بھجوائے گئے تھے۔ آٹھ میں سے تین صوبہ یزد (ی زد) میں بے آباد ایئر بیس (ڈیزرٹ ون) پر پہنچنے سے قبل خراب ہو گئے۔ ان میں سے ایک واپس بحرہ ہند میں یو ایس ایس ٹمز پر واپس چلا آیا۔ دو لنگڑاتے ہوئے ڈیزرٹ ون میں باقی پانچ کے ساتھ لینڈ کر گئے۔ ان دو کو مرمت نہ کیا جا سکا تو صدر جمی کارٹر نے جان بچا کر بھاگنے کی اجازت دے دی۔ افراتفری میں ایک ہیلی کاپٹر سی ون 30 کے ساتھ ٹکرا گیا جس سے ہیلی کاپٹر میں موجودہ 3 اور سی ون 30 کے 5 کمانڈو ہلاک ہو گئے۔ امریکہ کے اس حملے کا جواب ایرانیوں کی طرف سے قدرت کاملہ نے دیا تھا۔ آج اسرائیل ایران پر حملہ کرتا ہے تو اسے نہ صرف امریکہ و برطانیہ کی پشت پناہی حاصل ہو گی بلکہ متعدد اسلامی ممالک بھی ہو سکتا ہے کہ ایران کے خلاف صلیبی و صہیونی قوت کے معاون بن جائیں تاہم زمینی حقائق میں ان کو نظر میں رکھا جائے تو اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے کا امکان نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران کے پاس جو بھی اسلحہ ہے راکٹ، میزائل اور فائٹر جہاز، سب کا رُخ اسرائیل کی طرف ہے۔ اسرائیل۔ایران کے نشانے پر ہے۔ اسرائیل کے حملے سے قبل، حملے کا یقین ہونے پر ایران اپنے تمام تر اسلحہ کا بٹن دبانے سے گریز نہیں کرے گا جو کچھ تمام اسلامی ممالک 63 سال سے نہ کر سکے ایران ایک لمحے میں کر ڈالے گا۔ بالفرض مغرب اور اس کا ناجائز بچہ عقل و دانش سے عاری فیصلہ کرتے ہوئے ایران پر چڑھائی کر دیتے ہیں تو اس کے واقعتا بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ سب سے زیادہ تباہ کن حملہ آور ممالک بالخصوص امریکہ کے لئے۔ جنگ کے پہلے مرحلے میں کم از کم شام، لبنان اور فلسطین تو ایران کے ساتھ ہوں گے۔ گویہ کمزور ریاستیں اور مملکتیں ہیں لیکن متحد ہوں گی تو مضبوط اکائی بن جائیں گی۔ پھر کسی بھی وقت اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی غیرت جاگ سکتی ہے جن کی اپنے آپ نہ جاگے گی ان کے لئے عوامی دباﺅ کا سامنا کرنا ممکن نہیں رہے گا۔فروعی اختلافات اپنی جگہ، ہنود و یہود و نصاریٰ کی برپا کی ہوئی دہشت گردی، ڈرون حملے، بم دھماکے زندگی اور موت کے درمیان فاصلوں کو مٹاتے ہوئے کوئی ملکی تفریق نہیں کرتے۔ایران پر حملہ اصل صلیبی جنگ کا آغاز ہو گا۔ باالفرض صلیبی و صہیونی غدارانِ ملت کی مدد سے ایران پر بھرپور وار کر گزرتے ہیں تو کیا ان کا مشن مکمل ہو جائے گا؟ نہیں بلکہ پھر صلیبی جنگ کا اگلا ٹارگٹ کوئی اور اسلامی ملک ہو گا لیکن ایرانی خود چین سے بیٹھیں گے نہ استعماری قوتوں کو سکون سے بیٹھنے دیں گے۔ پوری دنیا میں آگ لگا دیں گے، کیسے؟ اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں پھر ماضی کے دریچے کھولنا ہوں گے.... رضا شاہ پہلوی کا آخری وزیر اعظم شاہ پور بختیار، شاہ کے فرار کے بعد بھی اس کا وفادار رہا۔ ایران سے فرار ہو کر پیرس میں پناہ لے لی۔ ایران کی انقلابی حکومت کے خلاف تحریک منظم کرنے کے لئے کوشاں رہا۔ ایران کے جذباتی نوجوان بھی موقع کی تلاش میں رہے۔ متعدد بار قاتلانہ حملوں میں شاہ پوربال بال بچا۔ ایک مرتبہ تو پڑوسی اور محافظ مارے گئے۔ بالآخر 7اگست1991ءکو تین ایرانی نوجوانوں کے حملے میں اپنے سیکرٹری سروش کتیہ سمیت مارا گیا۔ دو قاتل بحفاظت ایران لوٹ آئے ایک وکیل رعد سوئٹزر لینڈ میں پکڑا گیا۔ جسے فرانس کی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی۔ 18 سال بعد 2010ءمیں رعد کو رہا کر دیا گیا۔ جس کا ایران میں ہیرو کی طرح استقبال ہوا۔ اندازہ کیجئے دنیا میں کتنے رعد بکھرے ہوئے ہیں جو صلیبی و صہیونی مفادات اور ایران کو تباہی سے دوچار کرنے میں حصہ دار شخصیات پر قہر اور قیامت بن کر ٹوٹ پڑیں گے۔شاید اسی قیامت خیز انجام کے پیش نظر امریکہ نے ایران پر بھی ممکنہ حملے کی مخالفت کی ہے۔ وزیر دفاع لیون پینٹا نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے سے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور امریکی فوجیوں کے لئے خطرات بڑھ جائیں گے۔ممکن ہے اسرائیل کی یہ شرات تیسری عالمی جنگ کا شاخسانہ ثابت ہو یا مسلم امہ کے اتحاد کی نوید لے آئے۔



Thursday, November 10, 2011

اقبال کا فلسفہءخودی ۔۔۔۔۔ اور ہمارا آج

جمعرات ، 10 نومبر ، 2011




 اقبال کا فلسفہءخودی ۔۔۔۔۔ اور ہمارا آج
فضل حسین اعوان ـ 
”خودی“ کا لفظ اقبال کے پیغا م یا فلسفہ حیات میں تکبر و غروریا اردو فارسی کے مروجہ معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ خودی اقبال کے نزدیک نا م ہے احساسِ غیرت مندی کا‘ جذبہ خوداری کا اپنی ذات و صفات کا پاس و احساس کا‘ اپنی انا کو جراحت و شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا‘ مظاہراتِ فطرت سے برسر پیکار رہنے کا اور دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اقبال کے نقطہ نظر سے ”خودی“ زندگی کا آغاز ، وسط اور انجام سبھی کچھ ہے فرد وملت کی ترقی و تنزل، خود ی کی ترقی و زوال پر منحصر ہے۔ خودی کا تحفظ‘ زندگی کا تحفظ اور خودی کا استحکام‘ زندگی کا استحکام ہے۔ ازل سے ابد تک خودی ہی کی کارفرمائی ہے۔ اس کی کامرانیاں اور کار کشائیاں بے شمار اور اس کی وسعتیں اور بلندیاں بے کنار ہیں۔ اقبال نے ان کا ذکر اپنے کلام میں جگہ جگہ نئے انداز میں کیا ہے۔
خودی کیا ہے راز دورنِ حیات
خودی کیا ہے بیداری کائنات
کہیں یہ ظاہر کیا ہے کہ لاالہ الا اللہ کا اصل راز خودی ہے توحید‘ خودی کی تلوارکو آب دار بناتی ہے اور خودی‘ توحید کی محافظ ہے۔
خودی کا سرِ نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ
کہیں یہ بتایا ہے کہ انسان کی ساری کامیابیوں کا انحصار خودی کی پرورش و تربیت پر ہے۔ قوت اور تربیت یافتہ خودی ہی کی بدولت انسان نے حق و باطل کی جنگ میں فتح پائی ہے۔ خودی زندہ اور پائندہ ہو تو فقر میں شہنشاہی کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی تصرف میں آجاتا ہے۔اقبال کے نزدیک خودی اپنی تکمیل اور استحکام کے لئے غیر خودی سے ٹکراتی ہے جس نسبت سے کوئی شے خودی میں مستحکم اور غیر خودی پر غالب ہے اسی نسبت سے اس کا درجہ مدارج حیات میں نفیس ہوتا ہے۔مخلوقات میں انسان اس لئے برتر ہے کہ اس کی ذات میں خودی ہے۔ اور اس خودی سے فطرت ِ انسانی مشاہدہ کی پابند ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ خودی کی منزل زمان و مکاں کی تسخیر پر ختم نہیں ہوتی شاعر کا چشمِ تخیل انسان کی جدوجہد و عمل کے لئے نئے نئے میدان دکھاتا ہے۔اقبال کے فلسفہ خودی کی تفصیلات اور جزئیات کے مطالعہ سے اس قانون کا علم ہوتا ہے جس پر عمل کرکے انسان اس درجہ کو پالینے کے قابل ہو جاتا ہے جو اسے حقیقتاً خلیفتہ اللہ کے منصب کا اہل بنا دیتا ہے۔ اس قانون کی پابندی خودی کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ انسان تنہائی کی زندگی نہیں گزارتا وہ لازماً کسی معاشرہ‘ کسی قوم اور کسی ملت کا فرد ہوتا ہے۔ فرد اور ملت کے درمیان رابطہ کے بھی کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں اسی رابطے اور قوانین و اصولوں کواقبال نے بے خودی سے تعبیر کیا ہے۔آج ہم نے بحیثیت قوم اقبالؒ کا فلسفہ خودی بھُلا دیا۔ جس کی وجہ سے رسوائی مقدر بن گئی‘ ہم خوددار قوم کے بجائے بھکاری بن کر رہ گئے۔ ہم اپنے ملک میں بھی اپنی مرضی کا سسٹم لا سکتے ہیں نہ چلا سکتے ہیں۔ اسلاف کی بہادری کو بٹہ لگا بزدلوں اور تھُڑ دلوں کی صف میں شامل ہو گئے۔ محمود بننے کا شوق ہے لیکن کردار میر جعفروں سے بھی بدتر۔ میر جعفر نے بھی قوم کی بیٹیوں کے سودے کب کئے ہونگے؟ہمارے اسی کردار نے ہمیں اوجِ ثریا سے زمیں پر دے مارا ہے۔ بحیثیت امت بھی ہم غیروں کے دست نگر ہیں۔ بھارت ہمارا ازلی و ابدی دشمن ہے۔ امریکہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایسے میں ہماری خودداری و خود مختاری کا کیا تقاضا ہے؟ کیا ہم اس تقاضے پر پورا اتر رہے ہیں؟ غور فرمائیے۔ امریکہ کی پاکستان میں مداخلت کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ تعلیمی نصاب تک میں تبدیلیاں اس کی مرضی سے کر دی گئیں۔ ڈرون حملے ہماری خودمختاری کو پارا پارا کئے دے رہے ہیں۔ ان کے تدارک کی کوئی تدبیر نہیں۔ بھارت لاکھوں مسلمانوں کا قاتل‘ کشمیر میں اس کے مظالم کا سلسلہ جاری۔ ساڑھے سات لاکھ سپاہ کشمیریوں کے تن بدن پر گھاو لگا رہی ہے یا مرہم رکھ رہی ہے! اس کے ساتھ دوستی چہ معنی دارد۔ اسے افغانستان تک راہداری دے دی گئی‘ خوفناک فیصلہ‘ مسئلہ کشمیر پر سرِمو پیشرفت نہیں ہوئی۔ اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دے دیا۔ شرمناک فیصلہ۔ علامہ اقبالؒ کا فلسفہ خود پوری امت اور خصوصی طور پر پاکستانیوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ اس پر عمل کر کے ہم آج بھی اپنا کھویا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ دنیا کے سامنے سینہ تان کے چل سکتے ہیں ہمیں خود کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ 
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
پہناتی ہے درویش کو تاج سرِدارا

Sunday, November 6, 2011

تحفہ

اتوار ، 06 نومبر ، 2011

تحفہ
فضل حسین اعوان ـ
اس مرتبہ عید کے ساتھ اقبال ڈے بھی آ رہا ہے۔ خوشی کے دو تہوار ساتھ ساتھ۔ ہمارے حکمرانوں نے اپنی پالیسیوں سے ان تہواروں کو عوام کے لئے نوید سحر کے بجائے شامِ غم میں بدلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چاہیے تھا کہ حکومت مسرت کے ان مواقع پر عوام کے لئے کسی ریلیف کا اہتمام و انتظام کرتی لیکن حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں عید سے چند روز قبل مزید اضافہ کر دیا۔ پی آئی اے کے کرائے بڑھا دیئے۔ آٹا فروش بھی پیچھے نہ رہے۔ حکمرانوں کے ستم کی عادی قوم، بجلی و گیس کی جان لیوا لوڈ شیڈنگ کے عتاب، مہنگائی بے روزگاری اور بدامنی کے عذاب کی مانند ظلم کے اس تازیانے کو بھی صبر سے برداشت کر لے گی لیکن بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے فیصلے کو قبول کرنا ممکن نہیں۔ ایک طرف بھارت مسلمہ دشمن، دوسری طرف پسندیدہ ترین۔ حکومت کا یہ اقدام پاکستانیوں کے دلوں پر گھاﺅ ہے۔ فردوس عاشق اعوان کا دعویٰ ہے کہ قائد اعظم اور قائد ملت نے بھی بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیا تھا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر زرداری حکومت کو پھر سے بھارت کو پسندیدہ ترین قرار دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ بانیانِ پاکستان کے فیصلوں کی تو توثیق کی بھی ضرورت نہیں۔ وہ ہمیشہ کے لئے نافذ العمل ہیں۔ فردوس عاشق کے بودے استدلال کے استرداد کے لئے بھارت کو MFN قرار دینے کے لئے معاملہ کابینہ میں اٹھانا ہی کافی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ حکومتی فیصلے کو فوج کی تائید حاصل ہے۔ آج فوج کے تحفظات سامنے آگئے ہیں۔ حکومت نے یہ غلط بیانی کیوں کی؟ جغرافیائی سرحدوں کی نگہبان فوج محض تحفظات کا اظہار نہ کرے، پاکستان کی نظریاتی سرحدوں پر حملے کے خلاف اقدامات بھی کرے۔حکومت نے محب وطن پاکستانیوں کے دل جلانے کا فیصلہ کیا بھی تو کس موقع پر کیا۔ عید کے موقع پر اور مصور پاکستان کے یوم ولادت پر کیسے کیسے تحفے دیئے حکمرانوں نے قوم کو! بدقسمتی سے سیاست دانوں سے ملک دشمنی پر مبنی اس اقدام پر جس ردّ عمل کو توقع تھی وہ سامنے نہیں آیا۔ میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کا متفقہ موقف ہے ”ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا“ گویا اعتراض دشمن کو پسندیدہ قرار دینے پر نہیں۔ اعتماد میں نہ لینے پر ہے۔ عمران خان بھی بھارت کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ان کا مذکورہ فیصلے پر اعتراض سامنے آیا نہ احتجاج، ق لیگ خود کو قائد اعظم کی اصل پارٹی قرار دیتی ہے۔ وہ اس مضرت رساں فیصلے کی حمایت میں آگے آگے ہے۔ ان سے بہتر تو جماعت اسلامی ہے جس کا قیام پاکستان میں کردار مسلم لیگ جیسا نہیں تھا۔ وہ اس فیصلے کی مذمت کر رہی ہے۔ ”ڈاکٹر“ رحمن ملک نے کہا ہے کہ بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کے فیصلے کی پارلیمنٹ نے توثیق کی تو معاملہ آگے بڑھے گا۔ ”ڈاکٹر“ صاحب اپنی صداقت کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ شہباز شریف اور ذوالفقار مرزا جو القاب ان کو دے چکے وہ دہرانے کی ضرورت نہیں۔ اب انہوں نے جو کہا اس میں بھی شاید اتنی ہی سچائی ہو جتنی 28 جولائی کو ایئر بلیو کے کریش ہونے کے بعد اس بیان کی تھی جو ڈاکٹر صاحب نے حادثے کے محض آدھ پون گھنٹے بعد دیا کہ 6 افراد زندہ بچ گئے ہیں جو ہسپتال داخل ہیں حالانکہ اس وقت تک امدادی کارروائی بھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ اگر معاملہ پارلیمنٹ میں بھی چلا جاتا ہے تو امریکی ایجنڈے کی وہاں مخالفت کون کرے گا؟ پیپلز پارٹی، ق لیگ، ایم کیو ایم، اے این پی یا مسلم لیگ ن۔ جماعت اسلامی یا ہر پارٹی کے باضمیر افراد کے سوا اجتماعی طور پر کوئی بھی نہیں۔ یہ باضمیر بھی کتنے ہوں گے شاید ان کی تعداد سینٹ کے ایک صوبے کے ارکان سے بھی کم ہو۔
مانا کہ بھارت کوMFN کادرجہ دلانا امریکہ کا ایجنڈہ تھا جس کی تکمیل کر دی گئی۔ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ اس کا اپنا ایجنڈا ہونا چاہیے۔ آپ کی امریکہ سمیت کسی بھی ملک سے دوستی ہو سکتی ہے لیکن یہ اپنے قومی مفادات کی قیمت پر ہر گز نہیں۔ جس طرح امریکہ کو اپنے مفادات سے غرض ہے آپ کو بھی اپنے مفادات سے ہونی چاہیے۔ کیا بھارت کو افغانستان تک راہداری اس کے ساتھ تجارت، دوستانہ تعلقات اور اسے MFN کا تاج پہنا دینا مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں پاکستان کے مفاد میں ہے؟ ہر گز اور قطعی نہیں۔ امریکہ کو پاکستان کے امور میں مداخلت کا الزام دینا درست نہیں۔ آپ اپنے بزدلانہ رویوں اور پالیسیوں پر غور کریں۔ غیرت مند بنیں، قومی وقار کا مظاہرہ کریں خود مختاری اور ملکی سالمیت پر آنچ نہ آنے دیں۔اپنا موقف واضح کریں اور اس پر ڈٹ جائیں یقینا امریکہ ڈومور کے تقاضوں اور اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے دباﺅ سے قبل کئی بار سوچے گا۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کے لئے اس حد تک چلے جانا ضمیر فروشی ہی نہیں وطن فروشی بھی ہے۔ عید پر قوم کو انگاروں کا تحفہ دینے والے حکمران اور اس پر خاموشی اختیار کرنے والے سیاستدان بھی ایک تحفہ ہیں۔ کاش کوئی انہیں پاکستانی قوم کی طرف سے تحفہ سمجھ کر اپنے ہاں لے جائے!!



Monday, October 31, 2011

( 1) قائد سیکولر یا راسخ العقیدہ مسلمان ....؟




 پیر ، 31 اکتوبر ، 2011






































 پیر ، 31 اکتوبر ، 2011

قائد ؒ سیکولر یا راسخ العقیدہ مسلمان ....؟
فضل حسین اعوان ـ
ایک خواب دنیا دار عالم دین مولانا حسین احمد مدنی کا بھی ملاحظہ فرمایئے جوان کی اپنی کتاب میں درج ہے۔ 1946ءجنرل الیکشن کی ہنگامہ خیزیوں کا زمانہ تھا۔ حضرت مدنیؒ مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امیدواروں کو کامیاب بنانے کیلئے پورے ہندوستان کا طوفانی دورہ کر رہے تھے۔ صوبہ بنگال میں تمام صوبوں کے بعد الیکشن ہوا تھا۔ اس لئے حضرت اواخر فروری میں نواکھالی تشریف لے گئے۔ قافلہ میں مولانا عبدالحلیم صدیقی‘ مولانا نافع گل اور دیگر چار پشاوری طالب علم تھے۔ 3 مارچ کو گوپال پور تھانہ بیگم گنج پہنچے‘ چودھری رازق الحیدر کے دولت کدے پر قیام ہوا۔ دوسرے دن ایک عظیم الشان انتخابی جلسہ میں تقریر کا پروگرام تھا۔ رات میں گیارہ بجے کھانا تناول فرما کر 12 بجے کے قریب آرام فرمانے کےلئے لیٹ گئے۔ میں پاﺅں دباتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد نیند آگئی۔ ہم لوگ دوسرے کمرے میں جا کر کچھ ضروری کام کرنے لگے۔ تقریباً دو بجے رات میں مجھ کو اور چودھری محمد مصطفیٰ کو طلب فرمایا۔ ہم دونوں حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا کہ لو بھئی! اصحاب باطن نے ہندوستان کی تقسیم کا فیصلہ کردیا۔ میں نے عرض کیا کہ اب ہم لوگ جو تقسیم کے مخالف ہیں کیا کرینگے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ہم لوگ ظاہر کے پابند ہیں جس بات کو حق سمجھتے ہیں‘ اس کیلئے پوری قوت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ دوسرے دن گوپال پور کے عظیم الشان جلسہ میں تقسیم کی مضرتوں پر معرکة الآراءتقریر فرمائی۔ بالآخر 3 جون 1947ءلارڈ ماﺅنٹ بیٹن گورنر جنرل ہند کے غیرمتوقع اعلان سے اس واقعہ کی حرف بحرف تصدیق ہو گئی۔ 
(از مولانا رشید احمد صدیقی کلکتہ) 
(حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی‘ واقعات و کرامات از حضرت مولانا سید رشید الدین حمیدی‘ مکتبہ ندائے شاہی جامع قاسمیہ مراد آباد انڈیا۔)
قائداعظم کے معالج ٹی بی سپیشلسٹ ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں کہ ”ایک بار دوا کے اثرات دیکھنے کیلئے ہم انکے پاس بیٹھے تھے‘ میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں‘ لیکن ہم نے ان کو بات چیت سے منع کر رکھا تھا۔ اس لئے الفاظ لبوں پر آکر رک جاتے تھے۔ اسی ذہنی کشمکش سے نجات دلانے کیلئے ہم نے خود انہیں بولنے کی دعوت دی تو وہ بولے۔ ”تم جانتے ہو جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے‘ یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیں کر سکتا تھا‘ میرا ایمان ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا۔ اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے۔ پاکستان میں سب کچھ ہے‘ اسکی پہاڑیوں‘ ریگستانوں اور میدانوں میں نباتات بھی ہیں اور معدنیات بھی۔ انہیں تسخیر کرنا پاکستانی قوم کا فرض ہے‘ قومیں نیک نیتی‘ دیانت داری‘ اچھے اعمال اور نظم و ضبط سے بنتی ہیں اور اخلاقی برائیوں‘ منافقت‘ زرپرستی اور خودپسندی سے تباہ ہو جاتی ہیں۔“ 
قائداعظم ایسی ہستی کو سیکولر قرار دینا بہتان‘ الزام اورقائد کے چاہنے والوں کیلئے بدبختوں کی طرف سے دشنام ہے۔ ہم دشنام کا جواب دشنام سے نہیں بلکہ دلیل سے دینے کے قائل ہیں۔ قائداعظم جیسے راسخ العقیدہ مسلمان نے مملکت خداداد کیا دہریت کے فروغ کیلئے حاصل کی تھی؟ قائد کو سیکولر قرار دینے والوں کی اپنی نسلیں مغربی تہذیب میں خلط ملط ہو کر گھر کی رہی ہیں نہ گھاٹ کی۔ خدارا! اپنے ملحدانہ خیالات سے معصوم بچوں کو گمراہ اور انکے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی کوشش تو نہ کریں جو مستقبل میں قائد کے خیالات و افکار کے علمبردار ہو سکتے ہیں۔ (ختم شد)






قا ئد سیکولر یا راسخ العقیدہ مسلمان ....؟

 اکتوبر30 ، 2011
فضل حسین اعوان ـ


بھارت سے محبت‘ اسکے ساتھ تجارت‘ تعلقات کے فروغ اور تقسیم کی لکیر مٹانے
 کے خبط میں مبتلا بزعم خویش دانشور قائداعظم کو سیکولر اور ارضِ پاک کی آزادی کے بعد بھی محب ہند ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی ضعف علمی کی بناءپر قائد کو دین سے واجبی سوجھ بوجھ کا حامل مسلمان قرار دیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو نظریہ پاکستان کیخلاف اپنے اندر کے خبث کو پردہ اخفا میں رکھنے کے بھی قائل نہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر یہ فرزاندانِ اغراض و مفادات تاریخ مسخ کرتے ہوئے نئی نسل کے ذہن میں انتشار، افتراق اور نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ انکے سامنے قائد محترم کی زندگی کا ایک ہی رخ ہے۔ دوسرا انہوں نے کبھی دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ قائداعظم سیکولر تھے نہ دین سے معمولی دلچسپی رکھنے والے مسلمان وہ تو پکے اور راسخ العقیدہ مسلمان تھے تاہم افسوسناک امر ہے کہ آپ کی شخصیت کو اس مومنانہ صفات‘ مذہبی جذبات‘ دینی تاثرات اور اسلامی رجحانات کے آئینہ میں پیش نہیں کیا گیا جس طرح پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ آپ کا ہر ارشاد‘ ہر بیان‘ ہر تقریر اسلام کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اٹھتے بیٹھے اسلام ہی کو اپنے مخصوص رنگ اور عصری تقاضوں کے مطابق پیش کرتے تھے۔ اگر آپ کی ہر تقریر‘ ارشاد اور عمل کا دیانت دارانہ جائزہ لیا جائے تو وہ اسلام کی کسوٹی پر پورا اتریگا۔ خدا بھلا کرے جناب ڈاکٹر صفدر محمود کا جو تاریخ مسخ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو دلیل سے جواب دیتے ہیں۔ آصف بھلی صاحب بھی جواب آں غزل کےلئے ہمہ وقت کمربستہ رہتے ہیں۔ 
پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ فضل حق راوی ہیں کہ وہ حضرت قائداعظم کی رہائش گاہ پر گئے‘ وہاں مولانا شبیر احمد عثمانی پہلے سے موجود قائد سے ملاقات کے منتظر تھے۔ پتہ چلا کہ قائداعظم‘ وائسرائے سے ملنے جا رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد دونوں نے ملازموں سے قائد کے کمرے سے باہر آنے میں تاخیر کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ہم گھنٹی بجنے پر ہی صاحب کے کمرے میں جا سکتے ہیں۔ مولانا نے مزید تاخیر پر نوجوان فضل حق سے معمولی سے ایک طرف ہٹے پردے سے جھانکنے کو کہا‘ فضل حق نے دیکھا کہ قائداعظم سوٹ میں ملوث سجدہ ریز تھے۔ قائدا کا خدا‘ رسول اور اپنے دین و مذہب پر کتنا کامل یقین تھا۔ 
ایسا ہی ایک واقعہ مولانا حسرت موہانی بیان کرتے ہیں کہ ”ایک روز میں جناح صاحب کی کوٹھی پر صبح ہی صبح نہایت ضروری کام سے پہنچا اور ملازم کو اطلاع کرنے کو کہا‘ ملازم نے کہا‘ اس وقت ہم کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ تشریف رکھیں‘ تھوڑی دیر میں جناح صاحب خود تشریف لے آئیں گے‘ چونکہ مجھے ضروری کام تھا‘ اس لئے مجھے ملازم پر غصہ آیا اور میں خود کمرے میں چلا گیا۔ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں پھر تیسرے کمرے میں پہنچا تو برابر والے کمرے سے مجھے کسی کے بلک بلک کر رونے اور کچھ کہنے کی آواز آئی۔ یہ جناح صاحب کی آواز تھی‘ میں گھبرا گیا اور آہستہ سے پردہ اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قائداعظم سجدے میں پڑے ہیں اور بہت ہی بیقراری کے ساتھ دعا مانگ رہے ہیں۔ میں دبے پاﺅں وہیں سے واپس آگیا“
قائداعظم نے دین اسلام سے اپنی دلچسپی لگاﺅ اور اس پر عمل پیرا ہونے کا پہلو جان بوجھ کر مخفی رکھا۔ خدا اور اسکے رسول نے محمدعلی جناح کو برصغیر کے مسلمانوں کی رہنمائی کیلئے چنا۔ ہمارے نزدیک یہی قائد کی بزرگی و بزگزیدگی اور اللہ کے حضور بلندی درجات کا ثبوت ہے۔ بندگانِ خدا اپنے محبوب کے ارشادات اور اشاروں کو عقل کی کسوٹی پر نہیں پرکھتے۔ جن کی عقل پر پردہ پڑا ہو وہ واضح نشانیوں کو بھی اپنی ناقص عقل کے باعث مبہم قرار دے دیتے ہیں۔ 
مولف عبدالمجید ایڈووکیٹ کی کتاب ”زیارت نبوی بحالتِ بیداری“ میں ایک واقعہ درج ہے‘ بقول راوی قائداعظم کے ساتھی ملاقات کیلئے حاضر ہوئے تو قائداعظم گہری سوچ میں غرق تھے‘ مجھے دیکھ کر فرمایا: ”کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مجھے اقبال نے لندن سے واپس بلایا‘ جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ لیاقت علی خان لے کر آئے‘ بے شک ان دونوں حضرات کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ ہے لیکن اصل بات جو مجھے یہاں لائی‘ کچھ اور ہے۔ ایک رات میں لندن میں سو رہا تھا کہ جھٹکے سے آنکھ کھل گئی لیکن میں پھر سو گیا۔ دوسرا جھٹکا ذرا تیز تھا۔ میں نے دروازہ کھول کر باہر کا جائزہ لیا اور اطمینان کرکے دوبارہ سو گیا۔ تیسرے جھٹکے نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میں اٹھ بیٹھا۔ میرا کمرہ خوشبو سے مہک رہا تھا اور میں کسی کی موجودگی محسوس کر رہا تھا۔ آپ کون ہیں؟ میں تمہارا پیغمبر ہوں‘ ہندوستان جاﺅ اور مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کی رہنمائی کرو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم کامیاب رہو گے‘ انشاءاللہ۔ اس کے بعد میں جتنی جلد ہو سکتا تھا‘ ممبئی آگیا۔ 
بیداری کی حالت میں زیارت کی بات چلی ہے تو عاشقانِ رسول اور ختم نبوت پر یقین اکمل و محکم رکھنے والے سن لیں ممتاز قادری بھی اسیری کے دوران اس سعادت بابرکت سے سرفراز ہو چکے ہیں۔ رسالت مآب سے ان کی محبت اور عشق کا اندازہ کیجئے کہ پہلی ملاقات کیلئے لواحقین کو ایک گھنٹے کی ملاقات کا وقت دیا گیا۔ ملاقاتیوں میں ان کا ننھا بیٹا بھی شامل تھا۔ یہ لوگ گئے تو ممتاز کو ہشاش بشاش پایا۔ دنیاوی باتوں کے بجائے ممتاز نے محفلِ ذکر و نعت سجالی‘ ملاقات ختم ہونے میں پندرہ منٹ بچے تو کہا‘ سات آٹھ منٹ مزید ذکر حبیب کرلیں۔ ایک اور ایمان افروز واقعہ ملاحظہ فرمائیے جو علامہ ملک خادم حسین رضوی صاحب نے ایک ریٹائرڈ جسٹس صاحب کے حوالے سے میلاد کی محفل میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں سنایا۔ ”خواب میں دیکھا کہ پاک سرزمین پر آسمان سے ایک روشنی اتر رہی ہے‘ منظر واضح ہوا تو ایک بزرگ کے کندھوں پر نوجوان سوار تھا‘ پتہ چلا کہ بزرگ پیرانِ پیر ہیں۔ کئی روز بعد اچانک میڈیا میں ایک واقعہ کا چرچا ہوا‘ میں یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا جس نوجوان کو بار بار دکھایا جا رہا تھا‘ وہ وہی تھا جو حضور غوث اعظم کے کندھوں پر سوار تھا۔ غازی ممتاز قادری۔ (جاری ہے)

Thursday, October 27, 2011

عام انتخابات کون کرائے

 جمعرات ، 27 اکتوبر ، 2011

عام انتخابات کون کرائے

فضل حسین اعوان
ہماری سیاست کمالات و جمالات اور خطرات و خدشات سے بھر پور ہونے کے ساتھ ساتھ معجزات و کرامات سے بھی معمور ہے۔ سیاست کی لذت ایسی کہ چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی۔ سیاست کے ناقدین اور نکتہ چیں موقع ملنے پر قلزم سیاست میں کودنے سے گریز نہیں کرتے۔ آپ نے سیاست میں آنے والے تو بے شمار دیکھے ہوں گے۔ سیاست کو خیر باد کہنے والا کوئی ایک بھی نہیں۔ ہر شعبہ میں ریٹائرمنٹ کی عمر ہوتی ہے۔ سیاست میں ایسی کوئی پابندی و قدغن نہیں۔ ہمارے ہاں موجودہ پارلیمنٹ دوسری اور آخری گریجوایٹ پارلیمنٹ ہے۔ گو اس میں جعلی ڈگری والوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے تاہم جعلی ڈگری والوں نے کم از کم میٹرک اور ایف اے تو کیا ہی ہو گا۔ قبل ازیں انگوٹھا چھاپ بھی پارلیمنٹ کا حصہ رہے جن کو صدر پرویز مشرف نے گریجوایشن کی شرط رکھ کے دو انتخابات میں سیاسی اکھاڑے سے باہر بٹھا کر تماشائی بننے پر مجبور کر دیا۔ آئندہ الیکشن میں وہ پھر تعلیم اور تعلیم یافتگان کو ”دندیاں چڑا“ کر پارلیمنٹ میں دھمال اور بھنگڑا ڈالتے نظر آئیں گے۔ لیکن ان کے پارلیمنٹ میں آنے سے قبل بہت کچھ ہونا باقی ہے۔
اگلے سال مارچ میں سینٹ کے الیکشن ہونے ہیں، یہ ایک جمہوری عمل ہے جو جمہوری انداز میں مکمل ہونا چاہیے لیکن آج یہ بحث زوروں پر ہے کہ سینٹ کے الیکشن ہوئے تو اکثریت کس کو ملے گی؟ اسی ایک سوال پر سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی حکمت عملی جنگی بنیادوں پر ترتیب دے رہی ہیں۔ حکمران پارٹی الیکشن لڑ کر اور دوسرا گروپ الیکشن سے قبل اسمبلیوں کا گھونٹ بھر کے یہ سنگ میل عبور کرنا چاہتا ہے۔ ایک ایم پی اے نے سینٹ الیکشن سے قبل پنجاب اسمبلی توڑنے کا مشورہ دیا جس کو بڑی اہمیت دی گئی حالانکہ اس ایم پی اے کے بیان اور خود اس کی اپنی حیثیت چھپکلی کے شہتیر کوجپھے سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ مارچ تک سیاستدانوں کی بازیاں اور قلابازیاں کیا رنگ لاتی ہیں۔ اس بارے میں کوئی بھی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ البتہ سینٹ کے انتخابات کے بعد ایک نیا طوفان اٹھے گا۔ اپوزیشن یا حکومت سے باہر کی پارٹیاں شدت کے ساتھ نعرہ بلند کریں گی کہ صدر آصف زرداری کی صدارت میں عام انتخابات نامنظور۔ جس کی بازگشت آج بھی سنائی دے رہی ہے۔ آج جمہوریت کی خوفناک اور بھیانک شکل ہمارے سامنے ہے۔ اسی کو لولی لنگڑی جمہوریت کہا جاتا ہے۔ شاید ایسی بدترین جمہوریت کو بہترین آمریت سے بھی اچھا قرار دیا جاتا ہے۔ زرداری صاحب کی مدت صدارت ستمبر2013ءمیں پوری ہو گی۔ اس سے کم از کم چھ ماہ قبل عام انتخابات ہونا ہیں۔ آئین کے مطابق مرکز میں صدر اور صوبوں میں گورنر نگران حکومتیں تشکیل دیں گے۔ آج چونکہ چاروں گورنر صدر زرداری کے زیر اثر ہیں اس لئے تمام صوبوں میں نگران حکومتیں بھی ان کی مرضی کی ہوں گی۔ ہمارے ہاں تو غیر جانبدار مشینری بھی دھونس اور دھاندلی سے پاک الیکشن کرانے سے قاصر ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئر مین کی بنائی گئی نگران حکومتیں کیسے شفاف الیکشن کرا دیں گی؟ یہی سوال اپوزیشن کے دل و دماغ میں سانپ بن کر لوٹ رہا ہے۔ ان کے خدشات و تحفظات درست بھی ہوں تو بھی آئینی تقاضوں سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ بھگتیں اس قول زریں کو کہ لولی لنگڑی جمہوریت بھی بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ نگران حکومتیں جتنی بھی جانبدار ہوں اکثریتی رائے کو اقلیت میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔ ایسا ہوتا تو مشرف خود صدر اور تمام نگران حکومتیں ان کی کٹھ پتلی اور خوشامدی تھیں۔ ان کا ق لیگ کو فائدہ تو ضرور ہوا لیکن کلین سویپ ہو سکا نہ مرضی کے نتائج حاصل ہو سکے۔ مجموعی نتائج نے مشرف کی حسرتوں کا جنازہ نکال دیا۔ غیر جماعتی انتخابات میں جنرل ضیاءالحق کے پروردہ تقریباً تمام بڑے بڑے سیاست دان اوندھے بل گر گئے تھے۔ صدر آصف علی زرداری کے خسر محترم جناب ذوالفقار علی بھٹو کو گو ایک بدترین ڈکٹیٹر اور جمہوریت کے دشمن نے پھانسی دیدی تھی لیکن بھٹو صاحب کے اس دلدوز انجام کی ابتدا بھی 1977ءکے انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے ہوئی تھی۔ اگر اپوزیشن جماعتیں انتخابات کی تاریخ اور صدر آصف زرداری 77ءکی تحریک کو پیش نظر رکھیں تو 2013ءکے متوقع عام انتخابات خوش اسلوبی سے منعقد ہو سکتے ہیں۔