About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, February 12, 2012

ترکی کے بعد شہباز کی جرمنی کی بھی کامیاب پرواز

اتوار ، 12 فروری ، 2012

ترکی کے بعد شہباز کی جرمنی کی بھی کامیاب پرواز
فضل حسین اعوان 
دورے کے چوتھے روز وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جرمن آرٹسٹوں، وکلائ، صحافیوں اور دانشوروں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی شہرت کے حامل فنکار، موسیقار اور مصور پیدا کئے ہیں۔ پنجاب جرمنی کے ساتھ دانشوروں اور فنکاروں کے ایکسچینج پروگرام کو خوش آمدید کہے گا۔ لاہور علم و فن کا گہوارہ ہے، جرمن پینٹنگز کی نمائش کیلئے تمام سہولتیں فراہم کریں گے۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی تخلیقی عمل میں رکاوٹ پیدا نہیں کر سکتی۔ جرمنی کے ساتھ پاکستان کے عظیم ثقافتی و تہذیبی رشتے ہیں اور اسے شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی درس گاہ ہونے کا منفرد اعزاز بھی حاصل ہے۔ جرمن فنکاروں اور دانشوروں نے تعلیم کے فروغ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی کوششوں کی تعریف کی۔ محمد شہباز شریف نے ملتان سے اغوا ہونے والے جرمن باشندے کی اہلیہ سے برلن میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کے شوہر کی جلد از جلد بازیابی کی کوشش کی جائے گی، آپ کے شوہر کے اغوا پر مجھے اور میری حکومت کو سخت تشویش ہے۔ مغوی جرمن اہلکار کی اہلیہ نے وزیر اعلیٰ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے ملاقات کے بعد میرا حوصلہ بڑھا ہے۔ اسی روز برلن میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خزانہ کامران مائیکل، سیکرٹری زراعت عارف ندیم، رکن صوبائی اسمبلی چودھری ارشد جٹ، پنجاب انویسٹمنٹ بورڈ کے وائس چیئرمین مفتاح اسماعیل، پی ایم ایل (این) برطانیہ کے صدر زبیر گل اور پاک جرمن کونسل کے صدر شاہد ریاض گوندل اور بڑی تعداد میں جرمن میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ میں نے زرعی ایکسپورٹ کے ذریعے پنجاب کے دیہات کی پسماندگی کو خوشحالی میں بدلنے کا عزم کر رکھا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان فوڈ آئٹمز برآمد کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہوگا۔ یورپی سرمایہ کار پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے آگے بڑھیں۔ میں خود یورپی سرمایہ کاروں کے سرمائے کے تحفظ کی نگرانی کروں گا۔ پریس کے نمائندوں نے جرمن زبان میں خطاب پر وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین پیش کیا اور انہوں نے دورے کے اخراجات ذاتی جیب سے ادا کرنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کے ساتھیوں کی تعریف کی۔ جرمن صحافیوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طرز عمل کی پیروی مغربی دنیا کے رہنماﺅں کو بھی کرنی چاہئے۔ دورے کے آخری روز 22 جنوری کو برلن میں مقیم سفارتکاروں‘ بین الاقوامی ماہرین اقتصادیات اور سرمایہ کاروں نے برلن میں پاکستان کی زرعی اجناس کی نمائش کو پنجاب اور پاکستان کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
نمائش کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہا کہ میں اپنی اور پاکستانی وفد کی شاندار پذیرائی پر جرمنی کی سیاسی قیادت اور اعلیٰ حکام کا شکر گزار ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ میرا دورہ پاکستان کی زرعی اجناس کی برآمد میں فروغ کے ساتھ ساتھ پاک جرمن تعلقات کو مضبوط تر بنانے کا باعث بنے گا۔(ختم شد)


Saturday, February 11, 2012

ترکی کے بعد شہباز کی جرمنی کی بھی کامیاب پرواز

 ہفتہ ، 11 فروری ، 2012

ترکی کے بعد شہباز کی جرمنی کی بھی کامیاب پرواز
فضل حسین اعوان 
گذشتہ ماہ کے ترکی کے کامیاب دورے کی طرح وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا جرمنی کا 5 روزہ دورہ بھی کامیابیوں کی نوید لایا۔ میاں محمد شہباز شریف 18 فروری کو برلن ائرپورٹ پر اترے تو پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا والہانہ اور پرجوش استقبال کیا۔ ائرپورٹ کی عمارت قائداعظم زندہ باد‘ پاکستان زندہ باد اور نواز شریف زندہ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ بیرون ملک موجود پاکستانی وطن کی خدمت اور حفاظت کا غیر معمولی جذبہ رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پاکستان کو کرپشن‘ اقربا پروری اور لوٹ مار سے نجات دلا کر اسے خوشحالی اور عظیم ترین ترقی سے ہمکنار کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا عالمی زرعی نمائش گرین ویک کے ذریعے پنجاب کے پھلوں‘ سبزیوں اور دیگر مصنوعات کا تعارف بین الاقوامی منڈی میں پاکستان کو اعلیٰ مقام دلانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ قدرت نے پاکستان کو بہترین پھلوں اور سبزیوں سے نوازا ہے جو پیداوار‘ لذت اور کوالٹی میں دنیا کے کسی بھی خطے کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔
19 فروری کو شہباز شریف نے برلن میں مسلم لیگی کارکنوں اور پاکستانیوں کو دکھی دل کے ساتھ بحرانوں میں گھرے ہوئے قائداعظم کے پاکستان کی حالت زار سے آگاہ کیا اور ان کو امید کی ایک کرن دکھاتے ہوئے کہاکہ بیرون ملک تارکین وطن پاکستان میں کرپٹ اور لوٹ مار میں مصروف حکمرانوں کی رخصتی کی خوشخبری جلد سننے کیلئے تیار رہیں۔ پاکستان کی زرعی مصنوعات کو دنیا میں فروغ دینے کیلئے جو کام مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت کر رہی ہے اگر گذشتہ 63 برس کے دوران اسی طرح کیا جاتا تو آج پاکستان کا شمار دنیا کے خوشحال ترین ملکوں میں ہوتا۔ آج ہم اربوں ڈالر کی بیرونی امداد لینے کے بعد دنیا کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں اگر ہم انے پا ¶ں پر کھڑے ہو جائیں تو یہی دنیا ہمارے فیصلوں کا انتظار کرے گی۔ 
مغربی دنیا میں پاکستان کے بارے میں پھیلائی جانے والی تمام باتیں درست نہیں۔ پاکستان رجعت پسندی اور عسکریت پسندی کا نام نہیں۔ ہمارے عوام اور فوج نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اسلام سمیت تمام آسمانی مذاہب امن‘ بھائی چارے اور برداشت کا درس دیتے ہیں۔ اپنے دورے کے دوسرے روز محمد شبہاز شریف نے برلن میں سفارتکاروں‘ جرمن سرمایہ کاروں‘ کاشتکاروں اور سول سوسائٹی کے اراکین سے جرمن زبان میں طویل خطاب کرکے شرکاءکو حیران کر دیا۔ محمد شہباز نے یہ خطاب فی البدیہہ کیا اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے پاک جرمن تعلقات پر روشنی ڈالنے کے علاوہ جرمنی کے عظیم ثقافتی اور تہذیبی روایات کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعلیٰ نے اپنی تقریر میں پاکستانی پھلوں خصوصاً آم کی لذت کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ اگر جرمنی کا مشہور شاعر گوئٹے آج موجود ہوتا تو وہ پاکستانی آم کی تعریف میں ایک نظم ضرور لکھتا۔ 
جرمنی کے دورے کے تیسرے روز وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے جرمن سٹیٹ سیکرٹری برائے خارجہ امور ایملی ہیبر (Emily Haber) سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ خطے کو درپیش صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی۔
ایملی ہیبر سے ملاقات کے بعد محمد شبہاز شریف نے برلن میں گرین ویک کے تحت پاکستانی اجناس اور زرعی مصنوعات کی نمائش کے سٹالز کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر نمائش میں حصہ لینے والے پاکستانی کاشتکاروں اور سرمایہ کاروں کے علاوہ مشرقی یورپ کے سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ نمائش میں پنجاب سے 21 زرعی اجناس اور مصنوعات رکھی گئی تھیں۔ پاکستان کی 63 سالہ تاریخ میں ملکی زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے کسی مغربی ملک میں لگائی جانے والی اپنی نوعیت کی یہ پہلی نمائش تھی۔ جرمنی کی وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی کی پارلیمانی سٹیٹ سیکرٹری مسز جڈرون کوپ Judrun Kopp نے پاکستانی مصنوعات کی نمائش کے سٹالز کا دورہ کیا اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پاکستانی مصنوعات کی نمائش کی مقبولیت پر مبارکباد دی۔ 
اسی روز جرمنی کے وزیر زراعت و خوراک نے وزیر اعلیٰ کو استقبالیہ دیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان سے سبزیوں اور پھلوں کی درآمد پاکستان اور جرمنی دونوں کیلئے سودمند ثابت ہوگی۔ اس سے جہاں پاکستان میں معیاری زراعت کو فروغ ملے گا وہاں جرمنی بھی اعلیٰ کوالٹی کی اجناس حاصل کر سکے گا۔ جرمنی پاکستانی گوشت کی درآمد میں پنجاب سے بھی پورا تعاون کرے گا۔ 
(جاری ہے )


Thursday, February 9, 2012

سینٹ الیکشن .... نواز شریف روایت شکن بنیں گے؟

جمعۃالمبارک ، 10 فروری ، 2012


سینٹ الیکشن .... نواز شریف روایت شکن بنیں گے؟
فضل حسین اعوان 
جاوید ہاشمی جیسا نواز شریف کا پارٹی میں سب سے زیادہ بااعتماد ساتھی، وفادار اور پارٹی و پارٹی قیادت کی خاطر پانچ سال جیل کاٹنے والا، مصائب سے نہ گھبرانے، آمریت کے سامنے جھکنے اور کسی قیمت پر بھی نہ بکنے والا شخص مسلم لیگ ن چھوڑ سکتا ہے تو کوئی بھی لیگی کارکن اور لیڈر پارٹی قیادت کے رویے اور حق تلفی کے باعث پارٹی سے کنارہ کشی اور لاتعلقی اختیار کر سکتا ہے۔ جاوید ہاشمی عمران خان کے دامن وابستہ ہوئے تو ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے انگڑائی لے کر ناراض اور نظر انداز ہونے والے کارکنوں کی دلجوئی کی ایک مہم کا آغاز کیا۔ میاں نواز شریف نے کارکنوں کو قیادت سے دور رکھنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت تنبیہ کی اور کارکنوں کے لیے دل اور گھر کے دروازے کھول دیئے۔ کان کی کھڑکیاں شاید بند یا نیم وا ہیں۔ سرانجام خان روٹھے روٹھے سے تھے ان کو منانے پشاور چلے گئے۔ عہدوں کی تقسیم کے دوران ان کی نہ سنی گئی تو وہ اجلاس سے واک آﺅٹ کر گئے گویا ان کو مزید ناراض کر دیا۔ اس کام میں میاں صاحب بڑے ماہر ہیں۔ جاوید ہاشمی کے مسلم لیگ ن سے جانے کے بعد مزید چند روز پت جھڑ جاری رہی جو نہ صرف جلد رُک گئی بلکہ پارٹی پر موسم بہار کا بھی گمان ہونے لگاہے یوں تو سارے سیاست دان کم و بیش ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن میاں نواز شریف اور روایتی سیاستدانوں میں تھوڑا سا فرق ہے۔ محمد خان جونیجو کرپٹ لوگوں کو برداشت نہیں کرتے تھے انہوں نے کئی بدعنوان وزراءکو فارغ کیا میاں نواز شریف میں محمد خان جونیجو جیسی کم از کم یہ ایک خوبی تو موجود ہے۔ میاں صاحب نے بھی اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران کئی وزراءکو کرپشن پر کابینہ سے نکال باہر کیا۔اگر میاں نواز شریف کی یہ خوبی زرداری صاحب کے اندر بھی حلول کر جائے تو شاید پوری کابینہ نئی بنانی پڑے۔عمران خان کے کزن انعام نیازی بھی جاوید ہاشمی کی طرح مسلم لیگ ن کے وفادار تھے۔ ان کا پارٹی چھوڑنا قیادت کیلئے ایک جھٹکا تھا۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد پارٹی قیادت نے اچھے اقدامات کیے جن سے کارکن مطمئن دکھائی دیتے ہیں مگر اصل مرحلہ انتخابات میں آئے گا جب پی پی پی، چودھری لیگ اور عمرانی گروپ کے خلاف کھڑے ہوں گے لیکن قیادت کے لیے فوری امتحان سینٹ کے الیکشن ہیں۔ اس میں دیکھئے پارٹی قیادت سرخرو ہوتی ہے یا ورکرز کی نظروں سے گر جاتی ہے۔ پنجاب سے مسلم لیگ ن سینٹ کی چار جنرل نشستوں سے کامیابی حاصل کر سکتی ہے جبکہ امیدواروں کی تعداد ڈیڑھ درجن کے قریب ہے۔ ان میں سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ (مشیر وزیر اعلیٰ پنجا ب) سعید مہدی (نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری رہے) صدیق الفاروق ، عارف سندھیلہ، خواجہ محمود ایڈووکیٹ، اسحٰق ڈار (اعلیٰ تجربے کے حامل آج بھی سینیٹر ہیں )، غلام دستگیر خان (متعدد بار ایم این اے رہے، گریجوایشن کے باعث بیٹے کو ایم این اے بنوایا)، چودھری سردار (برطانیہ میں عوامی نمائندگی کر چکے ہیں)، پروفیسر محمد مظفر مرزا، .... ہارون اختر خان، نعیم چٹھہ، طارق عظیم یہ حضرات آج بھی ق لیگ کے سینیٹر ہیں اور اگلی مدت کیلئے مسلم لیگ ن سے ٹکٹ کی باریابی کی امید لیے ہوئے ہیں۔ انور بیگ (پیپلز پارٹی کے سنیٹر ہیں)جعفر اقبال (اہلیہ ایم این اے، خود سنیٹر بننے کے خواہشمند ہیں)۔ اس کے علاوہ بھی شاید امیدوار ہوں بہرحال سردست ان کے نام ہی سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے چار پانچ کا انتخاب میاں صاحب کیلئے واقعی ایک آزمائش ہے۔ کچھ کارکن شاید پارٹی قیادت کے رویے کے شاکی ہیں کہ سینٹ کے ٹکٹ کیلئے بہت کم درخواستیں آئی ہیں ہو سکتا ہے کئی اہل کارکن بھاری بھر کم فیس کے باعث گھر بیٹھے رہے ہوں۔ بہرحال درخواست جمع کرانے کے حوالے سے پارٹی قیادت سے گلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اب میاں صاحب کو حساب کتاب کرنا ہو گا کہ ان کی قید اور جلاوطنی کے دوران کس نے ان سے وفاداری اور کس نے آمریت کی تابعداری کی۔ جن پر پہلے ہی نوازشات ہیں ان کیلئے مزید عنایات کی ضرورت ہے؟ مروجہ سیاست میں جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور بڑے لیڈروں کو مزید بڑا لیڈر بنانے کی روایت رہی ہے۔ میاں نواز شریف روایت شکن بنتے ہیں یا روایت پرور؟ دیکھئے کن لوگوں کو سینٹ میں لاتے جو پارٹی کی خدمات میں پیش پیش رہے اور پارٹی کا اثاثہ ہیں یا ....! اب کی بار ٹکٹوں کی تقسیم میں پرانی روایت اور روش کو ہی برقرار رکھا گیا تو مطمئن کارکن پھر بد دل ہوں گے۔ میاں صاحب کی کچھ سیاسی مجبوریاں ہو سکتی ہیں لیکن اپنے کارکنوں اور پارٹی اثاثے کسی قیمت پر مجبوری کو آڑ بنانا ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے گا ۔ مشرف کو سلامی اس کے نظریات کو فروغ دینے اور وردی میں بیسیوں سال منتخب کرانے کی دعویدار مسلم لیگ ق کے لیڈروں روایتی و مشکوک و فاداری کے حامل افراد کو ٹکٹ دینے سے قبل ہزار بار سوچئے گا۔

 

ازالہ

جمعرات ، 09 فروری ، 2012

ازالہ
فضل حسین اعوان 
سپریم کورٹ کے حکم پر 28 ارکان کی سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت معلق ہوئی تو 6 سات ماہ سے سوئی ہوئی حکومت ہڑبڑا کر اٹھ گئی۔ جو کام اتنی مدت میں نہ ہو سکا حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے قانون و انصاف و پارلیمانی امور کی چیئرپرسن نسیم اختر چودھری نے وہ کام ایک دو روز میں کر گزرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے ایک ہفتے کی مہلت مانگی لیکن عدلیہ نے ہر معاملے میں مہلت مہلت پکارنے والی حکومت کو مزید مہلت نہ دی۔ 20ویں ترمیم پہلے ہی حکومت کے زیر غور تھی۔ 28 ارکان پر افتاد پڑی جن کی چند ہفتے بعد سینٹ کے الیکشن میں اشد ضرورت ہے تو حکومت نے یہ ترمیم فوری طور پر منظور کرانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا۔ معطلی کی زد میں آنے والے ارکان کا نامکمل الیکشن کمشن کی طرف سے انتخابات کرانے میں کوئی قصور نہیں۔ قصور کسی کا تو ہے۔ 28ارکان کی رکنیت آئین و قانون کی خلاف ورزی پر ہی معطل کی گئی ہے۔ یہ آئین شکنی کس نے کی اس کا بھی محاسبہ ہونا چاہئے۔ چونکہ کیس ابھی جاری ہے شاید سپریم کورٹ اس کا بھی کسی مرحلے پر نوٹس لے لے۔ بہرحال اب آئینی ترمیم کی تیاری اور اس کو متفقہ منظور کرانے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے بغیر 20ویں آئینی ترمیم کا دو تہائی اکثریت سے منظور ہونا مشکل اگر ایک آدھ دوسری پارٹی بھی مسلم لیگ ن کا ساتھ دے تو ناممکن ہے۔ پیپلز پارٹی کی اس حد تک مثبت سوچ ہے کہ وہ اسے اتفاق رائے سے منظور کرانا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ ن بھی ایسا ہی چاہتی ہے لیکن اپنے کچھ تحفظات دور کرا کے اور مطالبات منوا کے۔ حکومت ن لیگ کے کئی مطالبات ماننے پر تیار ہے ڈیڈ لاک نگران حکومت کے سیٹ اپ پر ہوا ہے۔ یہ ڈیڈ لاک کوئی مستقل نہیں عارضی ہے۔ مسلم لیگ ن اس موقف پر سختی سے قائم ہے کہ آئندہ انتخابات کے لئے نگران حکومت میں غیر جانبدار بے داغ شخصیات کو شامل کیا جائے۔ اپوزیشن کے اتفاق سے نگران وزیراعظم بنایا جائے اور نگران حکومت کو 20ویں آئینی ترمیم میں تحفظ دیا جائے۔ چیف الیکشن کمشنر کے اتفاقِ رائے سے تقرر پر بھی پیش رفت نہ ہو سکی۔ 
حکومت کی 4 سالہ کارکردگی دنیا کے سامنے ہے جس پر سب سے زیادہ تنقید مسلم لیگ ن کی طرف سے کی جاتی ہے۔ مسلم لیگ ن ہی اسے کرپٹ ترین حکومت قرار دیتے ہوئے اسے ہر مسئلے اور بحران کی جڑ قرار دیتی ہے۔ اب حکومت کو اس کی ضرورت پڑی ہے تو صرف چند مطالبات سامنے رکھ کر اس کی حمایت پر آمادہ نظر آتی ہے۔ مسلم لیگ ن ایک بڑی فعال پارٹی اور عوامی طاقت ہے جس کے بل بوتے پر نواز شریف نے لانگ مارچ کیا تو حکومت ججوں کی بحالی پر مجبور ہو گئی۔ گذشتہ سال ستمبر میں حکومت نے خود ساختہ بجلی بحران پیدا کیا تو ن لیگ عوام کے ساتھ سڑکوں پر آ گئی۔ اس کے بعد ایک بار تو بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔
آج عام آدمی کا مسئلہ 20ویں آئینی ترمیم، چیف الیکشن کمشنر کا تقرر اور غیر جانبدار نگران حکومت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اسے روزی روٹی کی فکر اور اپنی جان کے لالے پڑے ہیں۔ وہ پہلے ان سے نجات چاہتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں اب تک 8.5 کھرب روپے یعنی 94 ارب ڈالر کی بے ایمانی، بدعنوانی، لوٹ مار اور چور بازاری ہو چکی ہے۔ یہ رقم قومی خزانے میں اور ساتھ ہی زمام اقتدار دیانت دار لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی تو ملک اندرونی اور بیرونی قرضوں سے نکل چکا ہوتا۔ پٹرول 95 جبکہ ڈیزل ایک سو روپے لٹر سے بھی اوپر ہے اس کی قیمت 44 روپے لٹر ہوتی جس پر یہ نیٹو کو فراہم کیا جاتا ہے۔ آئی پی پیز کو عدم ادائیگیوں کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی نہ لاکھوں کارخانے فیکٹریاں اور دیگر کاروبار بند ہونے سے نصف کروڑ لوگ بے روزگار ہوتے۔ ایک طرف مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کی حکومت کو کرپٹ ترین قرار دے کر اس سے چھٹکارے کے لئے کوشاں اور اسے گرانے کی تحریک شروع کئے ہوئے ہے۔ دوسری طرف 20ویں آئینی ترمیم کی منظوری کی حمایت کے لئے محض ایسی شرائط پیش کر رہی ہے جس کا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر آپ نے حمایت کرنی ہے تو عوامی مفاد کی شرائط سامنے رکھیں۔ قوم کے نگلے ہوئے 94 ارب ڈالر اگلوانے کی بات کریں۔ بجلی و گیس کی فراہمی کا مطالبہ کریں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور لاقانونیت کے خاتمے کا عہد لیں قومی سلامتی اور خود مختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے پر قائل کریں۔بھارت کو پسندیدہ قوم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے پر مائل کریں۔ سب سے بڑھ کر پیپلز پارٹی کو ”ڈٹھے کھوہ“ میں پھینکے گئے کالاباغ ڈیم منصوبے کو باہر نکالنے پر مجبور کریں۔ ن لیگ نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا غیر دانشمندانہ فیصلہ خیبر پختون خواہ کی منظوری کی حمایت کرکے کیا تھا۔ اتنی بڑی بے اصولی کرنی تھی تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے مشروط کر دیا جاتا بہرحال اب 20ویں ترمیم کی حمایت کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے مشروط کرکے اس غلطی یا بے اصولی کا کسی حد تک ازالہ کیا جا سکتا ہے۔


Tuesday, February 7, 2012

کرپشن کا ہمالہ

منگل ، 07 فروری ، 2012

کرپشن کا ہمالہ
فضل حسین اعوان
غربت سے تنگ آکر خودکشی کرنے والوں کے لواحقین اور ٹھنڈے ہوتے چولہے کے باعث جاں سے گزر کر دنیا کے دکھوں سے نجات کا ارادہ رکھنے والے سوچیں۔ ان کو اس مقام پر پہنچانے کا ذمہ دار کون ہے۔ جوان بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے سے قاصر‘ اولاد کو تعلیم دلانے میں بے بس تنخواہ دار اور دیہاڑی دار اور کاروباری لوگ سوچیں کہ خون پسینہ بہانے کے باوجود ان کی آمدن مہینہ بھر کے راشن اور اخراجات کے لئے کم کیوں پڑ جاتی ہے؟ صرف کم ہی نہیں‘ انتہائی کم‘ پہلے تنخواہ دار طبقہ کھینچ تان کر 20 پچیس دن نکال لیتا تھا۔ اب ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ میں سب کچھ ختم‘ گھر میں اگر کچھ ہوتا ہے تو بے بسی‘ بے کسی‘ بے چارگی و لاچارگی ہوتی ہے۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ذمہ دار کا تعین کرنے کے لئے عقل سقراط کی ضرورت ہے نہ حکمت بقراط اور دانش افلاطون کی۔ ملک اور عوام کو پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینکنے والے وہی لوگ ہیں جن کو عوام مشرف کی آمریت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے ووٹ کی طاقت سے لاکر اپنے دکھوں کا درماں سمجھتے تھے۔ لیکن جن کو مسیحا سمجھا وہی قاتل نکلے انسانوں کے قاتل‘ انسانیت کے قاتل‘ رہبر رہزن کا روپ دھار گئے جن سے کوئی ادارہ محفوظ رہا نہ کوئی شعبہ نہ کاروبار نہ ملکی معیشت اور نہ ہی قومی سلامتی و خودمختاری‘ آج ایمنسٹی انٹرنیشنل کی چشم کشاءرپورٹ نے اہل اقتدار کا مزید بھرم کھول کر رکھ دیا ہے۔تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا کہ چار سالہ دور جمہوریت میں پاکستان کو ناقابل یقین حد تک مالی نقصان ہوا ہے۔ کرپشن‘ ٹیکس چوری اور خراب طرز حکمرانی کے باعث ملک کو 8500 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ اس رقم کو ڈالروں میں دیکھا جائے تو 94 ارب امریکی ڈالر بنتے ہیں۔ پاکستان کا کل قرضہ جو حکومت نے عالمی مالیاتی اداروں اور اپنے بینکوں سے لے رکھا ہے وہ بھی 90 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔ بیرونی قرضوں کی مالیت 56 ارب ڈالر ہے۔ گویا اندرونی اور بیرونی قرضوں سے 5 چھ ارب ڈالر زیادہ چند لوگوں کے پیٹ میں حرام کی صورت میں اتر گئے۔ کیری لوگر بل کی مد میں پاکستان سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔ تین سال میں پاکستان کو ساڑھے چار ارب ڈالر مل جانے چاہئیں تھے لیکن ابھی تک صرف دو ارب روپے ملے ہیں۔ اس دوران قومی سلامتی و خود مختاری جس طرح سے امریکہ کے پاس گروی رکھی جا چکی ہے یہ طرز حکمرانی کی ایک شرمناک مثال ہے۔
کرپشن کے ہمالہ کی نشاندہی صرف ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ہی نہیں کی۔ اسی حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی وزارت کے دوران اعتراف کیا تھا کہ صرف ایف بی آر میں سالانہ 500 ارب کی بے ایمانی ہوتی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 2010میں 315 ارب کی بدیانتی کا اعتراف کیا۔ پبلک اکا ¶نٹس کمیٹی نے چودھری نثار علی کی سربراہی میں تین ساڑھے تین سال میں ملکی خزانے سے لوٹے گئے 115 ارب روپے واپس خزانے میں جمع کرائے۔ سپریم کورٹ بھی رینٹل پاور پلانٹس کی تنصیب میں کئے گئے گھپلوں کے اربوں روپے واپس کروا چکی ہے۔ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے نے کرپشن روکنے کے بجائے کرپٹ لوگوں کا ساتھ دیا۔ حکمران جتنا بھی طاقتور ہو قومی خزانے کو اپنی مرضی سے نہیں لوٹ سکتا۔ کرپشن کا ہمالہ کھڑا کرنے میں اسے بیورو کریسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب سرکاری ملازم بھی لوٹ مار میں حکومت کا ساتھ دیں تو حشر وہی ہوتا ہے جو آج قوم و ملک اور قومی خزانے کا ہے۔ جس کی صورت آج خزاں رسیدہ درخت کی ہو چکی ہے۔ قائداعظم نے اگست 1948ءکو پشاور میں سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ 
”حکومتیں بنتی ہیں‘ حکومتیں گرتی ہیں لیکن آپ لوگ وہیں رہتے ہیں۔ اس طرح آپ کے کاندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری آجاتی ہے‘ آپ کو اس لئے بھی تکلیف پہنچ سکتی ہے کہ آپ غلط کام کی بجائے صحیح کیوں کر رہے ہیں۔ آپ کو قربانی دینی ہوگی اور میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ آگے بڑھیں اور قربانی دیں‘ خواہ آپ بلیک لسٹ ہو جائیں یا پریشانی اور تکلیف میں مبتلا کر دئیے جائیں‘ آپ کی انہی قربانیوں سے حالات بدلیں گے۔“
بیورو کریٹس نے قائداعظم کے فرمان کو مشعل راہ بنایا ہوتا تو آج ملک ترقی یافتہ اور قوم خوشحال ہوتی۔ سرکاری ملازمین کا عوام دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے۔ ظفر قریشی بھی تو سرکاری ملازم تھا جس نے پوری دیانت داری سے این آئی سی ایل کیس کی تحقیقات کیں۔ وہ بھی سرکاری ملازم تھے جو سرکار کے آلہ کار بن گئے اور سپریم کورٹ تک کو بے بس کرکے رکھ دیا۔ چیف سیکرٹری اور ڈی جی ایف آئی اے بھی سرکاری ملازم ہیں جو حکمرانوں کے ایما پر عدلیہ کے احکامات کو درخودر اعتنا نہیں سمجھتے۔ لوگ بھی احترام کارکردگی اور دیانتداری و ایمانداری دیکھ کر کرتے ہیں۔
اب جبکہ واضح ہو چکا ہے کہ عام آدمی کو مسائل اور مصائب کی دلدل میں کس نے دھکیلا۔ کاروبار کس نے تباہ کئے۔ تو لوگ ایسے ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے کیوں نہیں ہوتے؟ ان کے گریبانوں تک ہاتھ ڈالنے سے کس نے روکا ہے؟ شاید ان کو قائد اور قیادت کی ضرورت ہو۔ وہ نواز شریف کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ جس نے لانگ مارچ کیا تو جج بحال ہو گئے۔ جلسے جلوس نکالے تو ستمبر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو گیا۔ اب وہ شاید مزید قدم اس لئے نہیں بڑھا رہے کہ ان کو اپنے اقتدار کی منزل قریب نظر آرہی ہے اور جو حکومت میں آتا ہے کم و بیش وہی کچھ کرتا ہے جو آج کی جمہوری حکومت کر رہی ہے۔ اس لئے عوام خود اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں کرپشن کا ہمالہ گرانے کے لئے پہلے قوم بنیں پھر تمام وسائل اور معاملات ان کی اپنی مٹھی میں ہو سکتے ہیں۔

Monday, February 6, 2012

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

فروری5 ، 2012


بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
فضل حسین اعوان 
صحرائے عرب کے سنگلاخ پہاڑوں اور بطحا کے بے برگ بے بار و گیاہ ریگزاروں میں کھلنے والے رحمت وعظمت کے پھول کی خوشبو نے کائناتِ کل کو معطر کردیا۔شافعِ محشرﷺپوری انسانیت کی رہبری ورہنمائی کے لئے تشریف لائے۔سیدالبشر‘نورُُ علیٰ‘نبی مکرم ﷺ کا مقام ومرتبہ نوروبشراورعلمِ غیب کی مباحث سے کہیں بلند ترہے ۔بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر ©؛ کہہ دیا اور مان لیا تو مزید بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ویسے بھی ہمیں بحث و تمحیص سے زیادہ کردار وعمل کی ضرورت ہے ۔جس میں ہم اپنے آباﺅ اجداد سے بہت پیچھے ہیں ۔حضرت علامہ نے درست موازنہ کیا
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر
ہم خدا سے شکوہ کنا ں تو رہتے ہیںلیکن اپنی اداﺅںاور اطوار پر غور کرتے ہیں‘ نہ اپنے اعمال‘ افعال اور کردار کا جائزہ لیتے ہیں‘ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہم غیروں کے رحم و کرم پر کیوں ہیں؟ انکے غیظ و غضب کا نشانہ کیوں بن رہے ہیں‘ اس قدر لاچار‘ بیکار‘ بے بس‘ بے کس‘ مجبور و مقہور‘ بدنام‘ بے نام کیوں ہیں؟ وجہ بڑی سادہ سی ہے‘ ہمارے آباء جب سر پر کفن باندھ کر دنیا میں اسم محمدﷺ سے اجالا کرنے نکلتے تو پہاڑ انکے راستے کی دیوار بنتے‘ نہ سمندر و دریا رکاوٹ‘ وہ طوفان کی مانند بڑھتے چلے جاتے۔ 
ہم حیران اور پریشان ہیں کہ بدر کی طرح آج فرشتے ہماری مدد کو کیوں نہیں آتے ہیں؟ فرشتے آج بھی مدد کیلئے کمربستہ ہیں‘ آپ معرکہ بدر تو برپا کریں‘ ہماری خواہش ہے ہم گھروں میں سر بسجود رہیں‘ فرشتے ہمارے دشمنوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑیں اور کامرانی کا علم ہمیں تھما دیں۔
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو 
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی 
فضائے بدر پیدا کرنے کیلئے صاحب لولاک‘ سیاحِ ارض و افلاک‘ سرور کشور رسالتﷺ کے نقشِ پا سے رہنمائی اور دانائی حاصل کرنا ہو گی۔ خدا تک رسائی کیلئے اسکے محبوب کا دامن تھامنا ہو گا۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
آج ہماری دنیا میں ذلت و رسوائی‘ پستی و بے توقیری کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم نے اسوہ رسولﷺ سے منہ موڑ کر ان سے رشتہ جوڑ لیا جن کے بارے میں قرآن اور صاحبِ قرآن کا ارشاد ہے‘ ”یہ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے“۔ جب ہم نے اپنا کعبہ ہی بدل لیا تو صاحبِ کعبہ سے شکوہ و شکایت کیوں؟ ہم شمشیر و سناں سے تائب‘ طاﺅس و رباب کے قائل ہو کر رہ گئے‘ تن آسانی کیلئے اپنا ضمیر بیچا‘ جاہ و جلال بیچا‘ خودی اور خودداری بیچی‘ شجاعت و کمال بیچا‘ پھر اپنے حال پر نظر دوڑاتے ہیں تو دل کے کسی نہاں خانے میں پڑی چنگاری‘ تاب ناک ماضی کی یاد دلاتی ہے تو دل سے نکلے ہوئے الفاظ آنسوﺅں کی صورت میں بہتے لگتے ہیں۔
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے 
امت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے 
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے 
امت پہ جو عجب وقت پڑا اور دین غریب الغربا ہوا‘ اس میں دوش کس کا ہے؟ جب امت مباحات سے کنارہ کرکے خرافات میں کھو جائے‘ لغویات کو اپنالے‘ آمادہِ فسادات ہو‘ تو ٹھنڈی ہواﺅں اور منزہ فضاﺅں کی توقع عبث ہے۔ کیا ہم نے دین کو اوجِ ثریا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا؟ وہ کردارکیا ہے۔
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے 
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے 
نبیوں کے تاجور‘ محبوب اکبر و عزوجل‘ شہنشاہ خوش خصال‘ پیکر حسن و جمال‘ دافعِ رنج و ملال نے بگڑے ہوئے معاشرے کو چند سال میں راہِ راست پر لا کر دنیا کا رہبرو رہنماءبنا دیا۔ صاحب التاجِ والمعراج نے دنیا کو ایک دستور‘ ضابطہ حیات اور آئین دیا اس ہستی اطہرو مطہر کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے منزل عظمت و عزیمت کا نشان ہے۔
وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے 
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا 
ہم گرد و غبار نہیں‘ انسان ہیں‘ اشرفِ مخلوق ہیں‘ اس نورمجسم ﷺکے امتی جو طواف کریں تو حرم بھی وجد میں آجائے‘ ہماری ٹھوکر میں دنیا سما سکتی ہے‘ پہاڑ رائی بن سکتے ہیں‘ ضرورت نبی محترم و مکرمﷺ کے قدموں کی دھول کو سرمہ بنا لینا ہے۔ خیرالبشر کے اسوہ کو اپنا لینا ہے۔ لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ کہہ کر افغانستان میں مجاہدین نے دنیا کی دو بڑی طاقتوں کو ادھیڑ کر اور بکھیر کر رکھ دیا۔ ہم پاکستانی بھی سید عرب والعجمﷺ کا نام لے کر نکلیں‘ اپنے دشمن کو پہچانیں‘ اس پر وار کریں‘ یلغار کریں تو اپنا کھویا ہوا مقام‘ عزت و وقار حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلام کا پرچم بلند کر سکتے ہیں۔ پیار سے مشرقی پاکستان کو ساتھ ملا سکتے ہیں‘ تلوار سے کشمیر آزاد کرا سکتے ہیں‘ اس کیلئے سر پر کفن باندھنا ہوگا‘ جان ہتھیلی پر رکھنا ہو گی‘ سر بکف ہونا ہو گا‘ اسلام صرف نماز اور روزے میں ہی پوشیدہ نہیں۔
یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا 
ہمارے مصائب مسائل پستی ،پسماندگی، درماندگی‘ دکھوں‘ دردوں کا ایک درماں ہے‘ دامنِ مصطفیٰ تھام لیں‘ درِ خیرالانعام سے وابستہ ہو جائیں‘ اسکی رحمتوں سے پیوستہ ہو جائیں۔
یا صاحب الجمال و یا سید البشر
من و جہک المنیر لقد نورالقمر 
لایمکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

”تاجران جمہوریت“

فروری 2، 2012ا

”تاجران جمہوریت“
فضل حسین اعوان
 ہمارے ہاں بوٹوں کے زور پر آمریت برپا کرنےوالے ہی نہیں‘ ووٹوں کے ذریعے سر پر دستار جمہوریت سجا کر تخت نشین ہونیوالے بھی خود کو شہنشاہ سمجھنے لگتے ہیں۔ آمریت و جمہوریت دونوں اطوار جہانبانی کے مدارالمہام خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے اقتدار و اختیارات کو اپنی ذات کے اندر مرتکز کر لیتے ہیں۔ اول الذکر پالشیوں کو آخرالذکر مالشیوں کو انکی اوقات سے کہیں زیادہ نواز دیتے ہیں۔ اوقات سے بڑھ کر نوازے جانیوالے پالشیوں اور مالشیوں کی اکثریت وزیر مشیر اور سفیر بننے کے بعد اس اعلیٰ مقام پر پہنچانے والوں کے ماتھے کا جھومر بننے کے بجائے مشکل وقت میں کلنک کا ٹیکہ ثابت ہوئی۔ خدمت گار کو اسکی اوقات کے مطابق نوازا جائے تو دانشمندی‘ اسکی اوقات سے بڑھ کر اس پر نوازشات اور عنایات اسکے ساتھ بھی ستم اور اگر یہ نالائق‘ کم فہم اور کم ظرف بھی ہو تو ملک و قوم کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے جس کے نظائر آج قوم دیکھ اور نتائج بھگت رہی ہے۔ میاں نواز شریف کے التفات کی کہانیاں دلچسپی کی حامل ہیں۔ وزیراعلیٰ تھے تو ایک دوست کو اسکے باوجود وزیر لگا دیا کہ وہ دستخط بھی نہیں کرسکتا تھا۔ وزیراعظم بنے تو اکیڈمی ادبیات کا قلمدان اس چاپلوس پر نچھاور کر دیا جو صرف دستخط ہی کر سکتا تھا۔ کئی وزیروں‘ مشیروں اور سفیروں کی اہلیت کاسہ لیسی‘ حاشیہ برداری اور مسخرانہ طبیعت و بھانڈانہ ذہنیت ہی تھی البتہ میاں نواز شریف کو اپنے دور میں کوئی وزیر یا بیورو کریٹ کرپٹ نظر آیا تو اسے برطرف کرنے اور ہتھکڑیاں تک لگوانے سے گریز نہیں کیا۔ محمد خان جونیجو بھی اپنی کابینہ کا کڑا احتساب کرتے تھے۔ 
آج کی حکمرانی سے دیانت‘ امانت اور صداقت کے فوارے نہیں‘ کرپشن‘ جھوٹ اور فریب کے شرارے پھوٹتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف‘ شیخ رشید، اعظم سواتی صدر اور وزیراعظم کو تاریخ کا کرپٹ ترین صدر اور وزیراعظم قرار دے چکے ہیں‘ اس پر کبھی دونوں تاجداران جمہوریت نے صفائی پیش کی نہ عدالت میں ہتک عزت کا کیس دائر کیا۔ اس سے کوئی کیا سمجھے؟ ان کو تاجدارانِ جمہوریت یا ”تاجرانِ “ جمہوریت۔ لگتا ہے کرپشن اور فریب کو ہی میرٹ بنا لیا گیا ہے جس زبان سے بڑے بڑے معاملات چلتے اور بہو بیٹیوں کے رشتے ناطے طے ہوتے ہوتے ہیں‘ اسی زبان کی یہاں پاسداری نہیں کی جاتی۔ وزیراعظم نے انتہائی سنجیدہ معاملات پر مختصر عرصے میں کم از کم تین مرتبہ یوٹرن لیکر قوم کو ششدر کردیا۔ صدر صاحب نے الیکشن کے حوالے سے ایک ماہ میں تین بار بیان بدلا۔ اعتزاز احسن کا سوئس حکام کو خط لکھنے کا موقف وزیراعظم کا وکیل بننے پر یکسر بدل گیا۔ اب کہتے ہیں سپریم کورٹ واضح حکم دے تو خط لکھنے کو تیار ہیں۔ کیا اب تک سپریم کورٹ ہوا میں حکم دیتی رہی ہے؟ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان مہینے کے آخری دن رات گئے ہوتا ہے‘ وزیر گیس و پٹرولیم عاصم حسین نے اس مرتبہ قیمتوں میں اضافے کا چار روز قبل اعلان کر دیا جس سے پٹرول پمپ مالکان نے صارفین پر ایک عذاب نازل کردیا۔ وزیراعظم نے ”صدر کے وزیر“ کے بیان کو غلط قرار دیا تو موصوف اپنے آقاﺅں کی طرح صاف مکر گئے۔ آج دیکھئے تیل کی قیمتوں میں ویسا ہی اضافہ ہوا جس کی محترم نے پیش گوئی یا انکشاف کرکے ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ پہنچایا۔ کہتے ہیں آصف زرداری جیل کے دنوں میں ہسپتال میں تھے‘ تو ڈاکٹر عاصم حسین نے خدمات کی بجاآوری میں کوئی کسر نہ چھوڑی جس پر عنایات لازم تھیں۔ اس کیلئے ان کو متعلقہ شعبے یا ادارے میں کھپا دیا جاتا۔ شاید وہ گاڑی میں پٹرول ڈلواتے اور گھر میں گیس استعمال کرتے ہیں۔ اسی کو میرٹ سمجھ لیا گیا ہو۔ ایسے میرٹ پر آنیوالے اپنے محکموں کا جو حشر کرتے ہیں‘ وہ آج اداروں کی بربادی‘ تباہی اور زبوں حالی کی صورت میں سامنے ہے۔ ہر شعبے‘ محکمے اور ادارے میں بھوت پھیری نظر آتی ہے۔ معاملات بھوتوں کے سپرد ہوں گے تو یہی کچھ ہو گا۔ ڈاکٹر عاصم کو چودھری نثار علی خان نے جعلی ڈاکٹر قرار دیا تھا‘ انٹرنیٹ پر انکے تعارف کے ساتھ ہی ”فراڈیا“ لسٹ دی گئی ہے اس میں بھی ان کا نام ہے۔ انہوں نے چودھری نثار علی خان کی بات کا جواب دیا‘ نہ لسٹ شائع کرنیوالوں کےخلاف کوئی قانونی کارروائی کی۔ دو اڑھائی ماہ قبل وزیر موصوف نے بڑی جرات مندی سے کہا تھا کہ ایران سے گیس ضرور حاصل کرینگے‘ صدر صاحب نے امریکہ کو آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا تھا جس سے چاہیں گے‘ گیس لیں گے۔ پھر نہ جانے کیوں ایسا لگا کہ جیسے آنکھ لگ گئی۔ اب وزیر پٹرولیم کہتے ہیں‘ ایران سے نہیں‘ بھارت سے تیل خریدیں گے۔ بھارت خود ایران سے امریکی دباﺅ کو مسترد کرتے ہوئے تیل خریدتا ہے۔ آج بجلی اور گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے‘ میڈیکل ڈاکٹر اور جس کا میرٹ ہی مالش ہو ملک کو گیس کے بحران سے کیا نکالے گا؟ اب تک اصلاح کی طرف ایک قدم بھی نہیںبڑھایا گیا۔ دنیا میں گیس کی تلاش کیلئے دس کنوﺅں میں سے ایک سے گیس دریافت ہوتی ہے۔ خدائے بزرگ و برتر کی کرم نوازی پاکستان میں شرح تین میں سے ایک ہے۔ کوئی نکالنے کی کوشش کرے تو تب! عالمی مارکیٹ میں تیل کی کمی نہیں‘ بھارت سے ہی خریداری کیوں؟ وہ مڈل مین بن کر منافع کمائے گا۔ خریداروں کو کیا فائدہ؟ کمیشن اور صرف کمیشن۔ سانپ کے سوا ہر چرند‘ پرند اور درندے تک اپنی نسل اور قوم قبیلے کو بخش دیتے لیکن یہاں انسانوں کی بستی میں دیکھ لیجئے کیا ہو رہا ہے؟ اعلیٰ مقام پر بیٹھا انسان کم مرتبے کے انسان کو کیسے ڈس رہا ہے!