About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Tuesday, April 17, 2012

ووٹ کس کے لئے؟

منگل ، 17 اپریل ، 2012

ووٹ کس کے لئے؟
فضل حسین اعوان ـ 
جنوبی ایشیاءمیں بدامنی، پاکستان اور بھارت کی اکثریتی آبادی کا خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے کا سبب ہندو بنیئے کی جارحانہ و توسیع پسندانہ پالیسیاں‘ پاکستان کو ہر صورت مشکلات سے دوچار رکھنے اور نقصان پہنچانے کی سازشیں ہیں۔ اِدھر قیام پاکستان کی منزل قریب آ رہی تھی اُدھر نوزائیدہ مملکت کو پریشان کیے رکھنے کی ناپاک منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔ کشمیر پر قبضہ مکار دشمن کی ایسی ہی منصوبہ بندیوںکا شاخسانہ ہے۔ وہ تو آس لگائے بیٹھے تھے کہ پاکستان اپنی آزادی برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد گو بہترین صلاحیتوں کی حامل قیادت کے فقدان کا ایک لامتناہی سلسلہ نظر آتا ہے لیکن اتنا ضرور ہوا کہ پاکستان کی ہر لیڈر شپ نے ہندو کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو بھیانک تعبیر سے دو چار کیے رکھا۔ بھارتی قیادتیں آج بھی اکھنڈ بھارت کے پکھنڈ کے سحر سے باہر نہیں نکل سکیں۔
کتنا اچھا ہوتا کہ تقسیم کے بعد بھارت خوش دلی سے پاکستان کو تسلیم کرتا۔ دونوں ممالک اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے۔ ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے بہترین تعلقات ہوتے، تجارت ہوتی اور خطے میں پاکستان بھارت ایک مضبوط معاشی طاقت ہوتے۔ دونوں ممالک ترقی کرتے اور عوام خوشحال ہوتے۔ اس طرف آنے کے بجائے بھارت نے پاکستان کی بربادی کی تدبیریں کرنا شروع کر دیں۔ کشمیر پر قبضہ کر لیا یہی دونوں ممالک کے درمیان بڑا تنازعہ ہے دیگر تنازعات اسی ایک ایشو کی پیداوار ہیں۔ پھر خطے میں اپنی چودھراہٹ اور پاکستان کو نیچا دکھانے کی خواہش میں بھارت نے اسلحہ کے انبار لگانا شروع کر دیئے۔ اس نے ایٹمی صلاحیت 1973ءمیں پوکھران میں دھماکہ کرکے حاصل کر لی تھی۔ اسلحہ سازی کی صنعت میں نمایاں ایسا کونسا ملک ہے جس سے بھارت اسلحہ نہیں خرید رہا۔ اسرائیل کے اسلحہ کا سب سے بڑا گاہک بھارت ہے امریکہ، روس، فرانس، ہالینڈ، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے بھارت روایتی اور ایٹمی اسلحہ خرید رہا ہے۔ پاکستان کو مجبوراً اپنے دفاع کیلئے اپنے گھوڑے تیار رکھنا پڑتے ہیں۔ خطے میں اسلحہ کی دوڑ بھارت نے شروع کی۔ اس کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ کے لگ بھگ ہے اگر اسلحہ پر صرف ہونی والی خطیر رقم دونوں ممالک اپنے اپنے عوام کی تعلیم و صحت اور بہبود پر خرچ کریں تو کم از کم خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو بھی تمام تر انسانی سہولتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ اس کے لئے بھارت کو اپنے جارحانہ، توسیع پسندانہ اور پاکستان کو مشکلات سے دوچار رکھنے کے عزائم سے باز رہنا ہو گا مگر ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔
وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہش کا اظہار کرتا ہے جو سراسر منافقت ہے۔ ایک طرف ہماری شہ رگ پر دباﺅ میں اضافہ‘ پاکستان میں دہشت گردی‘ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی دوسری طرف دوستی کی باتیں۔ کیا بنیے کی بدنیتی کا کھلا ثبوت نہیں؟ آج ہمارے حکمران اور سوائے ایک محدود طبقے کے سارے سیاست دان بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کے حامی ہیں۔ موجودہ حکومت نے تو بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین ملک قرار دیدیا ہے۔ اس کے ساتھ تجارت ہو رہی ہے وہ بھی خسارے کی۔ ایسے میں بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کیا دباﺅ باقی رہ جاتا ہے؟ کروڑوں پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ ملک کی باگ ڈور ان ہاتھوں میں ہو جو پاکستان کو اقبال و قائد کا پاکستان بنا دےں۔ بدقسمتی سے جس دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ضرورت ہے اس کے آگے ہماری ہر قابل ذکر اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعت بچھی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اے این پی، ایم کیو ایم، جے یو آئی ف، اور سونامی خان بھی بھارت کے ساتھ تجارت کے حامی ہیں۔ یہی اگلے الیکشن میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ ان میں سے جو بھی اقتدار میں آئے مسئلہ کشمیر پر کسی پیشرفت کی توقع نہیں۔ گویا اس خطے پر بدامنی کے بادل چھائے رہیں گے اور دونوں طرف کے عوام کی زندگیوں میں کسی مثبت تبدیلی کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ لوگ سوچتے ہیں کہ آخر وہ ووٹ کس کو دیں جو بھارت کے پنجہ استبداد سے کشمیر اور کشمیریوں کو آزادی دلا دے؟ پاکستان میں دو ہی پارٹیاں ہیں جو مسئلہ کشمیر پر اصول پسندی پر کاربند ہیں۔ ایک فوج اور دوسری دفاع پاکستان کونسل۔ دونوں غیر سیاسی ہیں فوج بھارت کے ساتھ تجارت کی حامی ہے نہ دوستی اور نہ ہی بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی۔ گو حکمران تاثر دے رہے ہیں کہ فوج کے مشورے سے بھارت کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ فوج کی طرف سے ایسے اقدام کی کبھی حمایت سامنے نہیں آئی۔ وزیر اعظم گیلانی 8اپریل کو لاہور میں تھے انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں بھارت سے دوستانہ تعلقات چاہتی ہیں فوج کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم کے بیان سے حکومت اور فوج کی ترجیحات کا تعین ہو جاتا ہے۔ دفاع پاکستان کونسل کشمیر ایشو پر عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے فوج کا موقف بھی یہی ہے لیکن دفاع پاکستان کونسل اس میں جماعت اسلامی کی موجودگی کے باوجود اور غیر سیاسی اتحاد ہے۔ کروڑوں پاکستانیوں کا ووٹ کشمیر پالیسی پر جرات مندانہ سوچ کی حامل جماعتوں کیلئے محفوظ ہے۔ اگر قابل ذکر سیاسی جماعتیں کشمیر پالیسی پر جرات سے کاربند نہیں رہتیں تو دفاع پاکستان کونسل صرف اس ایک ایشو کو لے کر آگے بڑھے۔ اس کے ساتھ سنی اتحاد کونسل اور ادھڑی ہوئی مجلس عمل کی کچھ جماعتیں بھی آ ملیں گی۔ پھر اگر عوام میں جڑیں رکھنے والی جماعتیں ان کے ساتھ مل جاتی ہیں تو عوام کو ان کے انتخاب میں آسانی رہے گی۔


Thursday, April 12, 2012

ستم رسیدہ

جمعرات ، 12 اپریل ، 2012

ستم رسیدہ
فضل حسین اعوان ـ 19 گھنٹے 59 منٹ پہلے شائع کی گئی
صدر جناب آصف علی زرداری منت پوری کرنے بھارت گئے۔ منموہن سے ملے۔خواجہ اجمیر کی درگاہ پر حاضری دی،چادر چڑھائی اور ایک ملین ڈالر نذرانے کا اعلان کیا۔یہ نذرانہ ادا کردیا گیا یا نہیں؟ اس بارے میںکچھ نہیں بتایا گیا۔ایک ملین یعنی دس لاکھ ڈالر نذرانے کے اعلان پر اعتراض،احتجاج کرنیوالے یہ سوچ لیں کہ صدر صاحب پاکستان میں بھی بہت سے اعلان کرچکے ہیں مثلاً روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کا اعلان، عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری سے نجات دلانے کا اعلان،عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل کا اعلان۔صدر کے دورے کو نشانہ تنقید بنانے والے صرف نذرانے کے اعلان پر یقین کئے بیٹھے ہیں۔ ویسے بھی یہ صدر صاحب کیلئے کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔ان کے اپنے اثاثوں کی مالیت دس بلین ڈالر کے قریب ہے۔ اس میں سے ایک ملین نذرانہ کیا معنی رکھتا ہے یہ ایسے ہی جیسے کوئی کسان ایک ایکڑ کی فصل سے مونگ پھلی کا ایک دانہ دان کردے۔زرداری صاحب کے کئی بدخواہ کہتے ہیں کہ چڑھاوا قومی خزانے سے چڑھایا گیا۔ یہ بھی کوئی غلط کام نہیں ہے آخر عوام نے پانچ سال کیلئے ان کی پارٹی کو منتخب کیا ہے فی الحال پانچ سال کیلئے پاکستان ان کا ہے جو چاہیں کریں ۔ماشاءاللہ کر بھی رہے ہیں۔ون ملین نذرانے سے میمو گیٹ سے منسلک ون ملین کی داستان یاد آجاتی ہے۔اس کا دیگر کوئی پس منظر نہیں محض وہ ون ملین اور یہ نذرانہ کے ون ملین میں ون ملین کی قدر مشترک ہے۔میڈیا میں کسی نے اڑائی کہ منصور اعجاز سے میمو مولن تک پہنچانے کی صورت میں اس سے 1ملین ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ میمو خوش اسلوبی سے پہنچانے پر حقانی نے ایمانداری سے ادائیگی کردی۔منصور کو نہیں کسی اور کو۔منصور اعجاز اپنی اجرت کی وصولی کیلئے گئے تو حقانی کے یار نے 2لاکھ ڈالر اس کے سامنے رکھ دئیے۔باقی 8لاکھ کے تقاضے پر کہا وہ ہمارا کمشن ہے.... کمشن رکھنے والی یہ ہستی صدر صاحب کی نہیں ہوسکتی کمشنوں کے حوالے سے ان کا اپنے وزیراعظم کی طرح دامن ایسا پاک و صاف ہے کہ ....ع
دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کریں
نذرانے اور چڑھاوے میں کمشن کی کوئی بات کرے تو گناہ گار اور پاپی نہیں تو کیا ہوگا۔وہاں منت کیا مانی،اس کا بھی سوائے صدر اور بلاول کے کسی کو علم نہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حاکم علی زرداری کے فرزندِ ارجمند نے جس محنت اور خون پسینے کی کمائی سے اتنی دولت اور جائیداد بنائی اس کو کام میں لانے کیلئے ویسے تو ہزاروں سال زندہ رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے کم از کم ڈیڑھ دو سو سال کی زندگی تو مانگی ہوگی۔شاید آدھی مدت کیلئے صدارت بھی۔ غالباً اگلا دورہ منت پوری ہونے پر فرمائیں۔خدا صدر صاحب کی ہر خواہش پوری فرمائے ساتھ یہ بھی دعا ہے کہ وہ اب تمام مصلحتوں کو ایک طرف رکھ کر کچھ قوم و ملک کیلئے کرنے کی کوشش بھی کریں۔ وہ صرف کرپشن پر قابو پالیں تو تمام مسائل دور ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں وسائل کی ہرگز،ہرگز کمی نہیںان کو بروئے کار لائیں۔ ایماندار لوگوں کی ٹیم بنالیں تو مظلوم مقہور اور ستم رسیدہ طبقات ان کے دست و بازو بن جائیںگے۔ آج سب سے ستم رسیدہ تنخواہ دار طبقہ ہے۔وہ سرکاری ملازم ہویا غیر سرکاری یا بھٹے اور سائیکل ورکشاپ میں کام کرنے والا مزدور ،ان کی حالات زار کو دیکھیں،سمجھیں اور ان کے ریلیف کا حل تلاش کریں۔تنخواہ دار طبقے سے زیادہ ستم رسیدہ پنشنرز ہیںاور ان میں بھی بدحال اور پسے ہوئے ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشن OBI Eکے پنشنرز۔جن کی اس دور میں بھی پنشن تین ہزار روپے ماہوار ہے ۔ان کو پنشن کی ادائیگی قومی خزانے سے نہیں ان کی اپنی ادائیگیوں سے ہوتی ہے۔یہ سول اداروں کے ریٹائرڈ لوگ ہیں۔آج کے قانون کے مطابق جس انڈسٹری،ادارے یا دکان میں 5 سے زائد ملازم ہوں ان کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے مالک کو OBI E میں جمع کرانے کا حکم ہے۔EOBI اس رقم سے مالدار بن چکا ہے۔اس کے پاس اربوں روپے نقدی اور کھربوں کے اثاثوں اور کاروبار کی صورت میں موجود ہیں۔ جن لوگوں کے دم قدم سے یہ ادارہ معرض وجود میں آیا مضبوط ہوا اور چل رہا ہے ان لوگوں کو ہی بری طرح سے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ مزدور آج اپنی ادائیگی بند کردیں تو جن افسروں کی گردنوں میں سریا اور وہ جس آسمانِ تکبر و تفاخر اور نخوت پر بیٹھے ہیں گردن کے بل زمین پر آگریں گے۔ستم یہ کہ ایک EOBI کا سربراہ 80 کروڑ روپے کا فراڈ کرکے ملک سے ہی بھاگ گیا ۔ اندازہ کیجئےEOBI کے عمر رسیدہ پنشنرز3 ہزار میں کیسے گزارہ کرتے ہوں گے۔ادویات اور بڑھاپے میں اچھی خوراک کے حوالے سے ان کی ضروریات عام آدمی سے زیادہ ہیں۔ ان کا تو خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔حکمرانوں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ اپنا دَھن دولت ان کے نام کردیں بلکہ ان ستم رسیدہ افراد کا ذرا سا کام کردیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے خون سے ملکی ترقی و خوشحالی کے دیپ جلاتے رہے ہیں۔ان کو حکومت کی طرف سے کوئی خصوصی مراعات نہیں دی جاتیں پنشن ان کی تنخواہوں سے کی گئی کٹوتی سے ادا کی جاتی ہے۔اس رقم سے ہی EOBI کی افسریاں چلتی،پھلتی پھولتی اور پلتی ہیں۔EOBI ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشن، عمر رسیدہ افراد کے بینی فٹ کا کیسا ادارہ ہے کہ ان کی خبر ہی نہیں لیتا۔EOBI کے پنشنروں کی پنشن میں سالانہ اضافہ نہیں ہوتا۔صدر صاحب ان کی طرف نظر التفات فرمائیں،آئندہ بجٹ میں ان کی پنشن کم از کم دس ہزار کردیںتو ان کی مشکلات کم ہوسکتی ہیںساتھ ہر سال سرکاری پنشنرز کی طرح اضافہ بھی ہوتا رہے تو یہ لوگ زندگی کی گاڑی دھکیلتے رہیں گے اس سے خزانے پر قطعی اثر نہیں پڑے گا۔ افسروں کی موجیں بھی بدستور جاری رہیں گی۔دیگر پنشنرز خوشحال نہیں ہیں ان کی پنشن میں کم از کم 100فیصد ہو جائے تو وہ بھی کافی حد تک مطمئن ہو سکتے ہیں۔


Tuesday, April 10, 2012

......شہید کی جو موت ہے

منگل ، 10 اپریل ، 2012

شہید کی جو موت ہے....
فضل حسین اعوان ـ 19 گھنٹے 12 منٹ پہلے شائع کی گئی
برف سے ڈھکی سرزمین‘ پرسکون خطے‘ سیاچن کو محاذ جنگ میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور قبضے کے خبط نے ڈھالا۔ پاکستان کو اپنے دفاع میں مورچہ بندی کرنا پڑی۔ سیاچن میں پاکستان اور بھارت دشمن کے طور پر ایک دوسرے کے سامنے ہیں۔ بھارت نے 13 اپریل 1984ءکو پاکستان کے اس علاقے پر قبضہ کیا۔ پاک فوج میدان میں اتری تو بھارت کی پیش قدمی رکی اور اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی تاہم سینکڑوں مربع میل علاقہ اب بھی بھارت کے قبضے میں ہے۔ اس دشمن کے قبضے میں جس کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ جس کے ساتھ سالانہ سوا ارب ڈالر خسارے کی تجارت ہو رہی ہے۔ ایک طرف وہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ستم ڈھا کر ان کی نعشیں گرا رہا ہے۔ عزت مآب خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کبھی نہیں رکے۔ اقوام متحدہ بھی مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چیخ اٹھا ہے۔ دوسری طرف سیاچن میں بھارت کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ تف ہے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے‘ اس کے ساتھ تجارت اور امن کی آشا کی خواہش پر۔سیاچن محاذ پر صرف وہی دشمن نہیں جس کے خلاف فوج صف آرا ہے‘ یہاں دشمن کو دیکھ کر خون خول اٹھتا ہے۔ یہاں سب سے بڑا دشمن بے رحم سرد موسم اور آسمان بھی ہے۔ یہ زمین بھی زمین نہیں۔ برف کا قلزم ہے۔ یہاں انسانی خون تو کیا سانسیں بھی جم جاتی ہیں۔ 1984ءکے بعد سے 5 ہزار بھارتی اور 3 ہزار پاکستانی فوجی ایک دوسرے کی فائرنگ اور بمباری سے نہیں موسمی بے رحمی اور علاقائی دشواریوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ معذور ہونے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ بھارتی سینا کی یہ ہلاکتیں اور پاکستانی سپوتوں کی شہادتیں برف پوش پہاڑوں میں بھارت کی دہکائی ہوئی آگ کے باعث ہوئی ہیں۔ ان میں اضافہ جاری ہے۔ 
بھارت کے سیاچن پر قبضے پر صدر جنرل محمد ضیاءالحق نے کہا تھا ”سیاچن میں تو گھاس بھی نہیں اگتی“ خدا کا شکر ہے کہ کسی نے سمجھا دیا کہ وطن عزیز کی ہر انچ کا تحفظ پاک فوج کی ذمہ داری ہے۔ شاید اس کے بعد ہی سیاچن میں پاک فوج کو اتار کر بھارت کی پیش قدمی روکی گئی۔ اگر جنرل ضیاءکی سوچ پروان چڑھ جاتی تو آج پورے برفیلے علاقے پر بھارت کا قبضہ ہوتا اور اس کی توسیع پسندی نہ جانے کہاں جا کر رکتی۔
گذشتہ دنوں پاک فوج کے 124 سپوت سیاچن میں برف کے ایک کلومیٹر قطر کے تودے تلے دب گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اس تودے کی اونچائی یا بلندی 80 فٹ ہے۔ گویا ہماری سرحدوں کے نگہبانوں اور پاسبانوں کی میتوں تک رسائی کے لئے 80 فٹ برف کو ہٹانا پڑے گا۔ آج 60 گھنٹوں کے بعد بھی شہدا کی میتوں تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ بڑا مشکل مرحلہ اور لمحہ ہے۔ ریسکیو آپریشن میں بھی جانیں جانے کا اندیشہ ہے۔ آج پوری قوم اس سانحہ پر سوگوار ہے۔ مذکورہ سپوتوں نے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا جذبہ و ولولہ لئے جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ یقیناً یہ ہماری قوم کے متفقہ اور غیر متنازعہ ہیروز ہیں۔ شاعر نے ایسے جانبازوں اور جانثاروں کے بارے میں ہی کہا ہے 
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوٰة ہے
قوم کی دعائیں فوج کے ساتھ ہیں۔ جو نامساعد حالات‘ آندھی و برسات کی پروا کئے بغیر برف کے طوفان اور آگ کے دریا میں بے خطر کود پڑتی ہے۔ سپہ سالار جنرل کیانی بھی اپنی مصروفیات چھوڑ کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لئے برف پوش وادی میں چلے گئے۔ جس روز یہ سانحہ ہوا اسی روز جنرل کیانی نے تلہ جوگیاں رینج کے دورے کے دوران مشقیں دیکھیں اور اپنے خطاب میں کہا ”انتہا پسندی کے خلاف فوج کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔“ جنرل صاحب کا اشارہ اگر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی طرف ہے‘ یقیناً اسی طرف ہی ہے کیونکہ قبل ازیں بھی عسکری قیادت ایسا کہتی رہی ہے۔ انتہا پسندی کے خلاف یہ جنگ امریکہ کے ایما پر لڑی جا رہی ہے۔ جس کو ہماری عسکری اور سیاسی قیادتیں اپنی جنگ قرار دیتی ہیں۔ اس جنگ میں 5 ہزار سے زائد پاک فوج کے سپوت بھی شہید ہوئے۔ یہ محاذ پر لڑتے ہوئے نہیں وطن عزیز کے اندر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ یقیناً وہ ایک ڈسپلن کے تحت لڑتے ہوئے جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں۔ سیاچن‘ کارگل 65/71 اور 48ءکی بھارت کے خلاف جنگوں میں جان سے گزر جانے والے شہدا قوم کے غیر متنازعہ ہیروز ہیں۔ پاکستانی سپوت انتہا پسندی کی جنگ میں جو امریکہ کے ایما پر لڑی جا رہی ہے‘ شہید ہونے والے کیا پوری قوم کے غیر متنازعہ ہیرو ہیں؟ کم از کم وہ جن کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے وہ تو ان کو ایسا نہیں سمجھتے۔ ایک عوامی طبقہ بھی امریکہ کی جنگ میں لڑنے والوں کے بارے میں ”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے“ کہنے سے کتراتا اور ہچکچاتا ہے۔ سپہ سالار فوج ایسی کسی مہم جوئی کا حصہ کیوں بنتے ہیں؟ جس میں شہید ہونے والوں کی قربانیوں کو قوم کا خواہ محدود ہی سہی کوئی بھی طبقہ متنازعہ تصور کرتا ہے۔


Thursday, April 5, 2012

لقمہِ حرام


5-4-2012


04-05-2012
لقمہِ حرام
ہمارے ہاں اکثر شعرا کی شاعری شراب اور شباب کے گرد گھومتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ان موضوعات پر اتھارٹی مانے جانے والے سخنوران عظام ان خرافات میں خود بھی مبتلا ہوں جن کو وہ حسین پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ بلاشبہ ان کے کلام سے متاثر ہونے والے کئی لوگ اپنی زندگی برباد کر لیتے ہیں۔ ویسے تو کئی شعرا بلانوش بھی پائے جاتے ہیں مگر سب کے سب نہیں۔ ریاض خیر آبادی کا یہ شعر آج بھی زبان زدعام ہے۔
جامِ مے توبہ شکن توبہ میری جام شکن
سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا
خیر آبادی نے کبھی شراب نہیں پی تھی۔ ہو سکتا ہے اس شعر کی ترغیب سے کئی شرفاءبہک گئے ہوں۔ ہر شرابی شاعروں کا ہی تراشیدہ نہیں ہے۔ گلیوں بازاروں میں گندی نالی کے کیڑوں اور بھوک سے مدہوش کتوں کی طرح بے سدھ پڑے شرابیوں کی بلانوشی کی کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ کئی سوچ سمجھ کر پیتے اور اسی کے سہارے جیتے ہیں۔ گوروں کے پینے پلانے کا انداز ان کے مطابق قدرے مہذبانہ ہے۔ شیمپئن سکاش جیسی بڑی بڑی مہنگی شرابیں موجود ہیں جو ہمارے ہاں بھی آسانی سے دستیاب ہیں۔ دام بنائے کام۔ پیسہ ہو تو جائز ناجائز ہر چیز حاضر‘ لیکن شراب دیسی ہو یا ولایتی‘ سستی ہو یا سونے کے بھاو مہنگی۔ اس کے بنانے کا طریقہ کار ایک جیسا ہی ہے۔ اس کے خمیر میں گند‘ غلاظت اور نجاست ہی نجاست ہے۔ شراب تبھی کشید ہوتی ہے جب مختلف خوردنی اشیاءکو گلا اور سڑا دیا جاتا ہے۔ جب ان اشیاءسے سراندھ اٹھنے لگے تو کشیدگی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ بہترین شراب وہ ہے جس میں گلنے اور سڑنے کے عمل کے دوران مخصوص کیڑا پیدا ہو جاتا ہے۔ اسلام نے ان چیزوں کو ہی حرام قرار دیا ہے۔ جن کی بنیاد حرام پر استوار ہوئی ہے۔ خنزیر کو روئے زمین پر نجس ترین مخلوق اسی لئے قرار دیا گیا ہے اس جیسا بے غیرت جانور کوئی دوسرا نہیں اور یہی واحد جانور ہے جو اپنی نجاست کو اپنی خوراک بھی بنا لیتا ہے۔ انگریز اس کا گوشت رغبت سے کھاتے ہیں جبکہ ہمارے لئے یہ انتہا درجے کا قابل نفرت اور حرام ہے۔ کچھ لوگ تو اس کا نام بھی زبان سے ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حرام حرام ہے‘ وہ شراب ہو‘ سور کا گوشت ہو یا وہ لقمہ جو ہمارے کردار و عمل سے حرام کے زمرے میں آجائے۔ ارشاد خداوندی ہے۔ اے لوگو زمین کی چیزوں میں سے جو حلال اور پاکیزہ ہے کھاو اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے سورہ البقرہ آیت نمبر168ارشاد نبوی ہے جس نے تھوڑا سا مال حرام کھایا تو اس کے پیٹ میں آگ دہکائی جائے گی۔ مزید فرمایا کہ بلاشبہ ”پل صراط پر آگ کی بیڑیاں ہیں“ جس نے حرام کا ایک درہم بھی لیا اس کے پاوں میں آگ کی بیڑیاں ڈالی جائیں گی جس سے پل صراط سے گزرنا دشوار ہو جائے گا۔ فرائض میں غفلت‘ رشوت‘ ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ جھوٹی قسمیں کھا کر تجارت‘ ناپ تول میں کمی۔ پیشہ وروں کا کام کرتے وقت نیت میں کھوٹ‘ قصور وار کو بچانا اور بے قصور کو سزا دلوانا یہ حرام کمائی کی چند مثالیں ہیں۔ جو ہمارے معاشرے میں عام دیکھنے میں آتی ہیں۔ آج کچھ لوگ حرام کمائی سے دولت کے انبار لگا رہے۔ جائز اور ناجائز میں فرق مٹ سا گیا ہے۔ حق تلفی عروج پر ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ حرام نہ صرف ہضم نہیں ہوتا بلکہ کمائے ہوئے حرام سے بڑھ کر اور تکلیف کے ساتھ نکلتا ہے۔ انسان کو لگنے والی بیماری من جانب اللہ ضرور ہوتی ہے۔ یہ نیکوکاروں کے لئے آزمائش اور بدکاروں کے لئے اپنے کئے کی اسی جہاں میں بھی سزا اور دوسروں کے لئے درس عبرت ہوتی ہے۔ ایسے حرام خور بھی دیکھے گئے ہیں جو ناجائز کمائی سے من چاہے کھانے کھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اوپر کی ساری کمائی اپنے‘ اپنی اولاد اور اہلیہ کی ادویات پر لگ جاتی ہے اربوں کھربوں رشوت اور کرپشن کی مد میں کمانے والوں کی زندگیوں کو قریب اور باریک بینی سے دیکھیں تو ان کی مسکراہٹ کے پیچھے بھی ایک غیر محسوس کرب چھپا ہوتا ہے۔ نوٹوں کی تجوریوں اور بوریوں پر بیٹھ کر ان کی حفاظت کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ کل اس دولت کا حساب نہ دینا پڑے گا یہی فکر ان کو گھائل کے ہوئے ہے۔ آج اقتدار کی مسند پر بیٹھے لوگ خود اور ان کی اولادوں تک لوٹ مار میں مصروف ہےں۔ تمام تر اختیارات پاس ہونے کے باوجود ان کی بدنامی اور عزت کا خاک میں مل کے رہ جانا کیا یہ کسی ذہنی اذیت سے کم ہے؟آج قوم بدترین حالات سے گزر رہی ہے اس کی وجہ بالادست طبقوں کا وسائل کو جبری طور پر اپنے استعمال میں لانا ہے۔ قوم کی دعائیں بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں ہمیں اپنے اعمال کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ کیا ہمارے حکمران ہمارا آئینہ ہیں یا ہم اپنے حکمرانوں کا آئینہ ہیں؟ ارشاد ہے کہ حرام کا ایک لقمہ کھانے سے چالیس دن تک دعا قبول نہیں ہوتی۔ ہماری دعا اور آہ و بکاء عرش تک کیوں نہیں پہنچ رہی؟ اس کے لئے خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

Tuesday, April 3, 2012

2....مہران گیٹ.... فوج.... اور سازشیں


20-3-2012

مہران گیٹ.... فوج.... اور سازشیں
فضل حسین اعوان ـ 20 مارچ ، 2012

 حیدر آباد میں پکا قلعہ آپریشن 1990ءمیں ہوا۔ اس پر نظریں رکھنے والے بھی آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے والے کے شیطانی ذہن کی داد بغیر نہیں رہ سکے۔ آپریشن کی ٹائمنگ ایسی تھی کہ وزیر اعظم آرمی چیف اور کور کمانڈر کراچی جنرل آصف نواز ملک میں موجود نہیں تھے۔ فوجی چھاﺅنیاں معمول کی مشقوں کے باعث خالی تھیں۔ ایسے میں پولیس پکا قلعہ پر چڑھ دوڑی ۔ بچوں اور خواتین تک کو بھی بے دردی سے قتل کیا گیا قرآن اٹھا کر ستم کا یہ سلسلہ بند کرنے کی درخواست کرنے والی خواتین کے سینے بھی چھلنی کر دیئے گئے۔ فوج کی ہائی کمان تک خبر پہنچی تو فوری طور پر فوجی کارروائی کا حکم دیا گیا لیکن حیدر آباد اور گرد و نواح میں فوج موجود ہی نہیں تھی۔ یونٹوں میں موجود ڈیوٹی دینے والوں کو اٹھا کر وہاں بھیجا گیا تو پولیس کو پسپا ہونا پڑا۔ محترمہ لندن سے لوٹیں تو پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے آئی جی نے بتایا ہے کہ پکا قلعہ میں اسلحہ موجود تھا۔ اسے برآمد کرنے کیلئے آپریشن کیا گیا۔ وہاں تک پہنچنے ہی والے تھے کہ فوج نے رکاوٹ ڈال دی ۔ پولیس واپس گئی تو فوج اسلحہ ٹرکوں میں ڈال کر لے گئی۔یہ اسلحہ واہ فیکٹری کا بنا ہوا تھا۔ اپنی وزیراعظم کی طرف سے یہ کہنے پر فوج کا سٹپٹانا لازم تھا۔ لندن سے واپسی پر محترمہ نے جذباتی انداز میں یہ بھی کہا تھا کہ ہم نے ان (فوج) کو ریڈ لائن (یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے) کراس کرنے سے منع کیا تھا۔ ہماری نہیں مانی گئی۔ محترمہ نے بی بی سی کو انٹرویو کے دوران فخریہ انداز میں اعتراف کیا کہ خالصتان تحریک کے سرکردہ رہنماﺅں کی لسٹیں بھارت کو دی گئی ہیں۔ جن کو راجیو حکومت نے چن چن کر قتل کیا اور بھارت ٹوٹنے سے محفوظ رہا۔مزید یہ بھی سنئیے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اسلام آباد میں کشمیر کے حوالے سے بورڈ وغیرہ ہٹا دیئے گئے۔ اس وقت میڈیا میں یہ باتیں بھی آئیں کہ وزیر اعظم ہاﺅس کی الیکٹرانک سویپنگ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے کرائی گئی۔ یہ پاکستانی ایجنسیوں اور خود پیپلز پارٹی کے حلقوں کے لئے پسندیدہ اقدام نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ا س کا مطالبہ راجیوگاندھی نے کیا ہو۔ پاکستانی ایجنسیوں کو لاتعلق تو کیا گیا لیکن بے بس نہیں کیا جا سکا۔ محترمہ اور راجیو کی ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔ سننے میں آیا کہ اس کی ریکارڈنگ شام کو صدر اسحق خان کی میز پر تھی۔ اس میں راجیو کو ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کا یقین دلایا گیا تھا۔ کشمیر پر اس نے پاکستان کے ”واویلے “ کی بات کی تو بھی کہا گیا کہ ہم شور شرابا کرتے رہیں گے عملی طور پر کچھ نہیں ہو گا ۔ (دروغ برگردنِ راوی) ۔۔۔ جن ذمہ داروں کے سامنے یہ سب کچھ ہو وہ بھلا خاموش بیٹھیں گے؟ محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی برطرفی کی یہی اصل میں وجوہات بتائی اور گنوائی جاتی ہیں۔
1977ءمیں فیئر الیکشن بھی ہو جاتے تو ذوالفقار علی بھٹو یقینا جیت جاتے۔ 90ءمیں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی ان کے جیتنے کا امکان تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صدر اسحاق خان نے ہدایت کی کہ حکومت کا خاتمہ اس لئے نہیں کیا کہ دوبارہ اقتدار ان کو دے دیا جائے۔ انہوں نے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کیلئے آرمی چیف کی ذمہ داری لگائی۔ 14کروڑ جس جس کو بھی ملے وہ آئی ایس آئی نے نہیں ملٹری انٹیلی جنس نے تقسیم کئے۔ ستمبر 1990ءمیں جب یہ کھیل کھیلا جا رہا تھا آئی ایس آئی کے ڈی جی آئی جنرل (ر) کلو تھے۔ ان کو اس معاملے سے بے خبر رکھا گیا ۔ میجر جنرل اسد درانی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ڈی جی تھے جو بعد ازاں ترقی پانے پر آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بنے تھے۔ رقوم کا لین دین اور زیادہ تر تقسیم سندھ میں ہوئی ان دنوں بریگیڈیئر حامد سعید اختر سندھ میں ایم آئی کے سربراہ تھے۔ وہ عدالت میں بلائے گئے ہیں نہ میڈیا میں سنائی اور دکھائی دیتے ہیں۔بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کی جو وجوہات صدر اسحق خان اور اسلم بیگ کے سامنے تھیں کیا ان کی موجودگی میں ایک جمہوری حکومت کے خاتمے کا جواز بنتا ہے؟ ۔ یقینا جمہوریت بڑی محترم ہے لیکن ملک اس سے بھی زیادہ مقدم و مقدس ہے۔پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشیں اب بھی رکی نہیں ہیں۔ آج بھی دشمن قوتوں کی نظر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہے۔ ایک بار پھر دہرا دیں چونکہ فوج ایٹمی پروگرام کی گارڈین اور کسٹوڈین ہے اس لئے آج بھی فوج کو کمزور کرنے کی نجس منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ جس میں اپنے بھی شامل ہیں۔ کیری لوگر بل اٹھائیے اس میں پاک فوج پر قدغنوں کی بات کی گئی۔ حسین حقانی کی کتاب
Between Mosque and Military بھی سامنے رکھئے۔ پورے کے پورے پیراگراف اس سے لئے گئے ہیں۔ بل حقانی نے تیار کیا یا ان کی معاونت لی گئی ۔ لیکن کس کے کہنے پر؟ اب میمو گیٹ کے مندرجات پر بھی ایک بار پھر نظر ڈالئے اس کی صداقت یا عدم صداقت واضح ہو جائے گی۔ پاکستان میں رائیٹسٹ ہمیشہ پاک فوج کے شانہ بشانہ رہے ہیں ۔اب مہران گیٹ کے ایک بار پھر سامنے آنے پر یہ لوگ فوج سے دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ کس کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے؟ ۔ جس کی بھی ہو لیفٹسٹ البتہ اس پر قہقہہ بار ہیں ۔ یوں تو مہران گیٹ کا عدلیہ کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچنا مشکل نظر آتا ہے۔ اگر پہنچا تو یقیناً جہاں بہت سے چہروں سے نقاب اترے گا وہیں ایٹمی پروگرام کی کسٹوڈین فوج کی بدنامی ہو گی جس سے فوج کمزور تو ہو گی ہی مزید تنہا بھی ہو جائے گی۔ یہی پاکستان دشمنوں اور اس کے ہاتھوں میں کھیلنے والے اپنوں کی سازش ہے۔ موجودہ حالات میں فوج کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ مضبوط فوج ہو گی تو ملک مضبوط اور محفوظ و مامون رہے گا۔ ملک نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ جمہوریت نہ غیر جانبدار اور آزاد عدلیہ۔ بھارت سے تجارت اور تعلقات فوج کا ایجنڈا کبھی نہیں رہا۔ آج تو پاکستان کے بدترین دشمن کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ محترمہ کے جس وژن سے رہنمائی لینے کی بات صدر اور وزیر اعظم کر رہے ہیں اگر وژن وہی ہے جس کے باعث 1990ءمیں ان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو امریکہ کے ساتھ دوستی، ایبٹ آباد آپریشن کو عظیم کامیابی قرار دینے، نیٹو سپلائی کی بحالی کیلئے بے قراری اور بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے جیسے اقدامات کی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے۔آخر میں خلیل ملک مرحوم کے خبریں میں ”آئی ایس آئی کا جرم یا نیکی“ کے عنوان سے 12نومبر 1997ءکو شائع ہونے والے کالم کے اس اقتبا س پر نظر ڈال لیں جس سے میرا یا آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام ہے کہ اس نے اس ”مہربان“ خاندان کا اقتدار روکنے کیلئے چودہ کروڑ روپے صرف کئے۔کھیت میں گھس آنے والے سوّر کو ہلاک کرنے کیلئے گولی چلائیں تو اسے قتل نہیں کہتے۔ سانپ کو مار دیں تو یہ بے رحمی حیوانات نہیں ہے، انسانیت کی خدمت ہے، جس خاندان کی وجہ سے پاکستان دو ٹکڑے ہوا ہو، پاکستانی فوج نے سر میں جوتے کھائے ہوں، جس کی وجہ سے بھارت ٹکڑے ہونے سے بچا ہوا اور سکھوں کا قومی قتل عام ہو، جس کی وجہ سے کشمیری مسلمان پامال ہو گئے ہوں اور قتل عام کا سامنا کر رہے ہوں، اس خاندان کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے چودہ کروڑ روپے صرف کرنا گناہ نہیں۔ عین ثواب ہے۔ (ختم شد)

مہران گیٹ.... فوج.... اور سازشیں


فضل حسین اعوان ـ 17 مارچ ، 2012


17-3- 2012
مہران گیٹ.... فوج.... اور سازشیں
فضل حسین اعوان ـ 17 مارچ ، 2012

 قسط نمبر 1
مغرب اپنے مقاصد کے حصول اور تکمیل کیلئے صدیوں تک بھی پلاننگ اور انتظار کرتا ہے۔ عثمانیہ سلطنت کے خلاف سازشوں کا سلسلہ ہیمفرے نے شروع کیا جسے لارنس آف عریبیہ نے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے عثمانیہ سلطنت توڑ کے مسلمانوں کے دل بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ۔ ان سازشوں کا سلسلہ سوا دو سو سال پر محیط ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز ہوا تو اس کے ساتھ ہی اس کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی بلاشبہ ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ انہوں نے ببانگ دہل کہا تھا ”گھاس کھا لیں گے ایٹم بم ضرور بنائیں گے“ ہمارے سیاستدانوں کا ایک ہی قابل فخر کارنامہ ہے کہ میاں نواز شریف کے 28 مئی 1998ءکو کیے جانے والے دھماکوں تک ہر بااختیار حکمران نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کوئی دباﺅ قبول نہ کیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی آسانی سے تکمیل اس لئے بھی ہو گئی کہ امریکہ کو روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان کے تعاون کی اشد ضرورت تھی اس لئے امریکہ نے پاکستان کی نیو کلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں سے صرفِ نظر کیا۔ روس ٹوٹا تو ایک بار پھر امریکہ کیلئے پاکستان کا ایٹمی پروگرام ناقابل برداشت ہو گیا۔ اس کو رول بیک کرانے کیلئے امریکہ نے یہاں پاکستان پر کھلے بندوں دباﺅ ڈالا وہیں حکمرانوں کو اپنی راہ پر لانے کی کوششیں کیں تو کئی بِک بھی گئے۔ ایٹمی پروگرام فوج کی نگرانی میں شروع ہوا ، پایہ تکمیل تک پہنچا اور فوج ہی اس کی محافظ ہے۔ پاکستان میں اگر آئیڈیل جمہوریت ہوتی یا رہی ہوتی تو یقینا ایٹمی پروگرام کے حوالے سے حتمی فیصلے بھی سیاسی حکومتیں کرتیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے بدخواہوں کی طرح ایٹمی پروگرام کو پاکستان کے بعض حکمرانوں سے بھی خطرہ رہا ہے۔ کوئی خود کو کتنا بڑا ہی تیس مار خان اور طورم خان کیوںنہ سمجھے۔ سیاسی حکمرانوں کی ایٹمی پروگرام تک کبھی رسائی نہیں رہی۔ سوائے شوکت عزیز کے ۔ جن کو ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرا دیا گیا۔ گو شوکت عزیز با اختیار وزیر اعظم نہیں تھے لیکن ان کی ڈوریاں یہاں سے ہلتی تھیں اس حوالے سے ان کا دورہ خطرناک تھا۔ مشرف سے سوال کرنے والے ان سے اس حوالے سے بھی سوال ضرور کریں۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی چونکہ محافظ پاک فوج ہے ، مضبوط فوج کی موجودگی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک رسائی اور اسے نقصان پہنچانا ممکن نہیں۔ جو قوتیں پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو نقصان پہنچانا اور اس کو اپنے زیر کنٹرول لانا چاہتی ہیں وہ مضبوط فوج کو اپنے نا پاک منصوبوں کے راستے میں سنگ گراں سمجھتی ہیں۔ پاکستان کو ایٹم بم سے محروم یا اس کی صلاحیت کو محدود کرنے کیلئے فوج کو کمزور کرنا اس کی پہلی اور آخری ترجیح ہے۔ اسی لئے سازشوں کے جال بنے جا رہے ہیں۔ سیاستدانوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے پاکستانی میڈیا پر 670ملین ڈالر انویسٹ کئے ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز دیکھنے اور اخبار و جرائد میں آرٹیکلز پڑھنے والوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ اس سرمایہ کاری سے کون کون مستفید ہوا ہو گا۔ 
کرنل قذافی کو بھی ایٹم بم بنانے کا شوق چرایا تھا اس نے ابتدا بھی کر دی۔ امریکہ کا دباﺅ پڑا اور بڑھا تو ایٹم بم کی تیاری کیلئے اکٹھا کیا گیا مواد اور آلات امریکہ بھجوا دیئے۔ امریکہ ایسی ہی توقعات عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان سے بھی رکھتا ہے۔ کرنل قذافی جیسے پاکستان میں بھی بااختیار حکمران ہوتے تو شاید امریکی خواہش بر آتی۔ یہ معاملہ چونکہ فوج کے ہاتھ میں ہے اس لئے یہ پروگرام محدود ہو سکا اورنہ رول بیک۔ فوج کو کمزور کرنے کیلئے اسی لئے سازشیں ہو رہی ہیں۔ مغرب تو اپنی سازشوں کی تکمیل کیلئے صدیوں کا انتظار بھی کر لیتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو شروع ہوئے تو ابھی چالیس سال، ایٹم بم کو بنے 30 اور باقاعدہ اعلان شدہ ایٹمی قوت بنے 14 سال ہوئے ہیں۔
آج مہران گیٹ کا پھر شہرہ ہے ا سکی بھنک 20سال قبل پڑی۔ 22سال قبل 1990ءمیں بینظیر بھٹو کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے یونس حبیب سے کروڑوں روپے حاصل کرکے سیاستدانوں میں تقسیم کئے گئے۔ مقصد محترمہ کے خلاف آئی جے آئی کے نام سے سیاسی اتحاد تشکیل دینا تھا۔ اس اتحاد کو تشکیل دینے والوں کے پیش نظر بھی پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا جو اپنی دانست میں اسے خطرات میں سمجھتے تھے۔ میں ان کروڑوں پاکستانیوں میں سے ہوں جن کا روئے زمین پر ایک ہی ٹھکانہ پاکستان ہے جو اس کی حفاظت کے لئے جان کی بازی تک بھی لگانے کی پروا نہیں کرتے وہ شخصیات ہوں یا ادارے، وہ ہمارے لئے باعث صد احترام ہیں . جو اس معاملے میں دوسرے کنارے پر ہیں ان سے اوّل تو قدرت کاملہ انتقام لے لیتی ہے اگر بچ نکلتے ہیں تو قوم کو ان کے بارے میں معلوم ضرور ہونا چاہیے۔
1990ءمیں بااختیار لوگوں کی طرف سے سیاستدانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کرنے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ اگر سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر سوچا جائے تو غلام اسحق خان ایسی شخصیت ہیں جن کے بارے میں بلامبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ He was the right man at right place انہوں نے ایک بار محترمہ کی حکومت توڑی دوسری بار نواز شریف کی۔ بالآخر ان کو خود بھی نواز شریف کے ساتھ گھر جانا پڑا اس لئے دونوں پارٹیوں کے لئے راندہ درگاہ ٹھہرے۔ جنرل اسلم بیگ یقینا اقتدار کے لالچ سے مبرا تھے اور ان کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ محترمہ کو اقتدار دلانے میں جنرل اسلم بیگ پیش پیش تھے۔ اسحاق خان کو صدر برقرار رکھنے کی پیپلز پارٹی نے حمایت کی تھی پھر محض ڈیڑھ دو سال بعد ہی صدر اور آرمی چیف ان سے بدظن کیوں ہو گئے کہ ان کی حکومت توڑ دی اور ان کے دوبارہ اقتدار میں واپسی ناممکن بنانے کیلئے آئی جے آئی کی تشکیل پر کروڑوں روپے بھی لگا دیئے؟ ۔ آگے چلنے سے قبل ماہرین کی یہ رائے ذہن میں رہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو جس عمر میں اقتدار ملا اس وقت ان کی سیاسی بصیرت اور بصارت کا خانہ تقریباً خالی تھا۔ البتہ پچاس کی عمر کے بعد دونوں پختہ کار سیاست دان بن گئے۔
محترمہ اقتدار میں آئیں تو سیاسی ناتجربہ کاری کے باعث معاملات پارٹی قائدین کی مشاورت سے چلاتی تھیں انہوں نے کچھ انکلوں سے اقتدار سے قبل اور کچھ سے اقتدار کے دوران جان چھڑا لی تھی۔ یہ تو عمومی رائے ہے کہ پاکستان میں حکومت کی تشکیل میں امریکہ کا کردار اہم ہوتا ہے ۔ شاید ہٹانے میں اتنا زیادہ نہیں۔ محترمہ کے پہلے دور میں بھی کرپشن کہانیاں عام تھیں۔ آصف علی زرداری کو 10پرسنٹ کہا جاتا تھا۔ لندن سے پاکستان میں ہسپتال کی تعمیر کا اشتیاق لے کر آنے والے بخاری بزنس مین سے ساڑھے تین کروڑ روپے وصول کرنے کیلئے ان کی ٹانگ سے بم باندھنے کی داستان بھی عام ہوئی۔ کراچی میں وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا حکم دیا تو آرمی چیف جنرل بیگ نے کہا کہ فوجی آپریشن اندرون سندھ ڈاکوﺅں اور رسہ گیروں کے خلاف بھی کیا جائے گا جس سے محترمہ نے انکار کر دیا تھا۔ الذوالفقار کی کارروائیاں بھی لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیںیہ معاملات ایسے نہیں ہیں جن کو جواز بنا کر جمہوریت کو تلپٹ کر دیا جائے۔ .... تاہم....