About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, August 8, 2012

اَبا جی خدا کے حضور


بدھ ,08 اگست ,2012
   
اَبا جی خدا کے حضور
  فضل حسین اعوان
 

میرے قبلہ و کعبہ 91سال کی عمر میں خدا کے حضور پیش ہو گئے۔ یہ 13 رمضان المبارک 1433ھ 2اگست2012ءجمعة المبارک کی سعد گھڑی تھی۔ والدہ کا چار سال قبل 19رجب المرجب بمطابق 23جولائی2008ءکو انتقال ہوا تھا۔ والدہ کی محرومی بجا طور پر محسوس ہوتی تھی۔ اس لیے میں نے لاہور سے اپنے گاﺅں جانے کا سلسلہ پہلے سے تیز کر دیا تھا۔ والد اور والدہ کے پیار کرنے کا الگ الگ طریقہ تھا۔ میں گاﺅں جاتا واپسی کے لیے اٹھتا تو امی مزید رکنے پر اصرار کرتی تھیں میں واپسی پر بضد رہتا تو ہاتھ جوڑ دیتیں جو پاﺅں کی زنجیر بن جاتے۔ اس کا میں نے یہ حل نکالا کہ ایک روز بعد آنا ہوتا تو میں کہہ دیتا آج ہی جانا ہے وہ کہتیں آج نہیں جانے دوں گی۔یہ ڈرامہ بازی عظیم ہستی کو خوش کرنے کے لیے کی جاتی تھی۔ اباجی سے جب بھی اجازت مانگی انہوں نے سر پردست شفقت رکھ دیا؟
میرے دادا کا میرے والد کی پیدائش سے قبل ہی انتقال ہو گیا تھا۔ والد صاحب کی پیدائش 1921ءکی ہے وہ فوج میں جولائی 1940ءکو بھرتی ہوئے۔ 17نومبر 1946ءکو عالمی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ اس روز شام ڈھلے وہ میدان جنگ میں تھے کہ دشمن نے مورچے سے عین سینے کا نشانہ لے کر فائر داغ دیا گولی دائیں پھیپھڑے کو چیرتی ہوئی جسم کے پار ہو گئی۔ اس دور میں جدید طب کے فقدان کے باوجود خدا نے ان کو زندگی بخش دی۔ 65ءکی جنگ میں بھی حصہ لیا، جالندھر کے قریب ملکو ترال گاﺅں سے ہجرت کرکے گاﺅں بندے کی جاگیر تحصیل ننکانہ ضلع شیخوپورہ میں سکونت اختیار کی۔ ہجرت کی صعوبتیں اپنی جگہ تاہم یہ قافلہ راستے میں لٹنے اور کسی قسم کی قتل و غارت سے محفوظ رہا۔ ابا جی کے لواحقین میں ہم پانچ بھائی ہیں۔ انتقال کے وقت ان کے خاندان کی بہو بیٹے پوتے اور پڑپوتوں سمیت تعداد چالیس ہے۔ وہ 1946ءمیں سینہ چھلنی ہونے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ خدا نے مجھے یہ گلشن و گلستان دیکھنے کے لئے زندہ رکھا۔      میں نے ہوش سنبھالا تو وہ باریش تھے۔ تہجد گزار اور باجماعت نماز کا اہتمام کرتے درود پاک خصوصاً درود تاج کا ورد کثرت سے کرتے تھے۔ سورہ یٰسین روزانہ پڑھتے، ان کی حضور سے محبت، عقیدت اور احترام کے باعث میںان کو عاشق رسول سمجھتا ہوں۔میں ان کے پاس بیٹھا ہوتا یا کوئی اور وہ تبلیغ یا کوئی نصیحت ضرور کرتے تھے۔ اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لیے خیرات کرتے، چاولوں کی دو دیگیں محرم اور دو رمضان المبارک کو دیتے تھے۔ گھر کے تمام فیصلے وہی کرتے تھے۔ ایک بار نماز کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی روحیں ایصال کئے گئے ثواب سے مطمئن ہوتی ہیں جن کے لیے دنیا میں کوئی ایصال ثواب کے لیے نہیں ہوتا ان کی روحیں عام مسلمانوں کے ایصال کئے گئے ثواب کو چنتی ہیں۔ ایک شخص آرام سے بیٹھا یہ منظر دیکھا کرتا تھا۔ ایک دن وہ بھی عام مسلمانوں کی دعاﺅں کے ثواب کو چن رہا تھا۔ کسی دوسرے نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا آج میرا بیٹا مر گیا وہ مجھے کلام پڑھ کر بخشا کرتا تھا۔
مجھے دفتر میں والد صاحب کی طبیعت بگڑنے کی اطلاع ہوئی۔ میں نے گھر والوں کو تیاری کا کہا۔ گھر سے تقریباً 6بجے روانہ ہوئے افطار کا سامان ساتھ رکھ لیا۔ ہم جلدی اس لئے جا رہے تھے کہ اباجی کو مل کر رات گیارہ بارہ بجے واپس آ جائیں گے۔ رات آٹھ بجے افطاری کے ایک گھنٹہ بعد گھر کے باہر ہی تھے کہ رونے کی آوازوں نے سکتہ طاری کر دیا۔ گویا عزرائیل ہم سے زیادہ جلدی میں تھا۔ یہ شدید حبس کا موسم تھا۔ بجلی چار گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لئے آتی تھی جو سات بجے گئی جسے 11بجے آنا تھا۔ خدا کی قدرت کہ 2اگست کو حبس میں پہلے جیسی شدت اور موسم میں حدت نہیں تھی۔ اگلے روز سپرد خاک کیا تو ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ وہ اسلامی احکام کی جس طرح بجا آوری کرتے مجھے ان میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی ایک جھلک نظر آتی تھی۔ والد صاحب کسی بڑی جائیداد کے مالک نہیں تھے البتہ جو بھی تھی وہ ان کے نام تھی۔ چند سال قبل اس میں سے چند مرلے مسجد کے امام کی رہائش کے لئے وقف کر دیئے جس میں آج امام صاحب رہائش پذیر ہیں۔ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود ان کی صحت قابل رشک تھی۔ پوری زندگی ناشتے میں دہی کی پیالی اور رات کو کھانے کے بعد دودھ کا گلاس ان کی خوراک کے لازم جزو تھے۔ وہ اس کو اپنی مثالی صحت کا راز قرار دیتے تھے۔ وہ کسی مرض میں مبتلا نہیں تھے۔ وفات سے پندرہ بیس روز قبل علیل ہوئے تاہم محتاجی ایک دن بھی نہیں رہی۔ انتقال کے دن بھی صبح باتھ روم جا کر خود ہی غسل کیا.... اس دنیا سے آخر ہر کسی نے اٹھ جانا ہے۔ بزرگ اٹھتے ہیں تو سر سے سائبان اٹھ جاتا ہے، دعاﺅں کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ والدین کے انتقال کے بعد ان کے لئے ہماری دعائیں ہی ہماری ان کے ساتھ محبت عقیدت و احترام کا اظہار اور یہی دعائیں ان کا اثاثہ ہیں۔
میری خواہش اور دعا ہے کہ مذہبی حوالے سے میں ابا جی جیسا بن جاﺅں۔ وہ جس دن فوت ہوئے اس دن کے بعد سے میری بے قراری میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خدا ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے اور ہم لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جن احباب نے فونز‘ میسجز، ای میلز کے ذریعے گھر اور دفتر تشریف لا کر حوصلہ دیا اور مغفرت کے لئے دعا کی، میں ان کا شکر گزار ہوں۔

Saturday, August 4, 2012

”الیکشن نہیں تبدیلی؟“


”الیکشن نہیں تبدیلی؟“

02 اگست 2012 0  

میڈیا کسی دور کا ہو اور وہ جس شکل میں بھی ہو‘ اسکی خاص اہمیت اور کردار رہا ہے۔ آج کے جدید دور میں میڈیا کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے اور وہ کسی بھی موضوع‘ معاشرے‘ ادارے اور شعبے میں چار چاند لگانے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آج میڈیا پر شدید تنقید کی جاتی ہے‘ اس میں میڈیا کا قصور نہیں‘ اگر کوئی برائی ہے تو اسکے استعمال اور اس کو استعمال کرنے والوں میں ہے۔ میڈیا کے مثبت کردار کے باعث آپ نے حکومتوں کو اپنی پالیسیاں بدلتے اور رائے عامہ کو ہموار و استوار ہوتے دیکھا ہے۔ منفی کردار سے کئی برائیاں جنم لیتی ہیں‘ معاملات بگڑتے ہیں۔ عوامی رائے میں کرب اور اشتعال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نان ایشوز کو ایشوز بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے اپنے مسائل اور ایشوز کیا کم ہیں لیکن بحث ہو رہی ہوتی ہے ویناملک اور میرا کی بھارت میں گل کاریوں کی۔ ان معاملات پر علمائے کرام کو بھی بحث میں مبتلا اور بے عزت ہوتے دیکھا گیا۔ میڈیا کی عمومی رسوائی کی وجہ میڈیا کی باگ ڈور ناتجربہ کار مالکان اور پھر معاملات نوآموز اینکرز کے ہاتھ میں آجانا ہے۔ ان اینکرز کے پروگرامز میں ہلہ‘ گلا‘ گالم گلوچ اور دھینگا مشتی کے مناظر بھی دیکھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اینکر نے شیطان کی طرح انگلی لگائی اور مہمانوں کو ایک دوسرے پر لپکنے اور جھپٹنے کیلئے چھوڑ دیا۔ یہ اینکرز خود اگر کسی پروگرام میں مل بیٹھیں تو سماں ایسا ہی ہوتا ہے جیسے انکے پروگراموں میں۔ کوئی دوسرے کی نہیں سُنتا‘ اپنی اپنی کہے جا رہا ہوتا ہے۔ یہ اینکرز کی کم علمی‘ ناتجربہ کاری‘ جہالت اور کم عقلی کا نتیجہ ہے جسے وہ اپنی کامیابی گردانتے ہیں‘ ایسے اینکرز کے پروگرام سنجیدہ قارئین کیلئے اذیت ناک بنتے ہیں تو وہ پروگرام کیا چینل دیکھنے سے بھی تائب ہو جاتے ہیں۔ اپنے پروگرام کو کامیابی کی دلیل سمجھنے میں اینکرز کی معصومیت اور بھولپن کا بھی دخل ہے۔ ہمارے معاشرے میں منافقت بھی در آئی ہے۔ آپ نے جیسا بھی کالم لکھ دیا اور ٹی وی پر جو بھی کہہ دیا‘ آپ کے ساتھی اسے بوجوہ شاندار‘ بے مثال‘ اعلیٰ و عمدہ ترین قرار دینگے۔ آپکے سامنے تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے بیوقوف بنائیں گے اور پیٹھ پیچھے مذاق اڑائیں گے۔ معاشرتی رویے کے مدنظر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ساتھیوں اور واقف کاروں میں دل سے آپکی صلاحیت کو سراہنے والوں کی تعداد ایک فیصد سے زیادہ نہیں‘ باقی سب منافقت ہے۔ اصل فیڈ بیک وہ ہے جو غیرجانبدار لوگوں کی طرف سے آتی ہے، جن کا آپ سے کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ پروگراموں کے دوران ہونیوالی دھینگا مشتی کو کتنے لوگ سراہتے ہیں؟ پھر یہ بھی جاری ہیں کیونکہ ساتھی اور خوشامدی ہلہ شیری دیتے ہیں،99 فیصد محض آپکو خوش رکھنے کیلئے تعریف کرتے ہیں اور اس کا تسلسل ٹوٹنے نہیں دیتے۔ جب تک میڈیا میں حادثاتی اور کمالاتی طور پر آنیوالے موجود ہیں میڈیا کی بدنامی جاری رہے گی۔ تاآنکہ وہ پروفیشنل بن جائیں۔ ان لوگوں کا پروفیشنل کہاں تک ممکن ہے جنہوں نے اپنے کاروبار کو تحفظ دینے اور مفادات کو مزید بڑھانے کے لئے میڈیا سنٹر کھول رکھے ہیں گویا یونہی امن کی آشا کا تماشا لگا رہے گا‘ معاشرہ گمراہی کی منزل کو حق و صداقت کی منزل سمجھ کر اسکی طرف گامزن رہے گا‘ البتہ قلیل ہی سہی‘ ایسے میڈیا گروپس بھی موجود ہیں‘ سچائی جن کا اوڑھنا بچھونا ہے جو معاشرے کی بُرائیوں‘ سیاست کے ناسُوروں پر نشتر زنی کرتے رہتے ہیں۔ میڈیا کی آبرو انکے ہی دم قدم سے ہے۔ اینکرز میں بھی کچھ سمجھدار ہیں جو ریٹنگ کے چکر میں پڑے بغیر اپنا کام کرتے ہیں۔ ان کے شاباش
آج میڈیا اس قدر وسیع ہو گیا ہے کہ اسکی حدود کا تعین ممکن نہیں‘ کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ میڈیا حدود سے باہر ہو چکا ہے‘ کسی حد تک ایسا ہے جو فی الوقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ وسیع تر میڈیا سے مُراد خبروں اور اطلاعات کےلئے روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تو ہے ہی اب غیر روایتی ”خودرو“ سوشل میڈیا بڑا فعال ہے۔ اس میں ویب سائٹس ‘ ای میل‘ فیس بک ‘ ٹوئٹر اور سکائپ وغیرہ ہیں۔ موبائل فونز بھی آج رائے عامہ کے سلجھانے یا بگاڑنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میسجز کے ذریعے خیراور شر کو اپنی مرضی سے پھیلایا جا رہا ہے۔ موبائل پیغامات کے ذریعے اچھے یا بُرے مقاصد روایتی میڈیا کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ موبائل میڈیا کو نیک مقاصد کی خاطر استعمال کرنے کیلئے ایک کاوشِ مسلسل کی ضرورت ہے۔ غیر روایتی میڈیا نے اپنی حیثیت برما میں مسلمانوں پر بدھوں‘ بدھ فوج اور پولیس کے مظالم پوری دنیا پر آشکار کرکے منا لی ہے۔ آج ایک اور تحریک سوشل میڈیا پر شروع ہوئی ہے ”ہمیں الیکشن نہیں‘ تبدیلی چاہیے“ یہ خطرناک تحریک ہے جو ہمارے سیاست دانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر یہ روایتی میڈیا میں بھی آ گئی تو اس کی پذیرائی یقینی ہے پر بہت کچھ ہو سکتا ہے جو طالع آزماﺅں کیلئے تو خوشگوار ہو گا لیکن مروجہ جمہوریت اور جمہوریت دانوں کے لئے نہیں۔ غیر روایتی میڈیا پر اس جمہور دشمن تحریک کا مقابلہ کرنا ضروری ہو چکا ہے۔ !

Wednesday, August 1, 2012

سعودی حکمران بند گلی میں؟



     
سعودی حکمران بند گلی میں؟ 











کالم نگار  |  فضل حسین اعوان




29 جولائی 2012 1  

آل سعود ’سعودی عرب کا شاہی خاندان ہے‘ جدید مملکت سعودی عرب کی بنیاد 1932ءمیں پڑی۔ اسکے بانی عبدالعزیز بن سعود تھے۔ موجودہ خاندان سعود تقریباً 25 ہزار ارکان پر مشتمل ہے۔ جن میں شہزادوں کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ سعود خاندان کے بادشاہوں نے اس ترتیب کے ساتھ اپنے سر پر تاج سجایا۔ عبدالعزیز بن سعود‘ سعود بن عبدالعزیز‘ فیصل بن عبدالعزیز‘ خالد بن عبدالعزیز‘ فہد بن عبدالعزیز‘ عبداللہ بن عبدالعزیز۔ 60 سال میں چھ بادشاہ‘ ان میں سے نام سے ہی ظاہر ہے کہ اول الذکر عبدالعزیز دیگر کے والد گرامی ہیں‘ امریکی جریدے اکانومسٹ نے اپنی ایک اشاعت میں لکھا کہ عبدالعزیز کے تین درجن بیٹوں میں سے سب سے چھوٹے بیٹے مقرن کی عمر ستر سال کے قریب ہے۔ ان پر دو مرتبہ دل کا حملہ ہو چکا ہے‘ جن کے بارہ میں سے دو بیٹے اسی بیماری سے اپنی جاں‘ جانِ آفرین کے سپرد کر چکے ہیں۔ موجودہ بادشاہ‘ شاہ عبداللہ کی عمر 89 سال اور وہ کمر کی شدید درد میں مبتلا ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ولی عہد شہزادہ سلطان علالت کے باعث انتقال کر گئے‘ انکی عمر 80 سال سے زائد تھی۔ آج کے ولی عہد شہزادہ نائف بھی 80 سال کے ہونے والے ہیں‘ دی اکانومسٹ نے مزید لکھا کہ بادشاہت جب تک ہے‘ سعود خاندان میں ہی رہے گی اور شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں پر اس کا پہلا حق ہے۔ جن میں سے ہر کوئی 70 سال سے زائد عمر کا ہے اور اکثر کسی نہ کسی بیماری کے شکار ہیں۔ دی اکانومسٹ کی رپورٹ غیرجانبدارانہ ہے یا تعصب پر مبنی‘ بہرحال سربراہ مملکت کی عمر رسیدگی اور بیماری سے ضروری نہیں ہے کہ ریاست بھی بیمار ہو جائے۔ ریاست کو بیماری نوجوان اورصحت مند قیادت کی موجودگی میں بھی لگ سکتی ہے۔ ریاست کی ترقی و خوشحالی کا مکمل دارومدار لیڈر شپ کی اہلیت‘ قابلیت اور اسکی نیک نیتی پر ہوتا ہے۔ جب تک قیادت نئے نظریات تخلیق کرکے ان پر زمانے کی جدت اور عصری تقاضوں کے مطابق عمل پیرا رہتی ہے ترقی و خوشحالی کے مزید در کھلنے کے ساتھ ریاست اندرونی و بیرونی خطرات سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ 
آج کے جدید دور میں سعودی عرب کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے‘ دونوں محاذوں پر مخصوص حالات کے باعث ماحول سازگار نہیں‘ دوسری صورت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی ریاست یا بادشاہت کےخلاف دو سطحوں پر سازشیں ہو رہی ہیں۔ تاہم دونوں سطحوں پر ایک بے چینی بھی موجود ہے‘ جسے سازش کا نام نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ سعودی عرب اور اسکے حکمران‘ دونوں کا دیگر ممالک اور انکے حکمرانوں کے مقابلے میں ایک بہت بڑا امتیاز ہے۔ سعودی عرب ،خانہ خدا اور مسکن نبوی ہونے کے باعث مسلمانوں کیلئے عزیز ازصد جان ہے۔ یقیناً انکے ظاہری پاسباں اور نگہباں انکی حفاظت‘ ادب اور احترام میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے‘ اس لئے ان کو بھی دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا مسلمان بڑی عزت اور احترام سے دیکھتا ہے۔ گویا سرزمین حجاز کے حکمرانوں کو مسلمان اپنے دل کے قریب سمجھے جاتے‘ اس لئے ان پر لازم ہے کہ اپنی پالیسیوں خصوصی طور پر خارجہ پالیسی کے باعث کسی مسلمان کے آئینہ دل پر بال نہ آنے دیں۔ 
آج دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے جس میں ہر ملک کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ خصوصی طور پر وسائل سے بھرپور اور ترقی یافتہ ممالک کی‘ سعودی عرب بھی ان میں سے ایک ہے‘ اسے اپنی خارجہ پالیسی ترتیب دیتے وقت اپنی خصوصی حیثیت و مقام کے باعث دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مغربی ممالک کی انفرادی اور اجتماعی سطح پر مسلمانوں کے حوالے سے ایک پرخاش انکی پالیسیوں اور اقدامات سے واضح ہو جاتی ہے۔ افغانستان‘ عراق پر حملہ‘ پاکستان میں ڈرونز کے ذریعے ہلاکتیں‘ لیبیا کی تاراجی اور اب شام پر بھی ایسی ہی یلغار کی تیاری‘ مغرب کی اسلام دشمنی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ تیونس‘ مصر اور یمن کے مغرب نواز حکمرانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اس پر امریکہ اور اسکے ساتھیوں کی خاموشی بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ شاید ان کا بھی طویل عرصہ سے اقتدار میں موجود حکمرانوں سے دل بھر چکا تھا۔ سعودی عرب میں تو سعود خاندان 1932ءسے تخت پر موجود ہے جس کا تختہ کرنے کی ایسی ہی کوشش ہو رہی ہے۔ جیسی مصر‘ تیونس اور یمن میں ہوئی۔ عالم اسلام میں سعودی ریاست اور اسکے حکمرانوں کے خصوصی مقام اور احترام کے باعث ایسا کرنا چونکہ آسان نہیں ہے اس لئے اپنے عزائم کو عمل کی صورت دینے کیلئے بھی خصوصی اہتمام کیا گیانظر آتا ہے۔ آج سعودی حکمران مغرب خصوصاً امریکہ کے زیر اثر ہیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال 2011ءمیں سعودی عرب نے امریکہ سے ساٹھ ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا‘ سعودیہ کی خارجہ پالیسی پر بھی امریکہ کے اثرات واضح ہیں‘ شام اور بحرین میں سعودی عرب اور امریکہ کی پالیسی ایک جیسی ہے۔ ایران کے حوالے سے بھی کوئی واضح تضاد نہیں ہے۔ سعودی عرب کو ایرانی‘ شامی اور بحرینی عوام کے سامنے متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ آج ان ممالک میں سعودی عرب کو چاہنے اور نہ چاہنے والے دو گروہوں میں بٹ چکے ہیں۔ تعداد کسی بھی گروہ کی کم زیادہ ہو سکتی ہے ۔دیگر تمام اسلامی ممالک میں بھی سعودی پالیسیوں کو اسکی ایران‘ شام اور بحرین کے حوالے سے پالیسی یا اقدامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ گویا سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اکثر اسلامی ممالک کے لوگوں میں ایک بے چینی سی پائی جاتی ہے۔ خواہ ان لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہو۔ سعودی حکمران اپنے مقام اور احترام کے باعث ایسی کسی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ 
اندرونی طور پر آپکی پالیسیاں اور گورننس جس قدر بھی شفاف ہو‘ باہر سے نقصان پہنچانے والے اپنی ”کارگزاری “دکھا گزرتے ہیں۔ جدید دور میں میڈیا پر قدغنوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ انٹرنیٹ کی سکرین پر پوری دنیا سکڑ کر سما گئی ہے۔ دنیا میں اگر کہیں عملی طور پر اسلام کا مکمل یا کسی حد تک نفاذ نظر آتا ہے تو وہ واحد مملکت سعودیہ ہے۔ اب جدید میڈیا کے ذریعے مغرب کہہ لیں یابیرونی عوامل‘ ایک خاص سوچ کے تحت اسلام پر کاربند معاشرے کی سوچ کو اپنی سوچ میں ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے نوجوان نسل میں گمراہی کے جراثیم کسی حد تک سرایت کرتے ہیں تو آزادی کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ خواتین ڈرائیونگ‘ ذاتی بزنس‘ بیرونی ممالک کے دوروں کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں۔ کسی کو شخصی آزادی اور کسی کو جمہوریت کا تاپ چڑھا ہواہے۔ وہ ہمارے ہاں سے جمہوریت مستعار لے کر جمہوریت کا حسن دیکھ لیں۔ 
سعودی حکمرانوں نے جدید تقاضوں کو محسوس ضرور کیا ہے اس کیلئے جو اقدامات کئے ہیں‘ اس پر بھی اندرون ملک اور بیرون ممالک ایک تشویش پائی جاتی ہے۔ ایک طبقہ خواتین کو وہ آزادی دینے کے حق میں نہیں جس کا مطالبہ اندرون ملک ایک مٹھی بھر خواتین پر مشتمل گروہ کرتا ہے۔ اکثر مسلمان چونکہ سعودی نظام اسلام کو آئیڈیل سمجھتے ہیں‘ وہ بھی خواتین سمیت ہر مسلمان کیلئے قائم اسلامی حدود کو لازم قرار دیتے ہیں۔ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ‘ بزنس‘ بیرونی ممالک دوروں اور عالمی کھیلوں میں شرکت کی اجازت‘ ان کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔ سعودی حکمرانوں کے خلاف ہونیوالی سازشوں کو سمجھنے کیلئے عالمی میڈیا میںپھیلائی جانیوالی افواہوں کا اندازہ ذیل کی رپورٹس سے لگایاجاسکتا ہے۔ امریکہ کی بیرونی تعلقات کونسل( Foreign Relations Council ) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے سعودی عرب کی کل آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور بقول اس ادارے کے ، شیعہ مسلمانوں کا تناسب 15فیصد ہے اور اس حساب سے اس ملک میں شیعہ آبادی چالیس لاکھ افراد کے لگ بھگ ہے جو کویت،قطر،بحرین اور امارات کی مقامی عرب آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔
     
سعودی حکمران بند گلی میں؟
01 اگست 2012 0  

 یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ولی عہد شہزادہ سلطان امریکہ کے ایک ہسپتال میں 87سال کی عمر میں انتقال کرگئے ان کی جگہ شہزادہ نائف کو ولی عہد مقرر کیا گیا تھا وہ علاج کی غرض سے سوئٹزرلینڈ میں تھے کہ 16جون 2012کو چل بسے ان کی جگہ سلمان بن عبدالعزیز نے لے لی جو شاہ عبداللہ سے دس سال چھوٹے ہیں ان کو دو مرتبہ سٹروک ہوا جبکہ ان کے بارہ میں سے دو بیٹے دل کے عارضہ کے باعث فوت ہوچکے ہیں۔سعودی حکمرانوں کے خلاف ہونیوالی سازشوں کو سمجھنے کیلئے عالمی میڈیا میںپھیلائی جانیوالی افواہوں کا اندازہ ذیل کی رپورٹس سے لگایاجاسکتا ہے۔ امریکی کی بیرونی تعلقات کونسل( Foreign Relations Council ) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے سعودی عرب کی کل آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور بقول اس ادارے کے ، شیعہ مسلمانوں کا تناسب 15فیصد ہے اور اس حساب سے اس ملک میں شیعہ آبادی چالیس لاکھ افراد کے لگ بھگ ہے جو کویت،قطر،بحرین اور امارات کی مقامی عرب آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔
 ادھر ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں زوردے کرکہا کہ سعودی عرب کی شیعہ آبادی کو بے روزگاری کی وجہ سے سخت دشواریوں کا سامنا ہے اور آل سعود کا امتیازی سلوک یہاں تک ہے کہ کوئی مقامی شیعہ باشندہ فوجی اکیڈمیوں کے قریب جانے کا مجا ز تک ہیں۔دوسری طرف ” بزنس ویک“ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکیوں اور امتیاز طرہ سلوک کی بنا پر کوئی شیعہ باشندہ جج نہیں بن سکتا اور سرکاری یا فوجی اداروں میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہوسکتے۔
 عربی سعودی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2011کا بجٹ سرپلس تقریباً 49ارب ڈالر رہا جو اس ملک کی جی ڈی پی کا 9.1حصہ بنتا ہے لیکن اس کے باوجود معتبر بین الاقوامی جریدے ”اکانومسٹ“ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں بیروزگاری کی شرح بدستور35فیصد ہے گو کہ آل سعود کی سرکاری رپورٹ کے مطابق اس ملک میں بیروزگاری کی شرح10.6فیصد ہے!۔ امریکہ کی جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی 22فیصد آبادی غربت و افلاس کا شکار ہے اور جریدہ ” ٹائم“ کے مطابق ہر سات سعودیوں میں سے ایک ” پڑھنا لکھنا نہیں جانتا یعنی ملک کی 14.28فیصد آبادی ناخواندہ ہے “۔
ہوسکتا ہے ان رپورٹس میں کوئی حقیقت بھی ہو۔دونوں صورت میں سعودی حکام کو ان کا تدارک کرناچاہئے۔مغربی میڈیا کی ایسی رپورٹس کو بڑھا چڑھا کر چند اسلامی ممالک بڑے زور شور اور اہتمام کے ساتھ پھیلائی جارہے ہیں۔وجہ اس کی بھی وہی، امریکہ کے زیر اثر سعودی پالیسیاں ہیں۔ ملک کے تمام اہم عہدے سعود خاندان کے پاس ہیں۔یوں سمجھئے کہ گورننس پر شاہی خاندان کی مکمل گرفت ہے اور شاید سعودی شہری نفسیاتی طورپر شاہی خاندان کی حکومت پر مضبوط گرفت سے مرعوب بھی ہیں اسی تناظر میں دی اکانومسٹ نے اپنے ایک آرٹیکل The long day closes میں جو لکھا وہ سعودی حکمرانوں اور شہریوں کیلئے ایک پیغام ہے۔” السعود تو شائد اپنے آپ کو نئی دنیا کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیں لیکن ان کے اپنے لوگوں میں سے بہت سے اس حوالے سے مشکوک و شہبات کا شکارہیں۔ جدہ کے ایک وکیل نے اپنے آراستہ اور جھنڈیوں سے سجے دفتر میں بیٹھے ایک قرآنی آیت کے حوالے سے حضرت سلمان علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن ان کے تابع تھے جن کو انہوں نے عبادت گاہوں اور تالابوں کی تعمیر پر لگا رکھا تھا۔جن محنت مشقت کرتے اور وہ اپنے عصا سے ٹیک لگائے کھڑے دیکھتے رہتے تاوقتیکہ دیمک لگنے سے عصا ٹوٹ گیا اور وہ گر پڑے، تب جنوں کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا۔حضرت سلمان علیہ السلام تو کب کے انتقال کر چکے اور وہ ان کو زندہ سمجھ کر کام میں جُتے رہے۔آج سعودی عرب میں حکمرانوں کیخلاف ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ مظاہرے کر رہے ہیں‘ وہ بھی کسی بیرونی طاقت کے اشارے کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ گویا آج سعودی حکمران ایک بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں‘ اس سے سرخرو ہونے کیلئے 1932ءکے بعد کسی بھی دور سے زیادہ حکمت‘ دانش اور اہلیت و قابلیت اور اس کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔         (ختم شد)


Friday, July 27, 2012

خود رہنما ئی


جمعہ ,27 جولائی ,2012

   
خود رہنما ئی

یوں تو ملک میں کوئی بحران اور مصیبت ایسی باقی نہیں رہی جس میں قوم مبتلا نہ ہو‘ مگر بجلی کی لوڈشیڈنگ ایسا عذاب بن کر نازل ہوئی کہ لوگ باں باں کر اٹھے۔ یہ کوئی قدرتی آفت ہے نہ بجلی کی ملک میں کوئی کمی ہے۔ عوام کو حکمرانوں کی بدعملی‘ کرپشن اور ”فرینڈلی“ اپوزیشن کی طرف سے اپنا کردار ادا نہ کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ایسے شعبوں اور اداروں کو چلانے والے کسی ”حضور کی خدمت“ کے نتیجے میں منظور نظر ہوئے یا ڈیل کے سبب۔ وزیر ریلوے نے تو اپنے شعبہ کے مسائل کا حل ریلوے کو سرے سے ختم کر دینے میں ہی تلاش کیا ہے۔ میڈیکل ڈاکٹرز‘ وزیر پٹرولیم گیس کی بچت کےلئے اربوں روپے سے گیس پر منتقل ہونےوالی تیس لاکھ گاڑیاں بند کر دینے تجویز پیش کرتے ہیں۔ یورپ اور عرب ممالک میں ایک تو تیل کی بہتات ہے دوسرے وہاں کی فی کس آمدنی پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے اس لئے وہاں ٹرانسپورٹ کےلئے گیس کی ضرورت ہی نہیں۔ مغرب میں پلنے، پڑھنے اور بڑھنے والے کل عوام کو روٹی کے بجائے کیک کھانے کا مشورہ دے سکتے ہیں اور کوئی بعید نہیں کہ وہ عوام سے یہ بھی کہہ ڈالیں کہ فلاں برانڈ کی سستی شراب پی لیا کریں‘ ہمارے دیئے ہوئے غم دور ہو جائینگے۔ چونکہ ان کاپاکستانی معاشرے اور اسلامی تہذیب و تمدن اور کلچر سے دور کا تعلق نہیں۔ یہ عام آدمی کے مسائل سے آگاہ ہی نہیں تو اصلاح کی تدبیر کیا خاک کرینگے؟
عوام کے مینڈیٹ کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ وہ اپنی قسمت پر دانت پیس رہے ہیں۔ بجلی کا بحران جان کو آ گیا ہے رہی سہی کسر قیمتوں میں ہر ماہ پچھلے مہینوں کا فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کے نام پر بھاری رقم ڈال کر بل میں دو سے تین گنا اضافہ کر دیا جاتا ہے اب تو دیہات‘ قصبات اور شہروں میں یکساں بیس بیس گھنٹے بجلی بند رکھی جاتی ہے۔ وجہ صرف یہ کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کی جاتی اگر کوئی پلانٹ خراب ہے تو عدم مرمت کی وجہ سے بند پڑا ہے۔ سرکار ی پاور پلانٹس کو تیل کی فراہمی اس لئے بند ہے کہ تیل فراہم کرنے والی کمپنیوں کو حکومت بقایا جات ادا نہیں کرتی۔ حالانکہ عام صارفین سے ہر ماہ بل وصول کئے جاتے ہیں۔ بڑے نادہندگان پر حکومت ہاتھ نہیں ڈالتی جس کے باعث قرضہ جات چار سو ارب روپے تک جا پہنچے ہیں۔ اس کا خمیازہ بھی ایماندار اور بروقت بل ادا کرنے والے صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ دو سو ارب روپے کے رینٹل پاور پراجیکٹس محض چند بڑوں کے پیٹ میں اتر گئے۔ یہی سرکلرڈیٹ کےلئے استعمال ہوتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔ راجہ نے وزیراعظم بنتے ہی وہی باجہ بجایا کہ لوڈشیڈنگ پر جلد قابو پالیں گے‘ ساتھ ہی وعدہ کیا کہ رمضان المبارک میں سحر و افطار کے دوران پورے ملک میں بجلی کی ترسیل جاری رہے گی۔ مگر حسب معمول راجا کا باجہ ‘ باجہ ہی ثابت ہو رہا ہے۔آج لوگ واقعی پریشان اور شدید گرمی میں جھلسی ہوئی زندگی اور ٹھپ ہوئے کاروبار اور بے روزگاری کی وجہ سے مشتعل بھی ہیں۔ وہ سڑکوں پر آ رہے ہیں۔ جلسے جلوس، جلاﺅ گھیراﺅ اور توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ بسیں، ویگنیں، دکانیں، واپڈا دفاتر اور تنصیبات جلا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ٹرین نذر آتش کر دی گئی‘ موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کو اٹھا اٹھا کر پھینکا، توڑا اور جلایا گیا۔ یہ وزیروں مشیروں یا صدر کی سواریاں تو ہیں نہیں جن کے جلنے کی انہیں فکرلاحق ہو۔ ان کی بلا سے ملک میں موجود ہر سائیکل، موٹر سائیکل، بس ویگن اور سرکاری دفتر جلا دیئے جائیں انکی حکمرانی پر کوئی زد آئےگی نہ کارکردگی اور کمائی پر۔عوام اپنا مینڈیٹ تو واپس نہیں لے سکتے لیکن سیاستدانوں کو اصلاح پر مجبور کر سکتے ہیں۔ جلاﺅ گھیراﺅ توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی و اشتعال سے نہیں بڑے پُرامن طریقے سے۔ کوئی یہ نہیں چاہتا کہ شباب ملی جیسا وہ کام کریں جو شباب ملی نے اپنے شباب کے دوران کیا تھا۔ اب تو بیچاری ”کرائے پر ریلی کےلئے دستیاب“ کا اشتہار اٹھائے پھرتی ہے۔ بہرحال مختصر واقعہ یوں ہے کہ مسجد شہدا کے قریب لوگوں کا ایک جم غفیر تھا جس کے درمیان ایک شخص کا کل لباس ایک کچھا اور ٹائی تھا۔ اسکی ٹنڈ ہوئی تھی کوئی چپت رسید کرتا تو کوئی ٹھاپ مار رہا تھا۔ پتہ چلا کہ حضرت سنسر بورڈ کے چیئرمین ہیں جنہیں ایک فحش فلم کو سنسر شدہ کاسرٹیفکیٹ جاری کرنے پر شباب ملی کے نوجوان دفتر سے گھسیٹ کر میدان حشرمیں لے آئے تھے۔
عوام یہ بھی نہیں چاہتے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں کا وہ حال کریں جس کی ایک جھلک شہباز شریف اور راجہ ریاض کے بیان اور جوابی بیان میں نظر آتی ہے۔افسوس صد افسوس‘ حکمرانوں کو عوام کی حالت زار بدلنے میں حالت جنگ میں ہونا چاہیے تھا مگر وہ تو دست و گریباں ہو کر آپس میں ہی جنگ و جدل میں مصروف ہیں۔ عوام نے حکمرانوں کی بے وفائی اور بے اعتنائی دیکھ لی‘ ان سے مسیحائی کی توقع عبث ہے۔ اپنے مسائل کے حل کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کسی راہبر و رہنما اور مسیحا کا انتظار کئے بغیر ہم خود اپنا رہنما اور مسیحا بنیں، اپنے اپنے حلقے کے عوامی نمائندو ںکو گھر سے نکالیں جنہیں انہوں نے بڑی امید سے اپنے مسائل کے حل کیلئے منتخب کیا تھا، ہر چوک کو تحریر سکوائر بنا کریا ”بازار مصر“ لگا کر انہیں اپنے ساتھ بٹھائیں۔ بلا امتیاز اسکی پارٹی وابستگی کے۔ وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور تمام وزیر عوامی نمائندے ہیں‘اپوزیشن بھی قطعاً قطعاً ”پوتر“ نہیں۔ ان کو اس وقت تک بٹھائے رکھا جائے‘ جب تک عوام اپنے تمام تر مسائل سوفیصد حل نہ کروا لیں۔ یہی ایک واحد طریقہ اپنے مینڈیٹ کے مطابق حکومت کو راہ راست لانے اور مسائل سے نجات اور گلوخلاصی کا ہے۔ پھر ہمیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑےگی کہ کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں!

Tuesday, July 24, 2012

”ایلی کوہن“


منگل ,24 جولائی ,2012
     
”ایلی کوہن“
24 جولائی 2012 0

یہ دمشق کے شہدا چوک کی 18مئی1965ءکی 19 مئی میں داخل ہوتی ہوئی رات ہے۔ چوک کا کونہ کونہ روشنیوں سے نہایا ہوا ہے۔ ہزاروں لوگوں کا ہجوم ہے۔ دنیا کے جس صحافی نے بھی یہ منظر دیکھنے کی خواہش کی‘ اسے اجازت دے دی گئی، چوک کے درمیان کی تھوڑی سی جگہ خالی ہے۔ ہجوم کی آنکھیں اسی جگہ پر مرکوز ہےں۔ منظر کشی کےلئے کیمرے فٹ کئے جا چکے ہیں۔ ارد گرد عمارتوں پر مسلح کمانڈوز نے پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔ شام کی فضائیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہجوم میں مال دار خواتین نے ہیرے جواہرات کے زیورات اور فر کے کوٹ پہن رکھے ہیں۔ رات ڈھلی ایک بجا، دو پھر تین۔ آخر کار وہ لمحہ آ گیا جس کا دل کی بے قابو ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ انتظار کیا جارہا تھا۔ 3بجکر 35 منٹ پر اسرائیلی جاسوس ایلی کوہن کو چوک کے وسط میں بنائے گئے عارضی پھانسی گھاٹ پر لا کر پھندا کسا گیا اور آناً فاناً جلاد نے اس کا قصہ تمام کر ڈالا۔
ایلی کوہن نے ایک بزنس مین کی حیثیت سے شام کے تجارتی حلقوں، حساس اداروں اور ایوان صدر تک رسائی حاصل کی ہوئی تھی۔ اسکے صدر کی کابینہ اور جرنیلوں کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات تھے۔ اسکی وزارت دفاع کے دفاتر کے عین سامنے رہائش تھی۔ اپنے مقاصد کے حصول کےلئے پیسہ پانی کی طرح بہاتا تھا۔ صدر امین الحافظ کے وہ اتنا قریب تھا کہ صدر نے اسے وزیر دفاع بنانے کی پیشکش کی جسے وہ ٹال گیا صدر اس کی حب الوطنی، اہلیت اور قابلیت سے اس قدر متاثر تھا کہ اسے اپنا جان نشین بنانے پر بھی غور کیا۔ایلی کوہن کی جاسوسی کے باعث اسرائیل نے محض 6دن میں شام کو شکست سے دو چار کر دیا۔ پھر جب پکڑا گیا تو صدر امین الحافظ نے دنیا کا ہر دباﺅ اور اسرائیل کی اس ایک جاسوس کے بدلے شام اور فلسطین کے جاسوسوں سمیت تمام قیدی رہا کرنے کی پیشکش مسترد کر دی۔ آج مجھے ایلی کوہن کا یہ واقعہ اپنے وزیر دفاع جناب نوید قمر کا یہ بیان پڑھ کر رہ رہ کے یاد آ رہا ہے کہ ڈرون حملوں کے باعث دنیا سے روابط ختم نہیں کر سکتے۔
آج دنیا یقینا گلوبل ویلج بن چکی ہے جتنی ضرورت ہمیں دنیا کی ہے اتنی ہی بلکہ مخصوص حالات اور جغرافیائی محل وقوع کے باعث یاشاید اس سے بھی بڑھ کر دنیا کو پاکستان کی ہے۔ڈرون حملوں میں تین ہزار کے لگ بھگ پاکستانی معصوم بچوں اور گھریلو خواتین سمیت مارے گئے۔ خود امریکی حکام اعتراف کرتے ہیں کہ ان میں مطلوبہ افراد کی تعداد اڑھائی سے تین فیصد ہے۔ باقی 97 فیصد بے گناہ تھے۔ ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں کو قتل کیا، اس کو دیت کا ڈرامہ رچا کر رہا کر دیا گیا۔ ڈرون حملوں میں مارے جانے والوں کی کوئی داد فریاد اور دیت نہیں۔ اب وزیر دفاع فرماتے ہیں کہ ڈرون حملوں کے باعث دنیا سے تعلقات ختم نہیں کر سکتے۔ یوسف رضا گیلانی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران برطانیہ کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ پاکستان 48ممالک کی مخالفت مول نہیں لے سکتا۔ وزیر خارجہ حنا ربانی نے بھی اسی بیان کا اعادہ کر دیا تھا۔ سلالہ حملوں کے چند روز بعد اس وقت کے وزیر دفاع احمد مختار نے کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے معافی مانگنے تک نیٹو سپلائی بحال نہیں ہو گی اور پھر پوری دنیا نے پارلیمنٹ کو نظر انداز اور پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو سر بازار رسوا و خوار ہوتے دیکھا اور سپلائی بحال ہو گئی یقیناً یہ سپلائی پاکستان کی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام پارٹیوں کے اتفاق رائے سے بحال ہوئی۔ البتہ جسے قوم کہتے ہیں اس کی رائے کا احترام نہیں کیا گیا۔
ایک نیٹو سپلائی پر ہی موقوف نہیں‘ لگتا ہے کہ ایلی کوہن جیسا کوئی شخص دیگر معاملات بھی اپنی مرضی سے چلا رہا ہے۔ بھارت کی پاکستان دشمنی کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ دشمنی کی وجہ تنازع کشمیر ہے جس پر تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ یہ تنازع اپنی جگہ پر بدستور اور ہنوز موجود ہے۔ اسکے باوجود دشمن کے ساتھ تجارت، تعلقات، دوستی اور اب اس کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی تڑپ، کیا کسی ایلی کوہن کے کردار کے بغیر ممکن ہے؟ پاک فوج کی طرف سے جن 96 امریکی ٹرینرز کو ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر ملک بدر کیا گیا ان کی واپسی کی تیاری ہو رہی ہے۔ 
گزشتہ سال یمن میں ڈرون حملوں میں تین افراد کی ہلاکت پر ایک یمنی شہری نصیرالاولاتی نے امریکی وزیر دفاع پینٹا کےخلاف قتل کا مقدمہ درج کروایا، اس کا موقف ہے کہ یمن اور امریکہ کے درمیان جنگ نہیں ہو رہی، پھر ڈرون حملے کیوں؟ پاکستانی تو تین ہزار ایسے حملوں میں مارے گئے۔ مقدمات کا اندراج دور کی بات کبھی سنجیدگی سے احتجاج ہی نہیں کیا گیا۔ ایسا کرنے میں مانع یا رکاوٹ کون ہے؟ کوئی ایلی کوہن، جس نے نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھول رکھے ہیں؟ بعض اوقات تو حکومتی شخصیات کے بیانات اعلانات اور اقدامات سے عندیہ ملتاہے کہ ہر تیسرا شخص خود ایلی کوہن ہے۔ اب لگتا ہے حکمرانوں کی دم پر کسی طرف سے پاﺅں رکھ دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم راجہ کی تڑپ دیکھنے لائق ہے کل فرمایا تھا جمہوریت کو خطرہ ہوا تو تمام سیاسی قیادت ایک ہو گی۔ آج گویا ہوئے آئین میں واضح ہے ریاستی امور منتخب نمائندے چلائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی غیر جمہوری قوت ایکشن میں آ چکی ہے۔ آج عوام مہنگائی بیروزگاری، بجلی و گیس کی قلت، لاقانونیت، کرپشن، سفارش اور اقربا پروری جیسے اقدامات پر پریشان، برہم اور مشتعل ہیں۔ حکومتوں کا کام عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے تکلیف دینا نہیں۔ آخر جمہوری حکومت کس کے اکسانے پر عوام پر جبر کر رہی ہے۔ کیا اسکے پیچھے واقعی کوئی ایلی کوہن ہے؟ حکمرانوں کو سکھ چین چاہیے تو اپنی صفوں میں موجود ایلی کوہن کردار کے لوگوں کو ہجوم کی موجودگی میں چوراہے پر لٹکا دےں، جس طرح امین الحافظ نے کیا تھا تو یقین کیجئے جمہوریت محفوظ، ملک اور ملکی سرحدیں محفوظ ‘ عوام خوش اور خوشحال اور دم پر آیا ہوا پاﺅں بھی اٹھ جائیگا۔
کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

Thursday, July 19, 2012

شہباز شریف کا علی بابا



جمعرات ,19 جولائی ,2012
     
شہباز شریف کا علی بابا

”علی بابا چالیس چور“ یہ ایک عرب لکڑ ہارے اور چوروں و ڈاکوﺅں کے درمیان آنکھ مچولی پر مبنی کہانی ہے۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اس کہانی کا بار بار،بار بار تذکرہ کرتے ہیں‘کبھی جوش و خروش سے کبھی لہک کر اور چہک کر ۔ان کے نشانے پرصدر آصف علی زرداری ‘ ان کے ساتھی اور ان کے انجام دیئے گئے کارہائے نمایاں ہوتے ہیں۔محفل اور مجلس جس طرح کی بھی ہو وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ ” علی بابا اور چالیس چوروں کو نہیں چھوڑوں گا“۔آ ج کل خیمہ زنی مہم جاری ہے‘ پنکھا جھلتے ہوئے بھی علی بابا اور چالیس چوروں پر قہر بن کر ٹوٹتے ہیں۔کل نظریہ پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا”ملک کو واپس اجالے میں لانے کے لئے اسلام آباد میں براجمان علی بابا اور چالیس چوروں کو بھگانا ہو گا“ میاں شہباز شریف جس انداز میں علی با با اور چالیس چوروں کا ذکر کرتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ علی بابا بھی چالیس چوروں کا ساتھی تھا بلکہ سرغنہ تھا۔میاں صاحب نے اپنی طرح کے شریف اور ڈا کوﺅ ں کو اپنی جان کا دشمن بنانےوالے علی بابا کو بھی ڈاکوﺅں کاساتھی بنا دیا ہے وہ زندہ ہوتا تو پٹیشن ضرور داخل کرتا۔
”علی بابا چالیس چور“ ۔یہ بچوں کی کہانی ہے جو آج بڑوں کے کام آ رہی اور بہت بڑوں پر آزمائی جا رہی ہے ۔ اس کہانی کا میاں صاحب کہاں تک درست انطباق کر رہے ہیں؟ ۔ اس کا جواب جاننے کے لئے کہانی پر سرسری سی نظر ڈال لیتے ہیں 
ایک رات علی بابا دن بھر لکڑیاں کاٹ کر واپس اپنے گھر جا رہا تھا۔ چاند کی روشنی میں دیکھا کہ کچھ ڈاکو ایک پہاڑی کے سامنے رُکے ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے گھوڑے سے اتر کر زور سے چِلاّ کر کہہ رہا ہے ک±ھل جا سِم سِم اسکے بعد علی بابا نے جو دیکھا اس سے وہ ہکّا بکّا رہ گیا۔پہاڑی میں سے ایک چٹان گڑ گڑاہٹ کے ساتھ ہٹ گئی اور ایک غار دکھائی دی ۔غار سونے چاندی اور ہیرے جواہرات سے چمک رہی تھی۔ ڈاکوﺅں نے اپنے گھوڑوں سے سامان اتار کر غار میں رکھا غار سے باہر نکلے اور کہابند ہو جا سِم سِم جس پر چٹان واپس اپنی جگہ پہنچ گئی ۔ علی بابا نے ڈاکوﺅں کے دور تک جانے کا انتظار کیا اورغار کے سامنے کھڑے ہوکر زور سے کہا ک±ھل جا سِم سِم...غار کا منہ کھلا اورعلی بابا اندر داخل ہوگیا ۔ اورعلی بابا نے ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے جلدی جلدی اپنی جیبیں بھر لیں اور غار کے دروازے کے سامنے چلاّیا کھل جا سم سم.... علی بابا جب گھر پہنچا تو اس کی اہلیہ ہیرے جواہرات دیکھ کر شاد باغ ہوگئی۔یہ خبر پڑوس میں علی بابا کے بھائی قاسم کو ملی تو علی بابا نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔اندھیرا ہوا تو قاسم دو گدھے ساتھ لے کر جنگل میں ڈاکوﺅں کے غار کی طرف چل پڑا۔ اس نے علی بابا کی بتائی ہوئی جگہ پر چٹان کے سامنے کھڑے ہو کر زور سے کہا ”کھل جا سم سم“ اور زبردست گ±ڑگ±ڑاہٹ کے بعد چٹان اپنی جگہ سے ہٹی اور قاسم اپنے گدھوں سمیت چمکتی دمکتی غار میں داخل ہو گیا اور بند ہو جا سم سم کہنے سے غار کا دروازہ بند ہو گیا... اس نے دونوں گدھوں پر سونا چاندی اور ہیرے جواہرات لادنا شروع کردیئے۔ جب اتنا مال جمع ہوگیا کہ اس سے زیادھ گدھوں پر لادنا ناممکن تھا، تو قاسم نے غار کے منہ پر کھڑے ہو کر زور سے کہا ”ک±ھل جا....“ آگے کے وہ الفاظ بھول چکا تھا ۔اتنے میں ڈاکو آ پہنچے اور قاسم کو ہلاک کرکے نعش باہر پھینک دی۔
اگلے دن گھر نہ پہنچنے پر علی بابا اس کی تلاش میں نکلا۔ علی بابا غار کی طرف گیا اور قریب ہی اسے قاسم کی لاش دکھائی دی۔
شام کو ڈاکو واپس غار پر آئے تو وہاں قاسم کی لاش نہ پائی تو انہیں تشویش ہوئی کہ کہیں کسی اور کو ہماری غار اور ہمارے خزانے کے بارے میں علم تو نہیں ہو گیاپھر ڈاکوﺅں نے زمین پر قدموں کے نشان دیکھے۔ انہی قدموں کو دیکھ کر ڈاکو علی بابا کے گھر تک پہنچ گئے ڈاکوﺅں کے سردار نے علی بابا کے دروازے پر ایک سفید دائرہ کا نشان لگا دیا تاکہ رات کے اندھیرے میں آکر علی بابا کا کام تمام کردیں۔اوپرکی کھڑکی سے چُھپ کر علی بابا کی نوکرانی اس کو دیکھ رہی تھی وہ رانا ثناءاللہ کی طرح بڑی سیانی تھی البتہ اس کی مونچھیں نہیں تھیں۔ڈاکو کے جانے کے بعد نوکرانی نے سارے محلے کے دروازوں پر وہی نشان لگادئیے جب رات کو ڈاکو آئے تو ہر دروازے پر سفید دائرہ دیکھا اورانہیں واپس جانا پڑا ۔دوسرے دن ڈاکوﺅں کا سردار ایک ترکیب سے ساتھ علی بابا کے گھر پہنچا اور کہا کہ وہ مسافر تاجر ہے ۔وہ زیتون کے تیل کے چالیس ڈبے تجارت کیلئے لے جارہا ہے۔ علی با با نے اسے اپنے گھرمیں رات گزارنے کی دعوت دے دی.اسی رات علی بابا کی نوکرانی کھانا بنا رہی تھی اورگھر میں تیل نہیں تھا تو اس نے سوچاکہ اس تاجر کے ایک ڈبے میں سے تھوڑا سا تیل نکال لے گی...لیکن جب اس نے ڈبے کا ڈھکن کھولا تو اندر ایک ڈاکو دبک کر تلوار لیے بیٹھا دیکھااس پر نوکرانی نے چپ چاپ پڑوس سے کچھ تیل مانگا اسے خوب گرم کیا اور تھوڑا تھوڑا ہر ڈبے میں انڈیل دیا جس سے تمام ڈاکو مر گئے(ذہن میں رہے کہ یہ بچوں کی کہانی ہے) اسی رات نوکرانی نے ڈاکوﺅں کے سر دار کو بھی نیند میں ہمیشہ کی نیند س±لا دیا۔ 
 یوں علی بابا کے ہاتھوں ڈاکو اپنے انجام کو پہنچ گئے اور خزانہ ....البتہ اس سے یہ ہوا کہ پورے علاقے میں جہاں ڈاکوﺅں نے ” ات چکی“ ہوئی تھی۔ظلم کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ لوٹ مار کر رہے تھے اس عذاب سے لوگوں کی جان چھوٹ گئی۔ اس علاقے کے لوگوں کیلئے علی بابا تو ایک ہیرو تھا۔میاں صاحب اس کو بھی ڈاکوﺅں کا ساتھی قرار دے رہے ہیں۔
میاں صاحب کچھ عرصہ قبل تک بڑے سُر اور لے کے ساتھ بڑے جلسوں اور اجتماعات میں حبیب جالب کی نظم ....ع
صبح بے نور کو میں نہیں مانتا 
پڑھا کرتے تھے۔ان کے لواحقین نے نیا فلسفہ ایجاد کیا کہ جو جالب کے افکار پر عمل نہیں کرتا اس کو حق نہیں کہ وہ ان کا کلام سرِ عام گاگا کر سنائے اس کے بعد سے میاں صاحب نے ہر جلسے میں ....ع
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں 
پڑھنا شروع کردیا۔
شوکت علی شاہ صاحب نہ جانے شاعر سے مخاصمت یا شہباز سے مخالفت پر اس شعر کو تکنیکی اعتبار سے غلط قرار دیتے ہیں کہ ظلم مذکر ہے،مذکر بچے نہیں جن سکتا ہے۔ برادرم اجمل نیازی بھی بڑا شاعر ہے اس سے پوچھ لیتے ہیں کہ ظلم کے بجائے کونسا لفظ استعمال ہوکہ تکنیکی خرابی دور ہوجائے۔
سردست میاں صاحب سے درخواست ہے کہ شعر جو بھی جس کا بھی اور جیسے بھی پڑھیں نو پرابلم! علی بابا کو معاف کردیں۔اس شریف آدمی کو ہیرو سے زیرو نہ بنائیں۔چالیس ڈاکوﺅں کے ساتھ جس طرح مرضی ہے نمٹیں۔ سردار علی بابا نہیں ہے!
کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

Monday, July 16, 2012

برما میں مسلمانوں پر قیامت آخری قسط


 منگل ، 17 جولائی ، 2012

برما میں مسلمانوں پر قیامت ( آخری قسط)
فضل حسین اعوان ـ 8 گھنٹے 57 منٹ پہلے شائع کی گئی
آج کی طرح برمی مسلمانوں پر 1962ءمیں بھی عرصہ حیات تنگ ہوا تھا۔ جنرل نی ون کے دور میں مسلمانوں پر آزمائش کی گھڑی آئی تھی۔ فوج سے مسلمانوں کو مکمل طور پر نکال باہر کیا گیا‘ انہیں جانوروں کا قاتل قرار دیا گیا اور معاشرے میں ان کیلئے ”کالا“ کا لفظ بول کر ان کی معاشرتی تذلیل و تحقیر کی جانے لگی۔ طالبان دور میں افغانستان کے اندر ”بامیان“ کے مجسموں کے معاملے کے بعد برما میں بدھوں کے بلوے نے مسلمانوں کی مساجد اور کئی بستیاں نذر آتش کیں اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کئے رکھا۔ 15 مئی 2001ءکو ایک بار پھر بدھوں نے مسلمانوں کی گیارہ مساجد مسمار کیں‘ چار سو سے زائد گھروں کو آگ لگا دی اور دو سو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جن میں سے بیس افراد وہ تھے جو مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔ بدھوں کا مطالبہ تھا کہ مسلمانوں کی مساجد کو مسمار کر دیا جائے جسے حکومت نے تمام بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مان لیا‘ متعدد مساجد زمیں بوس کر دی گئیں اور بعض کو مقفل کر دیا گیا۔ مسلمان اپنے گھروں پر عبادت کیلئے مجبور کئے گئے اور بعض نے ہجرت کر لی۔ اب تک لاکھوں برمی مسلمان ہجرت کر کے بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی سرحدوں پر خیموں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ 2009ءمیں تھائی لینڈ کی فوج نے برمی مسلمان مہاجرین کو بے دردی سے مارا پیٹا اور پھر انہیں کشتیوں میں بٹھا کر کھلے سمندر میں دھکیل دیا جہاں بے رحم موجیں ان مسلمانوں کو نگل گئیں اور مشرق سے مغرب تک پوری دنیا خاموش رہی۔ اس دوران حکومت برما اور بین الاقوامی اداروں کے بہت سے وعدے‘ مذاکرات‘ بیانات‘ رپورٹس‘ قراردادیں اور سرویز مگرمچھ کے آنسو وں سے زیادہ ثابت نہ ہوئے۔“
برما کے مسلمانوں پر نئے سرے سے عذاب ایک لڑکی کے قبول اسلام کے بعد ٹوٹا۔ بدھ لڑکی کے قبول اسلام پر اشتعال میں آئے اور اسے 28 مئی 2012ءکو قتل کر کے الزام بھی الٹا مسلمانوں پر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل کا دھر دیا۔ 3 جون کو ایک بس روک کر تبلیغی جماعت کے دس افراد کو قتل کر کے ان کے سر مونڈے‘ شکلوں کو بے شناخت کیا اور مشہور کر دیا کہ مسلمانوں نے بدھ رہنما اور اس کے شاگردوں کو قتل کیا ہے۔ اس افواہ کے وبا کی طرح پھیلنے کے بعد برما میں کوئی مسلمان محفوظ نہ رہا۔ ان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ فوج اور پولیس بھی اس جبر میں شدت پسندوں‘ قاتلوں‘ جلادوں‘ انسانیت کے دشمنوں اور شیطان کے بھائیوں کے ساتھ شامل ہو گئی۔ گویا مسلمانوں کی ایذارسانی اور قتل و غارت گری کو مذہبی فریضہ سمجھ لیا گیا۔ 10 جون کو فوج نے مسلم اکثریتی علاقوں میں کرفیو نافذ کیا اور یہ مظالم عالمی برادری کی نظروں سے اوجھل رکھنے کیلئے میڈیا کو علاقہ بدر کر دیا گیا۔ ہزاروں بستیاں تاراج اور لاکھوں جھونپڑیاں نذر آتش کر دی گئیں۔ برمی مسلمانوں پر ڈھائی جانے والی اس قیامت میں اب تک 20 ہزار اپنی جان سے گزر گئے۔ ہزاروں مسلمان اپنی جانیں بچانے کیلئے پناہ کی خاطر ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک بنگلہ دیش کی طرف بھاگے تو حسینہ واجد کی بھارت کی طفیلی حکومت نے واپس ان کو مقتل گاہ میں دھکیل دیا۔ اکثر واپسی پر تاک میں بیٹھے گماشتوں کی بندوقوں کا نشانہ بن گئے۔ برما بنگلہ دیش سرحد پر آباد مسلمانوں کو برما بنگلہ دیشی اور اور بنگلہ دیش برمی قرار دے کر ان کو انسانی حقوق دینے پر تیار نہیں۔
اقوام متحدہ تو ان اقوام کی لونڈی ہے جو مسلمانوں کے کشت و خون میں ملوث ہیں۔ اس سے گلہ کیسا؟ مغرب کی اسلام دشمنی مسلمہ ہے‘ اس سے شکوہ کیا؟ او آئی سی آخر کیوں سوئی ہوئی ہے؟ یہ اہم سوال ہے۔ آج میڈیا بڑا آزاد ہے۔ غیر جانبدار ہے‘ دنیا کے کونے کونے سے پل پل کی خبر نکالتا ہے لیکن برما کے ستم رسیدہ مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینے اور ان کے سر پر موت کی لٹکتی تلوار اور ان کے سینے پر تانی بندوق اور پیٹ کی طرف بڑھنے والے خنجر و تیغ کو ہٹانے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہا۔ خصوصی طور پر مسلم اور سب سے بڑھ کر پاکستانی میڈیا کی بے حسی شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ کیا او آئی سی‘ اسلامی ممالک انفرادی اور میڈیا اجتماعی طور پر برما میں آخری مسلمان کے بھی ذبح ہونے اور آگ میں جلائے جانے کا منتظر ہے؟ راکھائن کے مکین جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور کی طرح اپنے لئے آزاد ریاست کے قیام کی بات نہیں کرتے وہ تو صرف زندہ رہنے کا حق مانگتے ہیں۔ عام انسانوں کی طرح زندہ رہنے کا‘ اس سے کہیں کم تر جتنا مغرب جانوروں کو حق دیتا ہے۔ ان بے بس و بے کس مسلمانوں کی آواز تو دبائی جا سکتی ہے لیکن مسلمان ممالک کے غیرت مند عوام کے جذبات کا گلا دبانا کسی کے بس میں نہیں۔ سارے بدھ مت شاید دہشت گرد نہ ہوں لیکن جو ہیں وہ یاد رکھیں۔ جہاد اور جہادیوں کیلئے جغرافیائی سرحدیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ جہادی برما میں داخل ہوئے تو مسلمانوں کو ان کے حقوق دلائے بنا واپس نہ لوٹیں گے۔