About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Friday, August 17, 2012

What If Pakistan And India Could Unite ?


جمعہ ,17 اگست ,2012

     
What  If  Pakistan  And  India  Could  Unite ?

فضل حسین اعوان
 ہندو لیڈر شپ نے اکھنڈ بھارت کی بنیاد تقسیم ہند کے ساتھ ہی رکھ دی تھی۔اس کا پہلا پتھر اس نے کشمیر پر قبضے کی صورت میں رکھا پھر اس میں حیدرآباد دکن، جونا گڑھ مناوادر کی مسلمان ریاستوں پر قبضے سے توسیع ہوتی چلی گئی۔ایک مضبوط پاکستان کی موجودگی میں اکھنڈ بھارت کے خواب کو تعبیردینا ناممکن ہے۔ 1971ءمیں مشرقی پاکستان کو الگ کرکے پاکستان کو دولخت کردیا گیا۔ پاکستان ایک بازوکے الگ ہونے سے یقینا کمزور ہوا لیکن جلد ہی ایٹمی قوت بن کر پہلے سے بھی زیادہ طاقتور ہوا اور اسکا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوگیا۔1984 میں بھارت کی سیاچن پر جارحیت بھی اکھنڈ بھارت کی خواہش کی تکمیل کی ایک کڑی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے لیکر آج تک اکھنڈ بھارت کو عملی شکل دینے کے حوالے سے بنیا قیادت کا خبثِ باطن پوشیدہ نہیں رہ پایا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے اس کا مذاکرات کی میز پر آنا سراسر منافقت ہے جبکہ اسکی اصل پالیسی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینا ہے۔بھارت کی طرف سے کشمیر کو متعدد بار متنازعہ ایشو قرار دیا گیا۔اسے بینظیر بھٹو، نواز شریف ، مشرف اور اسکی پروردہ حکومتوں نے بھارت کی طرف سے کشمیر کو متنازعہ قرار دینے کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے دعوے کئے کہ ہم نے بھارت سے ” پہلی بار“ کشمیر کے متنازعہ ہونے کا اعتراف کرایا ہے۔ بھارت کی نظرمیں وہ علاقے متنازعہ ہیں جو آزاد کشمیر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔دو روز قبل بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے لوک سبھا میں اپنا تحریری بیان داخل کرایا جس میں کہا گیا ہے ” بھارت ہمسایہ ملک کے ساتھ معاملات کو دو طرفہ اور پُر امن طورپر حل کرناچاہتا ہے۔پاکستان کی طرف سے جموں و کشمیر کے علاقوں پر غیر قانونی اور زبردستی قبضے کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کا علاقہ پاکستان کے غیر قانونی اور جبری تسلط میں ہے۔ سیاچن کا علاقہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے پوری ریاست جموں و کشمیر بھارت کا حصہ ہے “ انتھونی کے اس بیان کے بعد ان لوگوں کو ڈوب مرناچاہئے جو کہتے ہیں کہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے سے کشمیر کا ز پر کوئی اثر نہیں پڑےگا۔بھارت کی کشمیر پر واضح پالیسی یا اسے سیاچن اور آزاد کشمیر سمیت اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کے بعد بھارت کے ساتھ تجارت تعلقات اور دوستی کو فروغ دینے اور امن کی آشا کا راگ الاپنے والے کیا اکھنڈ بھارت کے پکھنڈ میں پکھنڈی بن چکے ہیں؟ یہ سب کچھ نادانستہ نہیں دانستہ ہورہا ہے۔ اگر نادانستہ ہورہا تو بھی ایسا کرنے والوں پر لکھ لعنت ہے جو اقبال اور قائد کے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔
 پاکستان کے ایٹمی طاقت بن جانے سے بھارت جارحیت کے ذریعے اکھنڈ بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے سے قاصر ہے۔البتہ جو کام وہ جارحیت سے نہیں لے سکتا تھا وہ سازشوں سے لے رہا ہے۔ بلور صاحب جیسے اس کے نمک خوار پاکستان بنگلہ دیش افغانستان اور بھارت پر مشتمل کنفیڈریشن بنانے کی تجویز دیتے رہتے ہیں۔اس سوچ کے پیچھے بھی اکھنڈ بھارت کا ایجنڈا ہے۔گزشتہ روز پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر رامیش ٹھاکر کا آرٹیکل آن لائن نیوز پیپر The ottawa citizen میں شائع ہوا جو ایک انگریزی معاصر نے لفٹ کرکے یوم آزادی کے دوسرے روز شائع کیا۔
مضمون نگار رامیش ٹھاکر آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی، کینبرا، آسٹریلیا کے کرانورڈ سکول آف پبلک پالیسی کے سنٹر فار نیوکلیئر نان پرولیفریشن اینڈ ڈس آرمامنٹ کا ڈائریکٹر ہے۔ علاوہ ازیں گرفتھ یونیورسٹی، کوئنز لینڈ آسٹریلیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ایتھکس، گورننس اینڈ لاءمیں عارضی پروفیسر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔ رامیش ٹھاکر ٹیپیکل ہندو ہے۔ اس نے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی ترقی، خوشحالی کی پڑی میں لپیٹ کر نئی تجویز پیش کی ہے۔ what if pakistan and india could unite? کے زیر عنوان مضمون میں کہا گیا ہے کہ” پاکستان اور بھارت اپنی آزادی کی سالگرہ 14 اور 15 اگست کو منا رہے ہیں مگرا ن دونوں کی باہمی مخاصمت نے نہ صرف بھارت کا ایک عالمی طاقت بننے کا خواب چکناچور کر دیا ہے بلکہ پاکستان کی عالم اسلام کا ایک درخشاں ستارہ بننے کی خواہش کو بھی ملیامیٹ کر دیا ہے۔ کیا 2047ءمیں بھی ان دونوں ممالک کے تعلقات یونہی سردمہری کا شکار رہیں گے یا پھر یہ اپنے اختلافات کو بھلا کر مشترکہ خوشحالی اور استحکام کےلئے مل جل کر کام کر سکیں گے کیونکہ ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر جنوبی ایشیا کے تمام باشندوں کی قسمت کا انحصار ہو گا۔ تعلقات کو ایک نیا موڑ دینے کیلئے دونوں ممالک میں انتہائی دوراندیش قیادت کا ہونا ضروری ہو گا جو فی الحال کمیاب ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی پوزیشن بڑی کمزور اور نازک ہے اور طاقت کے اصل مراکز تین "M" یعنی ملٹری، ملی ٹینٹس اور ملا ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تشکیل میں سویلین صدر اور وزیراعظم کو خاص اہمیت حاصل نہیں ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال سرحد کے دوسری جانب بھارت میں بھی پائی جاتی ہے جہاں حصول آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کا سب سے غیر موثر وزیراعظم منموہن سنگھ براجمان ہے۔ اگر 2047ءتک دونوں ممالک کے اچھے تعلقات میں حائل تمام مشکلات ختم ہو جائیں تو جنوبی ایشیا میں ایک اکنامک یونین وجود میں آ جائے گی اور اقتصادیات کے تمام شعبوں میں بہتری پیدا ہو جائےگی۔ عین ممکن ہے کہ ایک مشترکہ کرنسی وجود میں آ جائے....
جب دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہو جائیں گے تو کشمیر میں لائن آف کنٹرول بے معنی ہو جائےگی۔ دونوں مملکتوں کی دفاعی افواج میں خاطر خواہ کمی کر کے انہیں ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قیام امن اور قدرتی آفات کے دوران امدادی سرگرمیوں کےلئے استعمال کیا جا سکے گا۔ ان سب خوابوں کو تعبیر عطا کرنے کیلئے ہمیں ہمت، حوصلے اور یقین رکھنے والی قیادت درکار ہے۔ “
رامیش کے آرٹیکل کا ایک ایک لفظ اکھنڈ بھارت کی سوچ سے آلودہ اور اس سے تقسیم ہند کی نفی کا تعفن اُٹھ رہا ہے۔افسوس کہ اس آرٹیکل کو اس اخبار نے بڑے اہتمام سے شائع کیا جو تحریک پاکستان کے بہت بڑے کارکن ہی نہیں‘ داعی اور ایم ایس ایف کے بانی صدر کی وراثت کا دعویدار ہے۔
رامیش ٹھاکر کا آرٹیکل خلوص سے خالی اور ایک مخصوص سوچ کا عکاس ہے۔ بھارت کے عالمی طاقت بننے کا خواب اگر دونوں ممالک کی مخاصمت سے چکنا چور ہوا ہے تو اس مخاصمت کا ذمہ دار کون ہے؟۔ خطے میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ بھارت کی توسیع پسندانہ پالیسیاں ہیں اس نے نہ صرف مسلمان ریاستوں پر جارحیت بلکہ ہمالیاتی ریاست سکم میں بادشاہت کا خاتمہ کرکے اس پر بھی قبضہ کیا۔ وہ جیو اور جینے دو کی پالیسی اختیار کرتا تو عالمی طاقت بنتا یا نہ بنتا البتہ خطہ امن اور خوشحالی کا گہوارہ ضرور ہوتا ۔ 71ءمیں پاکستان ٹوٹنے کے باوجود بھی پاکستان عالم اسلام کے آسمان پر درخشندہ ستارہ نہیں بلکہ مہ تاب و آفتاب کی مانند دمک رہا ہے۔ حکمرانوں کی بزدلی آڑے نہ آئی ہوتی تو پاکستان یقیناً عالم اسلام کی قیادت کرتا جس کی خواہش عرب عجم افریقہ و ایشیاءکے ہر مسلمان کے دل میں ہے۔مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اور بڑا تنازع ہے۔ یہ ایشو بھارت نے کھڑا کیا اور اسکے حل میں رکاوٹ بھی وہی ہے۔ 63 سال اس نے مذاکرات کی ڈرامہ بازی میں گزار دیئے۔ بھارتی ہٹ دھرمی اور چالوں کو دیکھتے ہوئے واضح ہے کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر 2047 یعنی تقسیم ہند کے سو سال بعد تو کیا قیامت تک حل نہیں ہو گا۔ البتہ ایٹم بم کا بٹن دبانے سے شاید صدیوں کا فاصلہ چند ساعتوں میں طے ہو جائے۔
مضمون نگار کو زرداری اور منموہن کی کمزور حیثیت نظر آ گئی۔ اسے ان کی دور اندیشی پر بھی شک ہے۔ ایوب خان، ضیاءالحق اور مشرف تو مضبوط حیثیت کے مالک تھے۔ بھٹو صاحب دور اندیشی اور معاملہ فہمی کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں انکے ادوار میں ہی اندرا گاندھی، مرار جی ڈیسائی جیسے حکمران رہے اور سب سے بڑھ کر قائداعظم، لیاقت علی خان اور دوسری طرف جواہر لعل نہرو جیسے مضبوط اور جہاندیدہ حکمران ایک ہی دور میں موجود تھے۔ ان وقتوں میں پاکستان اور بھارت قریب کیوں نہ آئے؟ دونوں ممالک کے درمیان مثالی اور قابل رشک تعلقات قائم کیوں نہ ہوئے؟ اسکی وجہ بھارت کے حکمرانوں کی بنیا سوچ، اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی تکمیل اور علاقے کا چودھری بننے کا خبط تھا۔ بنیے کی سوچ میں ہنوز کوئی فرق نہیں آیا بلکہ عیاری و مکاری میں پہلے سے دو چار گام آگے بڑھ گیا ہے۔ پاکستان میں ملٹری، ملٹی ٹینٹس اور ملا کو طاقت کا مرکز قرار دینا محض ایک درفنطنی ہے۔ ایسے الفاظ زیب داستان کےلئے استعمال ہوتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مابین بنیادی ایشو مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو بنیے مہاراج کو خواب میں ڈرانے والے طاقت کے یہ مراکز گنگا و جمنا کی موج کی طرح بے ضرر نظر آئینگے۔
پاکستان دو قومی نظریے کے تحت وجود میں آیا۔ پاکستان اسلامی جمہوری فلاحی ریاست ہے۔ بھارت خود کو سیکولرزم کہتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تر تنازعات پرامن اور خوش اسلوبی سے طے ہو جائیں پھر بھی دونوں ممالک کا الگ الگ تشخص برقرار رہے گا۔ پاکستان اور بھارت کی صرف سرحدیں آپس میں ملتی ہیں اسکے سوا کون سی بات مشترک ہے؟۔ نہ تہذیب نہ تمدن نہ کلچر و ثقافت نہ زبان اور مذہب، نہ ہمارے ہیرو سانجھے ہیں نہ ولن مشترک ہیں۔ لہٰذا کوئی یونین بنانے کی ضرورت ہے نہ کنفیڈریشن کی‘ البتہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات حل ہونے کی صورت میں دونوں ممالک اچھے پڑوسیوں کی طرح ضرور رہ سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے تقسیم سے قبل محمد علی اور رام داس پڑوسی ہو تے تھے۔ کیا رام ،علی کے ساتھ بیٹھ کر ایک برتن میں کھا پی لیتا تھا؟۔ علی پوتر جل پینے اور رام گائے کا گوشت کھانے پر آمادہ تھا؟ ہندو اور مسلم تہذیبوں میں بعد المشرقین ہے یہ فرق کبھی نہیں ختم سکتا ہے‘ اس لئے اِدھر اور اُدھر کے امن کے پجاریوں کی خواہش پر لاکھوں مسلمانوں کے خون سے کھینچی ہوئی لکیر کبھی نہیں مٹ سکتی۔ کبھی نہیں۔ آج جو اعتماد سازی کے اقدامات کے نام پر بوجوہ قربتیں بڑھائی جا رہی ہیں انکی حیثیت مٹی پر کھینچی لکیر اور پانی کے بلبلے سے زیادہ ہرگز نہیں ہے۔ یہ کسی بھی وقت انقلابی سوچ کی جوتوں کی ٹھوکر سے دھول بن جائیں گی۔ دونوں ممالک نے ملنا ہی ہوتا تو لاکھوں جانوں کی قربانی دینے، عزتیں لٹانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ بنیے کے دل میں مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کا انتقام جوش میں آتا ہے تو اسے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیریں پہنانے کےلئے کئی تدبیریں سوجھتی ہیں۔ یونین اور کنفیڈریشن کی تجویزیں بھی اسی کی کڑیاں ہیں۔ آج خونیں لکیر کو مٹانے کی نہیں اس پر دیوار تعمیر کر کے اس کو اتنا اونچا کرنے کی ضرورت ہے کہ دشمن ہمارے ملک میں جاسوس، دہشت گرد اور تخریب کار داخل کرنا تو ایک طرف وہ اس دیوار کے پار جھانک بھی نہ سکے۔ آخر تقسیم ہند کو ہی اَن ڈو کرنے کی خواہش کیوں پائی جاتی ہے؟ گردش ایام کا ماضی کی طرف اس طرح سے لوٹنا ممکن نہیں جس طرح کبھی انگریز راج لوٹ کر نہیں آسکتا۔ اسی طرح تقسیم ہند کی منسو خی اور اکھنڈ بھارت کی سوچ کبھی بھی عملی شکل اختیار نہیں کرسکتی۔
 پاکستان بھی توٹوٹا اس کو جوڑنے کی کوئی کوشش سامنے آتی ہے نہ خواہش، پاکستان ٹوٹنے میں ذوالفقارعلی بھٹو کا نام بھی لیاجاتا ہے۔تاہم مشرقی پاکستان کے بارے میں بھٹو صاحب کی سوچ ہمارے لئے آج بھی مشعل راہ ہونی چاہئے یہ 10اپریل 1973 کا دن ہے جب ذوالفقار علی بھٹو نے دستوز ساز اسمبلی سے آئین کی منظوری کے دن اپنے تاریخی خطاب میں کہا تھا ” وہ وقت ضرور آئےگا جب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان پھر بھائیوں کی طرح آملیں گے اور اسلا م کی عظمت اور باہمی دوستی کی ایسی یادگار تعمیر کرینگے جو لافانی ہوگی یہ تاریخ کا اٹل فیصلہ ہے۔
 اسلام کو جو نقصان پہنچا اس کی تلافی ہوکر رہے گی“ اور پھر بھٹو نے ہی پاکستان کی شہ رگ کشمیر کیلئے ہزار سال جنگ لڑنے کی بات کی تھی۔ اب اسکے جانشین بے شک بھارت کے شردھالو بنتے پھریں۔ (پاکستان زندہ باد)

Thursday, August 16, 2012

گن کنٹرول


 جمعرات ,16 اگست ,2012
    
گن کنٹرول    
امریکہ اور برطانیہ کی تہذیب‘ ثقافت اور کلچر کا ماخذ ایک ہی سمجھا جاتا ہے۔ البتہ دونوں کے اسلحہ کلچر میں نمایاں فرق ہے۔ برطانیہ میں ذاتی اسلحہ رکھنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ امریکہ میں اسلحہ کلچر کی جڑیں بہت گہری اور مضبوط ہیں جس کے سبب امریکہ میں انفرادی اور اجتماعی قتل کی وارداتیں روزمرہ کا معمول ہیں۔ میجر ملک ابوندال نے 5 نومبر 2009ءکو فورٹ ہڈ کے فوجی اڈے میں 13 ساتھی فوجیوں کو اپنی بندوق سے فائرنگ کرکے بھون ڈالا تھا۔ تازہ ترین واقعات میں 3 مئی 2011ءکو ریاست ایری زونا کے قصبے گلبرٹ میں ایک مسلح نوجوان بلٹ پروف جیکٹ پہنے سڑک پر آیا اور اندھا دھند فائرنگ کرکے ایک بچے سمیت چار افراد کو گولیوں سے چھلنی کر دیا.... کیوں؟ اس کا جواب اس لئے نہ مل سکا کہ اس نے خود کو بھی اپنی پسندیدہ بندوق سے اڑا لیا تھا۔ 20 جولائی 2012ءکو 24 سالہ جیمز ہومز کی ریاست کولو راڈو کے ایک سینما گھر میں فلم بیٹ بین کے پریمپئر شو کے دوران فائرنگ سے چودہ افراد ہلاک اور 58 زخمی ہو گئے تھے۔ 6 اگست 2012ءکو ریاست وسکونسن کے علاقے اوئیک کریک کے گوردوارے میں ایک نوجوان جا گھسا جس نے فائرنگ کرکے چھ سکھوں کو ابدی نیند سلا دیا اور خود پولیس کے ہاتھوں موقع پر مارا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ بے رحم قاتل افغانستان میں تعینات رہنے والا سابق فوجی تھا‘ وہ شاید داڑھی کی مناسبت سے سکھوں کو مسلمان سمجھ بیٹھا ہو۔ 
ایسے بہیمانہ واقعات کو دیکھتے ہوئے امریکہ میں Gun control-law کے حوالے سے کئی بار کوشش کی گئی لیکن امریکیوں کے اسلحہ سے جنون کی حد تک لگاﺅ کے باعث کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ 
بی بی سی اور دیگر ذرائع ابلاغ نے امریکیوں کی اسلحہ اندوزی کے حوالے سے دلچسپ رپورٹیں شائع کی ہیں۔ امریکہ میں گن لابی اور گن کنٹرول لابی یا اینٹی گن لابی امریکی سیاست اور اقتدار میں ایک دوسرے سے گتھم گتھا رہی ہیں۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ بہت سے ڈیموکریٹ گن کنٹرول کے حامی ہیں جبکہ رپبلکنز کی بہت بڑی تعداد گن لابی کے حق میں ہوتی ہے۔ امریکی سیاست پر نیشنل رائفل ایسوسی ایشن بھی اثر انداز ہے اور کئی امریکی شہروں میں قومی گن شو بھی منعقد ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے مرد و خواتین جوق در جوق آتے ہیں۔ امریکہ شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آئینی طور پر ہر بالغ شہری کو ہتھیار یا بندوق رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اگر آپ کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زائد ہے، آپ امریکی شہری ہیں اور آپ کا کوئی پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے تو آپ محض اپنا ڈرائیونگ لائسنس یا ریاستی شناختی دستاویز کسی بھی اسلحے کی دکان پر دکھا کر بندوق خرید سکتے ہیں۔امریکہ میں کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں آپ اپنے دفاع میں گولی چلا سکتے ہیں، یا آپ کی ملکیت میں گھس آنے والے کو آپ بلاجھجک گولی مار سکتے ہیں۔ بہت سے امریکیوں نے اپنے گھروں پر ایسی تختیاں لگا رکھی ہیں جن پر تحریر ہے کہ بغیر اجازت اندر آنے والے کو گولی ماری جا سکتی ہے۔ یا ’وی شوٹ دی ٹریس پاسر‘ یعنی ہم اندر گھس آنے والے کو گولی مار دیتے ہیں۔امریکی ہتھیاروں سے عشق کرتے ہیں‘ اور یہی بات آپ کو کئی امریکی فخر سے بتائیں گے۔یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ امریکہ دنیا میں بندوق کا کلچر رکھنے والے ملکوں میں سب سے آگے ہے اور اس کی تاریخ اور قومی زندگی میں بندوق ایک جزو لاینفک رہا ہے۔ آپ کو ایسے کئی امریکی ملیں گے جو آپ کو بتائیں گے کہ ان کے دادا نے انہیں اپنی رائفل اس وقت تحفے میں دی جب وہ پانچ سال کے تھے۔
امریکن رائفل مین کا ایک ہیرو والا ’ماچ±و مین‘ تصور امریکی زندگی اور لوک گیتوں میں بھی موجود ہے۔ امریکیوں کیلئے بندوق ان کا زیور اور شوق شمار ہوتا ہے۔ امریکیوں کی رائفلز اور بندوقوں پر نقش و نگار دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔
بندوق سے امریکی قربت اتنی ہے کہ مشہور امریکی افسانہ نگار ارنسٹ ہیمنگوے کی بندوقیں بھی خود ان جتنی ہی مشہور ہیں اور ان پر ایک کتاب ’ہیمنگنویز گنز" بھی شائع ہوئی ہے۔حال ہی میں برطانوی اخبار گارڈین نے دنیا میں آتشیں اسلحہ رکھنے والے ملکوں کا ایک نقشہ شائع کیا ہے جس میں امریکہ کو اول نمبر پر بتایا گیا ہے۔چند روز قبل ٹائم میں اس کے ایڈیٹر فرید زکریہ نے اپنے کالم "The Case for Gun Control"میں اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ 88.8 فیصد امریکیوں کے پاس آتشیں اسلحہ ہے۔ یمن کے شہری 54.8 فیصد کے ساتھ دوسرے سوئٹزر لینڈ اور فن لینڈ کے 45.7 اور45.3 کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ اس آرٹیکل کی اشاعت سے عقدہ کھلا کہ اس میں بھارتی نژاد زکریہ نے کئی اقتباسات ہاورڈ یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر گیل لیپور کے اخبار نیویارکر میں 23 اپریل 2012ءکو شائع شدہ مضمون سے لئے تھے۔ جن کا حوالہ نہ دینے پر اسے چوری شدہ مواد قرار دیا گیا۔ جس کا زکریہ نے اعتراف کرتے ہوئے معذرت کی جس پر ان کو ٹائم کے ساتھ نیوےارک ٹائمز اور سی این این پر ایک ماہ کےلئے بین کردیا گیا ہے۔ زکریہ کہیں نوسر باز مشہور نہ ہو جائیں کیونکہ انہوں نے ”ڈیوک“ یونیورسٹی میں دیئے گئے ایک لیکچر سے ملتا جلتا لیکچر ہاورڈ یونیورسٹی میں دیا تھا جس پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ زکریہ نے ایسے کام کرنے ہیں تو پاکستان چلے آئیں ان کے لئے یہ زمین بڑی زرخیز ثابت ہو گی۔
اب پے در پے خونیں واقعات کے بعد ایک بار پھر صدر اوباما پر اسلحہ کلچر کے خاتمے کیلئے دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ وہ خود بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں لیکن امریکیوں کے اسلحہ سے لگاﺅ کو دیکھتے ہوئے وہ اس لئے خاموش ہیں کہ صدارتی انتخابات کی آمد آمد ہے وہ اسلحہ پر پابندی لگا کر مخالف پارٹی کو کلین سویپ کا موقع نہیں دینا چاہتے۔ اوبامہ اسلحہ کنٹرول کیلئے ایک اصولی فیصلہ کرنے سے اس لئے ہچکچا رہے ہیں کہ انکو اپنی ذات پر امریکیوں کے اعتماد کا یقین نہیں۔ اس لئے وہ منافقت جیسی مصلحت سے کام لے رہے ہیں۔ اہل عرب جیسا شراب نوش کون ہو گا‘ نبی کریم نے اسکی حرمت کا حکم سنا یا تو شراب کے مٹکے اور کوزے ٹوٹے اور اوندھے پڑے نظر آئے۔ حجة الوداع کے موقع پر حضور کا خطبہ اسلامی آئین کی حیثیت اختیار کر گیا‘ آپ نے جو فرما دیا کسی نے سرتابی کی جسارت نہ کی۔ قیادت صالح اور مخلص ہو تو قوم اسکی پیروی پر فخر کرتی ہے ایسی ہی مثال ہمیں ماضی قریب میں افغانستان میں نظر آئی‘ جب ملاعمر نے افغانوں کو اسلحہ جمع کرانے‘ پوست کی فصل کو اکھاڑ پھینکنے کا حکم دیا جس پر برضا و رغبت عمل ہوا۔ مغرب نے چند اسلامی اصول ضرور اپنائے ہیں‘ اسلام صرف چند اصولوں کا نام نہیں ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسکی امریکی معاشرے میں کارفرمائی ہوتی تو اوباما کو اسلحہ کلچر کے خاتمے کیلئے کسی قسم کی جھجک اور ہچکچاہٹ نہ ہوتی۔ موجودہ حالات اور مصلحتوں کے پیش نظر شاید امریکہ اور امریکیوں پر اسلحہ کلچر قیامت تک مسلط رہے۔

Tuesday, August 14, 2012

یومِ آزادی اور اسلامی سربراہی کانفرنس


منگل ,14 اگست ,2012
   
یومِ آزادی اور اسلامی سربراہی کانفرنس

آج کے دن کی عالمِ اسلام کے حوالے سے بڑی اہمیت ہے ۔آ ج ایک طرف پاکستان کا جشنِ آزادی منایا جارہاہے اور دوسری طرف مکہ میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہورہی ہے ۔مدینہ کے بعد پاکستان دوسری نظریاتی ریاست ہے۔اس حوالے سے اسلامی برادری میں پاکستان خصوصی اہمیت کا اعتراف کیا جاتا ہے۔پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست تھی۔دیگراسلامی ممالک پاکستان کو بڑا سمجھتے اور اسے اسلام کا قلعہ قرار دیتے تھے۔1971ءپاکستان ٹوٹا تو اس کوبڑا ور اسلام کو قلعہ قرار دینے والوں کی امیدیں ٹوٹیں ،دل ٹوٹے اور ان کے پاکستان کی طرف سے امہ کی قیادت کرنے کے حوالے سے سہانے سپنے بھی ٹوٹ گئے۔انڈونیشیا ،پاکستان اور نائیجیریا آبادی کے حوالے سے اسلامی ممالک میں بالترتیب ”اب تک“ پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔
پاکستان سے بڑے اسلامی ملک کا اعزاز چھنا تو اسے ایک اور اعزاز ” عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت “حاصل ہوگیا۔پاکستان ایک بار بڑا ، اسلام کا قلعہ ، مسلم امہ کا تفاخر اورامیدوں کا مرکز قرارپایا۔اسلامی ممالک پاکستان سے عالمِ اسلام کو لیڈ کرنے کی توقعات رکھتے ہیں۔پاکستان بلا شبہ اپنے ایٹمی قوت ، دنیا کی بہترین فوج کا حامل ،بے پنا ہ قدرتی وسائل سے مالا مال اور بہترین ہنر مند افرادی قوت سے سرفراز ہونے کے باعث عالمِ اسلام کی قیادت کی اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان کے 27ویں کی شب کووجود میں آنا اتفاق نہیں بلکہ پروردگار کی ایک عنایت ،نوازش، فضلِ کرم اور معجزہ ہے۔کچھ لوگ اس حوالے سے شک و شبہات پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اہلِ پاکستان کے یقین کو یقینِ راسخ بنانے کے لئے عرض ہے کہ پاکستان یقینا 27 ویں کی شب ہی کو قائم ہوا تھا۔ نوائے وقت کے اگست 1947 ءکے شمارے اس کے گواہ ہیں جو میں اور میرے ساتھیوں نے دیکھے ہیں۔ نوائے وقت کی پیشانی دیکھنے اور پڑھنے پر واضح ہوگیا کہ جس رات کو قیام پاکستان کی خوشخبری سنائی گئی وہ ستائیسویں کی شب اور جمعہ کی رات تھی۔ 14اگست 1947 کو 26 رمضان المبارک سن ،1366 ہجری تھا۔انٹر نیٹ پر کنورٹر سے بھی یہ تاریخ اور دن کنفرم ہوجاتے ہیں۔ میجر حیدر حسن صاحب کی تحقیق کے مطابق نبی کریم ﷺپر پہلی وحی کا نزول 14 اگست کو ہوا تھا۔
اسلامی سربراہی کانفرنس کے ایجنڈے میں برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر غور سرِ فہرست ہے ۔شام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی زیر غور آئے گی۔ افسوس، مسئلہ کشمیر ایجنڈے میں شامل نہیں۔او آئی سی کی امہ کو درپیش مسائل کے حل کے بارے میں کوششیں دنیا کے سامنے ہیں ان کو مثالی اور قابل رشک تو کیا اطمینان بخش بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔21 اگست 1969ءکو مسجد اقصی پر یہودی حملے کے ردعمل کے طور پر 25 ستمبر 1969ءکو مراکش کے شہر رباط میں او آئی سی کا قیام عمل میں آیا۔او آئی سی کا مستقل دفتر سعودی عرب کے شہر جدہ میں قائم ہے۔اس کے سبز ہلالی پرچم کے درمیان اللہ اکبر درج ہے۔ ذات کبریا کی کبریائی کے لئے او آئی سی کی طرف سے جس عزم اور جن کاوشوںکی امہ کو توقع تھی وہ خاک ہوئیں اور 57اسلامی ممالک کہ یہ تنظیم اب تک راکھ کا ایک ڈھیر ثابت ہوئی ہے۔فلسطین اور کشمیر کے چنگاری سے شعلہ اور الاﺅ بنتے ہوئے مسائل او آئی سی کے اپنے وجود میں آنے سے قبل کے ہیں۔ان کا بدستور حل طلب رہنا اس تنظیم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔پاکستان اس تنظیم کی موجودگی میں ٹوٹا ،ایران اور عراق کے درمیان کئی سال تک جنگ لڑی گئی ، عراق نے کویت پر یلغار کی اس پر امریکہ عراق پر چڑھ دوڑا ، اسرائیل نے عراق پر حملہ کر کے اس کے نیو کلئیر پلانٹ کو تباہ کردیا۔ افغانستان پر چڑھائی کرکے اسے تاراج کیا گیا،عراق کو ایک بار پھر برباد کیا،لیبیا کی بربادی سامنے ہے ۔ ایران پر حملے کی تیاری ہے،پاکستان غیر اعلانیہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ انڈونیشیا کی کوکھ سے مشرقی تیمور اور سوڈان کے بطن سے جنوبی سوڈان کے نام کی عیسائی ریاستوں کو تخلیق کیا گیا۔ان سارے معاملات میں اوآئی سی کا کردار محض تماشائی کا تھا۔
 خاد م ِ حرمین الشریفین کا اسلامی سربراہی کانفرنس طلب کرنا ایک اہم اور بروقت فیصلہ ہے۔سرزمین حجاز مسلمانوں کے لئے عقیدتوں کا مرکز اور ارضِ مقدس پر حکمرانی کرنے والے انتہائی قابل احترام ہیں۔اہل اسلام بجا طور پر خاد م ِ حرمین الشریفین سے مسلم ممالک کے مابین پائے جانے والے اختلافات ختم کرا کے ان کو متحد کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی تمنا اور آرزو رکھتے ہیں۔برما کے صوبے اراکان جہاں آج اہل اسلام کابیدردی سے قتل جاری ہے ، اس میں ساڑھے تین سو سال تک اسلامی حکومت قائم رہی۔ اسلامی مملکت کا پہلا فرمانروا فاروق شاہ تھا اس کے بعد 48حکمران آئے ۔ اس اسلامی ریاست کا1784ءمیں برمی استعماریوں نے جارحانہ قبضہ کر کے خاتمہ کیا۔اراکان کے مسلمان آج آزاد ریاست کو مطالبہ کرتے ہیں نہ حقِ حکمرانی مانگتے ہیں۔وہ صرف باعزت زندگی گزارنے کی خواہش لئے تشدد سے نجات چاہتے ہیں۔او آئی سی دیکھئے ان مظوموں کی کہاں تک داد رسی کرتی ہے؟۔
اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک ممالک نے اگر امہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لئے فعال کردار ادا نہ کیا تو یہ ممالک ایک ایک کر کے معدوم ہوتے چلے جائیں گے ۔مشرقی تیمور بنا ،پھر شمالی سوڈان وجود میں آیا، اب نائیجیریا کو توڑ کر تیل دولت سے مالا مال جنوبی نائیجیریا کے نام سے ایک اور عیسائی ریاست قائم کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے۔ باکو حرام تحریک کی آڑ میں دانستہ شورش پیدا کر کے سامراج اپنے مذموم مقاصد حاصل کرکے کامیابی کے راستے پر گامزن ہے ۔امہ کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ مغرب کی تباہ کن پالیسیوں کی راہ میں مسلم ممالک سنگِ گراں اور عزم، ہمت حوصلے و جرات کا نشاں بن جائیں۔

Friday, August 10, 2012

آئندہ انتخابات اور مسلم لیگ ن


جمعہ ,10 اگست ,2012
     


آئندہ انتخابات اور مسلم لیگ ن
انتخابات کی منزل زیادہ سے زیادہ چھ سات ماہ کی دوری پر ہے‘ تاہم قبل ازیں کسی وقت انکے انعقاد کا بگل بج سکتا ہے جس کا سیاست دانوں کو ادراک ہے۔ اسی سبب سیاسی صف بندی شروع ہو چکی ہے۔ ابھی سیاسی پارٹیوں میں اکھاڑ پچھاڑ‘ اتحادوں کے ٹوٹنے اور نئے اتحاد بننے کا موسم نہیں آیا۔ یہ موسم نگران حکومت کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہو گا اور اتحادوں کی فصل الیکشن کے انعقاد تک پکتی رہے گی۔ ہماری کروٹیں لیتی اور چوکڑیاں بھرتی سیاست میں پہلے کی نسبت کہیں زیادہ ابال اور بھونچال کی سی کیفیت ہو گی۔ آج کے پارلیمنٹیرین غول در غول پارٹی بدلتے نظر آئینگے۔ اکثر تو اپنی ہمدردیاں اور وفاداریاں بدلنے کیلئے اب بھی بے چین ہیں لیکن 18ویں ترمیم کی اس شق نے پاﺅں میں بیڑیاں ڈال رکھی ہیں‘ جس کے مطابق رکن قومی‘ صوبائی اسمبلی یا سینٹ کا پارٹی سربراہ کی خواہش کے برعکس کھانسنا بھی جرم ہے جس کی پاداش میں سینٹری اور جینٹری وغیرہ جاتی رہتی ہے۔ نگران حکومت کے قیام سے قبل بھی کئی اتحادی ڈوبتے جہاز سے چھلانگ لگا سکتے ہیں۔ گو انتخابات ایک آزاد اور غیرجانبدار نگران سیٹ اپ کی موجودگی میں ہونگے تاہم ان نگرانوں کے اوپر آصف علی زرداری صدر کی حیثیت سے بدستور موجود ہونگے۔ انکی مفاہمانہ سیاست کا تو ایک زمانہ قائل ہے۔ وہ اپنے آج کے اتحادیوں کو چالیس سال تک اتحاد کی لڑی میں پروئے رکھنے کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔ وہ اپنے صدارتی اختیارات اور جادو کی چھڑی سے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر الیکشن میں جانے کی کوشش کرینگے۔ اس میں انکی کامیابی کے کسی کے نزدیک امکانات و توقعات اور کسی کے قریب خدشات موجود ہیں۔ سیاسی یتیم ق لیگ کے سر پر زرداری صاحب نے دست شفقت رکھا تو یہ دام کھرے کرتے ہوئے ان کی غلام بن گئی۔ وہ پی پی پی کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اب سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے مرحلے میں قدم رکھ دیا ہے۔ پی پی پی اور ق لیگ مل کر الیکشن لڑتی ہیں تو یقیناً ایک مضبوط اتحاد ہو گا۔ ق لیگ کی بقا پی پی یا ن لیگ کے ساتھ اتحاد میں ہی ہے۔ اگر تنِ تنہا الیکشن لڑتی ہے توع
بیرونِ دریا کچھ نہیں
اے این پی اور ایم کیو ایم بھی بدستور زرداری صاحب کی اتحاد کشتی میں سوار رہتے ہیں تو یہ اتحاد مزید مضبوط ہو گا۔ 
عمران خان سولوفلائٹ کےلئے پرعزم ہیں‘ البتہ جماعت اسلامی جیسی پارٹیاں اگر انکے ساتھ ملنے کی خواہش ظاہر کرتی ہیں تو تحریک انصاف کےلئے یہ قابل قبول ہوں گی۔ عمران خان اور انکے ساتھیوں کو یقین ہے کہ وہ کلین سویپ کرینگے‘ یہی زعم ان کو لندن سے شیروانیاں سلوانے اور حلف برداری کے نظارے دکھا رہا ہے۔ وہ ایک گیند پر دو وکٹیں گرانے کے دعویدار ہیں‘ ان کو تین ساڑھے تین کروڑ نئے ووٹرز پر بھروسہ ہے کہ یہ ان کا ساتھ دینگے‘ ان ووٹرز میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ تحریک انصاف میں دیگر بڑی پارٹیوں سے آنیوالے لوگ اور چند تجزیہ کار ایسی پھوک بھر رہے ہیں کہ اسکی قیادت کسی کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں۔ عمران خاں نے ابھی ابھی عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید سے ہاتھ ملایا ہے 13 اگست کو ان کے جلسے میں اپنی آمد کا شرف بخشنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہوا ہے کہ میاں صاحب کو شیخ رشید کسی وجہ سے اب قابل قبول نہیں تھا۔
پی پی پی اتحادی اور تحریک انصاف اپنے اپنے طور پر خود کو اگلے الیکشن کے فاتح سمجھ رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن بھی دعویداری میں ان سے کم نہیں۔ لیکن بادی النظر میں آج کی صورتحال کے پیش نظر اگلے الیکشن میں مسلم لیگ ن خسارے میں نظر آتی ہے۔ کسی بھی پارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے اندر انتشار واضح ہے۔ مسلم لیگ ن میں دیگر پارٹیوں سے آنیوالے لوگوں کی آمد پارٹی کے نقطہ نظر سے حوصلہ افزا ہے لیکن جو جانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں‘ وہ بڑی بربادی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ن لیگ نے اپنے دروازے ہر کسی پر کھول دیئے لیکن اگر مگر اور تاہم نے اس فیصلے کو بے ثمر کر دیا ہے۔ جاوید ہاشمی کے پارٹی بدلنے سے جتنی تحریک انصاف مضبوط ہوئی‘ اتنی ہی ن لیگ کمزور بھی ہوئی۔ اب سردار ذوالفقار علی کھوسہ اور انکے صاحبزادے ناراض ہیں‘ میاں نواز شریف نے گجرات میں پیدا ہونیوالے پارٹی نفاق کو اتفاق میں بدل دیا جبکہ ایسی کاوش کھوسہ صاحبان کےلئے نہیں کی گئی بلکہ ن لیگ کے بے لگام مشیروں کی بدزبانی اور بے تدبیری نے سردار صاحبان کو پارٹی سے مزید دور کر دیا۔ یہ ایسے ہی مشیروں کی بدتدبیریوں کا شاخسانہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کو باہم دست و گریباں کرکے ایک تماشا لگا دیا جس کا پورا جگ تماشائی ہے۔ اس تماشے کے پیچھے بھی ایک باقاعدہ پلاننگ ہے جسے تحریک انصاف اور ن لیگ دونوں کی قیادت سمجھنے سے قاصر ہے یا اپنے اپنے طاقتور ہونے کے زعم میں سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ ان کی سر پھٹول دیکھ کر شہد بھری انگلی لگانے والے اسلام آباد کے ایوانوں کی دیوار سے جھانک کر قہقہے لگا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی سے بظاہر آدھا الیکشن تو جیت لیا ہے‘ باقی کسر الیکشن کے روز پوری ہو جائے گی۔ کیپٹن صفدر‘ امیر مقام اور صابر شاہ و مہتاب عباسی کے معاملے کا پارٹی قیادت نے نوٹس ضرور لیا لیکن ایسے واقعات سے جو معمول بن چکے کارکنوں میں مایوسی پھیلتی ہے۔ جس سے لامحالہ پارٹی کو ہی نقصان پہنچتا ہے۔ ن لیگ میں انتشار اور اسکی تحریک انصاف سے دھینگا مشتی جونہی جاری رہی تو یہ دونوں پارٹیاں اگلے پانچ سال پی پی اور اسکے اتحادیوں کو حکمرانی کرتے ہوئے حسرت بھری نظروں سے دیکھتی رہیں گی۔ الیکشن میں کچھ کمانا ہے تو مسلم لیگ ن اپنا گھر مضبوط کرے۔ اندرونی نفاق کو اتفاق میں بدلنے کیلئے کوئی پتھر بھی بے الٹا نہ چھوڑے۔ مسلم لیگ ن کے ہر کسی پر دروازے بغیر کسی ”اگر‘ مگر البتہ اور تاہم“ کے کھول دے‘ ق لیگ کو ساتھ ملانے کی کوشش کرے۔ پیر پگارا نے کہا ہے کہ آئندہ وزیراعظم متحدہ مسلم لیگ کا ہو گا۔ اس خواب اور خواہش کو مسلم لیگ ن‘ مسلم لیگی دھڑوں کو متحد کرکے عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔ بشرطیکہ پیر صاحب پگاڑا کو بھی قابل قبول ہو!
کسی بھی پارٹی کو اپنی مرضی کی سیاست کرنے اور اپنا اتحادی بنانے یا خود اتحادی بننے کا حق حاصل ہے۔ تاہم حقائق کو نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔ عمران خان ہوائی شہرت اور کاغذی مقبولیت کے پہاڑ سے نیچے اتریں‘ آج ملک کو دو پارٹی سسٹم کی طرف لے جانے کا بہترین موقع ہے۔ وہ اس کا تعین کریں کہ دو پارٹی سسٹم کی کارفرمائی میں ان کا کیا کردار ہو سکتا ہے۔ سردست ان کو الزامات اور جوابی الزامات کی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہو گی۔ اسکے بعد فیصلہ کریں کہ ان کا فطری اتحاد پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن میں سے کس کے ساتھ بنتا ہے اور یہ ملک و قوم کے لئے کتنا سود مند ہو سکتا ہے۔

Wednesday, August 8, 2012

اَبا جی خدا کے حضور


بدھ ,08 اگست ,2012
   
اَبا جی خدا کے حضور
  فضل حسین اعوان
 

میرے قبلہ و کعبہ 91سال کی عمر میں خدا کے حضور پیش ہو گئے۔ یہ 13 رمضان المبارک 1433ھ 2اگست2012ءجمعة المبارک کی سعد گھڑی تھی۔ والدہ کا چار سال قبل 19رجب المرجب بمطابق 23جولائی2008ءکو انتقال ہوا تھا۔ والدہ کی محرومی بجا طور پر محسوس ہوتی تھی۔ اس لیے میں نے لاہور سے اپنے گاﺅں جانے کا سلسلہ پہلے سے تیز کر دیا تھا۔ والد اور والدہ کے پیار کرنے کا الگ الگ طریقہ تھا۔ میں گاﺅں جاتا واپسی کے لیے اٹھتا تو امی مزید رکنے پر اصرار کرتی تھیں میں واپسی پر بضد رہتا تو ہاتھ جوڑ دیتیں جو پاﺅں کی زنجیر بن جاتے۔ اس کا میں نے یہ حل نکالا کہ ایک روز بعد آنا ہوتا تو میں کہہ دیتا آج ہی جانا ہے وہ کہتیں آج نہیں جانے دوں گی۔یہ ڈرامہ بازی عظیم ہستی کو خوش کرنے کے لیے کی جاتی تھی۔ اباجی سے جب بھی اجازت مانگی انہوں نے سر پردست شفقت رکھ دیا؟
میرے دادا کا میرے والد کی پیدائش سے قبل ہی انتقال ہو گیا تھا۔ والد صاحب کی پیدائش 1921ءکی ہے وہ فوج میں جولائی 1940ءکو بھرتی ہوئے۔ 17نومبر 1946ءکو عالمی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ اس روز شام ڈھلے وہ میدان جنگ میں تھے کہ دشمن نے مورچے سے عین سینے کا نشانہ لے کر فائر داغ دیا گولی دائیں پھیپھڑے کو چیرتی ہوئی جسم کے پار ہو گئی۔ اس دور میں جدید طب کے فقدان کے باوجود خدا نے ان کو زندگی بخش دی۔ 65ءکی جنگ میں بھی حصہ لیا، جالندھر کے قریب ملکو ترال گاﺅں سے ہجرت کرکے گاﺅں بندے کی جاگیر تحصیل ننکانہ ضلع شیخوپورہ میں سکونت اختیار کی۔ ہجرت کی صعوبتیں اپنی جگہ تاہم یہ قافلہ راستے میں لٹنے اور کسی قسم کی قتل و غارت سے محفوظ رہا۔ ابا جی کے لواحقین میں ہم پانچ بھائی ہیں۔ انتقال کے وقت ان کے خاندان کی بہو بیٹے پوتے اور پڑپوتوں سمیت تعداد چالیس ہے۔ وہ 1946ءمیں سینہ چھلنی ہونے کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ خدا نے مجھے یہ گلشن و گلستان دیکھنے کے لئے زندہ رکھا۔      میں نے ہوش سنبھالا تو وہ باریش تھے۔ تہجد گزار اور باجماعت نماز کا اہتمام کرتے درود پاک خصوصاً درود تاج کا ورد کثرت سے کرتے تھے۔ سورہ یٰسین روزانہ پڑھتے، ان کی حضور سے محبت، عقیدت اور احترام کے باعث میںان کو عاشق رسول سمجھتا ہوں۔میں ان کے پاس بیٹھا ہوتا یا کوئی اور وہ تبلیغ یا کوئی نصیحت ضرور کرتے تھے۔ اپنے والدین کے ایصال ثواب کے لیے خیرات کرتے، چاولوں کی دو دیگیں محرم اور دو رمضان المبارک کو دیتے تھے۔ گھر کے تمام فیصلے وہی کرتے تھے۔ ایک بار نماز کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ والدین کی روحیں ایصال کئے گئے ثواب سے مطمئن ہوتی ہیں جن کے لیے دنیا میں کوئی ایصال ثواب کے لیے نہیں ہوتا ان کی روحیں عام مسلمانوں کے ایصال کئے گئے ثواب کو چنتی ہیں۔ ایک شخص آرام سے بیٹھا یہ منظر دیکھا کرتا تھا۔ ایک دن وہ بھی عام مسلمانوں کی دعاﺅں کے ثواب کو چن رہا تھا۔ کسی دوسرے نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا آج میرا بیٹا مر گیا وہ مجھے کلام پڑھ کر بخشا کرتا تھا۔
مجھے دفتر میں والد صاحب کی طبیعت بگڑنے کی اطلاع ہوئی۔ میں نے گھر والوں کو تیاری کا کہا۔ گھر سے تقریباً 6بجے روانہ ہوئے افطار کا سامان ساتھ رکھ لیا۔ ہم جلدی اس لئے جا رہے تھے کہ اباجی کو مل کر رات گیارہ بارہ بجے واپس آ جائیں گے۔ رات آٹھ بجے افطاری کے ایک گھنٹہ بعد گھر کے باہر ہی تھے کہ رونے کی آوازوں نے سکتہ طاری کر دیا۔ گویا عزرائیل ہم سے زیادہ جلدی میں تھا۔ یہ شدید حبس کا موسم تھا۔ بجلی چار گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لئے آتی تھی جو سات بجے گئی جسے 11بجے آنا تھا۔ خدا کی قدرت کہ 2اگست کو حبس میں پہلے جیسی شدت اور موسم میں حدت نہیں تھی۔ اگلے روز سپرد خاک کیا تو ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ وہ اسلامی احکام کی جس طرح بجا آوری کرتے مجھے ان میں قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی ایک جھلک نظر آتی تھی۔ والد صاحب کسی بڑی جائیداد کے مالک نہیں تھے البتہ جو بھی تھی وہ ان کے نام تھی۔ چند سال قبل اس میں سے چند مرلے مسجد کے امام کی رہائش کے لئے وقف کر دیئے جس میں آج امام صاحب رہائش پذیر ہیں۔ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود ان کی صحت قابل رشک تھی۔ پوری زندگی ناشتے میں دہی کی پیالی اور رات کو کھانے کے بعد دودھ کا گلاس ان کی خوراک کے لازم جزو تھے۔ وہ اس کو اپنی مثالی صحت کا راز قرار دیتے تھے۔ وہ کسی مرض میں مبتلا نہیں تھے۔ وفات سے پندرہ بیس روز قبل علیل ہوئے تاہم محتاجی ایک دن بھی نہیں رہی۔ انتقال کے دن بھی صبح باتھ روم جا کر خود ہی غسل کیا.... اس دنیا سے آخر ہر کسی نے اٹھ جانا ہے۔ بزرگ اٹھتے ہیں تو سر سے سائبان اٹھ جاتا ہے، دعاﺅں کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ والدین کے انتقال کے بعد ان کے لئے ہماری دعائیں ہی ہماری ان کے ساتھ محبت عقیدت و احترام کا اظہار اور یہی دعائیں ان کا اثاثہ ہیں۔
میری خواہش اور دعا ہے کہ مذہبی حوالے سے میں ابا جی جیسا بن جاﺅں۔ وہ جس دن فوت ہوئے اس دن کے بعد سے میری بے قراری میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خدا ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے اور ہم لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ جن احباب نے فونز‘ میسجز، ای میلز کے ذریعے گھر اور دفتر تشریف لا کر حوصلہ دیا اور مغفرت کے لئے دعا کی، میں ان کا شکر گزار ہوں۔

Saturday, August 4, 2012

”الیکشن نہیں تبدیلی؟“


”الیکشن نہیں تبدیلی؟“

02 اگست 2012 0  

میڈیا کسی دور کا ہو اور وہ جس شکل میں بھی ہو‘ اسکی خاص اہمیت اور کردار رہا ہے۔ آج کے جدید دور میں میڈیا کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے اور وہ کسی بھی موضوع‘ معاشرے‘ ادارے اور شعبے میں چار چاند لگانے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ آج میڈیا پر شدید تنقید کی جاتی ہے‘ اس میں میڈیا کا قصور نہیں‘ اگر کوئی برائی ہے تو اسکے استعمال اور اس کو استعمال کرنے والوں میں ہے۔ میڈیا کے مثبت کردار کے باعث آپ نے حکومتوں کو اپنی پالیسیاں بدلتے اور رائے عامہ کو ہموار و استوار ہوتے دیکھا ہے۔ منفی کردار سے کئی برائیاں جنم لیتی ہیں‘ معاملات بگڑتے ہیں۔ عوامی رائے میں کرب اور اشتعال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نان ایشوز کو ایشوز بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے اپنے مسائل اور ایشوز کیا کم ہیں لیکن بحث ہو رہی ہوتی ہے ویناملک اور میرا کی بھارت میں گل کاریوں کی۔ ان معاملات پر علمائے کرام کو بھی بحث میں مبتلا اور بے عزت ہوتے دیکھا گیا۔ میڈیا کی عمومی رسوائی کی وجہ میڈیا کی باگ ڈور ناتجربہ کار مالکان اور پھر معاملات نوآموز اینکرز کے ہاتھ میں آجانا ہے۔ ان اینکرز کے پروگرامز میں ہلہ‘ گلا‘ گالم گلوچ اور دھینگا مشتی کے مناظر بھی دیکھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اینکر نے شیطان کی طرح انگلی لگائی اور مہمانوں کو ایک دوسرے پر لپکنے اور جھپٹنے کیلئے چھوڑ دیا۔ یہ اینکرز خود اگر کسی پروگرام میں مل بیٹھیں تو سماں ایسا ہی ہوتا ہے جیسے انکے پروگراموں میں۔ کوئی دوسرے کی نہیں سُنتا‘ اپنی اپنی کہے جا رہا ہوتا ہے۔ یہ اینکرز کی کم علمی‘ ناتجربہ کاری‘ جہالت اور کم عقلی کا نتیجہ ہے جسے وہ اپنی کامیابی گردانتے ہیں‘ ایسے اینکرز کے پروگرام سنجیدہ قارئین کیلئے اذیت ناک بنتے ہیں تو وہ پروگرام کیا چینل دیکھنے سے بھی تائب ہو جاتے ہیں۔ اپنے پروگرام کو کامیابی کی دلیل سمجھنے میں اینکرز کی معصومیت اور بھولپن کا بھی دخل ہے۔ ہمارے معاشرے میں منافقت بھی در آئی ہے۔ آپ نے جیسا بھی کالم لکھ دیا اور ٹی وی پر جو بھی کہہ دیا‘ آپ کے ساتھی اسے بوجوہ شاندار‘ بے مثال‘ اعلیٰ و عمدہ ترین قرار دینگے۔ آپکے سامنے تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے بیوقوف بنائیں گے اور پیٹھ پیچھے مذاق اڑائیں گے۔ معاشرتی رویے کے مدنظر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ساتھیوں اور واقف کاروں میں دل سے آپکی صلاحیت کو سراہنے والوں کی تعداد ایک فیصد سے زیادہ نہیں‘ باقی سب منافقت ہے۔ اصل فیڈ بیک وہ ہے جو غیرجانبدار لوگوں کی طرف سے آتی ہے، جن کا آپ سے کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ پروگراموں کے دوران ہونیوالی دھینگا مشتی کو کتنے لوگ سراہتے ہیں؟ پھر یہ بھی جاری ہیں کیونکہ ساتھی اور خوشامدی ہلہ شیری دیتے ہیں،99 فیصد محض آپکو خوش رکھنے کیلئے تعریف کرتے ہیں اور اس کا تسلسل ٹوٹنے نہیں دیتے۔ جب تک میڈیا میں حادثاتی اور کمالاتی طور پر آنیوالے موجود ہیں میڈیا کی بدنامی جاری رہے گی۔ تاآنکہ وہ پروفیشنل بن جائیں۔ ان لوگوں کا پروفیشنل کہاں تک ممکن ہے جنہوں نے اپنے کاروبار کو تحفظ دینے اور مفادات کو مزید بڑھانے کے لئے میڈیا سنٹر کھول رکھے ہیں گویا یونہی امن کی آشا کا تماشا لگا رہے گا‘ معاشرہ گمراہی کی منزل کو حق و صداقت کی منزل سمجھ کر اسکی طرف گامزن رہے گا‘ البتہ قلیل ہی سہی‘ ایسے میڈیا گروپس بھی موجود ہیں‘ سچائی جن کا اوڑھنا بچھونا ہے جو معاشرے کی بُرائیوں‘ سیاست کے ناسُوروں پر نشتر زنی کرتے رہتے ہیں۔ میڈیا کی آبرو انکے ہی دم قدم سے ہے۔ اینکرز میں بھی کچھ سمجھدار ہیں جو ریٹنگ کے چکر میں پڑے بغیر اپنا کام کرتے ہیں۔ ان کے شاباش
آج میڈیا اس قدر وسیع ہو گیا ہے کہ اسکی حدود کا تعین ممکن نہیں‘ کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ میڈیا حدود سے باہر ہو چکا ہے‘ کسی حد تک ایسا ہے جو فی الوقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ وسیع تر میڈیا سے مُراد خبروں اور اطلاعات کےلئے روایتی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا تو ہے ہی اب غیر روایتی ”خودرو“ سوشل میڈیا بڑا فعال ہے۔ اس میں ویب سائٹس ‘ ای میل‘ فیس بک ‘ ٹوئٹر اور سکائپ وغیرہ ہیں۔ موبائل فونز بھی آج رائے عامہ کے سلجھانے یا بگاڑنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میسجز کے ذریعے خیراور شر کو اپنی مرضی سے پھیلایا جا رہا ہے۔ موبائل پیغامات کے ذریعے اچھے یا بُرے مقاصد روایتی میڈیا کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ موبائل میڈیا کو نیک مقاصد کی خاطر استعمال کرنے کیلئے ایک کاوشِ مسلسل کی ضرورت ہے۔ غیر روایتی میڈیا نے اپنی حیثیت برما میں مسلمانوں پر بدھوں‘ بدھ فوج اور پولیس کے مظالم پوری دنیا پر آشکار کرکے منا لی ہے۔ آج ایک اور تحریک سوشل میڈیا پر شروع ہوئی ہے ”ہمیں الیکشن نہیں‘ تبدیلی چاہیے“ یہ خطرناک تحریک ہے جو ہمارے سیاست دانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر یہ روایتی میڈیا میں بھی آ گئی تو اس کی پذیرائی یقینی ہے پر بہت کچھ ہو سکتا ہے جو طالع آزماﺅں کیلئے تو خوشگوار ہو گا لیکن مروجہ جمہوریت اور جمہوریت دانوں کے لئے نہیں۔ غیر روایتی میڈیا پر اس جمہور دشمن تحریک کا مقابلہ کرنا ضروری ہو چکا ہے۔ !

Wednesday, August 1, 2012

سعودی حکمران بند گلی میں؟



     
سعودی حکمران بند گلی میں؟ 











کالم نگار  |  فضل حسین اعوان




29 جولائی 2012 1  

آل سعود ’سعودی عرب کا شاہی خاندان ہے‘ جدید مملکت سعودی عرب کی بنیاد 1932ءمیں پڑی۔ اسکے بانی عبدالعزیز بن سعود تھے۔ موجودہ خاندان سعود تقریباً 25 ہزار ارکان پر مشتمل ہے۔ جن میں شہزادوں کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ سعود خاندان کے بادشاہوں نے اس ترتیب کے ساتھ اپنے سر پر تاج سجایا۔ عبدالعزیز بن سعود‘ سعود بن عبدالعزیز‘ فیصل بن عبدالعزیز‘ خالد بن عبدالعزیز‘ فہد بن عبدالعزیز‘ عبداللہ بن عبدالعزیز۔ 60 سال میں چھ بادشاہ‘ ان میں سے نام سے ہی ظاہر ہے کہ اول الذکر عبدالعزیز دیگر کے والد گرامی ہیں‘ امریکی جریدے اکانومسٹ نے اپنی ایک اشاعت میں لکھا کہ عبدالعزیز کے تین درجن بیٹوں میں سے سب سے چھوٹے بیٹے مقرن کی عمر ستر سال کے قریب ہے۔ ان پر دو مرتبہ دل کا حملہ ہو چکا ہے‘ جن کے بارہ میں سے دو بیٹے اسی بیماری سے اپنی جاں‘ جانِ آفرین کے سپرد کر چکے ہیں۔ موجودہ بادشاہ‘ شاہ عبداللہ کی عمر 89 سال اور وہ کمر کی شدید درد میں مبتلا ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ولی عہد شہزادہ سلطان علالت کے باعث انتقال کر گئے‘ انکی عمر 80 سال سے زائد تھی۔ آج کے ولی عہد شہزادہ نائف بھی 80 سال کے ہونے والے ہیں‘ دی اکانومسٹ نے مزید لکھا کہ بادشاہت جب تک ہے‘ سعود خاندان میں ہی رہے گی اور شاہ عبدالعزیز کے بیٹوں پر اس کا پہلا حق ہے۔ جن میں سے ہر کوئی 70 سال سے زائد عمر کا ہے اور اکثر کسی نہ کسی بیماری کے شکار ہیں۔ دی اکانومسٹ کی رپورٹ غیرجانبدارانہ ہے یا تعصب پر مبنی‘ بہرحال سربراہ مملکت کی عمر رسیدگی اور بیماری سے ضروری نہیں ہے کہ ریاست بھی بیمار ہو جائے۔ ریاست کو بیماری نوجوان اورصحت مند قیادت کی موجودگی میں بھی لگ سکتی ہے۔ ریاست کی ترقی و خوشحالی کا مکمل دارومدار لیڈر شپ کی اہلیت‘ قابلیت اور اسکی نیک نیتی پر ہوتا ہے۔ جب تک قیادت نئے نظریات تخلیق کرکے ان پر زمانے کی جدت اور عصری تقاضوں کے مطابق عمل پیرا رہتی ہے ترقی و خوشحالی کے مزید در کھلنے کے ساتھ ریاست اندرونی و بیرونی خطرات سے بھی محفوظ رہتی ہے۔ 
آج کے جدید دور میں سعودی عرب کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے‘ دونوں محاذوں پر مخصوص حالات کے باعث ماحول سازگار نہیں‘ دوسری صورت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ سعودی ریاست یا بادشاہت کےخلاف دو سطحوں پر سازشیں ہو رہی ہیں۔ تاہم دونوں سطحوں پر ایک بے چینی بھی موجود ہے‘ جسے سازش کا نام نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ سعودی عرب اور اسکے حکمران‘ دونوں کا دیگر ممالک اور انکے حکمرانوں کے مقابلے میں ایک بہت بڑا امتیاز ہے۔ سعودی عرب ،خانہ خدا اور مسکن نبوی ہونے کے باعث مسلمانوں کیلئے عزیز ازصد جان ہے۔ یقیناً انکے ظاہری پاسباں اور نگہباں انکی حفاظت‘ ادب اور احترام میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے‘ اس لئے ان کو بھی دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا مسلمان بڑی عزت اور احترام سے دیکھتا ہے۔ گویا سرزمین حجاز کے حکمرانوں کو مسلمان اپنے دل کے قریب سمجھے جاتے‘ اس لئے ان پر لازم ہے کہ اپنی پالیسیوں خصوصی طور پر خارجہ پالیسی کے باعث کسی مسلمان کے آئینہ دل پر بال نہ آنے دیں۔ 
آج دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے جس میں ہر ملک کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ خصوصی طور پر وسائل سے بھرپور اور ترقی یافتہ ممالک کی‘ سعودی عرب بھی ان میں سے ایک ہے‘ اسے اپنی خارجہ پالیسی ترتیب دیتے وقت اپنی خصوصی حیثیت و مقام کے باعث دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ مغربی ممالک کی انفرادی اور اجتماعی سطح پر مسلمانوں کے حوالے سے ایک پرخاش انکی پالیسیوں اور اقدامات سے واضح ہو جاتی ہے۔ افغانستان‘ عراق پر حملہ‘ پاکستان میں ڈرونز کے ذریعے ہلاکتیں‘ لیبیا کی تاراجی اور اب شام پر بھی ایسی ہی یلغار کی تیاری‘ مغرب کی اسلام دشمنی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ تیونس‘ مصر اور یمن کے مغرب نواز حکمرانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اور اس پر امریکہ اور اسکے ساتھیوں کی خاموشی بھی یہ ظاہر کرتی ہے کہ شاید ان کا بھی طویل عرصہ سے اقتدار میں موجود حکمرانوں سے دل بھر چکا تھا۔ سعودی عرب میں تو سعود خاندان 1932ءسے تخت پر موجود ہے جس کا تختہ کرنے کی ایسی ہی کوشش ہو رہی ہے۔ جیسی مصر‘ تیونس اور یمن میں ہوئی۔ عالم اسلام میں سعودی ریاست اور اسکے حکمرانوں کے خصوصی مقام اور احترام کے باعث ایسا کرنا چونکہ آسان نہیں ہے اس لئے اپنے عزائم کو عمل کی صورت دینے کیلئے بھی خصوصی اہتمام کیا گیانظر آتا ہے۔ آج سعودی حکمران مغرب خصوصاً امریکہ کے زیر اثر ہیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال 2011ءمیں سعودی عرب نے امریکہ سے ساٹھ ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا‘ سعودیہ کی خارجہ پالیسی پر بھی امریکہ کے اثرات واضح ہیں‘ شام اور بحرین میں سعودی عرب اور امریکہ کی پالیسی ایک جیسی ہے۔ ایران کے حوالے سے بھی کوئی واضح تضاد نہیں ہے۔ سعودی عرب کو ایرانی‘ شامی اور بحرینی عوام کے سامنے متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ آج ان ممالک میں سعودی عرب کو چاہنے اور نہ چاہنے والے دو گروہوں میں بٹ چکے ہیں۔ تعداد کسی بھی گروہ کی کم زیادہ ہو سکتی ہے ۔دیگر تمام اسلامی ممالک میں بھی سعودی پالیسیوں کو اسکی ایران‘ شام اور بحرین کے حوالے سے پالیسی یا اقدامات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ گویا سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اکثر اسلامی ممالک کے لوگوں میں ایک بے چینی سی پائی جاتی ہے۔ خواہ ان لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہو۔ سعودی حکمران اپنے مقام اور احترام کے باعث ایسی کسی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ 
اندرونی طور پر آپکی پالیسیاں اور گورننس جس قدر بھی شفاف ہو‘ باہر سے نقصان پہنچانے والے اپنی ”کارگزاری “دکھا گزرتے ہیں۔ جدید دور میں میڈیا پر قدغنوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ انٹرنیٹ کی سکرین پر پوری دنیا سکڑ کر سما گئی ہے۔ دنیا میں اگر کہیں عملی طور پر اسلام کا مکمل یا کسی حد تک نفاذ نظر آتا ہے تو وہ واحد مملکت سعودیہ ہے۔ اب جدید میڈیا کے ذریعے مغرب کہہ لیں یابیرونی عوامل‘ ایک خاص سوچ کے تحت اسلام پر کاربند معاشرے کی سوچ کو اپنی سوچ میں ڈھالنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے نوجوان نسل میں گمراہی کے جراثیم کسی حد تک سرایت کرتے ہیں تو آزادی کی باتیں سامنے آتی ہیں۔ خواتین ڈرائیونگ‘ ذاتی بزنس‘ بیرونی ممالک کے دوروں کا مطالبہ کرتی نظر آتی ہیں۔ کسی کو شخصی آزادی اور کسی کو جمہوریت کا تاپ چڑھا ہواہے۔ وہ ہمارے ہاں سے جمہوریت مستعار لے کر جمہوریت کا حسن دیکھ لیں۔ 
سعودی حکمرانوں نے جدید تقاضوں کو محسوس ضرور کیا ہے اس کیلئے جو اقدامات کئے ہیں‘ اس پر بھی اندرون ملک اور بیرون ممالک ایک تشویش پائی جاتی ہے۔ ایک طبقہ خواتین کو وہ آزادی دینے کے حق میں نہیں جس کا مطالبہ اندرون ملک ایک مٹھی بھر خواتین پر مشتمل گروہ کرتا ہے۔ اکثر مسلمان چونکہ سعودی نظام اسلام کو آئیڈیل سمجھتے ہیں‘ وہ بھی خواتین سمیت ہر مسلمان کیلئے قائم اسلامی حدود کو لازم قرار دیتے ہیں۔ سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ‘ بزنس‘ بیرونی ممالک دوروں اور عالمی کھیلوں میں شرکت کی اجازت‘ ان کیلئے پریشانی کا باعث ہے۔ سعودی حکمرانوں کے خلاف ہونیوالی سازشوں کو سمجھنے کیلئے عالمی میڈیا میںپھیلائی جانیوالی افواہوں کا اندازہ ذیل کی رپورٹس سے لگایاجاسکتا ہے۔ امریکہ کی بیرونی تعلقات کونسل( Foreign Relations Council ) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے سعودی عرب کی کل آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور بقول اس ادارے کے ، شیعہ مسلمانوں کا تناسب 15فیصد ہے اور اس حساب سے اس ملک میں شیعہ آبادی چالیس لاکھ افراد کے لگ بھگ ہے جو کویت،قطر،بحرین اور امارات کی مقامی عرب آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔
     
سعودی حکمران بند گلی میں؟
01 اگست 2012 0  

 یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ولی عہد شہزادہ سلطان امریکہ کے ایک ہسپتال میں 87سال کی عمر میں انتقال کرگئے ان کی جگہ شہزادہ نائف کو ولی عہد مقرر کیا گیا تھا وہ علاج کی غرض سے سوئٹزرلینڈ میں تھے کہ 16جون 2012کو چل بسے ان کی جگہ سلمان بن عبدالعزیز نے لے لی جو شاہ عبداللہ سے دس سال چھوٹے ہیں ان کو دو مرتبہ سٹروک ہوا جبکہ ان کے بارہ میں سے دو بیٹے دل کے عارضہ کے باعث فوت ہوچکے ہیں۔سعودی حکمرانوں کے خلاف ہونیوالی سازشوں کو سمجھنے کیلئے عالمی میڈیا میںپھیلائی جانیوالی افواہوں کا اندازہ ذیل کی رپورٹس سے لگایاجاسکتا ہے۔ امریکی کی بیرونی تعلقات کونسل( Foreign Relations Council ) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے سعودی عرب کی کل آبادی ڈھائی کروڑ ہے اور بقول اس ادارے کے ، شیعہ مسلمانوں کا تناسب 15فیصد ہے اور اس حساب سے اس ملک میں شیعہ آبادی چالیس لاکھ افراد کے لگ بھگ ہے جو کویت،قطر،بحرین اور امارات کی مقامی عرب آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔
 ادھر ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں زوردے کرکہا کہ سعودی عرب کی شیعہ آبادی کو بے روزگاری کی وجہ سے سخت دشواریوں کا سامنا ہے اور آل سعود کا امتیازی سلوک یہاں تک ہے کہ کوئی مقامی شیعہ باشندہ فوجی اکیڈمیوں کے قریب جانے کا مجا ز تک ہیں۔دوسری طرف ” بزنس ویک“ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں اقلیتوں کے ساتھ بد سلوکیوں اور امتیاز طرہ سلوک کی بنا پر کوئی شیعہ باشندہ جج نہیں بن سکتا اور سرکاری یا فوجی اداروں میں کسی اعلیٰ عہدے پر فائز نہیں ہوسکتے۔
 عربی سعودی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2011کا بجٹ سرپلس تقریباً 49ارب ڈالر رہا جو اس ملک کی جی ڈی پی کا 9.1حصہ بنتا ہے لیکن اس کے باوجود معتبر بین الاقوامی جریدے ”اکانومسٹ“ نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں بیروزگاری کی شرح بدستور35فیصد ہے گو کہ آل سعود کی سرکاری رپورٹ کے مطابق اس ملک میں بیروزگاری کی شرح10.6فیصد ہے!۔ امریکہ کی جارج ٹاﺅن یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی 22فیصد آبادی غربت و افلاس کا شکار ہے اور جریدہ ” ٹائم“ کے مطابق ہر سات سعودیوں میں سے ایک ” پڑھنا لکھنا نہیں جانتا یعنی ملک کی 14.28فیصد آبادی ناخواندہ ہے “۔
ہوسکتا ہے ان رپورٹس میں کوئی حقیقت بھی ہو۔دونوں صورت میں سعودی حکام کو ان کا تدارک کرناچاہئے۔مغربی میڈیا کی ایسی رپورٹس کو بڑھا چڑھا کر چند اسلامی ممالک بڑے زور شور اور اہتمام کے ساتھ پھیلائی جارہے ہیں۔وجہ اس کی بھی وہی، امریکہ کے زیر اثر سعودی پالیسیاں ہیں۔ ملک کے تمام اہم عہدے سعود خاندان کے پاس ہیں۔یوں سمجھئے کہ گورننس پر شاہی خاندان کی مکمل گرفت ہے اور شاید سعودی شہری نفسیاتی طورپر شاہی خاندان کی حکومت پر مضبوط گرفت سے مرعوب بھی ہیں اسی تناظر میں دی اکانومسٹ نے اپنے ایک آرٹیکل The long day closes میں جو لکھا وہ سعودی حکمرانوں اور شہریوں کیلئے ایک پیغام ہے۔” السعود تو شائد اپنے آپ کو نئی دنیا کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ڈھال لیں لیکن ان کے اپنے لوگوں میں سے بہت سے اس حوالے سے مشکوک و شہبات کا شکارہیں۔ جدہ کے ایک وکیل نے اپنے آراستہ اور جھنڈیوں سے سجے دفتر میں بیٹھے ایک قرآنی آیت کے حوالے سے حضرت سلمان علیہ السلام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جن ان کے تابع تھے جن کو انہوں نے عبادت گاہوں اور تالابوں کی تعمیر پر لگا رکھا تھا۔جن محنت مشقت کرتے اور وہ اپنے عصا سے ٹیک لگائے کھڑے دیکھتے رہتے تاوقتیکہ دیمک لگنے سے عصا ٹوٹ گیا اور وہ گر پڑے، تب جنوں کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا۔حضرت سلمان علیہ السلام تو کب کے انتقال کر چکے اور وہ ان کو زندہ سمجھ کر کام میں جُتے رہے۔آج سعودی عرب میں حکمرانوں کیخلاف ایک مخصوص ذہنیت کے لوگ مظاہرے کر رہے ہیں‘ وہ بھی کسی بیرونی طاقت کے اشارے کے بغیر نہیں ہو سکتے۔ گویا آج سعودی حکمران ایک بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں‘ اس سے سرخرو ہونے کیلئے 1932ءکے بعد کسی بھی دور سے زیادہ حکمت‘ دانش اور اہلیت و قابلیت اور اس کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔         (ختم شد)