About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, September 9, 2012

عبوری حکومت کا فارمولا


اتوار ,09 ستمبر ,2012

     
عبوری حکومت کا فارمولا

 جمہوریت آج ایک ڈر، خوف وحشت اور دہشت بن چکی ہے۔لوگ مروجہ جمہوریت کو دیکھ کر اس سے تائب ہوچکے ہیں۔ جمہوریت نے ملک اور عوام کو کیا دیا۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ،کاروباروں کی تباہی، اداروں کی بربادی، بیرونی قوتوں کی غلامی، خود مختاری کی نیلامی، عدلیہ کی تضحیک، حساس اداروں کی تذلیل، کشمیر پر دیرینہ موقف سے اغماض یہ اور ان جیسے دیگر بہت سے تحفے جمہوریت کا ثمر ہیں۔ کیا جمہوریت اسی کا نام ہے؟ کیا قائد پاکستان میں ایسی ہی جمہوریت کا نفاذ چاہتے تھے؟ ہم نے جن ممالک کی طرز پر اپنے ہاں جمہوریت رائج کرنے کی کوشش کی کیا ان ممالک میں بھی ایسی ہی جمہوریت رائج ہے؟ کوئی بھی سسٹم ہو اس کو نیک نیتی سے تشکیل اور ترتیب دیا جاتا ہے۔ عوام تک اس کے کیسے ثمرات منتقل ہوتے ہیں۔مثبت یا منفی۔ پھل میٹھا ہوتا ہے یا کڑوا۔ اس کا مکمل انحصار نظام کو نافذ کرنے والوں کی نیت اور اہلیت پر ہے جمہوری نظام مغرب میں کامیاب سے چل رہا ہے۔اسلامی ممالک کی بات کریں تو ترکی اور ملائیشیا جمہوریت کے کامیابی سے نفاذ کے حوالے سے خوبصورت مثالیں ہیں۔ پاکستان میں کیوں نہیں؟ وہ اس لئے کہ پاکستان کو کبھی جمہوری انداز میں چلانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ آمروں نے جمہوریت کے نفاذ میں ناکامی کا الزام لگا کر سیاسی حکمرانوں کے گلے پر انگوٹھا رکھا تو سیاستدانوں نے موقع ملنے پر جمہوریت کے نام پر آمرانہ رویے اختیار کئے۔ سیاستدانوں نے آمرانہ طریقے اگر ملکی ترقی، عوامی خوشحالی کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں کی تعمیر کےلئے استعمال کئے ہوتے تو وطن آج امن کا گہوارہ ہو گا اور یہاں کی ہوائیں اور فضائیں معطر و معتدل ہوتیں۔ جمہوری طریقے سے ملنے والے اختیارات ذاتی مفادات کیلئے استعمال ہوئے جس سے عام پاکستانی شدید متاثر ہوا۔ جمہوریت کو موم کی ناک سمجھ کر سیاستدان اپنے مفادات کی خاطر 
جس طرف چاہتے ہیں موڑ لیتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ آج ہر لمحے اور ہر قدم پر ہورہا ہے۔ آج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ ہو، حکمرانوں کی اقربا پروری ہو مہنگائی بیروزگاری اور لاقانونیت ہو تمام مسائل کی جڑ کرپشن ہے۔پٹواری لائن مین، پولیس سپاہی اور سرکاری محکموں کے اہلکار کی کرپشن نہیں، اعلیٰ شخصیات کی کرپشن، اربوں اور کھربوں روپے کی کرپشن ایک وزیر نے تو ٹی وی پر آکر کہہ دیا کہ کرپشن ہمارا حق ہے۔ جرنیل بھی پیچھے نہ رہے تین کو وردیاں پہنا کر ان سے 4 ارب روپے کی کرپشن کا حساب لیا جارہا ہے۔ملک سے صرف کرپشن کا خاتمہ ہوجائے تو عوام کے نوے فیصد مسائل حل ہوسکتے ہیں۔نیٹو کو فی لیٹر پٹرول44 روپے میں فروخت ہوتا ہے پاکستانی ایک سو پانچ روپے میں خریدتے ہیں جو رعایت غیر ملکیوں کو ہے وہ ہم وطنوں کو کیوں نہیں۔ نیٹو والے اسی پٹرول کو استعمال کرکے پاکستان پر یلغار کرکے اس دھرتی کا حلیہ بگاڑتے ہیں محب وطن پاکستانی ایک ایک تنکا اکٹھا کرکے وطن کو سنوارتے ہیں پھر رعایت کا زیادہ حق دارکون ہے؟
 اکثریت کے بل بوتے پر قومی مفادات میں کڑے فیصلے کرنے چاہئیں۔ کالا باغ ڈیم بنائیں دشمن سے اپنی شہ رگ چھڑائیں۔ اگر نیتیں درست ہوں تو سب کچھ ممکن ہے۔اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت بن سکتا ہے تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ترقی کی اوج ثریا اور خوشحالی کی معراج تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن ہمیں پالا خود غرضوں اور بد نیتوں سے پڑا ہے جو کڑے فیصلوں کے بجائے کوڑھے فیصلے کرتے ہیں۔توہینِ رسالت قانون میں شکوک شبہات پیدا کرتے ہیں۔ عدالتوں کی توہین کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ احتساب بل لایا جائے گا جو ماضی کی کرپشن پر لاگو نہیں ہوگا جو کھربوں روپے نگل گیا اس کو معاف‘ جو اربوں کی ایفیڈریشن کو سوٹا لگا دیاگیا اس کا کھاتا صاف، این آر او، این ایل آئی سی، حج کرپشن اور این ایل سی کی پہاڑ جتنی رقمیں ہضم، کھلے ریفرنسز بند، ریلوے،سٹیل پی آئی اے جو ڈکار گئے سو ڈکار گئے۔ وزیر قانون نے کہا ہے کہ نیا بل ماضی کی کرپشن پر لاگو نہیں ہوگا۔یہ بل ابھی آنا ہے۔کرپٹ لوگوں کیلئے نائیک کا بیان نوید بن کر نازل ہوا۔جہاں ہاتھ پڑا ہے سرِ عام لوٹ لو،قومی خزانہ نوچ لو، ماس سے آگے ہڈیو ں کے گودے تک، کیوں؟ اس لئے کہ جو کیا جولوٹا جو کھایا جو نوچا سب معاف ہونیوالا ہے۔
 جمہوریت کو جو ہیت دیدی گئی وہ ہیبت بن چکی ہے۔بات حکمرانوں کی سیاست دانوں کی ہورہی ہے۔ ان سیاستدان کی جن کی جھولی میں اقتدار گرتا ہے کچھ باری باری آتے ہیں تو کچھ پارٹی بدل کر اور ضمیر بیچ کر لگاتار اقتدار میں رہتے ہیں۔آج اس ہیبت وحشت اور دہشت سے نکلنے کی ضرورت ہے۔یہ ضرورت مروجہ طریقے سے ہونیوالے انتخابات سے پوری نہیں ہوگی۔اس کیلئے ایک بڑے اپریشن کی ضرورت ہے جو سیاست اور جمہوریت کے بدن سے ایک ہی بار تمام ناسور نکا ل دے۔اس حوالے سے اس فارمولے کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے جس کا تذکرہ اہل دانش اکثر کرتے ہیں۔تین چار سال کی عبوری حکومت۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اس فارمولے پر پیشرفت کیلئے کمر کس لی ہے چند روز قبل ڈاکٹر صاحب نے کچھ صحافیوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ وہ نو مبر میں اپنے اسی فلسفے کے ساتھ پاکستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ خود کو انتخابی سیاست سے دور رکھ کر سسٹم کو پٹڑی پر چڑھانے کا عزم صمیم ظاہر کر رہے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی کے ایجنڈے کو آگے نہیں بڑھا رہے۔ ان سے کسی نے رابطہ نہیں کیا وہ قومی و ملکی بھلائی کیلئے چار سال تک ایسے سسٹم کے نفاذ کے متمنی ہیں وہ ملک کو جمہوریت کے اصل ٹریک پر چڑھا دے۔اگر ڈاکٹر صاحب کسی کے رابطے اور ایجنڈے پر بھی ایسا کررہے ہیں تو بھی اس خیر کے کام میں کوئی حرج نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ قوم اور عدلیہ اور ادارے مل کر محب وطن اور اہل لوگوں کو چار سال میں جمہوریت کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنیکا لائحہ عمل مرتب کریں ان کو جو وقت دیا گیا اس سے آگے ایک دن بھی نہ جانے دیا جائے۔ ان کی تعیناتی سے قبل خدوخال طے کرلیے جائیں کہ ان کو اپنا کام ہر صورت مقررہ مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچانا ہے دوسری صورت میں ان کیلئے پہلے سے طے شدہ ضوابط میں کڑی سزا بھی متعین کر دی جائے۔ آمرانہ سوچ کے حامل سیاستدانوں اور روایتی حکمرانوں کیلئے ڈاکٹر صاحب کا فارمولا شیر کی ایک دھاڑ ہے ان کی آمد کا سن کر یقینا رن کانپ رہا ہے ۔بہر حال فارمولا معقول ہے۔
 شیخ الاسلام کی دعوت پر اکٹھے ہونیوالے صحافیوں میں سونے میں تولے ہوئے اور لاکھوںکی بولی لگوانے والے موجود نہیں تھے۔ پاکستان سے ہزاروں میل دو ر کینیڈا میں بیٹھے میزبان کو سعید آسی صاحب نے یاد دلایا کہ انہوں نے نوابزادہ نصر اللہ خان کو بھائی قرار دیا تھا جو خدا کو پیارے ہوگئے۔ آپ نے بینظیر بھٹو کو بہن بنایا تھا وہ قتل کردی گئیں آپ نے ایک اور سیاستدان مسرت شاہین کو ہمشیرہ کہا تھا وہ بفضل خدا حیات ہیںاس پر محفل کشت زعفران بن گئی جبکہ علامہ صاحب نے اس پر خاموشی اختیار کی البتہ چند روز قبل مسرت شاہین نے ایک بیان میں یہ کہا کہ ان کو عام انتخابات سے قبل قتل کردیاجائے گا۔ خدا شیخ الاسلام کی منہ بولی بہن کو محفوظ رکھے۔ اگر ڈاکٹر صاحب کے فارمولے پرعمل ہوجاتا ہے تو عام انتخابات آج سے ساڑھے چار سال بعد ہونگے۔ اگر قاتل ہاتھ انتخابات تک محترمہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تو محترمہ کو کم از کم ساڑھے چار سال کی مہلت تو مل جائے گی۔اس دوران سیاسی صورت حال اور مسرت شاہین کے مبینہ قاتلوں کی سوچ کوئی دوسرا رخ بھی اختیار کرسکتی ہے۔

Thursday, September 6, 2012

اللہ گواہی دیتا ہے ‘ شہید زندہ ہے


جمعرات ,06 ستمبر ,2012



     
اللہ گواہی دیتا ہے ‘ شہید زندہ ہے    

جنگ ِ65ءکیوں لڑی گئی‘ کن مقاصد کے تحت لڑی گئی ‘ کیا وہ مقاصد حاصل ہوئے‘ اگر اپنے دفاع میں لڑی گئی تو کس حد تک کامیابی ہوئی۔ بہرحال پاکستان نے یہ جنگ دشمن سے بڑی بہادری اور بے جگری سے لڑی اور دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ سوالات تو بہت سے ذہن میں ابھرتے ہیں جن پر تفصیلی بحث عموماً ہوتی رہتی ہے۔ 
ایوب خان نے چند ماہ قبل دنیا کے سب سے بڑے فراڈ صدارتی انتخابات کرائے تھے جن میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں اپنی جیت کا جھرلو کے ذریعے اہتمام کیا گیا تھا۔ جب وطن عزیز پر دشمن حملہ آور ہوا تو قوم وقتی طور پرہی سہی‘ تمام اختلافات اور تحفظات بھلا کر سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی قوم اپنی فوج کے شانہ بشانہ ہو‘ اسکی غداروں پر بھی کڑی نظر ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ اگلے محاذ پر لڑنا فوج ہی کا کام ہے۔ جذبہ جہاد اور ذوقِ شہادت سے معمور ایک سپوت دشمن کے کئی دستوں پر حاوی ہوتا اور بھاری پڑتا ہے۔ جذبہ شوقِ شہادت پاک فوج میں بدرجہ اتم موجود ہے جس کے مناظر قیام پاکستان کے بعد سے آج تک دیکھنے میں آتے رہے ہیں‘ اورکیوں نہ ہو! جبکہ شہید کے رتبہ و درجے کے بارے میں اللہ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
 ”تم ہرگز اللہ کی راہ میں شہید ہونیوالوں کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔رزق دیئے جاتے ہیں اور خوش باش ہیں“۔ لوگ سوچتے ہیں شہید کیسے زندہ ہیں اور ان کورزق کیونکر دیاجاتا ہے؟ قرآنِ کریم کے اس دعوے کے مظاہر اور شواہد اسلام کے ابتدائی دور سے آج تک دیکھنے میں آرہے ہیں۔اللہ کے برگزیذہ بندوں کا تو کفن بھی میلا نہیں ہوتا۔ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی ان کا جسدِ خاکی ترو تازہ اور معطر رہتا ہے۔ سید الشہدا سیدنا امیر حمزہؓ کی آخری آرامگاہ کے قریب سے نہر کھودی جارہی تھی۔لا علمی میں اچانک نہر کھودنے والے کا پھاوڑا آپ کے قدم مبارک پر پڑ گیا اور آپ کا پاﺅں کٹ گیا تو اس میں سے تازہ خون بہہ نکلا،حالانکہ آپ کو دفن ہوئے چالیس سال گزر چکے تھے۔ (حجة اللہ علی العالمین،من کرامات عبداللہ،ص615 ملخصا،مطبوعہ برکاتِ رضا ہند) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا جسم مبارک دو مرتبہ قبر مبارک سے نکالا گیا۔پہلی مرتبہ شہادت کے چھ ماہ کے بعد نکالا گیا، تو وہ اسی حالات میں تھے جس حالت میں دفن کیا گیا تھا (صحیح البخاری،کتاب الجنائز، باب ھل، یخرج ا لمیت، الحدیث 1351، ج ا، ص 454، دارالکتب العلمیة بیروت) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دوسری مرتبہ چھیالیس برس کے بعد اپنے والد ماجد( یعنی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ) کی قبر کھود کر ان کے مقدس جسم کو نکالا تو میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ اپنے زخم پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔جب ان کا ہاتھ اٹھایا گیا تو زخم سے خون بہنے لگاپھر جب ہاتھ زخم پر ہاتھ رکھ دیا گیا تو خون بند ہوگیا اور ان کا کفن جو ایک چادر کا تھا وہ بدستور صحیح و سالم تھا۔(حجة اللہ علی العالمین،من کرامات عبداللہ،ص615 ،مطبوعہ برکاتِ رضا ہند) پوری دنیا سے آنے والے لاکھوں زائرین کی موجودگی میں دو صحابہ کرام حضرت حذیفہ الیمانی اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اجسام مبارک کی منتقلی کا یہ واقعہ دیکھا غالباً20ذو الحجہ1351 ہجری میں پیش آیا۔ جس کی تفصیل کچھ یوںہے کہ دو رات برابر شاہِ عراق کو صحابی رسول حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں تشریف لا کر ارشاد فرمایا کہ میرے مزار میں پانی اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار میں نمی آنا شروع ہوگئی ہے۔اس لئے ہم دونوں کو اصل مقام سے منتقل کرکے دریائے دجلہ سے ذرا فاصلے پر دفن کردیاجائے۔ (  کتاب الاستیذان، باب من القی لہ و سادة، الحدیث6273، ج4، ص72، دار الکتب العلمیة بیروت) چند روز قبل ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک خوبصورت 18 انیس سال کا نوجوان دکھایا گیا ہے جس کو 1979 میں روسی فوجیوں نے طورخم میں شہید کردیا۔ چند روز قبل اس کے باپ نے خواب میں دیکھا کہ اس کا بیٹا اسے پکار رہا ہے۔اُس نے خواب میںہی اپنے جسد خاکی کی نشاندہی کی۔ بوڑھا والد خاندان کو لیکراس مقام پر پہنچا‘ مٹی ایک طرف کی تو خوبرو بیٹے کا بالکل ترو تازہ او ر معطر جسد برآمد ہوا اس کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک مثال لانس نائیک محمد محفوظ نشانِ حیدر کے ورثاءاور گاﺅں والوں نے ان کو قبرستان سے الگ دفنا کر مقبرہ بنانے کا فیصلہ کیا‘ اس وقت تک ان کو شہید ہوئے چھ ماہ 13 دن ہو چکے تھے۔ گرمیوں کا موسم تھا‘ قبر کی کھدائی شروع ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی اور آسمان پر بادل چھا گئے۔ میت نکالی گئی تو تابوت سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے جو گھر سے برتن منگوا کر محفوظ کر دیئے گئے۔ نئی قبر کھودی گئی تو وہ بھی پرانی قبر کی طرح معطر ہو گئی۔ شہید کے ایک بھائی نے دیدار نہیں کیا تھا‘ اس نے علماءسے دیدار کی درخواست کی‘ دوسروں کو کچھ نہ بتانے کی شرط پر اجازت دیدی گئی۔ بعد میں والدہ کے کہنے پر دیدار کرنےوالے نے بتایا کہ شہید کی داڑھی تین انچ بڑھی ہوئی تھی جو شہادت اور تدفین کے وقت موجود نہ تھی۔ چہرے پر بشاشت اور طمانیت تھی۔ سچ کہا ہے کہ....
محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا
شہید کے زندہ ہونے اور اسے اس کی آخری آرامگاہ میں رزق دئیے جانے کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔ شہیدوں کو رزق ملتا ہے تو ان کے بدن کے زخموں سے خون جاری رہتا ہے‘ یہی یقین اور جذبہ ہمیں دنیاوی زندگی کے مقابلے میں ابدی زندگی پر فوقیت دینے پر آمادہ و مائل کرتا ہے۔ بغیر کسی منفعت اور لالچ کے
شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن 
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

Wednesday, September 5, 2012

گورونانک کا ننکانہ


۔
     


ستمبر,4, 2012

بابا گورونانک کا ننکانہ    

سید شوکت علی شاہ کسی دور میں ننکانہ صاحب میں اسسٹنٹ کمشنر رہے۔ اپنی ابتدائی سروس کی یادیں تازہ کرنے اور دوستوں سے ملنے کے لئے وہ ننکانہ صاحب جاتے رہتے ہیں۔ اس بار لندن سے آئے ہوئے شاہ صاحب کے دوست راشد صاحب اور اے جی جوش کے صاحبزادے خالد تاج بھی ہم سفر تھے۔ اے جی جوش کو قاسمی صاحب ادیبوں کا گورنانک کہتے ہیں۔ ان کا ماہنامہ ادب دوست آج بھی خالد تاج کے زیر ادارت شائع ہو رہا ہے۔ راشد صاحب لندن میں مشرف کے پڑوسی ہیں وہ مشرف کی وطن واپسی کا عزم دہرا رہے تھے۔ حسب سابق میزبان چودھری محمد حسین تھے۔ 32 ایکڑ پر محیط جن کے چاول کے کارخانے بچیکی میں ہیں۔ دوپہر ساڑھے بارہ بجے ہم لوگ گورونانک کے گوردوارے پہنچ چکے تھے۔ لاہوری قافلے کو جی آیاں نوں کہنے والوں میں گوردوارے کی انتظامیہ کے دیا سنگھ‘ دیال سنگھ اور مستان سنگھ کے ساتھ چودھری محمد حسین ان کے صاحبزادے نوید حسین‘اخلاق حسین اور ننکانہ کی سیاست میں آگے بڑھتے ہوئے نوجوان مون خان بھی تھے۔ گوردوارہ کے منتظمین ہشاش بشاش تھے۔ سرداروں کے بارہ بجنے کی کیفیت مشہور ہے لیکن ہمیں اس فلسفے میں کوئی حقیقت نظر نہ آئی۔
گوردوارہ کی آمدنی کے ذرائع وسیع ترین ہیں۔ اس کے نام 2900 مربع اراضی ہے۔ کمرشل عمارات گوردوارہ کی آمدنی کا مزید ذریعہ ہےں۔ زائرین کے نذرانے بھی گوردوارہ کی آمدن میں شامل ہیں۔ ساری آمدن اوقاف کی چھلنی سے چھن کر گوردوارہ کے انتظامات کے لئے آئی ہے۔ انتظامیہ حکومت کی طرف سے گوردوارہ کے لئے کئے گئے انتظامات اور فراہم کی گئی سہولیات سے مطمئن ہے لیکن ہمیں کچھ معاملات دیکھ کر افسوس ہوا۔ جس گیسٹ روم میں بیٹھے تھے۔ اس کی کرسیاں تک ٹوٹی ہوئی تھیں۔ چائے بھی شاید انتظامیہ نے اپنی جیب سے پلائی۔ زائرین میں بڑی بڑی عالمی شخصیات بھی ہوتی ہیں۔ جن کی اسی کمرے میں سیوا کی جاتی ہے جس میں اے سی کی سہولت بھی نہیں ہے۔ اس گیسٹ روم سے متصل ایک وسیع لان ہے۔ جو ملنگنی کے جوئیں پڑے سر کے بالوں کی طرح اجڑا ہوا نظر آتا ہے۔ اتنی بڑی آمدن اور عالمی اہمیت کے حامل گوردوارے کی جو لش پش ہونی چاہئے وہ مفقود ہے۔ آصف ہاشمی اوقاف کی کمائی کی جیسے چاہیں دھنائی کریں۔ گوردوارہ کی ودھائی کا بھی خیال رکھیں۔ اچھے انتظام کی صورت میں نیک نامی اور بصورت دیگر بدنامی کس کی ہو گی؟
لاہور سے ہم لوگ چلے تو موضوع میڈیا اور میڈیا کی کرشماتی شخصیات کا تذکرہ رہا جو اپنا ریٹ اور اپنی ریٹنگ بڑھوانے کے لئے صرصر کو صبا اور بندے کو خدا لکھنے اور کہنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں۔ چودھری محمد حسین کے ڈیرے پر محفل جمی تو سیاست اور خصوصی طور پر ملکی حالات زیر بحث آئے۔ پانی کی کمی کے باعث ضلع ننکانہ صاحب میں 65 ہزار ایکڑ چاول کی فصل کاشت ہوسکی ہے۔ گذشتہ سال ایک لاکھ 5 ہزار ایکڑ پر ہوئی تھی۔ پانی کی کمی‘ نہروں میں پانی کم آنے‘ بجلی کی قلت اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے باعث ٹیوب ویلوں کی بندش کے باعث ہوئی۔ چاول ایکسپورٹر کئی سال سے مشکلات کا شکار ہیں۔ چاول کی قیمت پر نظر ڈالیں تو گذشتہ 6 سات سال سے تقریباً ایک ہی سطح پر ہے جبکہ اس کی پیداوار اور تیاری کے اخراجات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ حکومت نے اس معاملے میں دلچسپی نہ لی تو چاول کی رہی سہی ایکسپورٹ بھی ختم ہو جائے گی۔گذشتہ دور میں ملکی سیاست کے پس پردہ ایک بڑے کردار بریگیڈئر اعجاز شاہ کا تعلق بھی ضلع ننکانہ صاحب سے ہے۔ ان کے اثرورسوخ سے ننکانہ صاحب کی جون ہی بدل گئی ہے۔ کھلی اور کشادہ سڑکیں اور دیگر بہت سے ترقیاتی کام اور تحصیل کو ضلع بنا دینا اعجاز شاہ کے دائیں ہاتھ میں پکڑے جانے والے نامہ اعمال کا حصہ ہے۔ اب وہ خود سیاست کی وادی میں اترنے کا فیصلہ کر چکے ہیں دیکھئے یہ وادی ان کے لئے پرخار یا پُربہار کیسے ثابت ہوتی ہے۔ ان کے مقابلے میں متوقع امیدوار رائے منصب علی خان اور مہر سعید پڈھیار ہوں گے۔ رائے صاحب اس حلقے سے پانچ بار جیت چکے ہیں۔ مہر صاحب کا بھی حلقے میں بڑا اثر ہے 2008ءمیں وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے جیت گئے تھے۔
بریگیڈئر اعجاز شاہ کے ننکانہ میں کام دیکھتے ہوئے جنوبی پنجاب کی پسماندگی نظروں میں گھوم جاتی ہے۔ اس پسماندگی کو بنیاد بنا کر اسے صوبہ بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے حضرات کی صدارت‘ وزارت عظمیٰ گورنر اور وزارت علیاءکے منصبوں پر پہنچنے والوں کی ایک طویل لسٹ ہے۔ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے مرکزی اور صوبائی وزراءکی انھی مچی ہوئی ہے۔ اعجاز شاہ ایک ضلع کو سنوار سکتا ہے تو جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے مقتدر حضرات نے اپنے علاقوں کی پسماندگی کیوں دور نہ کی؟
مہنگائی بیروزگاری‘ افراتفری‘ لاقانونیت اور بجلی و گیس کی قلت جیسے اہم موضوعات پر بھی بات ہوئی اس کو کرپشن اور بدانتظامی کا شاخسانہ سمجھا جاتا ہے۔ شوکت علی شاہ صاحب نے اپنی یادداشتیں تازہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ فیض کریم کا تذکرہ کیا۔ ان کی فیملی مظفر گڑھ سے آرہی تھی۔ بچوں نے سٹیشن پر گاڑی بھجوانے کو کہا تو والد نے سرکاری گاڑی بھجوانے سے انکار کر دیا۔ فیملی کو تانگے میں ڈی سی ہا¶س آنا پڑا۔ جہاں فیض کریم نے ان کو ریسیو کیا اور تانگے کا کرایہ ادا کیا ساتھ ہی اوورلوڈنگ پر تانگے کا چالان بھی کر دیا۔ یہی فیض کریم جب لاہور میں مجسٹریٹ تھے تو ڈی سی مصطفیٰ زیدی نے اپنے دفتر طلب کرکے اداکار محمد علی کا تعارف کرایا اور ان کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کی ہدایت کی۔ اگلی پیشی پر فیض کریم نے علی صاحب کی ضمانت منسوخ کر دی جس پر وہ بھاگ کر ڈی سی کے پاس چلے گئے۔ ڈی سی نے بپتا سنی تو چیف سیکرٹری کے پاس جا کر اپنا یا فیض کریم کا تبادلہ کرنے کو کہا اس پر فیض کریم کا کیمل پور (اٹک) تبادلہ کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنا ٹرنک اور مصلہ اٹھایا اور چل دئیے۔ ملک کو مشکلات سے قائداعظم کی تقلید کرنے والے سیاست دان اور فیض کریم جیسا جذبہ رکھنے والے بیوروکریٹ ہی نکال سکتے ہیں۔ ہماری واپسی بچیکی سے براستہ شرقپور ہوئی بچیکی میں نالہ ڈیک کا پل سات آٹھ سال کی خواری کے بعد بن تو گیا دونوں اطراف کے کھڈے ابھی موجود ہیں۔ محکمہ کے لنڈوروں کو لُنڈیانوالہ اور صوفی دی کوٹھی کے درمیان تباہ کن کھڈے بھی نظر نہیں آتے۔ محکمہ ہائی وے نے فیصل آباد لاہور روڈ وایا شرقپور ایک خوبصورت شاہراہ تعمیر کر دی ہے۔ لیکن مانگٹانوالہ سے دھوکہ منڈی تک سڑک‘ سڑک نہیں ایک فریب نظر اور دھوکہ ہے۔ جو متعلقہ محکمہ کی کالی بھیڑوں کی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔

Thursday, August 30, 2012

بادنسیم


جمعرات ,30 اگست ,2012

     
بادنسیم

30 اگست 2012    

”نسیم انور بیگ طویل عرصہ تک اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے ساتھ وابستہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے ۔ اسلام آباد میں ان کی اقامت گاہ پر دانشوروں، سفارتکاروں صحافیوں اور اہل علم کی محفلیں سجی رہتی ہیں۔ ان محفلوں میں پاکستان اور اس کے مستقبل کے حوالے سے بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ جہاں اہل درد پاکستان کے مسائل پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ تجزیے کرتے ہیں اور ارباب اختیار کی توجہ ان معاملات کی طرف مبذول کراتے ہیں جن کا پاکستان کے مفادات اور اس کے مستقبل سے گہرا تعلق ہوتاہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مرزا نسیم انور بیگ سے قربت تعلق اور دوستی رہی۔ آپ سے جو بھی ملا اس نے کچھ حاصل ہی کیا کچھ کھویا نہیں۔ آپ سے فیض حاصل کرنیوالوں کا ایک وسیع حلقہ ہے ملک وقوم اور ملت کے لئے آپ کی خدمات مدتوں یاد رکھی جائیں گی۔
”آج جبکہ وطن عزیز میں نفرتوں، عداوتوں اور کدورتوں کی ہا ہا کار برپا ہے۔ سیاست ذاتی انا اور گروہی مفادات کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں عوامی مینڈیٹ ایک خواب پریشان بن کر رہ گیا ہے۔ عدالتیں بے وقعت ہوتی جا رہی ہیں اور انتظامیہ انتقام کی علامت۔ سرسبز و شاداب ملک پر نحوست کے سائے محیط ہیں۔ مخلوق خدا پر رزق کے دروازے بند کئے جا رہے ہیں۔ کلاشنکوف نے شریف شہریوں پر زندگی حرام کر دی ہے انسانی خون ارزاں اور پانی مہنگا ہو گیا ہے۔ آزادی ایک طعنہ اور حکومت جگ ہنسائی بن گئی ہے۔ قبلہ اللہ کے گھر سے تبدیل ہو کر سوئے واشنگٹن ہو گیا ہے گرم و سرد چشیدہ بوڑھے لرزاں ہیں، رعنا جوانوں کو مایوسی اور ناامیدی نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ “
”اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں نسیم انور بیگ جیسی شخصیتیں خال خال سہی ہمارے لئے مینارہ نور ہیں ہم ان سے اللہ اور رسول کا اتباع، وطن سے محبت اور باہمی اخوت مودت خلوص قربانی اور روشنی حاصل کر سکتے ہیں“۔
”دھیمہ پن، شائستگی، خلوص، مٹھاس، محبت، شفقت، سلیقہ، نظم و نسق، بے لوث پن، جذبہ پرواز علم و آگہی جیسی خوبیوںکے ساتھ غور و فکر پر اعتمادی، دانشوری، علم پہیم لگن میں آپکا نام منظرعام پہ ایک نامدار اور معتبر ہے۔“
”نسیم انور بیگ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن میںجناب حمید نظامی مرحوم کے قریبی رفقاءمیں شمار ہوتے تھے وہ ایم ایس ایف کے ان نو جوانوں میں تھے، جن پر قائداعظم بہت اعتماد کرتے قائد کے ساتھ اپنی بعض ملاقاتوں کی یاد آج بھی ان کی بوڑھی آنکھوں میں عجیب سی چمک لے آتی ہے۔ تیس سال تک اقوام متحدہ میں خدمات انجام دینے والے اس پکے مسلمان اور سچے پاکستانی نے اہل مغرب کے قول و فعل کے تضادات کو بہت قریب سے دیکھا اسلام اور عالم اسلام کے متعلق مغرب کا منافقانہ بلکہ معاندانہ طرز عمل اس کی اسلامیت اور پاکستانیت کو مزید پختہ کرنے کا باعث بنا۔
بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بعد نسیم انور بیگ کا موقف واضح تھا کہ پاکستان کو بھی بلاتاخیر دھماکہ کر دینا چاہئے۔14 مئی1998ءکو ایک بیان میں کہا:
”ایٹم بم یا ہائیڈروجن بم بنانا عوام کا حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا صبروتحمل کا مشورہ دینے والوں نے اپنی آزادی کے تحفظ کیلئے خود دو بڑی جنگیں لڑیں ہماری آزادی کا وقت آیا تو کہا جاتا ہے آزادی اور روٹی میں سے ایک کا انتخاب کر لو پہلے غلامی قبول کریں اور پھر آزادی کی جنگ لڑیں یہ دانائی نہیں، ہمیں آزادی برقرار رکھنا ہو گی۔ ہمارے فیصلوں میں پاکستان کی آزادی کے تحفظ کا عزم ہونا چاہئے۔ “
8جون1998ءکو نسیم انور بیگ صاحب نے ایوان وقت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ ”پاکستان ایٹمی دھماکے کر کے، اجتماعی سکیورٹی اور ایٹمی چھاتہ کے جال سے بچ گیا ہے ورنہ نیٹو وسط ایشیا سے ہوتا ہوا، چین کی سرحد تک پہنچ جاتا۔ چین کے متعلق مغرب اور بالخصوص امریکہ کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں۔ بھارت، اسرائیل گٹھ جوڑ ایک کھلی حقیقت ہے۔ اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کو بھارت کا عقبی سٹور قرار دیا جا سکتا ہے۔ سی ٹی بی ٹی پر دستخطوں کو بھارت سے مشروط کرنے کی بجائے ہمیں اس بارے میں فیصلہ اپنے دفاعی تقاضوں کے مطابق کرنا چاہئے۔ پاکستان نے امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کے دباﺅ کے باوجود ایٹمی ٹیسٹ کر کے اپنی حقیقی آزادی اور خود مختاری کا اعلان کیا ہے۔ خود مختاری کا ایک مفہوم اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنی تقدیر خود لکھنے کی آزادی ہے۔ پاکستان نے اپنے ٹیسٹ پہاڑوں میں کئے جس میں انسانوں ( بلکہ حیوانوں کو بھی) تابکاری اثرات سے بچانے کیلئے تمام ممکنہ تدابیر اختیار کی گئیں جبکہ امریکہ نے اپنے بم، ہیروشیما اور ناگاساکی میں ٹیسٹ کئے جس میں لاکھوں انسان مارے گئے۔ 8 جون1998ءکو نسیم انور بیگ صاحب نے کہا کہ نوائے وقت اور اسکے مدیر نے ہر اہم قومی مرحلے کی طرح، ایٹمی دھماکوں کے مسئلہ پر بھی جرا¿ت مندانہ کردار ادا کیا۔ مجید نظامی بلاشبہ ہماری قومی آزادی، خود مختاری اور عزت و وقار کے تحفظ کی علامت ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے نوائے وقت کے اداریے صحافتی تاریخ کا ایک عظیم الشان باب ہیں۔
 ” کچھ عرصہ قبل شہاب نامہ پڑھنے کااتفاق ہوا۔اس میں دو قابلِ ذکر نام نظر سے گزرے۔ جن کی قدرت اللہ شہاب نے بڑی تعریف فرمائی ہے۔ ایک تو فلسطینی جوان مصطفی اور دوسری دورِ حاضر کی نامور شخصیت جناب نسیم انور بیگ ہیں۔ شہاب نامہ سے مجھے پتہ چلا کہ آپ کا تعلق یو این سے رہا ہے لیکن ایک رسالے میں آپ کے تعلیمی ریکارڈ کے بارے میں پڑھ کر بڑی حیرانی ہوئی۔ اس سے بھی زیادہ حیرانی آج بھی ہے کہ میں نے آپ سے کبھی ایسی بات نہیں سنی جسے خود ستائی کہا جا سکے۔ آپ کی اصل خوبصورتی تو انسانی ہمدردی، حب الوطنی، خوش اخلاقی، مہمان نوازی، احترامِ انسانیت اور ان سب خصوصیات سے بڑھ کر آپ میں عشقِ رسول کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ آپ ہر بات کا آغاز اور اختتام رسول پاک کی ذات سے کرتے ہیں.... تیس سال پیرس میں رہنے کے باوجود آپ میں بلا کی سادگی ہے۔ میں اتنی جلدی مرعوب ہونیوالوں میں سے نہیں ہوں لیکن آپ کی شخصیت میں ایک مقناطیسی کشش ہے۔ اسی وجہ سے لوگ آپ سے بے حد مانوس ہیں۔ آپ سے ملنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ عاجزی صرف عادات سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ یہ آواز میں چال میں، گفتگو میں اور انسان کے رگ و پے میں بسی ہوئی بھی ہو سکتی ہے۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا کا دستر خوان بہت وسیع ہوا کرتا تھا اسی طرح نسیم انور بیگ صاحب کا دستر خوان بھی بہت وسیع ہے۔ جس کی اپنی خصوصیت ہے کہ ہر روز نئے مہمان نئے تصورات اور فلسفے اور اپنی پریشانیاں لیکر آتے ہیں اور واپسی پُر سکون اور امید لیکرجاتے ہیں“    
درج بالا آخری اقتباس نوشین اعجاز کے نوائے وقت میں 23 دسمبر 1999ءکو شائع ہونے والے کالم کا ہے۔ اس کالم کو نوشین اعجاز کے والد محترم سابق جج سپریم کورٹ چودھری اعجاز احمد صاحب نے باد نسیم کے نام سے مرتب کردہ کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ جج صاحب نے باد نسیم جناب نسیم انور بیگ کی اجازت سے لکھی جو آپ کی زندگی میں ہی شائع ہوئی کالم کے شروع میں دئیے گئے اقتباسات بھی باد نسیم میں موجود کالموں سے لئے گئے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت کے ایک ہفتہ بعد نسیم انور بیگ صاحب خالقِ حقیقی سے جاملے۔   

”باد نسیم میں نسیم انور مرزا کی شخصیت پر مختلف جرائد میں شائع ہونے والے 60 کے قریب کالم شامل کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ اجمل نیازی کے 14 کالم ہیں۔ تنویر اعوان5‘ بیگ راج 4‘ پرویز حمید‘ اوریا مقبول جان اور پروفیسر نعیم قاسم کے تین تین‘ عائشہ مسعود کے دو اور باقی لکھنے والے رﺅف طاہر‘ عبدالقادر حسن ایس ایم ظفر‘ ہارون رشید‘ محمد زابر سعید‘ حجاب امتیاز علی، زارا جعفری‘ مظہر برلاس‘ طلعت عباس خان‘ ایم اے صوفی‘ جاوید چودھری‘ عاسل ڈوگر ابو اعزاز بخاری اور انصاری کا ایک ایک کالم موجود ہے۔ مرزا نسیم انور بیگ کے خطابات‘ انٹرویو‘ آپ کے حوالے سے خبریں‘ آپ سے ملاقاتوں کا احوال‘ آپ کے معروف شخصیات کو لکھے گئے خطوط بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ آخر میں نادر تصاویر سے پہلے 19 صفحات آپ کے اقوالِ زریں کیلئے مختص ہیں پہلا سنہری قول جو دریا تنگ ہوتے ہیں وہ پھیلتے نہیں‘ سیراب نہیں کرتے۔ آخری قول‘ اصلی پانی کیا ہے؟ صاف‘ شفاف پاکیزہ پانی اصلی پانی ہے۔کتاب کے آخر میں نادر رنگین تصاویر دی گئی ہیں جن میں سے ایک آپ کی تحریک پاکستان کے دوران لاہور جیل میں قید کے دوران کی ہے جج صاحب کے بقول ان تصاویر کی خود نسیم انور بیگ صاحب نے اپروول دی تھی۔ اعجاز احمد چودھری صاحب سے فون پر بات ہوئی تو جج صاحب نے نسیم انور بیگ صاحب کے ساتھ اپنے تعلقات اور آپ کے والہانہ پن کے حوالے سے بڑی روح پرور معلومات سے بھی مستفید فرمایا۔ چودھری صاحب کے بقول ”میری لاہور میں 1986 میں بیدار ملک صاحب کے توسط سے مرزا نسیم انور بیگ صاحب سے قربت ہوئی۔ اس کے بعد آپ کی زندگی میں سوائے 23 جون 2012ءآپ کی رحلت سے ایک روز قبل کے سوا ہر روز آپ سے فون پر بات ہوتی رہی صرف اس دن فون پر بات نہیں ہوئی جب آپ کی خدمت میں اسلام آباد میں پیش ہوا ہوتا یا وہ لاہور تشریف لائے ہوتے۔ میں اور میری فیملی جب بھی پنڈی گئے ہمیں آپ کی طرف سے کہیں اور ٹھہرنے کی اجازت نہیں تھی آپ کی محبت اور شفقت ہماری زندگی کا سرمایہ ہے۔ میں نے کتاب آپ کو پیش کی اور اس کی رونمائی کے حوالے سے عرض کی تو فرمایا کہ اوریا مقبول جان صاحب اس حوالے سے مجید نظامی صاحب سے بات کر لیں گے۔ 
نسیم انور بیگ صاحب کی وفات ہم جیسے ان کے پروانوں کیلئے دل و جان اور روئیں روئیں میں اتر جانے والا صدمہ ہے۔ آپ نے 24 جون کو پردہ فرمایا یہ شدید گرمی کا موسم ہوا کرتا ہے لیکن اُس دن اسلام آباد اور پھر اجوالا فتح جنگ جہاں آپ کو سپرد خاک کیا گیا واقعی باد نسیم چل رہی تھی۔ قبر کھودنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ عموماً8 سے دس گھنٹے میں قبر کھودتے ہیں۔ اس مردِ با صفا کی آخری آرامگاہ محض تین گھنٹے میں مکمل طورپر تیار ہو چکی تھی۔ ”باد نسیم“ کی تقریب رونمائی بھی خوب رہی۔ میں نے 500 کتابیں قل خوانی کے موقع پر شرکاءمیں تقسیم کیں۔ یہی کتاب کی تقریب رونمائی تھی۔کتاب کے شروع میں قول، ”مہرو و وفا نسیم وقت کیسے گزرا، کون پوچھے گا“ نسیم انور بیگ صاحب کا ہی ہے۔ چودھری اعجاز احمد بادِ نسیم کا انگلش ورژن شائع کر نے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ بادِ نسیم کیلئے جج صاحب کیلئے مشورہ ہے کہ نسیم انور بیگ کی وفات حسرت آیات کے بعد بھی بہت سے مضامین لکھے گئے بادِ نسیم کے دوسرے ایڈیشن میں ان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں بعض مضامین کے آخر میں تاریخ اشاعت نہیں دی گئی اس کمی کو بھی دور کرنا چاہئے۔ 450 صفحات پر مشتمل باد نسیم کتاب ملٹی لائن بکس ریگل چوک مال روڈ لاہور 04237210089 سے 700 روپے میں دستیاب ہے۔ 



Monday, August 27, 2012

صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم





منگل ,28 اگست ,2012
صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کا بانی ¿ پاکستان کا تعلق ایک خاص مسلک سے جوڑنے کے حوالے سے بیان متنازعہ حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ روز ایک بار پھر راولپنڈی سے میجر نذیر فاروق کا فون آیا، وہ قائداعظمؒ کی ذات کو اس طرح سے زیر بحث لانے پر بڑے جز بز، خفا، برہم بلکہ مشتعل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں لوگ اپنے ہیروز کو اس طرح ڈسکس کر کے متنازعہ نہیں بناتے جیسے ہمارے ہاں وتیرہ بنا لیا گیا ہے۔ میجر صاحب الطاف بھائی کے کردار، شخصیت، سیاست اور برطانیہ میں ان کی ذات پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے سوالات در سوالات کر رہے تھے جن کا جواب الطاف بھائی خود یا ان کے ساتھی اور میڈیا منیجرز دے سکتے ہیں --- قائداعظمؒ کا مسلک کیا تھا؟ اس حوالے سے بہت لکھا اور کہا جا چکا ہے۔ ہم صرف ایک واقعہ دہرا دیتے ہیں کہ قائداعظمؒ سے کسی نے یہی سوال کیا تھا اس پر قائداعظمؒ نے فرمایا کہ ان کا وہی مسلک ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہے۔ چند روز قبل ایک باوقار خاتون دکاندار سے جھگڑ رہی تھیں۔ بظاہر ان کا لب و لہجہ اور تندخوئی ان کے وقار کے شایانِ شان نہیں تھا۔ معاملے کی نوعیت جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ خاتون نے خریداری کے لئے ادائیگی کی تو دکاندار نے بقایا میں جو نوٹ دئیے وہ بوسیدہ تھے خاتون نے نئے نوٹ مانگے تھے۔ دکاندار نے پوچھا کہ کیوں؟ خاتون نے کہا کہ وہ جناح کا اُجلا چہرہ دیکھنا چاہتی ہےں۔ دیوس دکاندارنے کہہ دیا جناح تو کافر تھا۔ اس پر قائدؒ کا ایسا احترام کرنے والی شخصیت جو نوٹوں پر بھی ان کا اُجلا چہرہ دیکھنا چاہتی ہے بھلا خاموش رہ سکتی تھی۔ خاتون غصہ میں تھی تاہم جلد نارمل ہوئی تو دلیل کے ساتھ دکاندار کو سمجھایا۔ وہ خاتون کے قائداعظمؒ کے ساتھ محبت و احترام سے متاثر اور دلائل سے قائل ہوا تو اپنے الفاظ واپس لیتے ہوئے معافی مانگ لی۔ یہ خاتون ہماری محلے دار ہیں۔ بنیادی تعلق لبنان سے ہے۔ ایک پاکستانی سے شادی کی اور ان کے ساتھ پاکستان چلی آئیں۔ شوہر کا چودہ پندرہ سال قبل انتقال ہو گیا اب اپنے بیٹوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ چند روز قبل ہمارے گھر تشریف لائیں اور فرمایا ”بیٹا آپ صحافی ہیں اس لئے کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں“ میں نے ان کو خوش آمدید کہا اور بڑے احترام کے ساتھ اپنی فیملی کے درمیان بٹھا لیا۔ 
اماں جی کسی بھی پاکستانی سے بڑھ کر محبِ پاکستان اور عالمہ و فاضلہ ہیں۔ پاکستان کے مخدوش حالات پر دلبرداشتہ ہونے کے باوجو اسے اسلام کا قلعہ اور اُمہ کی امیدوں کا مرکز قرار دیتی ہیں۔ عربی ان کی مادری زبان، انگریزی انگریزوں کی طرح بولتی ہیں، اردو بولنے کا لب و لہجہ محترمہ بینظیر بھٹو سے مشابہہ ہے۔ اپنی گفتگو کے دوران قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیتی ہیں۔ وہ کچھ عرصہ تک ایک بڑی سیاسی و دینی شخصیت اور سکالر کے گرلز کالج کی پرنسپل رہی ہیں۔ ان کے والد کی کچھ جائیداد فلسطین میں تھی جو آج یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ انہوں نے اپنے بچپن کا روح پرور واقعہ سُنایا جو حیران کن ہے۔ ان کی زبانی ملاحظہ فرمائیے ”میری عمر آٹھ نو سال تھی، رات کو خواب میں دیکھتی ہوں کہ بیروت کے بازاروں اور گلیوں میں گُھپ اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے میں میرے سامنے ایسی روشنی پھیل رہی تھی جس سے میرے لئے چلنا آسان ہو رہا تھا، میں بازار میں چلی جا رہی تھی۔ میرے ذہن میں آیا کہ روشنی کی صورت میں میری رہنمائی حضرت خضرؑ کر رہے ہیں۔ چلتے چلتے سامنے گرجا گھر نظر آیا تو میں دائیں مُڑ جاتی ہوں۔ یہاں مجھے اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی مدہم سی آوازیں سنائی دیتی ہیں جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بلند ہوتی چلی گئیں تاآنکہ مجھے نظر آیا کہ سبز پگڑیاں پہنے لوگوں کا ایک پُرنور ہجوم رواں ہے، ان کے ایک ہاتھ میں سن ریز (دف قسم کا آلہ) ہے دوسرے سے وہ اس پر چوٹ لگاتے ہیں اور بڑی خوبصورت آواز میں یہی کہے جا رہے ہیں اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، ان کی قیادت ایک خوبصورت شخص کر رہا ہے۔ قافلہ میرے سامنے سے گزر رہا ہے۔ میرِ کارواں نے گردن گھما کر میری طرف مسکرا کر دیکھا۔ ان جیسا خوبرو، خوبصورت اور حسین شخص میں نے آج تک بھی نہیں دیکھا۔ ان کے گھنگریالے سیاہ بال اور ایسی ہی ریش، کشادہ نورانی پیشانی، چہرے کا رنگ سرخی مائل سفید، دانت موتیوں کی طرح چٹے سفید اور آنکھیں بادامی رنگ کی۔“ 
 اماں جی نے بات کرتے کرتے رُک کر پوچھا، پتہ ہے وہ حسین و جمیل شخص کون تھا؟ پھر خود ہی گویا ہوئیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اللہ اکبر کے نعرے لگانے والے ایک لاکھ 24 ہزار انبیاءکرامؑ تھے۔ چہرے کے باقی نقش جو اماں جی نے بتائے وہ بالکل ویسے ہی تھے جیسے پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی معروف پنجابی نعت ”اج سک متراں دی ودھیری“ میں بیان کئے گئے ہیں 
مُکھ چند بدر شعشانی اے، متھے چمکدی لاٹ نورانی اے 
کالی زلف تے اکھ مستانی اے، مخمور اکھیں ہِن مدھ بھریاں
جناب محمد خان قادری صاحب نے ”سک متراں دی“ شرح لکھی ہے۔ میں نے یہ کتاب پڑھ رکھی ہے۔ اتفاق سے اماں جی کی آمد سے قبل میں نے اسے سرسری طور پر دیکھا اور اپنی لائبریری میں رکھ دی تھی۔ میں نے خاتون سے پوچھا کہ کیا انہوں نے پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی ”اج سک متراں دی ودھیری“ نعت پڑھی ہے۔ اماں جی نے کہا کہ وہ اردو لکھ پڑھ اور بول سکتی ہیں پنجابی نہیں آتی۔ انہوں نے شاید پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کا نام بھی پہلے نہیں سُنا تھا۔ میرے لئے پیر مہر شاہ صاحبؒ کی نعت میں حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ¿ اقدس اور اماں جی کے بیان کردہ رُخِ انور کے نقوش میں مماثلت حیران کن ہے۔ اماں جی نے کہا کہ ان کے دل میں ہمیشہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوبارہ دیکھنے کی حسرت اور تڑپ رہی ہے۔ خواب میں مَیں نے صاحبِ لولاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا وہ اتنے حسین تھے کہ I fell in to his Love ۔ اماں جی ہم مسلمانوں کے اس رویے پر بھی ملول ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰة و سلام کا نام آنے پر بڑی تیزی سے صلعم یا صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیا جاتا ہے۔ اماں جی کہتی ہیں کہ جس ٹھہرا¶ اور لہجے میں گفتگو ہو رہی ہو اسی روانی میں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہنا چاہئے۔


Friday, August 24, 2012

24-8-12.........اب نائیجیریا کو توڑنے کا منصوبہ







26-8-12




     
اب نائیجریا کو توڑنے کا منصوبہ
24- اگست 2012 -8    
نائیجریا بلحاظ آبادی افریقہ کی سب سے بڑی اور عالم اسلام کی انڈونیشیا اور پاکستان کے بعد تیسری بڑی ریاست ہے۔ آئندہ چند سال میں شاید اس کا موجودہ سٹیٹس بدل جائے۔ کشمیری اور فلسطینی آزادی کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کئے چلے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ انکے حقوق کو تسلیم کرتی ہے لیکن ایک حد سے آگے جانے سے اسکے پَر جلتے ہیں۔ لاکھوں کشمیری اور فلسطینی آزادی کی خاطر اپنی جانیں دے چکے اور یہ سلسلہ ہنوز اور بدستور جاری ہے۔ سرخرو اس اس لئے نہیں ہو رہے کہ انکے حقوق کی راہ میں وہی ممالک اور تنظیمیں رکاوٹ ہیں جو خود کے انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کی دعویدار ہیں جنہوں نے 2002ءمیں انڈونیشیا کو تقسیم کرکے مشرقی تیمور اور 2011ءمیں سوڈان کو توڑ کر جنوبی سوڈان کی ریاستیں قائم کردیں۔ آزادی کے نام پر انڈونیشیا اور سوڈان کو اس لئے توڑا گیا کہ اس تخریب کی کوکھ سے مسیحی ریاستوں نے جنم لینا تھا۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقوق کو پس پشت اس لئے ڈالا جا رہا ہے کہ یہاں مسلمانوں کے حقوق غصب ہو رہے ہیں۔ مسلمان زیرعتاب ہیں، انکا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ انکا خونِ ارزاں اور بہانے والوں سے کسی سطح پر جواب طلبی نہیں۔
اب انڈونیشیا اور سوڈان کی تقسیم کی طرز پر نائیجریا کو توڑ کر جنوبی نائیجریا کے نام سے ایک اور عیسائی مملکت کے قیام کی منصوبہ بندی ہورہی ہے۔ منصوبہ ساز پھر وہی ہوں گے، اقوام متحدہ امریکہ اور اسکے جھولی چک ممالک.... نائیجریا کی آبادی 16 کروڑ ہے، ان میں سے 55 فیصد مسلمان، عیسائیوں کو بڑی اقلیت کی حیثیت حاصل ہے۔ آج نائیجریا شورش اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ ملک میں بم دھماکے اور مسلح حملے ہورہے ہیں، بارود کے سائے ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ زیادہ تر عیسائیوں کی عبادتگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہر حملے اور بم دھماکے کے بعد الزام بوکو حرام پر لگا دیا جاتا ہے۔
نائیجریا کے 36 میں سے 18 صوبوں میں مسلمان بڑی اکثریت میں ہیں۔ نائیجریا افریقہ کی دوسری بڑی معیشت اور آمدنی کا دارومدار تیل کی دولت پر ہے۔ نائیجریا کی کرپٹ قیادتوں کے باعث تیل کی دولت کے ثمرات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوئے۔میڈیا رپورٹس‘ تجزیات اور محمد احمد کی تحقیقات کے مطابق نائجیریا افریقہ کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ اپنے وسیع تیل کے ذخائر اور بدعنوان قیادت کی بدولت نائجیریا ہمیشہ سے سرمایہ دارانہ نظام کی علم بردار بڑی بڑی تیل کمپنیوں اور دیگر ملٹی نیشنلز کیلئے جنت کا درجہ رکھتا ہے۔ تیل سے حاصل شدہ اپنی تمام تر دولت کے باوجود نائجیریا کی آبادی کی اکثریت انتہائی پسماندگی کا شکار ہے۔ اسے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ایک دور میں صدر ثانی اباچہ دنیا کے چوتھے بڑے کرپٹ حکمران تھے۔نائجیریا کے مسلمانوںکی اسلام سے محبت مثالی ہے۔ اسلامی شریعت کے نفاذ کیلئے نائجیرین مسلمانوں نے کافی جدوجہد کی۔ 1903ءمیں انگریزوں کے قبضے سے پہلے شمالی نائجیریا کے بیشتر علاقے سوکوٹو خلافت کا حصہ تھے جو کہ 1802ء میں عالم باعمل عثمان دان فودیو نے مقامی حکمرانوں کے خلاف جہاد کا علم بلند کرکے قائم کی۔یہاں تک کہ موجودہ دور میں بھی سوکوٹو کے سلطان کو امیر المومینین کا خطاب دیا جاتا ہے۔جو کہ عام طور پر نائجیرین نیشنل سپریم کونسل فار اسلامک افئیرز کے سربراہ بھی ہوتے ہیں۔2000-1999 ءسے اب تک 12 صوبوں میں شریعت نافذ ہو چکی ہے۔جو کہ مغربی دنیا ، اسکے متعصب میڈیا اور جنوبی نائجیریا کے عیسائیوں کی آنکھوں میں بری طرح کھٹکتی ہے۔عیسائی مشنری شریعت کے نفاذ کو نائجیریا میں عیسائیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں عیسائیت کی تبلیغ میں کئی گنا تیزی لائی گئی ہے۔ کئی نئے چرچ تعمیر کیئے گئے ہیں ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے نفرت پھیلائی جا رہی ہے جب کہ عیسائی بین الاقوامی میڈیا میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہے ہیں۔جس دن سے مسلم علاقوں میں شریعت نافذ ہوئی ہے عیسائی پوری کوشش میں مصروف ہیں کہ مرکزی حکومت میں اعلی ترین عہدوں پر قبضہ کیا جائے اور فوج میں بھی اثر و رسوخ میں اضافہ کیا جائے۔ 
2002ءمیں شمال مشرقی صوبہ بورنو کے دارالحکومت میڈوگری میں جماعة اہل السنة للدعوة والجہاد کا قیام عمل میں آیا جس کے بانی محمد یوسف نامی ایک نوجوان سلفی عالم تھے۔ان کی دعوت کا مرکزی نکتہ تمام نائجیریا میں شریعت کا نفاذ تھا انہوں نے سرِ عام نائجیریا کے سیکولر طرزِ حکومت کو غیر اسلامی کہا اور مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ رائج نظام کو اکھاڑ دیں اور نائجیریا میں اسلامی حکومت قائم کریں۔شیخ یوسف مغرب اور عیسائیوں پر کھلم کھلا تنقید کرتے تھے البتہ انہوں نے اپنے پیروکاروں کو کبھی بھی عیسائیوں پر حملوں پر نہیں اکسایا۔اس جماعت کے لوگ صرف عربی بولتے تھے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ انگلش وہ زبان ہے جس کے بل بوتے پر مغربی دنیا نے کرپشن اور بے راہ روی پھیلائی ہے۔ اس جماعت میں ہر ا±س چیز کیلئے نفرت کا پہلو پایا جاتا تھا جس کا تعلق مغربی عیسائی دنیا سے ہے چاہے وہ لباس ہو ، مغربی تعلیم ہو یا روز مرہ کے معاملات ہوں۔شمالی نائیجریا کی مقامی زبان ہوسہ میں جدید نظامِ تعلیم کو بوکو کہا جاتا ہے جس کی بنیاد انگریزوں نے ڈالی۔دورِ غلامی کے اوائل میں مسلمانوں نے بوکو سے فاصلہ رکھا کیونکہ اسے عیسائیت کی تبلیغ کا ذریعہ مانا جاتا تھا۔البتہ کچھ ہی عرصے بعد جدید سکولوں سے پڑھنے والے طلبہ اہم ریاستی عہدوں پر فائز ہو گئے۔ چنانچہ اگلی نسل نے اپنے بچوں کو ان سکولوں میں بھیجنا شروع کر دیا۔تاہم بعض قدامت پرست مسلمان بوکو کو آج بھی غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اسکی جگہ دینی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔یہی پیغام شیخ یوسف کی تعلیمات کا بھی حصہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں نے اس جماعت کا نام بوکو حرام رکھدیا۔جسکا مطلب ہے "مغربی تعلیم حرام ہے" بعد میں یہی نام مقامی اور بین الاقوامی میڈیا نے اختیار کر لیا۔ شیخ یوسف نے مسلمانوں پر زور دیا کے وہ اس کرپٹ اور مغربی نظام سے کنارہ کشی اختیار کریں جس میں سیکولرازم اور جمہوریت جیسے غیر اسلامی نظریات شامل ہیں اور اسکی بجائے اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔ اگرچہ شیخ یوسف نائجیرین حکومت کے خلاف تھے اور سرکاری نوکری کو حرام کہتے تھے، جبکہ انکی جماعت پر یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا کہ وہ اسلحہ جمع کر رہے ہیں، ان پر یا انکی جماعت کے کسی فرد کے خلاف کچھ بھی ثابت نہ کیا جا سکا-کئی لوگوں کا خیال تھا کہ بوکو حرام مذہب کے نام پر سیاسی طاقت اور فوائد حاصل کرنا چاہتی ہے۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بوکو حرام اور نائجیرین فوج کے درمیان 2009ءتک کوئی مسلح تنازعہ نہں ہوا تھا،اسکے باوجود چند لوگوں نے بوکوحرام کو نائجیرین طالبان کہنا شروع کردیا۔آج تک نائجیرین حکومت اور اسکے مغربی آقا بوکو حرام کا تعلق طالبان یا القاعدہ سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔    

کئی سالوں کے تناو¿ اور چند ایک چھوٹے موٹے واقعات کے بعد جولائی 2009ء میں ایک بڑا تنازعہ پیدا ہوا۔میڈوگری شہر میں بوکو حرام کے ایک رکن کے جنازے میں شریک چند ارکان کو پولیس نے قبرستان جاتے ہوئے روکا اور نوجوانوں کو موٹرسائیکل چلاتے ہوئے ہیلمٹ پہننے کو کہا۔نوجوانوں کے انکار پر جھگڑا ہوا جس کے بعد پولیس نے فائرنگ کردی۔اسکے نتیجے میں کئی ارکان زخمی ہو گئے،اس کے ردِعمل میں بوکوحرام نے احتجاج کیا اور سرکاری عمارات پر دھاوا بول دیا۔ تشدد کی یہ لہر جلد ہی پانچ صوبوں میں پھیل گئی اور کئی دن تک جاری رہی۔مرکزی حکومت نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے میڈوگری پر فوج کشی کردی اور بوکو حرام کے ارکان کو چن چن کر شہید کیا اور شیخ یوسف کو ان کے گھر سے گرفتار کرنے کے بعد شہید کردیا گیا۔جبکہ دعویٰ یہ کیا گیا کہ انکی شہادت جھڑپ میں ہوئی۔انکی میّت ہتھکڑیوں سمیت پائی گئی۔تقریباً ایک ہزار بوکو حرام کے ارکان اس فوج کشی میں شہید ہوئے۔بہت سوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے کئی کو دورانِ حراست شہید کردیا گیا، بوکوحرام پر پابندی عائد کردی گئی اور اسکی مساجد کو شہید کردیا گیا ، جبکہ زندہ بچ جانے والے ارکان بکھر گئے اور انڈرگراونڈ چلے گئے۔
ایک سال کی خاموشی کے بعد بوکوحرام کا نام ایک بار پھر مقامی میڈیا میں اس وقت نمودار ہوا جب چند موٹرسائیکل سوار حملوں میں ایسے کئی افراد کو قتل کر دیا گیا جو کہ 2009ءمیں بوکو حرام پر کیے جانے والے آپریشن میں کسی بھی طور پر ملوث تھے۔ تاہم کسی جماعت نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہ کی-جون 2011ءمیں ابوجا میں نیشنل پولیس ہیڈکواٹر میں بم دھماکہ ہوا اسکے دو ماہ بعد ابوجا میں ہی اقوامِ متحدہ کے آفس میں سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود خودکش کار بم حملہ ہوا جس میں 24 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے۔اسی سال دسمبر میں کرسمس کے موقعہ پر کئی گرجا گھروں اور سرکاری عمارتوں پر بم حملے ہوئے جن کا الزا م بوکو حرام پر لگایا گیا۔جنوری 2012ءمیں نائیجریا کے سب سے بڑے مسلم شہر کانو میں سرکاری عمارات پر حملوں کی لہر میں ایک ہی دن میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے یہ بوکوحرام کے اب تک کے مبینہ حملوں میں سب سے بڑا حملہ تھا۔حالیہ مہینوں میں کئی گرجا گھروں پر بم حملے اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے اکثر کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم میڈیا میں ہر بار بوکوحرام کو ہی موردِالزام ٹھہرایا گیا۔نائیجیریا آج شورش‘ بدامنی‘ بم دھماکوں اور مسلح حملوں کی لپیٹ میں ہے‘ زیادہ تر نشانہ گرجا گھروں کو بنایا جا تا ہے۔ الزام بوکوحرام پر لگا دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے گرجا گھروں پر حملے ہونگے تو مسیحی برادری مظلوم ٹھہرے گی۔ انڈونیشیا کے مشرقی تیمور اور سوڈان کے جنوبی سوڈان کے عیسائیوں کی طرح نائیجیریا کو توڑنے کی سازش اس وقت بے نقاب ہو گئی جب پتہ چلا کہ گرجا گھر بم سے ا±ڑانے کی تین ناکام کوششوں میں گرفتار ہونے والے تمام افراد عیسائی تھے۔اس سال فروری میں پولیس نے بوکوحرام کے مضبوط گڑھ باو¿چی میں ایک عیسائی عورت لیڈیا جوزف کو چرچ جلانے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا۔ جوزف نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ اسکا یہ عمل اپنے بوائے فرینڈ کی جانب سے دھوکہ دیے جانے پر جذباتی صدمے کا نتیجہ تھا۔ ایک اورملزم وزڈم کنگ کو پولیس نے جنوبی صوبے بیلسا میں جو کہ صدر گڈلک جوناتھن کا آبائی صوبہ ہے ، ایک چرچ کو بم سے اڑانے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا۔ایک تیسرے واقعے میں پولیس نےباو¿چی کے نواحی علاقے سے آٹھ عیسائیوں کو گرفتار کیا جو کہ اپنے مخالف گروہ کے چرچ کو جلانے کی کوشش کر رہے تھے۔"اگر یہ ملزمان گرجا گھروں کو اڑانے میں کامیاب ہو جاتے تو تمام تر الزام بوکوحرام پر عائد کیا جاتا اوراسکا شکار اسلام اور مسلمان بنتے"۔ ان خیالات کا اظہار شریفہ یوسف نے کیا جو کہ المومنات نامی مسلم خواتین کی تنظیم کی ترجمان ہیں۔بوکو حرام کئی لوگوں کے نزدیک ایک راز ہے- نائجیریا کے صدر نے حال ہی میں الزام عائد کیا ہے کہ بوکو حرام کے کئی ہمدرد حکومت میں شامل ہیں جو اسے قانون سے بچانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں- یہ واضح اشارہ ہے کہ شاطر صدر نے اعلیٰ عہدوں پر فائز مسلمانوں کو اس مسئلے میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے- کچھ حلقوں میں سوڈان کی طرز پر نائیجریا کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کی سازشیں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جسکا مقصد نائجیریا کے جنوب میں تیل کی دولت سے مالامال عیسائی ریاست کا قیام ہے۔شمال میں شریعت کے نفاذ کے بعد عیسائی حلقوں میں علیحدہ ملک کی باتیں کی جارہی ہیں۔ انکا خیال ہے کہ جنوبی نائجیریا تیل کی دولت کے ذخائر اور سمندر تک رسائی کی بدولت ایک انتہائی امیر ملک کے طور پر سامنے آسکتا ہے۔جسکی دولت کو پورے افریقہ میں عیسائیت کی تبلیغ کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔نائیجیریا کی شکست و ریخت حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے۔ اس کی راہ میں او۔آئی۔سی یقینا سنگ راہ بن سکتی ہے اگر یہ خواب گراں سے بیدار ہو جائے تو!        (ختم شد)

....٭....٭....٭....







Sunday, August 19, 2012

عید ‘ نویدمسرت کب بنے گی؟ 12-8-19





عید‘ نوید ِ مسرت کب بنے گی؟

 قوم کی یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ عیدالفطر ایک بار پھر نامساعد حالات ‘دہشت و وحشت ‘ بدامنی و لاقانونیت کی فضا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ہر طرف مہنگائی‘ بیروزگاری ‘ لوڈشیڈنگ جیسے کارناموں کی جفا میں آئی ہے۔ ابھی شمالی وزیرستان میں فوجی اپریشن کی سوچ ہی سامنے آئی تھی کہ کامرہ ایئر بیس کی سکیورٹی بکھیر کر رکھ دی گئی پھر اس شبِ قدر کی صبح کو ناران میںایک خاص مکتبہ فکر کے 25 انسانوں کو اس وقت بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا جب انکے پیارے عید کے موقع پر انکے گھر پہنچنے کاانتظار کر رہے تھے۔ کراچی کا امن ایک عرصے سے داﺅ پر لگا ہے۔ گزشتہ روز فائرنگ اور بم دھماکے میں 14 افراد قتل کر دیئے گئے۔ آج کا سکور تادم تحریر 11 ہے۔ بلوچستان کے روئیں روئیں سے خون رس رہا ہے‘ قبائلی علاقے بدامنی کی آگ کا گولا بن گئے ہیں۔ ڈرون حملوں کے ردعمل میں خود کش بمبارسراپا بارود بنے اپنے پیاروں کا انتقام لینے نکل پڑتے ہیں‘ ان کا جہاں بس چلتا ہے ‘ لمحوں میں قیامت صغریٰ برپا کر دیتے ہیں۔
 یہ د نیا کہیںدکھوں کی وادی ہے توکہیں خوشیوں کا گہوارہ ۔ اور یوں بھی ہوتا ہے کہ خوشیوں بھرے گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے لیکن کہیں رب العالمین ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ غم خوشیوں میں بدل جاتے ہیں۔ سوز اور سازطرب کا سلسلہ ازل سے چلتا آیا ہے ابد تک جاری رہے گا۔ یہی قانون قدرت ہے۔ آج ہم جن حالات میں عید منا رہے‘ وہ قابل رشک تو کجا‘نارمل بھی نہیں ہیں۔وطن عزیز کے دو صوبے مکمل طور پر شورش بدامنی اور آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ انکی تپش دوسرے صوبوں میں بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ سرحد اور بلوچستان میں بدامنی کی وجوہات مختلف ہیں لیکن چنگاری کو شعلہ اور شعلے کو الاﺅ کس نے بنایا؟ یقیناً اس میں غیر ملکی طاقتیں ملوث ہو سکتی ہیں لیکن اس آگ کو پھیلانے اور دہکانے میں ہماری قیادتوں کی بے بصیرتی ‘ ذاتی مصلحتیں‘ ناقص پالیسیاں جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔ 
عید کے موقع پر والدین کو اپنے ان ملازم پیشہ جگر گوشوں کا انتظار ہوتاجو پردیس میں روٹی روزگار کیلئے محنت مشقت کر رہے ہوتے ہیں۔بہنیں اپنے بھائیوں اور سہاگنیں اپنے سہاگ کی راہ دیکھتی ہیں۔ بچے اپنے باپ کی شفقت اور تحفے پا لینے کی حسرت لئے ہوتے ہیں۔ لیکن آج بہت کچھ بدلا ہوا ہے۔ دہشت گردی کےخلاف نام نہادجنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں فوجی‘ پولیس افسر‘ جوان اور عام آدمی بھی شہادت کا رتبہ پا رہے ہیں‘ انکی لاشیں گھروں میں پہنچتی ہیں تو انکے والدین‘ بچوں اور سہاگنوں پر قیامت گزر جاتی ہے‘ انکی دنیا اندھیر ہو جاتی ہے‘ یااللہ یہ کیسی جنگ ہے جو اپنے اپنوں کیخلاف لڑ رہے ہیں۔ پچھلی کئی عیدوں کی طرح قو م کےلئے یہ عید بھی خون آشام اور خوں بار بن گئی۔ ایسے حالات میں قومی اتحاد‘ یگانگت اور یکسوئی ناگزیر ہے لیکن ہم نے اپنی سیاست کی ایسی جنگ شروع کی ہوئی ہے جس میں سیاستدان باہم دست و گریباں اور ایک دوسرے کو لٹیرا قرار دیتے ہیں۔ برسراقتدار جماعت اپنی ”قربانیاں“ گنوا کر ملک و قوم کے ساتھ کچھ بھی کر گزرنے کا حق جتلا رہی ہے۔ عدلیہ کو بے وقعت کیا جا رہا ہے۔ 
کئی برسوں کی طرح 1433 ہجری کی عید الفطر میں بھی ہمارے لیے پیغام مسرت ہے‘ نہ نوید راحت و فرحت۔ ا±مہ پر بدستور مایوسیوں کے سائے اور تاریکیوں کے سائبان تنے ہیں۔ جہاں اس کا سبب ہنود، یہود و نصاریٰ کا گٹھ جوڑ ہے وہیں‘ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی منافقت کی سی مصلحت بھی کار فرما ہے۔ افغانستان اور عراق میں انسانیت سسک اور بلک رہی ہے۔جو جنگ کا ایندھن بنے، انکے لواحقین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ انکی عید کیسی ہو گی! فلسطین میں صہیونیت نے مسلمانوں کی گردن پر ڈریکولائی پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ غزہ کے لاکھوں محصورین خوراک اور ادویات کےلئے ترس اور تڑپ رہے ہیں۔ سینکڑوں بچے دودھ، ہزاروں بوڑھے ادویات کی کمی کے باعث لقمہ ا±جل بن گئے۔ بچنے والے پیروجواں زندگی و موت کے درمیان معلق ہیں۔ انکی عید کیسی ہو گی! مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی سفاک فوج کی گولیاں اور سنگینیں کشمیریوں کے جگر چیر رہی ہیں۔ ماتم کناں کشمیریوں کا جان ومال محفوظ ہے نہ عزت و آبرو، ان کی عید کیسی ہو گی!وطن عزیز و عظیم کے جسد کارواں رواں بارود سے دھواں دھواں ہے۔ غیروں کی جنگ میں پانچ ہزار سے زائد فوجیوں سمیت نصف لاکھ پاکستانی اس جنگ کا ایندھن بن گئے۔ کتنے سہاگ لٹے، کتنے بچے یتیم ہوئے، کتنی مائیں بے سہارا ہوئیں، کتنی بہنوں کی بھائیوں کی راہیں دیکھتے آنکھیں پتھرا گئیں۔ انکی عید کیسی ہو گی.... بوسنیا اور چیچنیا میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا گیا‘ اب یہی ظلم بڑی سفاکی سے برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھایا جا رہا ہے۔ تیس ہزار قتل ہوئے‘ 80 ہزار بے گھر ہو کر دربدر ہو گئے۔ اقوام متحدہ نے سخت نوٹس لیا نہ او آئی سی کے ضمیر پر خلش پیدا ہوئی۔ دونوں بڑی تنظیموں نے صرف واجبی بیانات دیئے۔ شاہ عبداللہ کی بلائی گئی کانفرنس سے امہ نے بڑی توقعات وابستہ کی ہوئی تھیں‘ وہ بھی نقشِ برآب ثابت ہوئیں۔ معاملہ اقوام متحدہ میں لے جانے کا فیصلہ ہوا‘ اقوام متحدہ نے مسلمانوں کے حقوق کیلئے پہلے کبھی کچھ کیا ‘ نہ اب کریگی۔ مسئلہ کشمیر 65 سال سے اسکے کباڑخانے میں پڑا ہے بھارت خود گیا تھا لیکن اب اٹوٹ انگ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ حل ایک ہی ہے اندرونِ ملک اتحاد و یگانگت کی فضا اور مسلم امہ کا سیسہ پلائی دیوار کی طرح مضبوط اتحاد جسے اسلامی ممالک میں شورش دور کرنے اور کسی بھی ملک میں مسلمانوں پر مظالم کی صورت میں طاقت سے روکنے کا اختیار ہو۔ دوسرے لفظوں میں نیٹو ممالک اور یورپی یونین کی طرح فعال او آئی سی۔ خدا اہل وطن اور مسلم امہ کیلئے عیدکو خوشیوں کی نوید بنا دے۔