About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, August 14, 2013

گدھ-معرکی-تعلیم اور صحت-



صدارتی ”معرکی“

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
28 جولائی 2013 0
واپڈا کا لائن سپرنٹنڈنٹ ریٹائر ہوا تو اس نے اپنی جگہ بیٹے کو لائن مین بھرتی کرا دیا۔ کرنل صاحب ریٹائر ہو کرنئے تعمیر شدہ بنگلے میں منتقل ہوئے تو دوسرے روز خدا بخش دھوبی اپنے میٹرک پاس بیٹے کو لےکر حاضر ہوا اور عرض کی کہ اسے اپنی جگہ بھرتی کرا دیں‘ رحمے جِھیر نے اپنے بیٹے کو ایف اے کرایا، سرکاری نوکری تو نہ ملی البتہ چودھری نے شہر میںایک پراپرٹی ڈیلر کے پاس چوکیدار چپڑاسی کم خانساماں رکھوا دیا۔ جھورا پڑھا لکھا تھا جلد پراپرٹی کے معاملات سے آگاہ ہو کر ڈیلر کا دست راست بن گیا۔ اچھی خاصی ماہانہ آمدن ہونے لگی تو گھر میں جدید اشیا کی آمد شروع ہو گئی۔ فریج گھر میں آئی تو دادے نے پوچھا اس کا فائدہ؟ جواب دیا جو چیز بھی رکھو خراب نہیں ہوتی۔ بابے نے رات کو حقہ تازہ کیا دو چار کش لئے اور سلگتی ہوئی چلم فریج میں رکھ دی۔۔۔ پوتا تھرموس گھر لے گیا۔ بزرگ نے افادیت پوچھی تو بتایا اس میں ٹھنڈی چیز ڈالو تو ٹھنڈی، گرم ڈالو تو گرم رہتی ہے۔ اگلے دن بڑا بھائی فیکٹری جانے لگا تو پونے میں روٹی باندھی تھرموس میں دو گلاس گھڑے سے پانی کے اور ایک چائے کا کپ ڈال کر ساتھ لے گیا۔ ہمارا دوست اخباری لائن میں آنے کے بعد پہلی بار گھر گیا تو دادی نے پوچھا، کی نوکری ملی؟ بتایا اخبار کی، کم کی اے۔ بتایا خبریں اور سرخیاں بناتا بھی ہوں لگاتا بھی ہوں۔ وہ دوسری سرخی سمجھ بیٹھی اور جھٹ سے بولی پھٹے منہ، کھسرا!۔ ساتھ پھوپھی بیٹھی تھی اس نے پوچھا رات کہاں رہتے ہو۔ بتایا رات کو ڈیوٹی ہوتی ہے صبح تین بجے تک۔ اس نے کہا چوروں والی نوکری ہے۔ ہمارے ملک کی کم و بیش ستر فیصد آبادی ایسے ہی سادہ لوح لوگوں پر مشتمل ہے جو سیاست اور جمہوریت کی الف بے سے بھی واقف نہیں۔ ہمارے شاطر سیاستدان ان کی سادگی سے فائدہ اُٹھا کر ان کی ہمدردیاں اور ووٹ سمیٹ لیتے ہیں جو سیاستدانوں کی چالوں کو سمجھتے ہیں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے ان میں بھی کئی مصلحتوں اور کئی اپنے مفادات کے اسیر ہو کر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنا کر دکھانے کے فن میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں۔ یوں قوم کے سیاہ و سفید کے مالکوں کا اصل چہرہ سادہ لوح اکثریتی آبادی کے سامنے کبھی نہیں آتا۔ کوئی جتنا بھی سادہ ہو اسے بجلی کی بندش کے عذاب کا توبہر حال سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ بجلی زرداری نے بیچ دی تو وہ پیپلز پارٹی نفرت کا گولہ بن جاتا ہے۔ اب وہ اچانک بجلی کے عذاب کے ساتھ مہنگائی کے تھپیڑے کھا رہا تو وہ اس کا ذمہ دار نواز لیگ کو سمجھتا ہے جب موقع ملے گا تو اس سے نفرت کا اظہار کر دیگا۔ اس سے زیادہ کی اس کے پاس سیاست کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں اور شاید ضرورت بھی نہیںہے۔ زرداری صاحب کا یہ قول تاریخی حیثیت اختیار کر گیا کہ معاہدے اور وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے دیگر سیاستدانوں کے کردار سے ایسے ہی رویوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اب تک پاکستان میں کتنے اتحاد بن چکے ہیں۔ ان اتحادوں میں پارٹیاں بدلتی ہیں نہ چہرے البتہ تعداد ذرا مختلف ہوتی ہے۔ یہ پارٹیاں کبھی حکومتی اتحاد میں گھستی ہیں تو کبھی حکومت کو الٹا کر اپنے اقتدار کی راہ ہموار کرتی ہیں۔آج صدارتی ریس جاری ہے۔ نواز لیگ ممنون حسین کو سامنے لائی، تحریک انصاف نے وجیہہ الدین کو پیش کیا اور پی پی پی نے رضا ربانی کو آگے بڑھا کر پیچھے ہٹا لیا۔ الیکشن کمشن نے 6 اگست کو الیکشن کرانے کا اعلان کیا۔ نواز لیگ کواس شیڈول پر یاد آیا اس روز تو ستائیسویں اٹھائیسویںہو گی۔ میاں نوازشریف نے عمرے پر جانا ہے۔ ن لیگ نے سپریم کورٹ میں 30 جولائی کو الیکشن کرانے کی درخواست دائر کر دی۔ مسلم لیگ ن نے جو مانگا سپریم کورٹ نے عطا کر دیا ۔۔۔ عمرہ پورا سال ہوتا ہے۔ ن لیگ کی عبادت گزار قیادت اپنا شیڈول صدارتی الیکشن کے تناظر میں طے کر سکتی تھی۔ سیاستدانوں کی شب بیداری کی فطرت اور اعتکاف کی عادت سے دنیا واقف ہے۔۔۔ شریف برادران جاتی عمرہ میں شہر اعتکاف بسا دیں تو وضو کے طریقے سے بھی نابلد ایم این اے اور ایم پی اے جوق در جوق سر پر بستر اُٹھائے اور گلے میں لوٹا لٹکائے امڈ آئیں گے۔ پی پی پی نے انتخاب کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے اس کی رائے نہیں لی۔ مزید براں اسے مہم چلانے اور پارلیمنٹیرین سے رابطوں کا وقت محدود ہو گیا۔ پارلیمنٹ میں کم و بیش بیس پارٹیاں اور لاتعداد آزاد امیدوار ہیں وہ کس کس کو پوچھتی؟ رابطوں کےلئے وقت 6 اگست تک سب کےلئے لامحدود وقت تھا۔ یہ 30 جولائی تک محدود ہوا ہے تو بھی سب کےلئے۔ پی پی پی کےلئے ہار تو نوشتہ دیوار تھی۔ بائیکاٹ سے بہتر تھا کہ پی پی پی ن لیگ کے امیدوار کو سپورٹ کر کے سیاست میں مفاہمت کا ایک مزید باب رقم کر دیتی جس سے ن لیگ مراعات کے حصول کے عادیوں کی بلیک میلنگ سے بھی محفوظ رہتی۔ تحریک انصاف کو بھی پی پی پی جیسے ہی تحفظات تھے۔ الیکشن کا بائیکاٹ غیر جمہوری رویہ تو نہیں لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں پسندیدہ بھی نہیں ہے۔ عمران خان نے بائیکاٹ نہ کر کے بہتر جمہوری رویے کا اظہار کیا۔  صدارتی مہم سے پارٹیوں کی قیادت کی سیاسی بلوغت اور وژن کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ ق لیگ اور اے این پی نے اصولی طور پر پی پی پی کے ساتھ جانے کا اعلان کیا۔ پی پی پی کی طرف سے بائیکاٹ کو سیاسی بالغ نظری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے اداروں کے درمیان چپقلش بڑھ سکتی ہے ۔ رضا ربانی کا یہ کہنا معنی خیز ہے کہ 3 قوتوں کا گٹھ جوڑ ون یونٹ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ایم کیو ایم نے حسب سابق فیصلہ اپنے بہترین سیاسی مفادات کے حصول کےلئے کیا۔ ان کا گورنر موجود رہے گا، مرکز میں حکومت میں شمولیت کی راہ ہموار ہو گی اور برطانیہ میں ہاتھ سے نکلتے معاملات بھی سنبھل سکتے ہیں۔ نوازشریف کو گلا ہے کہ انہوں نے زرداری حکومت کا پانچ سال ساتھ دیا۔ فرینڈلی اپوزیشن کے طعنے برداشت کئے اب وہ الیکشن کا بائیکاٹ کر رہی ہے۔۔۔ باری کے کھیل کا انکشاف زرداری صاحب نے کیا تھا۔ انہوں نے باری میاں صاحب کو دیدی اب پانچ سال آپ اپنی حکمت اور مفاہمت سے پورے کریں۔ پی پی پی سے توقع نہ رکھیں کہ وہ آئینی مدت کا دریا عبور کرا دے گی۔ اب چوسنی سیاست نہیں چل سکتی ۔کچھ حلقے میاں صاحب کو سیاسی طور پر بالغ سمجھتے ہیں وہ خود کو ایسا ثابت کریں۔ الیکشن کی تاریخ بدلوانے کےلئے سپریم کورٹ جانے سے قبل پی پی اور تحریک انصاف سے مشورہ کرنے میں کیا حرج تھا؟۔ اور پھر ایم کیو ایم کے در پر حاضری اپنے ہی اصولوں، وعدوں اور معاہدوں کی دھول اڑاتی نظر آتی ہے۔ سیاسی بصارت ملاحظہ فرمایئے کہ فنکشنل لیگ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ایم کیو ایم سمیت کسی بھی پارٹی سے رابطوں میں کوئی حرج نہیں۔ رابطے سیاست اور جمہوریت کا حصہ ہیں۔ میاں نوازشریف، ایم کیو ایم کے پاس وفد بھیجنے سے قبل 7 اور 8 جولائی 2007ءکی 34 جماعتوں کی لندن میں اے پی سی کا اعلامیہ بھول گئے یا اسے زرداری صاحب کی طرح سمجھ لیا کہ معاہدے اور وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ مختصر ملاحظہ فرمائیے وہ اعلامیہ جو میاںصاحب نے پڑھا اور اس پر ہمارے اکابرین سیاست نے دستخط کئے۔ اس اے پی سی میں محترمہ بینظیر بھٹو نے شرکت نہیں کی تھی کیونکہ ان کے 28 جولائی کو دبئی میں مشرف سے ملاقات کے معاملات طے ہو رہے تھے۔”۔۔کراچی میں بارہ مئی کے قتل عام کے ذمہ دار جنرل مشرف‘ گورنر سندھ (عشرت العباد) وزیراعلیٰ سندھ‘ صوبائی وزراءاور ایم کیو ایم ہیں‘ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں مشترکہ درخواست کی جائیگی۔ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں الطاف حسین کے مبینہ کردار کے حوالے سے ضروری قانونی کارروائی شروع کرنے کیلئے برطانوی حکومت کو مشترکہ یادداشت بھجوائی جائیگی جبکہ کوئی بھی جماعت مستقبل میں ایم کیو ایم کے ساتھ انتخابی اتحاد نہیں کریگی اور اسے حکومت میں شامل نہیں کیا جائیگا“۔ اعلامیہ میاں نوازشریف نے خود پڑھا جس پر آمین کہنے والوں میںعمران خان، مولانا فضل الرحمان‘ قاضی حسین احمد‘ اسفند یار ولی، علامہ ساجد نقوی، میاں شہباز شریف، اسحٰق ڈار، چودھری نثار، احسن اقبال‘ حاصل بزنجو‘ مخدوم امین فہیم‘ شیری رحمان‘ محمود خان اچکزئی‘ پروفیسر ساجد میر اور دیگر بہت سے رہنما شامل تھے۔ یہ اے پی سی اس موقع پر ہوئی جب لال مسجد اپریشن شروع ہو چکا تھا اور دنیا کے کونے کونے میں معصوم محصورین لال مسجد کی چیخیں گونج رہی تھیں۔ 

 

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان




1994ءمیں سوڈان میں بدترین قحط پڑا تو جنوبی افریقہ کا پاپا رازی فوٹو گرافر، امدادی ٹیم کے ساتھ وہاں گیا۔ اس نے یہ شاہکار تصور بنائی جس میں گِدھ بھوک سے نڈھال تین چار سال کی بچی کے مرنے کا انتظار کر رہا ہے کیونکہ گِدھ کی فطرت میں زندہ انسانوں کا گوشت کھانا شامل نہیں۔ اس شاہکار تصویر پر کیون کارٹر کو پُلٹرز انعام دیا گیا۔ کیون کارٹر کی شاہکار تصویر نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا ساتھ ہی اس پر لعن طعن بھی شروع ہو گی کہ اس نے تصویر کے بعد بچی کو مرنے اور گِدھ کی خوراک بننے کیلئے کیوں چھوڑ دیا!ایسی تنقید کیون کے ضمیر پر کوڑے برسانے اور اپنی خود غرضی ستانے لگی کہ انعام ملنے کے 3 ماہ بعد خودکشی کر لی۔ اسکی ڈائری سے یہ تحریر ملی ”میرے خدا میں وعدہ کرتا ہوں کبھی خوراک ضائع نہیں کروں گا خواہ کتنی ہی بدذائقہ کیوں نہ ہو اور میں کتنا ہی سیر کیوں نہ ہو جاﺅں۔“
اوپر دیا گیا اقتباس ایک بار پھر نقل کرنے کی ضرورت ملک میں بڑوں کی شان و شوکت، آسمان کو چھوتے ہوئے دولت کے انبار اور دوسری طرف سسکتی، بلکتی اور ایک ایک نوالے کو ترستی انسانیت دیکھ کر پیش آئی۔ کراچی میں رمضان کے آغاز میں صدقہ و زکوٰة پر جھپٹتی درجنوں خواتین میں سے 4 بھگدڑ میں کچل کر ماری گئیں۔ 2009ءمیں 19 ایسے واقعہ میں لقمہ اجل بنی تھیں۔ لاہور میں بھی دو تین سال قبل ہلال احمر کی خیرات پر بھوکے ٹوٹ پڑے اور کئی جان سے گئے۔ ”بھوکوں کو زکوٰة، خیرات اور صدقات وصول کرنے کی بھی تمیز نہیں“ یہ عام سا جملہ کہہ دینا بڑا آسان ہے۔ بھوک دنیا کی ظالم ترین چیز ہے۔ اس جبر سے تنگ انسان اپنی انا کو فنا اور عزت و غیرت کو نیلام کرنے پر بھی مائل ہو جاتا ہے، جو بھوکے ایسا نہیں کرتے وہ اپنے سمیت پورے خاندان کی جان لے لیتے ہیں۔ پاکستان میں آدھی سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے( خط غربت سے مراد آمدن کی وہ حد ہے کہ جس سے نیچے کوئی فرد ، زندگی کے لیے درکار بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ خرید نہیں سکتا۔ورلڈ بنک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جن کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر کے برابر ہے جبکہ 21 فیصد انتہائی غریب ہے انکی یومیہ اجرت سوا ڈالر سے بھی کم ہے۔ ایک تجزیے کے مطابق پاکستان میں 5 سال سے کم عمر 21 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں) بھوکے سونے والوں کی تعداد تو شاید بہت زیادہ نہ ہو البتہ ایسے لوگ ضرور موجود ہیں جو پیٹ بھر کر کھانے سے قاصر ہیں۔۔۔ صرف روٹی ہی ان کی ضرورت نہیں، ان کو لباس، تعلیم اور صحت کی سہولتیں بھی درکار ہیں۔
اتنی بڑی آبادی کو خطِ غربت سے نیچے پھینکنے کا ذمہ دار کون ہے؟ 60 فیصد آبادی کی محرومیوں کا کوئی تو ذمہ دار ہے۔ کسی حد تک یہ لوگ خود بھی ہو سکتے ہیں لیکن بلاشبہ سب سے زیادہ وہی لوگ ہیں جو شان و شوکت سے زندگی گزارتے ہیں جن کا پُرشکوہ محلات میں بسیرا ہے، دھن دولت بے کنار ہے۔ محنت اور خون پسینے کی کمائی سے سیم و زر کے ہمالہ کھڑے کرنے صاحبانِ جائیداد معزز و محترم ہیں جن کے محلات کی بنیاد میں عوام بلکہ غریب کی رگوں سے نُچڑا ہوا خون کا ایک بھی قطرہ موجود ہے وہ بھی گِدھ ہے۔
آگے چلنے سے قبل محترمہ بانو قدسیہ کے ناول ”راجہ گِدھ“ کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے۔
"باوجود یہ کہ رزق حرام ہی سے راجہ گدھ میں دیوانگی کے آثار پیدا ہوئے ہیں لیکن مسئلہ دراصل سرشت کا ہے۔۔۔۔ اگر راجہ گدھ کی سرشت میں حرام کھانا لکھا ہے تو پھر اس کیلئے حرام گناہ نہیں عین ثواب ہے۔۔۔ لیکن اگر اس نے اپنی عقل سے رزق حرام کھانا سیکھا ہے تو پھر یہ ضروری اس کے لہو پر اثر انداز ہوگا اور دیوانگی پیدا کرے گا۔۔۔ طے یہ کرنا ہے کہ کیا رزق حرام گدھ کی سرشت کا حصہ ہے کہ اس کی اپنی تجویز کا ردعمل "۔۔۔
 گِدھ کی فطرت میں زندہ انسانوں کا گوشت کھانا شامل نہیں۔ ہمیں جن سے پالا پڑا ہے وہ زندہ انسانوں کا گوشت کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے آج ہمیں ہر طرف گِدھ ہی گِدھ نظر آتے ہیں۔ راجہ، گیلانی، زرداری، نواز، شہباز، مولانا، مخدوم، بلور اور۔۔ اور بہت سے وغیرہ وغیرہ --- اگر انکی جائیدادوں میں کرپشن، کمیشن اور دو نمبر آمدن کی آمیزش نہیں تو یہ محترم و مکرم ہیں دوسری صورت میں گِدھ۔ کہا جا رہا ہے کہ صدارتی الیکشن کا شیڈول تبدیل کرلیا جائے کیونکہ 6 اگست کو کئی ارکان عمرہ اور اعتکاف میں مصروف ہونگے۔ دیکھا جائے کہ ان میں سے کتنے گدھ نہیں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو پورے پنجاب سے گورنر کیلئے ایک بھی امیدوار میسر نہیںآیا کہ لندن سے دہری شہریت چھڑوا کر ایک شخص درآمد کرنا پڑا۔ خدا کرے کہ وہ گدھ صفت نہ ہو۔ (

گِدھ .... (آخری قسط)

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
23 جولائی 2013 0
ای او بی آئی کے سابق چیئرمین ظفر گوندل پر 40 ارب کی بے بطگیوںکا الزام ہے سپریم کورٹ نے انکی جائیداد کی ضبطی کا حکم دیدیا گیا۔ راجہ پرویز اشرف نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے آخری روز 15 ارب روپے قومی خزانے سے نکلوا لئے، ان پر مزید اربوں کی کرپشن کے الزامات ہیں، گیلانی کے دور سے ہر ادارہ کرپشن میں ڈوبا ہوا نظر آیا انکے خاندان کے تمام افراد لوٹ مار میں مصروف رہے‘ اب وہ فرما رہے ہیں کہ ان کو استثنیٰ حاصل ہے لہٰذا وہ کسی کورٹ اور تفتیشی ادارے کو جوابدہ نہیں ،جس نے جو کرنا ہے کر لے۔ ایسی سینہ زوری سیاسی شہید کا درجہ پانے کی بے پاپاں خواہش دکھائی دیتی ہے۔ زرداری صاحب پاکستان کے دوسرے امیر ترین آدمی کے درجے پر فائز ہیں ان کو مسٹر ٹین پرسنٹ کہا جاتا رہا۔ انہوں نے موبائل پر ٹیکس لگایا تو کسی نے اسے زرداری ٹیکس اور کسی نے جگا ٹیکس قرار دیا۔ اب شریف حکومت نے اس میں دگنا اضافہ کر دیا‘ اسے ڈھگا ٹیکس قرار دینا چاہئے۔ یہ آپ کی صوابدید پر ہے کہ ٹیکس لگانے والا ڈھگا ہے یا خاموشی سے برداشت کرنے والا طبقہ ڈھگا ہے۔
زرداری کے زمانے میں انکے حریفوں بلکہ شریفوں نے بڑے نعرے لگائے اور دعوے کئے کہ حکومت میں آ کر قومی خزانے سے لوٹی گئی پائی پائی کا حساب لیں گے اقتدار میں آنے کے بعد مکمل خاموشی ہے۔ ایسے لوگ جو کہ کرپشن اور 60 فیصد عوام کو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزرانے پر مجبور کرنے والوں کے گریبان پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔اتنی بڑی کرپشن سے چشم پوشی کرنے والوں کے کردا ر کو کیا کہاجائے؟ کوئی کہیں بھی بیٹھا ہے صحافت کے چبوترے پر، مذہب کے منبر پر، سیاست کے آسمان پر قضاة کے منصب پریا بیورو کریسی کے آشیاں پر اگر اسکی کمائی میں ایک پیسہ بھی ناجائز ذرائع سے جمع ہو رہا ہے‘ وہ گِدھ ہی نہیں راج گدھ ہے ۔گِدھ اس حوالے سے ماحول دوست ہے کہ مردہ جانور کے تعفن زدہ ہونے سے قبل اس کو کھا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں گِدھ نسل ختم ہورہی ہے جس پر اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے نے پاکستان میں گدھ کی تیزی سے ختم ہونے والی نسل کو بچانے کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔ اسکے تحفظ کے لیے سندھ کے صحرائی علاقے ننگرپارکر میں ایک گدھ ریسٹورنٹ قائم کیا جا رہا ہے جہاں تنظیم کے مطابق سال بھر گدھوں کو آلودگی سے پاک گوشت فراہم کیا جائے گا تاکہ ان کی شرح اموات کم ہوسکے۔۔۔اقوام متحدہ کے ایسے اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں، گِدھ کی نسل نایاب نہیں ہورہی بلکہ گِدھ انسانی روپ میںنمودار ہوکر پہلے سے بھی بہتر ”کارکردگی“ دکھاتے ہوئے زندہ انسانوں کو بھی نوچ رہے ہیں۔
حکمرانو ں اور سیاستدانوں کے عوام کُش اقدامات کو نظر انداز کر کے ان کی تعریفوں کے پل باندھنے والے بھی ایک قسم کے گِدھ ہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حکومت بنتی اور اپنی مدت پوری کر لیتی ہے۔ آزاد کشمیر میں حکومت کی بقا ءکا دارومدار پاکستان میںآنے اور جانیوالی حکومت پر ہوتا ہے۔ آج پھر مقبوضہ کشمیر میں گدھ حکومت کا تختہ الٹنے کےلئے سرگرم ہیں۔وہاں عموماً گدھ ہی اقتدار میں رہ کے وسائل پر ہاتھ صاف کرتے رہے ہیں ۔اُ وڑی کے پار سری نگر تک مضبوط اور بہترین سڑک دہائیوں پہلے بنی اپنی ابتدائی شکل میں موجود ہے جبکہ اُڑی کے آر مظفر آباد تک تباہ حال سڑک اس کے وزارت کشمیر کے ماتحت حکمرانوں کی لوٹ مار کی داستان بنی رہتی ہے۔
 روزانہ 14 ارب روپے کی سرکاری سطح پر کرپشن ہوتی ہے۔ سیاستدان، بیورو کریٹ بڑے افسر چھوٹے اہلکاروں کی طرف سے نوچی ہوئی جائیدادوںاور بنک اکاﺅنٹس کی مالیت بلاشبہ کھربوں کھربوں اور کھربوں میں ہے یہ قومی خزانے میں آ جائے تو یقیناً ملکی ترقی و خوشحالی کے در کھل سکتے ہیں۔ یہ رقم غریبوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں اس سے توانائی کا بحران ختم ہو سکتا ہے۔ ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ صنعتوں اور کاروبار کا پہیہ رواں ہو سکتا ہے۔ حکومت پسماندہ علاقوں کی پسماندگی دور کر سکتی ہے۔ اس سب کیلئے گِدھوں سے نجات ضروری ہے اور حقیقت ہے کہ گدھ گِدھوں کا احتساب کر سکتے ہیں نہ ان سے نجات دلا سکتے ہیں۔
 آخر میںاحمد ندیم قاسمی صاحب کے اشعار کی صورت میں دعا ہے :
 خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ ا±گے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

تعلیم اور صحت

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
16 جولائی 2013 0
مختصر سی تقریب کے شرکاءکی تعداد بھی مختصر تھی۔ میزبانوں نے سات بجے کا وقت دیا تھا۔ چلنے سے قبل فون کیا تو بتایا گیا ساڑھے سات بج جائیں گے۔ احتیاطًا دس منٹ دیر کی تو بھی اپنے علاوہ کسی مہمان کو موجود نہ پایا۔ سوا آٹھ بجے تک اتنے معززین تشریف لے آئے جس سے گیدرنگ کا منہ سر بن گیا۔ رونق افروز ہونے والوں میں ارشاد عارف، عطاءالرحمن، رﺅف طاہر، سجاد میر، سعداللہ شاہ، محمد طاہر،ڈاکٹر امان اللہ ملک ، عمرانہ مشتاق کے علاوہ ایک خاتون سمیت مزیدپانچ چھ حضرات موجود تھے۔ میری نالائقی کہ میں ان کے ناموں سے ناشناسا تھا۔میزبان تعارف کرادیتے تو بہتر تھا۔ شرکاءمیںچند ایک ایکدوسرے کے ہمنوا اور ہم توا تھے جو وہاں موجود اور لاموجود صحافیوں کا توا لگاتے رہے۔
 ”خوش قسمت“ ہیں وہ صحافی جن کا تذکرہ ان کی عدم موجودگی میں بھی ہوتا رہا۔ جہاں عطاءالحق قاسمی کے اس کالم کا ذکر ہوا جس میں انہوں نے نام لئے بغیر اجمل نیازی اور توفیق بٹ کے کالموں میں اپنے ”ذکر خیر“ کی خبر لی تھی۔ میں قاسمی صاحب کے مذکورہ کالم کی تلاش میں ان کا ”صاحب اور اس کا ڈرائیور“ کے عنوان سے پورا کالم پڑھ بیٹھا جو ایک افسانہ تھا۔ اس پر ماتھا ٹھنکا کہ قاسمی صاحب کا ترکش عمران خان کی ملامت کے تیروں اور زنبیل نوازشریف کی صاحب‘ سلامت اور لوڈشیڈنگ کی حمایت میں دلائل سے خالی ہو چکی ہے کہ نوبت افسانہ طرازی پر آ گئی۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ نظامی صاحب کا نام لئے بغیر ان کے خلاف زہر اُگلا گیا ہے۔ کالم پڑھنے پر یہ تاثر یکسر غلط ثابت ہوا۔ مجیب الرحمن شامی صاحب کا بھی قاسمی صاحب کے کالم میں بھلاذکر ہے۔ یار لوگوں نے ان کا تذکرہ قومے ہٹا کر کے محرم سے مجرم بنا دیا۔ شامی صاحب کی اس تقریب میں شمولیت کا تذکرہ بڑے دلچسپ پیرائے میں عینی شاہدین نے سنایا جس میں جنوبی پنجاب کی وہ خاتون بھی موجود تھی جس کو نواز لیگ کی قیادت نے ماورائے عقل فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی رکن بنا دیا ۔یہ مزدور خاتون تعلیم سے کوری ہیں۔ تقریب کے بعدچائے پینے کے دوران انہوں نے ساتھ بیٹھی خاتون سے شامی صاحب کی طرف اشارہ کر کے پوچھا یہ کون ہیں؟ دوسری خاتون نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ” ہائے تم ان کو نہیں جانتی ہو، یہ بڑے مشہور صحافی خبریں اخبار کے مالک ضیاءشاہد ہیں“۔
 عطاءالرحمن صاحب نے اپنے اخبار کی اے بی سی کی راہ میں رکاوٹوں کی روداد سنانا شروع کی تو ہم نوا گروپ نے توا لگانے کی کوشش کی۔ عطا صاحب نے بڑے تدبر، ذہانت سے دانش سے یہ توا ان کی طرف لوٹا دیا۔ اس گپ شپ میںہم لوگ اپنی آمد کا مقصد فراموش کئے ہوئے تھے کہ میزبان نے کہا اگر اجازت ہو تو تقریب کا باقاعدہ آغاز کریں۔ اس پر غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کے نمائندے وقاص جعفری نے غزالی ایجوکیشن سسٹم کے حوالے سے مختصر سی بریفنگ دی۔ پاکستان میں 70 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں ان میں سے زیادہ کا تعلق دیہات سے ہے۔ غزالی ٹرسٹ دیہات میں تعلیم نام کی چیز سے نابلد بچوں کی تعلیم پر توجہ دے رہا ہے۔ پنجاب، خیبر پی کے اور بلوچستان کے 35 اضلاع میں 325 سکولوں میں 50 ہزار طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ کوئی بھی قوم تعلیم کے بغیر ترقی کر سکتی ہے نہ صحت مند معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ نپولین بوناپاٹ نے کہا تھا ”تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں بہترین قوم دوں گا“۔ غزالی ٹرسٹ بہترین قوم کی تشکیل کیلئے اپنے وسائل کے مطابق کوشش کر رہا ہے۔ شہری آبادیوں سے دور بہت دور غزالی ٹرسٹ کے 325 سکول مخیر حضرات کے صدقات، زکوٰة اور عطیات پر چل رہے ہیں۔ والدین اپنی مرضی سے جو بھی فیس مقرر کر لیں یہ ان کو آپشن ہے۔ بہت سے بچے بغیر فیس کے پڑھتے ہیں۔جن کا دنیا میں کوئی نہیں ان کا بھی یہ ٹرسٹ سہارا بنتا ہے۔ معذور بچے بھی غزالی ایجوکیشن سسٹم کی نظروں سے اوجھل نہیں رہے۔ 50 ہزار طلبہ و طالبات اور 2400 اساتذہ کے ساتھ غزالی ٹرسٹ تعلیم کے میدان میں اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے۔ اس کا یہ سلسلہ زکوٰة صدقات اور عطیات پر چل رہا ہے۔ اس کے اکثر اساتذہ اور طلبہ و طالبات بھی ڈونر ہیں۔ دو سال قبل انہوں نے 34 لاکھ اگلے سال 42 اور رواں سال 48 لاکھ روپے ٹرسٹ کے حوالے کئے لیکن سالانہ اخراجات کروڑوں میں ہیں۔ ہماری جیب سے کسی کی بھلائی کیلئے استعمال ہونے والا ایک روپیہ بھی رائیگاں نہیں جاتا۔
گذشتہ دنوں شوکت خانم میموریل ہسپتال میں فنڈ ریزنگ تقریب ہوئی۔ عمران خان تو بیرون ملک تھے۔ ہسپتال کے سی ای او فیصل سلطان نے انکی نمائندگی کی کراچی سے بہروز سبزواری اس میں خصوصی شرکت کیلئے آئے۔ ٹارگٹ پانچ کروڑ تھا۔ ڈونرز نے 6 کروڑ کے جمع کرا دئیے۔ پشاور میں بھی کینسر ہسپتال کی تعمیر شروع ہو چکی ہے جو دو سال میں مکمل ہو جائیگا۔ کراچی میں تعمیر کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال میں 75 فیصد مریضوں کا علاج عطیات سے جبکہ 25 فیصد مریض خود ادائیگی کرتے ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کو سالانہ 5 ارب روپے کی ضرورت ہوتی ہے ان میں سے نصف زکوٰة صدقات اور عطیات سے اکٹھے ہوتے ہیں۔
تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جب ریاست ایسا کرنے سے قاصر ہو تو دردِ دل رکھنے والے لوگ آگے آ کر حکومت کے دست و بازو اور غرباءکا سہارا بن جاتے ہیں ۔ملک میں بہت سے فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جو عطیات پر چلتے ہیں۔ زکوٰة صدقات اور عطیات دیتے ہوئے تھوڑی سی جانچ پرکھ کر لیں کہ آپ کے دئیے ہوئے پیسے کا مصرف انسانیت کی خدمت کیلئے ہی ہو رہا ہے۔ غزالی ٹرسٹ سے رابطے کیلئے نمبر ہے 04235222702-05 ای میل info@get.org.pk

کہانی ختم

کہانی ختم!

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
14 جولائی 2013 0
ایبٹ آباد کمیشن کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کہتے ہیں کہ ” ذمہ داروں کا مکمل تعین کر دیا ہے۔ ذمہ داروں میں ادارے اور افراد دونوں شامل ہیں“۔ اداروں کو ذمہ دار قرار دینے کی بات تو واضح ہے۔ افراد کے حوالے سے مبہم ہی نہیں غیر حقیقی بھی ہے۔ ایک بھی شخص کا نام ذمہ دار کے طور پر پوری رپورٹ میں موجود نہیں۔ البتہ اس رپورٹ کے اثرات دور دور تک محسوس کئے جا رہے ہیں حتیٰ کہ حسین حقانی بھی تلملا اٹھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”قوم کو سچ بتایا جائے کہانیاں سنا کر دل نہ بہلایا جائے۔ ایبٹ آباد کمیشن نے صرف امریکہ دشمن جذبات کو ہوا دی۔ 40 ارب امداد اور ایف سولہ لینے کے بعد کس منہ سے ویزا روک سکتے تھے۔ اسامہ کیخلاف کارروائی کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل تھی۔ کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ اسامہ کا نیٹ ورک کس نے بتایا یا بننے دیا۔ امریکہ میں دس لاکھ پاکستانی ہیں کے پاکستانیوں سے 6 ہزار امریکی برداشت نہیں ہورہے“
 کمیشن تشکیل دینے کا مقصد تو سچ سامنے لانا ہی ہوتا ہے دل بہلانا نہیں۔ لیکن جن لوگوں نے یہ کمیشن تشکیل دیا ان کے ارادے شک و شبہ سے بالاتر کبھی نہیں رہے۔ وزیراعظم گیلانی اس کمیشن کی طرف سے امریکیوں کو ویزوں کے اجرا کے سوال پر اسمبلی میں بے قابو ہو گئے۔ ایک موقع پر فرمایا اسامہ کو ویزہ کس نے دیا؟ حسین حقانی ہی نہیں پوری دنیا یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ اسامہ کا نیٹ ورک کس نے بنایا یا بننے دیا؟ امریکہ میں دس لاکھ پاکستانی کیا وہی کام کرتے ہیں جو 6 ہزار امریکی پاکستان آکر کرتے رہے؟اور شائد اب بھی کر رہے ہیں۔
امریکہ‘ انڈیا‘ برطانیہ اور اسرائیل سمیت کسی بھی ملک میں قومی سلامتی سے متعلق حکومت ،اپوزیشن میڈیااور ایجنسیاں یکساں موقف اپناتی ہیں۔حتیٰ کہ فلسطینیوں اور کشمیریوں پر مظالم پر بھی اسرائیل اور بھارتی حکومتیں،اپوزیشن، میڈیا و ایجنسیاں بے اصولی اور انسانیت سوزی میں بھی یکجا ہیں۔ ہمارے ہاں باوا آدم نرالا ہے جو سوال پوری دنیا پاکستان شرمندہ کرنے کےلئے پوچھ رہی ہے۔ہمارے میڈیا کوپاکستان کے دفاع میں اس کا بھر پور جواب دینا چاہئے لیکن اس میں موجود کچھ لوگ گیلانی اور حقانی کی زبان بولتے ہوئے یہ سوال دہرا رہے ہیں؛ اسامہ پاکستان کیسے آئے اور 9 سال کس کے تعاون سے چھپے رہے‘ ان کا روئے سخن جس طرف ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔چونکہ امریکہ بھی یہی سوال کرتا ہے اس لئے مراعاتی طبقہ اپنی اپنی لائن سیدھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ حقانی جیسا ہی شخص پاکستان میں سیٹھی کے نام سے موجود ہے۔ ان کا سوال بھی یہی ہے ۔وہ انکشافات کے در کھول رہے ہیں۔ ”نواز شریف نے 99ءمیں طالبان حکومت کو سمجھانے اور اسامہ بن لادن سے جان چھڑانے پر زور دیا“۔ چونکہ شجاع پاشا موجودہ حکمرانوں کیلئے ناپسندیدہ ہیں اس لئے سیٹھی نے فرما دیا کہ ” ایک موقع پر پاشا ان کو اچھے اور جرا¿ت مند لگتے تھے لیکن میرے سچ بولنے پر مجھے ملک دشمن قرار دینے لگے اور 4 ماہ تک مجھے ملک سے باہر رہنا پڑا“۔ ایسے بیانات سے انہوں نے اپنا عہدہ مزید پکا کر لیا۔ شجاع پاشا نے ایبٹ آباد کمیشن کو امریکہ کا اصل چہرہ دکھانے کی کوشش کی۔ ”امریکہ بہت مغرور ہے اسکے تکبر کی کوئی مثال نہیں ملتی ایک امریکی انٹیلی جنس افسر نے کہا تھا پاکستانی اتنے سستے ہیں انہیں ایک ویزا، امریکہ کا دورہ یا ایک کھانے کے عوض خریدا جا سکتا ہے اور حتیٰ کہ کسی کو بھی“۔
 یہ امریکہ کے مراعات یافتہ طبقات اور اپنے مستقبل کو روشن بنانے کےلئے امریکہ کو خوابوں کی سرزمین سمجھنے والوں کیلئے لمحہءفکریہ ہے۔ اس امریکی سے کیا گلہ جس نے کہا تھا کہ پیسے کے بدلے پاکستانی اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں۔
اسامہ کو پاکستان میں کس نے پناہ دی۔ ایبٹ آباد آپریشن کو زمینی مدد حاصل تھی یہ دو سوالات بڑے اہم ہیں۔ فوج اور آئی ایس آئی اسامہ کے ٹھکانے سے یقینالاعلم تھی۔ اس نے اسامہ کو لاکر بسایا ہوتا تو ایبٹ آباد آپریشن میں قطعی کامیاب نہ ہوتا۔ جہاں تک زمین مدد کا تعلق ہے کمیشن نے خود کہا ہے کہ آپریشن کو زمینی مدد حاصل تھی۔کس کی؟ اس حوالے سے کمیشن خاموش ہے تاہم صدر آصف علی زرداری کے آپریشن کے دوسرے روز اسکی حمایت میں واشنگٹن پوسٹ میں آرٹیکل کا شائع ہونا، وزیراعظم گیلانی کا اسے عظیم کامیابی قرار دینا ،لندن میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن یہ کہنا کہ آپریشن ہمارے تعاون سے ہوا ہے اور پھر اوباما کا تعاون پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا، تحقیق و تجسس کے بہت سے در کھول دیتا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کا یہ اقتباس تو زمینی امداد کے حوالے سے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔
اسامہ بن لادن کی قیام گاہ سے دوچار گھر کے فاصلے پرایک مکان میں فوج کے حاضر سروس میجر، عامر عزیز رہائش پذیر تھے۔ کمیشن کی رپورٹ میں میجر صاحب کی گواہی بڑی اہم ہے میجر عامر نے تصدیق کی کہ یو ایس ایڈ نے پڑوس میں ایک دفتر کرائے پر لے رکھا تھا اور شکیل آفریدی کچھ خواتین کے ہمراہ وہاں آتا جاتا رہتا تھا۔ میجر صاحب کے بیان کے مطابق فوج کے ایک ریٹائرڈ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سعید اقبال دو تین بار انکے گھر آئے۔ کرنل سعید کے پاس کم و بیش تین چار کروڑ روپے مالیت کی ایک انتہائی مہنگی گاڑی تھی۔ ایک بار وہ میجر عزیز کے گھر کی چھت پر بھی گیا اور اپنے انتہائی مہنگے کیمرے سے تصویریں بناتا رہا۔ کرنل سعید کا ایک بیٹا جنرل مشرف کا اے ڈی سی رہا۔ بعدازاں وہ مشرف کے پرائیویٹ سیکرٹری کے طور پر کام کرنے لگا۔ کرنل سعید اقبال نے ایک سیکورٹی ایجنسی بنا رکھی تھی جس میں آئی ایس آئی کے سابق اہلکار بھرتی کئے گئے تھے۔ واقعے کے فوراً بعد کرنل (ر) سعید اقبال نے اپنی جائیداد فروخت کرنے کی کوشش کی اور پھر ملک سے باہر چلا گیا۔
ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کا چوری ہو کر یا فروخت ہو کر الجزیرہ تک پہنچ جانا بھی ایک معمہ ہے۔ اس کو حل کرنا مشکل نہیں۔ جس اینکر صحافی یا وہ کوئی بھی ہے یہ خبر دی کہ 15 ہزار ڈالر میں رپورٹ بیچی گئی اس کو پولیس کے حوالے کر دیں وہ ایک ایک بات بتا دیگا۔ بہرحال ماضی کی طرح نظر آتا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے جزا و سزا کا عمل کبھی تکمیل تک نہیں پہنچے گا۔ ایبٹ آباد آپریشن اور کمیشن کی کہانی ختم سمجھیے۔ دوسری طرف توقیر صادق کیس کہیں رکتا دکھائی نہیں دیتا۔ پی پی پی کی آدھی قیادت اس کیس میں باقی، دوسرے کرپشن کیسوں میں فارغ ہو جائیگی۔ پی پی پی کی بطور پارٹی کہانی بھی ختم۔ سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس الطاف حسین کے پیچھے پڑ گئی ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں 14 سال اور قتل کی دھمکیاں دینے اور دہشت پھیلانے پر عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ عمران فاروق کیس اسکے علاوہ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کا نعرہ ہے” منزل نہیں رہنما چاہئے “ متحدہ کے سر پر قائد نہ رہا تو جو اسکی واحد ضرورت ہے تو متحدہ کا وجود کس لئے؟ کیونکہ منزل تو کوئی ہے نہیں۔ قائد کے بغیر متحدہ کی کہانی بھی ختم اور مسلم لیگ نے ڈلیور نہ کیا اور عوام پر مہنگائی کا ستم ڈھاتی رہی تو اسکی کہانی بھی ختم سمجھیں تاہم اسکے پاس اپنی کہانی چلاتے رہنے کا ابھی وقت ہے۔ حالات اسکے ہاتھ میں ہیں۔ مشرف پر غداری‘ بےنظیر‘ بگٹی قتل کیس چل رہے ہیں۔ لال مسجد کیس بھی کھل گیا ہے معاملات منطقی انجام کو پہنچے تو مشرف کہانی بھی ختم۔


غلاف کعبہ برائے فروخت-کمیشن-مصر ،مرسی اور پاکستان-مصر ،مرسی اور پاکستان-آزمائش-”دلدل“-

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
11 جولائی 2013 0
ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ میں جو کچھ کہا گیا‘ اس سے زیادہ کی امید بھی نہیں تھی لیکن جس طرح یہ رپورٹ منظرعام پر آئی وہ حیران کن ہے۔ الجزیرہ نے اسے نشر اور اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔ پہلے روز تو کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے اس رپورٹ کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا اگلے روز فرما دیا کہ کسی کو کلین چٹ نہیں دی۔کمیشن ذمہ داروں کا تعین کر رہا ہے۔
جسٹس صاحب کی یہ رپورٹ بھی حمود الرحمن رپورٹ کی طرح ہی مبہم اسی طرح اخفا میں رکھی گئی ۔ اُسکے بارے میں کہا گیا کہ چوری ہو گئی تاہم اسکے کچھ حصے لیک ہوتے رہے۔ چنانچہ کئی سال بعدوہ مصدقہ یا غیر مصدقہ رپورٹ منظر عام پر آ آگئی۔ اس میں سقوط ڈھاکہ کا کسی کو مجرم نہیں ٹھہرایا گیا۔ اب جس کا دل چاہے اُس سانحہ کا ذمہ دار بھٹو کو قرار دے یا یحییٰ کو۔ کسی کو سزا کا مرتکب تو تب قرار دیا جائے جب مجرم کا تعین ہو جائے۔ مجرم یا مجرموں کا تعین حمودالرحمٰن کمیشن رپورٹ میں ہوا نہ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ میں۔ دونوں رپورٹوں میں ایک مماثلت ان کا چوری ہونا ہے۔ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے یہ وزیر اعظم ہاﺅس سے چوری ہوئی ۔یہ رپورٹ وزیر اعظم راجہ پر ویز اشرف کو اسی سال جنوری میں پیش کی گئی تھی۔اس پر بھی ایک کمیشن بننا چاہئے کہ رپورٹ چوری ہوئی یا فروخت کی گئی۔ دوسرا امکان قوی دکھائی دیتا ہے۔سوئس حکام کو خفیہ خط بھی راجہ کے دور میں ہی لکھاگیا تھا، جس میں پہلے خط سے لاتعلقی ظاہر کی گئی تھی۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام گزشتہ پانچ سال میں چوری اور فروخت ہونے سے محفوظ رہا اسے ایک معجزہ ہی سمجھنا چاہیئے ۔
 ایبٹ آباد کمیشن نے سماعت تو بڑی دلیری سے کی، 200گواہوں کی لائن لگوادی۔ لگتا ہے رپورٹ مرتب کرتے وقت انکی ٹانگیں اور ہاتھ لرز رنے لگے تھے۔ ہر ادارے کو بیک مجرم اور محرم قرار دے دیا۔ فرد یا افراد کی طرف انگلی نہیں اٹھائی۔ اب مجرموں کی نشاندہی کیلئے ایک اور کمیشن تشکیل دینے کی ضرورت پڑیگی وہ بھی اس صورت میں کہ حکمران اس معاملے میں دلچسپی لیں۔ ماضی کو مد نظر رکھیں تو ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ ایبٹ آباد آپریشن کی کوتاہی کے اسباب سقوط ڈھاکہ اور اوجڑی کیمپ کے سانحہ کی طرح شائد کبھی منظرعام پر نہ آسکیں۔البتہ کرگل پر ایک بااختیار کمیشن بننے ، اس کا ذمہ دار کون تھا اور کون کرگل محاذ آرائی سے آگاہ تھا اور کس کو بے خبر رکھا گیا؟ ان حقائق سے پردہ اٹھ سکتا ہے ۔ نواز شریف بارہا کمیشن بنانے کا مطالبہ کر چکے ہیں اور اب وزیراعظم بننے کے بعد وہ ایساکرنے میں بااختیار ہونگے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ دوتہائی اکثریت سے لش پش حکومت کے دوران ایک غیر جانبدار کمیشن تشکیل دے پائیں گے؟ کمیشن تشکیل پا جائے تو بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ ن لیگ کی آئینی مدت میں ہی اپنی رپورٹ مرتب کر لے۔ اسے کئی بظاہر نظر نہ آنیوالے معاملات ، مسائل اور” خاکی گھوریاں“ درپیش ہوں گی اور حکمران اپنی مرضی کی کارروائی چاہتے ہونگے تو ”جانبدار“ کمیشن بھی سلسلے کو دراز کر سکتا ہے اور ماضی کی طرح خفیہ ہاتھ آئینی مدت بھی سکیڑ سکتے ہیں۔ مشرف تو ویسے ہی زیر عتاب ہیں۔ ان کو 12 اکتوبر 1999ءکے آئین شکنی کے اقدام سے معافی مل گئی اب 3 نومبر کی ایمرجنسی کے مقدمہ میں لٹکانے کی خواہش نمایاں اور بے پایاںہے۔ بے نظیر قتل کیس میں مشرف کو سامنے کھڑا کرکے پولیس کو کہا جا رہا ہے اس پر قتل ثابت کر دو۔مشرف کیخلاف کیسز سے تاثر یہ مل رہا ہے کہ انہیں کسی بھی صورت پھانسی گھاٹ تک پہنچانا ہے ۔
آج سپریم کورٹ میں موجود اکثر جج مشرف کی بے رحمی کا نشانہ بن بنے ۔ اگر وہ مشرف کا کیس سنتے ہیں تو وہ اپنی ساکھ کو متاثر کرینگے۔ 12 اکتوبر1999ءکا اقدام مشرف کو سیدھا آرٹیکل چھ کی زد میں لا سکتا ہے لیکن اس میں مشرف کے اقدام کو توثیق کرنیوالے اس وقت کے تمام پارلیمنٹرین جن میں سے بہت سے آج بھی پارلیمنٹ کا حصہ ہیںمشرف کے ساتھ آرٹیکل چھ کی قطار میں کھڑے ہونگے اور پھر وہ جج حضرات بھی جنہوں نے مشرف کے آئین شکنی کے اقدام کو جائز قرار دیا اور انہیں اپنی طرف سے آئین میں ترمیم کی اجازت بھی دیدی وہ قابل معافی تو نہیں ہونگے ۔ اس معاملے کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
پاکستان اپنے قیام کے بعد زیادہ عرصہ آمروں کی تجربہ گاہ ،لٹیروں کی آماجگاہ،آئین و قانون شکنوں کی چارہ گاہ اور وطن و ملت فروشوں کی شکار گاہ بنا رہا۔ گزشتہ پانچ سال میں تو کرپشن کی ندیوں کو قلز م بنادیا گیا۔ کل اوگرا کے سابق چیئر مین توقیر صادق کو یو اے ای سے گرفتار کرکے پاکستان لایا گیاجس پر 82ارب کی لوٹ مار کے الزامات ہیں۔ان میں صداقت اس لئے نظر آتی ہے کہ کرپشن پی پی پی کی گزشتہ حکومت کا کلچر تھا اور پھر توقیر صادق سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر ملک سے فرار ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ انکی واپسی عمران فاروق کے مبینہ دو قاتل جو ملائیشیا سے سری لنکا گئے اور کراچی ائیرپورٹ سے ایجنسیوں نے اچک لئے ‘ کے تبادلے کے طور پر ہوئی ہے۔پاکستان میں ایک نہیں سینکڑوں کی تعداد میں توقیرصادق موجود ہیں۔ کیوں نہ پاکستان کو اب تک جھٹکے دینے والوں کے ”مقام“ کا صحیح تعین کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطح کا دیانتدار افراد پر مشتمل کمیشن بنادیاجائے اور ایسے لوگ ملک میں موجود نہیں تو اقوام متحدہ یا مضبوط جمہوری روایات کے حامل ممالک سے مستعار لے لئے جائیں تاکہ 62,60 سال کا گند ایک ہی بار صاف ہوجائے اور پاکستان اور پاکستانی ایک نئے سفر کا آغاز کرسکیں۔


مصر ،مرسی اور پاکستان

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
07 جولائی 2013 0
مصریوں کی فطرت نے ایک سال بھی جمہوریت برداشت نہیں کی۔ آمریت کا بت مصریوں نے اپنے ہاتھوں 2011ء اس وقت توڑا جب وہ لاکھوں کی تعداد میں قاہرہ کے تحریر چوک میں ڈیرے جما کر بیٹھ گئے۔ان کا تحریر چوک کی یخ بستہ ہوا اوربارود کی فضا میں ایک ہی مطالبہ تھا ”حسنی مبارک استعفیٰ دو“انکے عزم کو شیلنگ تو کیا فائرنگ بھی متزلزل نہ کر سکی ۔جنوری کے آخر میں تحریر چوک کی سانسوں کو بھی جمادینے والی سردی میں مصریوں کا کھولتا ہوا خون رنگ لایا، 11فروری کو حسنی مبارک استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے۔اسکے بعد انتخابات میں52فیصد مصریوں نے اخوان المسلمون پر اعتماد کیا۔ کیا محض ایک ہی سال کے اندر مصری جمہوریت سے عاجز آکر اخوان المسلمون کے وزیر اعظم مرسی کیخلاف تحریر چوک میں براجمان ہوگئے۔ مظاہرین مرسی سے استعفے کا مطالبہ کیا جن کو پانچ سال کیلئے منتخب کیا گیا تھا۔انہوں استعفیٰ دینے سے انکا ر کیا تو فوج کے صبر کا پیمانہ چار دن میں لبریز ہوگیا۔جنرل عبدالفتاح السیسی کو مرسی نے ہی آرمی چیف بنایا،اس جرنیل نے پاکستان کی تاریخ مصر میں دہراتے ہوئے جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی یاد دلا دی۔تحریر چوک میں مظاہرین کا جنوری فروری والا ہی عزم تھا لیکن مظاہرین وہ نہیں تھے جو حسنی مبارک کی طاقتور فوج کے سامنے18دن سینہ سپر رہے۔48 فیصد ووٹ لینے والوں کے سینے پر مرسی کی کامیابی کا سانپ ہمہ وقت لوٹتا رہا۔مرسی بھی خود کو فرعونی آمریت کا صحیح متبادل ثابت نہ کرسکے۔ ایران اور شام سے قربت کے باعث قطراور سعودی عرب ناراض ہوئے ان راضی کرنے کی کوشش میںشام اور ایران سے فاصلے بڑھا ئے لیکن کمان سے نکلا تیرا واپس نہ آسکا۔ امریکہ اور اسرائیل پہلے ہی مرسی کی پالیسیوں سے نالاں تھے۔اس سب کا یہ مطلب نہیں کہ ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا جائے۔ جنرل السیسی نے اندرونی اور بیرونی ماحول کو اپنے لئے سازگار دیکھا تو مظاہرین کی خواہش چار دن میں ہی پوری کردی۔ کسی بھی پارٹی کیلئے تحریر سکوائر کو بھرنا مشکل نہیں تاہم اس کو پوری قوم کی آواز قرار دیناحماقت ہے ایسی حماقت کوئی سیاستدان نہیں جمہوری روایات سے نابلد جرنیل ہی کرسکتا ہے جو ہمارے مشرف کی طرح خود کو عقل کل سمجھتا ہو۔جرنیل کی طاقت وردی اور بوٹ ہوتی ہے۔ اسی کے بل بوتے پر وہ خود کو سیاست ، فلسفہ،علم وہنر اور دانش کا پیکر سمجھنے لگتا ہے ۔ پھروردی اور بوٹ کے اترنے پر اس کے ساتھ ہی سب کچھ کسی کونے کھدرے میں پڑا گل سڑ رہا ہوتا ہے ۔مشرف کا کروفر انکی وردی بوٹ اترنے کے ساتھ ہی کافور ہوگیا۔ اسکے بغیر وہ ایک سال بھی اقتدار میں نہ رہ سکے۔مصر میں ایک ہی سال کے اندر جمہوریت کا خاتمہ کرکے دراصل جمہوریت کے پودے کو اس وقت ا کھاڑ کر لگانے کی کوشش کی گئی ہے جب اس نے جڑیں بھی نہیں پکڑی تھیں۔اب اس پر برگ وبار لانے اور اسے ثمر آور بنانے کیلئے کسی لی جینڈکمٹڈ اور جینیئس کی ضرورت ہے۔یہ جنرل السیسی جیسے ماورائے عقل جرنیل ،عمرو موسیٰ اور محمدالبرادی جیسے خود غرض اور سازشی سیاستدان کے بس کا روگ نہیں۔گو پاکستان میں بھی جمہوریت تناور شجر نہیں بن سکی لیکن اسکی جڑیں کافی مضبوط ہو چکی ہیں۔ہمارے سیاستدان جو کچھ بھی کرتے ر ہیں وہ معاملات کو سمجھتے ضرور ہیں۔مرسی کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود سادگی میں مارے گئے۔ ہمارے اکابرین سیاست اور جغادریانِ جمہویت عموماًبہت کچھ کرکے بھی چالاکی سے بچ نکلتے ہیں۔ کوئی انگلی اٹھائے تو کہتے ہیں آئینی مدت کے اختتام پر عوام کو احتساب کا حق اور اختیار ہے۔مشرف کے پروردگان نے گورننس کی ایسی کی تیسی پھیری دی جس پر عوام 2008ءمیں ق لیگ سے نجات حاصل کرلی پیپلز پارٹی نے تو ہر ادارہ اجاڑتے ، اجاڑتے پانچ سال پورے کئے۔ اربوں، کھربوں کے لاتعداد سکینڈل سامنے آئے۔اس نے بیوروکریسی کو ساتھ ملایا اور عدلیہ کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔پہلے سال میں ہی اس کی ترجیحات کھل کر سامنے آگئی تھیں۔اگر پہلے سال ہی ایسے حکمرانوں سے نجات حاصل کرلی جاتی تو آج ملک یقینا اندھیروں میں نہ ڈوبا ہوتا۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک ماہ میں ہی عوام کو دن میں تارے دکھا دئیے ہیں ۔اسکے رہنما بھی بجا کہتے ہیں کہ ڈلیور نہ کرسکے تو الیکشن میں عوام مسترد کردینگے جو ایک ماہ کم پانچ سال بعد ہونے ہیں۔اگر ن لیگ کی کارکردگی سابقون جیسی رہی تو لوگ عمران کے سرپر ہما بٹھا دیں گے،بالفرض پانچ سال وہ بھی پیشروﺅں کی طرح نکلتے ہیں تو قوم کے تو بیس سال ضائع ہوگئے۔اسکے بعدنئے سرے سے پھر پرانا سائیکل شروع ہوجائیگا، ق لیگ ،پی پی پی ،ن لیگ ، پی ٹی آئی ۔عوام سیاست دانوں کی ہیرا پھیری کی گھمن گھیری کے گرداب میں چکراتے رہیں گے ۔ کوئی ایسا سسٹم ہو کہ جو حکمرانوں کو ڈی ٹریک نہ ہونے دے۔نواز لیگ اداروں کی بحالی اور بحرانوں پر قابو پانے کیلئے پر عزم نظر آتی ہے لیکن اب تک اچھل کود اور عوامی مسائل میں اضافے کے سوا کوئی کارکرگی دکھائی نہیں دی ۔مہنگائی کا ایک طوفان اٹھا دیاگیا ہے۔ امید ہے کہ یہ جلد یا بدیر بحرانوں پر قابو پالے گی ۔پی پی پی کے ڈبوئے ہوئے اداروں میں سے کچھ بیچ دیگی ،باقی اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو کر کماﺅ پتر بن جائینگے۔ہمارا عوامی شعور کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ عوام پی پی پی پر اعتماد کرتے ہیں تو کوئی ان کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔زرداری صاحب صدر ، گیلانی ، راجہ وزیر اعظم ، توقیر صادق چیئر مین اوگرا۔۔۔وغیرہ وغیرہ ہونگے تو؟ ہمارے سسٹم میں کسی پر بھی ایک بار دوبار بلکہ کئی بار اور با بار لوٹ مار ا پر کوئی پابندی نہیں،اگر کوئی پکڑا گیا تو معمولی سزا اور پھرپوتر۔ پارٹیوں سے کرپٹ لوگوں کو تو نکالنے کا کام کوئی پارٹی اپنے طور پر کرتی ہے اور نہ کریگی بلکہ کسی کی کامیابی کے امکانات کے پیش نظر اسے دوسری پارٹی قتل جیسے جرم اور اربوں کی کرپشن سے بھی صرف نظر کرتے ہوئے شمولیت کی دعوت ، اسکی مرضی کا ٹکٹ اور حلقہ عطا کردیتی ہے ن لیگ نے انتخابات میں ڈیڑھ سو ایسے مچھندر بھرتی کئے جن میں سے سو جیت بھی گئے، یہ ہماری سیاسی قیادتوں کی جمہوریت سے کمٹمنٹ اور عوامی شعور پر سوالیہ نشان ہے ۔مغربی جمہوریت ہم مسلمانوں کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی اس کی کارفرمائی کیلئے بڑے عزم و ارادے کی ضرورت ہے۔مغرب میں جمہوریت کا پہیہ گھوم رہا ہے اور گھومتا چلا جارہا ہے۔ہم مسلمانوں کو گھمانا پڑتا ہے۔جہاں کوتاہی کی ‘یہ رک جاتا ہے یہ پہیہ تبھی گھومتا رہ سکتا ہے کہ اسکے فلائی ویل کے کتے فیل نہ ہونے دئیے جائیںاور پیڈل بھی چلتا رہے۔ جس نے ایک دفعہ کرپشن کی اس پر سیاست کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کر دیئے جائیں۔ سابق وزیر اعظم گیلانی کہتے ہیں ”آئین کے تحت منتخب وزیراعظم کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، مانگوں گا نہیں ،کسی میں جرا¿ت ہے تو گرفتار کر لے، کسی عدالت یا ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوں گا۔ ایک منتخب وزیراعظم کو برطرف کرنے پر عدلیہ بھی آرٹیکل 6 کی زد میں آتی ہے“۔آفرین ہے ایسی دیدہ دلیری پر۔مغربی جمہوریت ہمارے مفاد میں تو ہے لیکن ہمارے مزاج کے مطابق نہیں اس کو گدلے لوگوں سے پاک نہ رکھا گیا تو یقین مانئے بہت بُرا ہو سکتا ہے اور شائد ہوکر ہی رہے ۔ضروری نہیں بغاوتیں اور انقلاب ہمیشہ پر امن ہی رہیں۔ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ سر پھرے انقلابی وہ سر سلامت نہ رہنے دیں جس نے ایک بار بھی الیکشن لڑا ہو۔بہتر ہے کہ بااصول سیاستدان جل کو گدلا کرنے والی مچھلیوں کو نکال باہر کریں۔ 


مصر ،مرسی اور پاکستان

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
04 جولائی 2013 0
کشمیر میں امن کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ بھی ناپیدہے ۔ ان میں اے سی ، بجلی کے میٹر اور موم بتی جیسی چیزیں بھی ہیں۔ وہاں کے سرد اور معتدل موسم میں اے سی کی ضروت نہیں ہوتی۔ہر گھر دو سو 30 روپے ماہانہ فکس میں بجلی استعمال کرتا ہے۔کچن اور گیزر بھی اسی میں چلتے ہیں۔دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ضرور ہوتی ہے۔اسکے باوجود وہاں موم بتی کا وجود نہیں ہے ۔ ضرورت پڑنے پر دیہات میں کشمیری” ثار“ کی ٹہنی توڑ کر جلا لیتے ہیں۔ دو اڑھائی فٹ شاخ رات بھر یہ شمع کی طرح خوشبو کے ساتھ جلتی رہتی ہے۔ ایسے درخت شاید دنیا میں کہیں نہیں۔اسی طرح پوری دنیا میں خوبصورتی اور قدرتی حسن کے حوالے سے کشمیر کی ایک امتیازی حیثیت ہے۔کشمیر کے دونوں حصے دلکشی ،سحر انگیزی اورحسن وجمال میں یکتا ہیں۔یہ نظارے کشمیر سے دور دور تک پاکستان میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔پاکستان میں سیاحوں کی دلچسپی کے مقامات کو تھوڑا سا تراش لیا جائے اور ماحول کو سیاحوں کے مزاج کے مطابق بنا دیا جائے تو پاکستان کی معیشت کو یہی ایک انڈسٹری اوجِ ثریا تک پہنچا سکتی ہے۔ فرانس میں سالانہ دس کروڑ، امریکہ میں نوکروڑ سیاح تفریح کیلئے جاتے ہیں۔ہمارے ہاں پُرامن دور میں سیاحوں کی تعداددس لاکھ سالانہ تک پہنچی ،اس میں بھی ہمارا کوئی کمال نہیں یہ لوگ پاکستان کے تاریخی مقامات اور دلفریب وادیوں ، برف پوش و سر سبزو شاداب پربتوں کے بارے میں دوسروں سے سن کے آئے ۔دہشتگردی کے خوف سے اب تعداد دس لاکھ سے کم ہو کر ہزاروں میں رہ گئی ہے۔گزشتہ دنوں ابصار عبدالعلی نے حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ میں سیاحت کے حوالے سے سیمینار منعقد کرایا جس میں مہمان خاص سلیم بخاری ،اوریا مقبول جان تھے ۔صدارت وزیر سیاحت و آثار قدیمہ رانا مشہود خان نے کی، تنویر جبار جنرل منیجر ٹور ز م پنجاب اور صحافی حسین دیگر مقررتھے۔سلیم بخاری صاحب نے معلومات کی برسات کردی۔اوریا صاحب نے سیاحت سے قبل تعلیم اور اردوکے فروغ پر زور دیا ۔ رانا مشہود اور تنویر جبار نے سیاحت کی ترقی کیلئے حکومتی کاوشوں کو اس طرح پیش کیا جس سے لگا کہ پاکستان دنیا کا نمبر ایک سیاحتی ملک بن چکا ہے۔خدا کرے ایسا ہی ہو ۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جسے قدرت نے بے شمار رحمتوں اور نعمتوں سے نوازا اور سیاحت کی مختلف النوع سیاحتی دلچسپیوں سے معمور کیا ہے۔ سمندری ساحلوں، پانچ دریاﺅں، پہاڑی سلسلوں، جھیلوں، جنگلوں اور صحراﺅں سے بھرپور یہ ملک قدرت کے حسن کا جیتا جاگتا شہکار ہے۔جہاں قدرت کے چاروں موسم سرما، گرمی، بہار اور خزاں اپنی مکمل رعنائیوں کے ساتھ ملیں گے۔جب پنجاب میں لو چلتی اور حبس سے جان پہ بنی ہوتی ہے تو مری اور اوپر کے علاقے خوشگوار موسم سے لبریز ہوتے ہیں ۔زیادہ ٹھنڈ پسند کرنیوالے کنکورڈیا چلے جائیںجو برف پوش چوٹیوں کا سنگم ہے ۔ سیاحتی، تاریخی مقامات اورآثار قدیمہ کسی بھی ملک سے بڑھ کر پاکستان میں ہیں۔پھول برساتی اور شبنم میں نہاتی وادیوں میں سوات، ناران ، کاغان‘ سکردو، چترال، گلگت، ہنزہ ،زیارت ،کوئٹہ، مری اور کلر کہاراہل ذوق کو دعوتِ نظارہ دیتی ہیں۔کنکورڈیا جیسا علاقہ دنیا میں کہیں نہیں۔یہ گلگت بلتستان میں تین پہاڑی سلسلوں ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش کا سنگم ہے ایک جاپانی سیاہ نے اپنی کتا ب: Pilgrimage to conkordia میں لکھا ” یہ مقام پوجا (حج)کے قابل ہے“۔ ہم پربتوں کے اس سنگم کی اہمیت سے نا بلد ہیں اس لئے یہ دنیا کی توجہ حاصل نہ کر سکا۔دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے 8 پاکستان میں ہیں۔ دنیا میں دو قدیم ترین تہذیبو ں کے آثار دنیا میں کہیں نہیں ہیں۔ گندھارا اور انڈس ویلی کا پاکستان میں ہونا اسکی دنیا میں انفرادیت کا مظہر ہے۔26 جھیلیں 8ہزار فٹ سے زیادہ بلندی پر ہیں تو وہ پاکستان میں ہیں۔ قوسِ قزح کے رنگ بکھیرتی جھیل سیف الملوک میں پریوں کا مسکن تسلیم کیا جاتا ہے۔نیاگرافال تو امریکہ ،کینیڈا میں ہے پاکستان میں لگتا ہے اس نے بچے جنم دیئے ہوئے ہیں۔شمالی علاقوں میں قدم قدم پر آبشاریں، جھرنے اور چشمے جادو نگری کا احساس دلاتے ہیں۔مکران کوسٹل ہائی وے اپنی مثال آپ ہے۔ ساڑھے چھ سو کلو میٹرطویل اور دلکش ساحل دنیا میں اور کہاںہوگا۔یہ دو رو یہ شاہراہ کراچی سے شروع ہو کر اورماڑہ اور پسنی سے ہوتی ہوئی گوادر پہنچتی ہے۔ اسکے ایک جانب بلوچستان کے صحرائی و پہاڑی علاقے ہیں اور دوسری طرف بحیرہ عرب کا نیلگوں پانی ٹھاٹھیں مارتا ہے۔کراچی سے گوادر تک ساحل سمندراور اسکے افق پر ہائی وے شفق کا عکس نظر آتی ہے۔صنوبر کا درخت چار سال میں ڈیڑھ انچ بڑھتا ہے اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے، یہ زیارت میں ہزار وں کی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ چھ سو فٹ کی اونچائی والے صنوبر عجوبے کم نہیں۔ پاکستان قدیم ترین تہذیبوں کا منبع ہے جبکہ کیلاش قوم کی حیثیت میں سکندر اعظم کے دور کی یاد گاریں اپنے لباس اور حسن کے شہکار ہیں۔ وادی بمرید اور رمبور وادیوں میں جانیوالے لوگ قدرتی نظاروں اور مقامی افراد کو دیکھ کر عش عش کر اٹھتے ہیں۔راکا پوشی کی چوٹی ہمیشہ بلا امتیاز کسی بھی موسم کے بادلوں سے ڈھکی رہتی ہے۔چترال سے بارہ کلومیٹر کی دوری پر گرم چشمہ کے نام سے ایک جگہ جس کا پانی انتہائی سرد موسم میں گرم ہوتا ہے۔ اس میں ایک دفعہ نہانے والا جلدی بیماریوںسے نجات پالیتا اور اسکی ہڈیاں مضبوط ہو جاتی ہیں۔فیری میڈو کا ذکر نہ کیا جائے زیادتی ہو گی۔ سیاح جب اوپر نظر اٹھاتے ہیں تو درختوں کے جھرمٹ میں آسمان نظر نہیں آتا۔ پاکستان میں صوفیا، اور اولیا کے مزارات مرجع خلائق ہیں۔ہر مذہب کی یادگاروں کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ کراچی سے تخت بھائی میں بدھا کے مجسمے تک موجود ہے۔ پاکستان میں مسلمانوں کے مساجد، مزارات، ہندوﺅں کے مندر، سکھوں کے گوردوارے اور بدھوں کے (وہار) سٹوپاز اور قدیم ترین چرچ ہیں جو اپنے پیرو کاروں کیلئے ہمیشہ سے توجہ اور دلچسپی کا مرکزرہے ہیں۔دبئی اپنے ریتلے صحراﺅں کو سفاری سپاٹ بنا کر سونا پیدا کررہا ہے ۔ پاکستان ہر طرح کی سفاری سے مالا مال ہے۔ تھرپارکر اور چولستان خوبصورت صحرا ہے جہاں دنیا کے خوبصورت اور نایاب جانور بھی پائے جاتے ہیں یہ علاقہ ہر لحاظ سے محفوظ بھی ہے۔کراچی سے 450 کلو میٹر کی مسافت پر خوبصورت مقام گورکھ ہل اسٹیشن ہے۔ سطح سمندر سے 5688 فٹ بلنداس علاقے کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 17 اور سردیوں میں کم ازکم منفی 5 سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔سیاحت کے فروغ میں ہماری دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ پاکستان کے ایئر پورٹ پرہر سیاح سے تین سو ڈالر فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ یہ بھارت میں 90ڈالر ہے۔ ٹورازم ایکٹ میں ”یہ کرو ‘ وہ نہ کرو “کے حوالے سے جو اقدامات تجویز کئے گئے ہیں انکے پیش نظر تو شاید ہی کوئی سیاح پاکستان کا رُخ کریگا ۔پاکستان میںایک ہاتھ سے فیس وصول کی جاتی ہے تو دوسرے سے سیاحوں کو کوڈ آف ڈریس تھما دیا جاتا ہے”ٹائٹ لباس نہیں پہننا یہ اشتعال کا سبب بنتاہے ڈھیلا لباس بھی نہیں پہننا اس سے جسمانی اعضا بے قابو ہوجاتے ہیں“۔سیاحت کیلئے علاقے کی خوبصورتی اور موسم اہمیت کے حامل ہوتے ہیں،وہاں تک پہنچنے کی سہولتیں بھی ضروری ہیںلیکن سب سے بڑھ کر امن کا ہونا لازم ہے۔اس طرف تھوڑی سی توجہ سے پاکستان ٹورزم میں دنیا کا سب سے بڑا ملک بن سکتا ہے ۔




آزمائش

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
23 جون 2013 0
 ”پیپلز پارٹی کے اسلام آباد سیکرٹریٹ میں بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقریب میدان جنگ بن گئی۔ جونہی یوسف رضا گیلانی، قمر الزماں کائرہ، لطیف کھوسہ اور دیگر رہنما پیپلز سیکرٹریٹ پہنچے تو جیالوں کا جتھہ انہیں دیکھ کر مشتعل ہو گیا ،شدید نعرے بازی کرتے ہوئے انہیں پارٹی کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔ بپھرے ہوئے جیالوں کا کہنا تھا کہ کرپشن یوسف رضا گیلانی کے گھر سے شرع ہوئی،راجہ رینٹل کہا ں ہے،وہ کیوں نہیں آیا، شہید بی بی کی پارٹی کو تباہ کرنے والا یہی گروپ ہے۔“
 حقیقت یہی ہے کہ بے نظیر بھٹو کے جانشینوں نے پیپلز پارٹی کو برباد کر کے رکھ دیا۔ طویل عرصے بعد بھی اس کا سنبھل جانا معجزہ ہوگا۔اس پارٹی کو کوئی بھی اس قدر نقصان نہیں پہنچا سکا جس قدر اسکی قیادت نے اقتدار میں آ کر اسے پہنچایا۔اگر کسی نے یہ منصوبہ بندی کے تحت کیا تو اسکی پلاننگ فول پروف تھی۔
کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کرکے مسلم لیگ (ن) کو جتایا گیا۔ اگر ان حلقوں سے اتفاق کرلیا جائے تو یہ (ن) لیگ کیخلاف اسی قسم کی سازش نظر آتی ہے جو پیپلز پارٹی کو اقتدار میں لا کر اسے پانچ سال تک ملک و قوم کے سیاہ و سفید کا مالک بنا کر کی گئی تھی۔
پیپلزپارٹی کے عوامی نفرت کا نشانہ بننے کی سب سے بڑی وجہ اس کی ہمالہ جیسی کرپشن تھی جس نے ہر ادارہ تباہ کیا اور توانائی بحران نے معیشت ڈبودی۔ مسلم لیگ کو ملنے والا اقتدار واقعی پھولوں کی سیج نہیں۔ بدقسمتی یا خوش قسمتی حکومتی پارٹی اقتدار کو پھولوں کی سیج ہی سمجھتی ہے۔اس وقت مسلم لیگ ن کی پوری توجہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے پر ہے جس پر بتدریج قابو پایا جارہا ہے ۔ یقینا عوام اور خود حکمرانوں کے اندازوں اور توقعات سے کہیں پہلے بجلی کہ قلت دور ہو جائے گی ۔صرف ایک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اگلے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ق لیگ کے دور میں مثالی ترقیاتی کام ہوئے تھے۔ 2008ءکے انتخاباب میں اسکی شکست کی بڑی وجہ آٹے کا بحران بنا ۔ ملکی ضرورت کے باوجودلاکھوں ٹن گندم بر آمد کردی گئی ۔ملک میںمصنوعی قحط کی سی فضا پیدا ہوئی تو بر آمد کی گئی گندم دو گنا ریٹ پر در آمد کر لی لیکن اس دوران” قحط سالی“ عوام کے دلوں میں اس کے ذمہ داروں کیخلاف نفرت کا بیج بو چکی تھی جس کا خمیازہ اس نے 2008ءکے انتخابات میں بھگت لیا۔ پیپلز پارٹی کی پوری توجہ خوراک کا بحران نہ پیدا ہونے پر رہی اور اس میں وہ کامیاب بھی رہی لیکن اسے ایک نئے ”بجلی کے بحران“ نے چِت کرڈالا۔مسلم لیگ ن بجلی کے بحران پر تو قابو پا لے گی مگر اسے آزمائش در آزمائش در پیش رہے گی ۔
 لگتا ہے کہ لیگی قیادت نے ق لیگ اور پی پی پی کے انجام سے کوئی سبق سیکھا نہ تاریخ سے۔ اس میں خود انکے حکمرانی کے دو ادھورے ادوار بھی شامل ہیں۔ محض دو اڑھائی ہفتے کے اقتدار سے قیادت کی دیوار کے پار نہ دیکھنے کی اہلیت(وژن یعنی بصارت) ظاہر ہو گئی ہے۔ خواجہ آصف بھارت سے دو ہزار میگاواٹ بجلی کے معاہدے کر رہے ہیں۔ بھارت کے حوالے سے پاکستانی کچھ زیادہ ہی حساس واقع ہوئے ہیں وہ موم بتی کو بھارت قمقموں پر ترجیح دیتے ہیں۔ خواجہ صاحب نے سی این جی مالکان کو بلاامتیاز چور قرار دیا، جواب میں ایسا ہی سنا تو اب سی این جی سٹیشن بند کرنے پر تل گئے ہیں۔ اس کا نقصان صارفین کو ہو گا اور لامحالہ نتیجہ خواجہ آصف کو نہیں انکی پارٹی کو بھگتنا پڑیگا۔ بجٹ میں ملازمین کو نظرانداز کر دیا گیا۔ احتجاج پر دس فیصد تنخواہ بڑھا دی گئی۔ کیا ملازمین کے احتجاج کا ادراک نہیں تھا؟ بجٹ کی منظوری سے قبل ہی جی ایس ٹی کی وصولی شروع کر دی۔ سپریم کورٹ کے نوٹس لینے اور سخت ریمارکس کے بعد بھی عقل نہ آئی تاآنکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وصولی کو کالعدم قرار دے دیا۔ وزیر خزانہ پیشروﺅں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فرماتے ہیں‘ جی ایس ٹی کا نفاذ قانونی تھا۔ اسحاق ڈار کی اس اچھل کود کا کفارہ کس کو ادا کرنے پڑیگا؟
بینظیر بھٹو کی سالگرہ پر اودھم مچانے والے جیالے پانچ سال اپنی حکومت کا دفاع کرتے رہے۔ مراعات کیلئے ہاتھ پاﺅں مارتے رہے۔ اب بھی ان کا ہاتھ غلط گریبانوں پر ہے۔ وہ پارٹی کو ڈبونے کا ذمہ دار گیلانی، راجہ اور کائرہ جیسے لوگوں کو قرار دے رہے ہیں۔ جو پورا سچ نہیں ہے۔ راجہ کو وزیراعظم اس وقت نامزد کیا گیا جب وہ راجہ رینٹل کی شہرت پا چکے تھے۔پارٹی کی تباہی کی حقیقی ذمہ داری گیلانی اور راجہ کو وزیراعظم بنانے والے پر عائد ہوتی ہے۔ جیالے اسکی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اس لئے کہ وہ اب بھی نوازنے کی پوزیشن میں ہے؟۔
متوالوں نے جیالوں کے انجام سے سبق حاصل نہ کیا تو کل یہ بھی تقریبات میں اسی طرح اودھم مچائیں گے جس طرح جیالے بینظیر کی سالگرہ پر مچا رہے تھے۔ متوالے بھی جیالوں کی طرح اپنی قیادت کی اچھی بری ہر پالیسی کاخوشامد سے لبریز جذبات کے تحت دفاع کر رہے ہیں۔اب مقابلہ سخت ہے ۔عمران خان خطرے کا الارم ہیں۔عوام ان باغوں کی سیر کے خواب دیکھ رہے ہیںجو پی ٹی آئی نے انہیں دکھائے ہیں۔منصوبہ ساز بھی ایک ایک ایک غلطی ، بد عملی اور بدنظمی کا حساب کتاب لگا کر اس سے عوام کو آگاہ کر رہے ہیں ، الیکشن کے موقع پر یہ سلسلہ عروج پر ہو گا۔متوالے ابھی سے جاگیں، کاسہ لیسی ، حاشیہ بردار ی اورچاپلوسی کے حصار سے نکلیں۔اُ س وقت قیادت کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہو گا ۔ قیادت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا یقیناً متوالوں کی بھی آزمائش ہوگی ۔


”دلدل“

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
20 جون 2013 0
جہاز سے اترتے ہی برطانوی قانون کی عملداری ختم‘ پاکستان کی شروع ہو گئی۔اے آرنوشاد جو برطانیہ جانے سے قبل اللہ رکھاتھا‘ اپنے 11 سالہ بیٹے کے ساتھ بغیر کسی پروگرام کے پاکستان آیا۔ تھری پیس میں ملبوس اللہ رکھا نے ائرپورٹ پر اپنا سامان بعد میں سنبھالا پہلے اپنے بیٹے کو ٹائی سے پکڑ کر جھنجوڑا پھر ایک تھپڑ سیدھے دوسرا الٹے ہاتھ سے مارا۔اسی ایکشن میں جو تاا تار کر ٹھکائی شروع کر دی۔ وہاں موجود لوگوں نے رکھے کا ہاتھ تو روک دیا ،مگر اسکی زبان بدستور چل رہی تھی ” اب بلا¶ اپنے باپ پولیس والوں کو۔۔۔“ لوگوں نے پاکستان میں داخل ہوتے ہی پاکستانیت کی لہر اٹھنے اوربہار آنے کی وجہ پوچھی تو رکھا پھنکارا‘” مانچسٹر میں اسے ڈانٹا تو اس نے پولیس کو تشدد کی رپورٹ کر دی‘ تین ماہ کی جیل کے بعد پہلی فلائٹ میں اسے سبق سکھانے کے لئے پاکستان لایا ہوں....
 بیرسٹر نعیم بٹ‘ رضا الدین صدیقی کی میزبانی کی مجلس میں بتا رہے تھے کہ پاکستان سے گئے ایک فیملی کے مہمان ان کے نو سال کے بچے کے ساتھ گھومنے گئے۔ راستے میں کسی بات پر مہمان نے بچے کو ہلکا سا تھپڑ ماردیا۔ کسی خاتون نے اس منظر کو دیکھا اور پولیس کو گاڑی کا نمبر نوٹ کرا دیا۔ پولیس نے گھر ٹریس کیا۔ تھوڑی سے تحقیق سے پتہ چل گیا کہ گاڑی میں مہمان اور اس کا بھانجا تھے۔ پولیس نے اسی وقت مہمان کو ڈی پورٹ کرنے کی کارروائی شروع کر دی۔ گھر والے پریشان تھے۔ بچے نے پولیس سے درخواست کی کہ اس کے ماموں کو ڈی پورٹ نہ کریں۔ انہوں نے ایسا کوئی تشدد نہیں کیا ایسی ڈانٹ ڈپٹ تو امی اور ابو بھی کر لیتے ہیں۔ اس پر پولیس نے حیران ہو کر بچے سے پوچھا کیا تمہارے ابو اور امی بھی تم پر تشدد کرتے ہیں؟ سوال کا برطانوی پولیس کو مزید جواب درکار نہیں تھا۔ پولیس نے اسی وقت قرار دے دیا کہ بچے ایسے والدین کے پاس غیر محفوظ ہیں۔ اسی وقت تینوں بچوں کو پولیس سوشل کیئر ڈیپارٹمنٹ لے گئی۔ تین میں سب سے چھوٹے کی عمر صرف دس ماہ تھی۔ اس پر ماں کی جو حالت تھی وہ ناقابل بیان ہے۔وہ کہہ رہی تھی کہ میرے بچے مجھے دیدو،میں شہریت اور سب کچھ چھوڑ کر پاکستان چلی جاﺅں گی ۔ تین دن بعداس خاندان ، خصوصی طور پرخاتون نے عذاب میں گزارے ۔بڑی مشکل سے چوتھے روز بچے واپس ملے جنہیں ان کی ماں پاکستان لے آئی۔کیا اس لئے کہ کھل کر پٹائی پر کوئی روک ٹوک نہیں ؟
 مغرب میں تشدد، عدم تشدد اور انسانیت کے حوالے سے جو قوانین ہیں انکے حکمرانوںاور عوام کا عمومی رویہ بھی اس کا عکاس ہے۔22مئی 2013 کو لندن میں دو شدت پسندوں نے ایک فوجی کو سرِعام خنجروں کے وار کرکے قتل کردیا۔ اس روز وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون فرانس کے دورے پر تھے انہوں نے فوری طورپر واپسی کا فیصلہ کیا اور کوبرا میٹنگ طلب کرلی۔ کوبرا میٹنگ ملکی سلامتی کو درپیش انتہائی خطرات کی صورت میں طلب کی جاتی ہے۔کیمرون نے سیکرٹری داخلہ تھریسا مے کو پہلے اجلاس کی صدارت کرنے کی ہدایت کی دوسرے کی صدارت لندن پہنچ کر خود کی۔ انگریز فوجی پر حملہ نائیجرین نژاد نو مسلموں نے کیا تھا جس پر مسلمانوں کیخلاف ردّعمل فطری امر تھا۔ مسلمانوں میں خوف و ہراس پایاجاتا تھا۔اس نازک مرحلے پربرطانوی سیاستدانوںاور میڈیا کا رویہ انتہائی محتاط رہا۔ وزیراعظم کیمرون نے اسے انفرادی جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکا اسلامی تعلیمات اور مسلم آبادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
 ہم جن ملکوں اور معاشروں میں رائج جمہوریت کی نقل کرتے ہیں وہاں انسانوں اورانسانیت کی قدر کی جاتی ہے۔ عام شہری اور بچوں تو کیاجانور کے حقوق کا تعین کرکے ان کی حفاظت کے قانون بنائے جاتے اور ان پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ہم متشدد معاشرہ بن چکے ہیں۔ بچوں پر تشدد کیلئے اپنا وطن آئیڈل ہے۔ اساتذہ کو مارکٹائی سے باز رکھنے کیلئے قانون سازی کرنا پڑتی ہے ۔بچے کے رونے پر اسے دیوار اور فرش پر پٹخ کر ابدی نیند سلا دیاجاتا ہے۔ایک پیاز اکھاڑنے پر چار سالہ بچی پر کتے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔
 ہمارے ہاںجمہورت موجود ہے لیکن ہمارے رویئے آمرانہ ہیں۔قانون تو ہیں لیکن ان کا اطلاق شکل دیکھ کر ہوتا ہے۔مذہب، اخلاقیات ، تعلیم سے دوری،برتری کے زعم اور اختیارات سے تجاوز کے باعث معاشرے میں تشدداور ناانصافی کا عنصر بڑھ گیا ہے۔کمزور کو دبانے کو جرات،دلیری اور طاقتور کے سامنے سر جھکانے کو مصلحت اور ڈپلومیسی کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلے قتل،ڈکیتی ، چوری اور زیادتی و آبروریزی کی پہلی واردات پر قانون حرکت میں آجاتا تومعاشرہ بہت سی برائیوں سے پاک ہوتا۔ دہشتگردی کے پہلے واقعہ پرڈیوڈ کیمرون اور برطانوی حکومت جیسا رد عمل ہوتا تو ہم ہزاروں لاشوں اور لاکھوں زخمیوں کو اٹھانے سے محفوظ رہتے۔ہمارے گھر،گلیاں، بازار حتیٰ کہ فوجی تنصیبات ، بیرکیں اور قلعہ نما جی ایچ کیو جیسی عمارتیں میدانِ جنگ نہ بنتیں۔پہلے ڈرون حملے پر سخت، اصولی اور قومی و ملکی مفادات کے کےمطابق موقف اپنایا اور رد عمل ظاہر کیا جاتا تودوسر ے اور پھر سیکڑوں حملوں کی نوبت نہ آتی۔مشرف جو کچھ چھوڑ گئے وہ پیپلز پارٹی کی حکومت بھگتنا پڑا اور آج میاں نواز شرف کی حکومت کو بھگت رہی ہے۔ایران نے پہلا ڈرون نہ گرایا ہوتا تو آج اس پر بھی ڈرونز کی برسات ہو رہی ہوتی۔ لندن میں دہشتگردی کی بڑی واردات سات جولائی2007ءکو ہوئی جب انڈر گراﺅنڈ ٹرین اور بس پر خودکش حملوں میں 52 افراد مارے گئے تھے ۔ اسکے بعد حکومت اور برطانوی عوام متحد نہ ہوتے تو برطانیہ ہماری طرح دہشتگردی کی لپیٹ میں ہوتا۔ ہم پچاس ہزار جانیں گنوا کر بھی ہوش میں نہیں آئے۔حکمران امریکی جنگ کو اپنی جنگ کہتے توہیں لیکن پوری قوم کو اس پر قائل نہیں کرسکے۔ پاکستان میں امریکہ کے حامیوں کی کمی نہیں وہیںشدت پسندوں کے موقف کو سراہنے والے بھی موجود ہیں۔دونوں کے نظریات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ان سب کے متحد ہوئے بغیر دہشتگردی کی دلدل سے نکلنانا ممکن نظر آتا ہے ۔ان کو متحد کرنا اب آگ اور پانی کے ملاپ سے کم نہیں رہا۔کوئی بھی اپنی سوچ اور موقف بدلنے کو تیار نہیں۔میاں نوا ز شریف کی حکومت اگر قوم کو متحد کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو پاکستان دہشتگردی کے گھن چکر، ڈرون حملوںکے بھنور اور بدامنی و لاقانونیت کی دلدل سے نکل سکتا ہے۔


غلاف کعبہ برائے فروخت

18 جون 2013 0
میرے سامنے اتوار 16 جون 2013ءکو راولپنڈی سے شائع ہونے والے ایک بڑے اخبار کا صفحہ 4 کھلا ہے۔ اس پر چھوٹے سے اشتہار کی موٹے الفاظ میں ہیڈ لائن ”غلاف کعبہ“ توجہ اپنی طرف مبذول کر لیتی ہے۔ اشتہار کی پوری عبارت یوں ہے۔ غلافِ کعبہ کے دو پیس تقریباً 4 کلو سونے کی تار سے بنے، ”ضرورتاً برائے فروخت“ ہدیہ 4 کروڑ۔۔۔ ان مختصر الفاظ پر مشتمل اشتہار کے آخر میں jghilaf@gmail.com ای میل ایڈریس دیا گیا ہے۔ یہ اشتہار لاہور ایڈیشن کے صفحہ 17 پر شائع ہوا ہے۔ میں نے اشتہار میں دئیے گئے ایڈریس پر مزید تفصیلات کے لئے میل کی تو مختصر سا جواب دیا گیا ”یہ کعبہ شریف کے اوپری، دائیں کونے کے دو حصے ہیں“ اس میل کے جواب میں، میں نے درخواست کی کہ آپ کے پاس یہ متبرک ٹکڑے کیسے آئے اور ان کو فروخت کرنے کی کیا مجبوری ہے؟ اس کا جواب کالم لکھنے تک موصول نہیں ہوا اور ان صاحب کیلئے جواب دینا کوئی ضروری اور مجبوری بھی نہیں ہے۔ ہر مسلمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک خانہ کعبہ کے غلاف کی تاریخ اور اس کی تیاری پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ ”اخبار مکہ“ کے مصنف کے مطابق ۔۔۔ کعبة اللہ پر غلاف چڑھانے کی رسم بہت پرانی ہے خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حضرت اسماعیل نے چڑھایا تھا۔ ظہو ر اسلام سے قبل بھی حضور اکرمﷺ کا خاندان مکہ مکرمہ میں بہت عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا‘ آپﷺکے جدامجد بھی تمام قبائل میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے‘ انہوں نے بڑی سمجھداری اور فراست سے کام لیتے ہوئے غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے خصوصی بیت المال قائم کیا تاکہ تمام قبائل اپنی حیثیت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لے سکیں۔ فتح مکہ کی خوشی پر حضور اکرمﷺ نے یمن کا تیار کیا ہوا‘ سیاہ رنگ کا غلاف اسلامی تاریخ میں پہلی بار چڑھانے کا حکم دیا۔ آپﷺ کے عہد میں دس محرم کو نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا‘ بعد میں یہ غلاف عیدالفطر کو اور دوسرا دس محرم کو چڑھایا جانے لگا۔ بعدازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ 9اور 10ہجری میں بھی آپﷺ نے حجتہ الوداع فرمایا تو غلاف چڑھایا گیا۔ اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف خوبصورت اور قیمتی کپڑے سے بنا کر اس پر چڑھاتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غلاف چڑھایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر فاروق پہلے پرانا غلاف اتار کر زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے لیکن بعد میں اسکے ٹکڑے حجاج اور غربا میں تقسیم کر دیئے جاتے۔ آج کل یہ ٹکڑے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور اہم شخصیات کو تحفہ میں دیئے جاتے ہیں۔حضرت عثمان غنی اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے پرانے غلاف پر غلاف چڑھایا اور سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم ڈالی۔ بنو عباس نے اپنے 500 سالہ دور حکومت میں ہر سال بغداد سے غلاف بنوا کر مکہ مکرمہ روانہ کئے۔ عباسیوں نے اپنے دور حکومت میں غلاف کعبہ کی بنوائی میں خصوصی دلچسپی لی اور اسکو انتہائی خوبصورت بنایا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں 2 مرتبہ اور مامون الرشید نے سال میں تین مرتبہ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کا اہتما م کیا۔ مامون الرشید نے سفید رنگ کا غلاف چڑھایا تھا‘ خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبز رنگ کا غلاف بنوایا لیکن پھر اس نے سیاہ ریشم سے تیار کروایا‘ اسکے دور سے آج تک غلاف کعبہ کا رنگ سیاہ ہی چلا آرہا ہے البتہ اوپر زری کا کام ہوتا ہے۔140ھ سے غلاف پر لکھائی شروع ہوگئی جو آج تک جاری ہے ۔ 761 ہجری میں والی مصر سلطان حسن نے پہلی مرتبہ کعبہ کے بارے میں آیات قرآنی کو زری سے کاڑھنے کا حکم دیا۔ 810 ہجری میں غلاف کعبہ بڑے خوبصورت انداز میں جاذب نظر بنایا جانے لگا‘ جیسا کہ آج بھی نظر آتا ہے۔ محمود غزنوی نے ایک مرتبہ زرد رنگ کا غلاف بھیجا۔ سلمان دوم کے عہد حکومت تک غلاف مصر سے جاتا تھا‘ جب اس رسم میں جاہلانہ باتیں شامل کرلی گئیں تو سعودیہ عرب سے مصریوں کے اختلافات بڑھ گئے اور مصریوں کا تیار کردہ غلاف لینے سے انکار کر دیا گیا۔ شریف حسین والی مکہ کے تعلقات مصریوں سے 1923ء میں خراب ہوئے چنانچہ مصری حکومت نے غلاف جدہ سے واپس منگوا لئے۔1927ءمیں شاہ عبد العزیز السعود نے وزیر مال عبداللہ سلیمان المدن اور اپنے فرزند شہزادہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے جلدازجلد ایک کارخانہ قائم کریں اور 1346 ہجری کےلئے غلاف کی تیاری شروع کر دیں چنانچہ انہوں نے فوری طور پر ایک کارخانہ قائم کرکے ہندوستانی کاریگروں کی نگرانی میں غلاف کی تیاری شروع کر دی اور یوں سعودیہ کے کارخانے میں تیار ہونیوالا یہ پہلا غلاف کعبہ تھا۔ مکہ میں قائم ہونیوالی اس فیکٹری کا نام ”دارالکسوہ“ ہے۔1962ء میں غلاف کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی آئی۔ (کہا جاتا ہے کہ فیصل آباد کے صنعتکاروں کی طرف سے بنائے گئے غلاف کا رنگ اتر گیا تھا) غلاف میں 150کلو سونے اور چاندی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں، اس میں خانہ کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے کروڑوں میں فروخت کرنے والا لوگوں کی لعن طعن سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کا ان صاحب کو ادراک ہے تبھی تو انہوں اشتہار میں اپنا فون نمبر اور ایڈریس نہیں دیا۔ انکی نیت کے بارے میں مکمل تفصیلات کے سامنے آنے تک کوئی حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔ یہ صاحب تو غلافِ کعبہ کے دو ٹکڑے ہی فروخت کر رہے ہیں‘ بلاشبہ دینِ حنیف کی حفاظت کیلئے جہاں کفن بردوشوں کی کمی نہیں‘ وہیں وطن فروشوں، ملت فروشوں اور مزیدبراں قلم فروشوں کی بھی بہتات نظر آتی ہے۔ آباءتو بت شکن تھے‘ ملت ِ اسلامیہ نے اپنے اندر کعبہ شکن بھی دیکھے۔ عبداللہ بن زبیر نے خدا کے گھر میں پناہ لی تو حجاج بن یوسف نے خانہ کعبہ پر سنگ باری کرادی۔ حج کے ایام میں غلاف کعبہ کو آدھا اوپر اٹھا دیا جاتا ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ بعض سادہ لوح لوگ غلاف سے لپٹ کر دھاگہ کاٹ کر تبرک کے طور پرمحفوظ کر لیتے تھے بعض بخشش کےلئے میت کی آنکھوں میں ڈالتے تھے۔ ایک طرف غلاف کعبہ سے عقیدت کی یہ انتہا ہے تو دوسری طرف آج ملت اسلامیہ کے ایک فرزند نے اسکے غلاف کی قیمت لگا دی ہے۔