About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, January 6, 2011

یہی جمہوریت ہمارا مقدر

جمعرات ، 06 جنوری ، 2011
فضل حسین اعوان ـ
یوسف رضا گیلانی‘ آصف علی زرداری کے ایسے ہی وزیراعظم ہیں جیسے فضل الہٰی چودھری‘ ذوالفقار علی بھٹو کے صدر تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے فضل الہٰی کو صدارتی اختیارات کی جس خزاں گزیدہ شاخ پر بٹھایا وہ اسی کو بہاروں کی منزل سمجھتے رہے۔ اٹھارہویں ترمیم سے قبل وزیراعظم گیلانی کے پاس اتنے ہی اختیارات تھے جتنے مشرف کے وزرائے اعظم جمالی‘ شجاعت اور شوکت عزیز کے پاس، پھر اٹھارہویں ترمیم نے گیلانی کو اختیارات سے لاد دیا۔ وہ گیلانی جو بحیثیت سپیکر اپنے حلقے کے لوگوں کو چوکیدار چپڑاسی پٹواری اور سپاہی بھرتی کرا کے پھولے نہیں سماتے تھے ان کے پاس مسلح افواج کے سربراہوں بمعہ آرمی چیف اور گورنروں کی تقرری جیسے اختیارات آگئے تو اقتدار کے نشے سے چور زمین پر قدم نہ لگنا قدرتی امر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یا تو گیلانی صاحب اٹھارہویں ترمیم سے قبل خود کو بے اختیار نہیں سمجھتے تھے یا پھر ترمیم کے بعد خود کو بااختیار نہیں سمجھتے۔ ان کی وزارت عظمیٰ کی زیادہ سے زیادہ مدت سوا دو سال رہ گئی ہے۔ وہ خود کو لغاری کی سطح پر نہیں لے جانا چاہتے۔ ایوان صدر سے اختیارات وزیراعظم ہاؤس منتقل ہوئے ہیں۔ صدر زرداری مضبوطی‘ استحکام‘ طنطنے دبدبے اور اختیارات کے حوالے سے جس مقام پر تھے بطور چیئرمین پیپلز پارٹی اس میں سرمو کمی نہیں آئی۔ اقتدار اختیارات کا منبع آج بھی صدر زرداری ہیں۔ کچھ لوگ گیلانی صاحب کو وزیراعظم کا اصل روپ دھارنے پر اکساتے رہے۔ شاید ان کے دل میں بھی لغاری صاحب کی طرح بھٹو بننے کی امنگ اور ترنگ نے زور مارا ہو۔ زرداری صاحب نے ان کے اندر جوش مارتی شوخ ہواؤں کو بھانپ لیا۔ انہوں نے صرف ایک قدم پیچھے کھینچا کہ گیلانی صاحب خود کو دشت تنہائی میں کھڑے پایا۔ پھر حمایت کیلئے کبھی اس در‘ کبھی اس در‘ جو ان کو بااختیار وزیراعظم بننے کے مشورے دیتے تھے اب ان سے دامن بچاتے‘ آنکھیں چراتے اور گیلانی صاحب در اقدس پر زور سے دستک دیں تو مطالبات دہراتے نظر آتے ہیں۔ گیلانی صاحب نے زرداری صاحب کو لو کے تھپیڑوں سے بچانے کیلئے ہمیشہ خود کو آگے کیا۔ زرداری کے بیجے ہوئے ببول بھی گیلانی نے کاٹے‘ شریفوں پر طعن و تشنیع کے تیر زرداری صاحب نے چلائے مطلب براری کیلئے گیلانی کو بھجوا کر آمادہ الفت و حمایت کیا۔ گیلانی صاحب کو ادھر سے سننا پڑتیں ادھر سے بھی لیکن وہ کبیدہ خاطر کبھی نہیں ہوئے۔ اپنی انا کی پروا کی نہ عزت نفس کی۔ اب وہ پارلمینٹ میں اکثریت کھو چکے ہیں جس پر وہ پریشان‘ ان کی پارٹی شادمان ہے۔ جس وزیر سے پوچھو وہ تھوڑا مسکراتا ہے پھر استہزایہ اور مزاحیہ انداز میں کہہ دیتا ہے اپوزیشن عدم اعتماد لے آئے۔
وزیراعظم اپنے ہی یعنی حکومت کے مقرر کردہ آرمی چیف کے بارے میں کہتے رہتے ہیں حکومت کے آرمی چیف کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں زرداری نے بھی گیلانی کو کہہ دیا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ گیلانی اسلام آباد لاہور میں سیاست کی وادی خار زار میں المدد المدد پکارتے بھٹک رہے تھے۔ ان کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے۔ زرداری صاحب کراچی میں خوش گوار موسم انجوائے کرتے رہے۔ تمام پارٹیوں نے مل کر قومی اسمبلی میں حکومت کو بے بس کر دیا۔ اپوزیشن ارکان للکارتے‘ حکومتی جھک مارتے رہے۔ انہیں شاید ایسا ہی کرنے کو کہا گیا تھا۔ دس پندرہ جیالے مل کر آسمان سر پر اٹھا سکتے ہیں۔ اسمبلی میں تو سو سے زائد تھے۔ اپوزیشن نے اسے اپنی کامیابی گردان لیا۔ کہا گیا کہ گیلانی 4 جنوری کو تیل کی قیمتوں میں کیا گیا اضافہ واپس لے لیں گے۔ نواز شریف نے تین دن کی مہلت اور 45 دن کا آزمائشی وقت دے دیا۔ جمہوریت کا ڈھول پیٹا گیا۔ اپوزیشن کے اہمیت کو مسلمہ قرار دیا گیا۔ باور کرایا گیا کہ اپوزیشن چاہے تو بہت کچھ کر سکتی ہے۔ حکومت کو پالیسی بدلنے پر مجبور بھی۔ گیلانی صاحب کو اپنی وزارت عظمیٰ سے غرض ہے۔ انہوں نے سلمان تاثیر کے قتل کو بھی اپنی سیاست کیلئے استعمال کیا۔ وہ اس قتل کو اپنے لئے وقتی ریلیف کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وعدے کے مطابق 4 جنوری کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا اعلان کیوں نہ کیا گیا۔ وہ اپنے باس کی طرح وعدوں کے فنکار اور مکرنے کے شہکار ہیں۔ زرداری صاحب اپنی اہمیت جتلانا اور گیلانی صاحب کو ان کی اوقات یاد دلانا چاہتے تھے۔ دونوں کام انہوں نے خوش اسلوبی سے کر دئیے۔ گیلانی صاحب اگر زرداری کی خاطر کچے دھاگے سے بندھے درگاہ رائیونڈ پر دست بستہ حاضر ہو سکتے ہیں۔ تو زرداری کی بارگاہ میں سر جھکانے میں کیا امر مانع ہے۔ صرف ایک حاضری سے ان کے معاملات درست‘ صدر کے اشاروں پر ناچنے والے، وزیراعظم سے روٹھے اتحادیوں کے تحفظات دور ہو جائیں گے۔ پھر وہی‘ عوام دشمن‘ کرپشن زدہ‘ نفرت انگیز سیاست اور جمہوریت اپنی آئینی مدت پوری کرنے کیلئے پٹڑی پر چڑھ جائے گی۔ شاید یہی سیاست اور جمہوریت ہمارا مقدر ہے۔

Wednesday, January 5, 2011

بھٹو کامشن!

5-1-11فضل حسین اعوان 
وصیت کے طلسم کدے کی جادوگری سے اقتدار کو مٹھی میں کر لینے والے پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا آج اپنے بانی کی 82ویں سالگرہ پژمردگی، افسردگی، مجبوری اور کسی حد تک مفروری کی سی کیفیت میں منا رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو کے یومِ ولادت کی طرح ذوالفقار علی بھٹو کے پیدائش کے دن پر کسی جوش و خروش کی تیاری نظر آ رہی ہے نہ بھٹو کے مشن کے تکمیل کے لئے عہد و پیمانِ جاں نثاری۔ یوں لگتا ہے کہ بھٹو کے ساتھ ہی ان کا مشن بھی دفن ہو گیا تھا۔ بیٹی نے باپ کے مشن کو سمجھا، اسے اپنانے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کی جدوجہد کی۔ ایک تو ان کو یکسوئی سے حکومت کرنے کا موقع نہ ملا دوسرے دو بار اقتدار میں آنے کے باوجود ایک ٹرم کے لئے بھی جتنی حکومت نہ کرنے دی گئی۔ آج بھٹو اور بینظیر کے جاں نشیں محترمہ کے خون کے صدقے حکومت میں موجود ہیں۔ ان کے مشن سے ہر کوئی واقف ہے۔ تاہم یہ غریبوں کو روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کو بھٹوز کا مشن قرار دیکر، اس مشن کی تکمیل کے لئے خود کو اس جہاد پر کاربند ظاہر اور ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو کا مشن روٹی کپڑا اور مکان تھا؟
ذوالفقار علی بھٹو ایک بڑے لیڈر تھے۔ ان کی پاکستان اور اسلام کے لئے خدمات کی ایک لمبی تفصیل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو سر کرنے کا 1964ء اور 1965ء میں آپریشن جبرالٹر انہیں کا منصوبہ تھا۔ وہ کشمیر کو جنگ کے ذریعے فتح کرنا چاہتے تھے۔ کشمیر پر ہزار سال تک جنگ کا نعرہ بھی بھٹو نے دیا۔ گھاس کھا لیں گے ایٹم بم بنائیں گے یہ اعلان بھی بھٹو کا تھا۔ اندرا گاندھی کو مذاکرات کی میز پر رام کر کے 90 ہزار قیدی ایسی صورت حال میں واپس لائے جب مجیب اندرا قیدی جرنیلوں پر جنگی جرائم کے تحت مقدمات چلانے کی پلاننگ کر چکے تھے۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا معیشت کی ابتری کو بہتری میں بدل ڈالنا بے شمار بیروزگاروں کے لئے دوسرے ممالک میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنا، مزدوروں کسانوں میں حقوق کا شعور اجاگر کرنا، شراب پر پابندی، بھٹو کے کارہائے نمایاں میں سے چند ایک ہیں۔ قوم کو اس لیڈر کے کارناموں پر فخر ہے جس نے قیام پاکستان کے وقت کی طرح لٹے پٹے اجڑے اور بکھرے پاکستان کی شیرازہ بندی کی۔ تاہم پاکستان کے دولخت ہونے میں بھٹو کا کردار ہمیشہ زیرِ بحث رہے گا۔ خود بھٹو صاحب کے دل کے نہاں خانے میں بھی مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کا احساسِ جرم موجود تھا۔ بھٹو وزارت خارجہ کے حکام سے بڑے جوش و ولولے سے کہا کرتے تھے کہ وہ سانحہ مشرقی پاکستان کا بدلہ مقبوضہ کشمیر کی فتح کی صورت میں لے سکتے ہیں۔یہ بھٹو صاحب کا خیالی پلائو نہیں تھا۔ اقتدار میں آئے تو مقبوضہ کشمیر میں جہادی سرگرمیاں تیز کرادیں۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کیلئے ڈاکٹر قدیر خان کو ہالینڈ سے بلوا کر ایٹم بم بنانے کیلئے تمام ممکنہ وسائل ان کے حوالے کردئیے۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ایٹمی پروگرام کی تکمیل چاہتے تھے۔ کس لیے؟ سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے احساسِ جرم سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے۔کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنا کر۔بد قسمتی سے ان کے دور اقتدار میں ایٹم بم نہ بن سکا۔پھر ایک طالع آزما اور مہم جو نے بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ان کی موت کے بعد ایٹم بم تو بن گیا جس مقصد کیلئے بھٹو بنواناچاہتے ہیں وہ مقصد بعد میں آنیوالوں کی بزدلی مصلحت اور منافقت کی بھینٹ چڑھ گیا۔مسئلہ کشمیر لٹکتا چلا گیا۔کسی نے دوستی کے نام پر اسے لٹکایا کسی نے خود کو عقل کل سمجھ کر مسئلہ کے بیہودہ حلوں کی بھر مار کرکے کھٹائی میں ڈالا۔ بھٹو کا اصل مشن مشرقی پاکستان کا کشمیر کے ذریعے بدلہ لینا تھا۔ آج اقتدار بھٹو کے جان نشین ہونے کے دعویداروں کے پاس ہے لیکن ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں توجہات بدل چکی ہیں۔یہ اقتدار میں آنے کیلئے بھٹو کا نام لیتے ہیں۔ان کے نام پر اقتدار کا جام تھام لیتے ہیں، بھٹو کو پھانسی میں عوام کا کیا دوش لیکن ان کی پالیسیوں سے لگتا ہے بھٹو کی موت کا جیسے عام آدمی سے انتقام لیتے ہیں۔ زرداری صاحب بھٹو کے صحیح جان نشین بنیں۔ جائزہ لیں ان کا مشن کیا تھا۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد -اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کریں۔ ان کا مشن مقبوضہ کشمیر کی آزادی تھا۔ جس کیلئے انہوں نے ایٹمی پروگرام کی ابتدا کی۔اب مکمل ایٹم بم آپ کے پاس ہے کشمیر کی آزادی کیلئے بم اٹھا کر باہر نکلیں شاید چلانے کی نوبت نہ آئے اور بزدل دشمن ڈر کے مارے آپ کا حق آپ کو دینے پر آمادہ ہو جائے۔

Tuesday, January 4, 2011

جشن سال نو ۔۔ مغرب کی نقالی

4-1-11
فضل حسین اعوان 
’’نیا سال مبارک‘‘ کے پیغامات کا عید مبارک کی طرح تانتا بندھا رہا۔ اب چونکہ خط کا تردّد نہ فون کی زحمت‘ ایک بٹن دبایا سینکڑوں دوستوں‘ واقف کاروں اور اجنبیوں کو ڈیڑھ روپیہ خرچ کرکے میسج بھیج دیا۔ پھر اکثر کی یہ خواہش بھی کہ نہلے پہ دہلے کی مانند جواب آں غزل ضرور آئے گا۔ جوابِ باصواب تو درکنارکئی سرے سے میسج پڑھتے بھی نہیں جو پڑھتے ہیں ان میں سے بھی اکثر جواب جاہلاں باشد خموشی کا رویہ اپنا لیتے ہیں۔ نئے سال کا جشن تمام مسیحی اور اکثر اسلامی ممالک میں بھی منایا گیا۔ طاؤس و رباب‘ شہنائیاں اور جلترنگ بجتے رہے۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا سرشام 2010ء کے سورج کے غروب اور رات بارہ بجے 2011کے آغاز پر پوری دنیا میں سجی شادمانی کی محفلیں دکھاتا رہا نیوزی لینڈ سے لے کر امریکہ تک جیسے جیسے شام ڈھلتی گئی شہر شہر قریہ قریہ نوجوانوں کے انگ انگ سے خوشی‘ رعنائی اور زیبائی کے فوارے پھوٹتے رہے۔ رات بارہ بجے سے آفتاب کی پہلی سنہری کرن کے فضاؤں کو منورکرتے ہوئے زمین سے ٹکرانے تک نیوزی لینڈ سے امریکہ تک بڑے شہر رنگ و نور اور روشنیوں سے نہائے رہے۔ آتشبازی کے دلکش مناظر دکھائے جاتے رہے۔ ڈانس کی مخلوط محفلیں سجائی گئی تھیں۔ نئے سال کا جشن منانے میں دبئی کسی بھی مسیحی ملک سے پیچھے نہیں تھا۔ پاکستان میں سخت سردی میں بھی بڑے لوگوں کی بگڑی اور چھوٹے لوگوں کی خود کو بڑا ثابت کرنے کی خواہش رکھنے والی اولادوں نے نیو ایئر نائٹ کے نام پر بودے اور بھدے پن کا مظاہرہ کیا۔ سرشام برپا ہونے والا طوفان بدتمیزی صبح تک جاری رہا۔ اول تو سال نو سے ہمارا بحیثیت مسلمان تعلق ہی نہیں۔ اگر خوشی کا اظہار فرض عین ہو گیا ہے تو اس کے اظہار کیلئے کوئی تمیز اور تہذیب ہونی چاہئے۔ لچرپن‘ ہیجان‘ ہذیان‘ بے ہودگی‘ آورگی‘ آوازے کسنا کسی کی نہ سننا یہ ہمارے کلچر کا حصہ کب سے؟
ہمارے اسلامی تہوار کسی بھی مذہب سے کم تر نہیں۔ کیا کبھی آپ نے دیکھا کسی ہندو‘ عیسائی اور یہودی نے عیدوں پر مسلمانوں کی طرح خوشی منائی ہو؟ پھر ہم اس بیماری میں کیوں مبتلا ہیں؟ نئے سال پر بے ہنگم رقص اور اچھل کود کرتے ہمارے نوجوان بے ہوش‘ بسنت پر جوش‘ ویلنٹائن ڈے پر مدہوش‘ جدت کے شوق اور مغرب کی نقالی میں مقتدر حلقوں تک ملامت بردوش ہیں۔ یہ مہنگائی کا بم چلاتے ہوئے اپنی فوقیت جتلاتے ہیں۔ 19ویں ترمیم پر دستخط کرنے کیلئے سال نو کے آغاز کو منتخب کیا اور پٹرول بم بھی یکم جنوری کو ہی چلایا۔
اس بے ترتیبی میں قصور کس کا ہے؟ نئی نسل کا یا ان کی تربیت کا؟ یقیناً تربیت میں ہی کمی رہ گئی کہ نئی نسل آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بن گئی۔ ہنس کی چال چلنے کے زعم میں مبتلا اپنی چال بھی بھول گئے۔ ہمارے حکومتی امور معاملات سن ہجری سے وابستہ ہونے کے بجائے سن عیسوی سے پیوستہ ہیں جس کا یہ مطلب نہیں کہ مغربی تہذیب کو اپنانے کی کوشش میں اپنا روشن چہرہ سیاہ کر لیا جائے۔ جب تک ہماری حکومت موجودہ اورآنے والی سن عیسوی کو ترک کرکے جو واقعی 63 سال بعد مشکل بھی ہو گا۔ سن ہجری کو نہیں اپناتی یکم جنوری سال نو ہی رہے گا اور یہ شور ہنگامہ ہمہیں دیکھنا اور سننا پڑے گا۔ یہ مغرب کی نقالی ضرور ہے لیکن انگریزی راج کا عطیہ بھی ہے۔

Monday, January 3, 2011

مسیحائی ۔۔ زیبائی

اتوار جنوری 02, 2011 
جدید طب پر نظر ڈالیں تو اس شعبے میں مسلمان ہی مغرب کے امام دکھائی دیتے ہیں۔ تمام حکما اور اطباء کیلئے طب نبویؐ طب اور حکمت کی بنیاد اور مشعل راہ ہے۔ بات کو آگے بڑھانے سے قبل مختصراً بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض حسین اور جنرل اسلم لیگ کے دل کی دھڑکن غور سے سن لیجئے۔ جنرل اسلم بیگ 56 سال کی عمر میں عارضہ قلب میں مبتلا ہوئے۔ کسی خدا کے بندے نے طب نبوی سے استفادہ کرنے کا مشورہ دیا۔ جنرل صاحب کی عمر اب 80 سے اوپر ہے نسخہ بدستور استعمال کر رہے ہیں اور عارضہ قلب سے پوری طرح محفوظ جنرل صاحب نے یہی نسخہ ملک ریاض حسین کو اس وقت بتایا جب وہ دل کے علاج کیلئے لندن کا ویزا لگوا چکے تھے۔ ملک صاحب نے نسخہ استعمال کیا ایک ماہ بعد لندن گئے توچیک اپ کے بعد ڈاکٹروں نے کہا ’’آپ کو دل کا کوئی مرض نہیں‘‘۔ ایک ماہ قبل کے ٹیسٹ دکھائے تو ماہرین حیران رہ گئے۔ ’’ٹیسٹوں کے مطابق ان دل تواناں تھا۔ دونوں حضرات نے اپنے دل کی بات‘‘ ایک معاصر کالم نگار کو بتائی شاید یہ نسخہ کسی کے کام آ جائے اس لئے جہاں درج کر دیا۔ نسخہ یہ ہے کہ اجوا کھجوروں کی گٹھلیاں پیس کر آدھا چمچ روزانہ کھائیں اور درد دل سے ہمیشہ کے لئے نجات پائیں۔ اجوا کھجور نسبتاً لمبی ہوتی ہے۔ گزشتہ رمضان میں اس کی قیمت پاکستان میں 2500 روپے کلو تھی اگر سعودی عرب سے منگوا لی جائے تو اصل اور نقل کی بحث سے بچا جاسکتا ہے۔
مسلمانوں نے جدید طب کے میدان میں جابر بن جیان سے لے کر بو علی سینا تک عظیم کامیابیاں حاصل کیں جابر بن حیان 731 جبکہ بو علی سینا 980 میں پیدا ہوئے۔ درمیانے عرصہ میں عبدالمالک اصمعی‘ یعقوب کندی علی ابن الطبری‘ محمد بن ذکریا‘ ابو القامحرسیطی‘ ابو ہاشم خالد‘ ابو داؤد سلیمان بن حسان‘ علی ابن عیسیٰ اور ابو علی حسن بن حسین ابن الہیثم طب کے آسمان پر درخشاں ستارے بن کر جھلملاتے رہے۔ ان طبیبوں میں جانوروں کی بیماریوں کی تحقیق اور علاج دریافت کرنے والے بھی موجود ہیں۔ ان کی دریافتیں اور ایجادات ذاتی مفادات کیلئے انسانی خدمت کے لئے تھیں۔ افسوس کہ آج اکثر ڈاکٹر مسیحائی کو زیبائی اور رعنائی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ مریض اور مرض کی حالت زار سے زیادہ نظر اس کی جیب پر ہوتی ہے۔ پانچوں انگلیاں برابر ہیں نہ ہر ڈاکٹر لالچی اور بے ضمیر‘ خوف خدا رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ ملک میں بے شمار خیراتی شفاخانے اور غریبوں کے مفت علاج کے دواخانے کھلے ہیں تاہم کچھ فری علاج کی دکنوں پر بے حیائی بھی بڑی ڈھٹائی سے ہوتی ہے۔ میڈیکل کے شعبے کا انتخاب کرنے والے عموماً انسانی خدمت کا جذبہ لئے ہوتے ہیں۔ عملی میدان میں آکر بعض تعلیم پر آنے والے اخراجات ایک سال میں پورے کرنے پر تل جاتے ہیں۔ کچھ تو انسانوں پر جانوروں کی ادویات آزما ڈالتے ہیں۔ جعلی ادویات استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ فیسیںایسی کہ ادا کرتے ہوئے مریض کا دم نکلے۔ ملازمت کرتے ہیں اور اپنے کلینک بھی چلاتے ہیں۔ ڈاکٹر کے در پہ دستک دینے کی فیس مقرر جو ڈاکٹر اپنے نام اور جہاں کلینک ہے اس علاقے کے لحاظ سے مقرر کر دیتا ہے۔ بڑے نام کے ڈاکٹر مریض کی شکل پر نظر ڈالنے کا پانچ ہزار بھی وصول کرتے ہیں۔ ایسے بھی ہیں۔ جو پچاس روپے میں مریض کو چیک کرتے ہیں اور دوا بھی دیتے ہیں۔ تمام بڑے ڈاکٹر اگر انسانیت کی خدمت کو زبانی کلامی دعوؤں کے بجائے عملی طور پر بھی اپنا لیں تو ملک اور معاشرہ بہت سی بیماریوں سے محفوظ ہو سکتا ہے۔ ایک دوست دانت لگوانے گئے تو ڈنٹیسٹ نے 10 ہزار ریٹ بتایا۔ ایک دانت کا‘ دوسری تیسری جگہ گئے تو سات ہزار آخری قیمت بتائی گئی۔ یہ نوجوان ایم بی بی ایس کزن کو لے کر اس کے دوست دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس گئے۔ تو انہوں نے تین ورائٹی کے دانت سامنے رکھے جن کی بالترتیب قیمت 15 ہزار 10 ہزار اور 5 ہزار تھی۔ تاہم ان کیلئے رعایت یہ تھی کہ پندرہ ہزار والا 15 سو‘ دس ہزار والا ہزار‘ اور 5 ہزار والا 5 سو میں‘ ساتھ یہ بھی بتایا کہ مٹیریل ایک ہی ہے مریض کو مطمئن کرنے کیلئے ریٹ میں فرق رکھ کر بتایا جاتا ہے۔ ذرا شہر سے باہر نکلیں یاکسی محلے میں موجود ڈینٹل کے پاس چلے جائیں تو 100 روپے میں بھی دانت لگ جاتا ہے۔

سیاست کی کہکشائیں، گلشن و گلستان


یکم جنوری 2011
فضل حسین اعوان
مولانا فضل الرحمن کچھ لوگوں کیلئے دل بہار اور کچھ کیلئے دل فگار ہیں۔ کسی کے آنگن میں خزاں اترے یا زوال، یہ اپنے دامن میں کہکشائیں سمیٹنے اور گلشن و گلستان لپیٹنے کا فن جانتے ہیں۔ ایک حلقہ انکو سیاست میں جہاندیدہ اور دوسرا خزاں دیدہ گردانتا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے مولانا اس کی کم ہی پرواہ کرتے ہیں۔ وہ عبادت کو عبادت اور سیاست کو سیاست سمجھتے ہیں۔ دونوں کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرتے۔ حضرت مولانا بے ریا، عبادت گزار اور اقتدار کی غلام گردشوں کی رگ رگ سے واقف کار ہیں۔ وہ سیاسی میدان میں ہتھیلی پر سرسوں جما سکتے اور سمندر کی تہہ میں پوشیدہ و پنہاں لعل و جواہر غوطہ لگا کر مٹھی میں بند کرکے لاسکتے ہیں۔ سیاست کی معراج اقتدار ہے۔ وہ اقتدار کی منزل کے راستے کی دیوار پھلانگ یا ڈھا دینے سے گریز نہیں کرتے۔ مولانا سمیع الحق اور مجلس عمل ایسی ہی دیواریں اور رکاوٹیں تھیں۔ اب نہ جانے کس نے تھپکی دیکر مولانا کو وزارت عظمیٰ کی بتی کے پیچھے دوڑا دیا۔ سواتی کی برطرفی پر حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کیا، وزرائ سے استعفے دلوائے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن نشستوں پر بھی چلے گئے۔ ایم کیو ایم اور چوہدری شجاعت کی پارٹی سے رابطے کئے۔ رابطوں میں گرمجوشی تک حکومت سے علیحدگی کے فیصلے کو حتمی قرار دیتے رہے۔ ایم کیو ایم نے حکومت سے علیحدگی میں جلد بازی نہ کی تو مولانا کی حکومت میں واپسی کی بے قراری برق رفتاری بن گئی۔ ایم کیو ایم دھیرے دھیرے حکومت سے دامن چھڑانے کی طرف گامزن ہوئی تو مولانا نے الٹے پا?ں گھومے اور حکومت میں اپنی واپسی کو وزیراعظم گیلانی کو نکالے جانے سے مشروط کردیا۔ جے یو آئی کی قومی اسمبلی میں 7 سیٹیں ہیں اسکے باوجود وہ اے این پی کی 13 اور ایم کیو ایم کی 25 نشستوں کے مقابلے میں خود کو بھاری بھرکم ثابت کرچکی ہے۔ اے این پی اور ایم کیو ایم نے دو، دو وزارتوں پر اکتفا کیا ہے۔ جے یو آئی کو تین بھی کم پڑ گئیں۔ دو چھوڑ کر اب چار کے طلبگار ہیں۔ گیلانی ہٹا? مہم اپنے نائب عبدالغفور حیدری کے سپرد کرکے مولانا سعودیہ تشریف لے گئے۔ وہ سعودی عرب بھی نہیں پہنچ پائے تھے کہ انکی پارٹی میں کھڑاک وہ بھی خطرناک ہوگیا۔ رحمت اللہ کاکڑ نے نعرہ ¿ مستانہ بلند کردیا کہ وہ استعفے کی قبولیت تک بدستور وزیر ہیں، گاڑی واپس کرینگے نہ سرکاری گھر۔کاکڑ صاحب بھی مولانا کے چنڈے ہوئے ہیں، اپنے عزم باالجزم پر زیادہ دیر قائم نہ رہ سکے۔ تاہم گاڑی اور گھر پر بدستور قابض ہیں۔ 
کچھ دانشور اور ماہرین سیاست کے گھوڑے پر اپنی خواہش کی زین کس کے باگ پر ہاتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ دور کی کوڑی لاتے اور مفت مشورے دیتے ہیں کہ جے یو آئی یوں کرے، ایم کیو ایم اور (ق) لیگ ووں کردے اور (ن) لیگ ہاں ہوں کردے تو نیا سیٹ اپ آسکتا ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی سیاست کرے، کسی کی یوں اوروں پر نظر کیوں؟ نوازشریف نے کہا کہ اگر تبدیلی چاہتے ہیں تو آئیں ہمارے ساتھ بیٹھیں، دو سال کا ایجنڈا طے کریں۔ نوازشریف صاحب کس کو دو سال کا ایجنڈا طے کرنے کی دعوت دے رہے ہیں، ان کو جن کی د ±م اقتدار سے باہر باقی جسم اقتدار کے اندر ہے؟ جن کا زرداری صاحب پیٹ نہ بھر سکے انکا نوازشریف بھر دیں گے؟ ویسے بھی خفیہ ہاتھ کے بغیر اِن ہا?س تبدیلی ہوسکتی ہے نہ مڈٹرم انتخابات۔ دونوں صورتوں میں ملک سے شرافت کی سیاست کا جنازہ اٹھ جائیگا۔ اسکی جھلک مسلم لیگ (ن)، ایم کیو ایم مجادلہ کی صورت میں دنیا نے دیکھ لی۔ ہم ایک بار پھر 80ئ اور 90ئ کی دہائی والی شر، شرارت، انتقام اور فساد کی سیاست میں گِھر جائیں گے۔ نواز شریف امکانات، مکافات، مفاجات اور مفادات کی سیاست کرنے والوں کا مہرہ بنیں، نہ حکومت کا سہارا، صحیح اپوزیشن کا کردار اپنائیں۔ حکومت اپنے اعمال اور افعال کے وزن سے گرتی ہے تو گرنے دیں۔
٭٭٭

Friday, December 31, 2010

اینٹ۔ پتھر۔ پھول

جمعۃالمبارک ، 31 دسمبر ، 2010
فضل حسین اعوان 
حالات اور وقت میں تغیر و تبدل کے ساتھ ساتھ ترجیحات اور جذبات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ ادوار‘ زمانہ اور وقت بدلنے کے ساتھ دوامی نظریات بدلتے ہیں نہ اخلاقیات۔ ہمارے ہاں خوشامد اور غیبت معاشرے اور سیاسی کلچر کا جزوِ لاینفک بن چکا ہے۔ جس سے مفاد وابستہ ہو اس کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے اور اس کی مزید خوشنودی اور اسے مائل بہ کرم کرنے کے لئے حریفوں کی برائی کی جاتی ہے۔ خوشامد، غیبت اور چغل خوری جیسے کبائر اپنی جگہ ‘کچھ لوگ واقعی اپنے لیڈر اور محسن کی دل و جان سے قدر کرتے ہیں۔ اس پر جان تک نچھاور کرنے پر تیار رہتے ہیں۔ اس کے فرمان پر طوفانوں سے ٹکرانے اور جان لڑانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں مروجہ سیاست میں اعلیٰ سطح پر منافقتیں اور مصلحتیں تو ہو سکتی ہیں کارکن عموماً ان خرافات سے مبرّا اور مُصفّا ہیں۔ وہ بَل فریب نہیں جانتے۔ جس کے ساتھ‘ اس کے جاں نثار و جانباز، گو اس جذبے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جانی چاہئے لیکن یہ ایک ناپسندیدہ حقیقت ہے کہ سیاسی نظریات میں بعض اوقات اتنی شدت اور حدت آ جاتی ہے کہ کارکن حریف کی جان لینے اور اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ سیاست میں برداشت، تحمل اور اخلاقی اقدار پر کاربند رہا جائے تو معاملات پٹڑی سے نہیں اترتے۔ نچلی سطح سے اعلیٰ سطح تک عزت کرو اور عزت کرائو بہترین اصول ہے۔ یہ سنہری قول ہمارے لئے رہنما اصول ہے کہ کسی کے جھوٹے خدا کو بھی جھوٹا نہ کہو، وہ آپ کے سچے خدا پر بہتان لگائے گا۔ نفرت، دشنام اور الزام کے پیام میں محبت و الفت، پتھر کے جواب میں پھول برسیں، ایسا کسی اور دنیا اور معاشرے میں ہو تو ہو، ہمارے نہیں۔ 
ہماری سیاست میں 1988ء سے 1999ء تک کا عرصہ نفرت انگیز اخلاق سوز اور شر آگیں ہے۔ اُس دور میں شرافت اور شرارت ہم پلہ بن گئے۔ پگڑیاں اچھالنے اور آنچل اڑانے کا چلن عام، عزت و احترام بے نام ہو کر رہ گیا تھا پھر اس کا خمیازہ بھی بھگتا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دو دو بار اقتدار میں آئیں، کوئی ایک بھی اپنی مدت مکمل نہ کر سکی۔ ایم کیو ایم کبھی اِس کبھی اُس در بھٹکتی رہی۔ گزشتہ روز کی خرافات اور بکواسات نے ایک بار پھر اَخلاقِیّت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا۔ بات مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے درمیان ہلکی پھلکی موسیقی سے شروع ہوئی، الطاف حسین نے لاہور میں ساز بجانے کا اعلان کیا ن لیگ کا جواب آں غزل آنا ہمارے معاشرتی کلچر کا یقینی تقاضا تھا۔ بات مناظرے کے اعلانات اور جوابی بیانات سے ہوتی ہوئی سوتنوں کے سے طعنوں کے ساتھ بہت آگے چلی گئی۔ پھر چودھری نثار علی خان قومی اسمبلی کے اندر برسے تو حیدر عباس اور وسیم اختر اسمبلی کے باہر گرجے۔ ایک دوسرے کی ایسی کی تیسی پھیر دی۔ یہ بے ہودہ، اخلاق باختہ، لچرپن فحش گوئی، بے شرمی، بے حیائی اور بدبو سے پرداختہ سخن طرازی کا مقابلہ و مناظرہ تھا۔ جو کچھ ان حضرات نے آن ایئر کہا، کیا یہ سب اپنے گھر میں بہنوں، بیٹیوں اور مائوں کی موجودگی میں دہرا سکتے ہیں؟ بدزبانی سے حیدر عباس و وسیم اختر کا کچھ بگڑا نہ بدکلامی سے چودھری نثار علی کا کچھ گیا۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے کی اعلیٰ قیادت کو رگیدا اور رگڑا گیا۔ وقتی طور پر فائر بندی ہو چکی ہے تاہم بات بڑھی تو بھی ٹارگٹ نوازشریف، شہباز شریف اور الطاف حسین ہونگے۔ نفرتیں بڑھیں گی انتقام کی چنگاریاں شعلہ بار ہونگی۔ کارکن ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونگے۔ ملکی سیاست میں جوڑ توڑ کی کھچڑی پک رہی ہے یا ایک پلاننگ کے تحت روٹھنے منانے اور طوفان اُٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے یہ الگ معاملہ ہے تاہم نوازشریف اور الطاف حسین اعلیٰ ظرفی، برداشت اور تحمل سے کام لیں۔ اپنے ساتھیوں کو گالم گلوچ سے روکیں۔ اپنے ساتھیوں کو آگ اگلنے سے روکنے کا مطلب آپ نے اپنے خلاف زہر افشاں توپیں خاموش کر دیں۔ کل کا مقابلہ سخنوری اپنے اپنے انداز میں دونوں دھڑوں نے جیت لیا۔ مان گئے دونوں کو گرجنا بھی آتا ہے برسنا بھی، تڑپنا بھی اور تڑپانا بھی۔ اینٹ کا جواب پتھر سے تو سب دیتے ہیں۔ کبھی سنگ باری کے بجائے پھول بھی تو آزما اور بھجوا کر دیکھئے۔


Thursday, December 30, 2010

قومی وقار! شکایت کس سے کریں؟

 جمعرات ، 30 دسمبر ، 2010
فضل حسین اعوان 
ہمارے کچھ دانشور پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود حجابات ہٹا دینا اور سرحد کی صورت میں کھنچی لکیر مٹا دینا چاہتے ہیں۔ انتہا پسند بنیے کی تو خواہش ہی اکھنڈ بھارت ہے۔ وہ تو ملکوں کے نام کا تکلف بھی برطرف کرنے کیلئے بے چین ہے گریٹر انڈیا اس کی تمنا اور آرزو ہے۔ اس کیلئے جال بنے جاتے منصوبے تشکیل دئیے جاتے اور سازشیں پروان چڑھائی جاتی ہیں۔ جب ہمارے سیاسی قائدین ویزے کی پابندی کے خاتمے کا نعرہ مدہوشیانہ لگاتے ہیں تو عظیم تر ہندوستان کا خواب دیکھنے والے بنیئے کو اپنی امید برآتی محسوس ہوتی ہیں۔ اس کے دل و دماغ میں شوخ و چنچل ہوائیں چلنے لگتی ہیں۔ 
الگ ملک ایک ہو جانے چاہئیں لیکن وہ پاکستان اور بھارت نہیں‘ بنگلہ دیش اور پاکستان کو ایک ہونا چاہئے۔ ان کے ایک ہونے کا جواز بھی ہے۔ ان کی تہذیب ایک‘ ثقافت ایک‘ دین ایک‘ ایمان ایک‘ نبی ایک قرآن ایک اور خدا ایک ہے اور دشمن بھی ایک‘کل تک یہ خود بھی ایک تھے۔ اس کیلئے ایک انقلابی لیڈر کی ضرورت ہے۔ دو قومی نظریے کے پاسبان کی ضرورت ہے۔ قائد اور اقبال کے جانشیں کی ضرورت ہے کرنل قذافی کے سے جذبے کی ضرورت ہے جس نے لیبیا اور مصر کے ادغام اور انضمام کی تجویز پیش کی جسے انور السادات نے ٹھکرا دیا۔ بدقسمتی سے قائداعظم کی رحلت کے بعد ہمیں دونوں حصوں سے قائد ایسا ایک بھی رہنما و پیشوا نہ ملا۔ مجیب یحییٰ جیسے ملک توڑ اور انور السادات جیسے اتحاد کے دشمن قدم قدم اور ہر موڑ پر ملے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین بدگمانیاں اور نفرتیں محبتوں میں بدل سکتی ہیں۔ سابق مشرقی پاکستان کے باسیوں کے دل میں اگر کدورت اور نفرت ہے تو وہ اس سطح کی نہیں جو قریش مکہ کی دین اسلام کے پیروکاروں میں تھی۔ پھر دنیا نے ان کو شیر و شکر اور ایک دوسرے پر جاں نچھاور کرتے دیکھا۔ ایسی یکتائی اور یکجائی قیامت تک‘ پاکستان اور بھارت کے مابین قطعاً ممکن نہیں۔ اسلام پوری انسانیت سے محبت اور مساوات کا درس دیتا ہے لیکن مسلمان‘ ہندو سے نفرت‘ اس کی نفرت کے جواب میں کرتا ہے۔ وہ مسلمان کے ہاتھ سے چھوئی ہوئی چیز کو بھی بھرشٹ سمجھتا ہے۔ گو آج کچھ جدت پسند ہندو مسلمان سے ہاتھ ملا لینے کو حرج نہیں سمجھتے لیکن ان کا ہندو معاشرہ اور سیاست میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ مجموعی طور پر بھارت کے آئینی طور پر سیکولر ہونے کے باوجود اقلیتوں خصوصی طور پر مسلمانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سکھوں نے اندرا گاندھی ماری تو معتوب ٹھہرے۔ مسلمان تو نہ صرف مکھی تک کو مارنے کے جرم دار نہیں بلکہ یہ تو اپنے مدرسوں اور مساجد میں گاندھی اور اس کے چیلوں کو بھی بلا لیتے ہیں۔ اس کے باوجود انتہا پسند ہندو دل میں مسلمانوں کی ہزار سالہ غلامی کے انتقام کا جذبہ الاؤ دہکائے رکھتا ہے۔ ہندو کی بدباطنی‘ خباثت اور کینہ پروری کا احساس ہمارے کچھ دانشوروں کو نہیں ہو رہا۔ یہ اس کے ساتھ دوستی کے بے پایاں جذبات رکھتے ہیں۔ بھارت میں کچھ مسلمان خاندان شہرت‘ عزت اور دولت کی معراج پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی اصلیت پر نگاہ دوڑائیں تو کسی کی ماں ہندو ہے کسی کا باپ‘ اگر ماں باپ مسلمان ہیں تو کسی نے خود نکاح ہندو خاندان میں کر رکھا ہے کسی نے بہن اور بیٹی ہندوؤں میں بیاہ رکھی ہے۔
بھارت سے دوستی کے خواستگار نہ جانے کیوں تمام قانونی تقاضے پورے کرکے بھارت جانے والوں پر تشدد اور تشدد سے مرنے والوں کو بھول جاتے ہیں۔ جن کو ہماری اکثریت کھیل اور شوبز کے میدان میں ہیرو سمجھتی ہے ان کی بھارت میں تذلیل ہوتی ہے۔ تازہ ترین واقعہ عدنان سمیع کا جسے اس کی کروڑوں کی جائیداد چھین کر دھتکار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے فنکار اور کھلاڑی بڑی بے شرمی سے نوٹ بنانے اور پیسہ کمانے کیلئے بھارت کا رخ کرتے ہیں۔ بھارت میں ایک بھی پاکستانی ٹی وی چینل دکھانے کی اجازت نہیں۔ ہمارے ہاں پاکستانی چینلز سے زیادہ سپریم کورٹ کی طرف سے پابندی کے باوجود انڈین فحش چینل دکھائے جاتے ہیں۔ سینماؤں میں بھارتی فلمیں چل رہی ہیں۔ ہمارے پڑوسی سینما میں بھی سکھ فلمی بورڈ پر دندنا رہے ہیں۔ پاکستانی چینلز بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ بھارت کے اشتراک سے بنے پروگرام دکھا رہے ہیں۔ ان کی سکرینوں پر انکی فلمیں چل رہی ہیں۔پرنٹ میڈیا میں پاکستانی فنکاروں سے زیادہ دشمن ملک کے فنکاروں کو کوریج دی جاتی ہے۔ کیا یہ سب قومی وقار کے منافی نہیں؟ ہمارے حکمران کسی بھی جدت پسند اور آزاد خیال حلقے سے پیچھے نہیں۔ آخر شکایت کریں تو کس سے کریں؟