About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, July 10, 2011

بڑے فوجی افسر کی چھوٹی حرکت

 اتوار ، 10 جولائی ، 2011

بڑے فوجی افسر کی چھوٹی حرکت
فضل حسین اعوان 
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ایڈمرل مائیکل مولن نے پاکستان پر الزام لگایا ہے ”صحافی سلیم شہزاد کو حکومتی ایما پر قتل کیا گیا۔ ایسی حرکتیں کر کے حکومت غلطی پر غلطی کر رہی ہے۔ اس قتل کی اعلیٰ سطح پر منظوری دی گئی۔ اس قتل کا الزام آئی ایس آئی پر نہیں لگا سکتا“۔ 
امریکی فوج کے سب سے بڑے افسر کی طرف سے ایسا بیان شاید ان کی فوجی زندگی کی سب سے چھوٹی حرکت ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ملک میں قتل و غارت، لوٹ مار اور بدامنی کی ذمہ دار حکومت ہی قرار پاتی ہے۔ اس تناظر میں سلیم شہزاد کے بہیمانہ اور بے رحمانہ قتل کی ذمہ دار بھی بالواسطہ طور پر حکومت ہی ٹھہرتی ہے۔ اس قتل پر پاکستان میں شدید ردعمل تھا بالخصوص صحافتی حلقوں میں بڑی بے چینی پائی جاتی تھی حکومت کو غیر جانبدارانہ تحقیقات پر آمادہ کرنے کے لئے جلسے جلوس مظاہرے اور دھرنے دئیے گئے۔ سینئر صحافیوں نے خفیہ ایجنسی کے چند افراد کو موردِ الزام ٹھہرایا۔ جس طرح کی بات امریکی جوائنٹ سروسز کے سربراہ نے کی ہے ایسی بات سلیم شہزاد کے لواحقین، اس قتل پر مشتعل مقتول کے ساتھیوں اور حامیوں نے بھی نہیں کی۔ پاکستان میں مائیکل مولن کے اس الزام سے کوئی بھی متفق نہیں کہ سلیم شہزاد کے قتل کی منظوری اعلیٰ سطح پر دی گئی۔ دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ مولن نے یہ بیان کس حیثیت میں دیا؟ سلیم شہزاد کا ظالمانہ قتل قطعی طور پر پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ امریکہ کا اس سے کیا لینا دینا۔ مقتول صحافی امریکی تھا نہ دوہری امریکی شہریت کا حامل۔ حکومت قتل کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے جج میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں کمشن تشکیل دے چکی ہے۔ جس پر صحافتی اور سیاسی حلقوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ کمشن کا گزشتہ روز بھی اجلاس ہوا جس کے روبرو پیش ہو کر سینئر صحافیوں نے بیانات قلمبند کرائے۔ مولن کیا دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ مقتول صحافی امریکہ کے متعین کردہ خطوط پر کام کر رہا تھا یا ان کے دل میں انسانیت نے انگڑائی لی اور وہ ایک بے گناہ انسان کے قتل پر دلبرداشتہ ہو کر زبان پہ جو آیا انسانی ہمدردی کے تحت بیان کر دیا؟ فلسطین میں یہود، کشمیر میں ہنود بے گناہ انسانوں کا خون بہا رہے ہیں۔ افغانستان اور عراق میں خود امریکہ نے لاکھوں افراد کو آگ اور بارود میں پگھلا کر مار ڈالا اس پر تو مولن کا ضمیر کبھی جاگا نہ اس میں خلش پیدا ہوئی۔ نہ ہی دل پسیجا۔ سلیم شہزاد کا قتل سب پر بھاری پڑ گیا یہ مولن کی مقتول صحافی اور پاکستانی صحافیوں کے ساتھ ہمدردی و غمگساری نہیں۔ مولن ایسے الزامات لگا کر پاکستان کو اپنے مزید ڈو مور کے تقاضوں کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں شمالی وزیرستان میں آپریشن اہم ترجیح اور شرطِ اولین ہے۔ 
حکومت نے مولن کے بیان کی مذمت اور شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نہایت ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ ایسا ہی بیان دوہری شہریت کے حامل حسین حقانی کو بھی دینا چاہتے تھے لیکن اس پر تو خاموش رہے البتہ یہ ضرور اور بلاضرورت اوباما حکومت پر زور دیتے ہوئے کہہ دیا۔ ”ایک تحقیقاتی کمشن سلیم شہزاد کے قتل کی تحقیقات کر رہا ہے اگر امریکی حکام کے پاس اس حوالے سے کوئی شواہد ہیں تو وہ اس کمشن کو فراہم کئے جائیں۔ ہم اس معاملے میں تہہ تک جانا چاہتے ہیں“۔ 
امریکہ اس معاملے میں کیوں آئے اور ٹانگ اڑائے۔ حسین حقانی امریکہ میں کس ملک کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں؟ پاکستان یا امریکہ کے۔ انہوں نے امریکی شہریت کا حلف اٹھا رکھا ہے ملاحظہ فرمائیے۔ ”میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں امریکی شہریت اختیار کرنے کے بعد امریکہ کے علاوہ کسی بھی ملک، حکومت یا ریاست کے ساتھ کسی قسم کی وابستگی نہیں رکھوں گا میں کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت سے دستبردار ہو جاﺅں گا۔ میں امریکی ریاست، آئین اور قانون کا اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے تحفظ کروں گا اور ان کا ہر قیمت پر دفاع کروں گا۔ یہ کہ میں امریکی ریاست، آئین اور قانون کا ہمیشہ وفادار رہوں گا۔ یہ کہ میں قانون کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکہ کے دفاع اور تحفظ کے لئے ہتھیار اٹھاﺅں گا۔ میں قانون کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکی افواج میں غیر فوجی خدمات کی ادائیگی کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوں گا۔ میں سول حکومت کی ہدایت پر ہر قسم کا قومی فریضہ سرانجام دینے کے لئے دستیاب ہوں گا۔ یہ کہ میں بقائمی ہوش و حواس اپنی آزادانہ مرضی سے یہ حلف اٹھا رہا ہوں اور اس حلف کے مندرجات سے پہلو تہی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ خدا میرا حامی و ناصر ہو“۔ امریکہ نے تو پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے۔ حقانی جیسی چیزیں بھی اپنے حلف کے مطابق ساتھ رکھی ہوئی ہیں۔ لنکا جب بھی ڈھائی ہمارے اپنوں ہی نے ڈھائی۔ حقانی جس تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کا مدعا بھی یہی ہے۔ یہ تہہ بھی خود تخلیق اور تعمیر کرتے ہیں پھر اس تک پہنچ بھی خود جاتے ہیں۔ 
امریکہ کا جب سلیم شہزاد سے کوئی تعلق ہی نہیں تو اسے شواہد پیش کرنے کی پیشکش کیوں کی جائے۔ حکومت کو مولن کا بیان ٹھنڈے پیٹوں صرف مذمتی، الفاظ کا سہارا لے کر بیٹھ نہیں جانا چاہئے۔ ایسے بیانات کا سفارتی پروٹوکول کے مطابق باقاعدہ جواب دینا اور طلب کرنا چاہئے۔ جوڈیشل کمشن کے اگر دائرہ اختیار میں ہے تو مولن کو بھی گواہ کے طور پر طلب کر کے وہ شواہد طلب کرنے چاہئیں جن کی بنا پر مولن نے کہا کہ قتل کی اعلیٰ حکومتی سطح پر منظوری دی گئی۔

Saturday, July 9, 2011



 ہفتہ ، 09 جولائی ، 2011

مادرِ ملت کو ہرایا نہ جاتا تو....
فضل حسین اعوان
بانیانِ پاکستان کی یادوں کے چراغ بلاشبہ ہمارے دلوں میں آج بھی شمع فروزاں بن کر جگمگا رہے ہیں۔ لیکن ہماری درماندگی اور پسماندگی کی وجوہات میں قائدین کے متعین کردہ اصولوں سے روگردانی اور دکھائے گئے راستوں سے ہٹ اور بھٹک جانا ہے۔ قائداعظم کی طرح قائداعظم کی تصویر مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی بااصول، بامروت، پروقار، شائستہ اور جہدِ مسلسل کا پیکر تھیں۔ اپنے عظیم بھائی کی رحلت کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے خود کو سیاست سے الگ کر لیا تھا تاہم پاکستان کو مسائل کے گرداب میں دیکھ کر وہ تڑپ اُٹھتی تھیں۔ رتی بائی سے شادی سے قبل اور رتی کی وفات کے بعد محترمہ فاطمہ جناح اپنے محترم بھائی کا سایہ بن کر ان کے ساتھ رہی تھیں۔ وہ قائداعظم کی پاکستان کے ساتھ ایک ایک کمٹمنٹ سے آگاہ تھی۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح کشمیر کی پاکستان کے لئے اہمیت سے پوری آگاہ تھیں دسمبر 1948ءکو انجمنِ تاجران کراچی سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ نے فرمایا ”اس وقت پاکستان کو مختلف اہم مسائل کا سامنا ہے اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ان میں مسئلہ کشمیر سب سے زیادہ اہم ہے مدافعتی نقطہ نگاہ سے کشمیر پاکستان کی زندگی اور روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقتصادی لحاظ سے کشمیر ہماری مرفع الحالی کا منبع ہے۔ پاکستان کے بڑے دریا اسی ریاست کی حدود سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے اور ہماری خوشحالی میں مدد دیتے ہیں اس کے بغیر پاکستان کے مرفع الحالی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اگر خدا نہ کرے ہم کشمیر سے محروم ہو جائیں تو قدرت کی عطا کردہ نعمت عظمٰی کا بڑا حصہ ہم سے چھن جائے گا“۔ کشمیر ہماری مدافعت کا کلیدی نقطہ ہے۔ اگر دشمن کو کشمیر کی خوبصورت وادی اور پہاڑوں میں مورچہ بندی کا موقع مل جائے تو پھر یہ اٹل امر ہے کہ وہ ہمارے معاملات میں مداخلت اور اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرے گا۔ پس اپنے آپ کو مضبوط اور حقیقتاً طاقتور قوم بنانے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کو دشمن کی ایسی سرگرمیوں کی زد میں نہ آنے دیا جائے۔ اس لحاظ سے کشمیر کی مدد ہمارا اولین فرض ہو جاتا ہے“۔ 
قائداعظم کشمیر بزور حاصل کرنا چاہتے تھے۔ قائم مقام آرمی چیف جنرل گریسی نے حیلہ و بہانہ سازی سے قائد محترم کی خواہش کو عملی جامعہ پہنانے کی راہ میں حائل ہو گئی۔ اب تو ہمارے قومی معاملات میں کسی گریسی کا عمل دخل نہیں اس کے باوجود 64 سال گزر گئے قائد کی خواہش بر نہیں آ سکی۔ ہماری نااہلیوں نالائقیوں اور غفلتوں کا شاخسانہ ہے کہ ہم نہ صرف کشمیر حاصل نہیں کر سکے بلکہ اس کے برعکس آدھا پاکستان گنوا دیا۔ 
قائداعظم کی رحلت کے بعد محترمہ کی صورت میں قوم کے پاس قائداعظم کا متبادل اور عظیم سیاستدان موجود تھیں۔ ذاتی مفادات کے اسیر حکمرانوں اور کرتا دھرتاﺅں نے محترمہ کی خدمات سے استفادہ نہ کر کے اپنی رعونت اور فرعونیت کے باعث پاکستان کو دولخت ہونے کی راہ پر گامزن کر دیا۔ محترمہ وہ عظیم خاتون تھیں جن کو اقتدار کی قطعاً کوئی خواہش نہیں تھی۔ ان کا عزم و ارادہ سنگلاخ چٹانوں کی طرح تھا۔ حوصلہ بڑھتے ہوئے طوفانوں کی طرح تھا جس کا اظہار انہوں نے ایوبی آمریت کے دوران کیا۔ یہ وہ دور تھا جب ایوبی آمریت عروج پر تھی۔ ایوب کے مدمقابل آنے پر پورے پاکستان سے کوئی بھی لیڈر تیار نہیں تھا۔ ایوب خان کے مخالفوں نے ملک بچانے کا واسطہ دے کر مادر ملت کو مقابلے میں لا کھڑا کیا۔ مادر ملت نے حب الوطنی کے ارفع و اعلیٰ جذبہ کے تحت پاکستان کو آمریت کے چنگل سے چھڑانے اور پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ اس وقت محترمہ کی عمر 72 برس تھی۔ اس کے باوجود مادر ملت کے جذبے جوان تھے وہ بے باک پانیوں کی طرح شہر شہر گھوم کر قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر رہی تھیں۔ 
انہوں نے مغربی و مشرقی پاکستان میں طوفانی انتخابی مہم چلائی۔ دونوں حصوں میں ان کا والہانہ استقبال ہوا۔ مشرقی پاکستان میں بھی محترمہ کے جلسوں میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا۔ وہاں ایوب خان کے کئی جلسوں میں فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے گونجتے۔ لوگ اپنے محبوب قائد کی عظیم ہمشیرہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب رہتے۔ محترمہ غالباً سلہٹ ریلوے سٹیشن پر اتریں۔ بنگالی والہانہ استقبال کے لئے موجود تھے۔ حد نظر تک ہر طرف سر ہی سر نظر آتے تھے۔ فلائی اوور پر بھی تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ رش کی وجہ سے پل گر گیا۔ لوگ زخمی ہوئے۔ ایک بنگالی اپنے نوعمر بیٹے کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ”ماں کو دیکھ لیا، ماں کو دیکھ لیا“۔ بانیانِ پاکستان کے لئے بنگالیوں کے دلوں میں اس حد تک عزت و عظمت کے جذبات تھے۔ 
لیکن جہاں ظلمت سچ پر چھا گئی۔ انصاف کو ظلم کی چادر نے ڈھانپ لیا، بددیانتی دیانت پر بھاری پڑ گئی، مفاداتی ذہنیت کے لوگوں کی بدبودار پالیسیوں نے مادر ملت کو ہرانے کا اہتمام کر دیا۔ پولنگ سٹیشنوں پر انسان تو تعینات تھے اکثر میں انسانیت نہیں تھی۔ قوم کے جذبات کو پولنگ سٹیشنوں پر یرغمال بنا لیا گیا تمام پاکستانی ووٹرز نہیں تھے بی ڈی سسٹم رائج تھا اور بہت سے بی ڈی ممبرز کے ضمیر بھی بک گئے، محترمہ کو 49951 ممبران کے مقابلے میں صرف 28691 ممبران کے ووٹ ظاہر کئے گئے۔ پھر محض 6 سال بعد مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے الگ ہو گیا۔ آمر کے آمریت کو طول دینے کے خبط نے اسے الیکشن میں دھاندلی پر آمادہ کیا۔ کشمیر کو نظرانداز کرنے والے جرنیلوں نے 1958ءمیں بوٹوں کی دھمک سے اپنے ہی ملک کو فتح کیا پھر 2 جنوری 1965ءکو انتخابی نتائج کو یرغمال بنا کر عوام کو بھی فتح کر لیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہرایا نہ جاتا تو یقیناً دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ٹکڑوں میں نہ بٹتا اور کشمیر بھی آزاد ہو چکا ہوتا۔ بدقسمتی سے آج تک پاکستان کو قائداعظم اور مادر ملت جیسا ایک بھی حکمت و دانش کا مرقع، جرا ¿ت و عظمت کا منبع رہنما نہ مل سکا جو ملے ان میں سے کسی نے دریا بیچے، کسی نے سرکریک اور سیاچن کا سودا کیا کسی نے انسان، انسانیت، قومی وقار و حمیت اور خودداری و خودمختاری فروخت کر کے ملک و قوم کو غیروں کا دست نگر مطیع اور غلام بنا دیا۔ 
مادرِ ملت کو ہرایا نہ جاتا تو....
بانیانِ پاکستان کی یادوں کے چراغ بلاشبہ ہمارے دلوں میں آج بھی شمع فروزاں بن کر جگمگا رہے ہیں۔ لیکن ہماری درماندگی اور پسماندگی کی وجوہات میں قائدین کے متعین کردہ اصولوں سے روگردانی اور دکھائے گئے راستوں سے ہٹ اور بھٹک جانا ہے۔ قائداعظم کی طرح قائداعظم کی تصویر مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی بااصول، بامروت، پروقار، شائستہ اور جہدِ مسلسل کا پیکر تھیں۔ اپنے عظیم بھائی کی رحلت کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے خود کو سیاست سے الگ کر لیا تھا تاہم پاکستان کو مسائل کے گرداب میں دیکھ کر وہ تڑپ اُٹھتی تھیں۔ رتی بائی سے شادی سے قبل اور رتی کی وفات کے بعد محترمہ فاطمہ جناح اپنے محترم بھائی کا سایہ بن کر ان کے ساتھ رہی تھیں۔ وہ قائداعظم کی پاکستان کے ساتھ ایک ایک کمٹمنٹ سے آگاہ تھی۔ قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح کشمیر کی پاکستان کے لئے اہمیت سے پوری آگاہ تھیں دسمبر 1948ءکو انجمنِ تاجران کراچی سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ نے فرمایا ”اس وقت پاکستان کو مختلف اہم مسائل کا سامنا ہے اور یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ان میں مسئلہ کشمیر سب سے زیادہ اہم ہے مدافعتی نقطہ نگاہ سے کشمیر پاکستان کی زندگی اور روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقتصادی لحاظ سے کشمیر ہماری مرفع الحالی کا منبع ہے۔ پاکستان کے بڑے دریا اسی ریاست کی حدود سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے اور ہماری خوشحالی میں مدد دیتے ہیں اس کے بغیر پاکستان کے مرفع الحالی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اگر خدا نہ کرے ہم کشمیر سے محروم ہو جائیں تو قدرت کی عطا کردہ نعمت عظمٰی کا بڑا حصہ ہم سے چھن جائے گا“۔ کشمیر ہماری مدافعت کا کلیدی نقطہ ہے۔ اگر دشمن کو کشمیر کی خوبصورت وادی اور پہاڑوں میں مورچہ بندی کا موقع مل جائے تو پھر یہ اٹل امر ہے کہ وہ ہمارے معاملات میں مداخلت اور اپنی مرضی چلانے کی کوشش کرے گا۔ پس اپنے آپ کو مضبوط اور حقیقتاً طاقتور قوم بنانے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کو دشمن کی ایسی سرگرمیوں کی زد میں نہ آنے دیا جائے۔ اس لحاظ سے کشمیر کی مدد ہمارا اولین فرض ہو جاتا ہے“۔ 
قائداعظم کشمیر بزور حاصل کرنا چاہتے تھے۔ قائم مقام آرمی چیف جنرل گریسی نے حیلہ و بہانہ سازی سے قائد محترم کی خواہش کو عملی جامعہ پہنانے کی راہ میں حائل ہو گئی۔ اب تو ہمارے قومی معاملات میں کسی گریسی کا عمل دخل نہیں اس کے باوجود 64 سال گزر گئے قائد کی خواہش بر نہیں آ سکی۔ ہماری نااہلیوں نالائقیوں اور غفلتوں کا شاخسانہ ہے کہ ہم نہ صرف کشمیر حاصل نہیں کر سکے بلکہ اس کے برعکس آدھا پاکستان گنوا دیا۔ 
قائداعظم کی رحلت کے بعد محترمہ کی صورت میں قوم کے پاس قائداعظم کا متبادل اور عظیم سیاستدان موجود تھیں۔ ذاتی مفادات کے اسیر حکمرانوں اور کرتا دھرتاﺅں نے محترمہ کی خدمات سے استفادہ نہ کر کے اپنی رعونت اور فرعونیت کے باعث پاکستان کو دولخت ہونے کی راہ پر گامزن کر دیا۔ محترمہ وہ عظیم خاتون تھیں جن کو اقتدار کی قطعاً کوئی خواہش نہیں تھی۔ ان کا عزم و ارادہ سنگلاخ چٹانوں کی طرح تھا۔ حوصلہ بڑھتے ہوئے طوفانوں کی طرح تھا جس کا اظہار انہوں نے ایوبی آمریت کے دوران کیا۔ یہ وہ دور تھا جب ایوبی آمریت عروج پر تھی۔ ایوب کے مدمقابل آنے پر پورے پاکستان سے کوئی بھی لیڈر تیار نہیں تھا۔ ایوب خان کے مخالفوں نے ملک بچانے کا واسطہ دے کر مادر ملت کو مقابلے میں لا کھڑا کیا۔ مادر ملت نے حب الوطنی کے ارفع و اعلیٰ جذبہ کے تحت پاکستان کو آمریت کے چنگل سے چھڑانے اور پاکستان کو قائداعظم کا پاکستان بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیا۔ اس وقت محترمہ کی عمر 72 برس تھی۔ اس کے باوجود مادر ملت کے جذبے جوان تھے وہ بے باک پانیوں کی طرح شہر شہر گھوم کر قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر رہی تھیں۔ 
انہوں نے مغربی و مشرقی پاکستان میں طوفانی انتخابی مہم چلائی۔ دونوں حصوں میں ان کا والہانہ استقبال ہوا۔ مشرقی پاکستان میں بھی محترمہ کے جلسوں میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا۔ وہاں ایوب خان کے کئی جلسوں میں فاطمہ جناح زندہ باد کے نعرے گونجتے۔ لوگ اپنے محبوب قائد کی عظیم ہمشیرہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب رہتے۔ محترمہ غالباً سلہٹ ریلوے سٹیشن پر اتریں۔ بنگالی والہانہ استقبال کے لئے موجود تھے۔ حد نظر تک ہر طرف سر ہی سر نظر آتے تھے۔ فلائی اوور پر بھی تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ رش کی وجہ سے پل گر گیا۔ لوگ زخمی ہوئے۔ ایک بنگالی اپنے نوعمر بیٹے کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ”ماں کو دیکھ لیا، ماں کو دیکھ لیا“۔ بانیانِ پاکستان کے لئے بنگالیوں کے دلوں میں اس حد تک عزت و عظمت کے جذبات تھے۔ 
لیکن جہاں ظلمت سچ پر چھا گئی۔ انصاف کو ظلم کی چادر نے ڈھانپ لیا، بددیانتی دیانت پر بھاری پڑ گئی، مفاداتی ذہنیت کے لوگوں کی بدبودار پالیسیوں نے مادر ملت کو ہرانے کا اہتمام کر دیا۔ پولنگ سٹیشنوں پر انسان تو تعینات تھے اکثر میں انسانیت نہیں تھی۔ قوم کے جذبات کو پولنگ سٹیشنوں پر یرغمال بنا لیا گیا تمام پاکستانی ووٹرز نہیں تھے بی ڈی سسٹم رائج تھا اور بہت سے بی ڈی ممبرز کے ضمیر بھی بک گئے، محترمہ کو 49951 ممبران کے مقابلے میں صرف 28691 ممبران کے ووٹ ظاہر کئے گئے۔ پھر محض 6 سال بعد مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے الگ ہو گیا۔ آمر کے آمریت کو طول دینے کے خبط نے اسے الیکشن میں دھاندلی پر آمادہ کیا۔ کشمیر کو نظرانداز کرنے والے جرنیلوں نے 1958ءمیں بوٹوں کی دھمک سے اپنے ہی ملک کو فتح کیا پھر 2 جنوری 1965ءکو انتخابی نتائج کو یرغمال بنا کر عوام کو بھی فتح کر لیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہرایا نہ جاتا تو یقیناً دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ٹکڑوں میں نہ بٹتا اور کشمیر بھی آزاد ہو چکا ہوتا۔ بدقسمتی سے آج تک پاکستان کو قائداعظم اور مادر ملت جیسا ایک بھی حکمت و دانش کا مرقع، جرا ¿ت و عظمت کا منبع رہنما نہ مل سکا جو ملے ان میں سے کسی نے دریا بیچے، کسی نے سرکریک اور سیاچن کا سودا کیا کسی نے انسان، انسانیت، قومی وقار و حمیت اور خودداری و خودمختاری فروخت کر کے ملک و قوم کو غیروں کا دست نگر مطیع اور غلام بنا دیا۔

کرپشن ناسُور

 8-7-2011

کرپشن ناسُور
فضل حسین اعوان ـ 1 دن 20 گھنٹے پہلے شائع کی گئی
بھارت میں کرپشن کے خلاف 19 فروری کو مرن برت پر بیٹھا سوامی نگم آنند سرسوتی 16 جون کو اپنی جاں سے گزر گیا۔ ایک اور سماجی رہنما انا ہزارے بھی سوامی نگم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے موت کی دہلیز پر تھا۔ سول سوسائٹی اس کی حمایت میں نکل آئی تھی کہ منموہن سنگھ نے کل جماعتی کانفرنس طلب کی۔ جس میں تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں نے اتفاقِ رائے سے انسدادِ بدعنوانی بل پارلیمنٹ کے مون سون سیشن میں لانے کا فیصلہ کیا۔ بھارتی پارلیمنٹ انسدادِ بدعنوانی (محتسب۔ لوک پال) ادارہ تشکیل دے گی۔ ہو سکتا ہے کہ بھارت میں کرپٹ لوگوں کے لئے سزائے موت تجویز کر دی جائے۔ کل جماعتی کانفرنس میں استثنٰی پر اختلاف پایا گیا۔ اکثر پارٹیوں کا خیال تھا کہ کرپشن کے زمرے میں جو بھی آئے جج جرنیل صدر یا وزیراعظم کسی سے رعایت نہ کی جائے۔ منموہن سنگھ کی چونکہ ان کے پاکستانی ہم منصب سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ گاڑھی چھنتی ہے حالیہ دنوں فرمایا منموہن سنگھ کو مسئلہ کشمیر کے حل پر قائل کر لیا ہے۔ موہالی میں کرکٹ ورلڈکپ سیمی فائنل منموہن کی پگڑی پر وار کر لوٹے تو بھی ہمارے وزیراعظم نے خوش گمانی کا اظہار کیا تھا ”منموہن کشمیر، سیاچن اور سرکریک سمیت تمام تنازعات حل کرنا چاہتے ہیں“ گیلانی پر منموہن کی چرب زبانی کے گہرے اثرات ہوئے تو منموہن پر گیلانی کا قدرے سایہ پڑنا بھی قدرتی امر ہے۔ منموہن عدلیہ اور وزیراعظم کے لئے کرپشن کے حوالے سے استثنٰی چاہتے ہیں تمام جماعتیں یک زبان ہیں کہ نہیں، کرپٹ کوئی بھی ہو قابلِ معافی نہیں“ استثنٰی کا درس ہو سکتا ہے ہمارے وزیراعظم نے دیا ہو۔ 
اتفاق ملاحظہ فرمائیے۔ ہمارے ازلی اور ابدی دشمن کے ہاں جب کرپشن پر قابو پانے کی جنگ جاری ہے۔ عین اُس وقت ہمارے ہاں کرپشن کے فروغ کی ترنگ جاری ہے۔ آئی این سی ایل کیس میں بڑے بڑے نام آتے ہیں ان کو بچانے کے لئے حکومت نے سپریم کورٹ تک کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔ بھارت میں کرپشن کے باعث بیرونی سرمایہ کاری محض ایک سال میں نصف رہ گئی۔ ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ بھی کرپشن ہے۔ جو سب سے زیادہ اعلیٰ سطح پر ہوتی ہے۔ انرجی کی قلت کے باعث لوگوں کے کاروبار ٹھپ، بیروزگاری کا عالم اور بھوک رقص کناں ہے۔ حکومت نے عوام کو یہ سوغاتیں شاید اپنے انداز خسروانہ سے ان کی نگاہیں ہٹانے کے لئے دی ہیں۔ دیدہ دلیری یا عقلِ سلیم کی سطح کا انداز فرمائیے وزیراعظم گیلانی فرماتے ہیں کرپشن اور اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں۔ عقل سلیم کی سطح کا اس لئے تذکرہ کیا کہ ساتھ ہی فرمایا ایم کیو ایم حکومت میں شامل ہے۔ اس کے نوازشریف کے پنڈولم کی جھولتے گرینڈ الائنس میں شرکت کے باوجود۔ مزید فرمایا بھارت میں کرپشن کے خلاف سیاسی جماعتوں کا اتحاد انکا اپنا معاملہ ہے۔ اس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ صحافیوں نے تو پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کے لئے ایسے اقدامات کرنے کی بات کی تھی۔ انہوں نے سوال گندم جواب چنا دیدیا۔ آگے بڑھتے ہوئے فرماتے ہیں فوجی حکومتوں پر کبھی کرپشن کے الزامات نہیں لگے۔ صرف سیاسی حکومتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ وزیراعظم صاحب بتائیں کہ سیاسی حکومتوں پر کرپشن کے الزامات کس نے لگائے؟ خود سیاستدانوں نے ہی لگائے۔ گیلانی صاحب تو یقیناً آگاہ ہیں نئی نسل 90 سے 99 تک کی سیاسی تاریخ، سیاست اور حکومتوں کی شکست ریخت ملاحظہ فرما لے۔ آج کا ہر بڑا لیڈر ”بوٹ پالش“ کر کے مقامِ عظمتِ نشان تک پہنچا۔ فوجی حکومتوں نے کرپشن کی تو محاسبہ سیاستدانوں نے کرنا تھا۔ خود گیلانی صاحب جنرل ضیاءالحق کے کندھے کے ساتھ کندھا ملائے کھڑے رہے۔ انہوں نے خود اس دور کی کتنی کرپشن بے نقاب کی؟ اب ماشاءاللہ طاقتور وزیراعظم ہیں۔ مشرف دور کی کرپشن عیاں کریں۔ معاف کرنا آپ تو اس پر مٹی ڈال رہے ہیں سب سے بڑا ثبوت ظفر قریشی کی بازیاں لگوانے کے لئے حیلہ سازیاں ہیں۔ 
کرپشن ککھ کی ہو یا لکھ کی۔ کروڑوں کی یا اربوں کھربوں کی، ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے زہر قاتل اور بیخ کنی کے قابل ہے۔ ہر قسم کی کرپشن پر قابو پانا ہو گا۔ ایک تازہ ترین رپورٹ ملاحظہ فرمائیے جس میں کہا گیا ہے کہ 4 سال کے دوران پنجاب کی بیورو کریسی نے بیرونی دوروں پر اربوں روپے پھونک دئیے۔ بعض افسر دوروں کا پروگرام تشکیل دے کر خود ہی چلے جاتے ہیں۔ ایسے افسر بھی گئے جن کا دورے کی نوعیت کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں تھا۔ کئی افسروں نے غربت کے خاتمے کے لئے دورے کئے لیکن ان کے دورے مزید غربت کا باعث بنے۔ کئی کو ریٹائرمنٹ سے قبل دورہ کرا دیا گیا۔ ایک الیکٹرک انسپکٹر کو سمندر میں ریسکیو ٹریننگ اور سمندری مچھلی کے کاروبار کی مینجمنٹ کے لئے باہر بھجوایا گیا۔ اب یہ صاحب کونسے سمندر میں کونسی ریسکیو کر رہے ہیں۔ ان کو کراچی یا گوادر بھجوا دینا چاہئے۔ ایسے بے مقصد دورے مرکز اور دوسرے صوبوں کے افسر بھی کرتے ہیں۔ یہ کیا کسی کرپشن سے کم ہے۔ 
کرپشن جو ہمارے معاشرے ملک و قوم کی دشمن اور رستہ ہوا ناسور ہے۔ اسے ہر صورت ختم ہونا چاہئے۔ اس حوالے سے دیانتدار پارلیمنٹیرین اپنا کردار ادا کریں۔ سیاسی پارٹیاں کرپشن کے خاتمے کی بات ضرور کرتی ہیں بدقسمتی سے اکثر پارٹیوں کے اکثر لیڈروں کا یہ دھندہ اور وتیرہ ہے۔ اس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہئے عوام بھی اپنے نمائندوں پر کرپشن کے خلاف اقدامات کے لئے دباﺅ ڈالیں۔ غیر جانبدارانہ اور بے رحمانہ احتساب کا معاشرے میں چلن ہو جائے تو 90 فیصد عوامی مسائل صرف اسی سے ختم ہو سکتے ہیں۔ کرپٹ لوگوں کے لئے سزائے موت نہیں تو اس سے کم بھی سزا نہیں ہونی چاہئے۔

Thursday, July 7, 2011

او آئی سی ۔۔۔ شعلہ ہے نہ چنگاری

جمعرات ، 07 جولائی ، 2011

او آئی سی ۔۔۔ شعلہ ہے نہ چنگاری
فضل حسین اعوان 
آستانہ‘ قازقستان میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بڑے دلیرانہ اور جرات مندانہ فیصلے کئے گئے۔ گمان گزرا کہ 57 اسلامی ممالک کی خوابیدہ تنظیم بیدار ہو گئی ہے۔ اب یہ بحرانوں کی دلدل میں دھنسے اور مسائل کے بھنور میں پھنسے مسلمانوں اور ان کے ممالک کو نکال لے گی۔
ایسی بھی چنگاری یا رب میری خاکستر میں تھی
اجلاس میں جہاں پاکستان اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدہ کوششوں پر زور دیا گیا وہیں کشمیر‘ فلسطین‘ لیبیا اور شام کے مسائل کرنے کیلئے کمشن کا بھی اعلان کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ بتایا گیا دنیا میں امن کے قیام اور انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ او آئی سی عالمگیریت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امہ کے لئے اس کا کردار نیٹو جیسا ہو گا۔ جو ایک کال پر افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کیلئے نکل کھڑی ہوئی تھی اب لیبیا پر یلغار کئے ہوئے ہے۔ ایسے خیالات کو مزید تقویت او آئی سی کے اس عزم سے پہنچی ”مسلم امہ کا اتحاد ناگزیر ہے۔ ہمیں ایک طاقت بننا ہے تاکہ اپنے حالات بہتر اور اپنے آپ کو مضبوط بنایا جا سکے۔“اجلاس کے دوران بھارت کو محض اتنا کہا گیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دے۔ بامقصد مذاکرات کا او آئی سی مشورہ دے یا امریکہ و برطانیہ تلقین کرے اس کا بھارت نے کبھی برا نہیں منایا کیونکہ وہ ”بامقصد مذاکرات“کا پاکستان کو پہلے ہی چکر دے رہا ہے تاہم بھارت کو کشمیریوں کے لئے حق خودارادیت کا مشورہ بھارت کو لڑ گیا خصوصی طور پر نائیجریا کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنا ہو گا۔ اس پر بھارت آگ الگ رہا ہے۔ شعلہ زن اور کوئلہ بدن ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے عیار ہندو کی سوچ ایک بار پھر واضح کر دی۔
اس نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی طرف سے کشمیر سے متعلق پاس کی گئی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے کہ کشمیر بھارت کا ایک اٹوٹ انگ ہے اور اسلامی ممالک کو بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ وشنو پرکاش کے بیان میں اسلامی ممالک کی تنظیم کو متنبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے کیونکہ کشمیر بھارت کا ایک اٹوٹ انگ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ او آئی سی نے ایک بار پھر کشمیر سے متعلق قرارداد پاس کرکے بھارت کے اندرونی معاملات میں دخل دیا ہے۔ ان قراردادوں کا نئی دہلی پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں ہے۔ بھارت کے اس ردعمل پر او آئی سی کا اس سے بھی شدید ردعمل ہونا چاہئے تھا لیکن بالکل‘ خاموشی مکمل خاموشی‘ شاید آستانہ کی مصروفیات کے بعد سستا رہی اور تھکاوٹ اتار رہی ہے۔ یہ سو رہی ہے امہ اس کی جان کو رو رہی ہے۔ بیدار ہو گی تو شاید ایسے ہی نئے اجلاس کی تیاری شروع کر دے گی۔ وہ جو خاکستر میں چنگاری نظر آئی تھی پھلجھڑی ثابت ہوئی۔ جو جلی‘ چلی اور کرنیں بکھیر کر بجھ گئی 
نہ جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں 
راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے 
دوسری طرف پاکستانی حکام کی حالت زار ملاحظہ فرمائیے۔ وزیراعظم وزیر خارجہ و وزارت خارجہ‘ کشمیر کمیٹی اور اس کے چیئرمین نے بھی بھارتی وزارت خارجہ کی او آئی سی کو تنبیہ اور اٹوٹ انگ کا راگ ہضم کر لیا۔ بیان کا جواب دیتے ہیں پاکستانی حکام کو موت کیوں پڑ گئی؟ بھارت کی آتش باری پر خاموشی کیوں؟ او آئی سی اسی طرح صرف کھوکھلے دعوے کرتی اور پھوکے نعرے لگاتی رہی تو فلسطین اور کشمیر پر صدیوں بھی پیشرفت تو کیا ہو گی۔ ہنود و یہود و نصاریٰ مسلمانوں پر قیامت برپا کرتے رہیں۔ کل عراق اور افغانستان کو تاراج‘ آج پاکستان اور لیبیا ٹارگٹ ہیں۔ شام پر بھی نظر ہے۔ اس کے بعد ان کی باری جو خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ او آئی سی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ ان کی نمائندگی کا حق ادا کرے۔ شیر بنے‘ خود کو ہیجڑوں کا گروپ ثابت نہ کرے۔ عالمی طاقت اور مضبوط بننے کے لئے فرزانگی کے ساتھ ساتھ مردانگی‘ امہ کے لئے اپنی جان پر کھیل جانے تک کی دیوانگی کی ضرورت ہے۔


Wednesday, July 6, 2011

کرچی کشکول .... دریدہ دامن

بدھ ، 06 جولائی ، 2011

کرچی کشکول .... دریدہ دامن
فضل حسین اعوان
کشکول توڑنے اور کشکول چھوڑنے کے دعوے عرصہ سے کئے جا رہے ہیں۔ قوم کا مشاہدہ اور تجربہ یہی ہے کہ کشکول کبھی توڑا نہیں گیا۔ چھوڑا ضرور گیا ہے۔ اسے چھوڑ کر دامن پھیلا دیا جاتا ہے۔ غیرت کی لہر اٹھے تو دامن سمیٹ کر تھوڑا وقفہ پھر کشکول برداری۔ مشرف اور ان کے جانشینوں کی پالیسیوں اور دیگر معاملات میں کوئی انیس بیس ہو سکتی ہے۔ انسانوں کی سوداگری اور خون فروشی کی علت جیسی ذلت برقرار رہی ہے۔ ہم ان سے جنگ کی تباہ کاریوں کا معاوضہ مانگتے ہیں وہ بھیک سمجھ کر دیتے ہیں۔ امریکہ نے دہشت گردی کی جنگ کے خلاف ساڑھے چار سو ارب ڈالر مختص کئے اس میں سے فرنٹ لائن اتحادی کو صرف ایک ارب ڈالر سے کچھ اوپر حصہ ملے گا۔ بھکاری مخیر سے اس کی حیثیت کے مطابق دینے کی توقع رکھتا ہے۔ یہ فیاض کی مرضی کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق دے یا فقیر کی حیثیت کو مدنظر رکھ کر‘ امریکہ ہمیں اپنی نہیں ہماری حیثیت پیش نظر رکھ کر خیر ڈالتا ہے۔ 68 ارب ڈالر کا نقصان‘ 40 ہزار بندے مروا کر بھی امداد 17 ارب ڈالر‘ وہ بھی کئی بڑوں کے پیٹوں اور بینکوں میں چلی گئی۔ جس اعانت سے اہانت ہو، اس پر لعنت ۔ اپنے وسائل بروئے کار لاکر غیرت سے جینا چاہئے۔ امریکہ کی جنگ لڑتے لڑتے پاکستان کا کیا حشر ہو گیا! امریکہ کا آج بھی مطالبہ ہے کہ فوج بتائے وہ ہمارے ساتھ ہے یا دشمن کے ساتھ! پاکستان امریکہ کے دشمن کے ساتھ ہوتا تو اسے اس خطے میں قدم رکھنے کی جرات نہ ہوتی۔ امریکہ کے ڈومور کے مطالبات کے آگے نورمور کہنے سے قبل اور دو (Give more) کی رٹ چھوڑنا ہو گی۔ امریکہ کی ”درگاہ“ اور فرینڈز آف پاکستان کی ”بارگاہ“ سے جبیں اٹھا لینا ہو گی۔ ملکی وسائل سے استفادہ قوم کی صلاحیتوں پر بھروسا اور رب العزت پر توکل کریں تو نصرت خداوندی سے تقدیر بدل جائے گی، پہلی شرط تدبیر ہے
توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر انجام اس کی تیزی کا مقدر کے حوالے کر
اب اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن سی نظر آتی ہے۔ صدر آصف علی زرداری برطانیہ کے طویل دورے پر ہیں۔ انہوں نے ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کی جس میں سرمایہ کاری کے فروغ کی بات ہوئی یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاملات میں برطانیہ کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور مزید تعاون کی درخواست بھی کی۔ کیمرون نے بڑی گرمجوشی سے کہا وہ پاکستان اور یورپی یونین کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کےلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی برطانیہ کے دورے پر ہیں ان کا کہنا ہے کہ بیرونی دورے پاکستان میں سرمایہ کاری لانے کےلئے ہیں۔ قائداعظم گاندھی سے ملاقات و مذاکرات کرتے تو سردار عبدالرب نشتر کو اپنے پہلو میں بٹھاتے۔ نشتر خاموشی سے گاندھی کی طرف دیکھتے اور مونچھوں کو تاﺅ دیتے رہتے۔ کچھ اور گاندھی جی اکثر چوکڑی بھول جایا کرتے تھے۔ شہباز شریف رانا ثناءاللہ کو ساتھ لے گئے۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدوں کے دوران ہو سکتا ہے وہ مونچھوں کو تا ¶ دے کر دوسرے فریق کر مرعوب کرکے پاکستان کےلئے بہتر معاہدے کروا لیں۔پاکستان کی جس بھی ملک کے ساتھ ممکن ہے تجارت ہونی چاہئے سوائے ازلی دشمن بھارت کے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آپ تجارت خصوصی طور پر برآمدات کے قابل بھی ہیں؟ بجلی آپ کے پاس نہیں‘ گیس آپ کے پاس نہیں تیل کی قلت رہتی ہے۔ انرجی کے بغیر آپ پیدا کیا کریں گے اور ایکسپورٹ کیا کریں گے؟ گنجی نہائے گی کیا اورنچوڑے گی کیا۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی گرمیوں میں گیس کی قلت ہوئی اور نہ آدھا آدھا ہفتے لوڈشیڈنگ کی ذلت۔ سی این جی سٹیشن ہفتے میں دو دن بند رہتے تھے۔ رواں ہفتہ سے تین دن کا ناغہ کر دیا گیا۔ گھریلو‘ صنعتی اور کمرشل صارفین پہلے ہی پریشان تھے۔ اوپر سے نئے کمرشل اور صنعتی کنکشنوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایران کے ساتھ گیس کی فراہمی کا معاہدہ ہے۔ 
اُس طرف سے لائن بھی ڈال دی گئی ہے۔ ہمارے وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم کا کہنا ہے کہ ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر 6 ماہ میں کام شروع کر دیا جائےگا۔ 6 ماہ کیوں؟ آج ہی سے کیوں نہیں؟ 6 ماہ بعد کیا آپ امریکہ کے خوف سے نکل آئیں گے؟ انرجی کے بغیر آپ ایکسپورٹ تو کیا اپنی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتے۔ دنیا سے اگر کچھ مانگنا ہے تو امداد نہیں ٹیکنالوجی مانگیں‘ فنی تعلیم کے معاہدے کریں۔ جیساکہ شہباز شریف لندن میں کر رہے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ تھر کے کوئلے کو گیس اور ڈیزل میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کر لیا گیا ہے۔ اب اس پر توجہ مرکوز کر دی جائے اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو مبارکباد حاصل کرنے کے قابل بنا دیا جائے۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو بھی مت بھولیں۔ کشکول کو توڑ کر کرچی کرچی کردیں۔ دامن دریدہ کرلیں تاکہ اٹھانے اور پھیلانے کی حسرت و خواہش انگڑائی ہی نہ لے۔ اس حدیث مبارکہ کو نہ بھولیں کہ ”مانگنا ذلت ہے چاہے‘ اپنے سگے ماں باپ ہی سی کیوں نہ ہو“

Tuesday, July 5, 2011

ہمارے زریاب اور ان کا راگ

منگل ، 05 جولائی ، 2011


ہمارے زریاب اور ان کا راگ
فضل حسین اعوان 
رنگ و نور کے بحر میں ناﺅنوش اور رقص و سرود کی محفل جمی تھی۔ خلافتِ بغداد کے نامور موسیقار اسحٰق موصلی کے ہونہار شاگرد ابوالحسن علی ابن نافع المعروف زریاب کا وہاں سے گزر ہوا۔ کانوں میں نغمہ و ساز کی آواز پڑی تو یہ بھی شریک محفل ہو گیا۔ چند ثانیے بعد زریاب نے اپنے پہلو میں چھپایا ہوا آلہ ¿ موسیقی ”کانون“ نکالا۔ اس کی تاروں کو چھیڑا تو ایک ایک کرکے شمعِ محفل سمیت حاضرین زریاب کی جانب متوجہ ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد یہ جانِ محفل تھا۔ اس نے راگ بدلا تو محفل کا انداز ہی بدل گیا۔ محفل قہقہہ بار ہو گئی۔ لوگ ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ زریاب نے نیا راگ چھیڑا تو یکلخت قہقہہ زن چہروں پر پژمردگی آئی، مایوسی آئی پھر محفل آہوں اور سسکیوں میں ڈوبتے ہوئے ماتم کناں تھی، سب دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ زریاب کے پاس وہی کانون وہی تاریں وہی انگلیاں، صرف تاروں کو چھیڑنے کی طرز بدلی تو محفل پر سناٹا چھا گیا، اگلے لمحے سب سو گئے۔ زریاب نے ان کو مدہوشی اور بے ہوشی کے عالم میں چھوڑنے سے قبل دیوار پر کوئلے سے لکھ دیا ”یہاں زریاب آیا تھا اور تم لوگوں کو بیوقوف بنا کر چلا گیا“۔ زریاب غالباً ہارون رشید کے دور کے بعد سپین ہجرت کر گیا تھا۔ ہمارے سیاست دان بھی بڑے فنکار ہیں، بڑے راگ جانتے ہیں لیکن بجاتے ایک ہی ہیں۔ لوگوں کو رلانے اور ستانے والا، جسے یہ مسلسل بجائے اور سنائے جا رہے ہیں۔ رعایا کی حالت پر رحم نہیں آتا۔ ایک تھکتا ہے تو دوسرا کانون کو تھام لیتا ہے بالکل قانون کو ہاتھوں میں لینے کی طرح یہ فنکار ہنسانے والی دھن بھی بجاتے ہیں لیکن یارانِ خاص میں۔ آج کے حکمران کانون سازی سے تھکے نہیں لیکن خود کو ان کا متبادل سمجھنے والے کانون تھام لینے کیلئے مضطرب اور بے چین و بیقرار ہیں۔ میاں نواز شریف نے زرداری حکومت کی سو بیماریاں بیان کر کے اس کا علاج تجویز کیا ہے ”حکومت کو ہٹانے کیلئے وسیع تر اتحاد بننا چاہئے، ایم کیو ایم کو گرینڈ اپوزیشن میں خوش آمدید کہتے ہیں“۔اس میں شبہ کی کی کیا گنجائش ہے کہ ملک و قوم کو قعرِ مذلت، رسوائیوں کی جس پستی محرومیوں کی جس بستی میں موجودہ حکومت نے پھینکا ہے پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ میاں نواز شریف نے نیک نیتی سے اس کی حمایت کی لیکن تھوڑا سا چُوک گئے یہ نہ دیکھا کہ کس پر احسان کر رہے ہیں۔ بچھو کی فطرت بدلتی ہے نہ کچھوے کی عادت!حکومت کے زخم خوردہ انتقامی جذبہ کے تحت گرینڈ الائنس میں چلے تو آئیں گے لیکن یہ سیاسی طاقت بن سکتے ہیں نہ جمہوریت کی ڈھارس۔ یہ اشتعال اور ابال کے پٹاخے چلا سکتے ہیں ملک میں مزید بدامنی کی آگ پھیلا سکتے ہیں، حکومت کے کڑاکے نکال سکتے ہیں، پھٹے چُک سکتے ہیں، حکومت کے تختے الٹا سکتے ہیں تختہ نہیں الٹ سکتے۔ اے این پی اپنے مفادات کیلئے حکومت کے ساتھ چسپاں ہے، ق لیگ میاں صاحب کی انا کے باعث ایوانِ صدر کے گرد رقصاں ہے۔ آسان طریقہ اور نسخہ ق لیگ کو ساتھ ملا لینے میں ہے۔ مڈٹرم الیکشن کیلئے زور لگاتے لگاتے حریفین و فریقین آدھی چھوڑ کر پوری کے حصول کی کوشش میں اپنی آدھی آدھی سے بھی جائیں گے، پوری کوئی طالع آزما اچک لے گا۔ ان ہاﺅس تبدیلی جمہوری اور اصولی طریقہ ہے۔ مڈٹرم کی صورت میں آپ کے تخت حاصل کرنے کی کیا گارنٹی....؟ اگر آپ کامیاب بھی ٹھہرلنے والے چند ماہ بھی اتفاق سے نہیں نکال سکتے۔ حریفوں کی سازشوں اور حلیفوں کے ناز نخرے نہ اٹھانے پر یہ اسی کردار کیلئے مخالف کیمپ میں جانے سے مطلق گریز نہیں کریں گے۔ میاں نواز شریف کی سیاسی روداری کے باعث پیپلز پارٹی تو تین ساڑھے تین سال نکال گئی یہ ستم رسیدہ اور الائنس گزیدہ تو دو سال بھی مکمل نہیں کرنے دے گی۔وزیراعظم گیلانی نے حسب معمول ایک اور سنہری فلسفہ جھاڑا ہے کہ مڈٹرم کا دور گزر گیا‘ لوکل باڈیز کے الیکشن لڑیں اور نواز شریف اگلے الیکشن کی تیاری کریں، گویا اپنی اداﺅں پر پچھتاوا نہیں، راہ راست پر نہیں آنا۔ آپ وہ وجوہات ختم کریں جس کے باعث اپوزیشن مڈٹرم الیکشن کا واویلا کر رہی ہے۔ ہمارے سیاستدان نیلسن منڈیلا اور مہاتیر محمد کے کردار سے سبق حاصل کریں۔ ان کے عوام چاہتے تھے کہ وہ مزید اپنے نظریات سے مستفید کرتے رہیں لیکن وہ اپنے اپنے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرکے سیاست سے الگ ہو گئے۔ ہمارے ہاں عموماً حکمرانوں کو گریباں سے پکڑ کر ان سے نجات حاصل لی جاتی ہے۔



Saturday, July 2, 2011

3-7-2011................ او آئی سی سے جرات رندانہ کی امید








اتوار ، 03 جولائی ، 2011

او آئی سی سے جرات رندانہ کی امید
فضل حسین اعوان
57 اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی شجرِ بے برگ و بے ثمر بن کر رہ گئی۔ اس کی پژمردہ شاخوں سے کبھی شگوفے نہیں پھوٹے۔ ان شاخوں سے نمودار ہونے والی سوختہ کونپلیں شجر کی دائمی خزاں رسیدگی کی زباں بن کر دنیا پر اس کی حالت زار عیاں اور نمایاں کر دیتی ہیں۔ اس تنظیم کے کرتا دھرتا ممبر ممالک کے اجلاس بلاتے ہیں۔ کبھی اِس ملک ، کبھی اُس ملک، بڑے اہتمام اور انصرام کے ساتھ۔ مسلم اُمہ کے اہم ترین دو مسائل‘ دہکتا کشمیر اور شعلے اگلتا فلسطین ہےں۔ او آئی سی کا جنم 25 ستمبر 1969 کو ہوا۔ مذکورہ دونوں مسائل اس کی پیدائش سے بھی کم و بیش 20 سال قبل کے ہیں۔ ان پر پیشرفت تو کجا یہ مزید گھمبیر ہوتے چلے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُمہ کی تذلیل و تضحیک پر مبنی دیگر بہت سے سانحات و واقعات وقوع پذیر ہوئے، ان پر او آئی سی کا کردار محض گفتار کے غازی کا رہا۔ عراق نے ایران سے لڑائی کی، کویت پر چڑھائی کی۔ تینوں او آئی سی کے ممبر ہیں۔ اتنی بڑی اور اعلیٰ سطح کی تنظیم کے ہوتے ہوئے مسلم ممالک کے مابین جنگیں تنظیم کی غیر فعالیت کا ثبوت ہیں۔ امریکہ نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر صدر صدام حسین کو پھانسی چڑھا دیا۔ افغانستان کا تورا بورا بنا دیا۔ پاکستان پر ڈرون کی یلغار و بھرمار ہے لیبیا‘ افغانستان اور عراق کی طرح امریکی واس کے اتحادیوں کے غیظ و غضب کا شکار ہے۔ ایران پر غرا رہا ہے۔ شام کو دھمکا رہا ہے۔ شام میں مظاہرے ہوں تو حکومت پر الزام‘ بحرین میں ہوں تو مظاہرین پر دشنام‘ فلسطین اور کشمیر میں آزادی کی تحریکیں دہشت گردی، شمالی تیمور اور جنوبی سوڈان میں ایسی ہی نصرانی تحریکیں حریت پسندی‘ کیسا دہرا معیار اور دوغلی پالیسی ہے عالمی تھانیدار کی۔ اس کی یہ تھانیداری او۔آئی۔سی کی بزدلی کی وجہ سے قائم اور برقرار ہے۔ ایران کی مثال سامنے ہے۔اسے پابندیوں کی پروا ہے نہ دھمکیوں کی۔ اس کی بندوق کا رُخ اسرائیل کی طرف اور انگلی لبلبی پر ہے۔ ایران کے اسی ایکشن پر امریکہ اسرائیل اور اس کے حواری بدکتے اور دبکتے ہیں۔ 57 ممالک متحد ہو جائیں پاکستان کی صورت میں ایٹمی قوت ان کے پاس ہے۔ وسائل کی کمی ہے نہ کسی بھی شعبہ کے ماہرین اور افرادی قوت کی۔ کمی ہے تو صرف عزم، ارادے، حوصلے، جرا ¿ت، حکمت اور اتحاد و اتفاق کی۔ آئی سی اسلام دشمنوں کے لئے بے ضرر ثابت ہوئی ہے۔ اس کا یہی کردار عالم اسلام کےلئے حضرت رساں ہے۔ آج کل اسلامی ممالک کے ممبر اور مبصر آستانہ قازقستان میں اُمہ کےلئے درد دل کا اظہار کر رہے ہیں۔30جون کے اجلاس میں مسلم اُمہ کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کےلئے بڑے ”جرا ¿ت مندانہ“ فیصلے کئے گئے۔ ملاحظہ فرمائیے:۔
’‘’او آئی سی کے رکن ممالک نے اپنے 38ویں اجلاس میں کشمیر، فلسطین، لیبیا و شام کے مسائل حل کرنے کیلئے کمشن کا اعلان کر دیا تاکہ دنیا میں امن کے قیام اور انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق فراہم کئے جائیں۔ او آئی سی کے مسلم ممالک کے ممبران نے آستانہ میں ہونے والے اجلاس میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کرے جبکہ مسلم اُمہ کے اتحاد کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہمیں ایک طاقت بننا ہے، جس کا مقصد کسی کا مقابلہ نہیں بلکہ اپنے آپ کے حالات بہتر بنانے اور اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہے۔“ 63 سال سے ناسور بنے زخموں کا علاج اب او آئی سی کا مجوزہ کمشن تجویز کرے گا۔ مسئلہ کشمیر‘ کشمیریوں کےلئے حق خودارادیت کی حمایت کے اعادہ سے حل ہو جائے گا؟ مسلم امہ کے بھرپور طاقت بننے کی طرف پیشرفت کب ہو گی؟
اُمہ کے مسائل او آئی سی کے کرتا دھرتاﺅں کے انداز شاہانہ اور سخن گسترانہ سے نہیں، جرا ¿ت رندانہ‘ مردانگی اور اپنے مقصد کے حصول کیلئے دیوانگی سے حل ہوں گے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے او آئی سی بھارت کو اسی لہجے اور زبان میں سمجھائے جو سمجھتا ہے۔ ڈنڈے اور جوتے کی زبان۔ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی وارننگ اور ڈیڈ لائن دی جائے۔ جیسے امریکہ نے مشرف کو دی، قوم کےلئے شعلہ زن مشرف امریکہ کے سامنے راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ بھارت کو 57 اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم دھمکی دے گی تو بھارت راہ راست پر آ سکتا ہے۔ نہ مانے تو دھمکی پر عمل کر گزرے۔ یہی ایک حل ہے مسئلہ کشمیر کا! اس طریقے سے مسئلہ کشمیر حل ہو گا تو دنیا پر او آئی سی کی دھاک بیٹھے گی جس سے اسرائیل خود ہی راہ راست پر آ جائے گا۔