About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Monday, August 29, 2011

ایثار..............2011-8-28





ایثار














کراچی میں قیام امن کا آسان نسخہ وہاں کی سیاسی قوتوں کے 

اتمیں ہے۔ اپنے اپنے عسکری ونگ ختم کر دیں تو کراچی ایک دن میں امن کا گہوارہ اور پھر سے روشنیوں کا شہر بن سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ کراچی کے موجودہ حالات کی ذمہ دار پیپلز پارٹی، متحدہ اور اے این پی ہیں۔ میاں صاحب نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ یہ پارٹیاں خود بھی ایک دوسری کو کراچی میں قتل و غارت گری کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔۔ تینوں حکومت میں بھی ہیں لیکن ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔تمام قومیتوں پر مشتمل آبادی ایک ٹھوس حقیقت ہے۔ خونریزی جلاﺅ گھیراﺅ فائرنگ بم دھماکوں اور راکٹ باری سے کراچی مہاجروں سے خالی ہو گا نہ سندھیوں، پنجابیوں، پٹھانوں اور بلوچوں سے۔ البتہ کاروباری طبقہ اپنا سرمایہ دوسرے علاقوں یا ممالک ضرور منتقل کر رہا ہے۔ گزشتہ تین برس میں 25 ارب ڈالر بیرون ممالک منتقل ہو چکے ہیں۔ کراچی میں ایک طرف لسانی و نسلی فسادات دوسری طرف بدمعاشی و غنڈہ گردی نے بیروزگاری کے منحوس سائے پھیلا دیئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق چند سال سے یہ رجحان سامنے آیا ہے کہ حکومتی ذمہ دار سرمایہ کاروں کو بلاتے ہیں۔ ان سے کاروبار میں شراکت کا مطالبہ کیا جاتا ہے انکار پر ان کو باقیوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ حالات ایسے ہی رہے تو شہر میں بھوک ننگ اور قحط کا سماں ہو گا۔ لوگ ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑیں گے۔کوئی بھی گروہ پسپائی پر تیار نہیں۔ ایسے میں کوئی ایکشن ہونا چاہئے۔ کوئی کارروائی ہونی چاہئے۔ جو حکومت کی کمٹمنٹ اور عزم و ارادے کے بغیر ممکن نہیں۔ افسوس کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں کراچی کے حالات میں بہتری کے لئے ہر گز ہر گز کمٹڈ نہیں ہیں۔ بلا امتیاز آپریشن کی باتیں ضرور ہوتی ہیں لیکن عملاً ایسا ہو نہیں رہا۔ رینجرز کو مکمل اختیارات سونپنے کا اعلان کیا گیا۔ شرپسندوں کو گولی مارنے کی بھی اجازت دے دی گئی۔ اسی رینجرز کے لیاری میں داخل ہونے کے راستے مسدود کر دیئے گئے۔ کہا گیا رینجرز کو فری ہینڈ دے دیا گیا ہے۔ یہ فری ہینڈ نہیں۔ حکومت کے زیر سایہ پلنے والے بدمعاشوں اور سیکورٹی اداروں کو آپس میں لڑانے کی سازش ہے۔ حکمرانوں کی کراچی کو امن کے راستے پر لانے کی کمٹمنٹ کا اندازہ کیجئے۔ وزیراعظم گیلانی فرماتے ہیں ”کراچی میں 85ءسے نعشیں گر رہی ہیں، بُرے حالات نئی بات نہیں“۔ رحمن ملک کی سنیئے ”پنجاب میں بھی ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، صرف سندھ کا معاملہ اچھالا جاتا ہے“۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جنہوں نے کراچی کے حالات کا از خود نوٹس لے رکھا ہے، کہا ہے کہ وہ 29اگست کو کراچی میں عدالت لگائیں گے، اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی مضحکہ خیزی ملاحظہ فرمائیے ”چیف جسٹس کی کراچی آمد پر 12مئی 2007ءجیسا سانحہ رونما ہو سکتا ہے“ جہاں ایسی بے حسی ہو۔ اعلیٰ سطح پر ایسی سوچ اور بیان بازی ہو۔ وہاں اصلاحِ احوال کی کوئی توقع کی جا سکتی ہے؟ جاوید ہاشمی صاحب کی بھی مت ماری گئی ہے، فرماتے ہیں پنجاب میں پانی کے تنازع پر کراچی سے زیادہ افراد قتل کر دیئے جاتے ہیں۔

کراچی میں فوج کو بلانے کے مطالبات ہو رہے ہیں۔ ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلز پارٹی کا ایک بڑا حلقہ بھی کراچی میں قیام امن کے لئے فوج سے کردار ادا کرنے کو کہہ رہا ہے۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو فوج کو کراچی کے معاملات میں الجھانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں کراچی کے حالات کا ایک ہی حل ہے۔ جنرل کیانی 2008ءکے انتخابات جیسا طرز عمل اختیار کریں۔ ان میں صدر جنرل (ر) پرویز مشرف (ق) لیگ کو جتانے کےلئے اپنے ریفرنڈم جیسے نتائج برآمد کرنا چاہتے تھے۔ جنرل کیانی نے نہ صرف مشرف کا مہرہ بننے سے انکار کیا بلکہ شفاف انتخابات کے انعقاد کا بھی اہتمام کیا۔ حکومت نے رینجرز کو فری ہینڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جنرل کیانی رینجرز کے آپریشن میں سیاسی مداخلت ختم کرا دیں۔ بلا امتیاز اور غیر جانبدارانہ آپریشن کو یقینی بنا دیں۔ کوئی گروپ یا گروہ الزام یا دشنام دیتا ہے تو اسے خاطر میں نہ لائیں۔ رینجر کراچی کو امن کی راہ پر گامزن کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ رینجرز کےلئے فری ہینڈ کو حقیقتاً فری ہینڈ بنا دیا جائے۔ تمام معاملات درست سمت میں آ جائیں گے۔ لیکن یہ کراچی کے مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ جب تک معاملات رینجرز کے کنٹرول میں ہوں گے، امن رہے گا۔ رینجرز آخر کب تک سول آبادی میں بندوق اٹھائے گھومتے پھریں گے۔ مستقل حل ایک ہی ہے۔ لسانیت کے بتوں کو پاش پاش کرکے انسانیت کی سوچ اپنائی جائے‘ علاقائیت کو چھوڑ کر پاکستانیت کو فروغ دیا جائے۔ ایک دوسرے کےلئے برداشت اور تحمل کا جذبہ خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ ساتھ اگر ایثار بھی ہو جائے تو کراچی جنت نگار بن سکتا ہے۔

Thursday, August 25, 2011

پکار


جمعرات ، 25 اگست ، 2011


پکار
فضل حسین اعوان
آج کی حکومت اور حکومتی پارٹی میں ایک سے بڑھ کر ایک شیر پایا جاتا ہے لیکن ہر شیر کسی ببر شیر کے سامنے راکھ اور خاک کا ڈھیر ہے۔ ذوالفقار مرزا کراچی میں وزیر اعظم گیلانی کی موجودگی میں رحمن ملک پر دھاڑے۔ چند روز قبل رحمن ملک نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے وزیر اعظم کو ڈانٹ پلا دی تھی۔ وزیر اعظم گیلانی کا عدلیہ پر گرجنا اور اپوزیشن پر برسنا معمول ہے۔ صدر آصف علی زرداری عموماً خاموش رہتے ہیں لیکن جب لپکتے اور جھپٹتے ہیں تو اگلی پچھلی کسر نکال دیتے ہیں، ان کا شکار اپوزیشن ہی ہوتی ہے۔ جوش اور جذبات میں آپے سے باہر ہونے والے اپنی حدود، قیود اور اوقات سے باہر نہیں ہوتے۔ اس سے خوب واقف ہیں۔ یہی ان کی کامیابی کی کلید اور اقتدار کے ایوانوں میں موجود رہنے کا گُر ہے۔
بینظیر بھٹو وزیر اعظم ہوتیں تو ان کے کسی وزیر کو اونچا سانس لینے کی مجال ہوتی! اور پھر ان کی موجودگی میں ایک صوبائی وزیر مرکزی وزیر داخلہ کی ”لاہ پاہ“ کر دیتا؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن محترمہ ہوتیں تو یہ بابا وزیر داخلہ ہی کیوں ہوتا! آج وزیر اعظم اور وزرائے کرام حکومت نہیں، نوکری کر رہے ہیں۔ رحمن ملک گیلانی کابینہ کا حصہ ہے۔ درحقیقت یہ وزیر ہے کسی اور کا اسے پالتا کوئی اور ہے۔ سنا ہے گیلانی اور عبدالرحمن کی نہیں بنتی۔ لیکن اصلی دستِ اقتدارِ سے دونوں کی بنتی ہے۔ عام الیکشن اس سال ہوں، اگلے سال یا پارلیمنٹ کی آئینی مدت پوری ہونے پر۔ اگر پیپلز پارٹی جیتتی ہے تو گیلانی صاحب ہی وزیر اعظم ہوں گے۔ کیونکہ ان میں فاروق لغاری جیسا ایک بھی مائل بہ بغاوت جرثومہ نہیں پایا جاتا۔ گیلانی صاحب نے وزارت عظمیٰ کا مرتبہ پانے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے اپنی ہستی مٹا دی ہے۔ اب ان کی سوچ اپنی ہے نہ پالیسی اورنہ کارکردگی۔ رحمن ملک ان سے بڑھ کر اوصاف حمیدہ رکھتے ہیں۔ وزارت داخلہ کا قلمدان ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ وہ وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں۔ ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ اہل وطن کی سوچ سے بھی لمبے۔ جولائی 2008ءمیں وزیر اعظم گیلانی کے ساتھ امریکہ گئے بش ملاقات میں باتیں گیلانی سے کر رہے تھے تھپکیاں رحمن ملک کو دیتے رہے۔ پھر اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لئے بلاول، پارٹی رہنماﺅں کے ساتھ چین گئے، صدر بش بھی آئے ہوئے تھے۔ وفد کے ساتھ ملاقات میں صدر بش نے رحمن ملک کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ایک کونے میں جا کر راز داری کرتے رہے۔ پاکستان میں بلیک واٹر کی عدم موجودگی کی وہ امریکہ سے بڑھ کروکالت کرتے ہیں آج موجودہ حکومت میں سب سے زیادہ تنقید ان پر ہی ہوتی ہے۔ ان کی وزارت کی کارکردگی عیاں ہے۔ ان کی پارٹی کے صوبائی وزیران کو کراچی میں فساد کی جڑ سمجھتے ہیں لیکن وہ اپنے عہدے پر موجو د ہیں۔ لیکن انہوں نے کراچی میں براجمان رہنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مرزا صاحب بے شک دھاڑتے رہیں، زرداری صاحب بلا کر خواہ کچھ کہیں لیکن خبر چھپے گی تصویر کے ساتھ کہ جپھی ڈلوا دی ہے۔ یہ ہماری شامتِ اعمال ہے، کسی کی بدعاﺅں کا نتیجہ ، یا حکمرانوں کے کرموں کا پھل، قوم کا ستارہ گردش میں ہے۔ ہمیں ہر دکھ درد مصیبت اور عذاب کا سامنا ہے۔ جن پر مسائل کے حل کی ذمہ داری ہے وہ احساس و ادراک سے تہی ہیں۔ یہاں مشرقی پاکستان میں سینڈوپ (Sandwip) جزیرے کی تباہی کے واقعات سامنے آ کھڑے ہوئے۔ چٹاگانگ کے سینڈوپ ڈویژن میں 12نومبر1971ءکی رات سمندری طوفان نے تباہی مچا دی۔ لیکن سول ایڈمنسٹریشن نے مرکز یا فوج سے مدد طلب نہ کی۔ دو دن بعد پتہ چلا کہ سول ایڈمنسٹریشن پوری کی پوری ڈوب گئی تھی۔ مدد کے لئے پکارنے والے صفحہ ہستی سے مٹ چکے تھے۔ آج پاکستان میں بدامنی کی آگ میں جھلسنے، اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے اور کٹے اعضا سنبھالنے والے سسکتے بلکتے، روتے پیٹتے اور چیختے چلاتے انسان مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔ لیکن کوئی سن نہیں رہا۔ شاید عوامی جان و مال کے تحفظ کے ذمہ داروں کے ضمیر عیش و نشاط کے سمندر میں ڈوب کر مردہ ہو گئے ہیں۔ سینڈوپ ڈویژن کی سول ایڈمنسٹریشن کے طوفان میں مارے جانے کی طرح۔ وہ ایڈمنسٹریشن مدد کے لئے پکارنے کے قابل نہ رہی تھی، یہ پکار سننے سے قاصر ہیں۔


Sunday, August 21, 2011

نشان پاکستان اور بانیئ پاکستان



20-8-11























































 20 اگست ، 2011
نشانِ پاکستان اور بانی ¿پاکستان
فضل حسین اعوان 

 آمریت ہو یا جمہوریت ہمارے صاحبان اقتدار و ذی وقار، اختیاراتِ بے حصار کیلئے سرگرم رہے ہیں۔ پھر جن کو موقع ملا اختیارات سمیٹنے اور استعمال کرنے میں کسی نے بخل سے کام نہیں لیا۔ اگر یہ اختیارات ملکی اور قومی مفادات کیلئے استعمال ہوں تو بسم اللہ، دوسری صورت میں لعنت اللہ! قائداعظمؒ کے بعد فوجی اور جمہوری آمر آتے رہے۔ کالا باغ ڈیم نصف صدی کا قصہ ہے۔ کسی کو اس کی خشتِ اول رکھنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ اتفاق رائے کی بات ہوتی ہے، کیا باقی سب کام اتفاق رائے سے ہوئے؟ چار جرنیلوں کی مہم جوئی Consensus سے ہوئی؟ ایوب نے امریکہ کو بڈبیر اڈا اور مشرف نے امریکہ کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کیلئے ہوائی اڈے قومی و اتفاق رائے سے دیئے تھے؟ بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد اور ضیاءالحق نے اس کی تکمیل کیلئے Consensus کی ضرورت محسوس کی تھی؟ اگر ایسا کرتے تو کالا باغ ڈیم کے مخالفین ایٹمی پروگرام کی بھی مخالفت کرتے۔ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی جڑیں واشنگٹن، تل ابیب اور دلی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے کٹنے تک کالا باغ ڈیم کی تعمیر ناممکن ہے۔ آج اگر کوئی ان جڑوں کو کاٹ سکتا ہے تو صدر آصف علی زرداری ہیں۔ یہ کام وہ اپنی شیریں سخنی یا میٹھی آری سے بخوبی کر سکتے ہیں۔ آج ان کے پاس اختیارات کا بحرِ بیکراں ہے۔ یہاں تک کہ جس کو چاہیں خلعتِ فاخرہ عطا فرما دیں جسے چاہیں خلعتِ اکیس پارچہ پہنا دیں۔ ان کی حکومت نے یوم آزادی پر 185 اکابرین‘ عمائدین‘ معززین و حویدین کو اعزازات سے سرفراز فرمایا ہے۔ اکثر کے بارے میں عوامی سطح پر تحفظات ظاہر اور اعتراضات وارد ہو رہے ہیں۔ اعزازات واقعتاً اعلیٰ منفرد اور امتیازی کارکردگی کے حاملین کو ہی دیئے جاتے ہیں۔ اب جن کے نام یہ ہو چکے ہیں وہ خود احتسابی سے کام لیں، دیکھیں یہ واقعی اعزاز کے حقدار و سزاوار ہیں؟ اگر نہیں تو خود کو اس کا حقدار ثابت کرنے کیلئے جان لڑا دیں۔ قوم و ملک کیلئے کوئی عظیم کارنامہ انجام دینے کیلئے دن رات ایک کر دیں۔ پاکستان میں ہر شعبے میں نام پیدا کرنے کے بیشمار مواقع ہیں۔ 
ہمارے حکمرانوں نے کسی اور محاذ پر کچھ کیا یا نہیں کیا۔ ایوارڈز کے معاملے میں دریا دلی کا مظاہرہ ضرور کیا۔ ایسی فیاضی اور فراخدلی بھی دیکھنے میں آئی کہ قومی غیرت و حمیت تک شرما گئی۔ پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ پاکستان ہے جو اب تک 3 پاکستانی اور 79 غیر ملکی شخصیات کو دیا جا چکا ہے۔ ان میں بھارتی وزیراعظم مرار جی ڈیسائی اور مسلم ہندو کلچر کا ملغوبہ اداکار دلیپ کمار بھی شامل ہیں۔ مرار جی ڈیسائی کی ایک ”وجہ شہرت“ یورین تھراپی بھی تھے۔ وہ بڑے فخر و انبساط اور ذوق و شوق سے اپنا پیشاب پیا کرتے تھے۔ اس پر کوئی ایوارڈ اگر دیا جانا تھا تو ان کی حکومت یا کوئی عالمی ادارہ دیتا۔ اس نے کونسا کشمیر کی آزادی میں کوئی کردار ادا کیا تھا کہ پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز کا حقدارٹھہرا! دلیپ کمار پشاور میں پیدا ہوئے۔ یہ ایسا کارنامہ ہے جس میں اس کا اپنا کوئی کردار نہیں۔ ماں باپ نے نام یوسف خان رکھا وہ دلیپ کمار بن بیٹھا۔ اگر بھارت میں کسی کو ایوارڈ دینا ناگزیر تھا تو وہ محمد رفیع ہیں جنہوں نے خانہ¿ خدا اور روضہ¿ رسول پر حاضری کے بعد بھجن کی ریکارڈنگ نہ کرانے کا عہد کیا۔ اس پر لتا منگیشکر نے شدید ردعمل ظاہر کیا، جزبز، سیخ پا ہوئیں اور محمد رفیع کے ساتھ کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ الحاج محمد رفیع اپنے عہد پر تادم آخر قائم رہے۔
بھارت کا سب سے بڑا سول ایوارڈ ”بھارت رتن“ ہے جو اب تک 42 شخصیات کو دیا گیا جس میں صرف نیلسن منڈیلا اور سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان غیر ملکی ہیں جنہیں اس سے نوازا گیا، باقی تمام ایوارڈ بھارتیوں کو ملے۔ ان بھارتیوں میں 6 سربراہان مملکت، 6 وزرائے اعظم، 4 وزرائے اعلیٰ، 4 وزرائ، 6 سماجی و تحریک آزادی کے کارکن، 5 موسیقار، ادیب، سول انجینئر، ماہر طبیعات شامل ہیں۔ دوسری طرف پاکستان یا پاکستان سے باہر کسی سیاست دان، موسیقار، ماہر تعلیم یا ادیب کو اس قابل نہیں سمجھا گیا جسے یہ اعزاز دیا جاتا۔ یہاں چند ماہ قبل شائع ہونے والی بی بی سی کی چشم کشا رپورٹ کا حوالہ دینا بھی ضروری ہے جس میں بتایا گیا ہے ”نشان پاکستان سے صرف 3 پاکستانیوں سابق گورنر جنرل و وزیراعظم خواجہ ناظم الدین، نشان پاکستان کا اجراءکرنے والے سابق صدر سکندر مرزا اور ان کا تختہ الٹنے والے جنرل ایوب خان کو نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ بعد از مرگ دینے پر کوئی پابندی نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو پاکستان بنانے کے باوجود نشان پاکستان تو درکنار پرائیڈ آف پرفارمنس تک نہیں دیا گیا“۔!!








Wednesday, August 17, 2011

سانحہ بہاولپور۔ تحقیقات؟



17-8-2011
ISLAM ABAD


سانحہ بہاولپور۔ تحقیقات؟ 
فضل حسین اعوان
جنرل محمد ضیاءالحق نے جمہوری حکومت پر شب خون مارا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے عوامی مقبولیت کے حامل اور امریکہ کے دل میں کھٹکنے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے میں اپنا جرنیلی اور صدارتی کردار اور اختیار استعمال کیا۔ پھر وہ موقع بھی آیا کہ جنرل محمد ضیاءالحق بھی بہت سے معاملات میں ذوالفقار علی بھٹو کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہے تو امریکہ کے دل میں کانٹا بن گئے۔ جنرل ضیا کی فوج، سیاسی معاملات اور اپنے طرز کی غیر جماعتی جمہوریت پر مکمل گرفت تھی۔ اس لئے ضیاءالحق کو بھٹو جیسے انجام سے دوچار کرنے کے لئے امریکہ کو کوئی دوسرا ”ضیاءالحق“ نہ ملا تو اپنے ایک جرنیل اور سفیر کو صدر پاکستان کی معیت میں سی ون 130 میں سوار کرا کے مصیبت سے جان چھُڑا لی۔ 
جنرل ضیاءالحق کے جمہوریت کے قتل کے اقدام کی کوئی توجیح پیش کی جا سکتی ہے کوئی جواز نہ عذر۔ ان کا اقدام بطور فوجی ان کے حلف اور قسم کی صریح خلاف ورزی تھا۔ جنرل محمد ضیاءالحق کے اس اقدام سے جمہوریت ایسی ڈی ریل ہوئی کہ آج تک پٹڑی پر نہ چڑھ سکی۔ 4 جولائی 1977ءکو جمہوریت کا ”گھٹ بھرے“ جانے کے سبب ہی آج ملک میں افراتفری، لاقانونیت، بدامنی، عدم استحکام، کرپشن، اقربا پروری، مہنگائی بے روزگاری اور دیگر بہت سی آفات و بلیات کا دور دورہ ہے۔ جنرل ضیاءنے جمہوریت کے پودے کو شاخیں اور کونپلیں نکالتے ہی جڑ سے اکھاڑا اور مسل کر پھینک دیا۔ اس سب کے باوجود بھی جنرل ضیاءالحق کا 11 سالہ دور ایک حقیقت ہے۔ اس دور میں روس کو شکستِ فاش سے دوچار کر کے اس کے ٹوٹنے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ روس کا افغانستان میں قبرستان بنانے میں امریکہ، اس کی پالیسیوں، اسلحہ و ڈالروں نے اہم کردار ادا کیا لیکن جنرل ضیاءالحق نے اسے سر نہیں چڑھایا۔ امریکی براہِ راست مجاہدین لیڈروں سے رابطے رکھ سکتے تھے نہ ملاقاتیں کر سکتے تھے۔ ایک مرتبہ تو امریکی سفیر کی خیرآباد پل سے گاڑی جبری اسلام آباد کی طرف واپس کرا دی گئی۔ مشرف کی طرح ضیاءالحق اور آج کے جمہوری حکمرانوں کی طرح ذوالفقار علی بھٹو نے امریکہ کے سامنے کبھی بزدلی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ہنری کسنجر کا وہ خط راولپنڈی میں سرِ بازار لہرا دیا جس میں ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی صورت میں عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ جنرل ضیاءالحق امریکی خواہشات اور احکامات کے برعکس صدام کے مقابلے میں ایران کی مدد کرتے رہے۔ جنگ میں ایرانی پائلٹوں کو تربیت دی گئی۔ ایران کی انقلابی حکومت کو تسلیم کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام جس جوش و خروش سے شروع کیا تھا جنرل ضیاءالحق نے اپنے دور میں اسے مزید جانفشانی سے امریکہ کو چکر دے کر جاری رکھا۔ یہ پروگرام 1984ءکو پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ افغان وار کے باعث شاید امریکہ نے بھی چشم پوشی سے کام لیا ہو تاہم اس کی بارگاہ میں ایسے کام کرنے والے لوگ قابلِ معافی نہیں ہوتے۔ 
ذوالفقار علی بھٹو ضیاءالحق کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ صدرِ پاکستان آرمی چیف جنرل ضیاءالحق، مسلح افواج کے سربراہ اختر عبدالرحمن اور ساتھی کس کے ہاتھوں شہید ہوئے؟ سانحہ بہاولپور کے حقائق کیا تھے؟ یہ ہنوز اور بدستور ایک معمہ‘ اسرار اور راز ہے۔ فوج میں ایک گولی بھی گم ہو جائے تو کورٹ مارشل کی روایت ہے۔ جہاں 17 اگست 1988ءکو تقریباً پوری فوجی قیادت ختم کر دی گئی لیکن سربستہ راز سے پردہ نہیں اٹھایا گیا۔ پھر دو مرتبہ میاں نوازشریف پاکستان کے وزیراعظم بنے۔ ضیاءالحق نے ان کو اپنی عمر لگ جانے کی دعا دی تھی۔ وہ شاید قبول بھی ہو گئی۔ جنرل ضیاءالحق کے پوت اور اختر عبدالرحمن کے سپوت کئی بار انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ اعلیٰ عہدے ان کی گردپا بنے۔ لیکن کبھی اپنے باپ کے قاتلوں کی گرد تک نہ پہنچ سکے۔ والد کے قتل کا درد سا کوئی درد نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بھی تحقیقات کرانے کے ہزار جتن کئے لیکن یہ بے بس اور جن کے بس میں بہت تھا وہ بے حس ٹھہرے۔ کتنا طاقتور ہے قاتل جس کے سامنے اپنے صدر اور فوجی قیادت کے قتل کی تحقیقات کے لئے پوری ملکی مشینری مجبور‘ معذور اور اپاہج و لاچار ہے۔ شاید بھٹو، ضیاءالحق اور ساتھیوں کے انجام سے عبرت پکڑی ہو۔ بہرحال لوگوں کے دلوں میں کسی کے لئے محبت اور کسی کے لئے نفرت راسخ ہے۔ آج بھی کسی کے دل میں بھٹو اور کسی کے دل میں جنرل ضیاءالحق کی محبت اور عقیدت کے دیپ جل رہے ہیں۔ 

Sunday, August 14, 2011

ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟



 اتوار ، 14 اگست ، 2011




 اتوار ، 14 اگست ، 2011

ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟
فضل حسین اعوان 
آج ہماری آن بان، رفعت و حرمت، جاہ و حشم، منصب و منزلت، شان و شوکت، سب پاکستان کی مرہون منت ہے۔ بھارت میں پاکستان سے زیادہ مسلمان بستے ہیں۔ ان کا فاقوں سے مرن اور ہر نعمتِ خداوندی سے سرفراز اپنا بانکپن دیکھئے۔ ہم میں سے بہت سے شکوہ سنج رہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ ان کے ایک سوال کے جواب میں دو سوال ہیں۔ پاکستان نے ہمیں کیا نہیں دیا؟ اور ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟ پاکستان نے ہمیں پاکستانیت، ایک عظیم پہچان دی۔ آزادی کی نعمت سے ہمکنار کیا۔ عزت و آبرو دی اور سب سے بڑھ کر جان و مال کا تحفظ دیا۔ بھارت میں کتنے جج اور جرنیل مسلمان ہیں۔ کبھی کسی مسلمان کو آرمی، فضائیہ اور بحریہ کا چیف بنتے دیکھا یا سنا ہے؟ کتنے مسلمان انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔ ہمارے سابق وزرائے اعظم کا شمار قطار نہیں بھارت میں ایک بھی مسلمان وزیراعظم نہیں بنا۔ ابوالکلام آزاد کانگریس کے سربراہ اور عبدالکلام آزاد بھارت کے صدر ضرور بنے۔ کیا ان کی حیثیت اہمیت اور انفرادیت جناب آصف علی زرداری جیسے پارٹی سربراہ اور صدر مملکت جیسی رہی تھی؟ دونوں آزادوں کو ہندو کی غلامی کے باعث نمائشی عہدے دئیے گئے تھے۔ دنیا کو دکھانے اور جعل سازی سے باور کرانے کے لئے کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ دنیا کشمیر پر نظر دوڑائے یہاں سات لاکھ بھارتی سفاک سپاہ مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہا رہی ہیں۔ صرف 1990ءسے چالیس ہزار مسلمانوں کو قتل کر چکی ہے۔ جہاں اکابرین مسلم کی قبائیں محفوظ ہیں نہ کشمیر کی بیٹیوں کے آنچل، عبایائیں اور ردائیں۔ یہ کہنے والے ”پاکستان نے ہمیں کیا دیا“ ذرا غور فرمائیں، تصور میں لائیں بھارت میں ہوتے تو کوئی گجرات کے فسادات میں مر رہا ہوتا کوئی انتہا پسند متعصب اور روسیاہ ہندوﺅں کی لگائی آگ میں جل رہا ہوتا۔ آج جو لوگ ریلوے کی وزارت تک پہنچے، چیئرمین جی ایم بنے ڈائریکٹر لگے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی قلی ہوتا کوئی ٹی ٹی کوئی بوگیاں چمکانے اور کوئی انجنوں کو دھکا لگانے والا ہوتا۔ پاکستان کی بدولت جج اور جرنیل بننے والوں میں سے کئی ہرکارے اور اردلی ہوتے۔ کہاں ہوتے آج پاکستان کے بڑے بزنس مین، پہلے دوسرے تیسرے نمبر پر آنے والے امیر ترین؟
پاکستان یقیناً نظیر کمالِ جنت، تنویر جمال عظمت اور تصویر مثالِ رفعت ہے۔ پاکستان نے تو ہمیں سب کچھ دیا۔ اگر کچھ محرومیاں، بے انصافیاں، وبال و زوال مسائل اور مصائب ہیں تو وہ پاکستان کے دئیے ہوئے نہیں، پاکستان کی بدولت تختِ شاہی تک پہنچنے والوں کے دئیے ہوئے ہیں۔ جو خود کو منزہ عن الخطا سمجھتے ہیں۔ دراصل یہی وجہ ہر وبائ، ابتلا اور کرب و بلا ہیں۔ جو ہمارے ہی ہاتھوں کے تراشے ہوئے صنم ہیں۔ 
ہماری بدقسمتی ہے کہ حضرت قائداعظم سے زندگی اور ان کے بعد قائد کے جاں نشینوں نے ان کے مشن سے وفا نہ کی۔ قائداعظم چند سال مزید زندہ رہ جاتے یا ان کے ساتھی قائد کے نقشِ قدم پر چلتے تو پاکستان یقیناً قیام کے چند سال بعد ہی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو جاتا۔ بعد میں آنے والے قرض کرپشن دھن دولت سینتنے اور سمیٹنے میں ایسے مگن ہوئے کہ قوم و ملک کے لئے جبر، قہر اور جفا بن گئے۔ 
قیامِ پاکستان کی پہلی سالگرہ پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا تھا ”ہم نے سال بھر کے حوادث کا مقابلہ بڑے عزم و حوصلہ سے کیا ہے۔ دشمن کی کارروائیوں، بالخصوص مسلمانوں کو بحیثیت قوم ختم کرنے کی منظم سازشوں کے خلاف جو کامیابی ہم نے حاصل کی، وہ حیرت انگیز ہے.... اس نوزائیدہ مملکت کا پیدا ہوتے ہی دیگر طریقوں سے گلا گھونٹنے کی ناکام کوشش میں ہمارے دشمنوں کو یہ اُمید تھی کہ اُن کی دلی خواہشات اقتصادی چالبازیوں سے پوری ہو جائیں گی، پاکستان دیوالیہ ہو جائے گا اور دشمن کی آتش و شمشیر جو مقصد حاصل نہیں کر سکیں وہ مملکت پاکستان کی مالی تباہی سے حاصل ہو جائے گا لیکن ہماری برائی چاہنے والے نجومیوں کی تمام پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ہمارے پہلے ہی بجٹ میں تجارت کا توازن ہمارے حق میں تھا، بچت ہوئی اور اقتصادی میدان میں ترقی کا رجحان شروع ہوا“۔ قائداعظم نے جس عزم کا اظہار کیا تھا کیا ہم اس پر کاربند رہے؟ ان کی شروع کی ہوئی کامیابیوں کو اسی ٹریک پر اُسی سپیڈ کے ساتھ جاری رکھ سکے؟ نہیں باالکل نہیں!
قائداعظمؒ نے فروری 1948ءمیں افواج پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”ہم نے پاکستان کی آزادی کی جنگ جیت لی ہے مگر اُسے برقرار رکھنے کیلئے اور مضبوط و مستحکم بنیادوں پر قائم رکھنے کی سنگین ترین جنگ ابھی جاری ہے۔ اگر ہمیں ایک بڑی قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے تو اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہو گی کیونکہ فطرت کا اٹل قانون یہی ہے کہ برائے اصلاح، ہمیں خود کو اس نئی آزادی کا اہل ثابت کرنا ہو گا“۔ 
پاکستان کو مضبوط و مستحکم بنیادوں پر قائم رکھنے کے لئے قائد محترم نے جس سنگین جنگ کو جاری رکھنے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے پر زور دیا۔ وہ جنگ ہم ہار گئے۔ ہم نے سرینڈر کر دیا۔ پاکستان کے اس حصے کی حفاظت نہ کر سکے جہاں سے مسلم لیگ کے قیام کی صورت میں پاکستان کا خمیر اٹھا۔ پاکستان چونکہ مملکتِ خداداد ہے اس لئے قائم ہے اور انشاءاللہ تاقیامت رہے گا۔ ورنہ ہماری قیادتوں نے خواہ وہ جمہوریت کی گود میں پھلی پھولی ہوں، آمریت کی آغوش میں پلی بڑھی ہوں یا مجسم آمریت ہوں خود کو آزادی کا اہل ثابت نہیں کیا۔


Saturday, August 13, 2011

جہاںسورج غروب ہی نہیں ہوتا۔ وہاں صوم و صلٰوة؟


 ہفتہ ، 13 اگست ، 2011


جہاںسورج غروب ہی نہیں ہوتا۔ وہاں صوم و صلٰوة؟
فضل حسین اعوان ـ 13 گھنٹے 52 منٹ پہلے شائع کی گئی
دنیا چاند پر پہنچ گئی ہم ابھی تک جدید دور میں جدید ترین آلات کی موجودگی میں بھی چاند کی رویت پر متفق نہیں ہو سکے۔ ہر سال عیدالفطر کا چاند دیکھنے پر اختلافات ضرور سامنے آتے ہیں۔ جس کے باعث دو عیدیں تو ضرور ہوتی ہیں کبھی تین بھی ہو جاتی ہیں۔ جیسے گذشتہ سال 1431 ہجری بمطابق 2010ءکو ہوا۔ امسال تو رمضان کا آغاز بھی متنازع بنا دیا گیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں رویت کی شہادت پر رمضان المبارک کا آغاز پیر یکم اگست کو ہوا۔ جس روز چاند دیکھا گیا یہ شعبان کی 28 تھی۔ جن علاقوں سے چاند دیکھنے کی شہادتیں موصول ہوئیں وہ کراچی کی نسبت کہیں اونچائی پر واقع ہیں۔ ہم جس کو 28 شعبان سمجھتے ہیں ہو سکتا ہے دراصل اس روز شعبان کی 29 ہو۔ خیبر پختونخوا کے جن علاقوں میں پیر کو روزہ رکھا گیا وہاں کے علما نے شہادتوں کو معتبر قرار دیا تھا۔ ہماری مرکزی رویت ہلال کمیٹی عموماً خیبر پختونخوا سے ملنے والی شہادتوں کو رد کر دیتی ہے۔ وہاں کے علما تسلیم کر لیتے ہیں۔ عموماً صوبائی حکومت اپنے علما کا ساتھ دیتی ہے۔ پورے ملک میں خدا کرے اس سال عیدالفطر ایک ہی روز ہو۔ یہ اسی صورت ممکن جب خیر پختونخوا میں چاند ان کے حساب سے تیس کا اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے حساب سے 29 کا ہو۔ اکثر پاکستانیوں کی رائے ہے کہ یورپ کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہجری کیلنڈر سعودی عرب کے کیلنڈر کے مطابق ترتیب دیا جائے اس سے عید نہ صرف پاکستان میں ایک دن ہو گی بلکہ عالم اسلام میں عیدین سمیت اسلامی تہوار شبِ قدر، شبِ معراج، شبِ برات اور عید میلادالنبی ایک ہی دن ہوں گے۔ 
امریکی ریاست الاسکا کے مسلمانوں نے اپنے ہاں ماہ صیام اور صلوٰة کے حوالے سے مکہ سے فتویٰ حاصل کیا ہے۔ جہاں مئی سے جولائی تک سورج غروب نہیں ہوتا اور نومبر سے جنوری تک طلوع نہیں ہوتا۔ یہ لوگ سعودی اوقات کے مطابق سحر و افطار کرتے اور نمازوں کی ادائیگی میں مکہ مکرمہ کے اوقات نماز کی پیروی کرتے ہیں۔ جب رات انتہائی مختصر یعنی دن بہت ہی طویل 22، تئیس گھنٹے کا ہوتا ہے تو یہ یقیناً ان کے لئے آزمائش ہو گی۔ اس دوران وہ کیا کرتے ہیں یہ ان سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ان کو کیا کرنا چاہئے یہ ہمارے علما کرام بتا سکتے ہیں جو خود اب تک ایک عید کرنے پر متفق نہیں ہو سکے۔ تاہم 57 ہزار 6 سو کی آبادی والے ملک گرین لینڈ میں موجود واحد مسلمان وسام عزاقیر رمضان المبارک میں کیا کرتا ہے وہاں آج کل اگست میں رات صرف تین گھنٹے کی ہوتی ہے۔ وسام عزاقیر کے شب و روز کے بارے میں العربیہ ٹی وی چینل نے بڑی دلچسپ رپورٹ نشر کی ہے۔ 
”قطب شمالی کے یخ بستہ اور برفانی تودوں میں گھرے ملک ”گرین لینڈ“ کا رہائشی اکلوتا مسلمان اکیس گھنٹے طویل روزہ رکھ رہا ہے۔ ”گرین لینڈ“ میں کئی سال سے مقیم لبنانی نژاد وسام عزاقیر کو ”عرب کولمبس“ کا لقب دیا گیا ہے۔ اسے یہ لقب اس لیے دیا گیا ہے کہ وہ واحد عرب بالخصوص مسلمان شہری ہے جس نے طویل ترین سفر طے کر کے ”گرین لینڈ“ میں کاروبار شروع کیا۔ وسام عزاقیر گرین لینڈ کے دارالحکومت ”نوک“ میں مقیم ہے جہاں اس کا اپنا ایک ریستوران ہے۔ گرین لینڈ میں وسام کو نہ صرف اپنے آس پاس کوئی دوسرا مسلمان روزہ دار میسر نہیں بلکہ اس کے پاس افطاری و سحری کے درمیان کا وقفہ صرف چند منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا۔ ماہ اگست کے طویل ترین ایام کے دوران اسے اکیس گھنٹے کا روزہ رکھنا ہوتا ہے۔
دنیا کے ”منفرد روزہ دار“ نے ”العربیہ“ سے بات کرتے ہوئے گرین لینڈ میں پہلا مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہاں پہنچنے پر فخر کا اظہار کیا۔ عزاقیر کا کہنا ہے کہ اس نے گرین لینڈ کے صدر مقام ”نوک“ میں In "Drop" کے نام سے ایک ریستوران کھولا ہے، جہاں اس کے پاس روزانہ 200 سے زائد گاہک آتے ہیں۔ 
گرین لینڈ کے ”فاتح“ نے ”سفید جزیرے“ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہاں سردیوں کا موسم آٹھ ماہ تک جاری رہتا ہے۔ موسم سرما میں درجہ حرارت منفی 20 درجے سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ گرمیوں کا دن اگرچہ طویل ترین ہوتا ہے تاہم گرمی میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں آتی۔ اگست کے طویل ترین ایام میں بھی درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ بیس درجے سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں دن کے طویل اور رات کے مختصر ہونے سے نماز عشاء اور فجر کے درمیان بہت کم وقت رہ جاتا ہے۔ عموماً عشاءکی نماز 11:45 پر ادا کی جاتی ہے اور اس کے نصف گھنٹے کے بعد نماز فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے“۔ 
اکیس گھنٹے کا روزہ رکھنے سے وسام عزاقیر کو تو شاید زیادہ پریشانی نہیں لیکن ایسی ہی صورت حال سے دوچار دیگر مسلمان مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان کی مشکلات کا کیا حل ہے؟ کیا یہ بھی سارا پالن کے دیس الاسکا کے مسلمانوں کی طرح صوم و صلوة کے اوقات کار سعودی عرب کے مطابق متعین کر لیں۔ اس معاملے میں علمائے کرام اور دانشوران عظام اپنی رائے دے سکتے ہیں لیکن ٹھہرئیے یہ براہِ راست ہم سے متعلقہ مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ تو عیدالفطر ہے جو دو دو تین تین دن چلتی ہے۔ پہلے یہ حل کریں پھر عالمی امور پر رائے دیں۔