About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, December 29, 2011

صدر کا خطاب.... حسرتیں، نصیحتیں، وضاحتیں

جمعرات ، 29 دسمبر ، 2011

صدر کا خطاب.... حسرتیں، نصیحتیں، وضاحتیں....
فضل حسین اعوان ـ 
صدر آصف علی زرداری کا اپنی اہلیہ محترمہ کی برسی پر گزشتہ برسوں کے برعکس لہجہ دھیما تھا۔ وہ دھیرے انداز میں بھی بہت کچھ کہہ گئے، ان کے خطاب میں ”کاش عدلیہ میرے ماتحت ہوتی“ جیسی حسرتیں۔ ”بلوچ لڑائی ہم سے سیکھیں“ جیسی نصیحتیں۔ ”ٹیلر جمہوریت نہیں چلنے دیں گے“ جیسی قسمیں۔ ”جس سے چاہیں تجارت کریں گے“ جیسی دشمن سے محبتیں۔ جسٹس افتخار سے پوچھتا ہوں، بینظیر کیس کا کیا بنا، جیسے طعنے۔ سب کو دوست قرار دینے جیسی الفتیں ”میرا بھی مسل پُل ہوا“ جیسی شرارتیں، شامل تھیں۔ صدر صاحب کا کہنا کہ پاکستان نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم سب کے دوست ہیں، کسی کے دشمن نہیں، جس سے چاہیں گے کاروبار کریں گے.... بلاشبہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے، جس میں کوئی ملک اکیلا نہیں چل سکتا، مگر سب کے ساتھ یکساں دوستی ہو سکتی ہے، نہ سب کو مخالف بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن جس کے ساتھ دشمنی ہے، دشمنی کی وجوہات ختم کیے بغیر، اس سے دوستی ہونا تو درکنار، اس ے دشمنی بھی کم نہیں ہو سکتی۔ صدر صاحب نے فرمایا کہ جس سے چاہیں گے گیس لیں گے، صدر کے اس فرمان کا روئے سخن اگر امریکہ کی طرف ہے تو خوش آمدید۔ امریکہ یہی چاہتا ہے کہ پاکستان ایران سے گیس نہ لے، اس کی بجائے چھ ہزار کلو میٹر دور ترکمانستان سے لائن بچھا کر درآمد کرے۔ جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ایران سے معاہدے کے مطابق گیس کا حصول مہینوں نہیں دنوں کی بات ہے۔ سب سے دوستی کی بات شاید صدر نے نادانستگی میں یا سرسری انداز میںکر دی ہو۔ انہوں نے دوستوں کی صف میں بھارت کو شامل نہ کیا ہو۔ اگر وہ بھارت کو بھی دوستوں کی صف میں شمار کرتے ہیں تو صدر پاکستان کی طرف سے قوم کے ساتھ اس سے بڑھ کر ظلم نہیں ہو سکتا۔ ایک طرف آپ فوج کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر امریکہ کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں، تو دوسری طرف اسی امریکہ کے دباﺅ پر بھارت کو خطے میں تھانیدار بنانے کی پالیسیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ پوری دنیا سے تجارت کریں، کاروبار کریں، سوائے آپ کی نسلوں کے دشمن بھارت سے۔ اس وقت تک جب تک وہ پاکستان کی شہ رگ سے انگوٹھا اٹھا نہیں لیتا۔ خارجہ پالیسی کو مروجہ سیاست پر منطبق نہ کریں، جس میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔ یہاں قاتلوں کو اپنی طاقت بڑھانے یا کسی کو نیچا دکھانے کیلئے گلے لگا لیا جاتا ہے۔ ہندو لاکھوں مسلمانوں کا قاتل ہے، اس نے قتل و غارت گری کا سلسلہ ہنوز اور بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔
عجیب اتفاق ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے صدر زرداری اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ایک ہی سوال پوچھا ہے۔ جسٹس افتخار کہتے ہیں بینظیر بھٹو اتنی بڑی لیڈر تھیں، ان کے قتل کی اب تک کیا تحقیقات ہوئی۔ صدر صاحب کہتے ہیں چیف جسٹس سے پوچھتا ہوں، بینظیر کیس کا کیا بنا؟ چیف جسٹس کا سوال حکومت سے۔ صدر کا براہ راست چیف جسٹس سے ہے۔ محترمہ کا کیس روٹین میں چل رہا ہے۔محترمہ کے قتل کو پانچواں سال شروع ہو گیا، ان کے قتل کے تین ماہ کے اندر پیپلز پارٹی اقتدار میں آ گئی تھی۔ اس کا جتنا زور این آر او فیصلے سے راہ فرار اختیار کرنے اور استثنیٰ پر رہا، اس سے آدھا اپنی عظیم قائد کی تحقیقات پر ہوتا تو آج بینظیر بھٹو کے قاتل بے نقاب ہو چکے ہوتے۔ یہ کیس ابھی ابتدائی سٹیج خصوصی عدالت میں ہے۔ جسٹس افتخار کی عدالت میں پہنچنے تک کئی مراحل ہیں۔ وہ جواب تو تب دیں، جب کیس ان کی عدالت میں ہو، یہ کیس اسی سست روی سے آگے بڑھتا رہا تو ہو سکتا ہے فیصلے کے وقت نہ یہ حکومت ہو اور نہ ہی سپریم کورٹ میں افتخار محمد چودھری موجود ہوں۔ دونوں کی آئینی مدت 2013ءمیں ختم ہو رہی ہے۔
بینظیر قتل کیس میں مشرف اشتہاری ہیں، ان کو پاکستان لانا کس کی ذمہ داری ہے، کیا حکومت نے انٹر پول سے رابطہ کیا؟ صدر زرداری کہہ چکے ہیں، ان کو قاتلوں کا پتہ ہے۔ پھر نامزد کیوں نہیں کرتے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کہتے ہیں، قاتل پکڑ لیے ہیں، قیادت نے نام بتانے سے روک رکھا ہے۔ قتل کی سازش تیار کرنے والوں تک پہنچ چکے ہیں۔ وزیر اعظم گیلانی نے کل کہا کہ بینظیر قتل کیس کی تحقیقات مکمل لیں۔ زرداری خود کہتے ہیں قاتلوں کو جانتا ہوں، ایسا ہے تو ملبہ چیف جسٹس پر کیوں؟
خود پارٹی کے اندر سے پارٹی رہنماﺅں پر قتل کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہاں لمبی چوڑی بحث کے بجائے بینظیر بھٹو کے ڈرائیور کا بیان ملاحظہ کیجئے۔ یہ بی بی کا دوسرا ڈرائیور تھا، جو ان کے آگے گاڑی لے جا رہا تھا۔ اس گاڑی میں رحمن ملک اور بابر اعوان بیٹھے تھے۔ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ جب بلاسٹ ہوا تو رحمن ملک نے کہا، گاڑی دوڑاﺅ، ڈرائیور نے کہا، بی بی پچھلی گاڑی میں ہے۔ رحمن ملک نے کہا ”تمہیں جو کہہ رہا ہوں کرو، کچھ آگے جا کر گاڑی روک دی اور کہا بی بی کی گاڑی نظر نہیں آ رہی، رحمن ملک نے کہا میں تمہیں کہہ رہا ہوں، گاڑی بھگاﺅ، وہ گاڑی چلاتے ہوئے فیض آباد پہنچا تو گاڑی پھر روک دی تو اس پر ملک صاحب نے بہت سختی سے ڈانٹا کہ تم گاڑی چلاﺅ اور اسے زرداری ہاﺅس لے چلو۔ پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر شاہین کا کہنا ہے کہ بابر اعوان اور رحمن ملک نے بی بی کے ڈرائےور کو تھپڑ مارے۔رحمن ملک اور بابر اعوان بار بار کہتے ہیں، ہم موت سے نہیں ڈرتے، ہم شہادتوں سے نہیںگھبراتے، کیا ان کے کہنے کا مطلب ہوتا ہے کہ بھٹو خاندان موت اور شہادت سے نہیں ڈرتا۔ اگر یہ موت اور شہادت سے نہیں ڈرتے تو گاڑی بھگا کر کیوں لے گئے۔ ان کو تسلیم کرنا ہو گا کہ وہ جان بچا کر بھاگے تھے، نہیں تو پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں میں وزن ہے کہ محترمہ کے ساتھی بھی ان کے قتل میں ملوث تھے۔
آصف زرداری کی یہ حسرت کہ کاش عدالتیں ان کے ماتحت ہوتیں، ایسا ہوتا تو آج این آر او جائز ہوتا۔ سٹیل مل، ریلوے اور پی آئی اے بک چکے ہوتے۔ نواز شریف، شہباز شریف اندر، پنجاب میں پیپلز پا رٹی کی حکومت ہوتی۔ میمو اپنی موت مر گیا ہوتا۔

Sunday, December 25, 2011

قائداعظمؒ.... اور آج کا پارٹی بدل کلچر

 اتوار ، 25 دسمبر ، 2011





قائداعظمؒ.... اور آج کا پارٹی بدل کلچر
فضل حسین اعوان 
آج عمران خان کی سیاست کے ستارے کی چمک دمک کے سامنے دیگر سیاسی جماعتوں کے ستارے ماند پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔عمران کی سیاسی مسافت پندرہ سولہ سال تک کچھوے کی رفتار سے رینگتی رہی آج سگِ تازی کی طرح قلانچیں بھرتی برسوں کا سفر دنوں میں طے کر رہی ہے۔مروجہ سیاست کے شہسوار قطار اندر قطار ان کی پارٹی میںشامل ہورہے ہیں۔ وہ بھی جن کا بڑا نام ہے۔وہ بھی جن کا نام بدنام ہے۔ عمران کے دروازے سب پر کھلے ہیں۔ بلاشبہ گُڈ اور بیڈ گورننس کا انحصار اعلیٰ قیادت پر ہے جب اوپر صالح قیادت ہوگی تو نیچے تک کرپشن کے دروازے بڑی حد تک بند ہوجائیں گے۔ کرپٹ اور لوٹ مار میں شہرت رکھنے والے تحریک انصاف میں شامل ہوتے ہیں تو جہاں سیاسی حریفوں کو انگلی اٹھانے اور تنقید کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وہیں بعض غیر جانبدار سیاسی و غیر سیاسی حلقے بھی اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ عمران کا استدلال ہے کفار اور مشرکین اسلام قبول کرنے کے بعد راہِ راست پر آگئے تھے.... اچھی بات اور خوش کند امید ہے کہ کرپٹ سیاست دان عمران کے دامن سے وابستہ ہوکر اقتدار میں آئیں گے تو پکے مسلمان بن چکے ہوں گے۔ عمران خان کے دامن سے لپٹنے والوں کو لوٹے کا طعنہ بھی دیا جاتا اور مرغِ بادنما کہاجاتا ہے جو عمران خان کی مقبولیت دیکھ کر پارٹی بدل رہے ہیں۔ اس اعتراض کا توڑ عمران نے اس استدلالِ باکمال سے کیا کہ قائداعظم بھی پارٹیاں بدلتے رہے ۔یہ کوئی جرم نہیں، ایسی بات کوئی روایتی سیاستدان یا جعلی ڈگری ہولڈر پارلیمنٹرین کرتا تو اس کا قومی سطح پر شاید سخت نوٹس نہ لیاجاتا یہ بات چونکہ پاپولریٹی کی معراج کو چھونے جارہے لیڈر نے کی ،اس لئے اس پر اظہار افسوس کے ساتھ ساتھ شدید مذمت بھی کی جارہی ہے ۔ 
عمران کی سیاست کرکٹ کی مثالوں سے شروع ہوکر کرکٹ کی مثالوں پر ختم ہوتی ہے۔ کرکٹ ہی ان کی زندگی حاصل ہے۔انہوں نے تاریخ پڑھی ہوتی تو ایسی بات کبھی نہ کرتے۔بہت سے دیگر بھی اپنے جواز بلا جواز کو درست ثابت کرنے کیلئے تاریخ سے کمزور دلائل پر تکیہ کرتے ہیں۔بعض تو تاریخ کو مسخ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔جب عوامی نمائندوں کی جعلی ڈگریوں کا معاملہ چل رہا تو صدر زرداری صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم بھی گریجوایٹ نہیں تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ قائداعظم بیرسٹر تھے۔ گریجوایٹ نہیں تھے۔یہ ایسے ہی جیسے کہہ دیاجائے کہ وزیراعظم گیلانی نے ماسٹرز کیا ہے وہ گریجوایٹ نہیں ہیں۔
عمران خان قوم کو بتائیں کہ قائداعظم نے کتنی پارٹیاں بدلیں۔ وہ بیک وقت کانگریس اور مسلم لیگ کے رکن تھے۔ انہوں نے کانگریس کو خیر باد کہا اور ہمیشہ کیلئے مسلم لیگ کے ہوگئے اور پھر بانی پاکستان بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ آج ثابت یہ کیاجارہا ہے کہ باقی سب کاموں میں قائداعظم کے پیروکار ہیں ایک پارٹی تبدیل کرنے کا کام رہ گیا وہ بھی ان کی پیروی میں انجام دیاجارہا ہے۔ کہاں قائداعظم،کہاں یہ مفادپرست ہو ا کا رُخ دیکھ کر پارٹی پہ پارٹی بدلنے والے سیاست دان! چہ نسبت خاک رابا عالم پاک۔ مکے لہرا کر، چیخ چنگاڑ کر چڑیل کو پری ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ سبحان اللہ کیا استدلال ہے! کیا قائداعظم اسی طرح پارٹیاں بدلتے تھے جس طرح آج کے مداری اور بازی گر سیاستدان بدلتے ہیں۔آج تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں شمولیت کی وبا کی طرح ہوا چلی ہے۔ایک دوکی پارٹی بدل ترتیب ملاحظہ فرمائیے۔پیپلزپارٹی سے ن لیگ۔ن لیگ سے ق اور اب تحریک انصاف۔ پیپلز پارٹی سے ملت پارٹی، ملت سے ق اور اب تحریک انصاف۔ایسے تو بے شمار ہیں جو ن سے ق میں گئے۔گنگااشنان کیا اور اب پھر بہتی گنگا میںہاتھ دھونے کی خواہشوں کے چراغ جلائے نواز شریف کے ہاتھ پر بیعت کررہے ہیں۔اصولوں کی خاطر پارٹی بدل لینے میں شاید حرج نہ ہو لیکن اس اقدام کو درست ثابت کرنے کو قائد کی پیروی باور کرانا تاریخ مسخ کرنے کے مصداق ہے۔
عمران خان نے تو تاریخ سے لاعلمی کی بنیاد پر کہہ دیا کہ قائداعظم بھی پارٹیاں بدلتے رہے لیکن یہاںایک بے غیرت برگیڈ کے نام ایک طبقہ موجود ہے اپنے لئے بے غیرت برگیڈ کا نام اس طبقے نے خود چُنا ہے اس کا سرغنہ نظریہ پاکستان کی بڑی ڈھٹائی سے مخالفت کرتا ہے۔ وہ نظریہ پاکستان کو یحییٰ دور کی پیداوار قرار دیتا ہے۔اس کے شتونگڑے بھی نظریہ پاکستان اور بانی پاکستان پراتہام سے گریز نہیں کرتے بعض تو دشنام تک بھی چلے جاتے ہیں۔یہ قائد کو سیکولر اور اسلامی اقدار سے نابلد قرار دیتے ہیں۔ ایک نے تو گزشتہ دنوں قائد کے اُردو کو قومی زبان قرار دینے کوحماقت قرار دیا۔ وہ نہرو کو قائدسے بڑا جمہوری لیڈر کہتے ہیں۔اس65 سالہ خبطی کے ریمارکس پر علامہ ملک خادم حسین رضوی کا فون آیا وہ کہتے ہیں کہ ایسے دانشوروں کو گریبان سے پکڑ کر بھارتی سرحد پر کھڑا کرکے اُدھر دھکا دیدیاجائے۔ان صاحب نے ہی صوبہ سرحد حکومت کے خاتمے کے قائداعظم کے اقدام کو آمرانہ قرار دیا ہے۔ نوجوان نسل کے سامنے ایسی باتیں آتی ہیں تو نوجوان اپنے قائد کے کردار کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوجاتے ۔ بڑے بزرگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے ذہن کو خبث باطن رکھنے والوں کے بے ہودہ خیالات سے متاثر ہونے سے بچانے کیلئے جس اقدام کو موصوف نے آمرانہ قرار دیا وہ عین جمہوری تھا جسے واضح کرنے کیلئے آج کے دور میں تاریخ پاکستانی پر اتھارٹی مانے جانے والے ڈاکٹرصفدر محمود صاحب کی تحریر کا ایک اقتباس سارے شکوک وشہبات دور کردیتا ہے۔ البتہ میں نہ مانوں کی رٹ لگانیوالوں کے ذہن صرف قدرت ہی بدل سکتی ہے۔
” یہ ان دانشوروں کیلئے آمرانہ اقدام ہی ہے جو نہ اس فیصلے کے پس منظر اور سیاسی جواز سے آگاہی رکھتے ہیں نہ ہی قائد اعظم کی شخصیت کو سمجھتے ہیں جو سرتا پا آئین اور قانون کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی۔آمرانہ اقدام وہ ہوتا ہے جو آئین اور قانون سے ماوراءہو جبکہ صوبائی حکومت کا خاتمہ اس وقت کے آئین کے تحت گورنر جنرل کا اختیار تھا۔رہا سوال یہ کہ سرحد کی حکومت کے خاتمے کا جواز کیا تھا؟ صوبہ سرحد کی یہ اسمبلی 50ممبران پر مشتمل تھی۔1946ءکے انتخابات کے بعد30اراکین کی حمایت سے ڈاکٹر خان صاحب نے حکومت بنائی۔ عبدالغفار خان اور ان کے بھائی اور خاندان کٹر کانگریسی تھے۔انہوں نے ڈٹ کر مسلم لیگ اور قیام پاکستان کی مخالفت کی۔1947ءمیں صوبہ سرحد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے ریفرنڈم کروایا گیا۔اکثریتی عوام نے پاکستان کے حق میں ووٹ دئیے جو کہ دراصل مسلم لیگ کے حق میں ووٹ تھے۔ خود ابوالکلام آزاد ”انڈیا ونز فریڈم“ میں تسلیم کرتے ہیں کہ 1946ءکے انتخابات کے بعد صوبہ سرحد میں خان برادران کی سیاسی ساکھ اور مقبولیت تیزی سے تنزل پذیر ہوئی تھی جن 30ممبران کی خان حکومت کو حمایت حاصل تھی ان میں 12ممبران کا تعلق مذہبی اقلیت سے تھا کیونکہ صوبہ سرحد میں اگرچہ غیر مسلمان چھ فیصد تھے لیکن انہیں اسمبلی میں 24فیصد نمائندگی دی گئی تھی۔ باقی بارہ ممبران میں سے دو کا تعلق جمعیت علمائے ہند سے تھا۔خان برادران کی کانگریس نے 38 مسلمان نشستوں میں سے صرف 16 نشستیں جیتی تھیں۔
ریفرنڈم کے بعد سرحد میں کانگریسی حکومت کا اخلاقی و سیاسی جواز ختم ہوچکا تھا چنانچہ مسلم لیگ نے قیام پاکستان سے قبل ہی وائسرائے سے خان حکومت کے خاتمہ کا مطالبہ کیا۔وائسرائے کا کہنا تھا کہ انہیں اسمبلی میں اکثریت حمایت حاصل ہے۔پاکستان بنا تو ڈاکٹر خان صاحب کانگریسی وزارت نے پاکستان کا جھنڈا لہرانے کی تقریب میں شرکت سے انکار کردیا۔یہ تھی ان کی پاکستان سے محبت اور وفاداری؟ اس کے باوجود مرکزی حکومت نے کوئی تادیبی کارروائی نہ کی۔اسی دوران گیارہ اقلیتی اراکین اسمبلی ہندوستان ہجرت کرگئے جس سے خان صاحب کی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ جمعیت علمائے ہند کے دو اراکین اور دوسرے دو کانگریسی اراکین اسمبلی(میاں جعفر شاہ اور فقیراخان) پہلے ہی خان حکومت کی حمایت سے دستبردار ہوچکے تھے۔ان حالات میں جبکہ صوبہ سرحد کی کانگریسی حکومت اکثریت کی حمایت سے محروم ہوچکی تھی اور اس کی نوزائیدہ مملکت سے وفاداری بھی مشکوک تھی تو اس کی بقاءکا کون سا جواز باقی رہ گیا تھا؟ ظاہر ہے کہ قائداعظم کے اس اقدام کو وہی لوگ آمرانہ قرار دیں گے جو قائداعظم کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ بد قسمتی سے سیکولر اور دین بیزار عناصر نے قائداعظم اور پاکستا ن کی نظریاتی بنیاد کے خلاف مہم شروع کررکھی ہے۔مارچ1948ءمیں ڈھاکہ کے جلسہ عام میں قائداعظم نے ایسے ہی عناصر کے خلاف قوم کو ہوشیار کیا تھا جوبیرونی امداد لیکر قوم کی صفوں میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔قائداعظم نے 64 برس قبل ان کیلئے ففتھ کالمسٹ اور کمیونسٹ کے الفاظ استعمال کئے تھے جبکہ کچھ عرصے سے انہوں نے سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔“

Friday, December 23, 2011

قائد کے بارے نجس خیالات

 دسمبر, 22، 2011

قائد کے بارے نجس خیالات
فضل حسین اعوان ـ 
نجم سیٹھی کی چڑیا ان کو بہت کچھ بتاتی ہے لیکن سب کچھ نہیں۔ ”پہلے بات کو تولو پھر بولو“ یہ تربیت والدین، اساتذہ اور معاشرے کے صالح افراد کی صحبت سے ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ جہاں موصوف کی تربیت میں کہیں کمی رہ گئی تو وہیں انکی چڑیا بھی ان کو یہ نہیں بتاتی کہ کس بات سے وہ سرخرو ہونگے اور کونسی بات سے منہ کالا ہو گا۔ اگر یہ سب ہوتا تو وہ قائداعظم سے متعلق دریدہ دہنی نہ کرتے۔ صحافت کی دنیا میں خیر سے وہ 75 برس کے ہو گئے اس لئے شمار بزرگ صحافیوں میں ہوتا ہے۔ اگر وہ خود اپنی بزرگی کا ادراک نہیں کرتے تو کوئی دوسرا احساس کیوں کرے گا۔ جو شخص قائداعظم اور ان کے پاکستان کے خلاف منہ کھولے گا وہ محب وطن پاکستانیوں کے لئے ابو الکلام آزاد اور باچا خان کی طرح راندہ درگاہ ٹھہرے گا ۔ گزشتہ دنوں ایک پروگرام میں قائد اور ہندو لیڈروں کا تقابل کرتے ہوئے نجم سیٹھی کے خیالات کچھ یوں تھے ”قائداعظم کے خیالات آمرانہ تھے۔ نہرو جمہوریت پسند تھا، قائداعظم مرکزیت کے قائل نہیں تھے۔ انہوں نے گورنر جنرل اور آئین ساز اسمبلی کی چیئرمین شپ کے اختیارات اپنے پاس رکھے۔ وہ خود کو عقل کُل سمجھتے تھے اس لئے بغیر مشاورت کے فیصلے کر لیا کرتے تھے جبکہ نہرو مشاورت سے کام لیتا تھا۔“ جمہوری رویے کے حوالے سے سیٹھی صاحب نے نہرو کی شخصیت کو زیادہ اہم قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ آگے چل کر ان کا قائد کے حوالے سے تعصب اور خبثِ باطن واضح ہو جاتا ہے۔ ”ڈھاکہ میں قائد نے یکطرفہ اعلان کر دیا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی حالانکہ ملک میں بنگالی بولنے والوں کی اکثریت تھی۔ نجم سیٹھی نے اپنے الفاظ میں اسے حماقت قرار دیا ہے۔ 
ان حالات میں جب انگریز اور ہندو کا مسلمانوں کے بارے میں رویہ متعصبانہ تھا۔ ہندووں کے پاس گاندھی، نہرو اور پٹیل جیسے سیاسی و سازشی گرو موجود تھے، مقابلے میں صرف ایک محمد علی جناح تھا۔ قائداعظم کا ہر ساتھی ان کی طرح ہر قسم کا دباو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ قائد کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ مشاورت نہیں کرتے تھے ایک الزام ہے۔ وہ مشاورت ضرور کرتے تھے البتہ فیصلہ حالات و واقعات کے مطابق خود کرتے تھے۔ 6 نومبر 1946ءکو ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے قائد فرماتے ہیں‘ ” میں بھی انسان ہوں‘ مجھ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ہر شخص کو اختیار ہے کہ میرے کام کے بارے میں مشورے دے اور اس پر تنقید کرے۔“
قائد اپنے ساتھیوں کا اعتماد تو لے کر چلتے تھے لیکن ہر پالیسی ان کی رائے کا ماخذ نہیں ہوتی تھی۔ اگر قائد ساتھیوں کی رائے کے اسیر ہو جاتے تو پاکستان کبھی وجود میں نہ آ سکتا۔ پھر قائد کے ساتھیوں کی اہلیت کا اندازہ قائداعظم کی رحلت کے بعد ان کے ہاتھ معاملات آنے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اُس وقت قائد کی سطح کا علامہ اقبال جیسا ایک لیڈر بھی ہوتا تو قائد یقیناً اس کی رائے کو مقدم سمجھتے۔ افسوس قائد کی جیب میں جو بھی تھے کھوٹے سکے تھے اس لئے قائد کو بہت سے فیصلے خود کرنا پڑے اور بہت سے اختیارات اپنے پاس رکھنا پڑے۔ قائداعظم کا جن حالات میں انتقال ہوا اسے قتل قرار دیا جائے تو قائد کے خون کے چھینٹے اس وقت کی قیادت کے دامن پر ہی ہوں گے۔ نجم سیٹھی کو ایک گلہ یہ بھی ہے انڈیا نے ماونٹ بیٹن کو گورنر جنرل برقرار رکھا پاکستان میں قائداعظم اس عہدے پر براجمان ہو گئے۔ جب ہندوستان سے الگ ہو کر نئی ریاست وجود میں آ گئی تو اس کے معاملات بھی نئی قیادت کے ہاتھ میں آ جانے چاہئیں تھے۔ بھارت نیا ملک نہیں تھا وہاں پاور کی منتقلی (Trasition of Power) ضروری تھی۔ ایک الگ ریاست کے لئے نہیں۔ 
جہاں تک اردو زبان کو قومی زبان قرار دینے کی بات ہے تو اس پر مشرقی بنگال میں آوازیں تو اُٹھیں لیکن قائد کا راسخ موقف سامنے آنے پر خاموشی طاری ہو گئی۔ پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے میں ہندو بنگالیوں نے بنگالی زبان کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مسلمان بنگالی‘ ہندووں کے چکمے میں اس لئے آ گئے کہ اردو کی قائداعظم کی طرح کسی سیاسی رہنما نے وکالت نہ کی۔ مشرقی پاکستان کے لوگ قائد اور ان کے خاندان سے نہیں مغربی پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت سے نفرت کرتے تھے جنہوں نے اکثریتی آبادی کے صوبے کو بُری طرح نظر انداز کیا تھا۔ قائد نے اردو کو قومی زبان قیام پاکستان کے وقت قرار دیا تھا۔ اگر بنگالی اس اقدام پر ناخوش ہوتے تو وہ 1965 کے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کی مغربی پاکستان سے زیادہ پذیرائی نہ کرتے۔ 
نجم سیٹھی پاکستان کا کھاتے اور گُن کسی اور کے گاتے ہیں۔ جس کا نام امریکہ ہے جس کا غلام بھارت ہے۔ ہمیں ان کی طرف سے قائد کے حوالے سے لفظ ”حماقت“ استعمال کرنے پر انتہائی دکھ‘ افسوس ہوا اور اس پر شدید اعتراض ہے۔ وہ نجم ہیں خود کو نجم ثابت کریں۔ وہ ایسے نجس خیالات سے نوجوان نسل کا ذہن پراگندہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ایسی حرکتیں کرکے وہ خود کو ”نجس سیٹھی“ کیوں کہلانا چاہتے ہیں؟ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے یہ ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ وہ جس علاقے میں رہتے تھے وہ پاکستان کے حصے میں آیا اس لئے پاکستانی کہلائیے، ان کو پاکستان نے بہت کچھ دیا حتیٰ کہ قائداعظم کے پاکستان کے وزیر بھی رہے۔ ان کو اگر بااصول اور جمہوریت پسند لیڈر کہیں اور نظر آتے ہیں تو آج ان کے بس میں ہے کہ وہ وہاں جا بسیں۔!



Sunday, December 18, 2011

میمو۔ صدر، فوج اور امریکہ

اتوار ، 18 دسمبر ، 2011

میمو۔ صدر، فوج اور امریکہ
فضل حسین اعوان
منصور اعجاز جھوٹا،مکار،عیار،بد فطرت،بدطنیت،اسلام دشمن، پاکستان مخالف، بھارت و اسرائیل کا دوست،امریکہ کا شہری ووفادار،عبداللہ بن ابی جیسا منافق، عمر بن حشام سے بڑا جاہل اور ابو لہب کے درجے کا کافر ہے۔اس سب کے باوجود یہ حقیقت پوری دنیا پر آشکار ہوچکی ہے کہ جس شہرہ آفاق میمورنڈم سے ہماری حکومت کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ وہ منصور اعجاز نے ہی جنرل(ر) جیمز جونز کو ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کیلئے دیا تھا۔ جنرل جیمز نے پہلے تو ایسے کسی میمو کی وصولی کی تردید اور کچھ دن بعد تصدیق کردی۔اب سوائے صدر کے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت تمام فریقین جواب داخل کرادیا ہے جن کو سپریم کورٹ نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔ حکومت شروع دن سے اسے بے بنیاد اور جمہوری حکومت کیخلاف سازش قرار دے رہی ہے۔اب تو باقاعدہ مشتعل اور چراغ پابھی ہے۔ فوجیوں کے جمع کرائے گئے بیانات حکومتی موقف کے قطعی برعکس ہیں۔میمو سازش ہے یا پلاننگ۔ اس کا فیصلہ اب سپریم کورٹ کو کرنا ہے جس کے بارے میں وفاق کی رائے ہے کہ سپریم کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا اختیار ہی نہیں۔ اسے یہ اعتراض بھی ہے کہ نواز شریف یہ معاملہ سپریم کورٹ کیوں لے گئے؟ نواز شریف نے میمو سکینڈل کی گرد اُٹھتے ہی حکومت سے دس دن میں معاملے کی تہہ تک پہنچنے کیلئے کمشن تشکیل دینے کا پُر زور مطالبہ کیا تھا لیکن وہ تیسرے دن ہی سپریم کورٹ چلے گئے۔ وہ اپنے ہی ٹائم فریم کو لات مار کر عدالت کیوں گئے؟ اپنی عقل آزمانے پر یا کسی کے اُکساتے ہوئے میمو کے زور دار ہونے کی یقین دہانی کرانے پر ؟ ایک دو فریقوں کے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جوابات ملاحظہ کرنے سے صورت حال اظہر من الشمس ہوجاتی ہے۔
میمو کا ملبہ حکومت خود اپنے سرڈال رہی ہے۔سپریم کورٹ نے تعین یہ کرنا ہے کہ میمو لکھنے اور لکھوانے والا کون ہے؟ اگر یہ منصور اعجاز کی کارستانی ہے تو کسی بھی سطح کی تحقیقات پر حقانی کو اعتراض ہوناچاہئے نہ گیلانی اور ان کے باس کو۔ سپریم کورٹ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کابہترین فورم ہے لیکن میمو سکینڈل میں سپریم کورٹ کا نام آنے پر حکمران جماعت کے پر جلنے لگتے ہیں۔اس کا پورا زور پارلیمنٹ سے تحقیقات کرانے پر ہے۔اس نے قومی سلامتی کی کمیٹی کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپ دی۔ کمیٹی سربراہ رضا ربانی کے پاس معاملہ آیا تو انہوں نے کہا محرم کے بعد پیشرفت ہوگی سپریم کورٹ نے کارروائی شروع کی تو کمیٹی کی دُم کو بھی جیسے تیلی لگ گئی اس نے بھی محرم سے قبل ہی اجلاس طلب کرلیا۔اس کے بعد پھر خاموشی طاری ہوگئی۔اتنا بڑا کیس،یا حکومت کے بقول سازش اس کی تحقیقات ایسی پارلیمنٹ کے ارکان انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیسے کرسکتے ہے جس کے نصف ارکان جعلی ڈگری ہولڈر ہیں۔پھر ان ارکان کا ایسی تحقیقات کا کتنا تجربہ ہے؟ جس کیس میں صدر آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ جیسی با اثر اور با اختیار شخصیات کو طلب کیا جانا مقصود تھا کیا کمیٹی کے پاس ایسے لوگوں کی طلبی کے اختیارات ہیں؟ کوئی آتا نہ آتا۔کمیٹی کسی کو طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے؟ معاملہ استثنیٰ استثنیٰ کی راگنی پر گول ہوجانا تھا۔ سپریم کورٹ کے جج وسیع تر تجربہ اور کسی کو بھی طلب کرنے کے مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ صدر نے اب پھر استثنیٰ کی بات کی ہے۔جو این آر او فیصلے میں ختم ہوچکا ہے۔ بعید نہیں کہ 19ستمبر کو سپریم کورٹ صدر صاحب کو توہینِ عدالت کا مرتکب قرار دے دے۔ آئندہ چند مہینوں نہیں چند دنوں میں بہت کچھ ہونے والا ہے۔کسی کی مونچھ نیچی ہوگی کسی کی پگڑی اچھلے گی۔کسی کا تاجِ سلطانی چھنے گا کوئی اوندھے بل گرا ہوگا۔آج اپنے انجام کو دیکھ کر ہی بازو سر پر رکھ کر آہ وزاری ہورہی ہے۔ ہوسکتا ہے زرداری گیلانی کے پاﺅں میں کانٹا چبھتا تو تکلیف سے اتحادی دوہرے ہو ہوجاتے تھے اب وہ خاموش اور نئی منزل کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔امریکہ پاک فوج کی سبکی چاہتا ہے۔اس لئے کہ ہمارے نیو کلیئر اثاثے فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ وہی اس کی مکمل اور واحد محافظ ہے۔امریکہ کی نظر ان اثاثوں پر ہے ۔سیاسی قیادت شاید اب تک کرنل قذافی کی طرح سب اُٹھا کر امریکہ کے حوالے کرچکی ہوتی۔ ایسی سازشوں کی راہ میں فوج رکاوٹ ہے۔اسی لئے امریکہ کی ہٹ لسٹ پر ہے۔
پاک فوج امریکہ کو اس لئے بھی پسند نہیں کہ وہ مشرف کی طرح ہر معاملے پر اس کے سامنے سر نہیں جھکاتی۔ اس نے شمالی وزیرستان میں اپریشن کیلئے امریکی دباﺅ یکسر مسترد کردیا۔ پاکستانی قوم اور فوج یہ کس طرح برداشت کرسکتی ہے کہ امریکہ افغانستان میں 5اڈے قائم کرکے یہاں مستقل قیام کرلے اور ساتھ ہی بھارت کا کردار بھی افغانستان میں بڑھادے۔30ہزار بھارتی ٹرینز 3لاکھ افغان فوج کو تربیت دیں گے۔پاکستان میں تو 96امریکی ٹرینروں نے اودھم مچا رکھا تھا۔30ہزار بھارتی فوجی فاٹا اور بلوچستان میں کیا کچھ نہیں کریں گے! پاک فوجی امریکہ کی اس ساری منصوبہ بندی کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔
زرداری صاحب تو ایک بار وزیراعظم امریکہ کی مرضی کا لاناچاہتے تھے۔ حقانی کو پہلے قومی سلامتی کا مشیر پھر وزیراعظم بنانا مقصود تھا وہ اسی لئے امریکہ میں سارے پاپڑ بیلتے رہے۔ان کے نامہ اعمال میں سب سے بڑا جرم میمو نہیں ساڑھے سات سوامریکی غنڈوں کو ویزوں کا اجرا تھا جنہوں نے پاکستان آکر دہشت پھیلادی۔ حقانی نے اپنے قریبی حلقوں کو تین بار باور کرایا کہ وہ وزیراعظم بننے والے ہیں۔ ان کی وزارت عظمیٰ کے راستے میں بھی فوج دیوار بنی رہی۔حقانی وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھتے دیکھتے اب جیل میں چکی پیسنے کے خوف میں مبتلا ہیں۔ امریکہ کی دھمکی پر سیاسی قیادت کی ٹانگیں کانپتی اور ڈالروںکی جھلکی پر چہرہ تمتا اُٹھتا ہے لیکن وہ عسکری قیادت کے قومی مفادات پر مبنی موقف کے برعکس ظاہری طورپر کوئی بات نہیں کرسکتی۔ گویا پاک فوج امریکہ اور زرداری حکومت کی چھیڑ بن چکی ہے۔ فوج پر اب تک حکمرانوں کی کرپشن کے خاتمے کیلئے بھی دباﺅ رہا ہے۔فوج کی کوشش کے باوجود کرپشن کے حوالے سے سیاستدان کہیں بریک لگانے پر تیار نہیں ۔سپریم کورٹ کے فیصلوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے یہاں تک کہا گیا سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل ہماری لاشوں سے گزر کر ہوگا۔اس سب کے باوجود بھی مارشل لا کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں ہے۔میمو کیس میں اگر کوئی قصور وار نہ ہواتو اقتدار کے ایوانوں میں موجود حکمرانوں کے چہرے جگمگ جگمگ کرتے رہیں گے۔ اگر کوئی قصور وار ہوا تو بھی بہت بڑی تبدیلی اور جمہوریت تلپٹ نہیں ہوگی قصو ر وار چہرہ بدل جائیگا۔نئے چہرے کے ساتھ یہی ساتھی ہوں گے یہی اتحادی ہوں گے۔
٭٭٭

Friday, December 16, 2011

سقوط ِ مشرقی پاکستان کا انتقام باقی ہے

جمعۃالمبارک ، 16 دسمبر ، 2011

سقوط ِ مشرقی پاکستان کا انتقام باقی ہے
فضل حسین اعوان 
سقوطِ مشرقی پاکستان 16 دسمبر 1971ءکا سیاہ دن تاریخ میں ہماری ذلت کی داستان کے طور پر رقم ہوچکا ہے۔ اس دور میں زمامِ اقتدار فوج کے سپرد تھی۔ شرابی کبابی جرنیل اعظم نے اُمہ کے ماتھے پر ایسا بدنما داغ لگا دیا جو قیامت تک دھل سکتا ہے نہ مٹ سکتا ہے۔ کچھ جاگیرداروں کے اپنی جاگیروں سے محرومی کے خدشے اور اقتدار کے رسیا سیاستدانوں کی مشرقی بنگال میں لگائی ہوئی آگ یحییٰ خان اور اسکے حواریوں نے پٹرول سے بجھانے کی کوشش میں مزید بھڑکا دی جس سے وطن عزیز کا آدھا حصہ خاکستر ہوگیا۔ 1971ءمیں جرنیلوں کے ہاتھوں پاکستانی قوم اور اسلامی تاریخ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی ذلت کے سائے، دلدوز یادیں، درد اور کرب بدستور موجود ہے۔ اس روز قائداعظم کا خون جگر و دل دیکر بنایا ہوا پاکستان دولخت ہو گیا، 90 ہزار فوجی ازلی و ابدی دشمن کی قید میں چلے گئے۔شکست کھیل اور الیکشن کا لازمی جزو ہے۔ جنگ میں شکست کا تصور نہیں، جنگ صرف اور صرف فتح و نصرت کے لئے لڑی جاتی ہے طارق بن زیاد نے کشتیاں جلا کر درس دیا جنگ کا انجام فتح یا موت ہے، اس کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ شکست کی ذلت سے عزت و غیرت کی موت کہیں بہتر ہے۔ ہمیں اسلامی تاریخ کے سقوط یاد دلاتے اور باور کراتے ہیں کہ شکست تسلیم کرنے والوں کا انجام ہمیشہ دردناک اور عبرت ناک ہوا۔10 فروری 1258ء میں منگول سردار ہلاکو نے حملہ کرکے بغداد کو فتح کیا۔ شہر کو آگ لگا دی لاکھوں مسلمانوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ خون مسلم سے دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہو گیا۔ ہلاکو کے سامنے آخری عباسی خلیفہ المستعصم بااللہ کو پیش کیا گیا۔ خلیفہ فاقے سے تھا ہلاکو نے اس کے سامنے ہیرے جواہرات اور سونے کے زیورات پلیٹ میں رکھ کر کھانے کیلئے پیش کئے۔ خلیفہ نے کہا یہ میں کیسے کھا سکتا ہوں؟ ہلاکو نے طیش میں آکر کہاتو ان کو اکٹھا کرنے کے بجائے دشمن کے ساتھ لڑنے کا انتظام کیوں نہ کیا، ایسا کیا ہوتا تو آج یوں بے بس نہ ہوتا… اس کے ساتھ ہی اسے قالین میں لپیٹ کر زمین پر پھنکوایا اور اوپر سے گھوڑے دوڑا دئیے۔
2 جنوری 1492ءاسلامی تاریخ کا ایک اور شرمناک اور عبرت انگیز دن ہے۔ اس دن اَندلُس میں مسلمانوں کے 8 سو سالہ اقتدار کا سورج غروب ہوگیا۔ یہ دن مسلمانوں پر بھاری تھا۔ یہ سقوط اَندلُس کی پہلی شام تھی جو مسلمانوں کیلئے طویل ترین تاریک رات کا آغاز ثابت ہوئی۔ اس کی تاریکی اب تک نہیں چَھٹ سکی۔ اس شام پہلی بار مسجدوں سے مغرب کی اذان سنائی نہیں دی۔ اس کے بجائے ہر طرف مسلمانوں کی چیخ پکار سنائی دیتی تھی۔ بے لباس خواتین عزتیں بچانے کیلئے بھاگ رہی تھیں لیکن کہاں جاتیں، بے غیرتی کی انتہا کہ غرناطہ کے حکمران ابو عبداللہ بابِ دل معاہدے کے تحت شہر کی چابیاں ملکہ ازابیلا اور شہنشاہ فرڈی ننڈس کو پیش کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اپنی ذلالت و زذالت کا اہتمام بڑی شان و شوکت سے کیا جا رہا تھا۔ اس تقریب میں شرکت کیلئے ابو عبداللہ اور شاہی خاندان کے دیگر افراد اور امرا زرق برق لباس زیب تن کئے ہوئے تھے۔ ان کے زرہ بکتر سونے چاندی کی لڑیوں سے چمک دمک رہے تھے۔ پھر ہمارے سامنے سقوط مشرقی پاکستان کی حقیقت ہے جس نے اسلامی تاریخ کو گہنا دیا۔ غرناطہ کی چابیاں ابو عبداللہ نے دشمن کے حوالے کیں تو اس کے ہم نام امیر عبداللہ نے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کا آدھا حصہ ہندوستان کے حوالے کر دیا۔ وہی ہندوستان جو مسلمانوں کا ہزار سال غلام رہا تھا۔ ہمارے امیر عبد اللہ ملی بے حمیتی اور اخلاقی پستی میں ابو عبداللہ سے بھی چند قدم آگے نکل گئے۔ کلف لگی وردی اور سبزکلغی میں اروڑہ کا استقبال کرنے ائر پورٹ گئے۔ اجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے بڑے تفاخر سے سرنڈر کیا۔ اس سے قبل دستاویزات کی تیاری کیلئے اروڑہ کا نمائندہ آیا تو اس کو فحش لطیفے سناتے اور خوش گپیاں کرتے رہے۔ ابو عبداللہ کے تو سقوط غرناطہ کے بعد آنسو بہہ نکلے تھے جنرل امیر عبداللہ نیازی کو پوری زندگی اُمہ کی عزت و آبرو مکار دشمن کے سامنے گروی رکھنے کا افسوس نہ ہوا بلکہ کہتے رہے 90 ہزار فوجیوں کو زندہ سلامت نکال لایا ہوں۔ جنرل نیازی بھارتی جنرل کو اپنا پستول پیش کر رہے تھے تو ایک بنگالی نے ان کے سر پر جوتے مارتے ہوئے کہا اگر تم میں غیرت ہوتی تو مر جاتے، اپنے دشمن کے سامنے ہتھیار نہ پھینکتے۔ کاش یہ بنگالی جنرل نیازی کو گولی مار دیتا، جنرل نیازی ہتھیار پھینکنے کا جواز یہ پیش کیا کرتے تھے کہ ”حاکم وقت کا حکم تھا اسلام میں امیر کی اطاعت واجب ہے تاریخ میں امیر کی حکم عدولی کی مثال نہیں ملتی۔“ بات غیرت کی ہے۔ ان میں غیرت ہوتی تو تاریخ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ 
جنرل انامی کورے چیکا جاپان کا وزیر جنگ تھا جس نے امریکہ کے سامنے سرنڈر کی بھرپور مخالفت کی۔ امریکہ نے جاپان کو ایک اور ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے رکھی تھی، بادشاہ نے جرنیلوں کی جنگ جاری رکھنے کی تجویز سے اتفاق نہ کیا اور اپنے طور پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ جنرل کورے چیکا کو اس کے ہم خیالوں نے جنگ کے خلاف ووٹ دینے یا مستعفی ہونے کا مشورہ دیا، اس سے انامی کورے چیکا نے اتفاق نہ کیا۔ اس نے اپنے کزن سے اس موقع پر کہا ”ایک جاپانی سپاہی ہونے کے ناطے شہنشاہ کی اطاعت مجھ پر واجب ہے“.... 14 اگست 1945ءکو انامی کورے چیکا نے کابینہ کے اجلاس میں سرنڈر کی دستاویزات پر دستخط کر دیے۔ ایسا موقع جنرل نیازی پر بھی آیا لیکن جو کچھ اس کے بعد انامی نے کیا نیازی وہ نہ کر سکا۔ سرنڈر کی دستاویزات پر دستخط کرنے کے اگلے روز جنرل انامی نے خودکشی کر لی۔ جنرل انامی کورے چیکا نے اپنے لئے باوقار موت کا انتخاب کیا۔ کاش جنرل نیازی ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دیتے۔”جو ہوا سو ہوا“ یہ کہہ کر ہم 71ءکے سانحہ کو بھول نہیں سکتے۔ اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہندو بنئے سے انتقام بھی ہم پر فرضِ عین کی حقیقت رکھتا ہے۔ اُس وقت ہماری پالیسیوں اور بے بصیرتی نے بنگالیوں کو ہم سے متنفر کیا اور اپنی مکتی باہنی کے ذریعے بنگلہ دیش بنایا۔ آج ہم امریکی جنگ میں کود کر قبائلیوں کو ناراض کر رہے ہیں۔ ایک طرف امریکہ ہمارا اتحادی دوسری طرف بلوچستان میں اسکا کردار مکتی باہنی جیسا ہے۔ 24 پاکستانیوں کی شہادت سے عسکری قیادت نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے سخت موقف اپنایا، اسی پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ سے شمسی ائربیس خالی کرا لیا گیا، باقی تنصیبات سے بھی اسکو لاتعلق کر دیا جائے۔ سیاسی و عسکری قیادت کے امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد جہاں ڈرون حملے بند ہوئے وہیں عسکریت پسندوں کی کارروائیاں بھی رک گئی ہیں۔ بنگالی تو فوج کی بات سُنتے تھے نہ انتظامیہ کی۔ عسکریت پسند خود مذاکرات کی میز پر آنا چاہتے ہیں۔ آج انکو اعتماد میں لینے اور امریکہ سے جان چھڑانے کا بہترین موقع ہے جو کسی لالچ، دھونس اور دباﺅ کے باعث ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارا اصلی، ازلی و ابدی دشمن بھارت ہے جو مشرقی پاکستان کی طرح پاکستان میں ایک اور سقوط کیلئے سرگرم ہے۔ نہ صرف اسکی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے بچنا ہے بلکہ اس سے کشمیر کو آزاد کرانا، سیاچن کا قبضہ چھڑانا اور پاکستان کا ایک بازو کاٹ ڈالنے کا انتقام بھی لینا ہے۔ یہ ناممکن نہیں، قوم کو صالح قیادت مل جائے تو سب ممکن ہے۔

Thursday, December 15, 2011

! معافی غلطی کی ہوتی ہے بدمعاشی کی نہیں

15-12-2011


!معافی غلطی کی ہوتی ہے بدمعاشی کی نہیں
فضل حسین اعوان 
پہلی جنگ عظیم پولینڈ کے شہزادے فرڈی ننڈ کے قتل کے باعث شروع ہوئی جس مےں تین کروڑ انسان زندگی یا زندگی کی رعنائیوں سے محروم ہوگئے۔ غیرت مند قومیں اپنی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے لئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لانے سے گریز اور دریغ نہیں کرتیں۔ پاکستانی قوم بھی ایک غیرت مند اور خوددار قوم ہے لیکن اس کی تقدیر کے فیصلے ایسے لوگوں کے ہاتھ مےں ہےں جو مال، دولت و دنیا اور زر و جواہر کو ہی اپنی دنیا و عاقبت سمجھ رہے ہےں۔ مشرف دور سے اب تک کے حکمرانوں کی امریکی غلامی پر قوم تلملا رہی ہے، جس کی حکمرانوں کو کوئی پروا نہیں۔ 25 اور 26 نومبر کی شب امریکیوں نے سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کر کے 24 پاکستانی فوجیوں کو شہید کیا تو پاک فوج کی طرف سے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ فوری طور پر نیٹو سپلائی بند کر دی گئی اور شمسی ایئربیس خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا جو 11 دسمبر کو خالی کر دیا گیا، لیکن یہ سب کافی نہیں ہے۔ نیٹو کو سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی جرات اس لئے ہوئی کہ گذشتہ سال اس نے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کر کے دو پاکستانی فوجی شہید کر دیئے تھے جس پر پاکستان کی طرف سے احتجاج ہوا اور نیٹو سپلائی روک دی گئی، پھر جلد معاملات معمول پر آئے اور سپلائی کھل گئی۔ پاک فوج نے جو موقف آج اپنایا وہ اس وقت اپنایا ہوتا تو مہمند مےں یہ سانحہ ہوتا نہ ڈرون حملوں مےں سینکڑوں بے گناہ پاکستانی مرتے۔ گذشتہ سال کا المیہ شاید غلط فہمی کی بنا پر ہوا ہو لیکن 25 نومبر والے حملہ مےں غلطی اور غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ فوج بار بار کہہ رہی ہے کہ نیٹو کا حملہ ارادی تھی، ڈی جی ملٹری آپریشنز میجر جنرل خورشید ندیم نے کابینہ کے اجلاس اور مسلح افواج کے کمانڈر جنرل خالد شمیم وائیں نے سفیروں کے اجلاس میں پاک فوج کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ حادثہ تھا نہ غیر ارادی فعل بلکہ یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ 
پاک فوج کو امریکہ کے ارادی حملے کا اس حد تک یقین ہے تو امریکہ کے ساتھ تعلقات مےں جزوی کیوں؟ مکمل لاتعلقی کیوں نہیں؟.... بعض حلقے تو خون کے بدلے خون کا مطالبہ کر رہے ہےں۔ وہ ممکن نہیں تو کم از کم امریکہ اور اس کی جنگ سے نجات تو حاصل کی جا سکتی ہے۔ معافی غلطی کی ہے بدمعاشی کی نہیں۔ امریکہ تو بدمعاشی پر بھی معافی مانگنے کو تیار نہیں۔ ایک طرف پاک فوج نے سخت موقف اپنا رکھا ہے تو دوسری طرف سیاسی قیادت کی ٹانگیں کانپ رہی ہےں۔ زبان سے نکلی باتیں دل کا ساتھ نہیں دے رہیں۔ وزیر دفاع نے سانحہ کے ایک دو روز بعد کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے معافی مانگنے تک سپلائی بحال نہیں ہوگی۔ میاں نواز شریف کا موقف بھی یہی ہے۔ وزیراعظم گیلانی صاحب نے دو روز قبل فرمایا سپلائی جلد بحال ہونے کا امکان نہیں۔ کل سفیروں کی کانفرنس مےں فرمایا کئی پریشان کن سوال سامنے آئے ہےں جن کا امریکہ اور نیٹو سے مکمل جواب چاہتے ہےں۔ دوسری طرف امریکہ نے پہلے تو معافی مانگنے سے انکار کیا لیکن عسکری قیادت کے سخت موقف کے باعث اب کہا جا رہا ہے کہ سینٹ کام کمیٹی کی تحقیقات کے بعد معافی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ہماری سیاسی قیادت کے رویے مےں لچک کو بھانپتے ہوئے امریکہ سپلائی کی بحالی کےلئے معافی بھی مانگ لے گا‘ کیا ایسے بھیانک اقدام پر معافی دی جا سکتی ہے؟ معافی غلطی کی ہوتی ہے ارادی اقدام کی نہیں۔ ارادی اقدام کی سزا ہوتی ہے۔ سزا کا فیصلہ کرنے کیلئے حملہ کرنے اور کروانے والے پاکستان کے حوالے کئے جائیں۔ افغانستان مےں اتحادی فوجوں کے کمانڈر جنرل ایلن نے کہا ہے کہ مہمند ایجنسی جیسی کارروائی کا اعادہ ہو سکتا ہے۔ گو پاک فوج نے افغان سرحد پر دفاعی سسٹم مضبوط بنا کر وہاں تعینات دستوں کو جارحیت کا جواب دینے کی اجازت دے دی لیکن جنرل ایلن کے بیان سے امریکیوں کی رعونت اور پاکستان کو کمتر سمجھنے کی ذہنیت واضح ہوگئی ہے۔ وزیراعظم گیلانی کا سفیروں کی کانفرنس کے دوران کہنا انتہائی شرمناک ہے ”قومی اور ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ملکی خودمختاری کی پامالی ہر گز قابل قبول نہیں۔“ کل تک جو ڈرون حملے ہوتے رہے کیا وہ ملکی خودمختاری کی پامالی نہیں تھی۔ حکمران کس منہ سے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے رہے! یہ تو اڑتے ہی پاکستان کی حدود سے تھے۔ شمسی ائربیس کی حفاظت کون کرتا تھا؟ تاریخ مےں غداروں کی فہرست بنے گی تو ڈرون حملوں کی اجازت دینے والوں کا نام بھی اس مےں شامل ہوگا۔ ڈرون حملوں مےں تین ہزار کے لگ بھگ لوگ مارے گئے جن مےں 97 فیصد بے گناہ تھے۔ ان کا خون امریکہ کے ساتھ ساتھ ان ذمہ داروں کے سر بھی ہے جو ان کی اجازت دیتے رہے۔ اب عسکری حکام نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ہر قسم کے طیارے کو مار گرانے کا حکم دے دیا ہے۔ ضرورت ان احکامات پر کاربند رہنے کی بھی ہے۔ اب کوئی مصلحت کوئی لالچ آڑے نہ آئے۔ اس کے ساتھ آج امریکہ کی جنگ سے نکلنے کا بہترین موقع ہے۔ افغان جنگ کے حوالے سے امریکہ اور نیٹو کو دی گئی تمام سہولتیں اور تعاون واپس لے لینا چاہئے۔



Sunday, December 11, 2011

زرداری یاروں کا یار

 دسمبر ,11، 2011

زرداری یاروں کا یار!
فضل حسین اعوان 
آصف علی زرداری کے حوالے سے پھیلنے والی یا پھیلائی گئی افواہوں نے عام آدمی کے دماغ کو گھما کے رکھ دیا۔ بندہ کس کی سنے کس کی نہ سنے۔ کس کی بات کو مانے کس کی بات کو رَد کر ے، کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔ وزیر اعظم سمیت اہم حکومتی بزرجمہر ان افواہوں پر شدید ردّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے وضاحتیں کرتے رہے لیکن یہ وضاحتیں بھی مزید افواہوں کی شکل دھارتی رہیں۔ افواہ سازوں نے جرمن کے گوئبلز اور یونان کے مسٹر پروپیگنڈہ کو بھی مات دے دی۔ سوال یہ ہے کہ افواہوں کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ ابتداءبلاول بھٹو کے ماموﺅں نے کی۔ کسی نے کہا صدر صاحب کو دل کی معمولی تکلیف ہوئی تھی۔ کوئی گویا ہوا وہ معمول کے چیک اَپ کے لئے گئے ہیں۔ کسی نے گلفشانی کی کہ بچوں کو ملنے گئے ہیں۔ کسی نے انکشاف کیا کہ ان کی انجیوپلاسٹی ہوئی ہے۔ کسی نے بتایا دو دن میں واپس آئیں گے، کوئی بولا ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد واپسی ہو گی۔ گویا جتنے ماموں اتنی باتیں۔ ہر کوئی خود کو صدر زرداری کے قریب ترین ہونے کا تاثر دیتے ہوئے خود کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کر رہا تھا۔ 
زرداری صاحب کے حوالے سے کچھ بھی کہنے کی ذمہ داری ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کی ہونی چاہیے۔ خوابیدہ ترجمان نے پہلے زرداری صاحب کے دبئی روانگی کی تردید کی، پھر تصدیق کر دی۔ حکومتی زعما اور پارٹی اکابرین کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم تھے۔ آصف زرداری کے بیان کے بعد اب افواہوں کا گردوغبار اور قیاس آرائیوں کے بادل چھٹنے شروع ہو گئے ہیں لیکن ایک کنفیوژن بدستور ہے کہ صدر صاحب کو ہانگ کانگ سے ایئر ایمبولنس منگوا کر دبئی روانہ کیا گیا تھا یا پاک فضائیہ کے طیارے میں لے جایا گیا تھا۔ گو اس کی کوئی اہمیت نہیں کہ صدر صاحب ایئر ایمبولنس میں گئے یا فضائیہ کے طیارے میں۔ لیکن یہ بھی ایک لاحاصل افواہ تھی۔
اگر صدارتی ترجمان یا وزیر اعظم خود صدر زرداری کی صحت اور دبئی روانگی کے حوالے سے ایک بیان جاری کر دیتے تو کسی کے لئے خوش کن اور کسی لئے مایوس کن افواہوں اور قیاس آرائیوں کی نوبت نہ آتی.... اپنوں کی اڑائی ہوئی دھول اپنوں کے ہی سر میں پڑتے دیکھی تو وہ اینکر اور صحافی بھی میدان میں کود پڑے جن کو خود کے سب سے بڑا باخبر ہونے کا دعویٰ ہے۔ اسی اعزاز کو برقرار رکھنے کے لئے ان سے جو بن پڑا انہوں نے کیا۔ اس کے ساتھ ہی جلتی پر تیل کا کام فارن پالیسی میگزین نے یہ کہہ کر کیا کہ زرداری میموگیٹ سکینڈل پر شدید دباﺅ کے باعث استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میمو کیس میں صدر زرداری کی طلبی این آر او کیس نظر ثانی کی اپیل کا مسترد ہو نا، بون کانفرنس میں پاکستان کی شرکت اور نیٹو سپلائی کی بحالی کے لئے امریکی دباﺅ، کڑی سے کڑی بن کر قیاس آرائیوں اور تجربوں کی بنیاد کو مضبوط بناتا رہا۔ حکمران حسب سابق اپنی نااہلی، بدنظمی اور بدعملی کو چھپانے کے لئے میڈیا پر برس رہے ہیں۔ اگر انہوں نے محاسبہ کرنا ہے تو ابتدا اپنے گھر سے کی جائے۔
بلاشبہ آصف زرداری پر کرپشن سمیت کئی الزامات ہیں۔ملک میں بحرانوں، مہنگائی، بیروز گاری، لاقانونیت کے حوالے سے بھی بطور حکومتی پارٹی کے سربراہ کے ان کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ان کے بارے میں بہت سی منفی باتیں ہوتی ہیں۔ اس سب کے باوجود وہ ایک بہادر شخص ہیں۔ انہوں نے جیل جس پامردی سے کاٹی اس پر ہی نظامی صاحب نے انہیں مردِ حُر اور پھر جس طریقے سے 2008ءکے انتخابات کے بعد ق لیگ کے سوا مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے تو مرد راہوار کا خطاب دیا تھا۔ جواب میں انہوں نے جو کچھ کیا بہت کم لوگ جانتے ہیں اور اس کا تعلق کالم کے عنوان نہیں ہے بلکہ برعکس ہے۔ زرداری 1996ءمیں مقدمات کا سامنا کرنے کیلئے لندن سے پاکستان آئے اور سیدھے جیل پہنچا دیئے گئے۔ گو جیل جانا ان کے کرموں کا ہی نتیجہ تھا، وہ واقعی بھاگنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا میرا سب کچھ پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں پیدا ہوا، پاکستان میں ہی مروں گا، بھاگنے والا نہیں۔ ”میرا سب کچھ پاکستان میں“ ہے اس کے سوا ان کے دیگر اقوال پر یقین کر لینا چاہیے۔
صدر زرداری یاروں کے یار ہونے کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں۔ زندگی میں جو ان کے کام آیا، ایماندار تھا یا چور اُچکا، اس کو انہوں نے نوازنے میں کنجوسی نہیں دکھائی، سوائے جناب مطلوب وڑائچ کے جو سوئٹزر لینڈ میں اپنے خرچے پر ان کے کیس لڑتے رہے، وہ چار سال سے کنارے پر بیٹھے ساتھیوں کا گنگا جل میں اشنان دیکھ رہے ہیں۔ شاید زرداری صاحب چاہتے ہیں کہ کم از کم ایک شخص تو ضمانتیں کرانے کے لئے محفوظ رہ جائے۔ عدالت کسی عہدیدار کو سزا یافتہ، کرپٹ یا بدعنوان کے الزام کو فارغ کرتی ہے حکومت ایسا ہی کوئی اور لا بٹھاتی ہے۔ ان میں سے کوئی زرداری کا یار اور کوئی گیلانی کا وفادار ہوتا ہے۔ اب جبکہ حکومت کے چل چلاﺅ کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ویسے بھی آئینی مدت ختم ہونے میں سال، سوا سال بچا ہے۔پاکستان نے زرداری پر کسی بھی شخص سے بڑا احسان کیا ہے۔ وہ سب سے بڑے عہدے پر تعینات ہیں، اب ایک سال پاکستان سے یاری اور وفاداری نبھا دیں۔ جیب سے قوم کو کچھ نہ دیں۔ صرف انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کر دیں تو ملک سے کرپشن نابود بدعنوانی ولاقانونیت مفقود ہو سکتی ہے۔پاکستان صحیح معنوں میں امن خوشحالی کا گہوارہ اور اسلامی و فلاحی ریاست بن سکتا ہے۔