About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Tuesday, February 28, 2012

شہباز پاکستان سے

 منگل ، 28 فروری ، 2012

شہباز پاکستان سے!
فضل حسین اعوان ـ 
شہباز شریف نے 17 فروری کو نظریہ پاکستان کانفرنس میں کئی موضوعات پر جوش خطابت کے جوہر دکھائے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے فرمایا۔ ”کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ بات ہمارے بزرگوں اور قائداعظم نے کہی تھی۔ کشمیر اسی صورت میں پاکستان کا حصہ بن سکتا ہے۔ جب ہم کردار عظمت دیانت‘ امانت اور مسلسل محنت سے کام کریں۔ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لئے نعروں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ کشمیر اس وقت پاکستان بنے گا جب میثاق مدینہ پر عمل ہو گا۔“
باتوں سے کشمیر کی آزادی ممکن ہوتی تو کشمیر پر ہمارے حکمران‘ سیاستدان اور دیگر طبقات کے لوگ جتنا زبانی جمع خرچ کر چکے ہیں اس سے اب تک کشمیر آزاد ہو چکا ہوتا۔ کشمیر پر جس مکار دشمن کا قبضہ ہے اس پر باتوں کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ باتوں سے کیا اثر لے گا۔ شہباز شریف نے بھی تسلیم کیا ہے کہ قائداعظم کشمیر کو پاکستان کی شہ رگِ قرار دیتے تھے۔ قائداعظم نے تو شہ رگ پاکستان کو دشمن کے پنجہ استبداد سے چھڑانے کے لئے طاقت استعمال کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ جس پر بھارت بھاگا بھاگا اقوام متحدہ چلا گیا۔ اقوام متحدہ نے جنوری 1949ءکو کشمیریوں کے لئے استصواب کی قررداد منظور کی تھی۔ اس کے بعد سے آج تک بھارت نے پاکستان کو مذاکرات میں الجھا کر مسئلہ کشمیر کو لٹکایا ہوا ہے۔ بھارت نے 1956ءمیں استصواب کی قرارداد کی موجودگی کے باوجود مقبوضہ وادی کو آئین میں ترمیم کرتے ہوئے بھارت کا صوبہ قرار دے دیا۔ اس کے ساتھ اٹوٹ انگ کا راگ بھی الاپنا شروع کر دیا۔ اب بھارت اگر مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادگی ظاہر کرتا ہے تو اس کی نظر میں متنازعہ وہ علاقے ہیں جو قبائلیوں نے قوت بازو سے آزاد کرائے تھے۔ قبائلیوں کی انہیں خدمات پر قائداعظم نے ان کو پاکستان کا بازوئے شمشیر زن قرار دیا تھا۔ آج امریکہ کی ڈکٹیشن پر انہی قبائلیوں کی نسلوں کی گردن اور بازو حکومتی شمشیر کی زد میں ہیں۔ 
بھارت جسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ اس نے جسے آئین میں ترمیم کرکے اپنا صوبہ ڈیکلر کر لیا ہے کیا وہ آسانی سے اس سے دستبردار ہو سکتا ہے؟ جبکہ مذاکرات کے فریب کا ایک طویل عرصہ بھی ہندو کی بدنیتی کا گواہ ہے۔ 
بھارتی لوک سبھا کی سپیکر میرا کماری کی اسلام آباد میں بھی زبردست پذیرائی ہوئی۔ لاہور میں بھی اس مورکھ کو آنکھوں پہ بٹھایا گیا۔ شہباز شریف نے اس کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے میں یہاں یہ کہا کہ ”پاکستان اور بھارت کو آپس میں اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا ہو گا۔ باہمی تعلقات کے فروغ کے ساتھ ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کی مساعی بھی جاری رہنی چاہئے تاکہ برصغیر میں پائیدار امن قائم ہو اگر ہم اپنے مسائل گفت و شنید کے ذریعے حل کرتے اور وسائل جنگوں پر برباد کرنے کی بجائے ترقی اور عوامی بھلائی پر صرف کرتے تو دونوں ممالک ترقی کی کئی منازل طے کر چکے ہوتے۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں ملک جنگ کی راہ چھوڑ کر امن کا راستہ اپنائیں اور اپنے وسائل لوگوں کی فلاح و بہبود اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے پر صرف کریں۔“ شہباز شریف نے وہاں اشعار کے ذریعے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے یہ شعر پڑھا
معجزہ کوئی تو اب شعلہ گفتار کرے
کیا ضروری ہے ہر اک فیصلہ تلوار کرے
وزیراعلیٰ نے یہ شعر سنا کر وہاں موجود ”آوے ای آوے‘ جاوے ای جاوے“ کی شہرت رکھنے والوں سے بے پناہ داد وصول کی۔ 
اک شجر پیار کا ایسا بھی لگایا جائے
جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایہ جائے
آپ کے اُگائے ہوئے درخت کا سایہ یقیناً ہمسائے کے آنگن میں جانا چاہئے۔ لیکن پہلے ہمسائے کی فطرت تو دیکھ لیں۔ جو ہمسایہ آپ کی دھرتی پر سایہ دار درخت اگنے ہی نہ دے اس کے آنگن میں سائے نچھاور کرنے کی آرزو کیسے پوری ہو سکتی ہے؟ 64 سال گفتار کی نذر ہو گئے۔ اب بتائیے تلوار کے سوا کوئی چارہ ہے؟12 فروری کو بھارتی صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے بھی شہباز شریف نے کہا تھا ”مسائل جنگوں سے حل نہیں ہو سکتے‘ تجارت کا فروغ پاکستان اور بھارت کے مفاد میں ہے“ بھارتیوں نے ایک پاکستانی تاجر کا مار مار جو حشر کیا ہے شہباز صاحب نے وہ خبر باتصویر دیکھ لی ہو گی۔ شہباز شریف نے آزادی کشمیر کے لئے نظریہ پاکستان کانفرنس میں جو کہا وہی ان کا اصولی اور مضبوط موقف ہونا چاہئے۔ جو کچھ وہ بھارتی صنعتکاروں اور سپیکر کے وفود سے کہتے ہیں وہ ان کا کہا نہیں ہونا چاہئے۔ کشمیر جیساکہ قائداعظم نے فرمایا تھا۔ ہماری شہ رگ‘ شہ رگ کے بغیر پاکستان زندہ نہیں رہ سکتا‘ بھارت سے حاصل کرنی چاہئے۔ اور بات چیت سے نہیں ہو گی جنگ سے ہی ہو گی۔ بھارت شہ رگ کو اٹوٹ کہنے کے باوجود جنگ کی تیاری دن رات کر رہا ہے۔



Sunday, February 26, 2012

آمنہ.... عافیہ.... عدلیہ

 اتوار ، 26 فروری ، 2012

آمنہ.... عافیہ.... عدلیہ
فضل حسین اعوان
قانون یقیناً اندھا اور اسکے سینے میں پتھر کا دل ہوتا ہے۔ ایسا ہونا بھی چاہئے، اندھے قانون کی کوکھ سے ہی انصاف کی کرنیں پھوٹ کر بے انصافی کی تاریکیوں میں اجالے بکھیر دیتی ہیں لیکن ”قانون تو اندھا ہوتا ہے“ کی آڑ میں اندھیر مچانے سے معاشرے میں بے چینی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ منصف کا کردار پیشے سے کمٹمنٹ اور اہلیت بھی زیربحث آتی ہے۔ جمہوری آمروں سے زخم خوردہ قوم کی روح کو کبھی کبھی انصاف کا ترازو تھامنے والے بھی گھائل کرجاتے ہیں۔
17 فروری کو لاہور ہائیکورٹ کی عمارت میں اس وقت ہر آنکھ اشک بار ہوگئی جب 11 سالہ آمنہ کو اسکے باپ کی ”حبس بے جا“ سے نکال کر اسکی فرانسیسی ماں برینڈن برگر کے حوالے کردیا گیا۔ اس عدالتی حکم پر آمنہ نے چیختے، چلاتے اور دھاڑیں مارتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیا جس سے وہاں کی فضا میں غم، دکھ اور کرب کا ارتعاش تو موجود تھا ہی، شائد بچی کی فریاد عرش سے بھی جا ٹکرائی ہو۔ بچی کی فریاد اور پکارپر خود جج صاحب بھی اپنے آنسو ضبط نہ کرسکے۔ ٹی وی پر یہ منظر دیکھنے والے لوگوں کی بھی آنکھیں تر تھیں۔ بچی نے جج صاحب سے کہا ”انکل میرے والد نے مجھے قرآن حفظ کرایا، مجھے کافر ماں کے حوالے نہ کریں، اگر یہ مسلمان ہوجائے تو میں اسکے ساتھ بخوشی چلی جاتی ہوں“ بچی فیصلے کے بعد اپنے دادا اور چچا سے لپٹی لیکن آمنہ کو برینڈن برگر کے حوالے کرنیوالے ہاتھ زیادہ سخت اور مضبوط تھے جن کو بے رحمانہ فیصلے پر عمل کرانا تھا حالانکہ دل انکے بھی رو رہے تھے۔ بچی کے باپ عبدالرزاق کو ایسے ہی فیصلے کا یقین تھا جس پر اسکے دل کی دھڑکن اس قدر بے قابو ہوئی کہ اسے ہسپتال لے جانا پڑا۔ اس نے فیصلہ ہسپتال کے بستر پر ہی سنا تو بے سدھ ہوگیا۔ ہوش آیا تو حالت بے ہوشی کی کیفیت سے زیادہ قابل رحم تھی۔ ایک رپورٹر نے رابطہ کیا تو اسکا یہ فقرہ معنی خیز تھا ”میں بیٹی کو لیکر 8سال تک چھپتا رہا لیکن ایجنسیوں نے ڈھونڈ نکالا“ اس فقرے کے پیچھے چونکا دینے والے حقائق ہیں جن سے ایک بار پھر ہمارے حکمرانوں کی اوقات، انکی نظر میں عوام کی حیثیت، ملکی خودمختاری اور قومی خودداری عیاں ہوگئی ۔ فرانسیسی عدالت نے آمنہ کو اسکی ماں کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔ اس پر عمل سے قبل عبدالرزاق بیٹی کو پاکستان لے آیا۔ اب میڈیا میں اس خط کا تذکرہ ہو رہا ہے جو فرانس کے سفارت خانے کی جانب سے آئی جی پنجاب کو لکھا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے دورہ فرانس کے دوران صدر سرکوزی نے انکے سامنے یہ معاملہ اٹھایا۔ صدر صاحب نے یہ معاملہ وزیر داخلہ رحمان ملک کے حوالے کیا تھا۔ آمنہ کے باپ کے اس فقرے ”ایجنسیوں نے ڈھونڈ نکالا“ اور کیوں ڈھونڈ نکالا؟ کی بخوبی سمجھ آجاتی ہے۔ 
آمنہ کو اسکی ماں کے حوالے کردیا گیا اسکے بعد اسکے والد کے پاس سپریم کورٹ جانے کا حق تھا جس سے اسے محروم کر دیا گیا۔ ادھر فیصلہ آیا‘ ادھر آمنہ کو اسکی ماں فرانسیسی قونصل خانے لے گئی اور اسی روز اسے فرانس پہنچانے کا اہتمام کر دیا گیا۔ آمنہ گیارہ پارے حفظ کر چکی تھی‘ وہ مشرقی روایات کا عملی نمونہ تھی۔ نماز کی پابند اور نقاب و حجاب پر کاربند۔ فرانس میں نقاب سکارف اور حجاب پر پابندی ہے جس پر عمل اسکی ماں نے ایئرپورٹ پر اترنے سے قبل کرالیا۔ آمنہ جہاز سے باہر آئی تو آنکھیں سوجی ہوئیں‘ چہرہ اترا ہوا اور سر غیرمسلم ماں کی شرم و حیا کی طرح ننگا تھا۔ علمائے کرام اور فقہیانِ عظام کی رائے ہے کہ نہ صرف مسلمان بچی کو اسکی غیرمسلم ماں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا‘ بلکہ ماں مسلمان ہو اور وہ بھی بچی کو اسلامی ریاست سے غیراسلامی معاشرے میںلے جانا چاہتی ہو تو اسکی بھی اجازت نہیں۔ بچے یا بچی کی تربیت دارالسلام یعنی اسلامی معاشرے میں ہونی چاہیے۔ انسانی حقوق کی بات کرنیوالوں کو اسلامی قوانین کو بھی مدنظر رکھناچاہیے۔ دین اسلام میں انسانی حقوق کا کسی بھی مذہب سے بڑھ کر خیال رکھا اور تحفظ کیا جاتا ہے۔ بڑے جج صاحب اداکارہ سے شراب برآمد ہونے تک جیسے معمولی معاملات پر سوموٹو لے لیتے ہیں‘ کیا آمنہ کی پکار نے انکے دل پر دستک نہیں دی؟ کیا سپریم کورٹ میں آمنہ کے باپ کی اپیل سے قبل آمنہ کو بغیر پاسپورٹ کے ریمنڈ ڈیوس کی طرح اس لئے فوراً پاکستان سے نکال لیا گیا کہ اس کیس کے پیچھے صدر سرکوزی تھا جس کے ملک میں ہمارے صدر صاحب کا پانچ ایکڑ پر مشتمل باغات سے لدا پھندا‘ خوبصورت جھیلوں اور آبشاروں سے مزین و مرصع Manor of white Queen محل ہے۔ سرکوزی نے کچھ کیا‘اسے بطور صدر اپنی شہری کی دادرسی کیلئے ایسا ہی کرنا چاہیے تھے۔ 
مارچ 2009ءمیں شمالی کوریا نے دو امریکی خواتین کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا۔ انہوں نے خود کو صحافی ظاہر کیا تھا۔ جاسوسی کے جرم میں ان کو بارہ سال سزا سنا دی گئی۔ جون 2009ءکو سابق امریکی صدربل کلنٹن شمالی کوریا گئے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر دونوں ملکوں میں ”اِٹ کتے دا ویر“ ہے۔ کلنٹن نے شمالی کوریا کے صدر کم جانگ ال سے ملاقات کی اور جھکے سر کے ساتھ اینا اور لورا کی رہائی کی درخواست کی جسے کم نے قبول کرتے ہوئے انکی رہائی کا حکم دیدیا۔ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ برطانیہ پاکستان سے اپنے سزائے موت کے قیدی کو چھڑواکے لے گیا تھا۔ 
عافیہ صدیقی کی رہائی کےلئے کیا ہمارے صدر اور وزیراعظم نے ایسی سنجیدہ کوششیں کی ہیں‘ جیسی سرکوزی آمنہ کو پاکستان سے لے جانے اور اوبامہ نے کلنٹن کو بھجوا کر اینا اور لورا کو چھڑوانے کیلئے کیں۔ جس طریقے سے پاکستان امریکہ کی جنگ لڑ رہا ہے اسکے پیش نظر وہ امریکہ سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی سمیت ہر مطالبہ منوا سکتا ہے۔ عافیہ صدیقی کی رہائی تو معمولی بات ہے لیکن شاید آج کے حکمرانوں کا اپنے پیشرو مشرف کی طرح احساس ہی مر چکا ہے۔ غیرت و حمیت اور ضمیر ہی ڈالروں بہا سے خوابیدہ ہو گیا۔
٭٭٭٭

اقبال و قائد کے سپاہی

 فروری,25 ، 2012

اقبال و قائد کے سپاہی
فضل حسین اعوان ـ 1 دن 16 گھنٹے پہلے شائع کی گئی
فانی انسان کی یادوں کو اس کا کردار اور عمل لافانی بنا دیتا ہے۔ اقبال اور قائد کی یادیں، ان کی باتیں اور فکر و فلسفہ آج ہمارے لئے اثاثہ اور سرمایہ ہے۔ قائد اعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کو یہاں انگریز کی غلامی سے آزادی دلائی اور ہندو کی غلامی میں جانے سے بچایا وہیں نوجوان صحافی حمید نظامی سے نوائے وقت کی بنیاد رکھوائی۔ 23 مارچ 1940ءکو پندرہ روزہ نوائے وقت کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ 1942ءکو یہ ہفت روزہ اور قائداعظم کے فرمان پر 22 جولائی 1944ءکو روزنامہ بن گیا۔ گویا قائد محترم کی ہدایت پر حمید نظامی کے ہاتھوں یوم پاکستان کے روز لگایا گیا پودا قیام پاکستان سے قبل بہت سی منزلیں طے کر چکا تھا۔ یہ تحریک آزادی کا ترجمان بنا۔ مسلمانوں کی زبان دو قومی نظریہ کا اعلان اور وطن کے مجاہدوں کا عہد و پیمان بنا۔ حمید نظامی تحریک آزادی کے گرم جوش طالب علم رہنما قائد کے وفادار ساتھی، غلامی کی زنجیریں توڑنے کے لئے ہمہ وقت تیار، آزادی کے لئے ہمہ تن برسرپیکار، خون جگر دینے پر مائل، استعمار کی بیخ کنی کرنے کے قائل تھے۔ پاکستان بنا تو نوائے وقت کو عام آدمی کی صدا نوا دوا، دعا اور ندا بنا دیا۔ مجید نظامی عمر میں حمید نظامی سے 13سال چھوٹے ہیں انہوں نے باپ بن کر پالا تو مجید نظامی صاحب نے بھی بیٹا ہونے کا حق ادا کر دیا۔ کوئی بھی تقریب فنکشن یا جلسہ ہو پہلے حمید نظامی کا نام آتا ہے۔ مجید نظامی صاحب بھی تحریک آزادی کے مجاہد اور غازی ہیں۔ تحریک پاکستان کے پہلے شہید عبدالمالک کے سر پر اینٹ لگی تو مجید نظامی ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ تحریک پاکستان کے پہلے شہید اسلامیہ کالج کے عبدالمالک نے مجید نظامی کے بازوﺅں میں ہی جان دی۔ ان کو سنبھاتے ہوئے نظامی صاحب کے کپڑے بھی شہید کے خون سے رنگے گئے۔ لیاقت علی خان نے ان کو مجاہدانہ خدمات پر سند کے ساتھ تلوار عنایت کی۔
قیام پاکستان کے بعد حمید نظامی نے حق گوئی و بیباکی، بیداری، وطن سے وفا کی علمبرداری کا پرچم اٹھائے اور لہرائے رکھا۔ جس سے انگریز کے کتے نہلانے کے انعام میں جا گیریں اور اقتدار حاصل پانے والے دیوانوں، مستانوں، دولتانوں اور ٹوانوں کی جھوٹی انا مجروح ہوئی جو نوائے وقت انگریز کی حکمرانی میں بھی مسلسل بلا تعطل شائع ہوتا رہا وہ 1950ء کی دہائی میں کچھ عرصہ کے لئے بند کر دیا گیا۔ مجید نظامی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخباری معاملات میں اپنے بھائی جان کی معاونت بھی کیا کرتے تھے۔ حکمرانوں کی درشتی، دھونس اور جبر دونوں بھائیوں کے عزم اور پائے استقلال میں ہلکی سی لرزش اور جنبش بھی نہ لا سکا۔ قائداعظم کے پاکستان میں 1958ء میں مارشل لاءلگا تو حمید نظامی روح تک لرز گئے۔ کیا لاکھوں جانوں اور آبروﺅں کی قربانی یہ دن دیکھنے کے لئے دی گئی تھی؟ مارشل لاءکے باعث حمید نظامی کی صحت گرنے لگی، باقی کسر اخبار کے ساتھیوں نے بے وفائی کرکے پوری کر دی جس کے باعث حمید نظامی صاحب 25 فروری 1962ءکو جاں سے گزر گئے۔
اسی روز مجید نظامی کو لندن سے بلوایا گیا۔ نظامی صاحب کے کہنے پر آغا شورش نے انہیں فون کیا۔اس کے بعد اخباری معاملات مجید نظامی کے پاس آئے تو انہوں نے وہیں سے ان کو آگے بڑھایا جہاں سے حمید نظامی صاحب چھوڑ کر جان جانِ آفرین کے سپرد کر گئے تھے۔ اس کے بعد مجید نظامی صاحب نے چار مارشل لاﺅں کو جس طرح حق ہوتا ہے اسی طرح بھگتا۔ نوائے وقت شجر سایہ دار تو حمید نظامی کی حیات میں ہی بن گیا تھا۔ اس شجر سایہ دار کو ثمر بار مجید نظامی نے بنایا۔ نوائے وقت اشاعت کے پہلے روز سے کرائے کی عمارت سے نکلتا رہا۔ آج لاہور، کراچی، ملتان، پنڈی میں اس کے اپنے دفاتر ہیں۔ ساتھ ہفت روزہ ندائے ملت، فیملی میگزین، ماہانہ پھول، ڈیلی دی نیشن بھی نوائے وقت کی آگنائزیشنز ہیں۔ چار سال سے وقت نیوز چینل بھی اپنی بلڈنگ میں نشریات جاری رکھے ہوئے ہے۔
مجید نظامی کا کامیاب ایڈیٹر کے ساتھ ساتھ بہترین منظم ہونا بھی ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔ بہت سے لوگوں کی محبت نوائے وقت ہے لیکن نوائے وقت والوں کی پہلی محبت اسلام پاکستان اور نظریہ پاکستان ہے۔ مجید نظامی صاحب نوائے وقت پبلیکیشنز کی طرف بڑی توجہ دیتے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ توجہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ پر مرکوز ہے۔ دفتر آنے سے قبل نظریہ پاکستان جاتے ہیں۔ تن، من دھن سے اس کی خدمت پر تین بائی پاس ہونے کے باوجود کمربستہ ہیں۔ نوائے وقت ملک کا ایک بڑا اشاعتی اور نشریاتی گروپ ہے لیکن اس کے مالک درویشانہ زندگی گزارتے ہیں۔ مجید نظامی صاحب نے دو کنال جگہ کھیتوں میںخریدی اور اپنا گھر بنا لیا اسی قدیم وضع کے گھر میں قیام پذیر ہیں۔ وضعدار ایسے کہ ہر ملنے والا سمجھتا ہے کہ اس سے زیادہ کسی پر مہربان نہیں۔ کوئی اپنا ہو یا پرایا اسے تکلیف میں دیکھ کر تڑپ اٹھتے اور ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ سچی بات ہے کہ حمید نظامی نے قائد اعظم کے سپاہی اور مجید نظامی نے حمید نظامی کے بھائی اور قائد کے فدائی ہونے کا حق ادا کر دیا۔ آج مجید نظامی صاحب‘ چھوٹی بی بی رمیزہ مجید نظامی کی تربیت بھی انہیں خطوط اور نہج پر کر رہے ہیں جس طرح حمید نظامی نے ان کی کی تھی۔ رب ذوالجلال پاکستان‘ مجید نظامی‘ رمیزہ مجید نظامی‘ ادارے‘ کارکنوں اور ادارے کے چاہنے والوں کا حامی و ناصر ہو۔

Thursday, February 23, 2012

شیطان اور سمندر کے درمیان

جمعرات ، 23 فروری ، 2012

شیطان اور سمندر کے درمیان
فضل حسین اعوان 
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی شوق شہادت کا اظہار بلکہ اعلان تو کرتے ہیں جبکہ اندر کا خوف ان کے بیانات سے عیاں ہو جاتا ہے۔ متعدد بار کہہ چکے ہیں وزیراعظم نہ رہا تو غوث اعظم کی اولاد ہونے کا عہدہ تو وزارت عظمیٰ سے بہت بڑا ہے۔ وہ مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ اگر گیلانی صاحب دل و جان سے ایسا سمجھتے ہیں تو بڑے عہدے پر براجمان ہونے کے باوجود چھوٹے مقام کو پسند کیوں فرما لیا۔ پھر اس کے ساتھ ایسا چمٹے کہ یہ مقام لامقام ہونے کا دھڑکا لگا تو اسے اپنے لئے شہادت قرار دے رہے ہیں۔ ایک طرف میمو گیٹ کیس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ معاملہ صدر زرداری کی طرف بڑھا تو میں اپنے سر لے لوں گا۔ میمو گیٹ کیس کا فیصلہ کچھ دور ہے۔ این آر او کیس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ظاہر کرتے ہیں کہ سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا عہد زرداری پر جانثاری ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ہر دوسرے روز ایک ہی لے پر دھمال ڈالتی ہیں کہ شہید بھٹوز کی قبروں کا ٹرائل نہیں ہونے دیں گے۔ جس کی جان پہ بنی ہے اس کے دل میں جھانک کر دیکھیں۔ بظاہر تو وہ بھی جھومتے ہوئے کہتے یہی سنائی دیتے کہ خط نہ لکھنے کا پارٹی کا فیصلہ ہے۔ صدر کو استثنیٰ حاصل ہے۔ خط نہیں لکھیں گے۔ جب اس کے بھیانک نتائج خونخوار جن کی طرح ناچتے ہوئے سامنے آتے ہیں تو امیدوں‘ آرزوں اور تمناوں کے دیے بجھتے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ایسے میں وزیراعظم صاحب بہت کچھ ایسا کہہ جاتے ہیں جو لایعنی و بے معنی ہوتا ہے۔ 80 کا ہندسہ زبان پر چڑھا ہے شاید اس لئے کہ 80 کی دہائی میں جنرل محمد ضیاءالحق کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اسی کی دہائی میں ہی ضیاءالحق نے ان کا ہاتھ جونیجو مرحوم کے ہاتھوں میں دے دیا۔ اسی دہائی میں ہی جونیجو کا ساتھ چھوڑ دیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو 86 میں لندن سے واپس آئیں تو گیلانی صاحب ان کے ساتھ جا ملے یہ ان دنوں کی بات ہے جب میاں نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کی خدمت میں 30 لاکھ روپے پارٹی فنڈ کے طور پر پیش کئے جو محترمہ نے بصد شکریہ رکھ لئے تھے۔ گیلانی صاحب کا دعویٰ ہے کہ میثاق جمہوریت پر 80 فیصد عمل کر دیا۔ آغاز حقوق بلوچستان پر 80 فیصد عمل کرایا۔ شاہ زین بگٹی کا کہنا ہے کہ آغاز پر صرف اڑھائی سے تین فیصد تک عمل ہوا۔ وزیراعظم گیلانی اپنے چار سالہ دور کو کامرانیوں کی داستان قرار دیتے ہیں۔ یہاں شاید 80 فیصد سے بھی زائد عوامی مسائل حل کرنے کے دعویدار ہیں۔ لگتا ہے کہ وہ زخم خوردہ عوام سے نہیں مردوں سے مخاطب ہوں....
وزیراعظم کی طرف سے اپنے صدر پر جاں نچھاور کرنے کی جو بے پاں خواہش ظاہر کی جا رہی ہے۔ وہ دراصل اس محاورے کے عین مطابق ہے 
Between devil and deep sea. 
ایک طرف عدلیہ دوسری طرف وہ پارٹی سربراہ ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے جس کی دراز میں ارکان پارلیمنٹ کے ضمیر رکھوا دئیے ہیں۔ گیلانی کیا کوئی کبھی رکن پارلیمنٹ پارٹی سربراہ کی مرضی کے خلاف دم بھی نہیں مار سکتا۔ شہادت‘ غازی‘ جانثاری کی محض باتیں ہیں‘ گیلانی صاحب کا اصل دکھ 15 فروری کو سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آیا جس میں انہوں نے 5 واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں انہیں بلاوجہ ملوث کر دیا گیا۔ ”حج سکینڈل میں شکیل درانی کے حوالے سے مجھ پر الزام تراشی کی گئی اور کہا گیا کہ سارے راستے وزیراعظم ہاوس کی طرف جاتے ہیں۔۔۔ ایک لڑکا لندن کے کالج میں میرے بیٹے عبدالقادر گیلانی کا کلاس فیلو تھا‘ اس نے ایک جیپ امپورٹ کی جس کی اس نے ڈیوٹی نہیں دی۔ یہ جیپ میرے بیٹے کے کھاتے میں ڈالی گئی۔ میں بھوٹان میں کانفرنس میں شریک تھا کہ مجھے چٹ ملی کہ چیف جسٹس نے وفاقی سیکرٹریوں کی پروموشن کو کالعدم قرار دیا ہے۔ ہم نے دوبارہ جائزہ لیا تو نوے فیصد وہی سیکرٹری دوبارہ پروموٹ ہو گئے۔ ان سیکرٹریوں میں کوئی میرا فیورٹ نہیں تھا۔ (90 فیصد میرٹ پر‘ دس فیصد کہاں سے آئے؟) کوئی اہم شخصیت میرے پاس آئی اور کہا کہ خواجہ عدنان کو جاب دی جائے، میں نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ وہ ان کی کوالیفکیشن دیکھ کر انہیں جاب دیں۔ اس پر بھی میرا مذاق اڑایا گیا۔ دراصل خرم رسول پی ٹی وی کا کنسلٹنٹ تھا، اسے پی پی پی کی ایک سینئر شخصیت کے کہنے پر پی ٹی وی کا کنسلٹنٹ لگایا گیا تھا۔“ وزیراعظم کے ان اعترافات کے باوجود بھی دعویٰ ہے کہ ہم گنہگار نہیں۔ 
این آر او کیس میں گیلانی صاحب نے خود کو 
Between Devil and deep Sea .
پایا تو اس سے نجات کے لئے ایک ہی کی صورت نظر آئی کہ وکیل کرنے کے بجائے وہ جج کر لیں۔ اس کے لئے انہوں نے پیپلز پارٹی کی نوازشات کے تلے دبے معروف وکیل کی خدمات 100 روپے دیکر حاصل کیں۔ ان کے وکیل کا دعویٰ رہا ہے کہ ان کی چیف جسٹس کے ساتھ بے تکلفانہ دوستی ہے۔ اپنے اس قول پر چار سال عمل کیا کہ وہ کسی کیس میں چیف جسٹس کے روبرو پیش نہیں ہوں گے۔ بالآخر فرد جرم کے حوالے سے نظرثانی کیس میں پیش ہوئے۔ موکل کو امید تھی کہ وہ انہیں مکھن میں سے بال کی طرح نکال لیں گے۔ ججوں نے شاید مکھن میں مکھی سمجھ کر جو کیا‘ سو کیا۔ کم از کم ایک بار تو یہ تاثر ختم ہو گیا کہ وکیل کو اپنی اہلیت پر کیس لڑنا ہو گا۔ جج کرنا مشکل ہے۔ اب 27 فروری کو دیکھئے کیا ہوتا ہے۔
مٹھہ ٹوانہ میں غلام عباس صاحب کا فون آیا کہ ان کو ایک تگڑے وکیل کی ضرورت ہے۔ جو سپریم کورٹ میں کیس کرے کہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ان کے وزیر داخلہ نے خالصتان موومنٹ کے لیڈروں کی لسٹیں بھارت کے حوالے کی تھیں۔ یہ ”حب الوطنی“ کے کس ضمن میں آتا ہے؟ ان کو بتایا کہ موصوف تو انکار کرتے ہیں۔ غلام عباس کا کہنا تھا کہ ملزم نے بھی کبھی اپنا جرم مانا ہے؟ سپریم کورٹ ہی اس حوالے سے بریت یا جرم کے تعین کا بہترین فورم ہے۔ ان کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے معروف وکلاءکی فیس تو کروڑوں میں ہے۔ بے چارہ سابق فوجی اور آج کا کسان کہتا ہے میں دو اڑھائی لاکھ ادا کر سکتا ہوں۔ اگر اس کے پاس بھی کروڑوں ہوتے تو شاید ”وزیراعظم کا وکیل“ ان کا کیس پکڑ لیتا کیونکہ وہ پروفیشنل وکیل ہے۔ پیپلز پارٹی میں رہتے ہوئے نواز شریف کے کیس بھی تو لڑے ہیں۔ کوئی بے اصولی کرنی ہو تو سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا اور وکالت میں میں تو پیشہ ور وکیل ہوں کہہ دیا جاتا ہے۔ آخر سند یافتہ دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس اور کشمیر سنگھ کا کیس بھی تو ہمارے وکیلوں نے پیشہ ور وکیل ہونے کے ناتے ہی لڑا تھا۔

Tuesday, February 21, 2012

.......کی محمد سے وفا تو نے

 منگل ، 21 فروری ، 2012

کی محمد سے وفا تو نے
فضل حسین اعوان ـ 15 گھنٹے 50 منٹ پہلے شائع کی گئی
بعداز خدا بزرگ توئی قصہ مختصر، کے عنوان سے ولادت ختم الرسل کے موقع پر 12ربیع الاوّل کو کالم کی اشاعت پر پروفیسر سلیم صاحب نے فون کرکے اس رباعی کے خالق کا نام دریافت کیا اور مشورہ دیا کہ آئندہ یہ رباعی کبھی شائع کرنا مقصود ہو تو اس کا اردو ترجمہ بھی ضرور دے دینا۔ یا۔ اپنے طور پر رباعی کے شاعر کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو دوست احباب میں سے کسی نے اسے علامہ اقبال کا کلام قرار دیا‘ کسی نے یہ رباعی سعدی و فردوسی سے منسوب کی۔ اسی جستجو کے دوران محمد سعید شاد صاحب کا خط موصول ہوا‘ ان کی تحقیق کے مطابق واضح ہو گیا کہ اس عشق مصطفی سے مزین اور عقیدت سے لبریز رباعی کے شاعر کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاریخ میں بھی بعض اسے حافظ شیرازی اور کچھ جامی‘ سعدی اور شاہ عبدالعزیز دہلوی سے منسوب کرتے ہیں۔ گمان غالب ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ حافظ شمس الدین محمد شیرازی کے اشعار ہو سکتے ہیں۔ محمد سعید شاد صاحب نے اپنی تالیف ”طَلَعَ البَدَرُ عَلَینا“ میںاس رباعی کا اردو اور پنجابی زبانوں میں منظوم ترجمہ بھی دیا ہے۔
یاصاحب الجمال و یا سید البشر
اے سوہنے مکھڑے والے کل انساناں دے سردار
من وجھک المنیر لقد نور القمر
تیرے مکھڑے دے نور نال ای چند روشن اے
لایمکن الثناء کما کان حقہ
ساتھوں تیری وڈیائی دا حق ادا نہیں ہو سکدا
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
مکدی کہ رب تعالیٰ دے بعد صرف تسیں ای سب تو وڈیرے او
(اردو منظوم)
اے مالک حسن و ادا انسانیت کے متقدیٰ
ماہتاب کا اپنا ہے کیا سب تیرے چہرے کی ضیائ
ممکن کہاں حق ہو ادا کیسے کروں تیری ثنائ
اس قول میں لوں میں پناہ تجھ سے بڑا بس اک خدا
(مختار جاوید منہاس)
رباعی مذکور کے چاروں مصروں میںسے تین عربی، آخری اور چوتھا مصرع فارسی میں ہے۔ اس کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے تاہم خیال فوری طور پر شیخ سعدی کی عربی رباعی کی طرف چلا جاتا ہے۔ سعدی نے تین مصرے کہے:
بَلَغَ الُّعَلیٰ بَکَمالِہ
کَشَفَ الدُّجیٰ بَجَمالِہ
حَسَنَتُّ جَمِیعُ وَ خَصَالِہ
چوتھے مصرعے پر سعدی اٹک گئے ان کے ذہن میں آخری مصرع نہیں بن پا رہا تھا کہ ایک شب رسول اللہ کی خواب میں زیارت ہوئی۔ حضور نے چوتھا مصرع یوں ارشاد فرمایا:
صَلُّو عَلَیہِ وَآلِہ
بات عشق رسول کی ہو رہی ہے تو امام بوصیری کے اور ان کے قصیدہ بردہ شریف کا تذکرہ بھی برمحل نظر آتا ہے۔ جس کا اس شعر سے آغاز ہوتا ہے:
مولا¸ صل¸ وسلم دائماً ا¿بدا¿ علی حبیبک خیر الخلق کلھم
قصیدہ¿ بردہ شریف کے لکھنے کا واقعہ یوں ہے کہ اس قصیدے کو لکھنے سے پہلے، امام بوصیری کوڑھ کے مرض میں مبتلا تھے۔ اسی عالم میں آپ نے حالات سے پریشان ہو کر داد رسی کیلئے یہ قصیدہ تحریر فرمایا، اسی شب امام بوصیری کو خواب میں حضور پاک کی زیارت ہوئی اور آپ نے امام بوصیری کو اپنی کملی عنایت فرمائی۔ دوسرے دن جب امام بوصیری بیدار ہوئے تو وہ کملی آپ کے جسم پر موجود تھی اور آپ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے تھے۔کچھ مسلمانوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر قصیدہ بردہ شریف سچی محبت اور عقیدت کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ بیماریوں سے بچاتا ہے اور دلوں کو پاک کرتا ہے، اب تک اس کلام کی 90 سے زائد تشریحات تحریر کی جا چکی ہیں اور اس کے تراجم فارسی، اردو، ترکی، بربر، پنجابی، انگریزی، فرینچ، جرمنی، سندھی و دیگر بہت سی زبانوں میں کیے جا چکے ہیں۔آخر میں یہ بھی سن لیجئے۔ رفیق ڈوگر صاحب سے نوائے وقت کے قارئین واقف ہیں، وہ طویل عرصہ نوائے وقت سے منسلک رہے۔ 92 میں ان کو گھٹنے کا کینسر ہوا، ماہر ڈاکٹروں نے ٹانگ کاٹنے کو ناگزیر قرار دیا۔ ڈوگر صاحب نے کہا اگر بیماری خدا کی طرف سے ہی ہے تو شفا بھی منجانب اللہ ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی حضور کی سیرت پر تصنیف کا ارادہ باندھ کر اس کا آغاز کر دیا۔ پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے صحت یاب ہوئے اور چار جلدوں میں سیرت النبی کتاب تصنیف کی۔ان واقعات پر نظر ڈالنے سے بے ساختہ علامہ کا یہ شعر زبا ں پر آ جاتا ہے:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں


Monday, February 20, 2012

فوج‘ آئی ایس آئی کےخلاف امریکی و بھارتی گماشتوں کی سازشیں

 پیر ، 20 فروری ، 2012

فوج‘ آئی ایس آئی کےخلاف امریکی و بھارتی گماشتوں کی سازشیں
فضل حسین اعوان
لاپتہ افراد کے حوالے سے آج بڑا غلغلہ ہے۔ بلاشبہ 10 ہزار افراد کا لاپتہ ہو جانا کسی المیے اور سانحے سے کم نہیں لیکن ہر کیس میں فوج کو ملوث کرنا بھی درست نہیں۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے مشرف کہا کرتے تھے وہ شدت پسندوں کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں، وہ مارے گئے یا افغانستان میں ہونگے۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کا غم دیکھا نہیں جاتا۔ سپریم کورٹ لاپتہ افراد کو بازیاب کرا رہی ہے گویا لاپتہ افراد کے ملنے کی امید موجود ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائی میں 35 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ ہر ایک کے لواحقین کا غم رنج اور دکھ درد لاپتہ افراد کے لواحقین جیسا ہے۔ بلکہ کچھ بڑھ کر ہے۔ جی ایچ کیو، کامرہ کمپلیکس، آئی ایس آئی کے حمزہ کیمپ اور پریڈ لائن مسجد پر حملوں میں 300 کے قریب فوجی اور سویلین شہید ہوئے۔ ان مقامات پر حملہ کرنے والوں کو کیا فوج پھول پیش کرے؟ عسکریت پسند امریکہ کی جنگ میں اس کا ساتھ دینے پر حکومت کے خلاف مصروف عمل ہیں لیکن فوجی تنصیبات جی ایچ کیو اور آئی ایس آئی کے کیمپوں اور بسوں پر حملے اس قوت نے کرائے جوفوج کو کمزور اور آئی ایس آئی کو بے بس کر کے رکھ دینا چاہتی ہے۔ آج لاپتہ افراد کی آڑ میں فوج اور آئی ایس آئی کو ٹارگٹ بھی اسی قوت کی آشیرباد بلکہ بڑی بڑی ادائیگی کے بعد ہی کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی پاکستانی کو کسی نے بھی اٹھایا ہو اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن پرامن شہریوں اور دہشت گردوں کے درمیان فرق ضرور ہونا چاہئے۔ جن پر ہاتھ پڑنے پر امریکہ کے پیٹ میں مروڑ اٹھیں اور بھارت بے چین ہو۔ ایسے میں بھارت اور امریکہ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے والوں کی حب الوطنی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔گوادر کو مشترکہ نیول بیس بنانے کا چینی نائب وزیراعظم کا غیر سرکاری اور غیر رسمی موقف امریکہ کے گلے کی پھانس بن کر رہ گیا ہے۔ اب اسے گوادر پورٹ بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی طرح نظر آتی ہے۔ اس نے اپنی طفیلی ریاستوں کے توسط سے گوادر پورٹ کو ناکام بنانے کا ٹاسک دے رکھا ہے۔ انہی ممالک میں بلوچستان کے مفرور ہی وطن کے خلاف سازشوں کے جال بنتے ہیں۔ الطاف حسین کے لندن کے اخراجات پر تو انگلی اٹھائی جاتی ہے بلوچستان کے بھگوڑوں کے اخراجات کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا۔
موجودہ حکمرانوں سمیت ہر دور کے حکمران کو فوج کو فکس کرنے کا شوق رہا ہے۔ جونیجو کے وزیر دفاع رانا نعیم نجی محفلوں میں کہتے تھے اب جرنیل (اوجڑی کیمپ کے حوالے سے) قابو آئے ہیں لیکن جرنیلوں پر گرفت سے قبل جنرل ضیاءالحق نے اپنی ہی تخلیق جمہوری حکومت کا ”گھُٹ“ بھر لیا۔ یہ یقیناً جنرل ضیاءکی بہت بڑی غلطی تھی جس سے فائدہ امریکہ نے اٹھایا پھر جو کچھ پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ ہوتا رہا اور ہو رہا ہے، وہ سامنے ہے۔ نواز شریف کے وزیر مشاہد حسین بھی ڈنڈے کی بات کیا کرتے تھے، گیلانی کا اپنی ہی فوج کے بارے میں اشتعال تاریخ میں رقم ہو چکا ہے۔ امریکہ ملک کی سرحدوں کی محافظ، ایٹمی پروگرام کی گارڈین فوج اور اندرونی طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے اور مقامی و عالمی سطح پر سی آئی اے، را، موساد، رام کا مقابلہ کرنے والی آئی ایس آئی کو کمزور کرنے کیلئے جو ہو سکتا ہے کر رہا ہے۔ وہ یہ جنگ میڈیا کے ذریعے بھی جیتنا چاہتا ہے۔ فوج نے ایبٹ آباد آپریشن پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، سلالہ چیک پوسٹ سانحہ کے بعد سخت موقف اپناتے ہوئے نیٹو سپلائی معطل کی، شمسی ایئربیس خالی کرایا تو گویا امریکہ کی دم پر پاﺅں رکھ دیا جس سے امریکی گماشتوں کو پسو پڑ گئے۔ ہمارے حکمرانوں کا بس چلتا تو نیٹو سپلائی کی معطلی کی نوبت ہی نہ آتی۔ بھارت کو ویزہ کے فری سٹیٹ قرار دے دیا جاتا‘ شمسی ایئربیس خالی نہ ہوتا۔ امریکہ اور بھارت کے اشاروں پر ناچنے اور پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے میڈیا گروپس‘ سیاستدان سیاسی پارٹیاں اور دیگر حلقے بے شناخت نہیں۔ لیکن کچھ لوگ نادانستگی میں ان کی جعلی و جذباتی باتوں میں آکر ان کے شانہ بشانہ ہو جاتے ہیں وہ ذرا دانشمندی سے کام لیں۔ اپنے پرائے میں فرق کریں۔ پاکستان کے مفادات اور نقصانات کو مدنظر رکھیں۔ فوج اور آئی ایس آئی کمزور ہوئی تو سمجھ لیجئے آپ کا ایٹمی پروگرام گیا۔ کشمیر سے دستبرداری ہو گئی اور غلامی کا طوق طویل عرصے تک گلے میں پڑ گیا۔ فوج ایوب‘ ضیاءاور مشرف کا نام نہیں۔ وہ ایک ادارہ ہے جس کے ہر فرد نے پاکستان کے تحفظ کی قسم کھائی اور عہد کرکے اسے نبھایا اور نبھا رہا ہے۔ اقتدار پر شب خون مارنے والے جرنیلوں سے خدا نے نبٹ لیا۔ موجودہ اپنے کام سے کام رکھنے والی قیادت کو آمروں کی صف میں لاکھڑا نہیں کیا جا سکتا جس نے بار بار موقع ملنے کے باوجود بھی کوئی غیر آئینی اقدام نہیں اٹھایا۔ اس لئے قوم ملکی دفاع کی خاطر‘ ایٹمی پروگرام کے تحفظ کے لئے فوج اور آئی ایس آئی کے شانہ بشانہ ہو کر امریکی گماشتوں اور بھارتی شرد ھالوںکی سازش کو ناکام بنا دے۔(ختم شد)

Sunday, February 19, 2012

فوج‘ آئی ایس آئی کےخلاف امریکی و بھارتی گماشتوں کی سازشیں

 اتوار ، 19 فروری ، 2012

فوج‘ آئی ایس آئی کےخلاف امریکی و بھارتی گماشتوں کی سازشیں
فضل حسین اعوان
یو ایس ایس آر ٹوٹا تو یو ایس اے کو دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کا اعزاز مل گیا۔ USSR کو ٹکڑوں میں بکھیرنے میں نوے فیصد کردار پاکستان کا تھا گویا امریکہ اگر دنیا کی واحد سپر پاور بنا تو اس میں پاکستان کا کردار اہم ترین تھا۔ عالمی تھانیدار بننے کے بعد امریکہ کو انکساری تحمل اور بردباری سے کام لینا چاہئے تھا لیکن اس نے پوری دنیا کو اپنی لائن پر چلانے کی کوشش کی۔ اس میں اسے کامیابیاں بھی ملیں۔ تو اس کا حوصلہ بڑھتا چلا گیا۔ اپنی چودھراہٹ کے زعم میں اسے ویتنام سے ملنے والا سبق بھول گیا اور پھر سے جنگ و جدل اور ملکوں کو فتح کرنے نکل پڑا۔ کس کو جینے کا حق دینا ہے‘ کس سے یہ حق چھین لینا ہے وہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے۔ پاکستان میں اکثر امریکہ کے حوالے سے غلامانہ ذہنیت کے حکمران آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جرات رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایٹمی پروگرام کے حصول کی کاوش کی تو امریکہ کی نظر میں مطعون ٹھہرے۔ دھمکیوں کو بھی خاطر میں نہ لائے تو پی این اے بنوا کر ان کا تختہ الٹوا دیا۔ پھر تختہ دار پر بھی چڑھا دیا۔ بھٹو کی ہی طرح جنرل ضیاءالحق نے بھی ایٹمی پروگرام کو جاری رکھا۔ وہ بھی راندہ درگاہ ٹھہرے لیکن ان کی افغان وار میں امریکہ کو ضرورت تھی اس لئے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے درگزر سے کام لیا۔ روس افغانستان سے نکلا تو پاکستان کا ایٹمی پروگرام عروج حاصل کر چکا تھا۔ جس کا سہرا جنرل ضیاءالحق کے سر تھا اس لئے ان کا سر لے لیا گیا۔ امریکہ کے تن بدن میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر آگ لگی تھی اس پر میاں نواز شریف کے 28 مئی 1998ءکے دھماکوں نے تیل چھڑک کر اس آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ امریکہ کو امید تھی کہ کبھی تو اس کی مرضی کی حکومت آئے گی جو ایٹمی اثاثے اس کے قدموں میں ڈھیر کر دے گی۔ اس کی امیدوں پر پانی یوں پھر گیا کہ ایٹمی اثاثوں پر مکمل کنٹرول فوج کے پاس ہے۔ یہی امریکہ اور اس کے حامی یا اتحادی ممالک کا دکھ ہے۔ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں تک اپنی دسترس کی راہ میں پاک فوج کو رکاوٹ سمجھتا ہے۔ یقیناً ایسا ہی ہے۔ ایٹمی پروگرام ”سیاسی قیادت“ کے ہاتھ میں ہوتا تو اب تک اس کو ترک کرنے کی قیمت لگ چکی ہوتی اور رقم سوئٹزر لینڈ کے بنکوں میں جمع ہو چکی ہوتی۔ امریکہ اس رکاوٹ کو ہٹانے کے لئے سرتوڑ کوشش کرتا ہے۔ فوج کے مضبوط ہوتے ہوئے اس کی کوئی سازش پنپ سکتی ہے نہ کوئی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے لہٰذا وہ پاک فوج کو اس حد تک کمزور کر دینا چاہتا ہے کہ اس کی ایٹمی پروگرام پر گرفت ڈھیلی ہو جائے۔ 
پاکستان میں ایک طبقہ‘ میڈیا کا معتدبہ حصہ اور سیاستدانوں کا بڑا طبقہ فوج کو بدنام اور کمزور کرنے کے لئے باقاعدہ امریکہ کے پے رول پر ہے۔ پاک فوج کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کی سوچ یکساں ہے۔ اس حوالے سے دانستہ یا نادانستہ ہمارے حکمران ان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان بھارت جنگوں میں سیاستدان نہیں افواج کے اہلکار شہید ہوئے۔ مسئلہ کشمیر ہنوز حل طلب ہے۔ جس فوج نے کشمیر کی خاطر قربانیاں دیں وہ مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کے ساتھ ہاتھ ملانے کا سوچ بھی نہیں سکتی چہ جائیکہ اس کے ساتھ تجارت اور اسے پسندیدہ ملک قرار دینے کی حمایت کرے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ فوج کو اعتماد میں لیا گیا ہے ۔ سراسر جھوٹ ہے۔ بلکہ یہ فوج پر بہتان ہے۔ اگر واقعی فوج کو اعتماد میں لیا ہے تو اس پر فوج سے بیان بھی دلوا دیا جائے! 
امریکہ نے ایٹمی اثاثوں تک رسائی کے لئے 2005ءکے زلزلے کے دوران امدادی کارروائیوں اور متاثرین کی بحالی کی آڑ میں سپیشل کمانڈوز اور سی آئی اے کے جاسوس پاکستان بھجوائے جس کا تذکرہ امریکہ میں شائع ہونے والی تازہ ترین کتاب ”دی کمانڈ ڈیپ ان سائیڈ دا پریذیڈنٹ سیکرٹ آرمی“ میں کیا گیا ہے۔ حسین حقانی نے ہزاروں مشکوک امریکیوں کو ویزے دان کر دئیے ان کا مقصد ایٹمی اثاثوں تک رسائی تھی لیکن پاکستان کا ایٹمی پروگرام کسی بھی ملک کے پروگرام سے زیادہ محفوظ ہے۔ امریکہ برطانیہ فرانس اور روس کے ایٹمی پروگرام کے گرد چار چار حفاظتی سرکل ہیں پاکستان کے پروگرام کے گرد پانچ ہیں۔ (1) سائنسدان (2) انجینئرز (3) انٹیلی جنس (4) فوج (5) انتظامیہ‘ اگر سرتوڑ کوشش کے باوجود امریکہ کے ماہر دہشت گرد اس تک نہیں پہنچ سکے تو اور کوئی بھی کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ غیر محفوظ ہاتھوں کا واویلا فوج کو کمزور کرنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ بلوچستان میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی فوج کو بدنام کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کے 27 اضلاع میں سے پانچ میں شورش ہے کوئٹہ‘ قلات‘ خضدار‘ بگٹی اور کوہلو ان اضلاع میں موجود اور بیرون ممالک مقیم علیحدگی پسندوں کو امداد بھارت اور امریکہ کی طرف سے ملتی ہے۔ را‘ سی آئی اے اور موساد ٹریننگ افغانستان میں دیتی ہےں۔ امریکی کانگریس کمیٹی میں بلوچستان کی آزادی کی بات ہوئی تو حربیار مری کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں اس نے لندن میں خان آف قلات سلمان دا ¶د خان اور جنیوا میں براہمداغ بگٹی سے ملاقاتیں کیں۔ جن میں بلوچستان کی آزادی کے منشور کی بات ہوئی۔ کیا یہ ملاقاتیں امریکہ کی آشیرباد کے بغیر ممکن ہیں؟ امریکہ جند اللہ کھڑی کرکے پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کی سازش بھی کر رہا ہے۔ بلوچستان میں ایف سی موجود ہے جس کو اپنی بیرکوں سے نکلنے کی اجازت نہیں۔ صوبائی حکومت جہاں چاہے اسے ڈپلائے کر سکتی ہے۔ اگر کوئی کارروائی ہوتی ہے تو بلوچستان حکومت کے حکم پر ہوتی ہے۔ شور مچایا جاتا ہے کہ فوج نے یہ کر دیا۔ وہ کر دیا۔ اس پر سیاستدان چپ سادھ لیتے کہ فوج بدنام ہو رہی ہے‘ ہوتی رہے۔(جاری ہے)