About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, May 31, 2012

شہدائے گیاری سیکٹر


 جمعرات ، 31 مئی ، 2012

شہدائے گیاری سیکٹر
فضل حسین اعوان ـ
پاک فوج نے گیاری سیکٹر سیاچن کے محصورین برف کو شہید قرار دیدیا۔ یہ فیصلہ بڑے کرب و درد اور فخر کے ملے جُلے جذبات کے ساتھ کیا گیا۔ فوج کے مطابق سانحہ کی نوعیت، شدت اور حالات کے باعث وہاں کسی فوجی کے زندہ ہونے کا امکان نہیں۔ فوج نے ان محصورین برف کو تمام مکتبہ فکر کے علماءکی مشاورت کے بعد شہید قرار دیا۔ گیاری سیکٹر میں 7 اپریل 2012ءکو 139 فوجیوں پر ایک مربع کلو میٹر کا 80 فٹ اونچا تودا گر گیا تھا۔ اب فوج نے بتایا ہے کہ دبنے والوں کی تعداد 140 تھی۔ پوری دنیا کی ماہر ٹیموں کی مدد و معاونت سے پاک فوج کے سپوتوں کو برآمد و بازیاب کرنے کی اپنی سی تگ و دو کی۔ سانحہ کو دو ماہ ہونے کو ہیں کہ صرف تین شہدا کی نعشیں مل سکی ہیں تاہم فوج آخری سپاہی کو بازیاب کرانے تک امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے لئے پُرعزم ہے۔ 
سیاچن برف سے ڈھکی چوٹیوں اور یخ بستہ وادیوں کی روح پرور اور پاکیزہ سرزمین ہے جو بھارت کی جارحیت اور توسیع پسندانہ مذموم عزائم کے باعث گدلا اور گدرا رہی ہے، اس کا ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔ جنرل کیانی نے سیاچن گلیشیرز کو دریاوں کی خوراک قرار دیا ہے جو بھارت کی خودسری و سرکشی کے باعث برباد ہو رہی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے اس علاقے پر اپریل 1984ءمیں قبضہ کیا اس کے بعد سے وطن عزیز کے چپے چپے کی حفاظت کا عزم لئے ہمارے 4 ہزار فوجی اپنی جانیں نچھاور کر چکے ہیں۔ کچھ مدمقابل فوج کے ساتھ مقابلے میں جان جانِ آفریں کے سپرد کر گئے اکثر موسم کی شدت کی نذر ہو گئے۔ بہرحال سیاچن میں ہر فوجی کی شہادت کا ذمہ دار بھارت ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر 10 لاکھ مسلمانوں کے خون کا ذمہ دار کون ہے؟ وہی بھارت جس کے پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے ناپاک منصوبوں میں کبھی کجی و کمی نہیں ہوئی، مقبوضہ کشمیر میں اس کی ساڑھے سات لاکھ سفاک سپاہ لاکھوں کشمیریوں کو خاک اور خون میں ملا چکی ہے۔ معصوم بچوں اور خواتین سمیت کوئی بھی کشمیری بھارتی فوج کی ظالمانہ و جابرانہ کارروائیوں سے محفوظ نہیں۔ اقوام متحدہ کو بھی اعتراف ہے کہ دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزیاں مقبوضہ وادی میں ہوتی ہیں اور پھر اس دشمن اسلام اور پاکستان کے علاقہ سیاچن پر قبضہ اور شاہراہ ریشم تک پہنچنے کی جستجو --- پاکستان کی طرف سے بروقت اقدامات نہ کئے جاتے تو بھارتی افواج کے ناپاک قدم سیاچن میں ہر برفیلی چوٹی تک پہنچ چکے ہوتے۔ برف پوش پہاڑوں اور یخ بستہ، پُرسکون و خاموش وادیوں کو محاذ جنگ میں بدل کر بارود کی بُو بھارت نے پھیلائی۔ قبل ازیں یہی دشمن سرکریک، جوناگڑھ، مناوادر اور حیدر آباد دکن کو اپنے مقبوضات میں شامل کر چکا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کی ناقابل فراموش ہزیمت بھی اسی کی خباثت ہے۔ بلوچستان اور فاٹا میں اس کے افغانستان میں موجود قونصل خانے بدامنی اور شورش کی آگ بھڑکائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے ہر حصے میں اس کی دہشت گردی، تخریب کاری کے زندہ ثبوت کشمیر سنگھ اور سربجیت سنگھ جیسے ہزاروں ’را‘ کے تربیت یافتہ غنڈے ہیں۔ ازلی و ابدی دشمن کے پاکستان دشمنی پر مبنی منصوبے، سازشیں اور اقدامات کے پیش نظر ہر محب وطن پاکستانی کے روئیں روئیں سے انتقام ، انتقام اور انتقام کی صدا آتی ہے۔ بدقسمتی سے جن کے ہاتھ میں قوم کی تقدیر کے فیصلے کرنے کا اختیار ہے وہ اور ان کے کاسہ لیس اسی دشمن سے انعام، انعام اور انعام کے طلبگار و خواستگار ہیں۔ اسی دشمن سے تجارت جاری ہے، تعلقات کو مزید بلندیوں پر لے جایا جا رہا ہے۔ دوستی اور پیار کی خواہش، والہانہ پن اور وارفتگی کی حسرت انتہاوں کو چُھو رہی ہے۔ ہمارے ہی خون سے کشید کی ہوئی بجلی مہنگے داموں خریدنے کی بے قراری ہے۔ اب بھارت کی پٹرولیم مصنوعات پسند آ گئی ہیں، بھارت خود ایسی مصنوعات کا محتاج ہے پاکستان کو کیا دے گا۔ بلور بھارت کو پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ساتھ کنفیڈریشن میں پرونے کے متمنی ہیں، اس میں اکھنڈ بھارت کی تکمیل کی آرزو چھپی محسوس ہوتی ہے۔ 
بھارت کے ساتھ سرنگوں کر کے معاہدے، تجارت، تعلقات، دوستی اور اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے اقدامات! کہاں گیا ہمارا دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونے کا عزم، کہاں گیا ہمارا قومی وقار اور تفاخر؟ کیا یہ سب تحریک آزادی، کشمیر، پاکستان بھارت جنگوں اور سب سے بڑھ کر سیاچن گیاری سیکٹر کے شہدا کے خون کے ساتھ غداری نہیں؟ اگر غداری ہے تو غدار کون ہے؟ کیا قوم یا فوج کا ہاتھ ان غداروں کے گریبانوں تک پہنچے گا؟ پہنچے گا تو کب؟ جب بچنے اور بچانے کے لئے کچھ بھی نہیں بچے گا؟ 
جب تک برف تلے دبنے والوں کی زندگی کی موہوم سی بھی امید تھی‘ ہم نے انہیں غازی سمجھا اور شہید قرار نہ دیا۔ اب جبکہ گیاری کے محصورین برف کو شہید قرار دیدیا گیا ہے۔ ان کے لئے قوم کو کسی جمعہ کے روز یومِ دعا منانا چاہئے جس کا اعلان حکومت فوج کے مشورے سے کرے۔ اس دن کو کوئی یومِ سوگ یا یومِ افسوس کہہ لے۔


Tuesday, May 29, 2012

یوم تکبیرقومی دن کیوں نہیں؟


منگل ، 29 مئی ، 2012

یوم تکبیرقومی دن کیوں نہیں؟
فضل حسین اعوان ـ
یوم پاکستان 23مارچ اور یوم آزادی 14اگست کے بعد پاکستانیوں کے لئے یوم تکبیر 28 مئی ایک بڑا، قابل تفاخر اور عظیم الشان دن ہے۔ 23مارچ 1940ءکو قرار داد پاکستان پیش اور منظور ہوئی۔ اسی قرار داد کی کوکھ سے 14اگست 1947ءکو عالم اسلام کی سب سے بڑی مملکت پاکستان نے جنم لیا۔ 28مئی 1998ءکو پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا۔ دنیا میں سب سے بڑی اسلامی مملکت ہونے کے ناطے مملکت خداداد کو دنیا کے کسی بھی خطے میں موجود ہر مسلمان اسلام کا قلعہ قرار دیتا تھا۔ 16دسمبر1971ءکو غیروں کی سازش، کچھ اپنوں کی غداری اور کچھ کی نالائقی سے پاکستان کے دو ٹکڑے ہوئے تو وہ قلعہ بھی زمین پر آ گرا جسے ہر خطے کا مسلمان اسلام کا قلعہ سمجھتا تھا۔ غیروں کی سازشیں بدستور جاری رہیں۔ غداران ملک و ملت بھی موجود رہے۔ اقتدار کے ایوان نااہلیت سے کبھی خالی نہیں ہوئے لیکن اب ان سب میں تال میل بھی ہو جائے تو بھی سازشیں اس حد تک پنپ نہیں سکتیں کہ بچے کھچے پاکستان کو 16دسمبر1971ءجیسے نقصان سے دو چار کر سکیں۔ اس کا سبب پاکستان کا ناقابل تسخیر دفاع ہے جو 28مئی 1998ءکو پاکستان کے اعلانیہ ایٹمی قوت بننے پر ہوا۔ یقینا 28مئی کی یوم پاکستان اور یوم آزادی کی طرح اہمیت و حیثیت ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کی طرف سے ایٹمی پروگرام کی ابتداءپاکستان اور پاکستانیوں کے لئے ایک قابل فخر اور شاندار کارنامہ ہے۔ذوالفقار علی بھٹو یقینا پاکستان کے ایٹم بم کے بانی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس کے معمار اور پاکستان کو عالم اسلام کی اعلانیہ ایٹمی قوت بنانے کا سہرا میاں محمد نواز شریف کے سر ہے جنہوں نے ہر دباﺅ اور لالچ کو مسترد کرکے بھارت کے 11مئی کے پانچ دھماکوں کے جواب میں سات دھماکے کرکے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر دنیا کے ہر مسلمان کے لئے اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ بنا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر 28مئی 1998ءکے دھماکوں کے دن تک ہر پاکستانی حکمران خراج تحسین کے لائق ہے۔ جنرل محمد ضیاءالحق، بینظیر بھٹو، میاں نواز شریف اور غلام اسحق خان اور ان کے ساتھیوں کے دامن پر کرپشن، جمہوریت کوریل ڈی ریل کرنے، جیسے داغ اور الزامات تو ہو سکتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی ایٹمی پروگرام پر کسی لمحے بھی کمپرومائز نہیں کیا۔ تا آنکہ پاکستان دنیا کی ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بن گیا۔
پاکستان کا ایٹمی طاقت بننا ایک کٹھن منزل تھی جسے سر کرنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاءالحق اور نواز شریف کا اقتدار گیا۔ اوّل الذکر دو کی جان بھی جاتی رہی نواز شریف کی جان خوش بختی سے بچ گئی۔ یوم پاکستان اور یوم آزادی کی سی اہمیت کے حامل یوم تکبیر کو ہمارے سیاستدانوں اور جمہوریت دانوں نے فراموش کرکے رکھ دیا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اس دن کو بھی قومی دن کے طور پر اپنایا جائے۔ ایسا کرنے میں کوئی مشکل بھی نظر نہیں آتی۔ مرکز سندھ اور بلوچستان میں ذوالفقار علی بھٹوکی پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے خیبر پی کے میں اس کے اتحادیوں کی حکمرانی ہے۔ پنجاب پر میاں نواز شریف کی مسلم لیگ ن پر جاپت پرجاپال و پرجاپالک ہے۔ افسوس صد افسوس کہ پورے ملک میں پنجاب سمیت یوم تکبیر کو شایان شان طریقے پر منانے کا کوئی سرکاری اہتمام نہیں کیا گیا۔ یوم تکبیر آیا، قومی و سرکاری سطح پر اپنی عدم پذیرائی پر حیراں ہوا اور مسافر پریشاں کی طرح گزر گیا۔ اگلے سال پھر یقینا آئے گا شاید اپنے راستے میں کہکشاں بچھائے جانے کی امید لے کر۔ 
پاکستان پیپلز پارٹی اپنے اکابریں کی برتھ ڈے اور برسیاں بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر سندھ میں تعطیل بھی کی جاتی ہے۔ مسلم لیگ ن کسی سیاسی شہید کی عدم دستیابی کے باعث 12اکتوبر پر یوم سیاہ کا انتظام کرتی ہے لیکن دونوں پارٹیاں یوم تکبیر پر خاموش رہتی ہیں حالانکہ یہ دونوں پارٹیوں کی قیادت کے لئے بہترین خراج تحسین کا دن ہے۔ قومی دن منانے کے لئے تعطیل کی ضرورت نہیں۔ تعطیلات قوم پہلے ہی ضرورت سے زیادہ کر رہی ہے۔ یوم تکبیر سادہ تقریبات، قرآن خوانی و سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کے لئے دعاﺅں کی محافل سجا کر بھی منایا جا سکتا ہے۔ 1999ءمیاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کے بعد یوم تکبیر نظریہ پاکستان ٹرسٹ ہر سال شایان شان طریقے سے مناتا چلا آ رہا ہے۔ سیاستدانوں کو اس سے ہی کوئی سبق سیکھ کر سرکاری سطح پر منانے کا عہد و پیمان اور انتظام کرنا چاہئے۔ گذشتہ روز میاں نواز شریف نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی یوم تکبیر کی تقریب کے دُلہا تھے۔ اس موقع پر پورے پنجاب کو جشن مناتے ہوئے باراتی ہونا چاہئے تھا۔ امید ہے کہ حکومتی و غیر حکومتی سیاستدان اگلے سال یوم تکبیر قومی دن کے طور پر منانے کا اہتمام فرما دیں گے۔ یوم تکبیر زندہ باد.... پاکستان پائندہ باد!


Sunday, May 27, 2012

دہری شہریت


 اتوار ، 27 مئی ، 2012

دہری شہریت
فضل حسین اعوان ـ
فرح ناز اصفہانی کے آباﺅ اجداد اصفہان ایران سے پاکستان منتقل ہوئے ہوں گے۔ خود ان کی پیدائش کراچی کی ہے۔ ان کے خاوند حسین حقانی پاک فوج کی قیادت کے خلاف جال بننے کا انکشاف ہونے تک امریکہ میں پاکستانی سفیر تھے۔ ان کی اچھل کود، بازیوں اور قلابازیوں کے باعث پاکستان میں ایک حلقہ موصوف کو امریکہ میں پاکستان کی بجائے امریکہ کا سفیر ہی قرار دیتا تھا۔ آج ان کا فوج اور عدلیہ کے خلاف اگلا جانے والا زہریلا پراپیگنڈہ بھی یہی ثابت کرتا ہے حقانی محترم سفارتکاری کے دوران فوج سے اظہار بیزاری اور سفارتکاری چھن جانے کے بعد عدلیہ پر سنگ باری کر رہے ہیں۔ ان کی سفارتکاری کے دوران ہر تیسرا کالم نگار میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کی بنیاد پر حسین حقانی کی دہری شہریت پر اپنے اپنے طور پر تبصرہ کر رہا تھا تو حقانی صاحب شاید نیند سے ہڑ بڑا کر اٹھے یا کسی کے پٹاخہ چھوڑنے پر نشہ ہرن ہوا تو برادرم اجمل نیازی کو ہرجانے کا نوٹس بھجوانے کی وارننگ دیدی۔ گویا دہری شہریت کو اپنے لئے گالی تصور کیا۔ اب سپریم کورٹ نے ان کی اہلیہ محترمہ کے بیک وقت پاکستانی و امریکی شہری ہونے کی بنا پر قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ فرح ناز اصفہانی امریکہ میں پہلے پاکستانی سفیر مرزا ابوالحسن اصفہانی کی پوتی ہیں۔ فرح ناز کا بڑا پن یہ ہے کہ انہوں نے دہری شہریت کا بغیر کسی بہانہ بازی اور حیلہ سازی کے اعتراف کیا ہے۔ شاید اس لئے کہ وہ خالصتاً سیاستدان نہیں ایک صحافی بھی ہیں۔ تاہم یہ معاملہ چیف جسٹس کے نوٹس میں لانے کا اعزاز ہماری کالم نگار محترمہ طیبہ ضیاءکو حاصل ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اصفہانی سے زیادہ حقانی اور ان سے بھی زیادہ زرداری وگیلانی کے مشیران بیانی جھکڑ اور طوفانی چکر چلا رہے ہیں۔ حقانی کا سوال ہے کہ دیگر بہت سے ارکان پارلیمنٹ بھی دہری شہریت کے حامل ہیں تو رکنیت صرف اصفہانی کی کیوں معطل کی گئی ہے؟ ماہرین اس کے جواب میں کہتے ہیں عدلیہ نے دوسروں کو ریلیف تو نہیں دیا کہ ان کی اہلیہ کو بھی دیا جائے؟ دیگر ارکان کی حقانی صاحب دہری شہریت ثابت کریں۔ عدلیہ نوٹس نہ لے تو عدلیہ پر تنقید جائز ہے۔ 
آگے چلنے سے قبل ایک نظر امریکی و برطانوی شہریت کے حلف نامے پر ڈال لیجئے۔ 
امریکی شہریت کا حلف: میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں امریکی شہریت اختیار کرنے کے بعد امریکہ کے علاوہ کسی بھی ملک، حکومت یا ریاست کے ساتھ کسی قسم کی وابستگی نہیں رکھوں گا اور یہ کہ میں کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت سے دستبردار ہو جاﺅں گا۔ یہ کہ میں امریکی ریاست، آئین اور قانون کا اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے تحفظ کروں گا اور ان کا ہر قیمت پر دفاع کروں گا۔ یہ کہ میں امریکی ریاست، آئین اور قانون کا ہمیشہ وفادار رہوں گا۔ یہ کہ میں قانون کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکہ کے دفاع اور تحفظ کے لئے ہتھیار اٹھاﺅں گا۔ یہ کہ میں قانون کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکی افواج میں غیر فوجی خدمات کی ادائیگی کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوں گا۔ یہ کہ میں سول حکومت کی ہدایت پر ہر قسم کا قومی فریضہ سرانجام دینے کے لئے دستیاب ہوں گا۔ یہ کہ میں بقائمی ہوش و حواس اپنی آزادانہ مرضی سے یہ حلف اٹھا رہا ہوں اور اس حلف کے مندرجات سے پہلو تہی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ خدا میرا حامی و ناصر ہو۔ 
برطانوی شہریت کا حلف: میں پوری سنجیدگی اور خلوص نیت سے حلف اٹھاتا ہوں کہ برطانوی شہریت اختیار کر کے میں برطانوی قوانین کی پاسداری میں ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم اور شاہی خاندان کا وفادار رہوں گا۔ میں برطانوی ریاست کا وفادار رہوں گا اور اس کے حقوق و فرائض اور آزادی کی عزت، حفاظت اور احترام کروں گا۔ میں برطانیہ کی جمہوری روایات کو مقدم اور سربلند رکھوں گا۔ برطانوی شہری کی حیثیت سے میں برطانوی قوانین پر مکمل عملدرآمد کروں گا اور اپنے فرائض غفلت کا مرتکب نہیں ہوں گا۔ 
وزیر اعظم گیلانی توہین عدالت کیس میں زخم خوردہ اٹارنی جنرل جناب عرفان قادر کا فرمان ہے کہ امریکی شہریت کا حلف لینے والے پاکستانی یہ حلف مجبوراً اٹھاتے ہیں۔ ان کی ہمدردیاں تو پاکستان کے ساتھ ہیں.... اب دیکھئے کہ ان پاکستانیوں کی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کی کیا مجبوری ہو سکتی؟ ان کے سر پر کسی نے تلوار لہرا ، کرپان لٹکا رکھی ہے کہ حلف اٹھاﺅ ورنہ تلوار گردن پر چلے گی! چلو امریکی و برطانوی شہریت مجبوری ہے یہ عام پاکستانی کی مجبوری تو ہو سکتی ہے حکمرانوں کی کیا مجبوری ہے؟ ارکان پارلیمنٹ کی کیا مجبوری ہے؟
حلف ایک قسم ہے جس طرح کسی کے دو خدا نہیں ہو سکتے اسی طرح بیک وقت دو ملکوں سے وفاداری کا حلف بھی نہیں دیا یا لیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے درست کہا رکن پارلیمنٹ صدر اور وزیر اعظم بن سکتا ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں اس کی امریکہ و برطانیہ سے وفاداری کی قسم اٹھانے پر پاکستان سے وفاداری کی کیا حیثیت ہو گی؟ وزیر داخلہ رحمن ملک برطانیہ کی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ لانے کے لئے اس طرح چکر چلا رہے جس سے ان کی پارٹی وزیر اعظم گیلانی کا کیس کم از کم آئندہ انتخابات تک لٹکانے کے لئے سرگرداں ہیں۔ سپریم کورٹ نے بالکل درست ایکشن لیا ہے۔ پارلیمنٹ یا کسی بھی سرکاری عہدے پر دہری شہریت والا ایک بھی فرد نہیں ہونا چاہیے۔ 
ضروری ہے کہ پاکستانی صرف پاکستانی ہو۔ ایک ہی وقت میں پاکستانی اور امریکی و برطانوی نہ ہو۔ حکومت پاکستان میں کرتے ہیں جا کر بیرون ملک مرتے ہیں، دفن پاکستان کرنے کی وصیت کی ہوتی ہے۔ کیا پاکستان صرف حکمرانی اور قبرستانی کے لئے رہ گیا ہے۔ دوہری شہریت والوں کے لئے اگر صرف پاکستان کی شہریت رکھنے کا قانون نہیں بن سکتا تو یہ قانون آسانی سے بن سکتا ہے کہ مرنے کی صورت میں دوہری شہریت والے اس ملک میں دفن ہوں جس کی شہریت لے رکھی ہے۔

Thursday, May 24, 2012

اردگان کی بھی سنیں


جمعرات ، 24 مئی ، 2012

اردگان کی بھی سنیں!
فضل حسین اعوان ـ
عالمی قوتیں Might is Right یعنی جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے مقولے پر عمل پیرا ہیں اور یہ کلیہ پاکستان جیسے ممالک میں بڑی کامیابی سے آزما رہی ہیں۔ امریکہ کو افغانستان پر چڑھائی کے لئے پاکستان کے تعاون کی ضرورت تھی جو جنرل پرویز مشرف نے بڑی آسانی سے فراہم کر دیا۔ اس کے بعد نیم جمہوری اور پھر موجودہ مکمل جمہوری حکومت وجود میں آئی لیکن پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جنجال اور جال میں پھنستا اور مسائل و مصائب کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ 
ترک وزیراعظم طیب اردگان نے پاکستان کے تین روزہ دورہ کے دوران اپنے تجربات کی روشنی میں پاکستانی سیاستدانوں کو کچھ معاملات میں بالکل واضح اور کچھ میں اشاروں کنایوں میں مشورے دئیے اور کچھ رموز سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو جمہوریت کی اہمیت اور اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا۔ اپوزیشن کو احساس دلایا کہ اس کا کام حکومت گرانا نہیں حکومت کی اصلاح کرنا ہے۔ حکمرانوں کو بھی باور کرایا کہ وہ بھی شعور کے مطابق اندازِ حکمرانی اپنائیں۔ ترک بھی ہماری طرح تین مارشل لاوں کے زیر عتاب اور زیر عذاب رہے۔ وہاں ایک جمہوری وزیراعظم عدنان مندریس کو جرنیلی حکومت نے پھانسی پر چڑھایا تو پاکستان میں بھی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جرنیلی آمریت نے تختہ دار تک پہنچایا۔ فوج نے پس پردہ رہ کر نجم الدین اربکان کو وزارت عظمیٰ کا منصب چھوڑنے پر مجبور کیا تو یہاں بھی 1993ءمیں اُسی طریقے سے وزیراعظم میاں نواز شریف کو اقتدار سے الگ کیا گیا۔ طیب اردگان نے درست کہا کہ جمہوریت آسانی سے نہیں ملتی۔ اس کا طیب اردگان کو احساس بھی ہے اور وہ جمہوریت کی آبیاری کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، یہی سبب ہے کہ وہ اقتدار کے لگاتار اور تیسری بار شہسوار ہیں۔ ہمارے ہاں پہلی ٹرم شروع ہوتے ہی حکمرانوں کی ناہنجاری ہر ادارے کی بیماری اور عوامی بیزاری کا باعث بن گئی۔ اب معاملات اس نہج پر ہیں کہ جمہوریت چراغِ سحر معلوم ہوتی ہے۔ آج بُجھا کہ ابھی بُجھا۔ ہمارے سیاستدان شجرِ نوبہار کی اسی شاح کو کاٹ رہے ہیں جس پر خود بیٹھے ہیں۔ شاید طیب اردگان کی کوئی بات ان کے پلے پڑ گئی ہو اور اب کچھ وقت جمہوریت کی بقا، عوامی فلاح کے لئے بھی نکال لیں۔ 
طیب اردگان مائٹ از رائٹ کا اپنے الفاظ میں ”طاقت ور ہمیشہ درست“ کا ترجمہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ، ثابت کرنا ہو گا کہ ”طاقت ور ہمیشہ درست“ مفروضہ غلط ہے۔ وہ تو ثابت کر چکے ہیں۔ جس طرح کا تعاون جنرل پرویز مشرف سے مانگا گیا اُسی طرح کا امریکہ نے عراق پر حملہ کے لئے ترکی سے بھی مانگا تھا۔ ترکی کے عراق کے ساتھ اپنے بھی تنازعات ہیں لیکن اس نے امریکہ کو فوجی اڈے دئیے نہ کرائے پر فوجی دئیے۔ امریکہ اپنا ماز از رائٹ کا اختیار اور حق ذہن اور زمین کی زرخیزی دیکھ کر ہی استعمال کرتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ زرخیزی کچھ زیادہ ہی پائی جاتی ہے۔ طیب اردگان نے گو نیٹو سپلائی کی بحالی کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیا ساتھ یہ بھی باور کرا دیا کہ اس مفروضے کو غلط ثابت کرنا ہو گا کہ طاقت ور ہمیشہ درست ہوتا ہے۔ 
آج ہمارا سب سے بڑا درد ڈرون حملے ہیں جو بچوں اور عورتوں سمیت 3 ہزار افراد کی جان لے چکے ہیں۔ امریکی حکام اعتراف کرتے ہیں کہ ان میں صرف اڑھائی تین فیصد مطلوبہ لوگ تھے باقی سب معصوم افراد موت کے بے رحم پنجوں میں جکڑے گئے۔ 5 ہزار عساکر اور 35 ہزار سویلین اس نامُراد جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں ان میں سے اکثر ڈرون حملوں کے ردعمل میں پروا ن چڑھنے والے خودکش بمباروں کے اشتعال کی نذر ہوئے۔ پاکستان کی طرف سے سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے ردعمل میں نیٹو سپلائی بند کی گئی تو ایک اُمید کی شمع جلتی محسوس ہوئی کہ اب اس خوفناک جنگ سے چھٹکارا ممکن ہے جس کے سائے موت بن کر ہر پاکستانی کے سر پر منڈلا رہے تھے لیکن اب وہ اُمید دم توڑ گئی ہے اور اُمید کی شمع بُجھا چاہتی ہے۔ امریکہ سے بھی بڑھ کر ہماری قیادتیں سپلائی بحالی کے اعلان کے لئے بے قرار نظر آتی ہیں --- ہاں اعلان کے لئے، عملی طور پر تو سپلائی بحال ہو چکی ہے۔ اعلان قوم کے اشتعال‘ اُبال اور اپنے زوال سے بچنے کے لئے نہیں کیا جا رہا۔ اس کے باوجود بھی اُمید کی جانی چاہئے کہ طیب اردگان کی باتوں، ان کے کردار اور جراتِ اظہار کا ہمارے حکمران پر اثر ہوا ہو گا۔ زرداری صاحب امریکہ سے واپس تشریف لائیں گے تو پوری قیادت مل بیٹھ کر طاقت ور ہمیشہ درست کے فارمولے کو غلط ثابت کرنے کا کوئی لائحہ عمل اپنائے گی۔ خدا نہ کرے کہ طیب اردگان کا دورہ‘ ان کے مشورے اور کہا سُنا بھینس کے آگے بین ثابت ہو۔


Sunday, May 20, 2012

امن کی لاشیں


 اتوار ، 20 مئی ، 2012


امن کی لاشیں
فضل حسین اعوان
وہ بدنصیب باپ جس کے نصیب میں ارضِ پاک پر سجدہ ریز ہونا نہیں لکھا تھا اپنے لختِ جگر کا کٹا سر اُس کے دھڑ سے جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا پورا خاندان اس کی آنکھوں کے سامنا کٹا، بیٹے کے قتل پر تنہا رہ گیا تو شاید پاگل ہو گیا تھا۔ اتنے میں خودسر قاتلوں کا قافلہ نمودار ہوا تو ہزار لاشوں کے ڈھیر میں ایک کا مزید اضافہ ہو چکا تھا۔ اب ایک دوسرے کے قریب دو سر اور دو دھڑ پڑے تھے۔ باپ بیٹے کے دھڑ اور سر۔ بیٹے کی آنکھیں باپ نے بند کر دی تھیں باپ کی کھلی آنکھیں آسمان کی طرف بارگاہِ الٰہ میں فریاد کناں تھیں کہ الٰہی میرا قصور کیا تھا؟ --- بچے کی عمر کیا تھی؟ یہ بحث لاحاصل ہے۔ کسی کے باپ اور اس کی ماں سے پوچھیں بیٹا کس عمر میں پیارا لگتا ہے؟ بچپن میں لڑکپن میں یا جوانی میں؟ 
ایک بزرگ بتاتے ہیں کہ ان کے سکھوں کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔ اُجاڑے پڑے تو کرتا دھرتا سکھوں نے نمائندہ مسلمانوں کو بلایا کہ آپ کی ہجرت کے لئے آسانی کا لائحہ عمل طے کر لیں۔ 35 عمائدین سکھوں کے ساتھ میٹنگ کے لئے چلے گئے، ان سب کو قتل کر دیا گیا۔ ان مقتولین کے خاندانوں پر بھی شبِ خون مارا گیا۔ ان میں سے کسی خاندان کا ایک فرد آگ کا قلزم عبور کر کے پاک سرزمین پر پہنچا یا دو پہنچنے میں کامیاب ہو سکے۔ آزادی کی دہلیز پر جو قتل و غارت ہوئی وہ اس شعر کی زندہ تعبیر تھی ع 
کہ خولِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
سرزمین ہند لاشوں کا میدان بن چکا تھا۔ ندی نالے اور دریا تک لاشوں سے اٹے ہوئے تھے۔ کنووں میں ظالموں نے زخمیوں کو اُٹھا پھینکا، بعض عزت مآب خواتین آبرو بچانے کے لئے کود گئیں۔ ایسے ایسے مظالم ہوئے جن کو بیان کرنے والا بھی کوئی زندہ نہ بچا۔ بہرحال یہ حقیقت تھی کہ میدان خون سے رنگین اور لاشوں سے اٹے تھے۔ بچوں کی لاشیں، جوانوں کی لاشیں بوڑھوں کی، عورتوں کی لاشیں۔ کسی لاش کی عبا اُدھڑی اور کسی کی قبا اُتری ہوئی تھی۔ کسی کا آنچل چہرے سے سرکا ہوا تو کسی کی ردا سر سے اُتری ہوتی تھی۔ کسی کا دامن تار تار تھا تو کسی کے سینے سے خنجر پار تھا زندہ انسانوں کو لاشوں میں بدلنے والے ان پر بھنگڑا ڈال رہے تھے۔ اکثر ایسی لاشیں تھیں جن پر ماتم کرنے والے بھی قریب ہی لاش بنے پڑے تھے۔ پاکستان میں آج بہت سے لوگ ہیں جو ان لاشوں پر آنسو بہاتے ہیں۔ مرنے والے کسی کے ماں باپ تھے، کسی کے بہن بھائی اور مامے چاچے تھے اب وہ شاید دنیا سے رخصت ہو گئے یا ضعیف العمر ہوں گے البتہ ان کی نسلیں اپنے آباءکا غم یقیناً قیامت تک نہ بھلا پائیں گی اور جس نے یہ درد دیا، یہ زخم دیا، روح تک کو گھائل کر دیا کیا ان کو بھلا دیں گے یا معاف کر دیں گے؟ ہم کچھ نہیں کہتے آزادی کے دوران جو ستم ڈھائے گئے اس قسم کی کیفیت یا اس سے کئی گنا کم اذیت سے گزرنے والے بتائیں وہ اذیت سے دوچار کرنے والوں کو معاف کر سکتے ہیں؟ 
تقسیم کی دہلیز پر جو کچھ ہوا وہ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں دہرایا جا رہا ہے، لاشیں گر رہی ہیں، حوا کی بیٹیوں کی بے حرمتی ہو رہی ہے، اس کے باوجود بھی ایک طبقہ اُس وقت کے آج کے ستم گروں کے ساتھ دوستی کا خواہشمند ہے بلکہ خود تو دوستی نبھا بھی رہا پوری قوم کو بھی دشمن کے ساتھ گلے ملنے اور ایک دستر خوان پر شیر و شکر ہونے کا درس دے رہا ہے۔ 
روشن مستقل اور اپنی زندگی اسلامی اقدار کے مطابق بسر کرنے کی خواہش لئے آگ اور خون کا دریا عبور کرتے ہوئے جو تاریک راہوں میں مارے گئے تھے اُن کے وارث اور لواحقین ہم سب پاکستانی ہیں، جو ان شہدا کے خون سے کسی صورت بے وفائی نہیں کر سکتے۔ آج جن لوگوں نے بھارت کے ساتھ تعلقات و دوستی کا واویلا مچایا ہوا اور ساتھ ہی تنازعات پُرامن طریقے سے حل کرنے کا ڈھونگ رچایا ہوا ہے۔ ان کی تاریخ اور خاندانی پس منظر کا جائزہ لیجئے ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جن کے خاندان کا آزادی کے دوران خون کا ایک قطرہ بھی بہا ہو۔ یہی امن کی آشا کا پرچم اٹھائے ہوئے ہیں، یہی بڑھ چڑھ کر بھارت کے ساتھ تجارت، دوستی اور اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی تقریریں اور باتیں کرتے ہیں۔ خدا کے لئے مسلمان نہ سہی انسان تو بنئے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کا خون ہو رہا ہے، انسانیت سسک رہی ہے اس کا خیال کیجئے۔ کم از کم آزادی کشمیر کو ہی بھارت کے ساتھ تعلقات، تجارت اور دوستی سے مشروط کر دیجئے۔ اس سب کے باوجو بھی دشمن کے ساتھ تعلقات و تجارت کی خواہش ہے تو سمجھ لیجئے آپ بے گور و کفن لاشوں پر، ما ¶ں بہنوں کی عصمتوں پر بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔ گویا آپ کی کاوش امن کے لئے نہیں امن کی لاشیں گرانے اور اٹھانے کے لئے ہے۔


ممتا کے جذبات ۔ اور طاقتور ترین ماں



شفق ۔۔۔ فضل حسین اعوان 
ممتا کے جذبات ۔ اور طاقتور ترین ماں
ماں، بہن، بیٹی‘ بیوی الغرض عورت ہر روپ میں مرقع احترام‘ منبع الفت و محبت اور پیکر حُسن و جمال ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا 
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ 
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں 
کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس مقولے سے کلی اتفاق کریں یا جزوی اختلاف، تاریخ کے مطالعہ سے اس مقولے کے حق میں کافی دلائل تلاش کئے جا سکتے ہیں۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہو۔ البتہ عورت کی حیثیت اور اہمیت مسلمہ ہے۔ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہرہؓ کا نامِ نامی اسمِ گرامی سُن اور پڑھ کر سر احترام سے تسلیم خم اس لئے ہو جاتا ہے کہ انہوں نے کٹھن حالات میں زندگی گزاری اور اپنی اولاد کی اس نہج پر تربیت کی کہ ضرورت پڑنے پر دین کی خاطر کربلا میں باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے قلم کروا لیا۔ عظیم ما ¶ں کا ذکر آئے گا تو حضرت آمنہ سرِفہرست ہوں گی جنہوں نے وجہ تخلیقِ کائنات کو جنم دیا۔ حضرت حواؑ تو ہم سب کی ماں ہیں۔ حضرت مریمؑ کی ممتا کی گواہی قرآن حکیم نے دی ہے۔ ملکہ سبا کے تذکرے کے بغیر عظیم عورتوں کی تاریخ ادھوری رہے گی۔ مہر النسا عرف نورجہاں جہانگیر کی دل کی دھڑکن تھی وہ اس کی قربت سے فرقت کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اسی مہر النساءکے کہنے پر جہانگیر نے مجدد الف ثانیؒ کو قید کیا تھا۔ امورِ سلطنت کی انجام دہی کے لئے ملکہ کا ہاتھ بادشاہ کی پُشت پر ہوتا تھا۔ انسانی کھوپڑیوں سے محل تعمیر کرنے والا دنیا کا ظالم ترین انسان ہلاکو خان اپنی ملکہ زرتاج کے پاس جاتا تو تلوار اُلٹی کر کے یوں جھک جاتا جیسے وہ اس کے حضور پیش ہو رہا ہو۔ ملکہ سبا کا بھی بڑا نام ہے۔ اس کی آدھی دنیا میں بادشاہت تھی۔ حضرت سلیمانؑ نے ملکہ سبا کو جھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ 
آج نمبر ون، مقبول ترین، مضبوط ترین اور نہ جانے حسین ترین سمیت کیا کیا ترین قرار دینے کی رسم چل نکلی ہے۔ گزشتہ سال کے وسط میں جرمنی کی چانسلر انجلینا مرکل کو دنیا کی بااثر ترین خاتون قرار دیا گیا۔ ہلیری کلنٹن دوسرے نمبر پر رہیں۔ گزشتہ روز ما ¶ں کے عالمی دن کے موقع پر ایک عالمی جریدے فوربز نے طاقتور ما ¶ں کی فہرست جاری کی ہے جس میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کو سب سے بااثر اور طاقتور ماں قرار دیا ہے۔ ہلیری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور عمل سے دنیا کو بدل دینے کی طاقت رکھتی ہیں۔ صرف اپنے شوہر کو محبوبہ سے دور رہنے کا حکم نہیں دے سکیں! 
ممتا کے جذبات کیا صرف اپنی اولاد کے لئے ہی ہوتے ہیں؟ انسانیت شاید ممتا کے احساسات اور جذبات کا اوتار ہے۔ دین اسلام میں تو مسلمان کو اخوت کے رشتے میں اس طرح پرو دیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کی تکلیف پر دوسرا اُسی طرح بے چینی محسوس کرتا ہے جس طرح جسم کے ایک حصے میں درد سے پورا جسم بے قرار ہو جاتا ہے۔ عیسائیت میں کہا گیا ہے اگر ایک گال پر کوئی تھپڑ رسید کرے تو دوسرا بھی اس کے آگے کر دو۔ یہ ظلم روکنے کا شاید ایک طریقہ ہے کیونکہ ایسا بے شرم اور خودسر تو کوئی بھی نہیں ہوتا تو ایک تھپڑ مارے سامنے سے جواب نہ آئے تو وہ مزید مارکٹائی شروع کر دے۔ اسلام میں جارحیت کی کبھی تعلیم نہیں دی گئی البتہ دفاع کا بھرپور حق اور اختیار ضرور دیا گیا ہے۔ 
اسلامی ممالک کی تاراجی کا سلسلہ بُش دور میں شروع ہوا۔ افغانستان پر یلغار کرتے وقت بُش نے اسے صلیبی جنگ قرار دیا ، پھر عراق پر دوسری مرتبہ چڑھائی کی۔ لیبیا کی بات نہ بھی کریں صرف عراق اور افغانستان میں 20 لاکھ سے زائد انسان امریکہ کی نامُراد جنگ کا ایندھن بن چکے ہیں ان میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی ماں کے دل کا چین تھا۔ پاکستان میں 45 ہزار انسان اس کے باوجود بھی مارے گئے کہ پاکستان کا اس جنگ سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ افغانستان‘ عراق اور پاکستان میں مارے جانے والے معصوم بچوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے، ان کی رگوں میں بھی ہلیری کی اولاد کی طرح خون گردش کرتا ہے۔ ہلیری کی ممتا ان بچوں کے بموں سے اُڑتے چیتھڑے اور خون سے لتھڑے لاشے دیکھ کر کیوں نہیں جاگتی؟ 
ممتا کا جذبہ صرف خواتین ہی نہیں، جانوروں میں بھی ہوتا ہے جن میں شیر اور بھیڑیے جیسے درندے بھی شامل ہیں۔ البتہ استثنیات بھی اپنی جگہ مسلمہ ہیں۔ مچھلی اور سانپ اپنے ہی بچوں کو کھا جاتے ہیں۔ بلی کے پا ¶ں کو تپش محسوس ہو تو اپنے بچوں کے اوپر پا ¶ں رکھ لیتی ہے۔ 
امریکہ کی طرف سے انسانوں اور انسانیت کے قتل کا سلسلہ طول پکڑ رہا ہے۔ مدر ڈے پر ہلیری جی کو طاقتور ترین ماں کا اعزاز ملنے کے ناتے امید کی جاتی ہے کہ وہ سانپ اور مچھلی جیسی نہیں، انسانوں کی ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ کو مزید ما ¶ں سے ان کے لختِ جگر مارنے کی پالیسی سے باز رکھنے کی کوشش کریں گی۔ اگر وہ ایسا کر گزرتی ہیں تو یقیناً ان کا نام انسانیت کی خدمت کرنے والی عظیم خواتین میں شامل ہو جائے گا۔ 




Sunday, May 13, 2012

.مدر ڈے ۔۔۔۔ اور مادر وطن




13-5-12




.مدر ڈے ۔۔۔۔ اور مادر وطن

ماں وہ نعمت اور عظمت ہے جس کا دنیا میں کوئی متبادل نہیں۔ ماں اولاد کے لئے گلاب کی خوشبو‘ پیاس میں ساگر، قدم قدم کی راہبر اور اس کے سوا کیا کچھ نہیں! سب کچھ....
پھولوں کی خوشبو بہاروں کی برسات ماں ہی تو ہے
مہک رہی ہے جس سے میری کائنات ماں ہی تو ہے
سچی ہیں جس کی محبتیں سچی ہیں جس کی چاہتیں
سچے ہیں جس کے پیار کے جذبات ماں ہی تو ہے
جن کے سر سے ماں ا ±ٹھ گئی ان کا سب کچھ ا ±جڑ گیا۔ دنیا تاریک ہو گئی۔ ماں اور خدا کے درمیان رابطہ ٹوٹا تو انسان کو وہ بوجھ خود اٹھانا پڑا جو ماں کی دعاﺅں نے سنبھال رکھا تھا 
حضرت موسٰی کی والدہ کا انتقال ہوا۔ پیغمبر خدا سے ہمکلام ہونے طور پر تشریف لے گئے رب جل جلال نے فرمایا موسٰی! اب ذرا سنبھل کے آنا۔ اب وہ ہستی دنیا میں نہیں رہی جو تمہارے یہاں آنے پر سجدے میں ہم سے دعاگو رہتی تھی ”اے سب جہانوں کے مالک میرے بیٹے سے کوئی چوک ہو جائے تو اسے معاف کر دینا“۔
آج مدر ڈے منایا جا رہا ہے۔ یوں تو ہر دن اور لمحہ ماں کا ہے۔ ماں پر جان نچھاور۔ جس نے یہ دن منانے کی رسم ڈالی اچھا کیا۔ چلو اس بہانے کچھ لوگوں کو ماں کی یاد آ جاتی ہے۔ اس سے محبت کے جذبات میں مزید وارفتگی آتی ہے۔ مدر ڈے ایک ماں کا دن نہیں ماﺅں کا دن ہے۔ تمام ماﺅں کا دن۔ آج آپ جس ہستی کے لئے پھول لا رہے ہیں اس کی قدم بوسی کر رہے اس کی بھی ماں کا دن ہے۔ ہر ذی شعور کی ماں کا دن۔ باپ اور دادا کی بھی ماں کا دن۔ ایک گھر میں ایک ہی چھت تلے کئی ماﺅں کا دن۔ باپ کا دن منائیں گے تو باپ اپنی ماں کا دن کب منائے گا۔ 
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں زندہ ہیں۔ وہ دنیا کے آدھے تفکرات سے آزاد ہیں۔ ماں کا سایہ نہیں رہتا تو کڑی دھوپ کا احساس ہوتا ہے 
اے دوست ماں کے سائے کی ناقدری نہ کر
دھوپ کاٹے گی بہت جب شجر کٹ جائے گا
ماں کی ایک رات کا بھی بدلہ نہیں دیا جا سکتا۔ جب سردیوں کی رات میں وہ کئی بار بھیگتی بچے کو سنبھالتی اور بغیر کہے دودھ پلاتی ہے۔ جن کی مائیں ہیں وہ ان کی خدمت کریں جن کی چھوڑ کر جا چکی ہیں وہ ان کی بخشش کی دعا کریں 
ایک مدت سے میری ماں سوئی نہیں تابش 
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
دین حنیف نے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دے کر جنم دینے والی ہستی کا مقام معراج مقرر فرما دیا ہے.... ایک قابل غور نقطہ ہے۔ ایک ماں یہ ہے جس نے جنم دیا اور پرورش کی۔ ایک ماں وہ ہے جس نے تحفظ دیا‘ شناخت دی‘ دنیا میں نام دیا‘ مقام دیا۔۔۔ وہ ہے دھرتی ماں‘ مادر وطن.... اس کا احترام‘ حفاظت اور اس سے محبت بھی جنم دینے والی ماں کی طرح فرض ہے۔ وطن عزیز میں کونسی نعمت نہیں ہے؟ یہ بھی سچ ہے کہ وسائل کا ناجائز اور بے جا استعمال ہو رہا ہے۔ کچھ خاندان کسی بھی وجہ سے بہت آگے چلے گئے۔ کئی سفید پوش کچھ غربت کی لکیر پر اور بہت سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ آزادی کو سہولتوں کی فراوانی سے نہیں ناپا جا سکتا۔ کتنی بڑی نعمت ہے آزادی‘ اپنا وطن‘ یہی ہر نعمت اور ہر عظمت سے بڑھ کر ہے۔ بھارت بھارت نہیں‘ ہندوستان ہے‘ ہندو ¶ں کے رہنے کی جگہ‘ وہاں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی حالت قابل رحم ہے۔ پاکستان کے اکثر گھروں میں کیبل پر انڈین پروگرام دیکھے جاتے ہیں۔ دکانوں پر‘ بسوں میں ہوٹلوں میں انڈین گانے بجتے دکھائی اور سنائی دیتے ہیں۔ ہندوستان میں ممکن ہی نہیں کہ کہیں بھی‘ کسی بھی جگہ پاکستانی گلوکاروں‘ فنکاروں اور کھلاڑیوں کی تصویر آویزاں ہوں۔ ارب پتی کاروباری مسلمان اپنی گاڑی یا کاروبار کی جگہ پر تلاوت کلام پاک کی ریکارڈنگ اونچی آواز میں نہیں لگا سکتا۔ ایسا کرے گا تو دہشت گرد ہندو تنظیمیں اسی روز آگ لگا دیں گی۔ بہت سے مغربی ممالک میں نقاب اوڑھنے اور داڑھی رکھنے پر پابندی ہے۔ اگر ہم میں سے کوئی بھوکے پیٹ سوتا ہے تو اس میں دوسروں کا قصور ہو سکتا ہے اپنا بھی یقیناً دوش ہے۔ کسی سیانے نے کہا تھا انسان غریب پیدا ہوتا ہے تو اس کا قصور نہیں۔ غریب مرتا ہے تو اس کا قصور ہے۔ صحت مند اور تندرست انسان غربت کی چکی میں پسے تو سمجھ لیجئے وہ کام چور ہے۔ محنت سے روزی کے حصول کی کوئی حد مقرر نہیں اور پھر پورے پاکستان میں روزی بکھری ہوئی ہے۔ اسے چننے کے لئے معمولی سی دانش و عقل کی ضرورت ہے۔ آئیے مدر ڈے منانے کے ساتھ ساتھ دھرتی ماں کو خوب سے خوب تر اور خوبصورت ترین بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جس نے ہمیں سب کچھ دیا۔ وہ کچھ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور وہ کچھ بھی جس کا ہمیں احساس بھی نہیں ہے۔