About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, June 27, 2012

”دُھوڑ پٹ“ وزیراعظم


 جمعرات ، 28 جون ، 2012




”دُھوڑ پٹ“ وزیراعظم
فضل حسین اعوان 
”وزیراعظم“ یوسف رضا گیلانی کی وفاداری، وابستگی اور پیوستگی، صدر آصف علی کی ذات کے ساتھ تھی۔ وہ ایوان صدر کو ہی طاقت، اختیارات کا منبع اور زرداری صاحب کو اپنی قسمت کا یزداں سمجھتے رہے۔ 18ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کو جو اختیارات دئیے گئے ہیں‘ اسکے تناظر میں آصف علی زرداری کا بطور شریک چیئرمین‘ ہر رکن کی گردن پر انگوٹھا ہے۔ حالانکہ زرداری صاحب اس پارٹی کے سربراہ ہی نہیں جو برسراقتدار میں ہے۔ کائرہ بھی یہی کہتے ہیں ‘ وہ اس لئے کہ مشرف نے 2002ءکے انتخابات سے قبل تمام پارٹیوں کی رجسٹریشن لازم قرار دی تھی۔ پی پی پی کی قیادت نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے نام سے پارٹی رجسٹرڈ کرائی، اسی نے 2002 اور 2008 کے الیکشن میں حصہ لیا جس کے صدر مخدوم امین فہیم اور سیکرٹری جنرل وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ہیں۔ پی پی پی کے پارلیمنٹرین مخدوم امین فہیم کے ڈسپلن میں آتے ہیں کسی اور کے نہیں۔ چونکہ سب کو طاقت کے اصل مرکز کا علم ہے اس لئے بلاچوں و چراں آصف علی زرداری کی بارگاہ میں سلامی پر مجبور ہیں۔ قانونی طور پر آصف علی زرداری کسی پارٹی کے چیئرمین نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا تو الیکشن کمشن کے کاغذوں میں وجود ہی نہیں۔ 
یوسف رضا گیلانی ‘آصف علی زرداری کو طاقت کا مرکز مانتے رہے اور مستقبل میں ایک بار پھر وزیراعظم ہا وس یا ایوان صدر میں براجمان ہونے کا خواب دیکھتے ہوئے ان پر نچھاور ہو گئے۔ گیلانی یہ بھول گئے کہ طاقت کے بڑے مرکز کے ساتھ ساتھ طاقت کی جڑیں اور کونپلیں بھی ہوتی ہیں‘ جن کی آبیاری بھی لازم ہے۔ وہ ایوان صدر میں تو اب بھی موجود ہیں لیکن نوکروں کے خالی کرائے گئے کمروں میں، یہاں نوکروں کی طرح ہی رہا جا سکتا ہے تاہم یہ بھی ملک اور قوم کےلئے نیک شگون ہے۔ گیلانی اقتدار سے گئے تو انکے دل میں قوم کا درد، چہرے پر اقتدار سے رخصتی کا کرب اور جیب میں قوم کے خون پسینے کی کمائی تھی۔ وزارت عظمیٰ سے ان کی چُھٹی ہوئی، راجہ پرویز اشرف بھی اسی منزل کے مسافر ہیں وہ گیلانی کو زرداری کی طرح ہی ”سنہرے کارناموں“ پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وہی کچھ کرنے کا عہد کر رہے ہیں جو گیلانی نے کیا، کل وہ بھی ایوان صدر میں ملازموں کے مزید 4 کمروں کے مکین ہو سکتے ہیں۔ اچھا ہے کل شب خون مارا جاتا ہے تو کھربوں ڈالر کی ”آسامیاں“ ایک ہی چھت کے نیچے سے ”برآمد“ ہو جائیں گی۔ 
گذشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سحری اور افطاری کے دوران لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، پتہ کرنا چاہئے کہ ان کے ہاں رمضان شروع تو نہیں ہو گیا؟ روزوں میں تو چوبیس پچیس دن پڑے ہیں یہ رمضان ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے آئے گا بھی؟ ایک طرف راجہ کہتے ہیں کہ جو گیلانی نے کیا وہی کروں گا، گویا بجلی و گیس کی قلت کا عذاب جاری رہے گا، لاقانونیت، بے روزگاری کا خاتمہ نہیں ہو گا، لوٹ مار میں شاید گیلانی کا ریکارڈ توڑنے کی بھی کوشش کی جائے۔ دوسری طرف راجہ کہتے ہیں کہ وہ مسائل حل کرانے کے لئے ایک سو بیس میل کی سپیڈ سے دوڑیں گے جب کام ہی وہ کرنے ہیں جو آپ کا پیشرو کرتا رہا تو ایک 120 میل کی سپیڈ سے دوڑنے کا مطلب ”دھوڑپٹنے“ یعنی گرد اڑانے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ لوگوں کو بتائیں گے دیکھو میں نے تو” دھوڑیں پٹ دی“ ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ انہوں نے وزارت عظمیٰ کا تاج پہننے کے پہلے روز کیا تھا جب عوام پر وزیراعظم ہا وس کے دروازے کھولے گئے تو لوگ اپنے مسائل سمیت اُمڈے چلے آئے، ہر کوئی جون کی جھلستی دوپہر میں نئے وزیراعظم کو جپھی ڈال کر ملنے کے لئے بے قرار تھا۔ آخر کب تک؟ وزیراعظم پسینے سے شرابور ہانپتے ہوئے یخ بستہ کمروں میں تشریف لے گئے شام ڈھلے وزیراعظم ہا وس کی چھت پر چڑھ کر خطاب کیا، جن لوگوں نے وزیراعظم ہا وس نہیں دیکھا وہ پوچھتے ہیں کہ وزیراعظم ہا وس میں کیاکوئی درخت نہیں ہے؟ 
مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ وزیراعظم بنتے ہی سیرو سلامی کیلئے کراچی میں دو دن گزار دیئے۔ اِدھر وفاقی وزیر اسرار اللہ زہری نے ملاقات کی خواہش کی تو کہا تین ماہ بعد آئیں۔ صدر زرداری نے پرویز الٰہی کو ”کھیلن کے لئے چاند“ یعنی ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ اپنی جناب سے عطا فرما دیا‘ وزیراعظم راجہ چاہتے ہیں کہ ان کو بھی ایسا ہی چاند ملے‘ ان کا گھر وزیراعظم ہا وس سے 16 میل کے فاصلے پر ہے۔ وہاں اترنے کے لئے ہیلی پیڈ بنوانا چاہتے ہیں۔ وہ چند روز کے وزیراعظم ہیں 16 میل کوئی زیادہ فاصلہ نہیں۔ گھر آنے جانے کا اتنا ہی شوق ہے تو اسی کو وزیراعظم ہاﺅس کا درجہ دیکر یہیں منتقل ہو جائیں۔ کیا اپنے محلہ داروں کو ہیلی کاپٹر سے اڑتی ہوئی دھول دکھانا مقصود ہے؟

Sunday, June 24, 2012

رینٹل سے جینٹل راجہ؟



رینٹل سے جینٹل راجہ؟
24-6-2012

فضل حسین اعوان 
سرپٹ مخدوم کی جگہ دھکا سٹارٹ مخدوم لے رہا تھا کہ لاٹری راجہ پرویز اشرف کی نکل آئی۔ راجہ کو مخدوم شہاب کا کورنگ امیدوار نامزد کیا گیا تو لوگوں نے اسے مذاق سمجھا۔ ایسا سمجھنے والے اب خود مذاق بن گئے۔ بظاہر ایفیڈرین کیس میں ایک مجسٹریٹ کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری‘ مخدوم کے راستے کی دیوار بن گئے۔ مخدوم پر تو ایک کیس ہے۔ مقدمہ چلنا ہے اس میں ان کو سزا ہوتی ہے یا وہ بری ہوتے‘ اس کا فیصلہ ہونا ہے۔ جس کو ان کی جگہ لایا گیا۔ اس کو تو سپریم کورٹ نے کرپشن میں ملوث قرار دیا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے لئے نامزدگی کا اختیار چونکہ پارٹی نے ایک شخص کو دے رکھا تھا۔ جس نے شاید مخدوم کے وارنٹ جاری ہونے کی 
کارروائی کو اپنے خلاف بدمعاشی سمجھا اور پھر اس کا جواب دینے کے لئے راجہ کو پکا امیدوار بنا دیا گیا۔ جس نے آپ کے ساتھ بدمعاشی کی اس سے آپ بھی کریں‘ ہاتھیوں کی لڑائی میں عوام کا بھرکس نکالنا کہاں کا انصاف اور دانشمندی ہے؟ راجہ کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ واپس لینے کے لئے رفقا نے ہاتھ جوڑے‘ پا ¶ں پڑے لیکن اپنے ہی ہاتھوں اٹھارہویں ترمیم کے پتھر سے تراشے ہوئے صنم نے کسی کی نہ سنی۔ فیصلہ غصے میں کیا تھا۔ دیکھئے کتنا پائیدار ہوتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد کسی پارلیمنٹیرین کے لئے پارٹی لائن سے ہٹ کر اپنی رائے کی آزادی کا اختیار سلب کر لیا گیا ہے۔ فیصل صالح کو شائد کسی نے آئین کی تازہ شق نہیں دکھائی تھی۔ اس لئے کہہ دیا راجہ کو ووٹ نہیں دوں گا۔ پھر چودھری شجاعت نے وہ شق دکھائی تو کچے دھاگے سے بندھے چلے آئے۔
مخدوم شہاب نامزدگی کے بعد بڑی تیزی سے پیش منظر پر آئے اس سے بھی زیادہ تیزی سے وارنٹ جاری ہونے پر پس منظر میں چلے گئے۔ ان کو لوگ راجہ سے کہیں بہتر انتخاب قرار دے رہے تھے۔ ان کے دھکا سٹارٹ ہونے کے پس پردہ بھی ایک داستان ہے۔ کوٹیکنا کیس میں ان کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنیوا کی عدالت میں گواہی کے لئے کہا تو مخدوم پشیماں ہوئے۔ کیس میں کچھ تھا یا نہیں مخدوم تیار نہ تھے۔ زیادہ کہا سنا تو تذبذب میں ہاں کردی۔ سوئٹزر لینڈ سے سپانسرڈ ویزا آیا۔ پاسپورٹ پر لگا تو مخدوم کا پاسپورٹ گم ہو گیا۔ محترمہ نے اپنے ساتھیوں کو پاسپورٹ بنوانے اور دوبارہ ویزا لگانے کی ہدایت کی‘ ساتھ ہی غالباً عبدالقادر شاہین کی ڈیوٹی لگائی کہ پاسپورٹ اپنے پاس رکھیں‘ کہیں مخدوم سے دوبارہ گم نہ ہو جائے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور جنیوا میں عدالت کے روبرو گواہی دینے پر وہ ان کے ساتھ ہی رہے۔ جب عدالت نے روٹین میں گواہی سے قبل کہا کہ شہادت جھوٹی ہونے پر پانچ سال قید ہو سکتی ہے۔ اس پر مخدوم چکرا گئے تاہم ساتھیوں نے سنبھالا دے کر کھڑا کئے رکھا۔ شاید یہ واقعہ زرداری صاحب کو مخدوم کی نامزدگی اور کاغذات جع کرانے کے بعد یاد دلایا ہو‘ اگر مخدوم ایک مشکوک کیس میں گواہی کے وقت لڑکھڑا سکتا ہے تو پاکستانی کورٹس میں جو مقدمات ہیں وہ تو کسی شک و شبہ سے بالاتر ہیں۔ ہو سکتا مخدوم نے اپنے کسی ہمراز سے دیوار کے قریب کھڑے ہوئے کہہ دیا ہو ”سوئس حکام کو خط لکھ سوں“ دیوار کے چونکہ کان ہوتے ہیں اس نے یہ سن کر آگے سنا دی ہو۔ بہرحال جو بھی ہوا راجہ صاحب جنہوں نے بجلی پوری کرنے کے قوم کو اتنے جھانسے دئیے کہ کئی لوگ ان کو جھانسوں کا راجہ کہتے ہیں۔ وہ آج وزیراعظم پاکستان ہیں۔ 
فطرت اور عادت میں فرق ہوتا ہے۔ عادت چھوٹ سکتی ہے‘ فطرت نہیں بدل سکتی۔ سپریم کورٹ نے قوم کو بتایا کہ رینٹل پاور پلانٹس میں کرپشن ہوئی جس میں ایک نام راجہ پرویز اشرف کا بھی ہے لوگ ان کو رینٹل راجہ کہہ رہے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے پرانے کارکن اور اب لیڈر ہیں۔ کرپشن ہو سکتا ہے کہ ان کی فطرت نہ ہو ماحول کو دیکھ کر ہاتھ مارا ہو۔ جن کی فطرت میں شامل ہے‘ چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی۔ راجہ پرویز اشرف کو خدا نے اپنے اوپر سے الزامات دھونے کا ایک سنہری موقع دیا ہے۔ جو چند ماہ سے زیادہ نہیں۔ لوگ بجلی کے عذاب کا ان کو ذمہ دار گردانتے ہیں ان کے لئے کسی زبان سے کلمہ خیر ادا ہوتا نہیں سنا گیا۔ ان کو پوری زندگی میں دوبارہ وزیراعظم بننے کا موقع ملنا ناممکن کی حد تک مشکل ہے۔ وہ چند ماہ کو یادگار بنا سکتے ہیں۔ بجلی مکمل طور پر بند کرکے نہیں‘ کرپشن کا ”بی“ مار کر‘ بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور ان کی قیمتوں میں کمی سے‘ ہمیں خوش گمانی ہے کہ راجہ فطرتاً کرپٹ نہیں ہیں وہ عوامی فلاح اور قومی خود مختاری کے حوالے سے چند اقدامات کر جاتے ہیں تو یقین جانئے ان کے لئے اقتدار کے دروازے طویل عرصہ تک وا ہو سکتے ہیں‘ پھر لوگ انہیں رینٹل راجہ نہیں جینٹل راجہ کہا کریں گے۔

Friday, June 22, 2012

نااہلی ۔۔ احتساب کا آغاز


  جون21 ، 2012

نااہلی ۔۔ احتساب کا آغاز!
فضل حسین اعوان ـ
حکمرانوں کی خود سری اور بیورو کریسی کی سرکشی ہی عوامی مسائل و مصائب اور معاشرے کی بے راہروی کا سبب ہے۔ اس کا ایک ہی علاج ہے۔ احتساب‘ کڑا‘ بے لاگ اور بلاامتیاز احتساب‘ جس کا آغاز یوسف رضا گیلانی کے نااہلی کے فیصلے سے ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ 
سید یوسف رضا گیلانی کی چار سال ایک ماہ اور دو دن کی وزارت عظمیٰ کے دور کا جائزہ لیا جائے تو ایک بھیانک تاریک اور دل دہلا دینے والا منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ اتنی کرپشن پاکستان کی پوری تاریخ میں ہوئی نہ اس قدر قرضے لئے گئے۔ کرپشن کا اثر براہ راست عام آدمی پر پڑا۔ جس کا چولہا بجھا اور آشیاں جلا۔ پیپلز پارٹی کو اقتدار مشرف کی پروردہ ق لیگ سے مشرف ہی کی نگران حکومت کے ذریعے منتقل ہوا۔ جاتے جاتے ق لیگ کھیت اجاڑ گئی رہی سہی کسر نگرانوں نے پوری کر دی۔ گیلانی حکومت نے کسی اصلاح اور بہتری کے بجائے ستیاناس کرکے رکھ دیا۔ گیلانی حکومت کے یہ چار سال کرپشن کے عروج کا دور ہے۔ جس میں مبینہ طور پر سب سے زیادہ ہاتھ ان کے اپنے خاندان کے کم از کم 6 افراد کا ہے۔ گذشتہ روز 19 جون 2012ءکو سپیکر کی رولنگ کیس میں سپریم کورٹ نے وزیراعظم گیلانی کو نااہل قرار دیا تو اس روز بھی پنجاب میں 18 سے 20 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ رہی۔ امن و امان کی صورتحال اور مہنگائی و بیروزگاری کا جو سامان ان چار سال میں کیا گیا ایسا تو شاید برسوں جنگ کا شکار رہنے والے ممالک میں بھی نہیں ہوتا ہو گا۔ مارچ 2008ءمیں جب زمامِ اقتدار پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ملتانی مرشد کے سپرد کی تو ڈالر 62 روپے کا تھا جو اب 96 کا ہو چکا ہے۔ چینی 25 سے 75 اور ڈیڑھ سو روپے کلو تک بھی گئی۔ بجلی کا اوسط یونٹ 4 سے 10 روپے ہو گیا۔ سٹاپ ٹو سٹاپ کرایہ 5 سے 15 روپے‘ گھی 50 سے 170 اور باقی اشیاءضروریہ کی قیمتیں بھی ڈیڑھ سے دو اڑھائی گنا تک بڑھی ہیں۔ پاکستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ بھی گیلانی حکومت نے متعارف کرائی دو سال سے سی این جی سٹیشن ہفتے میں تین دن بند رہتے ہیں۔ ”گڈ گورننس“ کے دوران اپنی اولاد‘ اتحادیوں‘ ساتھیوں اور دوستوں کی کرپشن کی پردہ پوشی کے لئے 10 ڈی جی FIA بدلے گئے۔ اٹارنی جنرل تو ہر دوسرے تیسرے ماہ بدلتا ہے۔ گورنر سٹیٹ بنک اور وزیر خزانہ بھی تین بار نکالے اور رکھے گئے۔ 
سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلیت میں عوامی مسائل‘ حکومت کی نااہلی اور کرپشن کے سر چڑھ کر بولتے جادو‘ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ ان کی نااہلیت کا سبب ان کے اقتدار بلکہ ان کے الیکشن سے بھی قبل جنم لینے والا این آر او ہے۔ جس میں 8 ہزار افراد کے اربوں کے قرضے معاف قتل‘ بھتے اور لوٹ مار کے گناہ دھو ڈالے گئے تھے۔ این آر او مشرف کا تخلیق کردہ تھا جسے اسی پارلمینٹ کے ”پارسا“ پارلیمنٹیرین نے جس نے مرشد ملتانی فرزند سورج میانی‘ سید یوسف رضا گیلانی کو متفقہ وزیراعظم منتخب کیا تھا‘ نے این آر او کو ایک گندگی سمجھ کر اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا۔ پھر یہ این آر او سپریم کورٹ میں لایا گیا جس نے 16 دسمبر 2009 کو اسے کالعدم قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے تناظر میں وزیراعظم گیلانی کو سپریم کورٹ نے بار بار سوئس حکام کو خط لکھنے کا کہا اور موقع دیا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ کیس لڑنے کے لئے سو روپے کا وکیل کیا۔ 100 روپے میں اتنا ہی آتا ہے جتنا مل گیا۔ پھر نئے اٹارنی جنرل دلائل دینے کے بجائے عدالت میں اودھم مچاتے اور ججوں کو آنکھیں دکھاتے رہے۔ فخر مُلت کو یقیناً اپنے انجام کا علم تھا لیکن شاید اس زعم میں تھے کہ جس طرح 26 اپریل کو سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دئیے جانے پر سپیکر نے آئین کے بجائے پارٹی سے وفاداری دکھائی اسی طرح 19 جون کے نااہلی کے فیصلے پر زرداری پھر پارلیمنٹ میں اتحادیوں کے ساتھ ان کی وزارت عظمیٰ برقرار رکھنے کے لئے کوئی کھیل کھیلیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اقتدار کی خاطر عزت سادات گئی وزارت عظمیٰ جاتی رہی‘ 5 سال کے لئے نااہلی مقدر میں لکھ دی گئی‘ ساتھ وہ ریکارڈ بھی غارت ہوا جس کا بڑے فخر سے چند روز قبل اظہار کیا تھا کہ انہوں نے طویل عرصہ تک وزیراعظم رہنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ یہ اعزاز بدستور لیاقت علی خان کے پاس 4 سال 2 ماہ اور دو دن کے ساتھ ان کے کھاتے میں ہے۔ 
گیلانی پر آئین شکنی کا الزام لگا۔ اس سب کے باوجود انہوں نے جائز سہی یا ناجائز پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاداری کا حق ادا کر دیا۔ جس اعتماد کا اظہار زرداری نے ان پر کیا تھا وہ اس پر پورا اترے اور سرخرو ہوئے۔ پانچ سال دیکھتے ہی دیکھتے گزر جائیں گے۔ پارٹی انہی ہاتھوں میں رہی اور قیادت نے موجودہ روش‘ سوچ اور رویہ برقرار رکھا تو گیلانی کا مستقبل روشن ہے۔ قوم کا خواہ موجودہ حالات کی طرح تاریک ہی رہے۔ یوسف رضا گیلانی تو پارٹی پر قربان ہو گئے۔ کیا اگلا وزیراعظم سوئس حکام کو خط لکھ دے گا؟ اگر نہیں لکھے گا تو گیلانی جیسے بلکہ اس سے بدتر انجام سے چند ہفتوں میں دوچار ہو جائے گا۔ سوئس بنکوں میں پڑا 6 ملین ڈالر کا سرمایہ ایک حقیقت ہے۔ استثنیٰ کے نام پر اس کا پھند زرداری صاحب کب تک اپنے جانثاروں کے گلے میں ڈالتے رہیں گے؟ چند روز میں میمو کیس کی سماعت بھی ہونی ہے۔ اس کا پھندہ کئی کے گلے میں پڑے گا۔ اصغر خان کیس بھی بڑی تیزی سے انجام کی طرف جائے گا۔ سرحد اسمبلی شاہ سے بھی زیادہ شاہ کی وفادار نکلی سپریم کورٹ کے فیصلے پر احتجاجاً اجلاس برخواست کر دیا۔ ابھی سپیکر صاحبہ کے ساتھ ان پارلیمنٹیرین کا حساب ہوتا بھی نظر آرہا ہے جنہوں نے گیلانی صاحب پر اعتماد کا اظہار اور سپیکر کی رولنگ کی حمایت میں قراردادیں پیش اور منظور کیں۔ 
گیلانی صاحب نے اپنی بے آبروئی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی پہلی سیاسی بیعت جنرل ضیاءاور دوسری وزیراعظم محمد خان جونیجو کے ہاتھ پر تھی۔ محمد خان جون 1988ءکو کابینہ اور حکومت سمیت معزول کئے گئے تو انہوں نے اسی روز وزیراعظم ہا وس چھوڑ دیا اور جاتے ہوئے سندھڑی میں وزیراعظم ہا وس کی تزئین و آرائش پر خرچ ہونے والے سوا یا ڈیڑھ لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کرا دئیے تھے۔ مرشد کی کرپشن کا احتساب اور حساب بعد میں‘ گیلانی صاحب 26 اپریل سے 19 جون تک وزیراعظم کے طور پر لی گئی مراعات ذاتی اور دورہ برطانیہ پر اٹھنے والے اخراجات محمد خان جونیجو کی طرح قوم کو واپس لوٹا دیں۔ 
وزیراعظم گیلانی کی نااہلیت سپریم کورٹ کی طرف سے احتساب کی ایک عظیم تر مثال ہے۔ امید رکھنی چاہئے کہ احتساب کا سلسلہ ایک درجہ مزید اوپر جا کر نیچے تک آئے گا اور سپریم کورٹ کے اسی اقدام سے انقلاب جنم لے گا۔ پرامن انقلاب قوم و ملک کو خوشحالی اور ترقی سے ہمکنار کر دینے والا انقلاب‘ جب ملک و قوم کی لوٹی ہوئی ایک ایک پائی بیرون ممالک سے واپس لاکر قومی خزانے میں جمع کر دی جائے گی۔

Tuesday, June 19, 2012

کَشَفَ الدُّجٰی بِجَماَلِہ


منگل ، 19 جون ، 2012


کَشَفَ الدُّجٰی بِجَماَلِہ
فضل حسین اعوان ـ
کَشَفَ الدُّجیٰ بِجَماَلِہ حافظ شیرازیؒ کی رباعی کا ایک مصرع ہے جس کا اردو میں منظوم ترجمہ یوں کیا گیا ہے:
”غائب اندھیرے انکی نمودِ جمال پر“
اس مصرع کا عملی اظہار تو پوری دنیا نے دیکھا‘ محسوس شاید بہت کم لوگوں نے کیا۔ کچھ دنوں سے بجلی کی انتہائی کی قلت ہے۔ دو چار روز سے تو لوڈشیڈنگ ایک عذاب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ کافی عرصہ ایک گھنٹے بعد ایک گھنٹہ بجلی کی آمد اور بندش معمول رہی پھر دو گھنٹے کے بعد ایک گھنٹہ اور اب تین سے چار گھنٹے لگاتار بند رہتی ہے۔ درمیان میں کبھی ایک گھنٹہ اور کبھی بیس سے تیس منٹ بجلی جھلک دکھاتی ہے۔ گویا چھوٹے چھوٹے وقتوں کے ساتھ پورا دن ہماری پیدا کی ہوئی بجلی غائب رہ کر آسمانی بجلی کی طرح ہم پر کرکٹی گرجتی اور برستی ہے۔ لوگوں نے بجلی کی کمی کے عذاب سے نجات کےلئے یو پی ایس خرید رکھے ہیں۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ انہیں چارجنگ کےلئے بھی بجلی درکار ہے۔ جب چار گھنٹے بعد ایک گھنٹہ یا اس سے بھی کچھ کم وقت ان کو بجلی ملے گی تو کارکردگی بھی ایسی ہی ہو گی۔ بجلی کے مارے ہوئے لوگ اسکی بے وفائی کے اثرات سے بچنے کےلئے جو بھی ممکن ہو کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جون کا وسط گرمی کا عروج ہوتا ہے۔ 17 جون کو سورج کی تپش کم ہوئی تو ہم گھر کے افراد چھت پر چلے گئے۔ عشاءکے بعد کسی مسجد سے نعتوں کی آوازآرہی تھی اور کسی سے واقعہ معراج النبی بیان ہو رہا تھا۔ کچھ لوگ ایسی صورتحال میں آوازوں کو گڈ مڈ قرار دیتے ہیں۔ کچھ تو اسے شور شرابہ کہنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اگر آپ اپنی توجہ پسند اور مرضی کی سماعت پر مرکوز کر لیں تو آپ کے کانوں میں وہی آواز آئےگی جو آپ سننا چاہتے ہیں، کبھی کرکے دیکھئے۔
17جون کی شب ہی معراج النبی تھی۔ اس رات ہلکی ہلکی ہوا چلتی رہی جس میںتپش کی بجائے ہلکی ہلکی خنکی احساس لطیف کی طرح موجود تھی۔ میں تو اسے معراج النبی کی برکت ہی قرار دوں گا۔ رات تقریباً دس سوا دس بجے بجلی کی بندش کو اڑھائی تین گھنٹے ہو چکے تھے۔ یو پی ایس جواب دے چکے تھے کسی طرف سے مصنوعی روشنی کی کوئی رمق نہیں تھی کہ میری بیٹی نے توجہ دلائی کہ روشنی کتنی زیادہ ہے! میں نے غور کیا تو واقعی رات چمک دمک رہی تھی۔ ایک روز قبل بھی ہم اسی کیفیت میں چھت پر تھے تو جوتا ڈھونڈنے میں دقت ہو رہی تھی۔ آج چھت پر ہر چیز بالکل واضح چودھویں کے چاندمیں نہاتی ہوئی شب کی مانند دکھائی دیتی تھی۔ انٹرنیٹ کی سفید تاریں، کپڑے سکھانے والی باریک رسیاں، ایک پڑوسی کی طرف سے دوسرے کو دیا گیا تیس پینتیس گز دور سے گزرتا ہوا پائپ، سامنے دیوار کی ایک ایک اینٹ اور چارپائی کے نیچے پڑا پانی کاجگ اور گلاس صاف دکھائی دے رہا تھا۔ میرے خیال میں تو یہ معراج النبی کی برکت سے نور میں نہائی ہوئی بابرکت شب تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ براق النبی ابھی گزری ہو اور اسکے نور کی بکھری کرنوں نے ماحول کو بقعہ نور بنا کر منور کر دیا ہے۔ دن کی طرح رات کو بھی مطلع صاف تھا کہ اچانک رم جھم ہونے لگی۔ شاید کسی بدلی نے حضور کی سواری کا عکس محسوس کرکے اظہار مسرت کیا ہو۔ 
کَشَفَ الدُّجیٰ بِجَماَلِہ اس مصرع کا ترجمہ پروفیسر خالد بزمی صاحب کا کیا ہوا ہے جو ہمیں پوری رباعی اور ترجمے سمیت میاں محمد صادق قصوری نے بھجوایا ہے۔ میاں محمد صادق قصوری کے ساتھ ساتھ پروفیسر میاں عزیز قریشی نے بھی اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہ رباعی حافظ سعدی شیرازی کی ہی ہے۔ رباعی بمعہ ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
بَلَغَ ال ±عُلٰی بِکَمَالِہ 
کَشَفَ الدُّجیٰ بِجَماَلِہ 
حَسَنَت ± جَمِی ±عُ خِصَالِہ 
صَلُّو عَلَی ±ہِ وَآلِہ
(سعدی)
پہنچے بلندیوں میں وہ اوج کمال پر
غائب اندھیرے ان کی نمودِ جمال پر
ہے حسن عکس ریز سب ان کے خصال پر
ان پر درود بھیجئے اور ان کی آل پر
(پروفیسر خالد بزمی)
واللہ باکمال ہے حضرت کا ہر کمال
وہ آفتاب حسن ہیں آئینہ جمال
سیرت میں بے مثال ہیں وہ شاہ خوش خصال
مصداق ہیں درود کے اور ان کی آل
(پروفیسر مطلوب علی زیدی)
آخر میں ملاحظہ فرمائیے‘ حضرت حسان بن ثابتؓ کے دو نعتیہ اشعار:
وَاَح ±سِنُ مِن ±کَ لَم ± تَرَقَطُّ عَی ±نِی
وَاَج ±مَلُ مِن ±کَ لَم ± تَلِدِالنَّسائ
خُلِقُتَ مَبَرامِّن ± کُلِّ عَی ±بٍ
کَاَنَّکَ قَد ± خُلِق ±تَ کَمَاتَشَائ
کا منظور اردو ترجمہ پروفیسر خالد بزمی سے سن لیجئے:
تجھ سے حسین آنکھ نے دیکھا نہیں کبھی
تجھ سے جمیل ماﺅں نے اب تک نہیں جنا
ہر عیب سے بری تجھے پیدا کیا گیا!
گویا تو جیسے چاہتا تھا ویسے ہی بنا


Sunday, June 17, 2012

میڈیا کی کالی بھیڑیں


اتوار ، 17 جون ، 2012

میڈیا کی کالی بھیڑیں
فضل حسین اعوان 
آج میڈیا کا بھی اسی طریقے سے ”میڈیا ٹرائل“ ہو رہا ہے۔ جس طرح کسی اور کا ہوتا رہتا ہے۔ سیاستدان عموماً میڈیا کے زیر عتاب رہتے ہیں۔ یہ پوچھنے میں وہ حق بجانب ہیں کہ ”اب بتا ¶“؟۔ ملک ریاض جن صحافیوں کو بلا کر چیف جسٹس کے بیٹے کے خلاف کرپشن کے ثبوت دکھاتے رہے ان میں اکثر جہاندیدہ صحافی ہیں۔ ان سے صحافتی تقاضے پورے کرنے میں یقیناً کوتاہی ہوئی۔ وہ اپنی پوری دانشوری کے باوجود ٹریپ ہوئے۔ میڈیا میں ریس یا مقابلے کی فضا کے باعث ان سے کوتاہی ہوئی یا کوئی اور عوامل تھے تاہم سپریم کورٹ میں سرزنش میڈیا میں ہی ملامت اور کسی کے لئے استعمال ہونے کے بعد جھٹکا لگا۔ خدا کی قدرت دیکھئے ”معصوم“ صحافیوں کو استعمال کرنے والے‘ چیف جسٹس کے خلاف سازش کے جال بننے والے کردار اڑتالیس گھنٹے بعد ہی بے نقاب ہونا شروع ہو گئے۔ انسان جتنا زیادہ بولتا ہے اتنی ہی زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔ ملک صاحب عدالت میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس نہ کرتے اور 13 جون کو دنیا نیوز کو انٹرویو نہ دیتے تو شاید اپنے ہی جال میں اتنا جلد نہ پھنستے۔ اب دنیا نیوز والے کہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ یقیناً سازش ہوئی لیکن اس سازش نے چیف جسٹس کے خلاف سازش کو بے نقاب کر دیا۔ عبدالقادر گیلانی کا بریک کے دوران فون آنے سے بہت کچھ واضح ہو گیا۔ بے تکلفی ملاحظہ فرمائیے۔ عبدالقادر کو گھر والے پیار سے بنیّ کہہ کر پکارتے ہیں ملک صاحب نے بھی کہا ”بنیّ بیٹا کیسا جا رہا ہے“
دنیا نیوز کے ساتھ سازش کرنے والے کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہی ہیں۔ انہوں نے چوری کا مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ ایسے مقدمہ کا مقصد چور کی گرفتاری سے بھی زیادہ مسروقہ مال کی برآمدگی ہوتا ہے۔ چور پکڑا جائے تو برآمدگی کیا ہو گی؟ چوری اپنی جگہ جرم ہے۔ آف دی ریکارڈ گفتگو کو زیر بحث لانا سوشل میڈیا پر چلا دینا غیر اخلاقی فعل ہے۔ مجرم کو اخلاقیات سے کیا لینا۔ جس نے بھی یہ کام کیا جس نے کرایا اس کا مقصد جو بھی ہو‘ اس سے چیف جسٹس نے سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ یہ ثابت ہو گیا کہ پراپرٹی ٹائیکون بھی کسی کے اشارے پر چل رہا تھا۔ دنیا چینل کے مالکان کی بدنامی ہوئی اور سب سے بڑھ کر کہ میڈیا شدید تنقید کا نشانہ بن گیا اور میڈیا گروپوں کے اندر کے اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔ میڈیا کی بدنامی میں سب سے بڑا اور بُرا کردار صحافتی ابجد سے بھی ناواقف میڈیا مالکان کا ہے ان میں سے کوئی ڈرگ فروش ہے کوئی دوائی فروش اور کوئی تعلیم فروش اور ان کے اکثر ملازمین کا بھی ہے‘ جو ان اداروں میں آنے کے بعد صحافی کہلائے۔ چند سال قبل میڈیا کی ترقی کی نئی راہیں کھلیں‘ سینکڑوں چینل اور درجنوں جرائد کا اجرا ہوا۔ ملک میں ان کی ضروریات کے مطابق ٹیلنٹ موجود نہیں تھا۔ مالکان نے کام چلانے کے لئے ایسے لوگوں کو بھی رکھ لیا جن کی صحافتی سطح پر کوئی تعلیم ہے نہ تربیت۔ ان دو کے لئے تجربے کی بات بعد میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹری‘ معاشیات اور وکالت میں ناکام ہونے والے بھی اس شعبہ میں در آئے۔ خواتین اینکرز کے لئے عموماً معیار اہلیت‘ صلاحیت اور حسن کارکردگی کے بجائے ظاہری حسن ٹھہرا۔ نوزائیدہ میڈیائی اداروں میں کوئی اِدھر سے ٹپکا کوئی اُدھر سے ٹپکا۔ پیشہ ورانہ صلاحیت کے حامل بہت کم لوگ ان اداروں میں گئے دراصل ان چند ایک کے دم قدم سے ہی یہ ادارے چل رہے ہیں۔ جن میں جینوئن صحافی زیادہ میں وہی عروج پر ہیں۔ باقی مکھی پہ مکھی مارتے ہوئے اصل صحافت کے حسن کو بھی گہنا رہے ہیں۔ دنیا نیوز کے ساتھ بھی ہاتھ غیر صحافیانہ پس منظر کے حامل صحافت کے نام پر دھبہ قسم کے نام نہاد صحافیوں کے اوور کانفیڈنس ہونے کے باعث ہوا ہے۔ بغیر تربیت کے صحافت کی دنیا میں آنے والا ایسے ہی ہے جیسے اندھے کو کھوتے پر بٹھا دیا جائے جو قیامت تک اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا اوپر سے من بھی میلا ہو تو وہ صحافی نہیں کالی بھیڑ بن جاتا ہے۔ آج میڈیا ان چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے ہی بدنام ہے۔
ایڈمرل منصور الحق نے کرپشن کی انتہا کر دی اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری بحریہ کرپٹ ہے مشرف کی بزدلی اور اس کے مظالم پر فوج کو بزدل اور ظالم قرار نہیں دیا جا سکتا اسی طرح چند کالی بھیڑوں کے کئے دھرے کو صحافت کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ آج ملک ریاض سے مفادات حاصل کرنے والوں کے نام سامنے آرہے ہیں۔ یقیناً یہ لسٹ اور اس میں دئیے گئے اعداد و شمار کی صحت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا پھر بھی دھواں وہیں سے اٹھے گا جہاں آگ لگی ہو۔ صحافی حکومت کے پاس یا کسی پراپرٹی ڈیلر کے پاس قلم بیچتا ہے تو وہ بھی بے ضمیر اور کالی بھیڑ ہے۔ اس کا بھی نام نہاد صحافیوں کی طرح محاسبہ ہونا چاہئے۔ خواہ کتنا بڑا صحافی اور قلمکار ہو۔
ملک ریاض کے ڈاکٹر ارسلان پر عائد کئے گئے الزامات‘ پریس کانفرنس اور انٹرویو کے بعد ملک ایک بار تو ہل کر رہ گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ یہ سارا ڈرامہ میمو کمشن رپورٹ سے توجہ ہٹانے کے لئے رچایا گیا جس میں حسین حقانی کو غدار قرار دیا گیا ہے اور میمو سے جڑے دیگر کردار بھی جلد بے نقاب ہوں گے۔ جب اسی ماہ کے آخر میں سپریم کورٹ میں یہ کیس چلے گا۔ ملک ریاض کی طرف سے اڑائی گئی گرداب آہستہ آہستہ بیٹھ رہی ہے۔ ملک نے بم کو لات ماری تو اس کی زد میں تو انہوں نے آنا ہی تھا ساتھ سیاسی اور حکومتی حلقوں نے بھی سر جوڑ لیا۔ کل ججوں کا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں اجلاس بھی ہو گیا یہ تشویشناک صورت حال کے باعث بلایا گیا تھا جو اسی تشویشناک حالت میں شروع ہوا تاہم دنیا والوں کی آف ایئر ریکارڈنگ اسی اجلاس میں لائی اور پیمرا کی اعلیٰ شخصیت بلائی گئی تو اجلاس کے اختتام تک ججوں کی تشویش ختم ہو چکی تھی۔ وہ اجلاس سے گئے تو پرسکون تھے۔ حکومت اور اس کے اتحادی مل بیٹھے۔ ججوں نے سر جوڑ لئے۔ لیکن کور کمانڈروں کا کوئی اکٹھ نہیں ہوا۔ کیا ان کو اس معاملے میں تشویش نہیں تھی؟ بہرحال کالی بھیڑیں جہاں بھی ہوں میڈیا میں سیاست میں‘ بیورو کریسی اور جوڈیشری میں حتیٰ کہ فوج میں بھی ان کو ان کے اصل مقام اور انجام تک پہنچا دینا چاہئے۔

Friday, June 15, 2012

اقتدار کے مہرے


20-6-12ندائے ملت
اقتدار کے مہرے
فضل حسین اعوان
 صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی تواتر سے کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر ارسلان کیس کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔گیلانی صاحب نے اس حوالے سے فوج کو بھی یہ کہتے ہوئے کلیئر کردیا کہ اس کا بھی ڈاکٹر ارسلان کیس میںکوئی کردار نہیں۔ حکومتی اکابرین کو رس کی صورت میں نغمہ زن رہتے ہیں کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ اس پر عام آدمی کو اتنا ہی یقین ہے جتنا وزیراعظم کے اس فرمان پر کہ ان کے 4 سالہ دورِ اقتدار میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے، ایسے بیانات عوام کے زخموں پر مرہم کیلئے ہیں یا نمک چھڑکنے کیلئے ؟ حکمرانوں کی ستم شعاری اور عوام کے بدن میں نفرت کی شعلہ بنتی ہوئی چنگاری سے کون بے خبر ہے؟ ایسے ستمگر لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار کی لگام پہلی مرتبہ نہیں آئی۔ ان جیسے حکمران تاریخ میں کم از کم دو مرتبہ تو گزرے ہیں۔ایک وہ نامعلوم جس کو بادشاہ کی موت پر صبح سویرے سب سے پہلے شہر میں داخل ہونے پر بادشاہ چن لیا گیا تھا۔وہ کسی مزار کا مجاور، متولی تھا۔ اس کو کھانے پینے سے ہی فرصت نہ ملتی تھی۔مصاحبین نے دشمن کی چڑھائی پر ”مجاور شاہ“ کو آگاہ کیا تو فرمانِ ظلِ الٰہی تھا کہ دستر خوان بچھاﺅ۔ دشمن کے شہر کے قریب آنے پر درباریوں نے پھر آہ وزاری کہ تو بھی حکم ہوا ھل من مزید۔ دشمن قلعہ میں داخل ہونے لگا تو بادشاہ سلامت نے مجاوری پہناوا اوڑھا اور قلعہ سے باہر نکل گیا۔اس بادشاہ کا نام کیا تھا۔سلطنت کونسی تھی۔اس کی مجاور سے بادشاہ اور پھر بادشاہت سے مجاوری کی کب کب جون بدلی اس کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں دوسرے ”ہنوز دلی دور است“ والے تھے جن کا باقاعدہ تاریخ میں تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔
1739ءمیں دلی پر حملے کے وقت وہاں کا حاکم محمد شاہ رنگیلا تھا وہ اتنا کمزور تھا کہ نادر شاہ کا حملہ نہ سہہ سکا اور اس کی غفلت کا یہ عالم تھا کہ جس وقت نادر شاہ دلی کے دروازے پر تقریباً تقریباً پہنچ چکا تھا تو وہ اس وقت بھی نشے میں دھت تھا اور شراب و کباب کی محافل میں مصروف تھا جب اس کے درباریوں نے اسے مطلع کیا کہ حضور نادر شاہ کی فوجوں کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں آرہی ہیںتو کمال بے نیازی سے وہ کہہ اٹھا کہ فکر نہ کرو” ہنوز دلی دوراست“پھر تاریخ میں محمد شاہ رنگیلا کی جو رسوائی ہوئی وہ الگ موضوع ہے۔
ملتانی مرشد گفتار کے غازی ہیں۔ کردار، چونکہ ہمارا موضوع نہیں اس لیے یہ زیربحث بھی نہیں۔ اردو، پنجابی،سرائیکی اور انگلش زبانوں میں خطبات اور خطابات پر مکمل عبور حاصل ہے۔ ساری زندگی پڑھنے لکھنے میں گزاردی۔بزرگوں کی مجلس میں کچھ وقت گزارا ہوتا تو اس پر فخر نہ کرتے کہ ”غوث اعظم کی اولاد ہوں“ بلکہ ان جیسا بننے کی کوشش کرتے۔
گفتگو میں جوش کو لازم گردانتے اور ہوش کو ملزوم نہیں مانتے۔ ایک لمحے جرنیلوں کو آئین شکن ہونے کا طعنہ دیتے ہیں دوسرے ثانیے محب وطن ہونے کا سر ٹیفکیٹ جاری کردیتے ہیں۔لطیف موضوعات کو اپنی ” دانشوری“ سے کثیف بنانے پر ملکہ حاصل ہے۔ سی این این کی صحافی بیکی انڈرسن نے سوال ستم رسیدہ پاکستانیوں کا کیا کہ 30فیصد ملک چھوڑنا چاہتے ہیں مرشد کا جواب تھا کس نے روکا ہے۔چلے جائیں۔اپنی ہی بات کے حق میں ایسی دلیل دیں گے جو ان کے خیالات کی تردید ہوتی ہے بلکہ کبھی تو لطیفہ بن جاتی ہے۔ایسا کچھ ملتانی پیر نے اپنی طرف سے طنزاً فرمایا۔
نواز شریف ہر گیٹ سے عدلیہ میں گئے،ڈاکٹر ارسلان کیس میں عدالت جا کر پارٹی کیوں نہیں بنتے؟ ملک ریاض کے صرف رحمن ملک کے ساتھ ہی نہیں،نواز شریف سمیت تمام سیاسی رہنماﺅں سے اچھے تعلقات ہیں۔چیف جسٹس ڈاکٹر ارسلان کا کیس نہیں سن سکتے تو میرے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کو اپنا بیٹا سمجھتے ہوئے اسکا کیس خود سنیں اور سپریم کورٹ سے اسکی تحقیقات کرائیں،جس پر کوئی الزام ثابت نہیں ہورہا محض مشہوری ہورہی ہے۔مجھے چیف جسٹس پر اعتماد ہے میں بیٹوں کے معاملے پر چار سال سے میڈیا کو بھگت رہا ہوں، چیف جسٹس کو تو ابھی چار دن ہوئے ہیں۔ چونکہ ملک ریاض کے تعلقات سب کے ساتھ ہیں اس لئے نواز شریف فریق نہیں بن رہے۔ارسلان افتخار سکینڈل سے فوج اور حکومت کا فائدہ ہے نہ تعلق، چیف جسٹس کو بیٹے کے سکینڈل پر مستعفی ہوچاہئے یا نہیں،رائے نہیں دے سکتا۔ 
وزیراعظم کا چند فقرات پر مشتمل یہ فرمان تضادات سے بھرپور ہے۔ ایک طرف وہ چیف جسٹس پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں تو دوسری طرف چیف جسٹس کو استعفیٰ دینا چاہئے یا نہیں اس پر کوئی رائے نہ دینے کا مطلب ہی وہ ہے جو پیپلز پارٹی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کہہ رہی ہے جس کی ترجمانی گورنر لطیف کھوسہ کرتے ہیں کہ جسٹس افتخار کو بیٹے کے فیصلے تک عہدہ چھوڑ دیناچاہئے۔این آر او کیس پر زرداری صاحب توہین عدالت کیس میں سزا یافتگی پر گیلانی صاحب نے استعفیٰ دیا ہوتا تو جسٹس افتخار کے استعفے سے طلبگاروں کی بات میں کوئی وزن ہوتا۔ گیلانی صاحب کے بیٹوں پر کرپشن کیسز بنے تو بھی کسی طرف سے یہ آواز نہیں آئی کہ گیلانی صاحب فیصلوں تک مستعفی ہوجائیں۔
گیلانی کے صاحبزادوں پر کرپشن کے الزامات لگے تو گیلانی صاحب نے کیا بچوں کو بے گناہ ثابت کرنے کیلئے ایسا ہی کیا جو کچھ افتخار محمد چودھری نے الزامات کی دھول اڑانے پر ہی نوٹس لے کر کیا ہے؟ گیلانی صاحب تو اب تک اپنی اولاد کے کئے دھرے کی پردہ پوشی کر رہے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو عدالتی کٹہرے سے دور کہیں دور لے جانے کے جتن کر رہے ہیں۔فرماتے ہیں پارلیمانی کمیٹی نے بیٹے کو بے گناہ قرار دے دیا ہے تومزیدتحقیق کی ضرورت نہیں۔پھر اے این ایف کے ڈی جی میجر جنرل شکیل حسین کو محض بیٹے کوتحقیقات سے بچانے کیلئے عہدے سے ہٹا دیا۔ دیگر تفتیشوں کے تبادلے بھی کیے گئے بریگیڈئر فہیم کو اوقات یاد دلائی کہ تمہیں فوج سے ادھار لیا ہے۔ وہ ملزم بچوں کو بچانے کیلئے دھونس ، دھپہ اور دھمکیاں کیا کچھ نہیں کر رہے ! ایک طرف پیشکش کر رہے ہیں کہ میرے بیٹے کا کیس سن لیں۔ساتھ ہی فرما دیا اس پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔حالانکہ کیس کا فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
طنز اور طعنہ ملاحظہ فرمائیے میں بیٹوں کے معاملے پر 4سال سے میڈیا کو بھگت رہا ہوں۔ چیف جسٹس کو تو ابھی چار دن ہوئے ہیں.... جناب تو چار سال سے ہی چیخ و پکار کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس تو حوصلہ مندی سے بیٹے کو عدالت میں لے آئے اور بنچ سے الگ ہوکر معاملہ دوسرے ججوں کے صوابدید پر چھوڑ دیا۔ جنہوں نے ڈاکٹر ارسلان، ملک ریاض اور ان کے داماد سلمان کے خلاف اٹارنی جنرل کو سخت کارروائی کرنے کا حکم دیدیا۔ 
وزیراعظم گیلانی ہوش سے خالی جوش خطابت میں فرما گئے کہ ملک ریاض کے صرف رحمن ملک سے ہی نہیں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت تمام سیاستدانوں سے اچھے تعلقات ہیں۔ تمام سیاستدانوں سے اچھے تعلقات کا مطلب خود ان سے بھی اور ان کی پارٹی کے سربراہ صدر آصف علی زرداری سے بھی ہے۔ اس میں کسی شبہ کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ملک ریاض کے رشوت دینے کے حوالے سے میڈیا میں آنے والے بیانات پر اکثر سیاستدان گویا نہیں ہوئے۔ صرف چودھری نثار اور عمران خان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ نواز شریف اور شہباز شریف نے جسٹس افتخار کی حمایت میں تو بات کی ہے لیکن بات بڑھانے اور بگاڑنے والے سے شاید الفت و عقیدت اتنی ہے کہ اس کا نام زبان پہ نہیں لائے۔ ملک ریاض کے صرف ” تمام“ سیاستدانوں کے ساتھ ہی اچھے مراسم نہیں خود کو بادشاہ گر سمجھنے والے جرنلسٹوں سے بھی ہیں۔ کئی ریٹائرڈ جرنیل تو ملک صاحب کی آغوش ملازمت میں پناہ لئے ہوئے ہیں حاضر سروس جرنیلوں سے بھی گاڑھی چھنتی ہے۔ ملک ریاض کے ساتھ یارانے اور قربت کے دعویدار، ایک اینکر اور کالم نگار نے ملک ریاض کے ساتھ بڑے بڑوں کی دوستی سے نقاب اٹھایا ہے۔ ملک ریاض کے دوست اس جرنلسٹ کا دعویٰ ہے کہ” ملک ریاض سے دوستی آج تک قائم ہے،میں نے سولہ برس سے ملک ریاض کے تقریباً تمام پہلو دیکھے ان کی زندگی کا شاید ہی کوئی اینگل ہو جو میری نظروں سے پوشیدہ ہو۔کالم نگار ملک ریاض کی یارسائی کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
”یہ اقتدار کے تمام مہروں کو اپنی جیب میں رکھتا ہے پاکستان میں جو بھی شخص اقتدار کی شطرنج پر پہنچتا ہے ملک ریاض اس تک پہنچ جاتا ہے اور وہ شخص چند دن بعد ملک ریاض کا محتاج ہوجاتا ہے۔یہ صدر جنرل مشرف کا بھی انتہائی قریبی ساتھی تھا،یہ چوہدری برادران کا بھی بھائی تھا،یہ شوکت عزیز کے بھی قریب تھا اور یہ جلا وطن میاں صاحبان کے رابطے میں بھی تھا۔یہ حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کو کاروباری مدد بھی دے رہا ہے اور یہ آصف علی زرداری،بینظیر بھٹو اور رحمان ملک کا ساتھی بھی تھا آپ2008ءکے الیکشن کو دیکھ لیجئے، یہ جنرل پرویز مشرف کو بھی سپورٹ کر رہا تھا، یہ چوہدری پرویز الٰہی کا ساتھ بھی دے رہا تھا،یہ آصف علی زرداری کا بھی انتہائی قریبی ساتھی تھا اور اس نے میاں برادران کی الیکشن مہم کو بھی سپورٹ کی، میاں برادران2008ءکے الیکشنز میں ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات میں اشتہارات دیناچاہئے تھے اشتہارات کے ریٹس زیادہ تھے ملک ریاض میڈیا کا ” بلک بائر“ ہے،حمزہ شہباز شریف اور پرویز رشید ملک ریاض کے پاس گئے اور ملک ریاض نے 70فیصد رعایت پر پاکستان مسلم لیگ ن کے اشتہارات ریلیز کرادئیے، میں نے اس کے گھر میں یہ منظر بھی دیکھا کہ ایک کمرے میں شیخ رشید بیٹھا ہے اور دوسرے کمرے میں حنیف عباسی ہے اور دونوں کو ایک دوسرے کی خبر نہیں۔ ملک ریاض فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بھی بہت قریب ہے جنرل حمید گل سے لیکر جنرل پاشا تک تمام ڈی جی آئی ایس آئی بھی ملک ریاض کے دوست تھے۔ یہ میڈیا کی طرف نکلا تو اس نے پاکستان کے تمام میڈیا ٹائی کونز کو بھی اپنا دوست بنالیا۔ پاکستان میںکوئی بھی سیاسی تبدیلی ہو، یہ خواہ آصف علی زرداری کے درمیان میثاق مری ہو،میاں برادران اور آصف علی زرداری کے درمیان خفیہ معاہدے ہوں،آصف علی زرداری اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان سمجھوتہ ہو،چیف جسٹس کی بحالی ہو،پنجاب حکومت کی واپسی ہو، ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان معاہدے ہوں،چوہدری برادران اور آصف علی زرداری کے درمیان ہو، عمران خان کی لانچنگ ہو،ڈاکٹر بابر اعوان کی فراغت ہو، جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی ایکسٹنشن ہو، حمزہ شہباز اور عائشہ احد کا تنازعہ ہو، مونس الٰہی کا مسئلہ ہو، چودھری اعتزاز احسن کی پارٹی میں واپسی ہو،چیئر مین نیب کی تقرری ہو، وزیراعظم کے صاحبزادوں کا ایشو ہو، ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ ہو اور اب نیٹو سپلائی کا ایشو ہو،ملک ریاض ہر قسم کے جوڑ تو ڑ کا مرکزی کردار تھا اور ہے لیکن اس سارے کھیل میں صرف ایک شخص اس کے قابو نہیں آیا وہ شیخ چوہدری نثار ہے۔
مذکورہ کالم ہفتہ قبل شائع ہوا،اس میں اگلے گئے راز اور انکشافات مذکورہ شخصیات کی طرف سے ہنوز ہضم کئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اس کا مطلب ہے جس کے بارے میں جو کہا گیا وہ درست ہے۔ البتہ چودھری نثار کے ساتھ دیگر بہت سے لوگ پاکستان میں موجود ہیں جو اب تک انمول ہیں جن کی کوئی قیمت نہیں لگا سکا۔ ان میں سے ایک تو جسٹس افتخار محمد چودھری بھی ہیں۔ وہ بھی بک گئے ہوتے تو آج ان کا بیٹا جھوٹے اور سچے الزامات پر عدالت کے کٹہرے سے ہوتا ہوا تفتیش کے مراحل سے نہ گزر رہا ہوتا۔ ان کے تنخواہ دار نے یہ تو کہا کہ ملک ریاض اقتدار کے تمام مہروں کو اپنی جیب میں رکھتا ہے۔ کیا وہ اقتدار کے مہروں کے ذریعے انصاف بھی خرید لے گا؟ اُن کا زور ہے کہ رشوت ان کے داماد نے دی ہو گی ان کو بلیک میل کیا گیا۔ وہ کونسی کمزوری ہے جو ڈاکٹر ارسلان کے ہاتھ لگی اور وہ پاکستان کے ہر بڑے فیصلے میں کردار ادا کرنے والا پراپرٹی ٹائیکون بلیک میل ہو گیا؟ ڈاکٹر ارسلان نے اعتراف کیا ہے کہ بحریہ ٹاﺅن کی طرف سے ادائیگیاں کی گئیں اس سے لاعلم تھے۔ اس کا یہ اعتراف بھی شرمناک ہے ان کو کچھ بھی کرنے سے قبل یہ تو سوچ لینا چاہئے تھا کہ کس باپ کے بیٹے ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ ملک ریاض کہتے ہیں میرے پراجیکٹ کو کچھ ہوا تو ذمہ دار سپریم کورٹ ہو گی۔ پراجیکٹ اگر ڈوبتا ہے تو اس کے ذمہ دار خود ملک صاحب ہی ہوں گے جو اتنا over confidence ہوئے کہ بم کو لات مار دی۔ 

Thursday, June 14, 2012



آج ، 14 جون ، 2012

فضل حسین اعوان
میمو کمشن رپورٹ‘ ڈاکٹر ارسلان کیس اور ملک ریاض کی پریس کانفرنس سے کہیں بڑا دھماکہ‘ سنسنی خیز اور لرزا دینے والی ہے۔ اس میں حسین حقانی کو غداری کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔ وہ جن لوگوں کے ایما پر ایسا کرتا رہا ان کے دامن بھی اجلے نہیں رہ سکتے۔ ایک ہلکی سی نظر میمو کمشن رپورٹ پر پھر آگے چلتے ہیں۔ ”کمشن کی رپورٹ میں یہ بات ثابت ہو گئی کہ میمو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے اور حسین حقانی اس کے خالق ہیں۔ حسین حقانی نے امریکی مدد چاہی اور وہ امریکیوں کے لئے خود کو ناگزیر ثابت کرنے کے لئے جگہ بنانا چاہتے تھے۔ حسین حقانی اس حقیقت کو بھول گئے کہ وہ ایک پاکستانی شہری ہیں اور وہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر ہیں اس لئے ان کی تمام تر وفاداریاں پاکستان کے لئے ہونی چاہئے تھیں۔حسین حقانی نے ایک مجوزہ ’قومی سلامتی ٹیم‘ کے حصہ کے طور پر ایک غیر ملکی حکومت کو اپنی خدمات پیش کیں اور ان ’عظیم خدشات‘ کا اظہار کیا کہ ’پاکستان کے جوہری اثاثے اب ایک واضح ہدف ہیں‘ اور اس طرح یہ کہتے ہوئے کہ آئی ایس آئی کے ’طالبان سے تعلقات ہیں‘ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو ایک زیادہ قابل تصدیق اور شفاف حکومت‘ کے تحت لانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ”آئی ایس آئی کے سیکشن ایس کے خاتمے‘ اور ’ان کے مفادات کے خلاف صف آراءقوتوں کو کمزور کرنے‘ کی پیشکش کرکے پاکستانی سیاست میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی اور یہ پاکستان سے غداری کے اقدامات تھے جوکہ آئین پاکستان سے انحراف تھا.... ان کے پاکستان کے ساتھ کوئی واضح رشتے نہیں تھے انہیں انتہائی حساس عہدے پر یعنی امریکہ میں پاکستان کا سفیر تعینات کیا گیا اور تنخواہ اور دیگر مراعات کے علاوہ بیس لاکھ ڈالر کی سالانہ رقم بھی دی گئی۔“ 
میڈیامیں کچھ لوگوںنے ملک ریاض کو مہرہ قرار دیا ہے۔ایسا ہے توسپریم کورٹ کے حکم پر میمو کمشن رپورٹ کا اجرا اور ڈاکٹر ارسلان کیس کا اپنے عروج پر ہونا اتفاق نہیں ہے۔ لگتا ہے یہ ایک سوچی سمجھی پلاننگ ہے۔ اگر محض جسٹس افتخار کو ہی بدنام کرنا مقصود ہوتا تو 28مئی 2012 کا دن اہم ترین موقع تھا جب جسٹس افتخار کو لندن میں جیورسٹ ایوارڈ دیا جارہا تھا۔ کرسٹینا لیمب بھی سٹوری بریک کرنے پر آمادہ تھی۔ اتفاق صرف یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک ریاض حسین کو ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا تھا اسی روز میمو کمشن رپورٹ عوام کی دسترس میں لانے کا حکم دے دیا گیا۔ اگر بحریہ ٹاون کی ریاست کے شہنشاہ کو عدالت میں طلب نہ کیا ہوتا تو بھی میمو کمشن رپورٹ کے اجرا کے روز اسی طرح کی دھانسو اور دھواں دار پریس کانفرنس ہوتی جیسی 12 جون 2012ءکو ہوئی۔ اُس پریس کانفرنس پر بھی اسی طرح کا ارتعاش پیدا ہونا تھا۔
میمو کمشن کی رپورٹ کی شدت کم کرنے کے لئے حکومت نے اپنا آخری کارڈ کھیل لیا خفیہ ہاتھ پکے کانوں سے سن کر سرگرم ہوئے۔ میمو کمشن رپورٹ تین قابل احترام ججوں نے مرتب کی۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کے ذریعے یہ رپورٹ ان لوگوں تک پہنچی ہوجنہوں نے اس کے اثرات کم کرنے اور اس کو عوام کی توجہ کا مرکز بننے سے روکنے کے لئے اپنے پتوں کو ترتیب دینا شروع کر دیا۔ رپورٹ دیگر بہت سے ذرائع سے لیک ہو سکتی ہے۔ حسین حقانی نے نہ صرف کمشن سے تعاون نہیں کیا بلکہ یہ تک کہہ دیا کہ سپریم کورٹ کو کمشن بنانے کا اختیار ہی نہیں اور پھر تحقیقات کے دوران وہ کمشن کی طلبی پر پاکستان آنے کا وعدہ کرکے ایسے رفوچکر ہوئے کہ کمشن کی طلبی کو بھی کوئی اہمیت نہ دی۔ ان کے وکیل نے کمشن کا بائیکاٹ کردیا۔ اس سب کے پیش نظر بھی کمشن کی رپورٹ کا تعین کیا جا سکتا تھا۔
آج صورت حال یہ ہے کہ میڈیا میں شہر شہر‘ گلی گلی اور قریہ قریہ ڈاکٹر ارسلان کیس اور ملک ریاض حسین کی پریس کانفرنس کا چرچا ہے۔ میمو کمشن رپورٹ اسی تذکرے میں دب کر رہ گئی۔ یہی میمو کیس سے جڑے کرداروں کا مقصد اور مطمح نظر تھا۔ جو مکمل طور پر پورا ہو گیا۔ اب شاید ڈاکٹر ارسلان کیس میں وہ شدت عروج اور زلزلہ دوبارہ دیکھنے کو نہ ملے۔ 
جسٹس افتخار محمد چودھری سے حکومت خوش ہے نہ بحریہ ٹاون والے ،حکومت نے ارسلان کیس اور ملک ریاض کی کانفرنس سے میمو کمشن رپورٹ پر گرد ڈالنے اور اس سے پوری دنیا کی توجہ ہٹانے کا بڑا بلکہ بہت بڑامقصد حاصل کر لیا۔ اگر اسی ایک تیر سے دوسرا شکار ہو جائے تو ان کی نظروں میں کیا برا ہے۔ میمو کمشن رپورٹ پس منظر میں چلی گئی ساتھ جسٹس افتخار کو ہٹانے یا حالات ایسے پیدا کردئیے جائیں کہ وہ خود اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں تو اس سے زیادہ انکے خلاف بساط بچھانے والوں کو کیا خوشی ہو سکتی ہے۔ بلاشبہ جسٹس افتخار چودھری پر ایک بڑا حملہ ہوا ہے لیکن یہ جرنیلوں کے ساتھ بیٹھ کر دھمکیاں سننے سے کہیں کم تر حدت کا ہے۔ وہ جسٹس افتخار کا پہلا پہلا تجربہ تھا اب تو وہ ایسے حملوں اور کسی وقت کے گہرے دوستوں کے ستم کے بھی عادی ہو چکے ہیں اس لئے جسٹس افتخار کے خیر خواہ حوصلہ رکھیں۔ فوج اور آرمی چیف سے طاقت ور ملک میں کوئی ادارہ ہے نہ شخصیت‘ جسٹس افتخار ایک آرمی چیف جو صدر بھی تھا اور جس کا اقتدار سوا نیزے پر تھا اس کا بے جگری کے ساتھ سامنا کر چکے ہیں۔ اب کسی میں ایسا دم خم نہیں محض سازشیں ہیں، چالاکیاں ہیں بیان بازیاں اور چغلیاں و غیبتیں ہیں جن سے پہاڑ ہلا کرتے ہیں نہ پتھر پگھلا کرتے ہیں۔ میمو کمشن رپورٹ صرف اور صرف عوام اور میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہوئی ہے۔ اسکے نتائج ان لوگوں کو یقیناً بھگتنا ہونگے جو قومی سلامتی اور سالمیت کےخلاف سازشوں میں ملوث رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی کو خریدنا جرم ہے لیکن جو بکتا ہے‘ وہ خریدار سے بھی بڑا مجرم ہے۔ عام لوگ سوال کرتے ہیں کہ پراپرٹی ٹائیکون اگر بکا ہے تو کتنے میں اور کس کے ہاتھ؟؟ خدا کرے کہ یہ دھول یہیں بیٹھ جائے ورنہ ایسا طوفان اٹھنے کا اندیشہ ہے جس میں سب کچھ تلپٹ ہو سکتا اور بکھر سکتا ہے۔ جمہوریت بھی اور خریدار وبکنے والے بھی زد میں آسکتے ہیں۔