About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, June 5, 2013

پرانا صدر ، نیا صدر

پرانا صدر ، نیا صدر

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان
06 جون 2013
پرانا صدر ، نیا صدر
کل کے بادشاہ پر ویز مشرف آج جیل میں اور انکے قیدی نواز شریف تخت نشیں ہیں۔ یہ مکافاتِ عمل ہے یا تاریخ خود کو دُہرا رہی ہے،البتہ یہ اہل سیاست اور ریاست کیلئے مقامِ عبرت ضرورہے۔ بعینہ صدر آصف علی زرداری آج اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں 2008ءکے انتخابات کے بعد صدر جنرل (ر) پرویز مشرف بے چارگی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ اُن انتخابات کے ساتھ ہی مسلم لیگ ق کے سینیٹرزاور ارکانِ اسمبلی آندھی میں ہاتھ سے چھوٹے ہوئے کرنسی نوٹوں کی طرح ایسے بکھرے کہ قیادت سمیٹنے کی کوشش میں دیوانہ ہو رہی تھی۔ زرداری صاحب نے مشرف کی تنہائی کو بھانپتے ہوئے جنرل (ر) اسد درانی کے ذریعے انکو جون میں صدارت سے الگ ہونے کا پیغام دیا۔ انکار پر مواخذہ کی دھمکی دی اور کارروائی شروع کردی۔مشرف کی زخم خوردہ ن لیگ اس موقع پر مدعی سے زیادہ چست نظر آئی۔ مشرف مواخذے کی دھمکی پر بڑا تلملائے لیکن نواز زرداری اتحاد کے سامنے سرنڈر کرتے ہی بنی ۔ آج آ صف علی زرداری کی پوزیشن مشرف کے اگست 2008ءکے مقابلے میں کہیں نازک ہے۔جہاں میں اپنے جیسے قارئین کو بتانا چاہتا ہوں کی صدر کو عہدے سے ہٹانے کے عمل کو مواخذہ Impeachment اور وزیراعظم کیخلاف اسی عمل کو عدم اعتمادNo Confidence کہتے ہیں۔   18 اگست2008ءکو مشرف کے استعفے کے بعد آصف زرداری کا 6 ستمبر کو انتخاب ہو ا مقابلے میں ن لیگ کے سعیدالزمان صدیقی اور ق لیگ کے مشاہد حسین سید تھے۔ ق لیگ کے امید وار کو 44 ووٹ ملے حالانکہ ان کی صرف قومی اسمبلی میں 54اور سینٹ میں38 نشستیں تھیں۔ زرداری صاحب کو 702 الیکٹوریل ووٹوں میں سے481 ملے۔ صدر کیلئے حلقہ انتخاب ایوان بالاوزیریں اور چاروں صوبائی اسمبلیاں ہیں۔ ارکان سینٹ قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے ممبران کا ایک ایک ووٹ جبکہ دیگر اسمبلیوں کے بلوستان اسمبلی کے برابر 65,65ووٹ ہیں۔ صدر کو اس میں سادہ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے ۔زرداری صاحب نے481 ووٹ حاصل کئے تھے۔لیکن اب انکی مشرف کی طرح ہی لُٹیا ڈوب چکی ہے۔ انکی مدت صدارت اسی سال چھ ستمبر کو ختم ہورہی ہے۔ ن لیگ جب چاہے ان کا مواخذہ کر سکتی ہے۔ اب زرداری کی صدارت مکمل طور پر ن لیگ کے رحم وکرم پرہے۔انتخاب کیلئے تو چاروں صوبائی اسمبلیاں صدر کے انتخابی کالج میں شامل ہیں‘ مواخذہ کیلئے ان کو تکلیف نہیں دی جاتی۔ مواخذہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں دو تہائی اکثریت سے کیا جاتا ہے جس کیلئے ایوان مکمل ہوں(قومی اسمبلی342جمع سینٹ 104 کل 446میں سے)298ووٹ درکا رہیں۔ سپیکراور ڈپٹی کیلئے ن لیگ کے امیدواروں ایاز صادق اورمرتضیٰ جاوید کو258 ، 258 ووٹ ملے۔15 ارکان نے اگلے دن حلف اُٹھایا اور ابھی کئی10 نشستوں پر انتخاب ہونا باقی ہے۔میاں نواز شریف کو244 ارکان کے اعتماد کا ووٹ ملا۔جاوید ہاشمی کو 31ووٹ ملے۔ سینٹ میں پیپلز پارٹی کو 41 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے جو ق لیگ کیطرح اقلیت میں تیزی سے بدل رہی ہے۔ سینٹ میں ن لیگ کی 14اور اس ساتھ چلنے والی پارٹیوں جے یو آئی ف ،فاٹا ،اے این پی اور آزاد ملا کر تعداد 45بن جاتی ہے۔مواخذے کی صورت میں پی ٹی آئی ن لیگ کا ساتھ دیگی یوں سکور مطلوبہ تعداد سے بڑھ جاتاہے ۔ سینٹ میں قائد ایوان فاروق ایچ نائک اور گورنربلوچستان ذوالفقار مگسی نے اصولی فیصلہ کرتے ہوئے اپنے عہدے چھوڑ دیئے۔ زرداری صاحب جب تک ممکن ہے استثنیٰ کی چھتری کا سایہ سر پر رکھنا چاہتے ہیں، ان سے مستعفی ہونے کی امید نہیں، اس کا وہ پُرزور طریقے سے اظہار بھی کرچکے ہیں۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف رواداری میں ان کو صدراتی مدت پوری کرنے دینگے۔ اگر زرداری صاحب کو ن لیگ نے مواخذے کی پوزیشن میں ہونے کے باوجود مدت پوری کرنے دی تو یہ رواداری نہیں‘قومی جرم کے مترادف ہوگا۔ میاں نواز شرف، انکی جماعت خصوصی طور پرچھوٹا شیر، آصف زرداری پر بدترین کرپشن کے الزام لگاتے ہوئے انکے پیٹ سے قومی خزانے کی لوٹی ہوئی پائی پائی نکلوانے کے دعوے کرتے اور نعرے لگاتے رہے ہیں۔ ان کو لاہور کے بھاٹی گیٹ میں گھسیٹنے کی بات بھی کی گئی تھی ۔کسی کو کہیں بھی گھسیٹنا غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے البتہ مواخذہ آئین اور قانون کے عین مطابق ہے۔کسی کی ہمالہ جیسی کرپشن سے صرفِ نظر کرنا کیاکرپشن کے فروغ سے کم ہے؟مواخذہ ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں جلد یا بدیر نواز لیگ اپنا صدر لائے گی ،اس کیلئے ابھی سے لابنگ شروع ہے۔ ن لیگ سے تعلق رکھنے والے آدھے سے زیادہ ارکان اسمبلی اپنے اباجی کو اس عہدے کیلئے موزوں سمجھتے ہیں۔ جلسوں اور تقریبات میں 80 سے 95سال کے اکابرین بھی شریف زادوں کے گرد گھومتے ہوئے تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ صدر بننے کا ان سے زیادہ کوئی اوراہل و حقدار نہیں۔میاں نواز شریف شیر ہیں، شیر ہیں! نوازشات کے وقت بے وفاﺅں کیلئے انکے اندر جمل کی خصوصی حس اکمل ہوجاتی ہے۔ بعض کو سرتاج عزیز کے آنگن میں صدارت کا چاند اترتا دکھائی دیتا ہے ۔انہوں کتاب"Between Dreams and Realities" لکھ کر اپنا آنگن بے نور کرلیا۔ سابق صدر کے دوبارہ اس عہدے پر تعیناتی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ نواز شریف کووزیر اعظم ہاﺅس سے ذلت و رسوائی سے نکالے جانے کے اگلے لمحے انکے صدر ایوان صدر چھوڑ دیتے تو وہ یقینا نواز شریف کے ایک بار پھر صدر ہوتے۔ زرداری کے مقابلے میں ن لیگ کے امید وار سعیدالزمان صدیقی نے153ووٹ حاصل کئے تھے۔ ان کو مخدوم امین فہیم کی طرح ہرانے کیلئے ہی نہیں رکھا ہوا۔ ان کا تعلق ویسے بھی سندھ سے ہے۔ وہ ججوں کی سائیکی سمجھتے اور ان میں اثرو رسوخ بھی رکھتے ہیں۔ میاں نوا ز شریف کی نفسیات کو سمجھنے کے دعویدار تجزیہ نگار سعیدالزمان صدیقی کو ہی صدارت کا مضبوط امیدوار قرار دیتے ہیں۔ 

Monday, June 3, 2013

چالیس لاکھ مسلمانوں کو شہید کرنیکی بھارت برما سازش

چالیس لاکھ مسلمانوں کو شہید کرنیکی بھارت برما سازش

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
02 جون 2013 0


اس خبر نے سر سے پاﺅں تک ہلا کے رکھ دیا۔ ”میانمار میں 40لاکھ مسلمانوں کو شہید کرنے کا بھارتی منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔ 300مساجد شہید ،1200 بستیاں نذر آتش کی جا چکی ہیں،ایک لاکھ مسلمانوں کوانسانیت کو شرما دینے والے طریقوں سے قتل کر دیا گیا “۔روح تک میں کپکپی طاری کردینے والی خبر کے ساتھ ہی مسلمانوں پر بُودھوں کے بہیمانہ مظالم کی دو درجن کے قریب تصاویر بھی موجودہیں۔انکے نیچے دئیے گئے کیپشن پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیںاور بدن میں ایک سنسنی کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔” خواتین کے پیٹ چاک کرکے نکالے گئے بچوں کو جلایا جا رہا ہے ۔۔۔ فٹ پاتھ پر زیادتی کے بعد قتل ہونیوالی لڑکی۔۔۔ کمسن بچوں کو پھانسی کے پھندے۔۔۔ کمسن بچہ قتل ہونے والی والدہ کے سرہانے رو رہا ہے۔۔۔ زندہ جلانے سے قبل ہاتھ پاﺅں باندھے جا رہے ہیں۔۔۔ فو جی اہلکار مسلمانوں کو قتل کرکے لاشیں سمندر میں پھینکنے کیلئے ٹرک میں ڈال رہے ہیں ۔“
انٹر نیٹ پر یہ تصاویر اپنی روداد زیادہ وضاحت سے بیان کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں کم از کم ایک سو لاشوں کو جلانے کیلئے سلاخوں کے اوپر رکھا ہوا ہے ۔زخموں سے چور خون آلود برہنہ انسان اوندھے منہ پھینکے ہوئے ہیں۔ دو قطاروں کے درمیان پانچ فٹ کا فاصلہ ہے ۔ درمیان اور اطراف میں سو کے قریب انتہا پسند بودھ میرون کلر کے روایتی لباس میںمنہ اور ناک پر ماسک چڑھائے نعشوں کو جلانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ بُودھ مت میں شائد لاشوں کو جلایا جاتا ہے لیکن اس طریقے سے نہیں جو جہاں اختیار کیا گیا ہے ۔یہ جلانے والوں کی طرف سے مسلمانوں سے شدید نفرت اور تضحیک کا اظہار ہے۔
اب جو شواہد سامنے آئے ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ برما(میانمار) میں مسلمانوں کے قتل عام کے پیچھے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینے کیلئے بھارت کی سازش کار فرماہے۔ ” بھارت میانمار میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اس مقصد کیلئے جون 2012ءمیں وزیراعظم منموہن سنگھ نے میانمار کا دورہ کیا ۔انکے ساتھ تاجروں کا ایک وفد بھی گیا۔ میانمار کے صوبہ ارکان کی آبادی 40 لاکھ ہے۔ یہ علاقہ بر لبِ سمندر ہے۔کہا جاتا ہے کہ عالمی تجارت کیلئے جو اہمیت گوادر پورٹ کی پاکستان کیلئے ہے وہی بھارت کیلئے صوبہ ارکان کی ہوسکتی ہے۔
 منموہن کے دورے کے ایک ہفتے بعد فسادات میں 20 ہزار مسلمانوں کو 10 بُودھ پیشواﺅں کے قتل کا الزام لگا کر تہہ تیغ کردیا گیا۔یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔کئی خواتین عزت کی خاطر دریا میں ڈوب کر اپنی جان گنوا چکی ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ایما پر انتہا پسند ہندو¶ں‘ انتہا پسند مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے گھنا¶ نے منصوبہ پر تیزی سے عمل پیرا‘ بھارتی خفیہ ایجنسیاں‘ بودھ مت کے پیرو کاروں کو ہتھیار فراہم کر رہی ہیں ۔دو برس کے دوران ایک لاکھ مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔منصوبے کے مطابق یہ پروگرام 40 لاکھ کلمہ گو مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے تک جاری رہے گا۔
صوبہ ارکان اور بنگلہ دیش کے درمیان ایک دریا حائل ہے ۔یہ برمی مسلمان ا پنے ایمان اور جان کی حفاظت کیلئے دریا عبور کرکے بنگلہ دیش میں اس زعم میں داخل ہوئے کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لیکن بنگلہ دیشی حکمران تو اقتدار کے بدلے اپنی وفاداری 1971ءمیں بھارت کے چرنوں میں رکھ چکے ہیں۔ مجیب کی بیٹی نے بنگلہ دیش میں داخل ہونیوالے نہتے ، بے بس وبے کس مسلمانوں پر گولہ اور بارود برسانے کا حکم دیا اور وہ اس محاورے
 Between deep sea and devil کی حقیقی تصویر بن گئے۔ ان میں سے کچھ فائرنگ سے مارے گئے کچھ ڈوب گئے اور باقی ساحل پر اترتے ہوئے بے رحم اسلحہ بردار بُودھوں کے ہتھے چڑھ گئے۔
پہلی جنگِ عظیم پولینڈ کے ایک نوجوان کے قتل پر شروع ہوئی جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اس میں تین کروڑ انسان ہلاک ہوئے۔اہل اسلام کا خون کتنا سستا ہے کہ فلسطین ، کشمیر ، افغانستان اور عراق میں لاکھوں مسلمان خاک اور خون میں مل گئے۔اس پر اسلامی دنیا میں کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔ برمی ریاست کو پاکستان اور ملت اسلامیہ کے ایک بڑے دشمن کی براہِ راست پشت پناہی حاصل ہے اس لئے بعید نہیں کہ برما اور بھارت مل کے چالیس لاکھ مسلمانوں کی کٹی اور جلی لاشوں پر بندر گاہ تعمیر کر لیں۔
چالیس لاکھ مسلمانوں کیلئے موت کا پیغام عالمی برادری کیلئے شرم اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور او آئی سی کیلئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔
 ارکان کے مسلمانوں کیلئے ایسی سیاہ رات طاری ہوئی کہ جس کی سحر نظر نہیں آتی ۔یہ اماوس کی رات سے بھی زیادہ تاریک منحوس اور سیاہ بختی پر محیط ہے۔ اماوس کی رات کو گھپ اندھیروں میںستاروں کی چمک تو باقی رہتی ہے،ان مسلمانوںکیلئے امید کی کرن موجود ہے نہ زندگی رمق۔ 1948ءمیںارکان کے مسلمانوں نے خوراک کی قلت کے موقع پر پاکستانیوں کیلئے پانچ ہزار ٹن چاول کا تحفہ بھجوایا تھا۔آج پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت اور میانمار کے مسلمان موت کے بگولوں کی لپیٹ میں ہیں۔گزشتہ حکمرانوں کو تو اپنے لوگوں کی بھی پروا نہیں تھی۔جو اب آئے ہیں وہ پاکستان کے ازلی دشمن کےلئے وارفتگی کی کیفیت سے سرشار ہیں۔میانمار میں بھارت جو کچھ کر رہاہے اس کو ہی مد نظر رکھتے ہوئے بھارت کےلئے اپنی جانثارانہ اور فدویانہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی فرمائیں۔ ارکان کے مسلمانوں کی جان کے تحفظ کیلئے او آئی سی کو متحرک کریں اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر آواز اُٹھائیں۔ اہل اسلام کیا برما میں آخری مسلمان کی لاش گرنے ،جلنے اور آخری بیٹی کی بے آبروئی کے منتظر ہیں؟ 

بوڑھی سوچ

 بوڑھی سوچ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
30 مئی 2013 0


بڑھاپا بیماری نہیں، زندگی کا ایک تسلسل ہے۔ بڑھاپے کے باوجود جذبات اور خواہشات بوڑھی نہیں ہوتیں جبکہ سوچ میں نکھار آتا اور یہ توانا تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ البتہ کچھ لوگوں کی سوچ بوڑھی ضرور ہو جاتی ہے جس میں عمر کا عمل دخل نہیں ہے۔ یہ بیماری جو کسی بھی عمر میں لاحق ہو سکتی ہے۔آ ج ہمارے ہاں بوڑھی سوچ کے حامل حضرات ہر شعبہ زندگی میں پائے جاتے ہیں۔ جن کا تعلیم تربیت ،زندگی کے تجربے اور زمانے کے نشیب و فراز نے کچھ نہیں بگاڑا۔ بوڑھی سوچ اور نااہلیت میں تھوڑا سا فرق ہے۔ ہمارے ہاں سیاست اور ریاست میں کئی ہزار خان آئے اور کروڑ خان بن کر چلے گئے۔ ماورائے آئین وقانون کوئی بھی کام ، اقدام اور غیر حقیقی بیان بیمار سوچ جبکہ ملکی امور چلانے میں ناکامی نااہلیت کا شاخسانہ ہے۔ ہمارے ہاں آج کے نگران حکمران بوڑھی سوچ اور نااہلیت کا ”حسین امتزاج “ثابت ہوئے۔ نگرانِ اعلیٰ نے اپنے فرزند ارجمند کو یک لخت دو ترقیاں دےدیں اور بجلی کا بحران دوچند کر دیا۔ سابقون کی پھیلائی ہوئی تاریکیوں میں مزید اضافہ کردیا۔ ادھر ادھر سے لوگوں کو اکٹھا کر کے نگران سیٹ اپ بنایا گیا۔ ان کی کارکردگی نے ثابت کر دیا کہ ریاست صرف سیاست کے ذریعے چلائی جا سکتی ہے اور یہ کام سیاستدانوں کا ہے۔پنجاب کے نگران معظم نے لوڈ شیڈنگ پر دو چھٹیوں کا وار کیا جو حماقت ثابت ہوا۔ 
جج، صحافی، بزنس مین اور ڈاکٹر اپنے اپنے شعبوں کو اوجِ ثریا پر تو لے جا سکتے ہیں لیکن ایک فوجی کی طرح کبھی اچھے سیاستدان نہیں بن سکتے۔ دو اڑھائی ماہ کے نگران حکومت کے تجربے نے اس پر مہر توثیق ثبت کر دی ہے۔ نگران سیٹ اپ چتر نہیںپوتر سیاستدانوں پر مشتمل ہو تو شکایات نہ ہوں۔ ایسے سیاستدان یقیناً نایاب نہیں ہیں۔ 
گزشتہ حکمرانوں کی بیمار سوچ نے ادارے تباہ کر دئیے جن کو عدلیہ نے سدھارنے کی بڑی کوشش کی لیکن یہ بیمار سوچ عدلیہ کے سامنے کمان کس کے اور تلوار سونت کر کھڑی ہو گئی۔ اسے بھی کریڈجانیے نواز لیگ نے اپنے دور میں عدلیہ پر تلوار اور تیر چلا دئیے تھے۔ ایڈمرل فصیح بخاری کی تقرری بھی ان کے پیشرو سید دیدار شاہ کی طرح کالعدم قرار دی گئی ہے۔ ایسی ایک نہیں درجنوں تقرریاں کی گئیں جو نااہلیت نہیں بیمار سوچ کا نتیجہ تھیں۔ اُس حکومت میں ایک سے بڑھ کر ایک بوڑھی سوچ والا موجود تھا۔ کیا صدر، وزیراعظم در وزیراعظم، وزرائ، مشیر، ارکان اسمبلی اور سنیٹر، چند ایک کے سوا سب ایک ہی کشتی کے سوار تھے جو کرپشن کے قلزم میں لہراتی اور ہن برساتی رہی۔ اب کہہ رہے ہیں کہ انتخابات قومی اور عالمی سازش کا شکار ہوئے۔ ریٹرننگ افسر مجھے مل جائیں تو صدارتی الیکشن جیت سکتا ہوں۔ ایسے بیانات کس سوچ کی نشاندہی کرتے ہیں؟ البتہ پارٹی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی لیڈر شپ نے درست کہاکی کہ ان کو گیلانی اور پرویز اشرف کی پالیسیوں اور کرپشن نے مروایا۔ ان دو وزرائے اعظم نے ریکارڈ توڑ لوٹ مار کی۔ گیلانی خاندان نے کچھ زیادہ ہی۔۔۔ ووٹر نے اس کا جمہوریت کے ذریعے انتقام لے لیا۔ 
انتخابات میں حصہ لینے والی ہر پارٹی دھاندلی دھاندلی کی گردان کر رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کو سندھ میں، پی پی پی اور پی ٹی آئی کو پنجاب، مولانا فضل الرحمن کو خیبر پی کے میں دھاندلی نظر آتی ہے۔ جہاں سے خودجیتے وہاں انتخابات کو شفاف قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کو بیمار سوچ کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے۔ شہباز شریف نے ایک بار نہیں کئی بار فرمایا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ 6 ماہ، دو سال، تین سال میں ختم نہ کر سکا تو میرا نام شہباز شریف نہیں۔ برادر اکبر انتخابات میں بھرپور کامیابی کے بعد فرماتے ہیں شہباز شریف جذباتی ہیں انکی بات کو سنجیدہ نہ لیں۔ کیا یہ توانا سوچ ہے؟ کل تک فرماتے تھے پاکستان بدلیں گے۔ اب فرمایا حالات کٹھن ہیں امید ہے تبدیلی آئیگی۔ جب امید کو یقین میں بدلنے کا موقع آیا تو میاں صاحب کی سوچ تبدیل ہونے لگی۔ یقین کوامید کی طرف لے جانیوالی سوچ کو کیا کہیں۔ بوڑھی یا توانا سوچ؟یومِ تکبیر کی تقریب میں مجید نظامی صاحب نے میاں نواز شریف کو ”مسٹر دھماکہ“ کا خطاب دیا۔ زرداری صاحب کو نظامی صاحب نے مردِ حُر کا خطاب دیا تھا۔ انہوں نے مردِ زر بن کر دکھا دیا۔ دیکھئے، میاں نواز شریف مسٹر دھماکہ بن کر دھماکے پر دھماکہ کرتے ہیں یا ”مسائل وراثت میں ملے“ کی تکرار کرتے کرتے پانچ سال گزار کر مسٹر پٹاخہ بن کر دکھاتے ہیں۔
ہمارے 90 فیصد سے زیادہ مسائل حکمرانوں کی بیمار ،بوڑھی اور ناتواں سوچ کے پیدا کردہ ہیں۔ جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی، ماورائے آئین اقدامات سب بیمار سوچ کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہربیماری کی طر ح بوڑھی اور بیمار سوچ کا علاج بھی ہے۔ یہ بیماری کسی بھی عمر میںلگے دیانت اور صداقت کا عہد کرنے اور نبھانے سے اس روگ سے مکمل نجات ممکن ہے۔



Sunday, May 26, 2013

بچت۔۔۔حلف اور شیروانی

بچت۔۔۔حلف اور شیروانی

خواجہ ناظم الدین اور محمد خان جونیجو کے ادوار وزارت عظمیٰ کے درمیان 33 سال کا فاصلہہے۔ اس دوران بہت کچھ بدلا۔ پاکستان کا جغرافیہ بدلا۔پاکستان کے حالات بدلے، دارالحکومت بدلا وزیراعظم ہاﺅس کے چلن بدلے اور ہر نئے حکمران کے آنے سے اقتدار کے ایوانوں کا کلچر بھی بدلتا رہا۔ توحید کا نعرہ اور تکبیر کی صدائیں بلند ضرور ہوئیں تاہم طاقت کے ایوان زیادہ عرصہ مے خانے بنے رہے۔ خواجہ ناظم الدین اور محمد خان جونیجو کے ادوار میںسادگی قدر مشترک تھی۔ خواجہ ناظم الدین دوپہر کا کھانا اپنے گھر سے ٹفن میں دفتر لے جایا کرتے تھے۔ محمد خان جونیجو کے 1986ءمیں وزیراعظم بنے تو انہوں نے وزیر اعظم ہاﺅس میں پرتکلف کھانوں پر پابندی لگا دی۔ جونیجو صاحب نے دال روٹی کا رواج ڈالا۔ عبدالقادر حسن کو وزیراعظم کی تقریر لکھنے کیلئے جب کبھی پرائم منسٹر ہاﺅس جاناہوتا توملازمین کے چہر ے کھل اٹھتے کہ آج پر وزیر اعظم ہاﺅس میں گوشت پکے گا۔ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اب بھی گھر سے ٹفن میں کھانا اپنے ساتھ دفتر لے جاتے ہیں۔
 وزیراعظم ہاﺅس میں اندھا دھند اخراجات کی بدعت محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف میں سے ایک نے ڈالی دوسرے نے اس میں شدت پیدا کی۔ انکے بعد آنے والے وزرائے اعظم جمالی، شوکت عزیز اور گیلانی و راجہ نے اپنے ایمان کا حصہ بنا کر اسے برقرار رکھا۔ آسائشوں اور پکوانوںکے حوالے سے وزیراعظم ہاﺅس فائیو سٹار ہوٹل کا روپ دھار چکا۔ آج وزیر اعظم ہاﺅس کے روزانہ اخراجات 20لاکھ روپے ہیں۔ایوانِ صدر کے دولاکھ کم۔یوں تو بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے اپنے اپنے ادوار میں سادگی مہم کا بڑے جوش سے آغاز کیا لیکن یہ ڈر امہ کہ ایک آدھ قسط سے زیادہ جاری نہ رہ سکا۔ محمد خان جونیجو نے بڑی گاڑیوں کا استعما ل بشمول جنرل ضیاءالحق سب کیلئے ممنوع قرار دیا۔ 
میاں محمد نواز شریف کو جن حالات میں اقتدار مل رہا ہے وہ مثالی اور قابل رشک نہیں ہیں۔ جانے والوں نے گتھی ایسی الجھائی ہے کہ سلجھانے کیلئے الجھانے والوں سے زیادہ دانش اور محنت کی متقاضی ہے۔ 
 غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے
 اہل دانش نے بہت سوچ سے الجھائی ہے
میاں نواز شریف کو مسائل زدہ پاکستان ضرور ملا ہے تاہم اس طرح کا اجڑا ہوا نہیں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کو ملا تھا۔ پاکستان کو اجاڑنے میں جتنا بھٹو صاحب کا نام آتا ہے اتنا ہی میاں صاحب کا گزشتہ 5 سال میں اسے مسائل زدہ کرنے میں بھی آتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ مرکز میں حکومت میں شامل ہونا، پنجاب میں ساڑھے تین سال پیپلز پارٹی کو اپنے ساتھ رکھنا، فرینڈلی اپوزیشن کا مبینہ کردار، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ پر ایسی بیان بازی جیسی سابق حکومت ڈرون حملوں پر کرتی رہی۔ خواجہ آصف تقرریوں اور تبادلوں کے خلاف سپریم کورٹ گئے۔ نگرانوں نے بجلی مہنگی کی۔ جی ایس ٹی میں اضافہ کیا۔ نگران وزیر پانی و بجلی محمد مصدق کی لوڈشیڈنگ کم کرنے کی اچھل کود 21 مئی کو رائے ونڈ یاترا کے بعد ختم ہو گئی۔وہ 24 مئی کو شہباز شریف سے بھی ملے ۔ایسی ملاقاتیں شکوک پیدا کرتی ہیں کہ لود شیڈنگ کا عذاب کسی اشارے پر مسلط کیا جارہا ہے ۔
 نگران حکمران اور بیوروکریٹس متوقع حکمرانوں کے ساتھ اپنی لائن سیدھی کرنےکیلئے کوشاں ہیں۔ کوئی سرآئینہ اپنی وفاداری کا اظہار کر رہا ہے توپسِ آئینہ۔ یہ رویے ہمارے سیاسی کلچر کااٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔ یہ وبا ہر طبقے اور حلقے میں پھیل چکی ہے۔ جن کے قلم کی نوک پہلے ہی قصیدے اگلتی تھی جیت کے نتائج کے بعد انکے انگ انگ میں بجلیاں کوند رہی ہیں۔ قوال اور رقاصہ نوٹ نچھاور ہونے پر جس طرح بے خودہوتے ہیں۔ یہی حال وفا کے پتلے قلمکاروں کا ہے جو دام کھرے کرتے رہے اب ہل من مزید کی بے پایاں تمناﺅں کے محلات تعمیر کئے ہوئے ہیں ۔ان کیلئے ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی منزل کا رخ متعین کرنےوالا روائتی طبقہ خطرہ بن رہا ہے۔یہ لوگ کل تک شریف زادوں کی شخصیت ،پالیسیوںاور منشورپر تنقید کرتے نظر آتے تھے ‘انکی مقبولیت کو اوجِ ثریا پر دیکھ کرہاتھوں میں پکڑی کنکریوں پر عظیم لیڈر،مدبر سیاستدان ،لاجواب قیادت اورقائدثانی کا ورد جاری ہوگیا۔ یہ فنکارخود کو غلامی کا خوگر اورحکمرانوں کو سلطانی کا پیکر ثابت کرنے کےلئے قلم کے جوہر نثر ونظم اور قصیدہ وہجو کی صورت میں دکھا رہے ہیں۔ گو میاں صاحب کو مسائل کے بھنور میں پھنسا پاکستان ملا ہے لیکن آج بھی وسائل مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔ آپ کے پاس متفقہ اور ترامیم سے ری فائن شدہ آئین اور تمام ادارے موجود ہیں۔ خلوص اور نیک نیتی شامل حال رہی تو میاں صاحب یقینا ملک کو بحرانوں کی دلدل سے نکال لیں گے۔ ویسے ان کو اپنی مدت پوری کرنے کی عادت نہیں یا عرصہ پورا کرنا قسمت میں نہیں تھا۔ بطور وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم وہ کوئی بھی آئینی مدت پوری نہ کر سکے۔ نہ جانے دو سال بعد وہ حکمرانی کی یکسانیت کا شکار ہوجاتے ہیںیا حریفوں کو وار کرنے کا موقع مل جاتا ہے البتہ یہ حقیقت ہے کہ ان کوآئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملتا تو آخری دو، دو سال میں ایسے ہی کام کرتے جیسے شہباز شریف نے کرکے ن لیگ کی کامیابی کی راہ ہموار کی ہے۔اب یہ اہتمام خالصتاً انکی صوابدید پرہے۔ اب میاں صاحب اپنے پہلے دو سال کو آخری سمجھ کر جانفشانی سے کام کریں تو اگلے تین سال انکی مزید پانچ سال کی کامیابی کی راہ ہموار کر لیں گے۔سادگی کو شعار بنایا تو کامیابیوں کے در کھلتے چلے جائینگے۔ 
وزیراعظم ہاﺅس میں سادگی تو ایک علامت ہے۔ یہ ہر شعبہ زندگی میں نظر آئے تو سادگی کہلائے گی۔ قوم بے جااندرونی اور بیرونی دوروں سے اجتناب کی امید رکھتی ہے جن پر سالانہ چھ ارب روپے لٹائے جاتے ہیں۔ لازم نہیں کہ وہ ویک اینڈ جاتی عمرہ تشریف لے جائیں۔عمرہ پر جی حضوریوں کی فوج کی کیا ضرورت ،کمرشل فلائٹ میں سرور پیلس کے ہم نشیں خاندان کے افراد کو ساتھ لے جاکر پروردگار کا شکر ادا کریں۔
 مسلم لیگ ن کے تمام امیدواروں نے کھل کر انتخابی مہم چلائی۔ ان میں سے وزیر بننے والے اپنی ٹرانسپورٹ استعمال کریں تو قوم پر احسان ہوگا۔ بلٹ پروف گاڑی کلچربھی قومی دولت کا ضیاع ہے۔ کوئی بحران لاینحل نہیں۔ ٹیکس چوری، قرضہ خوری کے راستے بند کر دئیے جائیں تو 5سو ارب روپے کے گردشی قرضے برسات میںگرد کی طرح معدوم ہو جائیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہر وزیر خواجہ ناظم الدین اور احمدی نژاد کی طرح اپنا اور اپنے ساتھیوں کا کھانا گھرسے لے کر آئے۔
 میاں نواز شریف نے فرمایا تھا کہ وہ عوام میں سے ہیں عوام میں ہی رہیں گے۔ عوام لوڈشیڈنگ کے عذاب اور گرمی کے عتاب سے نڈھال ہیں۔ ایسے حالات اور موسم میں انہوں نے حلف برداری کی تقریب کیلئے شیروانی سلوائی ہے ۔قمیض بردوش بنیان پوش لوگ میاں نواز شریف کو شیروانی میں دیکھ کر جھرجھری ضرور لیں گے حالانکہ میاں صاحب کو شاید شیروانی میں بھی ٹھنڈ لگ رہی ہوگی۔وہ لوگ جو میاں صاحب کے کان اور آنکھیں ہیں، انہیں گرمی کی حدت اور شدت یاد دلائیں۔ میاں صاحب حلف کے روز اگر عوامی لباس شلوار قمیض اور واسکٹ کے ساتھ زیب تن فرما لیںتو عوام کو اچھا لگے گا اور انہیں احساس ہوگا کہ میاں صاحب ان جیسےہیں۔شیروانی سردیوں میں قوم سے خطاب یا تقریبات میں پہنی جا سکتی ہے۔

Tuesday, May 21, 2013

مسلم لیگ ہاؤس کی ملکیت



مسلم لیگ ہاؤس کی ملکیت - فضل حسین اعوان

اخبار کے صفحہ اول پر نمایاں تصویر پر نظر پڑی تو لگا کہ طالبان نے دلی کے لال قلعہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ تصور میں سیاہ اورگھنی داڑھی والا نوجوان قلعے کی چھت پر دونوں ہاتھوں میں بندوق تھامے فاتحانہ انداز میں الرٹ کھڑا ہے۔ کیپشن اور خبر پڑھی تو پتہ چلا کہ ہم خیال گروپ کی طرف سے رات کو لاہور میں مسلم لیگ ہا¶س پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ مشرف کے نوازشریف حکومت پر قبضے جیسا ہی مسلم لیگ ہا¶س یہ شب خون تھا۔ اس قبضے کے موقع پر ہم خیال گروپ جتھہ بندی کے عالم میں تھا جس نے بعد میں مسلم لیگ قائداعظم کا نام اختیار کیا۔ مسلم لیگ ہا¶س مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی سال ڈیڑھ سال نواز لیگ کی دسترس میں رہا۔ میرا اس عمارت میں دو مرتبہ جانا ہوا۔ ایک بار خواجہ سعد رفیق کے انٹرویو کیلئے، قبضہ سے چند ماہ قبل اور دوسری بار پرویز الٰہی کے ہم خیال گروپ کا صوبائی صدر منتخب ہونے کے موقع پر۔ہم خیال گروپ کی تشکیل کی پلاننگ زیادہ تر ہمایوں اختر کے گھر ہوئی۔ اس وقت اس گروپ کے سرخیل میاں اظہر تھے۔ ان کو ہم خیال گروپ کا صدر چنا گیا لیکن قبل ازیں چودھری پرویز الٰہی کا بطور صوبائی صدر انتخاب کر لیا گیا تھا۔ اس منطق کی وضاحت اندر کے لوگ ہی کر سکتے ہیں کہ مرکزی صدر سے قبل ایک صوبے کے صدر کے انتخاب کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
 مسلم لیگ ہا¶س پر قبضے کی خبرمیں بتایا گیا تھا کہ بے جگری اور دلیری سے یہ اقدام میاں اظہر اور چودھری برادران کے جانثاروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کیا تھا۔ چھت پر میاں اظہر اور احاطے میں چودھریوں کے مجاہد سربکف تھے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے پاکستان میں موجود رہنما اور کارکن مارشل لاءکے خوف سے کانپتے تھے۔ گھروں سے ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے نکلتے۔ ایک ہی دھاڑ اور بوٹ کی آواز پر ن لیگ سے کنارہ کشی اختیار کر لیتے۔ میاں نواز شریف کا فرمان لیگیوں کی جرا¿ت اور جلال کو عیاں کرنے کیلئے کافی ہے”آپ کہتے تھے قدم بڑھا¶ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں ،میں نے قدم بڑھایا تو پیچھے کوئی بھی نہیں تھا“ اُس وقت کے ہم خیال گروپ نے مجاہدوں اور گول بارود کا خوہ مخواہ اہتمام کیا۔ یہی کام اس وقت بوڑھی بیوہ کے ہاتھ میں جھاڑو تھما کر بھی کیا جا سکتا تھا۔ جھاڑو بردار خاتون کا قبضہ بھی اتنا ہی موثر اور مضبوط ہوتا جتنا درجنوں مسلح غنڈوں نے کیا تھا۔ ایسی ہی یلغار اسلام آباد پنڈی کے مسلم لیگ ہا¶س پر بھی کی گئی۔ دو روز قبل خواجہ سعد رفیق نے پی ٹی آئی کے دھرنوں کو شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ” ہم اس سے بڑے دھرنے دے سکتے ہیں“۔ بعض لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سیاست میں جوڑ توڑ کے بڑے ماہر ہیں ۔جو ڑ توڑطاقت کے بل بوتے پر ہوتا ہے۔ طاقت کی موج اقتدار کے دریا کے بل بوتے پر ہی لہراتی ہے اور بیرون دریا کچھ بھی موج مر مُک جاتی ہے۔ خواجہ صاحب بھی دھرنے اور مظاہرے اقتدار میں رہ کر ہی دے سکتے ہیں اقتدار کے بغیر حالت وہی جوہوتی ہے جو 12 اکتوبر99ءکے بعد تھی۔ 
2002ءکے انتخابات میں مسلم لیگ قائداعظم نے گرتے پڑتے حکومت بنا لی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ ملت پارٹی اور پیپلز پارٹی کے وفاداروں کا پیٹریاٹ گروپ بھی اس لیگ کا حصہ بن گیا۔ اس دوران مسروقہ مسلم لیگ ہا¶سز کی روشنیاں جلتی اور رونقیں بحال رہیں۔ 2008ءکے انتخابات میں مسلم لیگ (ق)کا زوال اور مسلم لیگ (ن) کا عروج شروع ہوا۔ ق لیگ کی بلوچستان اسمبلی میں واضح برتری تھی۔ ق لیگ میں جس طرح لوگ گھیر گھار کر لائے گئے تھے وہ اسی طرح بکھر کر اچھے کی تلاش میں نئے ٹھکانوں کی طرف چلے گئے۔ بلوچستان میں ق لیگ حکومت سازی سے قبل ہی بکھر گئی۔ سر سے چونکہ بوٹوں کا سایہ ہٹ چکا تھا اس لئے پنجاب میں ق لیگ کے پچاس کے قریب ارکان نے مسلم لیگ (ن) کے ثمر بار شجر کی ٹہنی پر آشیانہ بنا لیا۔ مسلم لیگ (ن)‘ (ق) لیگ کے پرندوں کے پروں سے پانچ سال اڑان بھرتی رہی۔البتہ طاقت کے باوجودبھی نواز لیگ نے مسلم لیگ ہا¶س کا قبضہ چھڑانے کی کوشش نہیں کی حالانکہ یہ کام بڑ ی آسانی سے ہو سکتا تھا۔پرویز الٰہی نے مسلم لیگ ہاوئسز کی شاہانہ طرز پر تعمیر وزیبائش کروا کے انہیں پُر شکوہ بنا دیا لیکن 2013ءکے الیکشن سے قبل مسلم لیگ ہا¶س ویرانیوں کے منظر پیش کرتے رہے۔ انتخابی مہم کے دوران بھی انکی روشنیاں گل اور رونقیں ماند رہیں۔ ق لیگ قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ پورے ملک سے قومی اسمبلی میں صرف دو تین سیٹیں برقرار رکھ پائی۔ اسکے پاس شاید مسلم لیگ ہا¶س میں بیٹھنے کیلئے عہدیدار ہی دستیاب نہیں ہیں۔ مسلم لیگ ہا¶س یقیناً مسلم لیگ ہی کی ملکیت ہے۔ کس مسلم لیگ کی؟ یہاںتو درجنوں مسلم لیگیں ہیں۔ مسلم لیگی متحد تو نہیں ہو سکتے۔ ایک اصول تو طے کر لیں کہ مسلم لیگ ہا¶س کو کون استعمال کرے؟ اصولی طور پر اسکے پاس اسکی چابی ہونی چاہئے جو واضح اکثریت میں ہو۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں اکثریت یا کل حاصل کردہ ووٹوں کو معیار بنا لیں۔ آج اس معیار پر نواز لیگ پورا اترتی ہے۔ کل یہی پوزیشن شجاعت لیگ بھی حاصل کر سکتی ہے ۔ اخلاق اور اصول کا تقاضا ہے کہ مسلم لیگ ہا¶س کا وقار اور رونقیں بحال کرنے کیلئے یہ اکثریت حاصل کروالی مسلم لیگ کے پاس ہو۔



 Nawaiwaqt  |   Published : 21-May-2013

Saturday, May 18, 2013

میرٹ‘ ہتھکڑی اور آنسو



میرٹ‘ ہتھکڑی اور آنسو



”جہاز میں بٹھا کر افسر نے جوان کوحکم دیا کہ وہ مجھے ہتھ کڑی لگائے تو میں نے دونوں ہاتھ آگے کردئیے ۔جوان ہتھ کڑی لگانے کے لئے جھکاتو میرے ہاتھ کی پشت پر پانی کا ایک قطرہ گرا۔اس کے ساتھ ہی وہ جوان سیدھا کھڑا ہوگیا۔اس کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں۔ میرے ہاتھ پر گرنے والا قطرہ اس کا ایک آنسو تھا۔جوان ہتھکڑی لگانے میں تذبذب کا شکار تھا ۔ میںنے اسے سختی سے اپنا فرض ادا کرنے کو کہالیکن وہ ہتھ کڑی اپنے ساتھی کے حوالے کر کے پیچھے ہٹ گیا۔اس کے بعد ہتھکڑی لگے میرے ہاتھ جہاز کی سیٹ کے ساتھ باندھ دیئے گئے اور جہازنے منزل کی طرف اُڑان بھر لی ۔منزل کراچی تھی۔ مجھے اٹک جیل سے بکتر بند گاڑی میںکامرہ فوجی اڈے پر لا کے فوکر میں بٹھایا گیا جو پانچ گھنٹے میں کراچی پہنچا ۔اس دوران واش روم جانے کی بھی اجازت نہ دی گئی“میاں نواز شریف بڑی معصومیت اور دکھ بھرے لہجے میں اپنی داستان ِ غم و ا لم بیان کرتے ہیں کہ سننے والے کادل پسیج اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔
میاں محمد نواز شریف نوّے میں اقتدار میں لائے گئے اور 1997ءمیں زبردست عوامی حمایت سے اقتدار میں آئے۔ان کے دونوں ادوار تدبر سے زیادہ تکبر اور تحمل سے زیادہ انتقام و جذبات سے معمور تھے ۔مقابل محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں۔دونوں اپنے اپنے ادوار میں ایک دوسرے کو بدترین انتقام کا نشانہ بناتے رہے۔بجا طور پر یہ نفرتوں کے دس گیارہ سال تھے۔بے نظیر بھٹو کی سیاست اور شہرت کو ان کے شوہر نامدار کی کرپشن نے عوجِ ثریا سے زمیں پر دے مارا۔محترمہ، محترم کے ارادوں اور وارداتوں سے بے خبر نہیں تھیں۔جوڑے پر کرپشن کے الزامات لگا کر ان کے اپنے صدر فاروق خان لغاری نے حکومت ختم کردی۔3فروری 97 ءکے انتخابات میں میاں نواز شریف بھاری اکثریت سے جیتے۔ایسی اکثریت کسی کو بھی کبھی نصیب نہیں ہوئی۔ میاں صاحب بھٹو صاحب سے بھی زیادہ مقبول ثابت ہوئے تاہم وہ جلد ہی اپنی مقبولیت کے بوجھ تلے دب گئے۔حریف کوئی دیانت دار تو نہیںتھے مگر ان کے خلاف کارروا ئی جس دیانت کی متقاضی تھی وہ بھی مفقود تھی۔سیاسی حریفوں کے ساتھ محاذ آرائی تو تھی ہی فوج اور عدلیہ کے سامنے بھی خم ٹھونک کر حکومت کھڑی ہوگئی۔سپریم کورٹ پر باقائدہ حملہ کیا گیا۔جرنیلوں کے ساتھ رویہ تضحیک آمیز تھا۔جنرل جہانگیر کرامت کی معمولی بیان پر چھٹی کرادی گئی۔نئی تعیناتی میرٹ سے ہٹ کر کی گئی۔مشرف کاپیشہ ورانہ کارکردگی کے باعث تو کورٹ مارشل ہوجانا چاہیے تھا ۔نواز شریف نے انہیں آرمی چیف لگا دیا۔یہی حال دوسری تعیناتیوں کا تھا۔بے نظیر کو سزا سنانے کے لئے ججوں کومشوروں کی ٹیپ سامنے آئی۔جس پر جسٹس ملک قیوم اور راشد عزیز کو استعفیٰ دینا پڑا۔اس دور کا سرکاری افسروں کو ہتھکڑیاں لگانے کو واقعہ بڑا مشہور ہوا۔
فیصل آباد میں میاں برادران کے عزیزوں کی چودھراہٹ ہے جو سیاست میں بھی ایک مقام رکھتے ہیں۔ فیصل آباد جیسے شہر میں ایک نہیں کئی چودھری ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کی چودھراہٹ چبھتی ہے۔ ایسے شہر کی بیوروکریسی کو تو گویا تنی ہوئی رسی پر چلنا پڑتا ہے۔ شریف زادوں کے عزیزوں کی افسران سے شکایات کیوں نہ ہوتیں۔ وزیراعظم کے رشتہ داروں کی جو نہ سنے وہ افسر بھی رہے، کہاں لکھا ہے۔
 بڑے چوہدری کا فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کچھ افسروں کے ساتھ تنازعہ تھا۔انہوںنے افسروں کی وزیراعظم سے شکایت کر دی۔ میاں نواز شریف مارچ 1997ءکو فیصل آباد گئے۔ ایف ڈی اے کے افسروں کو کھلی کچہری میں بلوا لیا۔ اشفاق بھٹی ‘ عبدالحلیم اور طاہر رضا بخاری کو ان کو سنے بغیر ہتھکڑی لگانے کا حکم دے دیا۔یہ لوگ پانچ ماہ جیل میں رہے ۔
اپنی کارکردگی کے باعث دوتہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کرنے والی مسلم لیگ کی مقبولیت محض اڑھائی سال میں بے نظیر کی حکومت کی طرح عوجِ ثریا سے زمین کی پستی پر آگئی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مشرف نے جمہوری حکومت پر شب خون مارا تو پورے پاکستان میں نواز لیگ کی صفوں میں مکمل سکوت تھا ۔ کسی کی آنکھ سے آنسو تو کیا ٹپکتا کوئی احتجاج اور مظاہرہ بھی نہیں ہوا۔2002ءکے انتخابات میں مسلم لیگ ن ،ق لیگ کے پیرہن میں ملبوس پائی گئی اور یہی اکثریتی پارٹی ٹھہری۔2013ءکے انتخابات گو رفتہ رفتہ دھاندلی کا شاہکار ثابت ہورہے ہیں لیکن ان میں جھرلو نہیں چلا۔عوام نے مسلم ن کو مینڈیٹ دیا ۔یہ مقابلہ کرپشن اور کارکردگی کے درمیان تھا۔مرکز والوں کی واضح ،میگا اور اعلیٰ سطح کی کرپشن پر ن لیگ کی پنجاب میں معمولی کارکردگی بھاری پڑگئی۔
مسلم لیگ اب اقتدار کی دہلیز پر ہے۔اسے کسی پارٹی کی حمایت کی ضرورت ہے نہ وہ اقتدار میں آنے کے کسی کی احسان مند ہے سوائے ان لوگوں نے جنہوں نے ووٹ دیئے۔اقتدار کا سرچشمہ یقیناً عوام ہی ہیں اور یہ سرچشمہ ووٹ دینے کے بعد بے سرو چشم ہو جاتا ہے پھر موقع ملنے پر دھتکارنے والوں سے انتقام بھی لیتا ہے۔ زرداری صاحب اپنی اہلیہ مرحومہ کے قول کا درست حوالہ دیتے ہیں کہ ”جمہوریت بہترین انتقام ہے۔“ مئی 2013 کے انتخابات میں عوام نے ثابت کر دیا کہ جمہوریت واقعی بہترین انتقام ہے جس کا نشانہ پیپلزپارٹی بنی۔ میاں نوازشریف نے بہت گرم و سرد دیکھ لیا۔ جرنیلوں کے انتقام کا نشانہ بنے، جیل گئے، جلاوطنی بھگتی اور جان دا ¶ پر لگی نظر آئی۔ شاید اس سب سے سبق سیکھ لیا ہو۔ البتہ ان کے قریبی لوگ کہتے ہیں کہ لیگی قائدین کی گردن میں پہلے سریا تھا اب گاڈر آ گیا ہے۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں انہیں اپنے مسائل کے حل سے سروکار ہے وہ میرٹ کی کارفرمائی کے متمنی ہیں۔باری کا دور گزر گیا۔ 11 مئی کو ہر گھر سے بھٹو نکلا۔ بلے اور شیر پر ٹھپہ لگایا اور بھٹو کو دل سے بھی نکال کر گھر واپس آ گیا۔ اس عمل اور مکافاتِ عمل کا پی ٹی آئی کی اُٹھان کے بعد کوئی بھی شکار ہو سکتا ہے۔
نواز لیگ کی قیادت کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔ ہر اقدام سے پہلے کئی بار سوچنا ہوگا۔ من موہن سنگھ کو دعوت بلا سوچے سمجھے دے دی گئی۔ بھارت کے حوالے سے مسلم لیگی ورکر اور ووٹر میاں صاحب کی سوچ سے متفق نہیں ۔ اس حوالے سے ”سیفما“ سے نہ پوچھیں اپنے ایم این ایز، ایم پی ایز کی رائے لیں۔ کاروباری ذہن سے نہیں نظریاتی ذہن سے سوچیں۔ میرٹ کو اصول بنائے رکھا تو عوام انعام دیں گے، انتقام نہیں لیں گے۔ مشاورت کامیابیوں کا زینہ ہے جو پسندیدہ عمل نہیں رہا۔ چودھری نثار کے سوا بھی پارٹی میں زرخیز دماغ موجود ہیں۔ میرٹ سے ہٹ کر تعیناتی بھٹو کو پھانسی کے پھندے اور میاں صاحب کو موت کی دہلیز پر لے گئی۔ میرٹ کا خون کر کے چپڑاسی سے چیف سیکرٹری تک جس کا بھی حق مارا جاتا ہے اس کی آنکھ سے آنسو ہی نہیں گرتا بلکہ دل کٹتا، خون ٹپکتا اور آہ نکلتی ہے جو عرش تک جاتی ہے ۔ پھر مکافاتِ عمل، جاہ سے جیل اور جلاوطنی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ آرمی چیف، چیف جسٹس اور جوائنٹ چیفس کے سربراہ کی تقرری اسی سال میاں صاحب نے کرنی ہے ۔ کابینہ تشکیل دینی اور کئی اداروں کے سربراہوں کا تقرری ہونا ہے۔ میرٹ پروفیشنل ازم اور دیانت معیارر ہے تو کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ سفیروں کو بدلنے کی ضرورت نہیں جو سرکشی نہیں کرتا وہ سفیر رہے۔ اگر سفیر بدلنے ہی ہیں تو متعلقہ اداروں اور شعبوں سے لیں۔ اگر ان سروسز میں موجود سارے لوگ مر جائیں تو بھی میرٹ کا تقاضا ہے کہ”میراثی کا پُتر“ اس عہدے پر نہ آئے۔ ضروری نہیں کہ وہی و زیر بنانے ہیں جو مالش کرتے اور جوتیاں اٹھاتے ہیں۔ منتخب ہونے والوں میں اہل ترین لوگوں کو تلاش کریں۔


Friday, May 17, 2013

انقلاب کی بنیاد



انقلاب کی بنیاد


انتخابات کے دوسرے روز دھاندلی کے شور کا بگولہ اُٹھا جودن بدن طوفان بنتا جا رہا ہے۔ چند روز گَرد اُڑنے کے بعدغبار چھٹ جائیگا۔ دھاندلی کا الزام ہر پارٹی لگا رہی ہے، جُھرلو کی صدا کسی طرف سے نہیں اُٹھی۔ عالمی ادارے اور مبصرین اپنے مشاہدوں کے مطابق شفافیت اور غیر شفافیت کی رپورٹیں دے رہے ہیں۔ ہم بلا وجہ ان کا حوالہ دیتے ہیں‘یہ رپورٹیں پاکستانیوں کیلئے نہیں غیر ملکیوں کیلئے ہیں، ہم تو الیکشن کا حصہ ہیں۔ ہم پاکستانیوں سے زیادہ کسی کو کیا معلوم کہ کہاں کیا ہُوا ہے۔ ہم اپنے سیاسی کلچر کو خوب جانتے ہیں۔ ہر پارٹی دھاندلی کا اپنی طرز کا الزام لگاتی اور اُسی کے مطابق حل چاہتی ہے۔
 1993ءکی طرح پورا انتخابی عمل فوج کی براہ راست نگرانی میں ہوتا تو کہیں سے کوئی شکایت نہ ملتی اور یقیناً معمولی رد و بدل کے ساتھ نتائج وہی ہوتے جو سامنے آ چکے ہیں۔ الیکشن کمشن نے 14 ٹربیونل تشکیل دے دئیے ہیں۔ وہ متاثرین کی تشفی نہ کر سکے تو سپریم کورٹ یقیناً تسلی کرا دے گی۔ ہر پارٹی کی ثبوت کے تناظر میں شکایت دور ہو گئی تو بھی کسی پارٹی کے مینڈیٹ میں غیر معمولی تبدیلی نہیں آنے کی امید تو نہیں تاہم شکایت کنندہ مطمئن ضرور ہو جائیگا۔ جس قسم کے دھاندلی کے الزامات سامنے آئے ان کو بے ضابطگی کہا جائے تو بہتر ہے۔ مجموعی طور پر بے ضابطگیوں میں کسی ایک پارٹی کو ملوث قرار نہیں دیا گیا۔ ایسے الزامات کے باوجود بھی سیاسی پارٹیوں میں برداشت، تحمل اور رواداری کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی شکست تسلیم کی اور زرداری صاحب نے سب سے بڑی پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کو مبارکباد دی۔ نواز شریف عیادت کیلئے عمران خان سے ملے، دونوں نے ایک دوسرے کا مینڈیٹ تسلیم اور مبارکبادوں کا تبادلہ کیا۔ اس ملاقات سے نفرتوں کا سفر محبتوں میں بدلتا دکھائی دیتاہے۔ سیاسی اور نظریاتی اختلاف کا مطلب نفرت، عداوت، عناد اور دشمنی ہرگز نہیں۔ مولانا فضل الرحمن رواداری کے سب سے بڑے معلم ،مبلغ اور مدرس ہیں لیکن حضرت صاحب کو پی ٹی آئی کی کامیابی ہضم نہیں ہو رہی، فرماتے ہیں تحریک انصاف کا مینڈیٹ قبول نہیں۔ کیوں قبول نہیں؟ اسکی وضاحت نہیں فرمائی۔ حضرت بڑے ہو گئے ہیں ،اپوزیشن میں بھی بیٹھنے کی عادت ڈالیں۔ خیبر پی کے اور مرکز میں نہیں تو بلوچستان میں کچھ حصہ مل سکتا ہے۔ ملک میں انقلاب کی بنیاد پڑ چکی ہے جو انکے صوبے سے ہی اُٹھتا دکھائی دیتا ہے اسکے حریف بننے کے بجائے نقیب بننے کی کوشش کریں۔ 
خیبر پی کے میں ن لیگ کی تائید سے عمران خان کی پی ٹی آئی دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کو ملا کر حکومت بنا رہی ہے ۔ اگر یہ حکومت بن گئی تو پورے ملک کو پشاور سے انقلاب، تبدیلی اور نئے پاکستان کی نوید مل سکتی ہے۔ یوتھ مایوس نہ ہو نواز شریف پاکستان بدلیں گے تو عمران خان نیا پاکستان بنانے میں کامیاب ہو جائینگے۔ عمران خان مرکز میں آتے تو ان کیلئے اپنے ایجنڈے کی تکمیل ناممکن نہیں تو مشکل ضروری ہوتی۔ خیبر پی کے ایک چھوٹا صوبہ ہے۔ اسکے حالات کو سنوارنااور دہشتگردی کی آگ کو بجھانا مشکل نہیں ۔ عمران خان بڑے ”ہاﺅسز “کو ختم کرنے کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ خیبر پی کے کو وہ ٹیسٹ کیس بنائیں۔ 
گورنر ہاﺅس اور وزیر اعلیٰ ہاﺅس کو 10 ڈاﺅننگ سٹریٹ کے سے رقبے تک محدود کر دیں۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاﺅس کیلئے زیادہ سے زیادہ ایک کنال کا گھر کافی رہے گا۔ایسے گھر میں رہیں گے تو 6فٹ کے گھر میں رہنے میں آسانی بھی رہے گی ۔ آئی جی، ایس ایس پی، ایس پی جیسے عہدیدار تھانوں میں بیٹھیں ۔ وزیر اعلیٰ ،گورنر ہزار سی سی کی گاڑی استعمال کر ینگے تو کوئی بُلٹ پروف گاڑی کی ڈیمانڈ نہیں کریگا۔ تھانہ اور پٹواری کلچربدلنا انکے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔ وہ ایسا ایک چھوٹے صوبے میں آسانی سے کر سکتے ہیں۔ جب ایک صوبے میں ایسی انقلابی تبدیلی آئیگی تو قومی و عالمی میڈیا اسکی تحسین اور تشہیر کئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ پھر ایسے اقدامات کی تقلید دوسرے صوبوں کی مجبوری ہو گی۔ اگر مرکزاور صوبے ایسے اقدامات کو فالو نہیں کرتے تو وہ اسی صف میں کھڑے ہونگے جس میں آج پی پی پی ، اے این پی اور کیو لیگ کھڑی ہے ۔ عمران خان صوبے میں ترقی و خوشحالی کی یقیناً لہر دوڑا سکتے ہیں جس کی روشنی پورے ملک کو بقعہ نور بنا دیگی ۔ امن و امان کے قیام کیلئے نواز شریف اور عمران خان کی سوچ یکساں ہے عسکریت پسند انکی بات بھی سُنتے ہیں۔
 کالا باغ ڈیم پر دونوں متفق ہیںاسکے آغاز اور تکمیل سے تاریکیوں سے سائے ہمیشہ کیلئے چھٹ جائینگے ۔ امریکہ میں موجود کچھ پاکستانیوں نے خیبر پی کے میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس صوبے کے پہاڑوں میں قدرت کے قیمتی خزانے پنہاں ہیں۔ وسائل کی کمی نہیں۔ ان کو قومی مفاد کیلئے استعمال کیا جائیگا تو یقیناً خیبر پی کے میں خوشحالی و ترقی چلنے والی بادِ صبا کی ٹھنڈک اور مہک وطن کے گوشے گوشے میں محسوس ہو گی ۔ اہلیت ،خلوص اور نیک نیتی صوبے سوئٹزر لینڈ بنا سکتی ہے۔ خیبر پی کے کو سیاحو ں کیلئے پُر کشش بنا کر پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔ عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو کیا کوئی کہے گا کہ پی ٹی آئی ہاری ہے؟ پی ٹی آئی کی خیبر پی کے میں حکومت بننا پورے ملک کیلئے انقلاب کی بنیاد اور نوید نہیں تو کیا ہے۔