About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, October 2, 2013

یو ٹیوب

یو ٹیوب

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان
03 اکتوبر 20130
Print  
یو ٹیوب
گزشتہ سال سام باسیل کی ڈائرکشن میں امریکہ میں تیار کی گئی اسلام مخالف فلم”انوسنس آف مسلمز“ کے ریلیز ہوتے ہی عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔جب اسے یو ٹیوب پر اپ لوڈ کیا گیا تومسلم دنیا میں ایک آگ سی لگ گئی۔لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ میں امریکی سفیر سمیت چار دیگر افراد ہلاک کردئیے گئے۔پاکستان میں کئی روز مظاہرے ہوتے رہے ۔ پولیس کے ساتھ جھڑپوں کئی افراد مارے گئے۔مظاہرین کے مطالبات میں یو ٹیوب بندش بھی تھا۔ 17 ستمبر 2012 کو یو ٹیوب بند کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ جب تک نبی کریم کے توہین آمیز خاکے اور فلم ہٹائی نہیں جاتی یو ٹیوب بند رہے گی ۔اس کے بعد سے یہ ویب سائٹ بند ہے۔
یو ٹیوب پر ایسی پابندی پہلی بارنہیں لگی ترکی میں بھی لگ چکی ہے ۔ ترکی کی جدید جمہوریت کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے حوالے سے توہین آمیز وڈیوز موجود ہونے کی بنیاد پر ترکی میں یو ٹیوب پر تین سال مارچ 2008ءتا نومبر 2010ءبند رہی ۔ یہ فیصلہ استنبول، انقرہ اور سیواس کی مقامی عدالتوں نے دیا تھا۔ یہ پابندی ایک ایسے قانون کا حصّہ تھی جس سے حکومت کو یہ اتھارٹی مل گئی کہ وہ آٹھ جرائم پرکسی بھی ویب سائٹ کوابندکیاجا سکتا۔ان میں بچوں کا فحش مواد، عصمت فروشی، جوا اوراتاترک کے خلاف مہم شامل ہے۔ یو ٹیوب پر ایسی ویڈیوز پر بھی پابندی عائد کر دی گئی جن میں اتاترک اور ترکوں کو ہم جنس پرستوں کے طور پر پیش کیا گیا۔
 یوٹیوب پر ہر قسم کی فلمیںاور لٹریچر جس تعداد اور مقدار میں موجود ہے اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔مثبت منفی سب کچھ اس ویب سائٹ پرموجود ہے۔ قرآن کریم کی قرآت کے ساتھ تلاوت، ترجمہ، احادیث بے شمار اسلامی کتب موجود ہیں۔تحقیق کیلئے یوٹیوب ایک بہترین ذریعہ ہے یہ گوگل کی ملکیتی ویب سائٹ ہے گوگل کے ساتھ ساتھ کئی دیگرویب سائٹس پر نبی کریم کے توہین آمیز خاکے موجود ہیں۔ یوٹیوب پر آپ تلاوت سن سکتے ہیں،قرآن و حدیث پڑھ سکتے ہیں مقدس مقامات کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں، توہین آمیز خاکے یا فلمیں خود بخود سامنے نہیں آجاتے۔ یوٹیوب پر آپ اپنی کسی بھی تقریب کی ویڈیویا لٹریچر اپ لوڈ کر سکتے ہیں ۔جسے اپ لوڈ کرنے والا ہٹا سکتا ہے یا کمپنی یعنی یوٹیوب کی انتظامیہ۔ اس فیلڈ کے ماہرین جس حصے کو چاہیں سبوتاژ کر سکتے ہیں۔ ہمارے یوٹیوب تو بند کردی لیکن اس کا متبادل سامنے لانے کی سعی نہیں کی گئی ۔ گوگل انتظامیہ مذکورہ فلم اور خاکے ہٹانے پر تیار نہیں۔ ان کارٹونوں کے خلاف ایمانی جذبہ رکھنے والے جلسے، جلوسوں اور مظاہروں میں سر بکف ہو کر گئے۔ عشق رسول کا اظہار کیا اور اس کے بعد لمبی تان کر سو گئے۔ کسی این جی او یا علماءکے گروپ نے یوٹیوب ،گوگل اور دیگر ویب سائٹس سے یہ خاکے اور فلمیں ہٹانے کی مہم نہیں چلائی ۔ کمپیوٹر کے ماہرین کوبھی ٹاسک نہیں دیا گیا ۔اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ ٹریفک پر ایسے فلٹرز کی تنصیب کی تجویز بھی پیش کی گئی جو اس مواد کو روک سکیں لیکن اس تجویز کو بھی تاحال عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا۔
یوٹیوب کہنے تو پاکستان میں بند ہے عملی طورپر ایسا نہیں ہے۔ ایک سوفٹ ویئر انسٹال کرنے پر یوٹیوب اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ کمپیوٹر کی سکرین پر جلوہ گر ہوجاتی ہے۔ جس مقصد کیلئے یہ بند ہوئی گویا وہ حاصل نہیں ہوسکا۔ یوٹیوب اگر کھل جائے تو بہت سے پاکستانی اس سے استفادہ کرسکیں گے لیکن اس سے قبل کسی بھی طریقے سے گستاخانہ مواد اس سے ہٹایا جانا ضروری ہے۔ نہ صرف یوٹیوب بلکہ دیگر سائٹس کو بھی گستاخانہ خاکوں فلموںاورلٹریچر سے پاک ہوناچاہئے۔ہم پاکستانی نقل کے معاملے میں اصل کو بھی مات دینے میں ماہر ہیں۔یوٹیوب کا متبادل سامنے آجاناچاہئے تھا۔ڈیلی موشن ڈاٹ کا م پاکستان میں یوٹیوب کے متبادل کے طورپر چل رہی ہے اس پر بھی گستاخانہ موا د موجود ہے۔ ۔چین نے www.youku.com کے نام سے یوٹیوب کا متبادل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ معیار چین کے موبائل، ٹی وی اور دیگر مصنوعات کی طرح کا ہے، معلومات بھی انتہائی محدود ہیں۔
یوٹیوب کھولنے یا کھلوانے کیلئے سابق اور نگران حکومت کی طرح ن لیگ کی حکومت بھی کوئی دلچسپی نہیں لے رہی۔وجہ اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ ان کو ان کے عزیز رشتہ داروں کو یو ٹیوب تک Ultra surf کے ذریعے رسائی حاصل ہے۔
بی بی سی کے مطابق موجودہ حکومت بھی یو ٹیوب کی بحالی کے لیے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی ۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اور ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ابتداءمیں تو اس معاملے کے حل کے لیے اقدامات کے اعلانات کیے لیکن ان اعلانات کوہنوز عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔ نگراں حکومت میں انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی وزیرثانیہ نشتر نے اس معاملے پر اپنی جانشین وزیر کے لیے ایک دستاویز بھی تیار کی تھی۔ جس میں کہا گیا ہے” ’میں تکنیکی اور قانونی ماہرین سے تفصیلی مشاورت اور ان کے ساتھ اس موضوع پر کام کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ یو ٹیوب پر عائد پابندی ہٹانے کا کوئی فوری طریقہ موجود نہیں ہے۔ ایسا اب صرف نئی قانون سازی ہی سے ممکن ہے۔“
عبوری حکومت کی وزیر ثانیہ نشتر کی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں یو ٹیوب کی مالک کمپنی گوگل کی انتظامیہ، تکنیکی ماہرین اور ان ممالک کے حکام سے بھی رائے لی گئی جہاں پر یو ٹیوب پر یہ متنازع ویڈیو بلاک کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے مخصوص قابلِ اعتراض مواد کو خود بلاک کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک یو ٹیوب کا پاکستان کے لیے مخصوص ڈومین حاصل نہ کیا جائے۔ اس ڈومین کے حصول کے لیے حکومت کو کمپنی کو تحفظ کی ضمانت دینا لازم ہے جس کے لیے قانون سازی یعنی الیکٹرانک کرائم بل میں ترمیم کی ضرورت ہے۔انٹرنیٹ کے ماہرین کا بھی یہ کہنا ہے کہ یہ مسئلہ تکنیکی سے زیادہ حکومتی عدم دلچسپی کا ہے۔

Tuesday, October 1, 2013

نفاذ شریعت.... طالبان ،مذاکرات اور آئین


نفاذ شریعت.... طالبان ،مذاکرات اور آئین

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان








01 اکتوبر 20131
Print  
نفاذ شریعت.... طالبان ،مذاکرات اور آئین
تنظیمِ اسلامی نے صحافیوں کی ایک گیدرنگ کی۔ غالباً پندرہ سولہ کو بلایا تھا، اندازہ وہاں لگی نشستوں کو دیکھ کر ہوا لیکن صرف تین ہتھے چڑھے ،چوتھے کو شایدکورم پورا کرنے کیلئے خصوصی درخواست کر کے آمادہ آمد کیا گیا۔حافظ عاکف سعید اپنے والد محترم ڈاکٹر اسرار احمد کے مشن کی تکمیل کیلئے اپنی تمام تر صلاحیت ،استعداد اور استطاعت کو بروئے کار لا رہے ہیں۔ ہم لوگ عابد تہامی، اسرار بخاری اور شہباز انور کوحافظ عاکف سعید اور انکے رفقاءایوب بیگ مرزا، وسیم احمد اور دیگر نے خوش آمدید کہا۔حاظرین کی قلت کے باعث تنظیم اسلامی کی یہ میٹنگ ایک مذاکرے کی شکل اختیار کر گئی۔حافظ عاکف نے جو افتتاحی کلمات ادا کئے۔ ساری گفتگو انہی کے گرد گھومتی رہی۔ انہوں نے کہا ”آج ہم پاکستانی بدترین حالات سے گزر رہے ہیں۔ تمام بحرانوں، مشکلات اور مصائب کا ایک ہی حل، شریعت کا نفاذہے۔“ ہمارے ہاں اپنے اپنے طور پر کئی جماعتیں نفاذ شریعت کیلئے کوشاں ہیں اگر تمام کی تما م متحد ہو جائیں تو اسی جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے وہ شریعت کے نفاذ کی منزل حاصل کر سکتی ہیں۔ عاکف سعید ان جماعتوں کے اتحاد کیلئے کوشاں تو ہیں لیکن وہ اس حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں۔ ”پاکستان کے موجودہ حالات میں نفاذ شریعت کا راستہ احتجاج اور انقلاب ہے۔“
پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا،ایک طبقہ اکثریت میں ہے یا اقلیت میں،وہ نبی آخرالزماں پر نازل ہونیوالے ضابطہ حیات کے نفاذ کی بات کرتا ہے۔ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ پاکستان کی مذہبی جماعتیں اور تنظیمیں ایسا ہی کر رہی ہیں۔ اگر وہ جمہوری طریقے سے ایسا کرلیں تو کسی طرف سے مخالفت کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ایسا چونکہ ممکن نہیں ہے اس لئے کسی اور مقصد کیلئے متحد ہونیوالے لوگوں نے اسلحہ اٹھایا اور نفاذ شریعت کو بھی اپنے مقاصد میں شامل کرلیا۔آج وہ ریاست تک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ان پر پاک فوج جدید ترین اسلحہ اور اعلیٰ تربیت کے باوجود بھی قابو نہیں پاسکی جبکہ سیاسی قیادت پر ان کا خوف طاری ہے۔اسی خوف کے باعث پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی اپنی انتخابی مہم چلانے میں بے بس رہیں جبکہ فوج اور امریکہ کے دباﺅ کے باوجود نواز لیگ اور پی ٹی آئی اپریشن پر آمادہ نہیں ہیں۔طالبان متحد ہیں یا منتشر، خواہ وہ بہت سے گروپوں اور گروہوں میں بٹے ہوئے لیکن نظر نہ آنے کے باوجود ایک حقیقت ہیں۔ انکی شدت پسندانہ کارروائیوں سے نفرت کے باوجود نفاذ شریعت کے مطالبے کی نہ صرف مذہبی جماعتیں و تنظیمیں بلکہ عام سیاسی جماعتوں کے کئی حامی بھی حمایت کرتے ہیں۔ صرف اس ایک مطالبے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے اس پر عمل کیلئے اختیار کئے گئے طریقہ کار کو سب تو نہیں کئی نامناسب بھی سمجھتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی قیادتیں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر ملک میں امن قائم کرنے کی خواہاں ہیں۔ اے پی سی بلا کر غیر مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی گئی ۔طالبان نے اس کا اپنی شرائط، اپنے قیدیوں کی رہائی، ڈرون حملوں کی بندش اور امریکی جنگ سے علیحدگی کے ساتھ خیرمقدم کیا۔۔۔۔ اسکے ساتھ ساتھ انکے پاکستان کے مفادات پر حملے بھی جاری رہے جس پر عسکری و سیاسی قیادت کا شدید ردّعمل سامنے آیا۔ میاں نواز شریف نے امریکہ میںجاکر بیان دیا ” طالبان پاکستانی آئین تسلیم کریں وہ ہتھیار ڈالیں۔ اگر طالبان یہ سب تسلیم کرلیں تو پھر کوئی مسئلہ باقی رہتا ہے نہ مذاکرات کی ضرورت۔ طالبان کی شرائط ماننا حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔ سرِدست وہ ڈرون حملے بند کرانے میں بے بس ہے۔ امریکہ کی جنگ سے نکلنے کو خسارہ سمجھا جاتا ہے۔ میاں صاحب امریکہ کی دشمنی مول لینے کی پوزیشن میں نہیں، امریکہ افغانستان سے اپنا بوریا بستر گول کرنے کا کبھی ارادہ باندھتا اور کبھی توڑتا ہے ۔ میاں صاحب اس جنگ سے اس وقت نکلنے کو وہ عصر کے وقت روزہ توڑنے کے مصداق قرار دے سکتے ہیں۔
اگر طالبان سے مذاکرات کرنے ہیں تو عمران خان کی ان کیلئے دفتر کے قیام کی تجویز بجا ہے اسکے ساتھ ان کو ایک جگہ جمع ہونے کی سہولت دینااورتحفظ کی یقین دہانی بھی کرانا ہوگی۔عسکری و سیاسی قیادتوں کیلئے شدت پسند وہ نوالہ بن چکے ہیں جسے نگلا جاسکتا ہے نہ اُگلا۔شدت پسندوں کے ساتھ جنگ بھنوراور دلدل کی صورت اختیار کر گئی ہے۔
شدت پسندوں کا سب سے بڑا ہتھیار خودکش بمبار اور حمایت کا سب سے بڑا جواز اسلام کا نام ہے۔ شدت پسندوں کے درمیان فوج یا حکومت کے ایجنٹ کا گھسنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے جبکہ شدت پسنداور انکے حامی آرمی، ائرفورس، نیوی سمیت ہر سیکورٹی ادارے اور سیاستدانوں ہی نہیں کابینہ اور بیوروکریسی کی صفوں میں بھی موجود ہیں۔ شدت پسند وں کا موقف درست ہے یاغلط، حقیقت یہ ہے کہ ایک بہت بڑی آبادی انکے سحر میں گرفتار ہے۔یہ طلسم توڑے بغیر ان کو نابود کرنا ممکن نہیں۔کیا فوج کے پاس اس جادو کا کوئی توڑ ہے؟ اگر نہیں تو پھر مزید کتنی شہادتیں پیش کی جاسکتی ہیں؟شدت پسندوں کا نفاذ شریعت کا مطالبہ اپنی حمایت کے حصول کا اگر سٹنٹ بھی ہے تو ہر فرد کو اس کا کس طرح یقین دلایا جا سکتا ہے؟اگر یقین دلا کر انکی حمایت ختم نہیں کی جاتی تو قیامت تک بھی ان کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ایسے میں کیا کرنا چاہیے یہ سیاسی و عسکری ماہرین، عمائدین اور اکابرین کی عقل و دانش اور حکمت کا امتحان ہے۔ آئین تسلیم کرانے کی شرط رکھنے والے خود آئین کی کہاں تک پاسداری کرتے ہیں؟ جرنیلوں نے تین بار آئین توڑا۔ جمہوری حکومتیں آئین کے مطابق سود کا خاتمہ نہ کر سکیں۔ اعلیٰ سطح پر غیر قانونی تقرریاں، سپریم کورٹ آج بھی کالعدم قرار دے رہی ہے۔ بلدیاتی الیکشن سے گریز کس آئین پر عمل کا آئینہ دار ہے۔ نفاذ شریعت کی بات کرنیوالے کیا اپنی ذات اور خاندان پر اس کا نفاذ کرتے ہیں۔
ایک سول اٹھایا جاتا ہے کہ اگر پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے تو کس مسلک کا اسلام نافذ ہوگا؟ اس کا حل مشکل نہیں ہے۔ سعودی عرب میں جو نظام رائج ہے اسکی مخالفت بھی ہوئی۔ بالآخر ہزاروں صد ہزار انجم سے سحر پیدا ہوگئی۔ آج وہاں کوئی مقابل نظام اور مسلک نہیں۔ قبل ازیں خانہ کعبہ میں چار مصلے ہوا کرتے تھے۔ ایران میں بھی مخالفین اُٹھا دیئے گئے۔کمال اتاترک نے مناظرے کا جھانسہ دے کر ہزاروں علما ءکو جہاز میں بٹھا کر سمندر برد کر دیا۔ وہاں آج تک کبھی فرقہ واریت نے سر نہیں اُٹھا۔ پاکستان میں تمام مسالک کو متحد کرنے کی ایک کوشش کی جائے۔ جو اتحاد اور اتفاق سے بغاوت کریں اس نوبل کاز کے سامنے ایک ”شپ“ کی قیمت زیادہ نہیں۔

Sunday, September 29, 2013

پیر

پیر

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
26 ستمبر 20131
Print  
پیر
اچھا خاصا چلتا ہواکاروبار خسارے میں چلا گیا۔ نوبت فاقوں تک آتی دیکھ کر بڑے قرض کا قصد کیا۔ بنک گارنٹی موجود نہیں تھی تو ایک دوست کو ساتھ لے کر یہ علاقے کے معروف سیٹھ کی چوکھٹ پر حاضر ہو گیا۔ اس نے پرتپاک استقبال کیا۔ اپنے گھر اور در تک آنے کی وجہ سے وہ واقف تھا۔ اس لئے ضرورت پوچھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے وہ ناصحانہ انداز میں گویا ہوا” میں سود پر رقم دینے سے پہلے کچھ حقائق آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔“ اس کے ساتھ ہی دودھ کے 2 گلاس منگوائے اور یہ کہتے ہوئے ہمیں پیش کئے کہ میں قرض دینے سے قبل اپنے کلائنٹس کا من دودھ پلا کر پاک کرتا ہوں۔ اس کے بعد اس نے جو کچھ کہا وہ سود پر پیسے دینے والے عموماً نہیں کہا کرتے۔ اس کا کہنا تھا ”بنک سے آپ سود پر پیسے لیں تو وہ اگلے ماہ سے قرض کی سود سمیت واپسی قسطوں میں شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا طریقہ ذرا مختلف ہے۔ ہم قرض اپنی رقم کی واپسی کے لئے نہیں دیتے صرف سود کی وصولی کے لئے دیتے ہیں۔ سود کی رقم قرضدار کو یکمشت لوٹانی ہوتی ہے ،جب بھی اس کے پاس ہو۔ اس وقت تک اسے ہر ماہ سود ادا کرنا ہوتا ہے۔ اس دوران جتنے ماہ سود کی ادائیگی نہ ہو وہ رقم بھی قرض میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس شکنجے سے صرف جائیداد بیچ کر ہی کوئی نکل سکتا ہے۔ اگر اس کے پاس کوئی جائیداد ہو تو۔ میرا تو یہ کاروبارہے، اس کی اونچ نیچ سے آپ کو آگاہ کر دیا۔ اب بتاﺅ کتنا قرض چاہئے؟ بہتر ہے کہ ایک دو دن مزید سوچ لو“
قرض کی حسرت لے کر سود خور کے در پر آنے والے دوستوں نے آخری فقرے کو زیادہ اہمیت دی اور وہاں سے اٹھ آئے۔ خراد کی ورکشاپ کے مالک کو سود پر قرض کے سوا کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا تھا ۔سوچا اگلے دن پھر اسی آستاں پر چلا آئے گا۔ اس کے ساتھی نے کہا کہ آﺅ تمہیں ایک اللہ کے نیک بندے سے ملاﺅں، شاید کوئی راستہ نکل آئے۔ اب دونوں ایک بڑی کوٹھی کے گیٹ پر کھڑے تھے۔ بیل دی، گیٹ ملازم نے کھولا اور بغیر کچھ پوچھے دونوں کو ڈرائنگ روم میں لا کر بٹھا دیا۔ چند لمحوں میں صاحب خانہ تشریف لے آئے۔ حالات کے ستائے ہوئے شخص نے ان کو پیر سمجھتے ہوئے عرض کی کہ کاروبار میں گھاٹے پر گھاٹا پڑ رہا ہے۔ ۔۔بابا جی نے ہاتھ کے اشارے سے مزید بات کرنے سے منع کیا۔ اس دوران دو تین مزید مرید قسم کے لوگ بھی وہاں چلے آئے۔ ملازم نے سب کو ٹھنڈا پانی پلایا۔ اس دوران ایک جھٹکے میں بجلی بند ہوئی دوسرے میں جنریٹر چلا اور ڈرائنگ روم پہلے کی طرح پھر جگمگا اٹھا۔ فریادی کہتا ہے اس موقع پر اسے یہ شعر بے طرح سے یاد آیا ....
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
اس کے خیالات کا تانتا بزرگ کے ان الفاظ سے ٹوٹا ”پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ مدد کرے گا۔ یہ عہد کرو کہ جھوٹ نہیں بولو گے اور کبھی سود پر قرض نہیں لو گے“ اس نے صدق دل سے عہد کیا۔ گھر خالی ہاتھ لوٹ آیا۔ اگلے روز ورکشاپ جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہی روٹی روزی کا اڈا تھا جو اب ویران ہو کر کھانے کو دوڑتا تھا۔ بڑے حوصلے سے گھر سے نکلا ہی تھاکہ موبائل پر دس لاکھ کا آرڈر مل گیا۔ پارٹی نے دو لاکھ ایڈوانس لے جانے کو کہا یوں وہ دو لاکھ وصول کرکے ورکشاپ گیا اور شام کو اسی دوست کو ساتھ لے کر پیر صاحب کے دولت خانے پر مٹھائی اور 5 ہزارکے ساتھ حاضر ہوا اور نذرانہ پیش کرتے ہوئے ماجرا سنایا ۔ پیر صاحب نے فرمایا تمہیں تو خود پیسوں کی ضرورت ہے،ایہیں اپنے پاس رکھو۔ مٹھائی اپنے بچوں، عزیزوں اور دوستوں کو جا کر کھلاﺅ۔۔ پیر صاحب کے بارے میں معلوم ہوا کہ 25 مربعے کے مالک بڑے زمیندار ہیں۔ نذر نیاز قبول نہیں کرتے۔ لوگوں کو سچائی کا درس دیتے ہیں ۔یہی ان کا مشن ہے۔
آج پیری مریدی ایک وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ اصل اور نقل میں پہچان نہیں رہی۔ اب تو پیر صاحبان ٹی وی پر آ کر بھی اپنی رونمائی کرتے ہیں۔ کالموں میں تذکرے ہوتے ہیں۔ہم پھونکیں مارنے والوں اور کرامات دکھانے کے دعویداروں ہی کو پیر سمجھتے ہیں۔پیر وہ بھی ہے جو راہِ راست دکھا دے ،لوگوں کو گمراہی کی تاریکی سے نکال دے اور کامیاب زندگی کا گُر بتا دے ۔ پیر کی تلاش میں کئی لوگ عموماً ٹھگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
ایک پیر کی روداد ایک بڑے صحافی نے سرمحفل سنائی۔ ”عمران خان لفٹر سے گرے تو ان کی ریڑھ کی ہڈی کے اپریشن کے لئے ڈاکٹروں کی متضاد رائے تھی۔ کچھ ڈاکٹروں کا اپریشن کرنے پر اصرار تھا۔ عمران خان کو اس تذبذب سے ایک فون کال نے نکالا ”اپریشن نہ کرانا“ فون کرنے والے کا آدمی بھی تھوڑی دیر بعد پہنچ گیا جس نے دوا پہنچائی شاید کوئی ورد بھی بتایا ۔ ڈاکٹر اور میڈیکل سائنس عمران خان کے ٹیسٹوں کے بعد کہتی تھی عمران کو نارمل زندگی کی طرف آنے میں دوتین سال لگیں گے۔ عمران خان تو چار پانچ ہفتے بعد ہی کمر پر بیلٹ باندھ اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ مزید علاج کے لئے لندن گئے۔ ڈاکٹروں نے وہاں چیک اپ کیا ٹیسٹ لئے اور ہسٹری دیکھی۔ عمران خان کے اپنے ہسپتال کے ٹیسٹوں نے مہروں میں جو نشاندہی کی تھی لندن کے ٹیسٹوں میں اس کا نام و نشان نہیں تھا۔ لندن میں ڈاکٹروں نے اپنے ٹیسٹوں کی بنیاد پر کہا کہ پاکستان سے آئی رپورٹوں میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ درست ہوتا تو عمران کو عام زندگی کی طرف لوٹنے میں طویل عرصہ چاہیے تھا۔ ہمارے ٹیسٹوں کے مطابق ایسا کبھی ہوا ہی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بیلٹ کو غیر ضروری قرار دے کر اسے اتروا دیا“
 عمران کا پیر جہلم میں رہتا ہے نام اور پتہ کیا ہے شاید مجیب الرحمن شامی صاحب بتا سکیں۔ یہ روداد انہوں نے گوجرانوالہ میں فاروق عالم انصاری کی صاحبزادی کی شادی کے موقع پر لاہور سے جانے والے صحافیوں کو سنائی جو میزبان کے بتائے ہوئے وقت کے مطابق وہاں پہنچے جو دراصل قبل از وقت تھا۔ اجمل نیازی کے قافلے میں، میں اور حامد ولید شامل تھے شادی کے عین موقع پر وہاں پہنچے اور یہ روداد سننے سے محروم رہے جو امتیاز تارڑ اور غلام نبی بھٹ نے سنائی ۔

Wednesday, September 25, 2013

’پاکستانی سیاست اور طاقت‘‘

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق





’’ڈاکٹر مبشر حسن کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ ہم نے دوسری گاڑی بھیج دی ہے‘‘ زبیر شیخ کے یہ الفاظ ٹیک کلب میں بیٹھے لوگوں پر بجلی بن کر گرے۔ اس وقت تقریب کے مہمان خاص غلام مصطفی کھر اپنی فیملی کے ساتھ ہال میں آچکے تھے۔ تقریب کے نقیب نے مزید کہا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں۔ ڈاکٹر صاحب پانچ سات منٹ میں پہنچ جائیں گے۔ سنگل پسلی ڈاکٹر صاحب تشریف لائے تووہ ہشاش بشاش تھے۔ اس عمر (پیدائش 22 جنوری 1922ئ) میں ہوا کا تھپیڑا لگ جائے تو اسے بھی ایکسیڈنٹ ہی کہا جاتا ہے شاید یہی انکے ساتھ بھی ہوا۔ ڈاکٹر صاحب سے انتظامیہ نے خطبہ استقبالیہ ’’ کھر کا تعارف‘‘ کے نام پر پہلے مقرر کے طور پر ہی دلوالیا البتہ وہ کھر صاحب کی تقریر کے دوران اور بعد بھی مائیک کے سامنے آتے جاتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب کا روسٹرم پر آتے ہی ٹمپرامنٹ لوز تھا۔ جوں جوں تقریب کی کارروائی آگے بڑھی بڑے احترام کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ کئی ’’پیچ‘‘ بھی ڈھیلے محسوس ہوئے۔ البتہ مجموعی طور پر ان کی تقریر معلوماتی، اثر انگیز اور حب الوطنی کے جذبے سے معمور تھی۔ وہ کرپشن اور بیڈ گورننس سے کسی بھی درد دل رکھنے والے پاکستانی سے زیادہ پریشان تھے۔ انہوں نے اس امریکی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا کہ صرف 415 پاکستانیوں کے سوئس بنکوں میں 83 ارب ڈالر یعنی 83 کھرب روپے پڑے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے دوست کھر کا تعارف زبردست طریقے سے کرایا اور کہا کہ اگر کھر نہ ہوتے تو ذوالفقار علی بھٹو صدر نہ بن سکتے۔
قیوم نظامی صاحب ٹیک کلب کے روح رواں سمجھے جاتے ہیں۔ آج ان کے پرانے ساتھی آئے تو وہ غائب تھے، شاید ان کے ساتھ نہ بنتی ہو۔ انتظامیہ نے تقریب کی کارروائی شروع ہوتے ہی سوالات کے حوالے سے حاضرین سے درخواست کی کہ ذاتیات کے حوالے سے سوال نہ کیا جائے تاہم غلام مصطفی کھر نے کہا کہ حاضرین سیاست سے لیکر میری ذاتی زندگی پر جو چاہیں سوال کریں۔ ایک بزرگ نے جو ڈاکٹر مبشر کے ہم عصر لگتے تھے انہوں نے تقریب کے باقاعدہ اختتام کے بعد جب حاضرین چائے اور’’ ایک ایک ‘‘بسکٹ کیلئے اٹھ رہے تھے، روسٹرم پر آ کر تمہید باندھتے ہوئے سوال کیا۔ ’’میرا کہتی ہے کہ اس کا باپ غلام مصطفی کھر ہے۔‘‘ کھر صاحب جواب کیلئے روسٹرم پر آیا چاہتے تھے کہ انتظامیہ نے اس سوال کو مسترد کر دیا۔ کھر صاحب پھر بھی آگے بڑھے کہ ڈاکٹر مبشر نے ’’دبکا مارا‘‘ ایسے فضول سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
کھر صاحب کی تقریر ذرا طویل تھی۔ ایسے میں انٹ شنٹ بھی لگ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’’سیاستدان فوج بیوروکریسی اور عدلیہ مل کر ملک کو بچا سکتے ہیں۔ فوج، بیوروکریسی اور عدلیہ کو سیاستدانوں کی قیادت میں متحد ہونا ہو گا‘‘ ۔۔۔ عدلیہ کیوں فوج اور بیوروکریسی کے ساتھ بیٹھے۔ کیا وہ فیصلے ان سے پوچھ کر کرے؟ فوج اور بیوروکریسی حکومت کی چھتری تلے تو متحد ہوتے ہیں تو حرج نہیں۔ عدلیہ اپنا کردار ادا کرے۔ جس طرح آج آزاد عدلیہ ہے اسے کسی کی چھتری اور سپروژن کی ضرورت نہیں بلکہ فوج اور خصوصی طور پر بیوروکریسی اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرے تو تمام دلدّر دور ہو سکتے ہیں۔
کھر صاحب نے مہنگائی کے خاتمے اکسیر نسخہ بتایا کہ سیاست سستی تو ہر چیز سستی ہو سکتی ہے۔ ایک امیدوار انتخابی مہم پر ایک کروڑ خرچ کرتا ہے۔ کئی پانچ کروڑ بھی کر دیتے ہیں۔ وہ حکومت میں آ کر کم از کم تین گنا اکٹھے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا سسٹم ہو کہ عام آدمی بھی الیکشن لڑ سکے۔ انتخابی اخراجات نہ ہونے کے برابر ہوں یعنی سیاست میں مہنگائی ختم ہو جائے عام آدمی کو بھی مہنگائی سے نجات مل سکتی ہے۔
کھر صاحب ملکی حالات پر دل گرفتہ ہیں۔ وہ بھٹو کے دور میں گورنر پنجاب رہے۔ ان کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان کے دور کو کالاباغ دور سے مشابہ قرار دیا جاتا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں کہ کالاباغ اور ان جیسا گورنر پہلے آیا نہ کبھی آئندہ آئے گا۔ وہ بینظیر بھٹو کے دور میں وزیر پانی و بجلی رہے۔ اس دور میں بھی حکومتی سطح پر کرپشن کے چرچے تھے۔
بینظیر بھٹو کی دو بار حکومت انہی الزامات کے باعث ہی توڑی گئی۔ کھر صاحب نے تقریب میں سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے کرپٹ ذہنیت کے حوالے سے بتایا کہ ان دنوں امریکہ سے ایک وفد پاکستان میں بجلی کے معاہدوں کیلئے آیا تھا۔ اس میں ایک ہندو رکن کانگریس بھی تھا۔ اس نے مجھ سے الگ ملنے کی خواہش کی۔ میں نے اس کی بات سنی۔ وہ پاکستان میں کرپشن پر بات کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا کرپشن بڑے ممالک میں بھی ہے، بھارت میں بھی کم نہیں۔ پاکستان میں یہ کسی اور ہی شکل میں ہے۔ امریکی وفد بھارت گیا دس دن تک ان کے سیاستدان اور بیوروکریٹ لڑتے رہے کہ بجلی کی قیمت کم کرو۔ ہم کم از کم سطح پر قیمت لے آئے تو انہوں نے کہا کہ اب ہمارے کمشن کی بات کرو جس پر ہم ششدر رہ گئے۔ ان کا جواب تھا ہم اپنے ملک کے مفاد کو زک نہیں پہنچا سکتے۔ کمشن بھی ضرور لیں گے اور آپ سے لیں گے۔ ادھر پاکستان میں سات دن سے ہم بیٹھے ہیں کسی نے بجلی کی قیمت کم کرنے کی بات نہیں کی سب کہتے ہیں کہ ہمارا کمیشن بڑھائو۔




تقریب کے اختتام پر بہت سے سوالات ہوئے۔ ایک خاتون نے پوچھا کہ آپ کسی پارٹی میں مستقل مزاجی سے نہیں رہے۔ اس پر کھر صاحب نے یہ واقعہ دہرایا کہ میں نے وزیر بجلی و پانی کی حیثیت سے محترمہ سے ملاقات کیلئے وقت مانگا انہوں نے نوازش کی، اپنے گھر لنچ پر بلا لیا۔ میں نے کہا کہ آج کل کابینہ میں کرپشن کے بڑے تذکرے ہیں۔ زرداری صاحب ہم سے بھی پیسے مانگتے ہیں۔ ہم آپ کی بات مانیں یا آصف صاحب کی؟ اس پر بینظیر بھٹو نے کہا آصف صاحب کی!!! کھر کا حاضرین سے سوال تھا کہ کیا میں ان لوگوں کے ساتھ چل سکتا تھا؟

سمت

22-9-2013
کالم نگار  |  فضل حسین اعوان





مہنگائی، بیروزگاری، رشوت ستانی اور لاقانونیت جیسی خرافات کے خاتمے کی جو امیدیں عوام نے حکومت سے وابستہ کی تھیںجلتے خوابوں کی مانند اب ان سے دھواں اُٹھ رہا ہے۔ عوام کے ارمانوں، آرزوﺅں اور تمناﺅں کے تاج محل زمین بوس کوہیں۔ عوام نے مسلم لیگ (ن) کے گلے میں اقتدار کی مالا اسے اپنی حفاظت کی چھت ،چھتری اور سائبان سمجھ کرپہنائی جو عوام کے مقدر کی زنجیر بنا دی گئی۔ انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے عوامی مسائل کے حل، ملک کی ترقی و خوشحالی کا بڑا نسخہ کیمیا دریافت کر کے عوام پر افشاءکیا اور کامیابیوں و کامرانیوں کا میدان مار لیا۔ کرپٹ بیورو کریسی اور سیاستدانوں کی کرپشن سے بنائی دولت کی پائی پائی وصول کر کے قومی خزانے میں لانے کی قسمیں کھائی گئیں۔ یہ اربوں ڈالر اور کھرب ہا روپیہ اگر خزانے میں واپس آ جائے تو قوم و ملک کی تقدیر سنور سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے قرض کی ضرورت رہے گی نہ امریکہ عرب ممالک سے بھیک کی۔ اب تک سامنے آنے والی صورتحال کے مطابق تو لگتا ہے کہ گذشتہ ادوار میں لوٹ مار کرنے والوں کو معاف کر دیا گیا تاکہ وہ حکومتی مدت مکمل کرانے میں وہی کردار ادا کریں جو نواز لیگ نے فرینڈلی اپوزیشن بن کر گزشتہ دور میں ادا کیا۔ کرپشن کے پیسے کی واپسی سے جو وسائل مہیا ہونے تھے وہ اب عوام پر ٹیکس لگا کر، ٹیکسوں میں اضافہ کر کے اور بجلی و تیل کی قیمتیں بڑھا پیدا کئے جا رہے ہیں۔ عوام کا تیل نکلے گا تو وہ چیخ و پکار ہی کر سکتے ہیں، سو وہ کر رہے ہیں۔ جن کو پکار رہے ہیں ان کے بم پروف محلات اور بُلٹ پروف گاڑیوں کے اندر تک تو ہَوا داخل نہیں ہو سکتی صدا کیسے پہنچے گی۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنے پاﺅں مضبوطی سے جما کر فیصلہ کن لائحہ عمل اختیار کرے اور اس کیلئے عوام کو سرِ دست اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا گیا ۔ عوام کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جاتی تو ممکنہ طور پر شکنجے میں آنے والے جمہوریت کا کھیل بگاڑنے پر ہی تُل جاتے۔ حکومت بہرحال بہت کچھ نہیں تو کچھ نہ کچھ کرتی نظر آرہی ہے ۔
وزیراعظم نواز شریف نے چین، سعودی عرب اور ترکی کے دورے کر لئے، یہی ہمارے بہترین دوست ہیں۔ سب نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں کردار ادا کرنے کا یقین دلایا۔ ترقی و خوشحالی کا خواب امن کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا جو ملک سے ناپید ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ہر تین ممالک کے حکمرانوں اور وہاں کی تاجر برادری و سرمایہ کاروں کو پاکستان میں انوسٹمنٹ کی دعوت دی۔ یہ ایسے ہی کہ حامد کرزئی کسی ملک سے ریلوے سیلون درآمد کرنے کا معاہدہ کر لیں ۔ آزاد کشمیر حکومت بحری بیڑے کا آرڈر دیدے۔ نہ امن نہ انرجی ،آپ کے سرمایہ کار تو وطن چھوڑ کر دوسرے ممالک جا رہے ہیں ۔جہاں کون سرمایہ کاری کرے گا؟ --- یہ سوال نہایت اہم ہے ۔مسلم لیگ ن کی کی پوری توجہ اس طرف ہے ۔ نواز لیگ حکومت ملک سے دہشت گردی، لاقانونیت اور بدامنی ختم کرنے کیلئے پُرعزم نظر آ رہی ہے۔ اس میں لغزش و لرزش نہ آئی یہ سیاسی دباﺅ،اندرونی و بیرونی مصلحتوں کا شکار نہ ہوئی تو یقیناً حالات سازگار ہو جائیں گے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ فوج کو طالبان کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات پر آمادہ کرنا بہت بڑا بریک تھرو ہے۔ طالبان کی شرائط سرِ دست بڑی کڑی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ مذاکرات کی میز پر آئے تو درمیانی راستہ ضرور نکلے گا۔ طالبان کے گروپوں کی تعداد 70 کے لگ بھگ ہے ۔سارے کے سارے مذاکرات کی حمایت اور مخالفت میں یکسو نہیں۔ ان میں آدھے بھی مذاکرات کے بعد معاہدے کے بندھن میں بندھ گئے تو باقی کا مقابلہ کرنا آسان ہو گا اور پوری قوم یکجا و یکتا بھی ہو گی۔ خدانخواستہ مذاکرات ناکام ہوئے تو تباہی کا سلسلہ یو نہی جاری رہے گا اورقوم بھی بٹی رہے گی۔ مذاکرات کا دم بھرنے اور کرنے والے ان کو ناکام بنانے کیلئے آگے نہیں بڑھ رہے وہ بہت سوچ سمجھ کر اور پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہے ہیں جن میں غیر محسوس انداز اور غیر اعلانیہ پیشرفت ہورہی ہے ۔
کراچی میں بدامنی اپنے عروج کو چھو کر مُڑی ہے۔ فوجی اپریشن تو نہیں ہُوا ،جو ہُوا بہتر ہُوا۔ پہلی دفعہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جسے مرکزی حکومت کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ کراچی میں اجلاس کے دوران وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ڈی جی رینجرز سے پوچھا تھا ” کراچی کتنے دن میں امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔“ ان کا جواب تھا۔” اختیارات دئیے جائیں تو تین دن میں۔ “وزیر داخلہ اس پر چونکے ، شاید یقین نہیں آیا اور حیرانی سے پوچھا۔” ذرا پھر سے کہنا۔“ ان کا مصمم ارادے سے جواب تھا۔” تین دن صرف تین دن۔“ اب حکومت رینجرز کو مکمل اختیارات دے رہی ہے تو ان شاءاللہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ کابینہ کے اجلاس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کا مسودہ منظور کیا گیا ہے جس کے مطابق تحقیقاتی ادارے تفتیش کےلئے ملزموں کو 30 کے بجائے 90 روز تک حراست میں رکھ سکیں گے اور یہ حراست کسی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گی۔ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مسلح افواج، سول فورسز، خفیہ اداروں اور ایس پی عہدے کے پولیس افسر پر مشتمل ہو گی، تحقیقاتی ٹیم ایف آئی آر کے اندراج کے 30 روز کے اندر ٹرائل کورٹ میں مقدمہ پیش کرےگی۔ پیرا ملٹری فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزاحمت کی صورت میں شدت پسندوں، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں ملوث افراد کو وارننگ دینے کے بعد گولی مارنے کا بھی اختیار حاصل ہو جائے گا۔ دہشت گردی میں ملوث افراد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو بھی گولی مارنے کا اختیار رکھیں گے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت 30 روز میں کیس کا فیصلہ کرےگی ۔




 دہشت گرد واقعی انسانیت کے دشمن ہیں اگر حکومت ان کے خاتمے کیلئے جرا¿ت مندانہ اقدام، مصلحتوں اور سیاسی دباﺅ سے بالاتر ہو کر رہی ہے تو کم از کم دہشتگردی کے خاتمے کے لئے یہی درست سمت ہے ۔پوری قوم کو اس کا ساتھ دینا چاہئے۔

شام ۔۔۔ملی وقومی غیرت


شام ۔۔۔ملی وقومی غیرت

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان
19 ستمبر 2013 2
امریکی ادارے قومی سلامتی ایجنسی کے عہدیدار ایڈور ڈ سنوڈن نے پوری دنیا کو بتادیا کہ امریکی حکومت اپنے ہی شہریوں کی جاسوسی کرتی ہے۔ یہ کام اس کے فرائض میں بھی شامل تھا۔اس کے بعد جان بچانے کےلئے وہ امریکہ سے فرار ہوا۔ چین اور ہانک کانگ سے ہوتا ہوا روس جاپہنچا۔ سنوڈن نے 21ممالک سے پناہ کیلئے رابطہ کیا لیکن امریکہ کے خوف سے کہیں سے خیرات نہ ملی البتہ روس نے اسے قبول کرلیا۔ امریکہ نے زبردست دباﺅ ڈالا لیکن روس ناں ،ہاں میں بدلی ۔ دونوں کے مابین قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ بھی موجود ہے ۔اسی معاہدے کے تحت امریکہ میں پکڑی جانیوالی روسی خوبرو جاسوسہ اینا چیمپئن واپس آئی تھی جس نے روس میں ماڈلنگ شروع کردی۔اب اینا نے سنوڈن کو شادی کی دعوت دی ہے۔ سنوڈن کو روس میں باقاعدہ پناہ دیدی گئی ہے۔ صدرپیوٹن نے امریکہ کو جواب دیا روس پنا ہ لینے والوںکبھی واپس نہیں کرتا۔ حالیہ دنوں میں روس کی طرف سے سپر پاور امریکہ کی یہ پہلی سبکی تھی۔ دوسری تب ہوئی جب روس نے امریکہ کی شام پر حملے کی خواہش اور تیاری کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔
شام کو باغیوں کے خلاف مہلک گیس اور کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر سبق سکھانے کیلئے اوباما نے تلوار سونپ لی اور کیری نے کمان پر تیر چڑھا لیا تھا۔پل بھر میں شام عراق اور افغانستان کی طرح کھنڈرات میں تبدیل ہوتا نظر آرہا تھا۔اوباما کی سیماب صفت طبیعت جو شائد ان کی جبلت، سرشست، فطرت اور خصلت کا حصہ ہے، کے سامنے اقوام متحدہ کیا خود اپنی کانگریس بھی ہیچ نظر آئی۔ ایک موقع پر فرمایا کہ شام پرحملہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی اجازت کی ضرورت نہیں، صرف امریکی کانگریس سے منظوری لی جائے گی پھر عزم باندھا کہ کانگریس نے منظوری نہ دی تو بھی حملہ کردیاجائے گا۔ اوباما کی حملے کی ہٹ دھرمی میںروس اور چین کی سخت مخالفت کے بعد نرمی آئی خصوصی طورپر روس کی یہ دھمکی کام کرگئی کہ امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو روس سعودی عرب پر چڑھائی کردے گا۔ شام پر حملے کیلئے عرب ممالک زیادہ پھرتیاں دکھاتے ہوئے بشارالاسد کا پتہ کٹوانے کیلئے بے قرار تھے۔ انہوں نے امریکہ کو جنگ کے اخراجات اٹھانے کی پیش کش بھی کی۔
شامی حکومت اور باغیوں کی جنگ میں انسانی خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ بشار الاسد اپنے اقتدار کو بچانے اور باغی اسے چراغ کو بجھانے کیلئے سرگرداں ہیں۔اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں دونوں نے بربریت بپا کر رکھی ہے اور اس میں بیرونی دنیا نے اپنے حصے کا تعین کرکے جنگل کے قانون کے تحت اس کے حصول کی پلاننگ کی تو عوامی سطح پر ہر ملک میں مخالفت ہوئی ۔چند ممالک دنیا کی واحد سپر پاور کے سامنے کھڑے بھی ہوگئے۔ایسا کبھی تو ہونا تھا۔ امریکہ کی بے کنار ہوتی طاقت، پوری دنیا پر غلبے کی خواہش اور توسیع پسندانہ عادت کے سامنے بند تو باندھا جانا تھا۔سو اب بندھ گیا ہے اور دنیا کی خوش قسمتی ہے کہ یہ سب کچھ پُر امن طریقے سے ،بغیر کسی بڑی تباہی بلکہ ایک اور عالمی جنگ کے ہوگیا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دنیا کے چند با اثر ممالک اگرٹھان لیں تو سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرکے ناممکن کو ممکن بناسکتے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر کے مسائل بھی پُر امن طریقے سے حل ہوسکتے ہیں۔ شاید ان ممالک کے مسئلہ کشمیر اور فلسطین سے اُس طرح کے مفادات وابستہ نہیں ہیں جس قسم سے شام پرحملے کی حمایت اور مخالفت سے وابستہ تھے یا پھر پاکستان اور عرب ممالک کشمیر اورفلسطین کے کیس صحیح طورپر دنیا کے کے سامنے پیش نہ کرسکے ۔
 شام نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے پاس کیمیائی ہتھیار موجود ہیں جو اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف سدِ جارحیت کیلئے ہیںوہ باغیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوئے جبکہ دوسرا فریق مُصر ہے کہ کیمیائی ہتھیار حکومت نے استعمال کئے ،ایسا ہی باغیوں کے بارے میں کہاجارہا ہے۔تحقیق سے قبل ہی امریکہ نے شام کا گھیراﺅ کرلیا۔ ہوسکتا ہے اس کو ایک بار پھر گمراہ کیا گیا ہو۔صدام کے پاس تباہ کن ہتھیار ہونے کی گواہی عراقی حکومت سے الگ ہونے والے جاسوس رافض احمد السعوان الجنابی اور عراقی خفیہ ایجنسی کے سابق افسر میجر حارث نے دی تھی۔
دونوں نے اپنے طورپر نوکریوں سے نکالے جانے کا انتقام لینے کیلئے یہ ڈرامہ رچایا۔صدام کا وزیر خارجہ ناجی صابری بھی سی آئی اے کا مخبر تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان جاسوسوں کے جھوٹ کا پول کھل گیا لیکن اس وقت تک لاکھوں عراقی موت کی لکیر پار کر چکے تھے ۔شام میں بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے جاسوس ہی اپنا کام دکھا رہے ہوں۔
روس کے سپر پاور ہونے کا بھرم افغان جنگ میں ٹوٹ گیا لیکن اس نے اپنی انا اور قومی غیرت پر سودے بازی نہیں کی۔ امریکہ و روس کی ایک دوسرے کے خلاف دوستی نفرت اور جاسوسی کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔روس نے امریکہ کی مطلوب افراد اس کے حوالے کرنے کی خواہش کبھی پوری نہیں کی۔ہم عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ مجرموں کی رہائی کا معاہدہ نہیں ہے۔ایمل کانسی کا امریکہ میں اور ریمنڈ ڈیوس کا پاکستان میں کیا گیا جرم ایک جیسا تھا۔ اس نے ایمل کانسی کو یہاں سے لے جا کر مقدمہ چلایااورسزا موت پر عمل کرکے لاش پاکستان کے حوالے کردی ہم نے ریمنڈ ڈیوس کو زندہ امریکہ کے حوالے کردیا جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھی کام کر رہا تھا۔کیا قومی و ملی غیرت اس کا نام ہے؟۔ہم تو لاطینی امریکہ کے ممالک نکاراگوا اور وینزویلا سے بھی گئے گزرے ہیں ۔ ان ممالک نے سنوڈن کو پناہ دینے کی پیشکش کی تھی۔ 

پی آئی اے ۔۔۔ وڑائچ طیارہ

پی آئی اے ۔۔۔ وڑائچ طیارہ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
15 ستمبر 2013 0
عوام نے زرداری حکومت کی کارکردگی پر جھولیاں اٹھا کر ”دعائیں“ دیں اور نواز لیگ کی قیادت کی پر ایمان لا کر اس کا دامن ووٹوں سے بھر دیا۔ اسے مشکلات اور مسائل کا ایک بحرِ بیکراں ورثے میں ملاجس کا سبب اعلیٰ سطح پر انتہائی کرپشن اور لوٹ مار تھی۔مسائل کے حل اور مصائب سے نجات کیلئے وسائل کی ضروت ہوتی ہے ۔ نواز شریف اور شہباز شریف عوام کو یقین دلاتے رہے کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے قومی خزانے سے لوٹی گئی پائی پائی واپس لائیں گے۔ انہوں نے کہا اور عوام نے صدقنا کہہ دیا۔لوٹی گئی رقوم کی مالیت کھربوں روپے اور اربوں ڈالر میں ہے۔ اس سے 90 ارب ڈالر کے قرض چکا کر باقی رقم ملک کی تعمیر و ترقی اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے پر خرچ ہو سکتی ہے۔ کل کی اپوزیشن نے قوم کو یہی بتایا تھا۔ اختیار کی رکاب پر پاﺅں اور اقتدار کی باگ پر ہاتھ رکھا تو گویا عوام کی گردن پر انگوٹھا رکھ دیا گیا جو وسائل لوٹ مار کے پیسے کی ریکوری سے پیدا ہونے تھے وہ بجلی گیس پٹرولیم قیمتوں اور ٹیکسوں میں اضافے سے اکٹھے کرنے کی کوشش کی گئی۔ لوٹ مار کرنے والوں کی بانہوں میں بانہیں ڈالے حکمران عوام کی سادگی اور بے بسی بلکہ بے وقوفی پر قہقہے لگاتے نظر آتے ہیں۔ لٹیروں کے احتساب کی امیدیں دم توڑ گئیںسپریم کورٹ کو بھی کہنا پڑا ”کرپشن کا خاتمہ حکومتی ایجنڈے پر نہیں‘ وہ اس معاملے میں کلیئر ہوتی تو کئی لوگ جیلوں میں ہوتے۔ میگا سکینڈلز کی تحقیقات نہیں ہو رہی“۔ سپریم کورٹ نے 13 ستمبر تک چیئرمین کی تقرری کا حکم دیا تھا‘ اس پر عمل نہیں ہو سکا۔ 4 سال تو ان کو عوام کی پروا نہیں۔ آخری سال میٹرو قسم کی شعبدہ بازی دکھا کر 4 سال کی ستمگری کی پردہ پوشی کر دی جائیگی۔ عوام کی رگوں سے ٹیکس نچوڑ کر بھی اخراجات پورے نہیں ہو رہے تو آئی ایم ایف اور عالمی بنک کی چوکھٹ پر سر تسلیم خم کر لیا۔ ترکی کے دورے پر کل وزیراعظم نواز شریف صاحب تشریف لے جا رہے ہیں۔ ایک معاہدے کے تحت ترکی کا ایکسپورٹ کریڈٹ بنک پاکستان کو 300 ملین امریکی ڈالر قرضہ فراہم کریگا۔ایسے قرض چکانے کیلئے بھی عوام کی چمڑی ادھیڑی جائیگی۔
بلا شبہ ملکی معیشت کی زبوں حالی کی ذمہ دار مسلم لیگ ن نہیں لیکن جو ذمہ دار ہیں ان کیلئے الفت و التفات سے نواز لیگ کے ووٹر، سپورٹر حتیٰ کہ رعیت کا بھی دل کٹتا ہے۔ بالخصوص جب زرداروں کے اعمال کی شامت کا نتیجہ ان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہمالیہ جیسے بحرانوں اور طوفانوں سے نمٹنے کے جس کمٹمنٹ اور خداداد صلاحیت اور اہلیت کی ضرورت ہے اسکے فقدان کے باوجود نئی حکومت جو اب نو دن کی نہیں رہی سو دن کی ہو گئی ہے ،ہاتھ پاﺅں ضرور مار رہی ہے۔ بعض اداروں کی تنظیم نو کی طرف توجہ دی جا رہی ہے۔ ریلوے، پی آئی اے، واپڈا اور سٹیل مل جیسے ادارے خسارے سے نکل سکتے ہیں لیکن کل آنیوالے حکمران ان اداروں کی بیوروکریسی سے مل کر پھر ان کو یاجوج ماجوج کی طرح چاٹ جائینگے۔ ان اداروں کے کرتا دھرتا سونے کی مرغی ذبح کرنے پر تلے ہوں تو اصلاح کیسے ممکن ہو سکتی ہے؟ وزیراعظم نواز شریف نے پی آئی اے کی 26 فیصد نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔ جن لوگوں نے پی آئی اے کو کھربوں کے خسارے کے قلزم میں ڈبو دیا ان سے کون ہمدردی کریگا؟ 22 جہاز چلانے کیلئے 21 ہزار کا عملہ!!!۔۔۔ ملک میں پرائیویٹ ائر لائنز موجود ہیں قوم ان پر تکیہ کر ے۔ پی آئی اے والے اپنے آشیاں پر خود ہی بجلیاں نہ گراتے تو آج جہازوں کی تعداد سینکڑوں ہوتی اس کیلئے عملہ تیس ہزار بھی ہوتا تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔ اب بارہ تیرہ ہزار ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دینے کی تجویزہے۔ لاکھوں میں تنخواہیں لینے والوں کو گولڈن شیک ہینڈ کی رقم بھی کروڑوں میں ملے گی۔ اس رقم سے ملازمین مل کر اپنی ائر لائن کھول سکتے ہیں جس کے خسارے میں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو اس منصوبے میں شامل نہ ہونا چاہیں طیاروں سے نسبت جوڑے رکھنے کیلئے وڑائچ طیارے خرید کر خود اس کے پائلٹ بن جائیں۔ع
حافظ خدا تمہارا راکٹ چلانے والے
خسارے میں جانے والے دیگر اداروں کے ملازمین پی آئی کی نجکاری سے سبق حاصل کریں۔ کراچی کے امن کو برباد کرنے والوں کیلئے بھی اس میں درس ہے ۔ نواز لیگ کراچی میں کھل کر اپریشن سے گھبرا اور ہچکچا رہی ہے لیکن روشنیوں کے شہر کے متبادل شہر بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔اسلام آباد کے بالمقابل ایک اور اسلام آباد بسایا جا رہا ہے۔ جس کو معاشی ہب بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائیگی۔
25 ہزار ایکڑ پر مشتمل بارہ ارب ڈالر کی لاگت کے حامل ”ڈریم پروجیکٹ“ پر کام کا آغاز ہوچکاہے۔ اس حوالے سے دبئی کے تجارتی اور سیاحتی علاقے شیخ زاید ایونیو کی طرز پر کثیرالمنزلہ کمرشل عمارتیں تعمیر کی جائینگی۔ اس بڑے پروجیکٹ میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان دو رنگ روڈ زاور راولپنڈی کے علاقے روات میں ایک نیا ایئرپورٹ بھی تعمیر کیا جائیگا۔نئے اور پرانے اسلام آباد کو ایک سرنگ کے ذریعے جوڑا جائیگا۔
 کراچی میں امن نہ ہوا تو یہ ایک بار پھر مچھیروں کی بستی بن کر رہ جائیگی۔ روات سے نئے اسلام آباد تک 8 رویہ سڑکوں کی طرح گوادر جیوانی اور گڈانی تک شاہراہیں بنا دی جائیں اور بلٹ ٹرین چلا دی جائے تو کراچی پورٹ کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ کراچی کا پُر امن ہونا خود اسے برباد کرنے والوں کے مفاد میں ہے۔ واپڈا ریلوے اور دیگر خسارے میں جانیوالے ادارے پی آئی اے کی نجکاری سے عبرت پکڑیں کل نجکاری کا برا وقت ان کو بھی آواز دے سکتا ہے ان کیلئے تو گولڈن شیک ہینڈ بھی نہیں ہوگا۔ پی آئی اے اپنے ماٹو باکمال لوگ لاجواب سروس پر کاربند رہتی تو کسی کو اس کی نجکاری کا خیال تک نہ آتا۔