About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, November 6, 2013

اہلیت اورکنفیوژن

اہلیت اورکنفیوژن 

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
07 نومبر 20130
Print  
اہلیت اورکنفیوژن
ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں‘ حالات کو دیکھیں‘ اپنے اوپر جو بیت رہی ہے‘ اس پر سوچیں تو لگتا ہے کہ ہمیں آج ہی آزادی ملی اور ہمیں کٹا پھٹا، زخموں سے چور ملک تھما دیا گیا ہے جس کی ہر کل کو سیدھا کرنے کی ضرورت ہے۔ اوپر سے قیادت ایسی کہ اس سے اپنی تمبی اور دھوتی سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ دانشوروں کی رائے میں ہمارے مسائل کی جڑ ہی قیادت کا فقدان ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کرپٹ تھی۔ کرپشن میں ہی اس نے اپنی اہلیت ثابت کی۔ ملک میں انارکی کی بنیاد اس کرپشن سے پڑی۔ آج کے حکمران اپنے پیشروؤں کے درجے کے کرپٹ تو نہیں ہیں تاہم ملک چلانے کیلئے جس اہلیت ،قابلیت اور وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے بڑی حد تک تہی دامن ہیں۔ انہوں نے توانائی کی قلت کو دور کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کو باالترتیب اپنی پہلی اور دوسری ترجیح قرار دیا تھا۔ آج دونوںسون چڑی بن چکی ہیں۔ انرجی بحران میں کمی کے بجائے تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافہ کر دیا گیاجس سے فطری طور پر ہر چیز کی قیمت بڑھنا تھی۔ حکمرانوں کی دلچسپیوں اور عوامی مسائل سے لاتعلقی کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے میدان خالی دیکھا تو عوام کی چمڑی ادھیڑنے لگے۔ عام آدمی کیلئے زندگی کی گاڑی کا پہیہ رواں رکھنا سہل نہیں رہا۔ ٹماٹر ڈیڑھ سے اڑھائی سو روپے، آلو 100 روپے کلو ہوگئے ۔بلاشبہ ان کا استعمال ناگزیر نہیں ہے۔ 60روپے کلو کے پیاز کے بغیر بھی سانسیں چل سکتی ہیں۔ روٹی تو بنیادی ضرورت ہے۔ یہ بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے اسکی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا حالانکہ اس دوران بجلی مہنگی ہوئی نہ پٹرولیم مصنوعات۔گندم کے ریٹ بھی نہیں بڑھے۔ آٹا فروشوں نے حکمرانوں کی بے خبری میں عوام پر ستم ڈھادیا۔ کچھ لوگ کھانا ہضم کرنے کیلئے دواؤں کا استعمال اور واک وغیرہ کرتے ہیں اور اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جن کو پیٹ بھرنے کو روٹی میسر نہیں۔ ایک مزدور کہہ رہا تھا کہ پہلے میںتین روٹیاں کھاتا تھا ‘اب دو کھاتا ہوں۔ پانی بھی خریدنا پڑے تو ایک روٹی پر آنا پڑے۔ نواز لیگ کے اقتدار میں آنے کے بعد ابھی کوئی بڑی فصل کسانوں نے نہ اٹھائی نہ مارکیٹ میں آئی۔ ٹماٹر پیاز اور سبزیاں آئیں تو ان کا قحط نظر آتا ہے۔ شوگر ملیں چلنے والی ہیں۔ چینی اور لوہا ’’شاہی خاندان‘‘ کی من پسند ٹریڈ ہے۔ عوام شُکر کریں کہ لوہا کھانے کی چیز نہیں ۔شَکراور پسندیدہ میں بڑا تال میل رہا ہے۔ہم وطنوں کے حصے میں لوہا چینی جتنی چینی آئیگی ۔ دکاندار حکمران، کسانوں کو مایوس کرر ہے ہیں جب اقتدار کا خمار‘ نااہلی کی بھرمار اور وژن بیمار ہو تو نتیجہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حکمرانوں کو ہر شعبہ انار کے اس باغ کی مانند سرسبز اور ثمربار نظر آتا ہے جس کے باغبان نے بادشاہ کو انار کا جوس پلایا تھا۔ گندم کی فصل ابھی دور ہے۔ حکمرانوں کی نیت دیکھ کر اس کے سوتے خشک ہو سکتے ہیں۔ قحط کا سماں بھوت کی طرح دندناتا نظر آرہا ہے۔خدا خیر کرے۔
 اہلیت‘ قابلیت اور دانش و حکمت میں باقی سیاستدان بھی حکمرانوں سے کم نہیں البتہ سخن طرازی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم متفق لیکن اسکے خاتمے کا طریقہ کار اپنا ہے۔ کوئی اسے دہشتگردوں کو ختم کرکے ختم کرنا چاہتا ہے کوئی ان کو اپنا ہمنوا بنا کر،کوئی اسے امریکہ کی حمایت سے کوئی امریکہ کو دشمن بنا کر۔ ایک طبقہ حکم اللہ محسود کو ظالم تو دوسرا مظلوم کہتا ہے۔ کسی کو اعتراض ہے کہ اسے امریکہ نے کیوں مارا ہم خود مارتے۔ قائدین ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ امریکہ نے بم برسا کر مذاکرات کا عمل سبوتاژ کر دیا۔ طالبان کا موقف ہے کہ محسود کے قتل کا منصوبہ نواز اوباما ملاقات میں بنا۔ حکومتی اور بے حکومتی سیاستدان مذاکرات کا عزم دہراتے دہراتے دُہرے ہوئے جا رہے ہیں۔ محسود کی ہلاکت اور بقول منور حسن اور فضل الرحمن شہادت پر فوج خاموش ہے۔ حکومت فوج کی طرف سے مذاکرات کی کامیابی کیلئے کردار ادا کرنے کا تواتر سے اظہار کرتی رہی۔ ڈرون حملے پر فوج بولی نہ اسکی طرف سے حکومت نے کچھ کہا۔ سوچنے کیلئے یہ بھی بہت ہے کہ 29 نومبر کو کیانی ریٹائر ہو رہے ہیں ان کا متبادل سامنے آیا نہ انہوں نے فوجی یونٹوں کے الوداعی دورے شروع کئے۔ جنرل کیانی کی قیادت میں فوج اور امریکہ کا طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ڈرون حملوں کے حوالے سے موقف متضاد نہیں۔ ضروری نہیں حکمرانوں کا ظاہر و باطن بھی ایک ہو۔ جو لوگ فوج کو مار رہے ہیں ڈرون ان پر ہی گرتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کو جنرل کیانی بڑی کامیابی سےtowکر رہے ہیں ۔نواز شریف امریکہ کا دورہ بھی کر آئے ہیں۔ پاکستان میں حکمرانی اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے فیصلے‘ کہا جاتا ہے واشنگٹن میں ہوتے ہیں۔ کیانی کو کیا مزید ایکسٹنشن مل جائیگی؟ یہ سوال اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر پھر سامنے آگیا ہے۔
 ہم ایک کنفیوژ قوم اور ہماری تقدیر کے فیصلے کرنیوالے قوم سے زیادہ کنفیوژ ہیں۔فتویٰ گری کا فن کوئی ہم سے سیکھے ۔مولانا فضل الرحمن نے فرمایا کہ امریکہ کتے کو قتل کر دے وہ بھی شہید ہے۔منور حسن کے محسود کیلئے شہید کے فتوے پر بلاول نے ارشاد فرمایا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ بنگلہ دیش جیسا سلوک کیا جائے۔ کیا تماشا لگا ہے‘ ایک اجلاس سینٹ کے اندر‘ دوسرا اسکے باہر ہو رہا تھا۔ قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر کہا گیا ’’امریکہ کو بتادیا جائے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے قبول نہیں‘‘ گویا مذاکرات سے قبل اور مابعد قبول ہیں۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ اور گورنر صوبے میں امن قائم کرنے میں ناکام ٹھہرے توایک علیحدگی پسندوں سے ملاقات کا ملتجی دوسرا ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی دہشتگردی کو حقوق کی جنگ قرار دیتا ہے۔ مشرف کے معاملے میں بھی مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ ایک طبقہ انہیں پھانسی لگانا چاہتا ہے دوسرا ملک سے چلے جانے کیلئے بحفاظت راستہ دینے کا حامی ہے۔ کراچی میں اپریشن ناکام ہوتا دکھائی دیتا ہے‘ دو دن میں تیس لوگ مارے گئے۔ حالات واقعات کا ایمانداری سے تجزیہ کریں تو حکمران اپنے منشور اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں پر عمل میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ کسی بحران کے حل کا کوئی سرا انکے ہاتھ نہیں لگ رہا۔ ہر گزرتے انکے ساتھ عوامی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ عوام آخر کب تک بہتری کی امید رکھیں؟ پانچ سال بعد؟ اس وقت تک کتنے لوگ روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھ سکیں گے۔ ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ نواز لیگ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے تک،خدا جانے بھوک افلاس‘ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ میں انسانیت کتنی بار قتل ہو چکی ہوگی ۔

محسود ،ڈرون اورمذاکرات ڈرامہ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان


حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں مارے جانے کی غیر مصدقہ خبر ہر ٹی وی چینل پر اینکرز اور تجزیہ نگاروں کے تبصروں کے ساتھ چل رہی تھی تو کئی کی حافظوں پر کرنل امام کے قتل کی ویڈیونے بھی دستک دی ہوگی۔جنوری 2011ءکو کرنل امام کو طالبان کی حراست کے دوران فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔کلاشنکوف بردار کے سامنے کھڑا کرنے سے قبل کرنل اما م پہاڑی علاقے میں بیٹھے دکھائے گئے انکے سر پر حکیم اللہ محسود کھڑے تھے۔انہوں چند آیات کی تلاوت کی اوربڑے جذباتی انداز میں انکے جرائم بتائے تھے۔پھر ایگ گولی کے بعد کرنل امام کو گرتے ہوئے اور پھر چندفائر کرنے کے بعد اور ان کا سر ایک طرف ڈھلکتے دکھایا گیا ۔یہ سب کچھ حکیم اللہ محسود کی موجودگی میں ہوا۔
ڈرون حملے کے ایک ڈیڑھ گھنٹے ہی میں بیت اللہ محسود کے مارے جانے کی تصدیق ہو گئی۔اس حملے میں کمانڈر طارق محسود اور عبداللہ بہار سمیت 6 افراد لقمہ اجل بنے۔ محسود شمالی وزیرستان کے گاﺅں ڈانڈے درپہ خیل جو تحریک طالبان کا گڑھ ہے‘ میں طالبان شوریٰ کے اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے جس میںحکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق حتمی فیصلہ ہونا تھا۔
قومی و بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حکیم اللہ محسود 1979ءمیں جنوبی وزیرستان کے علاقے تکئی میں پیداہوئے ، ان کا اصل نام جمشید محسود ہے‘ وہ کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر بیت اللہ محسود کے ڈپٹی بھی رہے۔ وہ پہلی مرتبہ 2007 ءمیں پاکستان فوج کیخلاف حملوں کی وجہ سے ایک بے رحم شدت پسند کے طور پر ابھرے۔ 23 اگست2009 ءمیں امریکی ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بنے ۔وہ تحریک طالبان کی قیادت سنبھالنے سے قبل کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں طالبان جنگجوو¿ں کے قائد تھے ۔ یہ حکیم اللہ محسود ہی تھے جنہوں نے دو ہزار سات میں دو سو پچاس پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنایا۔ انکی قیادت کے دوران جی ایچ کیو ، پریڈ لائن مسجد، مہران نیول بیس،کامرہ ایئر بیس،آئی ایس آئی اورایف آئی اے کے دفاتر سمیت انگنت مقامات اور تنصیبات پر خود کش حملے ہوئے ‘جن میں عام شہریوں ،افواج کے افسروں ،جوانوں اور بچوں کی اموات کیساتھ ساتھ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کے تاثر کو بھی تقویت ملی۔ان چند اہم واقعات سمیت دیگر بہت سے واقعات کی ذمہ داری حکیم اللہ محسود کی تنظیم کی طرف سے قبول کی گئی۔ حالیہ دنوں میںجب حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے معاملات طے ہورہے تھے تو جنرل ثناءاللہ نیازی کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں اُ ڑا دیا گیا جس کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی۔ اس پر حکومتی حامیوں نے تنقید کی تو طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچنے تک اپنی کارروائیوں میں آزاد ہیں۔ طالبان کے اس مو¿ قف کی انکے حامیوں نے بھی تائید کی۔اگر طالبان ایسا کرنے میں آزاد ہیں تو جس فریق کے ساتھ وہ برسرِ پیکار ہیں وہی بھی یہی مو¿قف دہرا رہا ہے ۔حکیم اللہ محسود بھی ایسی ہی کارروائی کی زد میں آگئے۔
حکیم اللہ محسود امریکہ کو تحریکِ طالبان پاکستان کے القاعدہ اور افغان طالبان کے ساتھ رابطوں کے باعث مطلوب تھا۔حکیم اللہ محسود کے بعد سب سے طاقتور کمانڈر لطیف محسود کو چند ہفتے قبل امریکی سپیشل فورسز نے افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کی حراست اس وقت چھین لیا جب وہ اسے کابل میں خفیہ ملاقات کیلئے لے جا رہے تھے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پاکستانی طالبان رہنما لطیف محسود کی گرفتاری کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان حکومت لطیف محسود کے ذریعے پاکستانی طالبان کو پاک فوج کیخلاف کارروائیوں کیلئے استعمال کرنا چاہتی تھی۔ این ڈی ایس کو بھارتی ایجنسی RAW نے ٹرینڈ کیا اوروہ اسی کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کون کیا کررہا ہے اور کس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ۔محسود بیک وقت پاکستان اور امریکہ کو مطلوب تھے ۔ امریکہ نے انکے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر پاکستان نے پانچ کروڑ روپے لگا رکھی تھی۔
یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ ڈرون حملے اب بھی پاکستان کی مرضی سے ہی ہو رہے ہیں۔اس حوالے سے اہم ترین بیان امریکی کانگرس میں ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن ایلن گریسن کا ہے جس کی پاکستانی حکام نے تردید نہیں کی۔ انہوںنے کہا کہ ”اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی ایئر فورس اپنی فضائی حدود پر پابندی لگا کر ڈرونز کو روک سکتی ہے۔ پاکستان کی منظوری کے بغیر اس طرح کے حملے نہیں ہو سکتے۔“ سینٹ میں ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کے جو اعداد و شمار پیش کئے وہ بھی دنیا پر ڈرون حملوں کا جواز ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔وزارت دفاع کی طرف سے سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ 2008ءسے لیکر 2013ءتک 5 سال کے عرصے میں 317 ڈرون حملے کئے گئے جن کے نتیجے میں 67 عام شہری اور 2160 شدت پسند جاںبحق ہوئے ۔ ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود اور ساتھیوں کے مارے جانے کاحکومت کو تو بجا طورپر کریڈٹ لینا چاہیئے جس نے وہ مقصد حاصل کر لیا جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے بھی شاید حاصل نہ ہو سکتا۔ مذاکرات کیلئے حکومت کی ظاہر ی کو ششیں بھی شاید ڈرامہ ہوں جس میں حکومت کامیاب رہی۔
حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے طالبان کو شدید نقصان پہنچا۔ انکے اتحاد میں بھی شاید دراڑیں پڑ جائیں۔ اس کا ریاست کو اسی صورت فائدہ ہو سکتا ہے کہ حکمران ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیں۔ قوم کو حکمران اتحاد، اتفاق، یکجائی اور یکجہتی کا درس دیسے ہیں جبکہ خود دو کشتیوں میںسوار ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں تو دوسری طرف شدت پسندوں کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے۔ حکمران شائد اپنی جانیں بچانے کیلئے حملے کی مذمت کر رہے ہیں۔



Thursday, October 31, 2013

ڈالرنگ ، ڈارلنگ

ڈالرنگ ، ڈارلنگ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
31 اکتوبر 20130
Print  
ڈالرنگ ، ڈارلنگ
نواز لیگ نے توانائی، دہشت گردی اور لاقانونیت جیسی ابتلاﺅں میں مبتلا ریاست کی پشت پر سواری شروع کی تو انرجی کرائسز کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا، دوسری ترجیح دہشت گردی سے نجات تھی ۔ سردیوں کا آغاز ہو چکا، کل یکم نومبر ہے۔ اکثر گھروں، کاروباری مراکز اور دفتروں کے اے سی بند ہو چکے ہیں۔ حکومت نے آتے ہی 480 ارب روپے کا گردشی قرض بھی چکا دیا تھا لیکن لوڈشیڈنگ کا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ آج کی خبر ملاحظہ فرمائیے ”موسم کی صورتحال میں بہتری کے باوجود بجلی کا شارٹ فال بڑھ کر 3200 میگا واٹ سے تجاوز کر گیا۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانہ 10 سے 14 گھنٹے تک پہنچ گیا۔ این ٹی ڈی سی حکام کے مطابق مجموعی طلب 12800 جبکہ پیداوار 9500 میگاواٹ کی کم ترین سطح پر آ گئی۔“خدا نخواستہ انرجی بحران کا خاتمہ اگر پہلی ترجیح نہ ہوتا تو کیا ہوتا! دوسری ترجیح بھی اسی طرح سسک رہی ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر امریکہ سے اجازت ، برطانیہ سے آشیرباد لی جا رہی ہے۔ نواز شریف نے شام کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری وزیر داخلہ چودھری نثار کے سپرد کی تو انہوں نے جادو کی چھڑی لہرائی اور شام ڈھلے خوشخبری سُنا دی کہ ہوم ورک مکمل کر لیا‘ مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔ اُدھر مولانا فضل الرحمن کی اُچھل کود قابل دید ہے، وہ جان کیری کی موجودگی میں افغانستان گئے واپسی پر بڑے فخر سے خوشخبری سنائی ” ہم نے افغان امریکہ معاہدہ نہیں ہونے دیا۔“ اب اس دورے کو طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اپنے کردار سے منسلک کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ فضل الرحمن ”مولوی “ نہ ہوتے تو سب سے بڑے سیاستدان ہوتے۔ ایک شاعر انڈیا گئے کسی نے انہیں غالب سے بڑا شاعر کہا تو انہوں نے یقین کر لیا۔ ایک اور شاعر کو ایران میں کسی نے حافظ شیرازی کے ہم پلہ قرار دیا تو وہ اسی زعم میں مبتلا ہو گئے۔ مولانا خود کو ”غیر مولانا“ کی شرط پوری کئے بغیر سب سے بڑا سیاستدان سمجھ رہے ہیں۔ ان کا چہرے اور سر سے کلین شیو نیا ترجمان دنیا کو شاید یہی باور کرا رہا ہے کہ ہم اتنے بھی ”مولانا“ نہیں ،آزما کر تو دیکھو۔ وہ اپنی اہمیت بڑھانے، سیاست کو چار چاند لگانے اور وزارتیں پانے کے درپے جبکہ نواز شریف انہیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا پُل سمجھ بیٹھے ہیں۔ آج ہی حکیم اللہ محسود نے کہا ہے ” جنگ بندی ڈرون حملوں کے خاتمے سے مشروط ہے اور ڈرون حملے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔“ امریکی رکن کانگریس گرے سن نے یہی بات ذرامختلف انداز میں کہی ” ڈرون حملے غیر قانونی ہیں لیکن پاکستان کی رضا مندی کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ میاں نواز شریف کے امریکہ کے دورے کے موقع پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا ”دورے کا ایجنڈا ڈرون نہیں معیشت ہے۔“ یہی طالبان نے ان الفاظ میں کہا تھا ” نواز شریف ڈرون حملے بند کرانے نہیں امداد کیلئے امریکہ گئے ہیں۔“ وزیراعظم نواز شریف امریکہ سے لندن آئے تھوڑی سی ریسٹ کے بعد پاکستان تشریف لائے اور ویک اینڈ گزار کر پھر برطانیہ چلے گئے۔ جہاں فرمایا” طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے جب بھی بات آگے بڑھتی ہے کوئی واقعہ ہو جاتا ہے۔“ اب کیا گارنٹی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہو گا؟ فریقین مخلص ہوں تو کوئی واقعہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ مذاکرات کیلئے قوم ایک پیج پر ہے نہ فوج مذاکرات کی حامی۔ ایسے مذاکرات کا کیا آغاز ہو گا اور کیا اختتام!!۔ ان حالات میں معالات کو خوش اسلوبی سے لیکر آئے بڑھنا اور منطقی انجام تک پہنچانا ہی سیاسی قیادت کی اہلیت کی آزمائش ہے کئی حلقوں کے نزدیک اس سے حکمران عاری ہیں جس کا ثبوت ان کی خود مقررکردہ ترجیحات کا حال ہے۔ البتہ پھرتیوں پر نظر ڈالی جائے تو اس میں مہارت کا آپ کو قائل ضرور ہونا پڑیگا۔ میاں نواز شریف لندن میں اور برادر خورد برلن میں پائے جاتے ہیں وہ بھی اس موقع پر والد محترم کی برسی تھی۔ کسی صحافی نے خودکار خبر لگا دی کہ 29 ستمبر کو برسی شایان شان طریقے سے رائیونڈ میں منائی جائیگی۔ جس میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔ برسی شایان شان طریقے سے نہیں عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے۔ شریف فیملی کے ہاں ابّا جی کا بدرجہ اتم احترام پایا جاتا تھا، وہ بڑے بڑے فیصلوں کو ایک ناں میں مسترد کرتے تو اس پر عمل ہوتا۔ قوم آج مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور بحرانوں کا رونا روتے ہوئے واوایلا کر رہی ہے کہ نواز لیگ اپنے وعدے بھول گئی۔ عوام کا گِلہ بے جا یوں کہ جو لوگ اقتدار کی چکا چوند اور غلام گردشوں میں گم ہو کر اپنے دیوتا جیسے والد کی برسی بھول گئے ان کیلئے یہ عوام کس باغ کی مولی ہیں۔ انہوں نے تو خیر برسی کو بھلایا ہے امیر حیدر ہوتی زندہ جاوید والد اعظم ہوتی کے خلاف اے این پی کے مو¿قف کا پرچم لہرا رہے ہیں۔اے این پی کی قیادت سیاسی آلائش کی چھینٹوں سے باپ بیٹے کے رشتہ کے تقدس کو داغدار نہ کرتی تو بہتر تھا تاہم امیر حیدر مُنہ میں چوسنی نہیں عقلِ سلیم رکھتے ہیں ،اسے استعمال کر لیتے۔ انہوں نے گھر کے کپڑے سرعام دھونے کا فیصلہ نجانے کیا سوچ کر ہی کیا۔
لوگ سوال کرتے ہیں کہ آخر نواز شریف صاحب کا مشیر خاص کون ہے؟ وہ کس کی مانتے ہیں کہ معاملات سلجھانے کا سرا ہاتھ نہیں آرہا۔ جواب عجب طرح کے ملتے ہیں۔ ایک نے اہلیت کو موضوع بنایا کہ موجودہ وسائل کو بروئے لا کر بحرانوں کے خاتمے کو ہی اہلیت و قابلیت کہتے ہیں، ٹیکس لگا کر مال دولت جمع کر کے تو نتھوخیراامور چلا لے گا لیکن یہاں تو بے تحاشا ٹیکس لگا کر بھی کہیں ریلیف نظر نہیں آتا۔ کسی نے کہا آجکل میاں صاحب کے سو رتن ہیں نہ نو رتن، ان کے تین دُلارے اور پانچ پیارے بھی نہیں البتہ سات ستمگرضرور ہیں لیکن ان کا میاں صاحب کو گائیڈ یا مس گائیڈ کرنے میں کوئی ہاتھ نہیں۔ میاں صاحب کیلئے آج ایک ہی شخص سقراط، بقراط اور افلاطون ہے۔ اوپر کارسازِزمانہ ربّ پروردگار اور نیچے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہے۔ڈار صاحب کی طبیعت میں ڈالرنگ کا عنصر بدرجہ اتم پایا جاتا ہے، قرض دینے والے ممالک اور اداروں کے لئے وہ ڈارلنگ ہیں۔عوام ڈالرنگ اورڈارلنگ کے درمیان پس سے گئے ہیں۔ اگر میاں صاحب اسحاق ڈار کے سحر سے باہر نہ آئے تو نواز لیگ کی سیاست مزید نفرت کا نشانہ بن سکتی ہے۔ شاید اسی خوف سے بلدیاتی انتخابات کے غیر جماعتی بنیادوں پر انعقاد کیلئے کمر باندھ رکھی ہے۔ کل مشرف کی غازی عبدالرشید کیس میں ضمانت  پرسوں ملک سے پُھر ہونے کا بھی امکان ہے ۔

Tuesday, October 29, 2013

حصار اور حفاظت

حصار اور حفاظت

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان
29 اکتوبر 20130
حصار اور حفاظت
سر تا پا سیاہ برقعوں میں ملبوس تین خواتین جس انداز سے پارک میں داخل ہوئیں اس پر توجہ کا مرکوز ہونا فطری امر تھا۔ چھوٹی سی پارک کی آج کل ایک ہی انٹرنس ہے۔ پارک میں صبح دسیوں لوگ سیر کیلئے آتے ہیں ان میں خواتین مردوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہوتیں۔ سرسبز پارک کے گرد چار سو میٹر کاچار پانچ فٹ چوڑا کچا ٹریک ہے جس پر سیر، واک یا جوکنگ کرنے والے ایک ہی سمت چلتے ہیں۔ ڈونگی پارک میں اُترتے ہی لوگ ٹریک پر رواں ہو جاتے ہیں۔ یہ خواتین اس کے برعکس گراﺅنڈ کے اندر داخل ہوئیں۔ یہ عید کے چوتھے روز صبح چھ سوا چھ بجے کا واقعہ ہے۔ ابھی سورج نے اپنی کرنیں نہیں بکھیریں تھیں، گھاس پر اوس کے قطرے موتیوں کی طرح موجود تھے۔ یہ عورتیں گھاس پر چند قدم چلتے ہوئے رکیں، اپنے نقاب اٹھائے تو چہرے برقعے جیسے کالے کپڑے سے سوائے آنکھوں کے ڈھانپے ہوئے تھے ۔انہوں نے ایک ہی ایکشن میں نقاب اٹھایا اورپلک جھپکتے میں پھر گرا دیا۔ اس کے ساتھ ہی گراﺅنڈ کے بیچوں بیچ چلنا شروع کر دیا۔ اس پارک کے کبھی دو داخلی راستے ہُوا کرتے تھے، دوسرا حافظ سعید کی سکیورٹی کے باعث بندجزوی طورپر کر دیا گیا۔ اس انٹرنس کے ساتھ ہی مسجد توحید اور اس کے ارد گرد کہیں حافظ صاحب کا گھر ہے۔ جس کے گرد 2008ءکے ممبئی حملوں اور اس کا الزام حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں پر لگائے جانے کے بعدسکیورٹی ٹائٹ کرتے ہوئے پولیس تعینات کر دی گئی۔ حافظ صاحب کو نظر بندی کی صورت میں ان کا سرکاری عوضانہ،اعزازیہ یا خرچہ مقرر کر کے شاید یہیں رکھا جاتا ہے۔ پولیس کی اس پبلک پارک پر بھی نظر ہوتی ہے۔ پولیس سیر کیلئے آنے والوں کے معمولات میں مخل نہیںہوتی۔ ۔۔چند منٹ یہ خواتین مسجد کے سامنے کھڑی رہیں اور پھر چل دیں۔ یہ کوئی غیر معمولی باتنہیں تھی اس کا سیر کرنے والوں نے اگر نوٹس بھی لیا تو وہ سرسری سا تھا۔ وہ جس راستے سے داخل ہوئیں وہاں پہنچنے والی تھیں کہ پارک میں ایک ہلچل سی محسوس ہوئی، چند لمحوں بعد دیکھا کہ ایک بندوق بردار پولیس اہلکار اور ایک سول کپڑوں میں ملبوس نوجوان ان کی طرف بھاگتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی طرف متوجہ دو معززین نے بتایا کہ خواتین مسجد کی فوٹو گرافی کر رہی تھیں ان کے ساتھ دو مرد بھی تھے۔ پولیس اہلکار کے ساتھ جانے والا نوجوان جماعت الدعوة کا مجاہد تھا۔ انہوں نے اس قافلے کو روکا تو انہوں نے بتایا کہ وہ قریب ہی رہتے ہیں، کرائے کے گھر میں منتقل ہوئے دو تین ماہ ہوئے ہیں۔ ہم لوگ جہاں سیر کے لئے آئے تھے بچی نے اگر تصویر بنا لی ہے تو کیا ہُوا۔ یہ دونوں حضرات باریش تھے۔اس وقت تک مزید پولیس اہلکاراور ذمہ دار بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ پتہ چلا کہ موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو ڈیلیٹ کر دی گئی اور ان کو جانے دیا گیا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ پہلے یہ دو حضرات پارک میں داخل ہوئے، انہوں نے کلیرنس دی تو خواتین آگے بڑھیں۔ اس پارک سے عید سے قبل بھی ایک مشکوک شخص پکڑا گیا تھا۔
حافظ سعید کا بھارت کو مطلوب شخصیات کی فہرست میں سب سے اوپر نام ہے، وہ کشمیر میں حریت پسندی کو دہشت گردی کا نام دیکر اس میں لشکر طیبہ اور جماعت الدعوة کو ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ اس نے ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستان، آئی ایس آئی، حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں پر ڈالی تھی۔ بھارت نے دنیا میں اس حوالے سے اس قدر واویلا کیا کہ امریکہ جیسا ملک بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ اس نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورے کے موقع پر خود صدر اوباما نے بھارتی مو¿قف کی تائید اور وکالت کرتے کی۔ سینیئر امریکی حکام نے کہا کہ حافظ سعید کے بارے میں پاکستان کو ٹھوس ثبوت دے دئیے ہیں۔ پاکستان جماعة الدعوة پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کا احترام کرے۔
بھارت حافظ سعید کی سانسوں سے بھی خائف اور ان کو چھین کیلئے سرگرداں ہے، اس کی ایجنسیاں حافظ صاحب کے پیچھے لگی ہوئی ہیں۔ حافظ صاحب تک رسائی میں ناکام رہیں تو جماعةالدعوہ کے فعال رہنما خالد بشیر کو رواں سال مئی کے وسط میں لاہور سے اغوا کیا اورسفاکانہ طریقے سے قتل کر کے نعش شیخوپورہ نہر میں پھینک دی۔ان کے ناخن کھنچے ہوئے ، ہڈیاں ٹوٹی ہوئیںاور آنکھوں میں گولیاں ماری گئی تھیں۔قاتل گرفتار ہوئے۔ تحقیق اور تفتیش سے ثابت ہُوا کہ قتل کا ماسٹر مائنڈ دبئی میں اور پلاننگ ”را“ نے کی تھی۔ ”را“ جیسی ایجنسیاں ایسی کارروائیاں کرتی رہتی ہیں لیکن جو کچھ سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے کیا ایسا کوئی فوج نہیں کرتی۔ وی کے سنگھ نے حافظ سعید تک رسائی کیلئے فوج میں”ٹیکنیکل سروسز ڈویژن“ کے نام سے ایک یونٹ بنایاتھا۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سابق آرمی چیف وی کے سنگھ کی جانب سے 26 نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بنائے جانے والے انٹیلی جنس یونٹ (ٹیکنیکل سروسز ڈویژن) نے حافظ سعید کے قریبی ساتھیوں تک رسائی کے لئے پاکستان میں تعلقات قائم کررکھے تھے اور اس یونٹ نے پاکستان میں کئی خفیہ آپریشنز بھی کئے۔ سابق بھارتی آرمی چیف کا کہناہے کہ ہم حافظ سعید تک پہنچنے والے تھے کہ وہ یونٹ ختم کر دیا گیا۔ یہ یونٹ موجودہ بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے ان الزامات پر توڑا کہ اس میںکرپشن ہوئی ۔ سابق آرمی چیف کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے۔
اوباما نے حافظ سعید اور جماعت الدعوة کے خلاف پابندیوں کی بات بغیر تحقیق کے کر دی، شاید بھارت کو خوش کرنا مقصود تھا۔ عالمی سطح پر حافظ سعید اور ان کے متعدد ساتھیوں پر پابندی ہے، ان کی جماعت کے اکاﺅنٹس نہیں کھل سکتے، اسلحہ لائسنس کا اجرا ممنوع اور ٹریولنگ پر پابندی ہے۔ پاکستان میں بھی ان عالمی پابندیوں کا اطلاق ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جماعت الدعوة کو دینی جماعت قرار دیا گیا ہے اس رو سے اسے اجتماعات اور فنڈ اکٹھا کرنے کی اجازت بھی ہے۔ بہرحال حکومتی اور جماعتی سطح پر حافظ سعید کی ممکنہ حد تک حفاظت کی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھارت کی تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ بھارت نے زیادہ زور دیا تو امریکہ شاید ڈرون برسانے پر آمادہ ہو جائے۔ پاکستان کی طرف ایسا اقدام ہضم نہ ہونے کے خدشے کے باعث شاید امریکہ بھارت کی محبت میں اس حد تک نہ جائے۔ بھارت البتہ دیگر ذرائع استعمال کر سکتا ہے اور یقیناً کر بھی رہا ہو۔
آج دنیا کی چار ارب میں سے ایک تہائی آبادی مسلمانوں کی ہے اگر غداری کا عنصر مائنس ہوتا تو بلاشبہ آج یہ آبادی نصف سے زیادہ ہوتی۔ حافظ صاحب کا حفاظتی حصار بڑا مضبوط ہے ۔دشمن اس میں نقب لگانے کی کوشش کر رہا ہو گا۔ غداروں کی خدمات کے بغیر دشمن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جماعت الدعوة کو حفاظتی حصار کی ایک ایک اینٹ پر ہمہ وقت نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اینا سنوڈن معاشقھ


27-10-13....SUNDAY MAGZINE
روسی اور امریکی جاسوسوں اینا اور سنوڈن کے معاشقے کی پروان چڑھتی داستان
٭ماتا ہری کو اس کے شوق ،کسی اور جذبے یا حالات نے پہلی جنگ عظیم میں جاسوسہ بنا دیا
 ٭بندا ماتا ہری کی اکلوتی بیٹی تھی جو ماں ہی کی ڈگر پر چل نکلی اور اسی کے انجام سے دوچار ہوئی 
 ٭سوسال بعد ماتا ہری کے ٹرائل کے حقائق افشاءکردئیے جائیں گے ۔یہ 100سال 2017 میں ٭پورے ہورہے ہیں۔
٭سنوڈن نے امریکہ میں شہریوں کی جاسوسی کا راز فاش کیا اور بھاگ کر روس میں پنا ہ لینا پڑی
٭سابق روسی جاسوسہ اینا نے سنوڈن کو شادی کا پیغام بھجوادیا۔اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

جاسوسی یقینا ایک مہم جوئی بھی ہے ۔ایسی مہم جوئی کا شوق تو کئی لوگ پالتے ہیں لیکن عملی زند گی میں قدم رکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس شوق میں انسان کا سکون ہی غارت نہیں ہوتا جان ہمہ وقت ہتھیلی پر رہتی اورچلی بھی جاتی ہے ، کئی لوگ ایک دوسرے کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لگائی بجھائی کرتے ہیں۔وہ اس کو بھی جاسوسی کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ جاسوسی نہیں لعنت ہے جس کا عکس ان کی شکلوں سے بھی عیاں ہوتاہے ۔ایجنسیوں کے مخبر اور پولیس کے ٹاﺅٹ بھی خود کو لارنس آف عریبیہ ،ہیمفرے اور ماتا ہری جیسا جاسوس گردانتے ہیں حالانکہ ان کی حیثیت کرائے کے ٹٹو سے زیادہ نہیں البتہ جو واقعتا ملکی و قومی مفاد اور انسانیت کی بھلائی کے پیش نظر دین دشمن اور وطن فروشوں کی سرگرمیوں سے متعلقہ اداروں کو آگاہ کرتے ہیں وہ بے نام ہوتے ہوئے بھی قابلِ احترام ہیں۔
ماتا ہری کو اس کے شوق ،کسی اور جذبے یا حالات نے پہلی جنگ عظیم میں جاسوسہ بنا دیا۔ اس کا اصل نام مارگریتھا جیرٹ روئی ڈازیلے ہے۔ولندیزی انڈونیشی مخلوط النسل رقاصہ بنیادی طور پر جرمنی کی جاسوسہ تھی لیکن نہایت چالاکی سے فرانس اور جرمنی کی جاسوسی دونوں دشمن ممالک کے لیے کرنے لگی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اس نے فرانسیسی اور اتحادیوں کے اہم جنگی راز جرمنوں تک پہنچائے۔ ماتا ہری رقص کے دوران جب لبادہ کھول دیتی تو اس سے فرانسیسی افواج کو یہ اشارہ ملتا کہ جرمن فوج فرانس پر ٹینکوں سے حملہ کرنے والی ہے ۔اگر وہ جسم کے کسی اور کپڑے کو اتار کر ہوا میں بلند کر دیتی تو اس سے یہ اشارہ ملتا کہ جرمن فوجیں ہوائی حملہ کرنے والی ہیں۔ ماتا ہری کا فرانس میں ٹرائل ہوا، سزا سنائی گئی اور اپنے دور کی ہوشربا حسینہ اور دلربا رقاصہ کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کے گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ٹرائل کے دوران جو کچھ سامنے آیا وہ دنیا سے مخفی رکھا گیا تاہم یہ کہا گیا کہ سوسال بعد ماتا ہری کے ٹرائل کے حقائق افشاءکردئیے جائیں گے ۔یہ 100سال 2017 میں پورے ہورہے ہیں۔
ماتا ہری نے 1910ء میں جزیرہ بالی میں ایک بچی کو جنم دیا جس کا نام بندا رکھا گیا۔ بندا ماتا ہری کی اکلوتی بیٹی تھی۔ جسے ماتا ہری صرف ڈیڑھ سال کی عمر میں ایک عزیز رشتے دار کے سپرد کر کے پیرس چلی گئی۔ پھر کبھی ان ماں بیٹی کی ملاقات نہ ہوئی۔ بندا کو اپنی ماں کی شکل تک یاد نہیں تھی۔ بس اسے اتنا معلوم تھا کہ اس کی ماں ایک کلب ڈانسر تھی۔ جس کے ڈانس کی شہرت بہت دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ماں کا
 ایک خط تھا ۔ ماتا ہری نے اسے خط میں تاکید کی تھی کہ وہ کسی کو بھی نہ بتائے کہ وہ ماتا ہری کی بیٹی ہے۔بندا اپنی ایک منہ بولی خالہ کے پاس رہتی تھی۔ اسے اسی خالہ نے ہی پالا تھا۔بالآخر وہ بھی اسی ڈگر پر چل نکلی جس پر چل کر اس کی ماں انجام کو پہنچی تھی۔اس نے بھی کئی ممالک کے لئے جاسوسی کی۔ بالآخرشمالی کوریا میں اسے امریکہ کی جاسوسہ کے طور پر گرفتار کرلیا گیا اور پھر بندا کو کوئی مقدمہ چلائے بغیر فوجی فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر جس مہینے، جس تاریخ اور جس وقت ماتا ہری کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کیا گیا تھا، ٹھیک اسی مہینے اسی تاریخ اور اسی وقت اس کی بیٹی بندا کو بھی فائرنگ کرکے بھون دیا گیا۔
آج ایڈورڈ سنوڈن کی صورت میں جاسوسی کی ایک نئی داستان سامنے آئی ہے جس میں جرات،خطرات ،سنسنی اور رومانس سب کچھ موجودہے ۔ 29 سالہ ایڈورڈ سنوڈن کی پرورش جنوبی کیرولائنا کے شہر الزبتھ میں ہوئی۔اس کے بعد میری لینڈ میں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی’این ایس اے‘ کے ہیڈکوارٹرز کے ساتھ فورٹ میئڈ منتقل ہوگئے۔ایڈروڈ سنوڈن نے میری لینڈ کے کمیونٹی کالج سے کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کی تاکہ ہائی سکول کا ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے ضروری کریڈٹ آورز حاصل کر سکیں لیکن انہوں نے اپنا کورس مکمل نہیں کیا۔انہوں نے سال دو ہزار تین میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور سپیشل فورسز کے ساتھ تربیت شروع کی لیکن تربیت کے دوران ان کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں جس پر انہیںاس فورس سے الگ ہونا پڑا۔انہوں نے اپنی پہلی نوکری نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے میری لینڈ یونیورسٹی میں واقع خفیہ مرکز میں گارڈ کے طور پر شروع کی اور اس کے بعد خفیہ ایجنسی سی آئی اے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی کے شعبے میں کام کیا۔ جہاں اس کے فرائض میں اپنے ہی شہریوںکی جاسوسی کرنا شامل تھا،ایک موقع پر وہ اپنے کام سے دلبرداشتہ ہوگیااور تمام خطرات مول لیتے ہوئے اس نے اپنی حکومت کی ایسی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔2013ء کے اوائل میں سنوڈن نے گارجین کے اخبار نویس گلن گرینوالڈ کو پیغام بھیجا کہ اس کے پاس امریکی جاسوسی کے بارے میں مواد ہے مگر وہ صرف پی جی پی کے ذریعے سے رابط کرنا چاہتا ہے۔ گرینوالڈ اس طریقہ سے نابلد تھا، چنانچہ رابطہ میں تاخیر ہوئی تو سنوڈن نے گارجین اور واشنگٹن پوسٹ کو 41صفحات پر مشتمل مواد بھیج دیا۔ دونوں اخباروں نے امریکی سرکار سے رابطہ کیا اور صرف دو تین صفحات شائع کرنے کی جراءت ہی کر سکے۔ سنوڈن کی سرگرمیوں کا بھانڈہ پھوٹا تو وہ ہوائی سے ہانگ کانگ چلا گیا۔ جہاں اس نے گریندوالڈ سے ملاقات کی۔ امریکی حکام نے سنوڈن پر جاسوسی کی فردِ جرم عائد کرتے ہوئے اس کا گزرنامہ منسوخ کر دیا۔ تاہم سنوڈن ہانگ کانگ سے ماسکو فرار ہو گیا، جہاں اس نے 21ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ امریکہ کے دھمکانے پر اکثر ممالک نے حامی نہ بھری تاہم لاطینی امریکاکے دو ممالک نکاراگوا اور وینزویلا کے صدور نے سنوڈن کو سیاسی پناہ دینے کی پیشکش کی مگردبے الفاظ میں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سنوڈن کو پناہ دینے کے لئے راضی ہیں۔ سنوڈن نے روس میں پناہ کی درخواست کی جس پر امریکی حکومت نے روس کو باز رہنے کو کہا اور یقین دلایا کہ سنوڈن کو وطن واپسی پر اذیت دی جائے گی نہ ہی سزائے موت، اس لیے پناہ کی درخواست مسترد کر کے اسے ہمارے حوالے کردیا جائے ۔اس پر روسی صدر پیوٹن نے جواب دیا کہ روس اپنے ہاں پناہ لینے والے کو دوسرے ملک کے حوالے نہیںکرتا اور نہ کسی نے کسی کو کبھی روس کے حوالے کیا ہے۔جولائی2013ءمیں سنوڈن کو روس نے امریکی مخالفت کے باوجود پناہ دے دی۔
 یہ بات قابل غور ہے کہ سنوڈن نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا؟کیا سنوڈن کے دل میں عام شہریوں کے لئے اتنادرد تھا کہ اس کے لئے اس نے اپنی زندگی اور اپنی خوشیاں داﺅپر لگادیں یا پھر وہ کسی کے مفادات کے لئے کام کررہا تھا؟ امریکا نے اسے ایک غدار کہا ۔ان سوالوں کے جواب میں سنوڈن کا کہنا ہے” میں چاہتا ہوں کہ ہر شہری ایک آزادانہ زندگی بسرکرے۔میں ایسے معاشرے میں نہیں رہنا چاہتا جہاں اس قسم کا کام کیا جائے۔میں ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر وہ چیز جو میں کروں یا کہوں اس کو ریکارڈ کیا جائے۔امریکا نہ صر ف اپنے شہریوں بلکہ دیگر ممالک کی خفیہ دستاویز کی نگرانی بھی کرتا ہے۔اس میں پاکستان کے علاوہ ایران اور چین بھی شامل ہیں۔ سی آئی اے نے ایران اور چین کی ای میلز بھی ہیک کیں تاکہ ان کی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کی جاسکے۔اس سکینڈل کو تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈ ل قرار دیاجارہا ہے۔ میں اپنے کئے پر پشیمان نہیں ہوں۔آزادی ہر شخص کا حق ہے اور کوئی بھی حکومت اس سے اس کا یہ حق نہیں چھین سکتی۔ میں نے جنیوا میں جو زیادہ تر دیکھا، اس نے واقعتاً مجھے اس فریب سے باہر نکال دیا کہ کس طرح میری حکومت کام کرتی ہے اور اس کا دنیا پر کیا اثر ہوتا ہے۔مجھے اندازہ ہوا کہ میں ایک ایسی چیز کا حصہ ہوں جس کا فائدے کی بجائے بہت زیادہ نقصان ہے۔میں نے عوام میں جانے کا پہلے فیصلہ کیا تھا لیکن یہ دیکھنے کے لیے انتظار کیا کہ آیا سال دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں صدر اوباما کے آنے کے بعد امریکہ کے نقطہ نظر میں تبدیلی آتی ہے لیکن صدر اوباما نے اپنے پیشرو کی پالیسوں کو جاری رکھا“
سنوڈن کو امریکی شہریوں کی طرف سے متضاد رد عمل اور آرا کا سامنا ہے۔کئی لوگ اس اقدام سے خوش اور اسے اپنا ہیرو مانتے ہیں۔دوسری طرف ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کیلئے حکومت کو کچھ بھی کرنے کا حق ہے اور انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں۔یورپی یونین نے اس غلط حرکت پر امریکا سے وضاحت طلب کی جس پر نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے دہشتگردی کے کئی واقعات ناکام بنائے گئے ہیں اور ایسا شہریوں کی حفاظت کے لئے کیاگیا۔ سنوڈن کی اس درجہ پزیرائی ہورہی ہے کہ ان کی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کے ساتھ یورپ میں انسانی حقوق کے ایک بڑے انعام سخاروف کے لیے نامزد گی ہوئی تھی ۔یہ انعام خواتین کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے کوشاں پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے جیت لیا ۔یورپی پارلیمان میں گرین گروپ سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے ایڈورڈ سنوڈن کو امریکی جاسوسی نظام کے بارے میں راز افشا کرنے پر اس انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔سنوڈن کی نامزدگی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی طرف سے امریکہ کے جاسوسی کرنے کے اقدام کے بارے میں راز افشا کرنا انسانی حقوق اور یورپی شہریوں کی ایک بڑی خدمت تھی۔آزادیِ اظہار کے لیے دیا جانے والا یورپی یونین کا یہ ایوارڈ روسی ماہرِ طبیعیات آندرے سخاروف کی یاد میں دیا جاتا ہے۔پچاس ہزار یورو مالیت کا یہ ایوارڈ یورپ میں حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا ایوارڈ مانا جاتا ہے۔
اس سارے قصے میں کس کا کیا مفاد تھا ؟ اس پر بحث ہوتی رہے گی ۔ مگر ایک سابق روسی جاسوسہ اور آج کی معروف ماڈل اینا چیپمین کے سنوڈن سے شادی کے پروپوزل نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ایک ہفت روزہ میں رابی خالد سنوڈن اینا کے پوان چڑھتے معاشقے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ؛۔اینا کو اپنے خوابوں کا شہزادہ مل گیا اس نے کیسے یہ جا ن لیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے ساتھ وہ اپنی زندگی کو بانٹ سکتی ہے۔ اس نے دیکھا ، سنا اور یکا یک اس کے درِ دل پر دستک دے دی ۔یہ کہانی کسی فلم کی نہیں نہ ہی کو ئی افسانہ ہے بلکہ یہ آج کے عالمی تناظر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبروں میں سے ایک ہے اب اس خبر کو پڑھنے والے آگے کیا ہوا کے اشتیاق میں مبتلا ہیں۔دونوں کا شوق ایک،کام ایک ہے سو اس کے ساتھ ایک ہی لڑی میں پروئے جانے کے لیے روسی دوشیزہ بے قرار ہے۔ د نیا کے سب سے آزاد خیال اور لبرل ملک امریکا کی جانب سے شہریوں کے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ ریکارڈ کئے جانے کے راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرروس کی سابق جاسوسہ ،آج کی ماڈل اور اداکارہ اینا چیمپین نے شادی کا پروپوزل دیا ہے اور اسے ایک ہیرو مخاطب کرتے ہوئے یہ پیغام چھوڑا ہے کہ وہ امریکا کی نظر میں غدار سہی لیکن اس کے لئے ایک ہیروہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔اینانے لکھا ہے کہ وہ سنوڈن سے بہت متاثرہے اور اسے خوشی ہوگی اگر وہ اس سے شادی کرلیں۔
اینا چیپمین کی اس پسند کے پیچھے یقینا کچھ ایسے راز اور کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ان دونوں میں مشترک ہیں۔اینا2010میں نیویارک میں ایک سٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام کررہی تھیں۔وہ روس کے لئے امریکا کی جاسوسی کرتی تھیں۔امریکانے جاسوسی کے الزام میں انہیں گرفتار کیااورکئی روز تک زیر حراست رکھا۔ان کی گرفتاری کی کہانی ابھی ایسی ہی ڈرامائی ہے۔ایف بی آئی کو شک ہوا کہ اینا ایک جاسوس ہے۔اس کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اپنا ایک ایجنٹ جاسوس بنا کر اس کے پاس بھیجا جس نے ایناکوایک پاسپورٹ دیا اور کہاکہ اسے دوسرے جاسوس تک پہنچا دے۔اینا نے وہ پاسپورٹ قبول کرلیا اورکہا کہ وہ یہ ضرور پہنچا دے گی۔اس طرح یہ بات کھل گئی کہ اس کا تعلق اسی گروپ سے ہے جو امریکا کی جاسوسی کررہا ہے۔اینا کو حراست میں لے لیاگیا اور پھر کچھ عرصے بعد قیدیوں کے تبادلے کی صورت میں ڈی پورٹ کردیاگیا۔وطن واپسی کے بعد اینا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اپنے ملک کے لئے کام کررہی تھیں۔روس واپس جا کر اینا نے ماڈلنگ کو اپنا پیشہ بنایا اورماڈلنگ کے ساتھ ساتھ وہ ایک ٹی وی شو بھی کرتی ہیں۔انہوں نے سنوڈن کو یہ آفر بھی کی ہے کہ وہ ان کے شو میں اپنا موقف دے کر اپنی پوزیشن کلئیر کرسکتے ہیں۔
23فروری1982کو روس میں پیدا ہونے والی اینا چیپمین کے والدنیروبی میں سوویت ایمبیسی میں ملازم تھے۔اینا نے ماسکو یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز کیا اور پھر2010 میں نیویارک چلی گئیں۔وہاں ان کی ملاقات الیکس چیپمین سے ہوئی۔دونوں کے درمیان روابط بڑھے اور انہوں نے شادی کرلی۔اس شادی کے نتیجے میں اینا کوبرطانوی پاسپورٹ اور دہری شہریت بھی مل گئی جس سے انہیں اپنے ملک کے لئے کام کرنے میں آسانی ہوگئی لیکن یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔جب ایناکو امریکا کی جاسوسی کے الزام میں دھرلیا گیا تواس وقت روسی حسینہ سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں اور ان کی تصاویر نے دنیا بھر کے اخبارات میں تھرتھلی مچا دی تھی۔اب ایک اور تھرتھلی دیکھئے دو جاسوسوں کی شادی کی صورت میں کب مچتی ہے۔آپ کا کیا خیال ہے کہ سنوڈن اپنے وطن کا غدار ہے یا وفادار میں تو ان لوگوں کے خیالات کا حامی ہوں جو سنوڈن کو اس کے ملک کا غدار سمجھتے ہیں۔











Wednesday, October 23, 2013

شیرانِ شیر

شیرانِ شیر


شیرانِ شیر


 آج پاکستان سے کرغیزستان امریکہ برطانیہ اور سعودی عرب تک شیر چھائے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں تو شیروں کی حکومت ہے۔ شیرانِ شیر میاں محمد نواز شریف امریکہ کے دورے پر ہیں ۔حمزہ شہباز کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں تھے ۔ اس حوالے سے 22اکتوبر کو اخبارات میں چھوٹی سی خبر کچھ یوں شائع ہوئی۔’’وزیر اعظم محمد نواز شریف نے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف کو بشکیک میں 22اور 23اکتوبر کو منعقد ہونیوالے دور روز گلوبل سنولیپر ڈکنزرویشن فورم میں شرکت کرنیوالے وفد کا سربراہ مقررکیا ہے۔ اس عالمی کانفرنس کا مقصد برفانی چیتوں کی نسل کو ماحولیاتی تحفظ سے متعلق درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآہونا ہے۔‘‘ چونکہ ہم پہلے سے ہی نفرین یا تحسین کا ذہن بنائے بیٹھے ہوئے ہیں چنانچہ پہلی نظر میں لگا حمزہ شہباز کو خانہ پُری کیلئے اس فورم میں شرکت کیلئے بھیجا جارہا ہے۔ Conspiracy Theory (سی ٹی )شائد اسی کو کہاجاتا ہے۔ یہاں پاکستان میں گرمی سے جانور تو کیا انسان بھی جھلس جاتے ہیں وہاں برفانی چیتے کا وجود اور پھر اسکے تحفظ کے اقدامات اور عالمی کانفرنسوں میں شرکت کوایک ڈرامہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ تھوڑی سی تحقیق کی تو حقیقت بڑی دلچسپ اور دلکش نکلی۔ پاکستان تاریخی اور حسین مقامات کی طرح خوبصورت اورانمول جانوروں اور چرند پرند کی بھی سرزمین ہے۔ پاکستان ان بارہ ممالک میں شامل ہے‘ جہاں برفانی چیتے پائے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک افغانستان، بھوٹان، چین، بھارت، قازقستان، کرغیزستان، منگولیا، نیپال، تاجکستان اور ازبکستان ہیں ۔
 چیتا بھی عجیب جانور ہے ۔چیتا شکار کرتا ہے تو اس کا زیادہ تر انحصار رفتار پر ہوتا ہے جو 120 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ رفتار کرہ ارض پر اور کوئی جانور نہیں پا سکتا۔ چیتا 0 سے 100کلومیٹر کی رفتار صرف 3.5 سیکنڈ میں (Pick) حاصل کر لیتا ہے۔اس کی کھال خوبصورت اور قیمتی ہونے کی وجہ سے اس کا غیر قانونی طور پر شکار کیا جاتا ہے۔ موجودہ پابندیوں اور سختیوں کی وجہ سے اسکے شکار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن افریقہ میں غربت کی وجہ سے پھر بھی کچھ شکاری پکڑے جانے کا خطرہ مول لیتے ہوئے ان خوبصورت جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔آئی سی یو این کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برفانی چیتے کی نسل میں کمی کے اسباب میں مویشیوں کی چراگاہوں میں اضافہ، انکے رہائشی علاقوں میں کمی، مناسب شکار کے جانوروں کی آبادی میں کمی، ادویات کی تیاری کے لیے اسکے اعضاء کی غیر قانونی تجارت اور کھال کے حصول کے لیے اس کا شکار شامل ہے۔
ایک اور سی ٹی کہ نواز حکومت کا چونکہ انتخابی نشان شیر ہے اس لئے وہ شیروں کے تحفظ کیلئے زیادہ ہی سرگرم ہے۔اسے انتخابات میں مشہوری کیلئے شیر درکار ہیں۔برفانی چیتا پاکستان کی آب و ہوا کے حوالے سے اس مقصد کیلئے استعمال نہیں ہوسکتا۔برفانی علاقے سے ایک بچہ ملا تھا جسے چڑیا گھر میں اے سی لگا کررکھا گیا لیکن وہ پھر بھی بچ نہ سکا۔ سنا ہے کہ ن لیگ کا کام کچھ جانثار اصلی شیروں سے بڑھ کر کردیتے ہیں۔ ہر ایم این اے اور ایم پی اے وزیر بنناچاہتا ہے۔میرٹ پر آنے کیلئے اگلے انتخابات کا انتظار اور ایک ایک کھال کا انتظام کر رکھیں‘ ایک سیالکوٹی جنگلے میں شیر کی طرح ایسے دھاڑتا رہا کہ اپنی آواز بھی بھول چکاہے۔
ایک برفانی چیتا پاکستان اور امریکہ کے مابین خیر سگالی اور تعلقات کی بہتری میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور کرتا ہی جا رہا ہے۔ تفصیل اسکی یوں ہے کہ چیتے کا ایک بچہ جولائی 2005 ء میں ایک چرواہے نے گلگت سے پینتیس کلو میٹر دور نلتار نامی گاؤں سے پکڑا گیا تھا۔ پاکستان میں اسکی حفاظت اور پرورش کا کوئی انتظام نہیں تھا اس لئے چھ ہفتے کے لیو کو امریکہ کے حوالے کردیا گیا جسے نیویارک کے برونکس(Bronx) چڑیا گھر میں رکھا گیا۔ اس بچے کی آمدکی خبر نے آپ وقت امریکہ میں ہلچل مچا دی تھی اور اب ایک مرتبہ پھر جب وہ صاحبِ اولاد ہوا تو خبروں موضوع بن گیا ۔’’دوہری شہریت کے حامل پاکستانی چیتے کے ہاں ننھے چیتے کی پیدائش کی خبر شہرت یافتہ اخبار نیویارک ٹائمز نے ان پر مسرت الفاظ میں دی’’اس موسمِ بہار میں برونکس کے چڑیا گھر میں پیدا ہونیوالے پانچ ماہ کے برفانی چیتے کے سترہ پونڈ وزنی بچے کو( اکتوبر کے پہلے ہفتے) نمائش کیلئے پیش کر دیا گیا۔ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ لیو کا مایا نامی شیرنی کے ساتھ جوڑا بنایا گیا تھا جس کے بعد اپریل میں یہ بچہ پیدا ہوا۔ انجم نیاز کے مطابق پاکستان میں امریکہ کے سفیر مسٹر رچرڈجی اولسن نے ایک بیان میں کہا ’’جب کہ یہ بچہ برونکس چڑیا گھر میں ہے، ہم امید کر سکتے ہیں کہ اسکی امریکی سرزمین پر موجودگی دونوں ممالک اور انکے عوام کے درمیان دو طرفہ تعاون اور تعلقات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گی۔‘‘واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے نگران افسر ڈاکٹر اسد محمد خان نے اپنے بیان میں کہا ’’ہمیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان سے لایا گیا برفانی نر چیتا ایک بچے کا ’’باپ‘‘ بن گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور خیر سگالی کے جذبے کی علامت قرار پائے گا۔ ‘‘اگر ایسا ہی ہے تو پھر حکومتِ پاکستان کو اسے Do more کی ہدایت یا درخواست کرنی چاہیے۔ نواز شریف صاحب ابھی امریکہ میں مزید ایک دو روز رکیں گے۔ اس دوران ٹائیگر ڈپمومیسی کو بھی بروئے کار لا سکتے ہیں۔ حمزہ شہباز کے حوالے سے یہ انکشاف بھی مذکورہ خبر میں موجود تھا کہ وہ جنگلی حیات سے وابستہ ہیں اور چیتے کے حملے کے شکار لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ کئی لوگ انکو صرف مرغی خوراک ہی سے وابستہ سمجھتے تھے۔ سیاست میں اعلیٰ مرتبہ اور اولیٰ درجہ حاصل کرنے کے بعد حمزہ کو ایسے کاروبار سے اجتناب کرنا چاہئے‘ اس سے منافع تو ہورہا ہے لیکن کہیں زیادہ شہرت کو نقصان پہنچ رہا ہے اس سے بہتر تو ہے کہ وہ مرغ لڑانے لگیں۔




ڈرونز اور ڈالرز

ڈرونز اور ڈالرز

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
22 اکتوبر 2013 0

وزیراعظم میاں نوازشریف پاکستان سے روانہ ہوکر ابھی امریکہ پہنچے نہیں تھے کہ دورے کی ’’کامیابی‘‘ کا آغاز امریکہ کی طرف سے 1.6 ارب ڈالر کی فوجی و اقتصادی امداد کی بحالی کے اعلان سے ہوگیا۔ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کیخلاف فوجی آپریشن کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہو نے پر امریکہ نے یہ امداد بند کردی تھی۔ ابھی مزید نوازشات اور عنایات بھی فاقہ مست رعیت کے حکمران کے دامن سے لپٹنے کیلئے بے کل ہیں۔ دورے کی عرش معلی کو چھوتی ہوئی کامیابی کا احوال نمک خوارانِ شہِ اسلام آبادجس جلال اور کمال سے بیان کریں گے وہ قابل دید و شنید ہوگا۔ وزیراعظم نے بارہا ایڈ نہیں ٹریڈ کا عزم ظاہر کیا اس کے پیش نظر تو انہیں 1.6 ارب کی ایڈ کو ٹھکرا دینا چاہیے۔ اگر یہ ہماری خدمات کا معاوضہ ہے تو پھر ہم کرائے پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے لیکن ہم اسے تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
میاں نوازشریف کا امریکی دورے کے حوالے سے دو باتوں پر زور رہا، امریکہ چاہے تو مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے ۔ ڈرون حملوں کا معاملہ ایجنڈے میں سرِ فہرست ہے ۔ امریکی حکام کی طرف سے باور کرایا گیا کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل کریں۔ میاں صاحب کی طرف سے اس بیان پر بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کا پارہ بھی منموہن کی طرح چڑھ گیا۔ منموہن نے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ اور اس پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی متروک قرار دیا تھا۔ سلمان خورشید نے بھی منموہن کا بیان دہرا تے ہوئے مزید کہا کہ وہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔ کشمیر بھارت کا حصہ ہے‘ اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اب پاکستان کوکچھ اور ہی کرنا پڑیگا۔کیا؟ جو قائداعظم نے انگریز آرمی چیف کو کرنے کا حکم دیا تھا۔ آج ’’قائداعظم ثانی‘‘ کے حکم کی آرمی چیف سرتابی نہیں کرسکتا۔ڈرون حملے رکوانے کے لئے پاکستان میں ہر سطح پر واویلا کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف یہ بند کرانے پرکے لئے پریشر ہے۔ وہ اوباما سے اس معاملے پر بات کرنے کا بھی کہہ چکے ہیں۔ اس سب کے باوجود آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود اور اہم ہے ’’کیا حکومت ڈرون حملے بند کرانا چاہتی بھی ہے؟‘‘جب ڈرون حملوں پر اُس وقت بھی عسکری و سیاسی قیادت احتجاج کرتی، انہیں پاکستان کی سالمیت کے خلاف قرار دیتی تھی جب ڈرون پاکستان کے اندر سے ہی ایندھن اور اسلحہ سے لیس ہو کر اڑتے تھے۔ یہ سلسلہ 26 نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے جس میں پاک فوج کے 24 سپوت شہید ہوئے کے بعد بیسز خالی کرانے تک جاری رہا۔پاک فوج فاٹا میں شدت پسندوں کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے۔دونوں قتال میں کوئی رو رعایت نہیں کرتے۔ جن کو فوج مار رہی ہے ڈرون بھی ان پر برستے ہیں۔ ڈرونز اور پاک فوج کا جب ٹارگٹ ایک ہے تو پھر اس پر اعتراض اور احتجاج سے کیا مطلب لیا جائے۔ ایبٹ آباد کمشن کو اس وقت کے ڈی جی ‘آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ ڈرون حملے غیر قانونی ہیں لیکن یہ پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ جنگ کے دوران آپ کے گلے کو دشمن آیا ہو اور اسے اس کا دشمن مار ڈالے تو دشمن کا دشمن دوست ٹھہرتا ہے۔یہاں اس حقیقت سے انکار کیوں؟ نواز حکومت قوم کو وہ لکیر دکھا دے کہ اس کے بعد ڈرون حملے پاکستان کے مفادات کے خلاف تھے۔ برطانوی جریدے ’’اکانومسٹ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے ’’حکومت پاکستان نے سی آئی اے کے پروگرام کو اپنی خفیہ آشیرباد دے رکھی ہے۔ پاکستانیوں کی ایک حیرت انگیز تعداد قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے حق میں ہے جن کا مؤقف ہے ڈرون طیارے ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔‘‘
ایک طبقہ آج بھی بہ ا صرار اور تکرار کرتا ہے کہ ڈرون حملے حکومت کی رضا مندی سے ہو رہے ہیں۔ اوباما نواز ملاقات میں اس پر کوئی خاطر خواہ بات نہیں ہوگی۔ اعلامیہ میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ میاں صاحب اس پر کچھ ہٹ کر فرمائیں یا پاکستان میں بیٹھے ان کے ترجمان بتائیں اس پر وہی اعتبار کریں گے جو موجودہ اور سابق حکمرانوں کو ڈرون حملے رکوانے میں ’’ مخلص ‘‘سمجھتے ہیں۔اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ ایک کالم کار نے ادارہ بدلنے کا قصد کیا۔
نئے ادارے کے مالک نے انٹرویو کیا، پہلے سے تین گنا معاوضے کی پیش کش کی ۔ اس پر کالم کار بولے۔’’ فلاں کو تو آپ 6 لاکھ فلاں کو8 لاکھ دیتے ہیں۔ میں تو بہت بڑا کالم نگار ہوں، مجھے کم کیوں؟ مالک نے کہا کہ آپ باہر جا کر بارہ لاکھ بھی بتا دیں تو ہمیں اعتراض نہیں ہوگا۔ اوباما نوازملاقات میں جو بھی طے ہو باہر آکر وہ جو بھی بتائیں اوباما کو کیا اعتراض ہوگا۔ یہی ہوتا آیا ہے، یہی ہو رہا ہے اور ہماری مروجہ جمہوریت اور سیاست میں آئندہ بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ اندرونی طور پر دہشت گردی نے ملک وقوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نواز حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے عفریت سے نجات چاہتی ہے۔ طالبان گروپوں کی تعدادجنر ل حمید گل کے بقول 30 ہے ان میں سے پانچ پاکستان دشمن بیرونی قوتوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ ایسے گروپ بھی ہیں جو خودکش بمبار فروخت بھی کرتے ہیں۔
 اکتوبر 2008ء میں بھکر میں ایک ایم این اے کے ڈیرے پر خودکش دھماکے میں 30 افراد مارے گئے۔ ایک ٹی وی پر تھانیدار کا انٹرویو نشر ہوا اس نے ہولناک انکشاف کیا کہ یہ دو پارٹیوں کے درمیان پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا۔ رقم شاید ڈیڑھ کروڑ روپے کی تھی۔ جس پارٹی نے رقم دینی تھی اس نے بجائے اتنی زیادہ رقم دینے کے وزیرستان سے ایک عدد خود کش بمبار خرید لیا۔طالبان کے مذاکرات کے لئے جو مطالبات سامنے آرہے ہیں بادی النظر میںفوج اور حکومت ان کے سامنے سرنڈر نہیں کرسکتی۔ طالبان آپ کے آئین کو سیکولر سمجھتے اور اس آئین کے تحت مذاکرات سے بار بار انکار کرچکے ہیں۔کیا آئین میں طالبان کی منشاء کے مطابق ترمیم ممکن ہے؟ دہشت گردی کا خاتمہ مذاکرات سے ممکن ہے اور نہ اس جنگ سے جو جاری ہے۔ پھر دہشت گردی ختم کیسے ہو؟ یہی حکمرانوں کی صلاحیت، سوچ اور اہلیت کا امتحان ہے۔