About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, November 6, 2013

اہلیت اورکنفیوژن

اہلیت اورکنفیوژن 

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
07 نومبر 20130
Print  
اہلیت اورکنفیوژن
ہم اپنے گردوپیش کا جائزہ لیں‘ حالات کو دیکھیں‘ اپنے اوپر جو بیت رہی ہے‘ اس پر سوچیں تو لگتا ہے کہ ہمیں آج ہی آزادی ملی اور ہمیں کٹا پھٹا، زخموں سے چور ملک تھما دیا گیا ہے جس کی ہر کل کو سیدھا کرنے کی ضرورت ہے۔ اوپر سے قیادت ایسی کہ اس سے اپنی تمبی اور دھوتی سنبھالے نہیں سنبھل رہی۔ دانشوروں کی رائے میں ہمارے مسائل کی جڑ ہی قیادت کا فقدان ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کرپٹ تھی۔ کرپشن میں ہی اس نے اپنی اہلیت ثابت کی۔ ملک میں انارکی کی بنیاد اس کرپشن سے پڑی۔ آج کے حکمران اپنے پیشروؤں کے درجے کے کرپٹ تو نہیں ہیں تاہم ملک چلانے کیلئے جس اہلیت ،قابلیت اور وژن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے بڑی حد تک تہی دامن ہیں۔ انہوں نے توانائی کی قلت کو دور کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کو باالترتیب اپنی پہلی اور دوسری ترجیح قرار دیا تھا۔ آج دونوںسون چڑی بن چکی ہیں۔ انرجی بحران میں کمی کے بجائے تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اندھا دھند اضافہ کر دیا گیاجس سے فطری طور پر ہر چیز کی قیمت بڑھنا تھی۔ حکمرانوں کی دلچسپیوں اور عوامی مسائل سے لاتعلقی کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے میدان خالی دیکھا تو عوام کی چمڑی ادھیڑنے لگے۔ عام آدمی کیلئے زندگی کی گاڑی کا پہیہ رواں رکھنا سہل نہیں رہا۔ ٹماٹر ڈیڑھ سے اڑھائی سو روپے، آلو 100 روپے کلو ہوگئے ۔بلاشبہ ان کا استعمال ناگزیر نہیں ہے۔ 60روپے کلو کے پیاز کے بغیر بھی سانسیں چل سکتی ہیں۔ روٹی تو بنیادی ضرورت ہے۔ یہ بھی مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ گذشتہ ہفتے اسکی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا حالانکہ اس دوران بجلی مہنگی ہوئی نہ پٹرولیم مصنوعات۔گندم کے ریٹ بھی نہیں بڑھے۔ آٹا فروشوں نے حکمرانوں کی بے خبری میں عوام پر ستم ڈھادیا۔ کچھ لوگ کھانا ہضم کرنے کیلئے دواؤں کا استعمال اور واک وغیرہ کرتے ہیں اور اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جن کو پیٹ بھرنے کو روٹی میسر نہیں۔ ایک مزدور کہہ رہا تھا کہ پہلے میںتین روٹیاں کھاتا تھا ‘اب دو کھاتا ہوں۔ پانی بھی خریدنا پڑے تو ایک روٹی پر آنا پڑے۔ نواز لیگ کے اقتدار میں آنے کے بعد ابھی کوئی بڑی فصل کسانوں نے نہ اٹھائی نہ مارکیٹ میں آئی۔ ٹماٹر پیاز اور سبزیاں آئیں تو ان کا قحط نظر آتا ہے۔ شوگر ملیں چلنے والی ہیں۔ چینی اور لوہا ’’شاہی خاندان‘‘ کی من پسند ٹریڈ ہے۔ عوام شُکر کریں کہ لوہا کھانے کی چیز نہیں ۔شَکراور پسندیدہ میں بڑا تال میل رہا ہے۔ہم وطنوں کے حصے میں لوہا چینی جتنی چینی آئیگی ۔ دکاندار حکمران، کسانوں کو مایوس کرر ہے ہیں جب اقتدار کا خمار‘ نااہلی کی بھرمار اور وژن بیمار ہو تو نتیجہ قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ حکمرانوں کو ہر شعبہ انار کے اس باغ کی مانند سرسبز اور ثمربار نظر آتا ہے جس کے باغبان نے بادشاہ کو انار کا جوس پلایا تھا۔ گندم کی فصل ابھی دور ہے۔ حکمرانوں کی نیت دیکھ کر اس کے سوتے خشک ہو سکتے ہیں۔ قحط کا سماں بھوت کی طرح دندناتا نظر آرہا ہے۔خدا خیر کرے۔
 اہلیت‘ قابلیت اور دانش و حکمت میں باقی سیاستدان بھی حکمرانوں سے کم نہیں البتہ سخن طرازی میں ایک سے بڑھ کر ایک ہیں۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم متفق لیکن اسکے خاتمے کا طریقہ کار اپنا ہے۔ کوئی اسے دہشتگردوں کو ختم کرکے ختم کرنا چاہتا ہے کوئی ان کو اپنا ہمنوا بنا کر،کوئی اسے امریکہ کی حمایت سے کوئی امریکہ کو دشمن بنا کر۔ ایک طبقہ حکم اللہ محسود کو ظالم تو دوسرا مظلوم کہتا ہے۔ کسی کو اعتراض ہے کہ اسے امریکہ نے کیوں مارا ہم خود مارتے۔ قائدین ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ امریکہ نے بم برسا کر مذاکرات کا عمل سبوتاژ کر دیا۔ طالبان کا موقف ہے کہ محسود کے قتل کا منصوبہ نواز اوباما ملاقات میں بنا۔ حکومتی اور بے حکومتی سیاستدان مذاکرات کا عزم دہراتے دہراتے دُہرے ہوئے جا رہے ہیں۔ محسود کی ہلاکت اور بقول منور حسن اور فضل الرحمن شہادت پر فوج خاموش ہے۔ حکومت فوج کی طرف سے مذاکرات کی کامیابی کیلئے کردار ادا کرنے کا تواتر سے اظہار کرتی رہی۔ ڈرون حملے پر فوج بولی نہ اسکی طرف سے حکومت نے کچھ کہا۔ سوچنے کیلئے یہ بھی بہت ہے کہ 29 نومبر کو کیانی ریٹائر ہو رہے ہیں ان کا متبادل سامنے آیا نہ انہوں نے فوجی یونٹوں کے الوداعی دورے شروع کئے۔ جنرل کیانی کی قیادت میں فوج اور امریکہ کا طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ڈرون حملوں کے حوالے سے موقف متضاد نہیں۔ ضروری نہیں حکمرانوں کا ظاہر و باطن بھی ایک ہو۔ جو لوگ فوج کو مار رہے ہیں ڈرون ان پر ہی گرتے ہیں۔ خارجہ پالیسی کو جنرل کیانی بڑی کامیابی سےtowکر رہے ہیں ۔نواز شریف امریکہ کا دورہ بھی کر آئے ہیں۔ پاکستان میں حکمرانی اور اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے فیصلے‘ کہا جاتا ہے واشنگٹن میں ہوتے ہیں۔ کیانی کو کیا مزید ایکسٹنشن مل جائیگی؟ یہ سوال اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر پھر سامنے آگیا ہے۔
 ہم ایک کنفیوژ قوم اور ہماری تقدیر کے فیصلے کرنیوالے قوم سے زیادہ کنفیوژ ہیں۔فتویٰ گری کا فن کوئی ہم سے سیکھے ۔مولانا فضل الرحمن نے فرمایا کہ امریکہ کتے کو قتل کر دے وہ بھی شہید ہے۔منور حسن کے محسود کیلئے شہید کے فتوے پر بلاول نے ارشاد فرمایا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ بنگلہ دیش جیسا سلوک کیا جائے۔ کیا تماشا لگا ہے‘ ایک اجلاس سینٹ کے اندر‘ دوسرا اسکے باہر ہو رہا تھا۔ قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر کہا گیا ’’امریکہ کو بتادیا جائے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے قبول نہیں‘‘ گویا مذاکرات سے قبل اور مابعد قبول ہیں۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ اور گورنر صوبے میں امن قائم کرنے میں ناکام ٹھہرے توایک علیحدگی پسندوں سے ملاقات کا ملتجی دوسرا ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کی دہشتگردی کو حقوق کی جنگ قرار دیتا ہے۔ مشرف کے معاملے میں بھی مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ ایک طبقہ انہیں پھانسی لگانا چاہتا ہے دوسرا ملک سے چلے جانے کیلئے بحفاظت راستہ دینے کا حامی ہے۔ کراچی میں اپریشن ناکام ہوتا دکھائی دیتا ہے‘ دو دن میں تیس لوگ مارے گئے۔ حالات واقعات کا ایمانداری سے تجزیہ کریں تو حکمران اپنے منشور اور انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں پر عمل میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ کسی بحران کے حل کا کوئی سرا انکے ہاتھ نہیں لگ رہا۔ ہر گزرتے انکے ساتھ عوامی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ عوام آخر کب تک بہتری کی امید رکھیں؟ پانچ سال بعد؟ اس وقت تک کتنے لوگ روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھ سکیں گے۔ ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ نواز لیگ حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے تک،خدا جانے بھوک افلاس‘ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ میں انسانیت کتنی بار قتل ہو چکی ہوگی ۔

محسود ،ڈرون اورمذاکرات ڈرامہ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان


حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں مارے جانے کی غیر مصدقہ خبر ہر ٹی وی چینل پر اینکرز اور تجزیہ نگاروں کے تبصروں کے ساتھ چل رہی تھی تو کئی کی حافظوں پر کرنل امام کے قتل کی ویڈیونے بھی دستک دی ہوگی۔جنوری 2011ءکو کرنل امام کو طالبان کی حراست کے دوران فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔کلاشنکوف بردار کے سامنے کھڑا کرنے سے قبل کرنل اما م پہاڑی علاقے میں بیٹھے دکھائے گئے انکے سر پر حکیم اللہ محسود کھڑے تھے۔انہوں چند آیات کی تلاوت کی اوربڑے جذباتی انداز میں انکے جرائم بتائے تھے۔پھر ایگ گولی کے بعد کرنل امام کو گرتے ہوئے اور پھر چندفائر کرنے کے بعد اور ان کا سر ایک طرف ڈھلکتے دکھایا گیا ۔یہ سب کچھ حکیم اللہ محسود کی موجودگی میں ہوا۔
ڈرون حملے کے ایک ڈیڑھ گھنٹے ہی میں بیت اللہ محسود کے مارے جانے کی تصدیق ہو گئی۔اس حملے میں کمانڈر طارق محسود اور عبداللہ بہار سمیت 6 افراد لقمہ اجل بنے۔ محسود شمالی وزیرستان کے گاﺅں ڈانڈے درپہ خیل جو تحریک طالبان کا گڑھ ہے‘ میں طالبان شوریٰ کے اجلاس کی سربراہی کر رہے تھے جس میںحکومت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق حتمی فیصلہ ہونا تھا۔
قومی و بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حکیم اللہ محسود 1979ءمیں جنوبی وزیرستان کے علاقے تکئی میں پیداہوئے ، ان کا اصل نام جمشید محسود ہے‘ وہ کالعدم تحریک طالبان کے کمانڈر بیت اللہ محسود کے ڈپٹی بھی رہے۔ وہ پہلی مرتبہ 2007 ءمیں پاکستان فوج کیخلاف حملوں کی وجہ سے ایک بے رحم شدت پسند کے طور پر ابھرے۔ 23 اگست2009 ءمیں امریکی ڈرون حملے میں بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بنے ۔وہ تحریک طالبان کی قیادت سنبھالنے سے قبل کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں طالبان جنگجوو¿ں کے قائد تھے ۔ یہ حکیم اللہ محسود ہی تھے جنہوں نے دو ہزار سات میں دو سو پچاس پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنایا۔ انکی قیادت کے دوران جی ایچ کیو ، پریڈ لائن مسجد، مہران نیول بیس،کامرہ ایئر بیس،آئی ایس آئی اورایف آئی اے کے دفاتر سمیت انگنت مقامات اور تنصیبات پر خود کش حملے ہوئے ‘جن میں عام شہریوں ،افواج کے افسروں ،جوانوں اور بچوں کی اموات کیساتھ ساتھ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور عالمی سطح پر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے کے تاثر کو بھی تقویت ملی۔ان چند اہم واقعات سمیت دیگر بہت سے واقعات کی ذمہ داری حکیم اللہ محسود کی تنظیم کی طرف سے قبول کی گئی۔ حالیہ دنوں میںجب حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے معاملات طے ہورہے تھے تو جنرل ثناءاللہ نیازی کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں اُ ڑا دیا گیا جس کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی۔ اس پر حکومتی حامیوں نے تنقید کی تو طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچنے تک اپنی کارروائیوں میں آزاد ہیں۔ طالبان کے اس مو¿ قف کی انکے حامیوں نے بھی تائید کی۔اگر طالبان ایسا کرنے میں آزاد ہیں تو جس فریق کے ساتھ وہ برسرِ پیکار ہیں وہی بھی یہی مو¿قف دہرا رہا ہے ۔حکیم اللہ محسود بھی ایسی ہی کارروائی کی زد میں آگئے۔
حکیم اللہ محسود امریکہ کو تحریکِ طالبان پاکستان کے القاعدہ اور افغان طالبان کے ساتھ رابطوں کے باعث مطلوب تھا۔حکیم اللہ محسود کے بعد سب سے طاقتور کمانڈر لطیف محسود کو چند ہفتے قبل امریکی سپیشل فورسز نے افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کی حراست اس وقت چھین لیا جب وہ اسے کابل میں خفیہ ملاقات کیلئے لے جا رہے تھے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پاکستانی طالبان رہنما لطیف محسود کی گرفتاری کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان حکومت لطیف محسود کے ذریعے پاکستانی طالبان کو پاک فوج کیخلاف کارروائیوں کیلئے استعمال کرنا چاہتی تھی۔ این ڈی ایس کو بھارتی ایجنسی RAW نے ٹرینڈ کیا اوروہ اسی کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کون کیا کررہا ہے اور کس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ۔محسود بیک وقت پاکستان اور امریکہ کو مطلوب تھے ۔ امریکہ نے انکے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر پاکستان نے پانچ کروڑ روپے لگا رکھی تھی۔
یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ ڈرون حملے اب بھی پاکستان کی مرضی سے ہی ہو رہے ہیں۔اس حوالے سے اہم ترین بیان امریکی کانگرس میں ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن ایلن گریسن کا ہے جس کی پاکستانی حکام نے تردید نہیں کی۔ انہوںنے کہا کہ ”اگر پاکستان چاہے تو ڈرون حملے کل بند ہو سکتے ہیں۔ پاکستانی ایئر فورس اپنی فضائی حدود پر پابندی لگا کر ڈرونز کو روک سکتی ہے۔ پاکستان کی منظوری کے بغیر اس طرح کے حملے نہیں ہو سکتے۔“ سینٹ میں ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کے جو اعداد و شمار پیش کئے وہ بھی دنیا پر ڈرون حملوں کا جواز ثابت کرنے کیلئے کافی ہیں۔وزارت دفاع کی طرف سے سینٹ کو بتایا گیا ہے کہ 2008ءسے لیکر 2013ءتک 5 سال کے عرصے میں 317 ڈرون حملے کئے گئے جن کے نتیجے میں 67 عام شہری اور 2160 شدت پسند جاںبحق ہوئے ۔ ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود اور ساتھیوں کے مارے جانے کاحکومت کو تو بجا طورپر کریڈٹ لینا چاہیئے جس نے وہ مقصد حاصل کر لیا جو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے بھی شاید حاصل نہ ہو سکتا۔ مذاکرات کیلئے حکومت کی ظاہر ی کو ششیں بھی شاید ڈرامہ ہوں جس میں حکومت کامیاب رہی۔
حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے طالبان کو شدید نقصان پہنچا۔ انکے اتحاد میں بھی شاید دراڑیں پڑ جائیں۔ اس کا ریاست کو اسی صورت فائدہ ہو سکتا ہے کہ حکمران ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیں۔ قوم کو حکمران اتحاد، اتفاق، یکجائی اور یکجہتی کا درس دیسے ہیں جبکہ خود دو کشتیوں میںسوار ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کے خاتمے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں تو دوسری طرف شدت پسندوں کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے۔ حکمران شائد اپنی جانیں بچانے کیلئے حملے کی مذمت کر رہے ہیں۔