About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, April 29, 2012

آنچل میں عافیت



اتوار ، 29 اپریل ، 2012

آنچل میں عافیت
فضل حسین اعوانـ 13سپریم کورٹ کی طرف سے آدھ منٹ کی سزائے قید سنائے جانے اور یوسف رضا گیلانی کے یہ سزا بھگتنے کے بعد ان کی وزارتِ عظمیٰ تنے ہوئے رسے پر گیند لڑھکائے جانے کے مصداق ہے۔ رسے پر لڑھکتی گیند کب تک اور کتنا سفر جاری رکھتی ہے؟ فیصلے سے چند روز قبل گیلانی صاحب نے ٹی وی پر کہا تھا کہ ان کو سزا ہوئی تو وہ نہ صرف وزیراعظم نہیں رہیں گے بلکہ پارلیمنٹ کے رکن بھی نہیں رہیں گے۔ 26 اپریل 2012ءکو فیصلہ ان کے خلاف آیا، وہ ملزم سے مجرم بن گئے۔ کیا وہ ہتھکڑیوں کی زینت اور جیل کی ذلت کو ہی سزا سمجھتے ہیں؟ سپریم کورٹ نے شاید وزارتِ عظمیٰ کے وقار کے پیش نظر ان کو علامتی سزا سنائی ورنہ جو کچھ وہ عدلیہ کے خلاف کہتے رہے عام آدمی ایسا کرتا اور ہٹ دھرمی کا بھی مظاہرہ کرتا تو زیادہ سے زیادہ سزا کا مستوجب ٹھہرتا۔ آئینی، قانونی، اخلاقی اور اصولی طور پر فیصلے کے فوری بعد گیلانی صاحب کو اپنے قول کے مطابق وزراتِ عظمیٰ سے الگ ہو جانا چاہئے تھا۔ استعفیٰ کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کہ آئین کے آرٹیکل 63 جی ون کے تحت وزراتِ عظمیٰ کے عہدے اور پارلیمنٹ کی نشست سے محروم ہو چکے ہیں۔ وہ پانچ سال تک الیکشن بھی نہیں لڑ سکتے۔ پانچ سال بعد الیکشن لڑنے کی سہولت بھی ان کو 18ویں ترمیم کی وجہ سے حاصل ہوئی ورنہ تو توہینِ عدالت پر زندگی بھر کی نااہلیت مقدر میں لکھی جاتی تھی۔ 
پوری دنیا میں کسی ملک کے چیف ایگزیکٹو کو دی جانے والی سزا کا یہ منفرد واقعہ ہے اس کی مثال دی جایا کرے گی۔ اس کے ساتھ یوسف رضا گیلانی کا بعد از سزا، کردار اور ردعمل بھی موضوع بحث رہے گا۔ ان کے وکیل اور حکومتی حمایتی ماہرینِ قانون، سزا اور گیلانی صاحب کی نااہلیت سے انکاری نہیں، وہ کہتے ہیں کہ فیصلہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائے گا، ان کی طرف سے ایک مہینے کے اندر الیکشن کمشن کو سمری بھجوائی جائے گی۔الیکشن کمشن کے پاس بھی مزید ایک ماہ کا وقت ہے کہ وہ نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے جبکہ گیلانی صاحب نے قومی اسمبلی سے 27 اپریل کو خطاب کے دوران ایک نئی لائن لی، سپیکر کو ایک منفرد راہ دکھائی اور واضح کیا کہ وہ 18 کروڑ عوام کے منتخب کردہ وزیراعظم ہیں ان کو سپیکر کے علاوہ کوئی نااہل قرار نہیں دے سکتا۔ گویا ان کی نظر میں آئین کی کوئی حیثیت ہے نہ عدلیہ کے فیصلوں کی۔ عدالتی فیصلوں کی تذلیل و تضحیک تو حکومت کئی سال سے کر رہی ہے لیکن توہینِ عدالت کیس میں سزا پانے اور بھگتنے کی جو تشریح گیلانی صاحب کر رہے ہیں اس کی نظیر کبھی سُننے اور دیکھنے میں نہیں آئی۔ سپریم کورٹ کو آئین کی تشریح کا اختیار ہے۔ وزیراعظم کو وہ بھی جو اب آئینی طور پر وزیراعظم نہیں رہے عدالتی فیصلوں کی من مانی تشریح کا اختیار یا حق آئین کے کس آرٹیکل میں دیا گیا ہے؟ سپریم کورٹ کی تشریح اور یوسف رضا گیلانی کی تشریح میں اتنا ہی فرق ہے جتنا پازیب اور پایل میں --- جتنا کاجل اور کوئلے میں۔ سید یوسف رضا گیلانی کے حامی ماہرینِ قانون ان کی وزارتِ عظمیٰ کی مدت دو ماہ تک لے گئے۔ گیلانی صاحب شاید آئینی مدت پورے کرنے کے بعد نگران وزیراعظم بننے کا بھی منصوبہ رکھتے ہیں اسی لئے انہوں نے آنچل کو محفوظ قلعہ، مورچہ اور ڈھال بنانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے یہ کہہ کر دوپٹے میں پناہ لے لی کہ سپیکر کوئی پوسٹ آفس نہیں --- وہ اپنی عدالت لگائیں --- سپیکر کی لگی عدالت اپنی پارٹی کے بڑے کی خواہش کے برعکس کیسے فیصلہ دے گی؟ گیلانی فوج اور عدلیہ کے مقابلے میں ہمیشہ پارلیمینٹ کی سُپر میسی کی بات کرتے ہیں، اب تک سامنے آنے والے ان کے قول اور کردار سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک سپریم صرف اور صرف آصف زرداری کی ذات ہے۔ وہی ان کے لئے آئین، قانون، اصول، ضابطہ، حلف اور پیر و مرشد ہیں۔ 
قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران گیلانی باوے نے علامہ اقبال کا یہ شعر بھی پڑھا 
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں 
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں 
قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے‘ شفاف اور پاکیزہ پانی کے قطرے قطرے سے --- گندگی کے قطروں سے دریا نہیں گندا نالہ بنتا ہے۔ ایک ایک ستارے سے آسمان جگمگاتا اور ستاروں کے جھرمٹ سے کاہ کشاں بنتی ہے۔ ادھار کے روغن سے جلائے گئے چراغ دمک سکتے ہیں نہ ایسے لاکھوں چراغ کاہ کشاں بن سکتے ہیں۔ قوم، ملت باصفا افراد سے تشکیل پاتی ہے، حرام کے لقموں سے پرورش پانے والے اجسام سے نہیں۔ آج عام آدمی کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ موجودہ حکمران اپنی موجودہ پالیسیوں کو فروغ دیتے رہے تو ان کے نعرے ”ہر گھر سے بھٹو نکلے گا“ کی طرز، ہر گھر سے کنگلا نکلے گا‘ ہر گھر سے منگتا نکلے گا، ہر گھر سے بھوکا نکلے گا اور بعید نہیں ہر گھر سے مُردہ نکلے گا۔ 
سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کے لئے قوم کا سپریم کورٹ کے شانہ بشانہ ہونا ضروری ہے، پارلیمنٹ میں موجود سیاستدانوں سے تو ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی۔ اتحادی تو حکومت اور گیلانی کے غیر آئینی اقدامات کے ساتھ ہیں اپوزیشن بھی کوئی پیچھے نہیں۔ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا ”دیکھیں گے غیر آئینی وزیراعظم پارلیمنٹ میں کیسے داخل ہوتا ہے“ پھر گیلانی پارلیمنٹ ہا ¶س گئے تو چودھری نثار کھسک چکے تھے۔ گیلانی نے بڑے ولولے سے خطاب کیا اس سے قبل ن لیگ اسمبلی سے اُٹھ کر باہر چلی آئی۔ پھر چودھری بولے وزیراعظم چھپ کر ایوان میں آئے۔ ایسی فضا اور گزشتہ چار سالہ جمہوری دور کا تجزیہ کیا جائے تو آصف علی زرداری اور میاں محمد نواز شریف دونوں کو نورا کہہ دیا جائے تو بتائیے اس سے کسی کو اختلاف ہو سکتا ہے؟ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کے لئے فوری اور بھرپور تحریک نہ چلائی گئی تو فوج کو یہ ناخوشگوار فریضہ انجام دینے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ بہرحال ہم ملتانی پیر جی کو مان گئے ہیں۔ ان کے وکیل محترم نے شکست تسلیم کر لی پیر جی ڈٹے ہوئے ہیں!

گیلانی صاحب! الوداع؟





گیلانی صاحب! الوداع؟
فضل حسین اعوان ـ 26 اپریل ، 2012

 این آر او کیس پر عملدرآمد کے حوالے سے وزیراعظم گیلانی توہین عدالت کی زد میں آئے۔ توہین عدالت سے بچ نکلنے کا عموماً غیر مشروط معافی ایک ہی طریقہ ہوتا ہے۔ وزیراعظم خط نہ لکھنے کا عزم کئے ہوئے تھے اس لئے معافی کا آپشن ہی ختم ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ یہ تک کہتی رہی کہ صرف خط لکھ دیں کیس یہیں، اسی وقت، جہاں ہے وہیں ختم کر دیتے ہیں۔ جواب ناں میں تھا۔ وزیراعظم اپنی پارٹی کے چیئرمین سے وفاداری کا برملا اعلان کرتے ہیں۔ وفاداری اور چاکری کے صلے میں ہی پاکستان کے سب سے بڑے منصب تک رسائی ملی، اس لئے ریاست اور آئین سے وفاداری کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ استثنیٰ کی اپنی ہی تشریح تراشی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ فیصلہ شواہد اور ثبوتوں کی بنا پر کرتی ہے اس کا حکمرانوں کو بخوبی علم ہے۔ قوم پر اپنے حکمرانوں کا کردار بلکہ واضح ہو چکا ہے۔ فراڈ، کرپشن، جھوٹ، اقربا پروری، دوست نوازی اور ماروائے آئین و قانون اقدامات‘ کس دور کا طرہ امتیاز ہے؟ وزیراعظم نے دو روز قبل ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”ملک میں غیر آئینی اقدام کی کسی میں جرات نہیں“ تقریب کے بعد اس بیان پر انہوں نے خود بھی قہقہہ لگایا ہو گا۔ 18ویں ترمیم کے تحت وزرا کی تعداد 49 ہو سکتی ہے جو اب 70 سے زائد ہو چکی ہے۔ رینٹل پاور منصوبے میں کرپشن پر سپریم کورٹ نے جن کو مجرم قرار دیا ان سے کچھ وزیر بنا دئیے گئے۔ اے این ایف کے ڈی جی میجر جنرل شکیل کو اس لئے عہدے سے الگ کر دیا گیا کہ وہ ڈرگ کوٹہ کیس کی تحقیقات کر رہے تھے جس میں وزیراعظم کے صاحبزادے کا نام آتا ہے۔ بریگیڈئر فہیم کو دھمکیاں دے رہے ہیں تم ادھار پر لئے گئے ہو اپنی اوقات میں رہو۔ اے این ایف نے مخصوص عرصہ کے دوران وزیراعظم ہاوس کے مہمان بننے والوں کی لسٹ مانگی تھی وزیراعظم صاحب اس پر سیخ پا ہیں اور لسٹیں فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ شاید یہ لسٹیں خالصتان تحریک کے لیڈروں کی لسٹوں سے بھی زیادہ اہم اور سیکرٹ ہیں، وہ تو راجیو کے حوالے کر دی گئی تھیں یہ مجرموں تک پہنچنے کے لئے اپنے ماتحت ادارے کے حوالے نہیں کی جا رہیں۔ موسیٰ گیلانی ہو سکتا ہے بے گناہ ہوں، انسداد منشیات کے وزیر، سیکرٹری اور وزیراعظم کے اقدامات‘ اعلانات اور بیانات نے انہیں مشکوک بنا دیا ہے۔ ڈرگ کوٹہ کسی پارٹی کو صرف 500 کلو دیا جا سکتا ہے 9 ہزار کلو کس نے دلا دیا اور پھر اس کا استعمال کہاں ہوا جبکہ فی گرام چٹکی بھر کی قیمت 12 سے 14 ہزار روپے ہے۔ ان سوالات کو حکمرانوں نے منکر نکیر کے سوالات سے بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ان سوالوں کے جوابات تو دینا ہی ہوں گے، شاید سوال کرنے والوں کی مشکل آج سپریم کے فیصلے سے آسان ہو جائے۔ توہین عدالت کیس میں حکمرانوں کو اچھی طرح معلوم تھا فیصلہ کیا ہو سکتا ہے اسی لئے گیلانی صاحب نے ایسا وکیل کیا جو جج کرنے کی صلاحیت اور مدمقابل پارٹی سے ڈیل کا ”تجربہ“ رکھتا ہے۔ مختصراً ”تجربے“ کے حوالے سے واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔ نواز شریف دور میں صدارت کے لئے جناب رفیق تارڑ کے کاغذات نامزدگی چیف الیکشن کمشنر مختار جونیجو نے 1997ءکو مسترد کر دئیے یہ کیس پی پی کے امیدوار آفتاب شعبان میرانی کے وکیل اعتزاز احسن نے لڑا۔ الیکشن کمشن کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل آئین کے آرٹیکل 42 اور شیڈول II کے تحت صرف الیکشن کمشن میں ہی ہو سکتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے اوکھے سوکھے ویلے میں جسٹس قیوم کام آتے رہے۔ نظرثانی کے لئے ن لیگ یہ کیس ملک قیوم کی عدالت میں لے گئی جہاں چودھری صاحب نے نرم دلائل دئیے جس پر تارڑ صاحب کے کاغذات بحال ہو گئے۔ بینظیر بھٹو معاملہ سپریم کورٹ لے جانا چاہتی تھیں کہ اعتزاز احسن نے کہا کہ رفیق تارڑ میرے عزیز ہیں اگر وہ صدر نہ بنے تو بھی ہمارے امیدوار آفتاب شعبان میرانی صدر نہیں بن سکتے۔ حلیم صدیقی یا ظفراللہ جمالی بن جائیں گے، بہتر ہے تارڑ صاحب ہی کو صدر بننے دیا جائے، جس پر محترمہ نے رضا مندی ظاہر کر دی (یہ مفہوم سابق سیکرٹری الیکشن کمشن کنور دلشاد کی ایک تحریر سے لیا گیا ہے)وزیراعظم کے وکیل کو جسٹس افتخار محمد چودھری کے بحالی کے دنوں میں ان کا ڈرائیور ہونے کا اعزاز بھی حاصل رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ جسٹس افتخار کی عدالت میں کبھی پیش نہیں ہوں گے مگر اپنے عہد پر عمل نہ کر سکے البتہ جس اُمید کے ساتھ وہ ان کے روبرو پیش ہوئے اس میں مایوسی ہوئی۔ ماہرین کے مطابق ملزم کی صفائی میں ان کے پاس دلائل تو شروع سے نہیں تھے لہٰذا وہ جذبات اور ججوں پر الزام سے کام لینے لگے۔ وزیراعظم کے پاس اپنی صفائی میں سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ انہوں نے ججوں کو رہا کیا‘ بحال کیا اور ان کے باپ دادا بھی عوامی نمائندے تھے۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے فرمایا عدلیہ سے میری دوستی ہے مجھے کوئی خطرہ نہیں۔ دوسری طرف وہ وزیراعظم ہاوس اور جیل کے درمیان فاصلے بھی ناپتے سُنائی دیتے ہیں۔ جس کا انہیں کچھ تجربہ تو ہے ہی اب ریہرسل بھی کر رہے ہیں۔ وہ 30 مارچ کو چین گئے تو کسی عالیشان ہوٹل میں نہیں ٹھہرے۔ ان کا قیام صوبہ بنیان کے ساحل پر عام دو منزلہ مکان میں تھا۔ جیل میں مچھر چوہے ہوتے ہیں اس ساحلی علاقے میں زہریلے سانپ بکثرت پائے جاتے ہیں جن پر نظر رکھنے کے لئے تربیت یافتہ عملہ تعینات کیا گیا تھا۔ ہمارے وفد کو سانپوں سے بچانے کے لئے یا سانپوں کو وفد سے بچانے کے لئے؟ ویسے بھی ان کو جیل میں کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوگی، جیل حکام نے وہ کمرہ پھر سے رنگ و روغن کر کے تیار کر دیاہے جس میں انہوں نے مشرف آمریت میں چند سال گزارے تھے جس میں اے سی اور بیڈ کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ جیل حکام کو اس وقت کے جیلر طارق پرویز کا انجام بھی یاد ہے جس نے گیلانی صاحب سے درجن بھر موبائل برآمد کئے جس پر جیل میں ہوتے ہوئے بھی طارق پرویز کا شاید بہاولپور تبادلہ کرا دیا تھا اور وزیراعظم بنے تو او ایس ڈی بنا دیا۔ ضروری نہیں کہ وزیراعظم صاحب سزا ہونے کی صورت میں جیل جائیں، مونس الٰہی نے گرفتاری دی تو ریسٹ ہاوس میں رہے۔ حضرت مولانا حامد سعید کاظمی کہاں ہیں؟ کس جیل میں ہیں؟ گیلانی صاحب کو سزا کی صورت میں ہو سکتا ہے وزیراعظم ہاوس کو ہی سب جیل قرار دے دیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا تھا مجھے سزا ہوئی تو وزیراعظم تو کیا میں تو رکن قومی اسمبلی بھی نہیں رہوں گا۔ ان کے وکیل کہتے ہیں سزا کی صورت میں بھی گیلانی صاحب وزیراعظم رہیں گے۔ شاید اب وہ اپنے وکیل کا مشورہ پسند فرمائیں گے ویسے بھی عدلیہ کے باقی فیصلوں پر کونسا عمل ہوا ہے کہ اس فیصلے پر بھی حکومت عمل کرنے پر مجبور ہو جائے۔ باالفرض یوسف رضا گیلانی کو سزا ہو جاتی ہے تو بھی ملک میں کوئی انقلابی تبدیلی کیا معمولی تبدیلی آنے کی بھی توقع نہیں ہے۔ البتہ حکمرانوں نے کرپشن، لاقانونیت، بزدلانہ خارجہ پالیسی، اقربا پروری، لوٹ مار سے ملک کو جس نہج پر پہنچا دیا اور قوم کو بے بس و لاچار کر دیا اس سے اب انقلاب کے تمام لوازمات اور جواز پیدا ہو چکے ہیں۔ شہباز شریف نے آج پھر خونیں انقلاب کی بات کی ہے۔ عوام بھی برملا خونیں انقلاب کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں جس میں ہزاروں گردنیں کٹ سکتی ہیں۔ اگر خون بہا تو پھر میرے اور تیرے خون کا سوال بے معنی ہو جائے گا.... قوم ملک کو بحرانوں کی دلدل میں دھکیلنے والا تو یقیناً ایک بھی نہیں بچے گا۔ خونیں انقلاب کی رسی کا ایک سِرا بدستور ان کے ہاتھ میں ہے اپنی اصلاح کر لیں تو اب بھی امکانی خونیں انقلاب کے امکان کو روکا جا سکتا ہے۔


Tuesday, April 24, 2012

127 افراد کا قتل


منگل ، 24 اپریل ، 2012

127 افراد کا قتل!
فضل حسین اعوان ـ 21 گھنٹے 54 منٹ پہلے شائع کی گئی
بھوجا ائرلائن کے طیارے کا حادثہ 127 افراد کی جان اور ان کے ہزاروں عزیز رشتہ داروں کے ارمان لے گیا۔ قوم ابھی 7 اپریل کو سیاچن میں تودے تلے دبے 139سپوتوں اور جاں نثاروں کے دکھ اور صدمے کی کیفیت میں ان کی سلامتی کے لئے دعاگو تھی کہ ایک اور المیے نے سوگوار کر دیا۔ جو شخص دنیا میں آیا اس نے ایک دن جانا ہی ہے۔ یہی اٹل حقیقت ہے۔ موت کو ایک بہانہ چاہئے۔ کوئی بیمار ہو کر چل پڑتا ہے‘ کوئی حادثے کا شکار ہو کر‘ کوئی محاذ جنگ پر جان دے دیتا ہے۔ کوئی ٹارگٹ کلنگ اور اندھی گولی کے باعث جان ہار دیتا ہے۔ جب سے کائنات تخلیق ہوئی انسان اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر آنسو بہاتا اور ماتم کرتا چلا آرہا ہے۔ صدمہ کتنا بھی گہرا ہو‘ انسان کو خدا کی رضا میں راضی ہی ہونا پڑتا ہے لیکن اپنے پیاروں کے قتل پر انصاف کے حصول تک انسان چین سے نہیں بیٹھتا۔
ائر بلیو کی پرواز کو 28 جولائی 2010ءکو اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں حادثہ پیش آیا۔ 153 انسان یک بیک لقمہ اجل بن گئے۔ تحقیقات میں ڈیڑھ سال لگ گیا۔ جس میں پائلٹ کو قصور وار ٹھہرایا گیا۔ ماہرین کے مطابق 84 فیصد حادثات انسانی غلطی کے باعث ہوتے ہیں۔ جس میں پائلٹ‘ ائر ٹریفک کنٹرولر اور انجینئرز کی غلطی‘ غفلت یا کوتاہی شمار ہوتی ہے۔ مسافر جہاز کے پائلٹ کے پاس غلطی کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ وہ زندگی میں صرف ایک ہی غلطی کرتا ہے۔ دوسری کے لئے اس کے پاس وقت ہوتا ہے نہ موقع ملتا ہے۔ اس کے ساتھ دیگر کئی انسانی جانوں کی سلامتی بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اس لئے پائلٹ سے دانستہ غلطی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ غفلت اور کوتاہی کا ارتکاب بھی ناممکنات میں سے ہے۔ پائلٹ کی غلطی صرف اس کی مس ججمنٹ کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ بھوجا ائرلائن کے حادثے کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔ انسانی غلطی یا ٹیکنیکل خرابی.... اگر ایسا ہی ہوتا تو یقیناً حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اپنے پیاروں سے بچھڑنے کے غم میں آنسو بہاتے بہاتے صبر کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن ان کو قرار اس لئے نہیں آئے گا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں۔ اس کے پیچھے بھی کرپشن‘ مفادات اور بدنظمی کی ایک داستان ہے۔ بلاشبہ نئے جہاز کو بھی حادثہ پیش آجاتا ہے لیکن اس کے پیچھے مفادات کی کوئی کہانی نہیں ہوتی۔ جس قسم کے جہاز کو اسلام آباد میں حادثہ پیش آیا یہ پوری دنیا میں متروک ہو چکا ہے۔ پھر بھوجا ائرلائن پر 2001ءمیں پابندی لگا دی گئی تھی۔ وہ گذشتہ ماہ اٹھائی گئی ہے۔ حادثے کے حوالے سے اہم ترین ایک ہی سوال ہے۔ ”کروڑوں روپے ہڑپ کرنے والی ائرلائن کو دوبارہ آپریشن کی اجازت کس نے دی اور وہ بھی بوسیدہ اور متروک جہاز کے ساتھ؟“ رولز اور پروسیجرز کی دھجیاں بکھیرے بغیر ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس تناظر میں حادثے کو دیکھا جائے تو 127 افراد کو قتل کیا گیا ہے۔ کس نے کیا؟ اس کی انکوائری کی ضرورت ہے۔ انکوائری کون کرائے؟ وہی جو کسی نہ کسی صورت میں ذمہ دار بھی ہیں؟ حکومت نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لئے گروپ کیپٹن (ر) مجاہد الاسلام کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی اور بھوجا ائرلائن کو لائسنس دینے کی تحقیقات کے لئے سابق ججوں پر مشتمل 3 رکنی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ کمشن کی تشکیل پر مسلم لیگ (ن) نے شدید احتجاج اور اعتراض کرتے ہوئے اسے فراڈ قرار دیا ہے۔ یہ کوئی پتنگ نہیں تھا کہ بھوجا نے جنوبی افریقہ سے خریدا اور پاکستان میں اڑانا شروع کر دیا۔ طیاروں کو فٹنس کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی کمپنی بھی بھوجا کے ایم ڈی ارشد کی ملکیت ہے۔ اس کو بھی کسی نے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت دی ہو گی؟ کس نے‘ کس بنیاد پر دی؟ یہ سب منظرعام پر آنا چاہئے۔ جو ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمشن نہیں حاضر سروس ججوں پر مشتمل کمشن ہی منظرعام پر لا سکتا ہے۔ وہ کمشن جو حکومت نہیں چیف جسٹس تشکیل دیں۔ اس کمیشن کی سفارشات‘ فائنڈنگز یا فیصلوں کا حال بھی ویسا ہی ہو گا جیسا آج حکومت اور حکمرانوں کے خلاف ہونے والے این آر او اور رینٹل پاور منصوبوں جیسے فیصلوں کا ہو رہا ہے۔ مایوس اس لئے نہیں ہونا چاہئے کہ فیصلوں پر عملدرآمد کبھی تو ہو گا اور یقیناً ہو گا۔ اگر وزیراعظم اسی جوڈیشل کمشن پر مصر رہے تو اس کی سفارشات کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔ وقت آنے پر جب یہ جا چکے ہوں گے کچھ جلاوطن اور کچھ جیل میں ہوں گے تو نیا کمشن بنے گا جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے گا۔ 
بھوجا ائرلائن کے حادثے میں مذکورہ کمپنی کی بدنامی تو ہوئی‘ مالی نقصان نہیں ہوا۔ طیارے کی ایک ملین ڈالر کی انشورنس ہو چکی تھی۔ پرانا طیارہ شاید کباڑ کے بھا ¶ خریدا گیا ہو۔ تھرڈ پارٹی انشورنس 30 کروڑ ڈالر میں ہوئی۔ یہ تھرڈ پارٹی طیارے کے مسافر ہیں۔ اس رقم کی منصفانہ تقسیم کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یہ بھی بھوجا ائرلائن کے مالکان‘ اس ائرلائن کو آپریشن اور کھٹارا جہاز اڑانے کی اجازت دینے والوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ یہی حکمران اور متعلقہ اداروں اور شعبوں میں لگائے ہوئے ان کے افسران رہے تو بھوجا ائرلائن کو ایک بار پھر آپریشن اور انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت دے دیں گے۔


Sunday, April 22, 2012

کیا یہ اقبال و قائد کا پاکستان ہے؟

 ، 21 اپریل ، 2012


کیا یہ اقبال و قائد کا پاکستان ہے؟
فضل حسین اعوان 
حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے مسلمانانِ ہند کیلئے الگ وطن کی تصویر کشی کی جس میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے رنگ بھرا۔ کیا یہ ویسا ہی پاکستان ہے جیسا مفکر پاکستان اور معمار پاکستان چاہتے تھے؟ نہیںہرگز ایسا نہیں ہے۔قائداعظم نے تمام اداروں کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر فرائض ادا کرنے کی تلقین کی تھی۔بالخصوص قائداعظم نے فوج کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلائیں تھیں۔ اس پرچند سر پھرے جرنیلوں نے کس طرح عمل کیا وہ ہمارے سامنے ہے۔ پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے ہوئے 65سال ابھی مکمل نہیںہوئے۔اس دوران قوم کو 33سال جو آدھے سے زیادہ عرصہ ہے فوجی حکمرانوں کو بھگتنا پڑا۔ملاحظہ فرمائیے قائداعظم نے کیا کہا اور جرنیلوں نے کیا کیا۔ 14جون 1948 کو قائداعظم فوجی قیادت کی دعوت پر زیرتربیت افسران سے خطاب کرنے اسٹاف کالج کوئٹہ تشریف لے گئے۔نہ جانے قائداعظم کس بات پر دل گرفتہ تھے۔انہوں نے 6سات منٹ تقریر کی۔ جس میںیہ بھی فرمایا: ”....مجھے یہ بات کہنے کی تحریک اس لئے ہوئی ہے کہ ایک دو نہایت اعلیٰ افسروں کے ساتھ گفتگو کے دوران مجھے یہ معلوم ہوا کہ افواج پاکستان نے جو حلف اٹھایا ہے،انہیں اس حلف کے تقاضوں کا علم نہیں ہے۔بلا شبہ حلف تو الفاظ کی ایک ظاہر ی شکل و صورت ہوتی ہے، جو چیز زیادہ اہم ہے وہ ہے صحیح جذبہ اور اس کی روح۔ لیکن آپ کے معاملے میں ظاہر ی شکل و صورت بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ میں اس موقع پر آپ کے حافظے کو تازہ کرنے کیلئے مقررہ حلف کے الفاظ پڑھتا ہوں“۔ اس کے بعد قائداعظم نے فوج کا حلف لفظ بہ لفظ پڑھا.... ” جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ اصل بات جذبہ ہے۔ میں آپ کو بتاناچاہتا ہوں کہ جب آپ یہ الفاظ کہتے ہیں کہ ” میں مملکت کے آئین کا وفادار ہوں گا تو آپ اس آئین کا مطالعہ بھی کریں جو پاکستان میں نافذ العمل ہے اور اس آئین کے حقیقی قانونی تقاضوں کوبھی سمجھیں“۔
علامہ اقبالؒ نے موقع بموقع خود داری اور غیرت کا درس دیا۔یہ دونوں آج حکمرانوںکی حد تک سرے سے ناپید ہیں۔ ماضی بعید کو کریدنے کی ضرورت نہیں۔ ماضی قریب کو دیکھئے۔ موجودہ حکمران امریکی جنگ میں مشرف کی مکمل جاں نشینی کا کردارادا کر رہے ہیں۔ بعض معاملات میں تو مشرف سے بھی بڑھ کر۔امریکہ جو کہتا ہے اس پر سر تسلیمِ خم کرلینے کو فرض سمجھا جاتا ہے۔ 26 نومبر 2011ءکو سلالہ چیک پوسٹ پر جارحیت کے جواب میں نیٹو سپلائی بند کی گئی۔ فوج، حکومت اور عوام نیٹو حملے پر بڑے جذباتی تھے لیکن آج حکومت سپلائی کی بحالی کیلئے بے چین ہے۔ اسے فوج کی رائے کا احترام ہے نہ عوامی امنگوں کی پروا۔ بلاشبہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے۔اس میں کوئی ملک الگ تھلگ رہ کر ترقی و خوشحالی کی منزلیں سر نہیں کرسکتا لیکن اپنے وقار، حمیت غیرت خود داری اور خود مختاری کی قیمت پر تو ہرگز ایسا نہیں ہوناچاہئے۔جو ہمارے ہاں ہورہا ہے۔امریکی جاسوس پاکستان میں دندناتے پھرتے ہیں۔ ان پر قابو پانا تو کجا، ہماری حکومت کو تو ان کے کام اور مقام قیام کا ہی علم نہیں۔ اوپر سے امریکی کہتے ہیں بتائیں گے بھی نہیں۔ اب 7 ہزار ”جاسوسوں“ کو ٹھہرانے کیلئے ایسا بلندوبالا سفارتخانہ تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی جہاں سے پورا اسلام آباد انکی نظروں میں ہوگا۔ پہلے اسے حملوں کیلئے پاکستانی انٹیلی جنس کی مدد درکار تھی۔اب سی آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پاکستان میں ایسا نٹ ورک قائم کرلیا ہے کہ اب اسے نشاندہی کیلئے کسی پاکستانی ایجنسی کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔ خودداری اور خود مختاری کیا اسی کا نام ہے؟ یہ سبق اور درس اقبال اور قائد نے تو نہیں دیا تھا۔ نجانے حکمرانوں کا کون قائد ہے کون رہبر ورہنما اور کون آئیڈیل ہے جس کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں۔ کیا ان کا رہبر رہنما لیڈر اور آئیڈیل صرف دھن دولت ہے؟ 
نظر تو ایسا ہی آتا ہے۔ ایک طرف بیرونی مداخلت سے قومی سلامتی و سالمیت مجروح ہورہی ہے، دوسری طرف اندرونی طور پر معاملات بھی تکلیف دہ ہیں۔ کرپشن کا ایک سونامی ہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اعلیٰ سطح پر کرپشن بنیادوں تک سرطان کی طرح پھیل گئی۔ کروڑوں اربوں کی نہیں کھربوں کی لوٹ مار ہورہی ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 4 سال میں 94 ارب ڈالر لوٹے جانے کی رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ پر یقین اس لئے کیا جاسکتا ہے کہ حکمران این آر او کیس کے فیصلے پر عملدرآمد سے واضح انکاری ہیں، یہ بھی کرپشن کیس ہے۔ رینٹل پاور منصوبوں میں سپریم کورٹ نے کھربوں روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی اور فیصلے میں جن کو مجرم ٹھہرایا، انکو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے بجائے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا دیا گیا۔ ملک میں بجلی، گیس کی قلت، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے محابا اضافہ کے باعث بھوک ناچ رہی ہے، ننگ اور افلاس ہے، حکومتی سطح پر عوامی ریلیف کیلئے کوئی کوشش، کاوش اور عزم و ارادہ نظر نہیں آتا۔ عدلیہ ایک فورم ہے جو بدعملی، بدنظمی اور کرپشن کا احتساب کرسکتی ہے۔ حکومت خم ٹھونک کر اسکے مدمقابل آگئی ہے۔ اسکے اکثر فیصلوں خصوصاً کرپشن اور کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالنے کے معاملات کو ماننے کیلئے تیار نہیں۔ جرنیلوں نے آدھے سے زیادہ عرصہ پاکستان میں آمریت پھیلائے رکھی۔ آج جرنیل اگر جمہوریت اور جمہوری حکومت کا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو حکومت انکی بھی تذلیل کرکے شاید شہید جمہوریت بننا چاہتی ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے سیکرٹری دفاع خالد لودھی کو برطرف کیا۔ چھوٹا بیٹا علی موسیٰ گیلانی کیمیکل کوٹہ کیس کی زد میں آیا تو اے این ایف کے ڈی جی میجر جنرل شکیل کو انکے عہدے سے ہٹا دیا۔ اب علی موسیٰ سمیت متعدد ملزموں پر فردجرم عائد ہوئی ہے تو وزیراعظم تحقیقات پر پر مامور بریگیڈئر فہیم کو باقاعدہ دھمکیاں دے رہے ہیں، یہ انکے شایان شان نہیں۔ اقبال و قائد تو ایسا پاکستان چاہتے تھے جس میں نفاق ہو، انتشار ہو، کسی طبقہ کی من مانی اور لوٹ مار کی حکمرانی ہو، وہ تو پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے تھے جس میں انصاف کی فراوانی ہو اور پاکستان اسلامی اور فلاحی مملکت بنتا۔ آئیے ہم جہاں بھی ہیں، جو کچھ بھی ہیں اپنی حیثیت میں جہاں تک بھی ممکن ہے، ملک خدادادِ کو ایسا پاکستان بنانے کی کوشش کریں جیسا اقبال اور قائد چاہتے تھے۔

Thursday, April 19, 2012

قوم اور جنگ

جمعرات ، 19 اپریل ، 2012

فضل حسین اعوان ـ 
ہم 18 کروڑ پاکستانی قوم نہ سہی‘ عوام تو ہیں۔ گروہوں میں بٹے‘ گروپوں میں تقسیم‘ علاقائیت‘ لسانیت اور صوبائیت کا شکار‘ قومی معاملات سے لاتعلقی کا شہکار‘ خود کو پرم‘ پرماتما اور دوسروں سے افضل و اعلیٰ سمجھنے کے زعم میں مبتلا۔ کسی سانحہ و المیہ کی صورت میں‘ بیرونی قوتوں کی جارحیت کا امکان‘ پاکستان کو بربادیوں کی طرف دھکیلنے کا سامان دیکھ کر کسی بھی لمحے 18کروڑ بے سمت گروہ اور گروپ ایک قوم بن سکتے ہیں۔ ایسا کئی بار ہو بھی چکا ہے۔ بھارت کے ساتھ لڑی جACانے والی 65ءکی جنگ‘ 2005ءکا زلزلہ اور 26 نومبر 2011ءکو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو کی بمباری‘ ایسے واقعات ہیں جن پر تمام پاکستانی ایک ہی صف میں کھڑے سیسہ پلائی دیوار نظر آتے تھے۔ 65ءمیں ہماری فوج نے اسلحہ کی کمی اور دشمن کے مقابلے میں کئی گنا کم تعداد کے باوجود لاہور میں ناشتہ کرنے کی آرزو لئے دشمن کو ناک چنے چبوا دئیے تھے۔ اس لئے کہ مشرقی و مغربی پاکستان کا ہر شہری فوج کی پشت پر ثابت قدمی اور نورِ ایمان کی قوت سے کھڑا تھا۔ قوم ساتھ ہو تو فوج کسی بھی قوت سے ٹکرا کر کامیابی و کامرانی کی منزلیں طے کر لیتی ہے۔ جدید ترین اسلحہ سے لیس‘ تعداد کے حوالے سے برتر افواج قوم اور عوام کے ساتھ و اعتماد کے بغیر کوئی جنگ جیت سکتی ہے نہ دشمن پر فتح حاصل کر سکتی ہے۔ اگر فوج اپنے ہی عوام کے ساتھ برسرپیکار ہو اپنے ہی لوگوں کے ساتھ جنگ کرنا اور لڑنا شروع کر دے اول تو اس سے جیت نہیں سکتی۔ جیت بھی جائے تو یہ جیت نہیں ہوتی۔ 71ءمیں حالات جو بھی ہوں‘ جیسے بھی بگڑے ہوں۔ دشمن نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ جس نے پاک فوج اور پاکستانی شہریوں میں بدگمانی و بداعتمادی کی دراڑ ڈالی‘ جو ہمارے شرابی جرنیلوں اور حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی نالائقی نااہلی کے باعث نفرت کی خلیج میں بدل گئی۔ جب بھارت کو یقین ہو گیا کہ مشرقی پاکستان میں فوج اور عوام کا قبلہ الگ الگ ہے۔ تو دشمن نے حملہ کر دیا۔ فوج کی پشت عوامی حمایت سے خالی تھی۔ پھر جو ہوا وہ تاریخ میں ہم پاکستانیوں کے لئے سیاہ باب کی صورت میں موجود ہے۔ 
آج ایک بار پھر ہم نے اپنی بدقسمتی کو آواز دی ہے۔ اپنے ہرے بھرے آنگن میں انگارے بکھیر لئے ہیں۔ فوجی آمر نے پاک فوج کو امریکہ کی جنگ کا حصہ بنا دیا۔ اس آمر کے اقتدار کی موت کو بھی 4 سال ہو گئے لیکن وہ جنگ ہنوز جاری ہے۔ کس کے خلاف؟ اپنے ہی لوگوں کے خلاف۔ قوم کی حمایت کے بغیر تو دشمن سے بھی جنگ نہیں جیتی جا سکتی تو پھر قوم کے خلاف‘ عوام کے خلاف جنگ میں کیسے فتح ہو سکتی ہے؟ باالفرض فوج جیت بھی گئی تو کس سے جیتے گی؟ کیا اس فتح کا جشن ویسے ہی منایا جائے گا جیسے 65ءکی جیت پر منایا گیا تھا؟ فتح صرف وہاں موجود آخری فرد کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھی یہی حکمت عملی اپنائی گئی تھی۔ ”انسانوں کی نہیں زمین کی ضرورت ہے“ وہاں ایسا ممکن ہوا نہ جہاں ایسا ہو سکتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے جس خطے میں فوج کو بھیجا ہے۔ وہاں کے حالات سازگار نہ موسم‘ عوام خلاف ہو گئے تو گویا زمین آسمان بھی حامی نہ رہے۔ اور پھر سامنے کوئی دشمن بھی نہ ہو تو کیسی جنگ اور کیسی فتح کی تمنا۔ 15 اپریل 2012ءکو شدت پسندوں نے بنوں جیل توڑ کر 400 قیدی چھڑا لئے جن میں کچھ سزائے موت اور کچھ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ 93 میں سے 63 اہلکار اس دن غیر حاضر تھے۔ باقی تیس بھی شاید حملہ آوروں کی معاونت کرتے رہے ہوں۔ اِدھر قبائلی علاقوں میں ہماری فوج امریکہ کی جنگ لڑ رہی ہے اُدھر بلوچستان میں امریکہ پاکستان کے خلاف لڑ رہا ہے۔ بھارت اس کا معاون ہے۔ امریکی کانگریس میں بلوچستان کی آزادی کی بات ہو رہی ہے۔ بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد کر رہا ہے۔ ہماری حکومت اس کو پسندیدہ ملک قرار دیتے ہوئے خسارے کی تجارت کئے جا رہی ہے۔ خدا جانے ان حکمرانوں کا آخر ایجنڈا کیا ہے؟ ضرورت تو پاکستان اور پاکستان کے مفادات کے خلاف سرگرداں دشمن سے نمٹنے کی ہے۔ جو باالکل واضح ہے۔ اس کے برعکس ہمارے حکمرانوں نے پاک فوج کے ہاتھ میں بندوق تھما کر اسے جو سینہ دکھایا ہے وہ بھی پاکستانیوں کا ہے۔ قوم التجا کرتی ہے کہ فوج کو اس جنگ سے نکالا جائے جو غیروں کی خوشنودی کے لئے اپنوں کے ساتھ لڑ رہی ہے اور یہ غیر تو اب صریح دشمن بھی ثابت ہو چکے ہیں۔ قوم اور عوام کے خلاف جنگ جیتنا ممکن ہوتا تو کرزئی افغانستان میں 40 ممالک کی فوج اور جدید ترین اسلحہ کے ساتھ جیت چکا ہوتا۔

Tuesday, April 17, 2012

ووٹ کس کے لئے؟

منگل ، 17 اپریل ، 2012

ووٹ کس کے لئے؟
فضل حسین اعوان ـ 
جنوبی ایشیاءمیں بدامنی، پاکستان اور بھارت کی اکثریتی آبادی کا خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے کا سبب ہندو بنیئے کی جارحانہ و توسیع پسندانہ پالیسیاں‘ پاکستان کو ہر صورت مشکلات سے دوچار رکھنے اور نقصان پہنچانے کی سازشیں ہیں۔ اِدھر قیام پاکستان کی منزل قریب آ رہی تھی اُدھر نوزائیدہ مملکت کو پریشان کیے رکھنے کی ناپاک منصوبہ بندی ہو رہی تھی۔ کشمیر پر قبضہ مکار دشمن کی ایسی ہی منصوبہ بندیوںکا شاخسانہ ہے۔ وہ تو آس لگائے بیٹھے تھے کہ پاکستان اپنی آزادی برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ قائداعظم کی رحلت کے بعد گو بہترین صلاحیتوں کی حامل قیادت کے فقدان کا ایک لامتناہی سلسلہ نظر آتا ہے لیکن اتنا ضرور ہوا کہ پاکستان کی ہر لیڈر شپ نے ہندو کے اکھنڈ بھارت کے خواب کو بھیانک تعبیر سے دو چار کیے رکھا۔ بھارتی قیادتیں آج بھی اکھنڈ بھارت کے پکھنڈ کے سحر سے باہر نہیں نکل سکیں۔
کتنا اچھا ہوتا کہ تقسیم کے بعد بھارت خوش دلی سے پاکستان کو تسلیم کرتا۔ دونوں ممالک اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے۔ ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے بہترین تعلقات ہوتے، تجارت ہوتی اور خطے میں پاکستان بھارت ایک مضبوط معاشی طاقت ہوتے۔ دونوں ممالک ترقی کرتے اور عوام خوشحال ہوتے۔ اس طرف آنے کے بجائے بھارت نے پاکستان کی بربادی کی تدبیریں کرنا شروع کر دیں۔ کشمیر پر قبضہ کر لیا یہی دونوں ممالک کے درمیان بڑا تنازعہ ہے دیگر تنازعات اسی ایک ایشو کی پیداوار ہیں۔ پھر خطے میں اپنی چودھراہٹ اور پاکستان کو نیچا دکھانے کی خواہش میں بھارت نے اسلحہ کے انبار لگانا شروع کر دیئے۔ اس نے ایٹمی صلاحیت 1973ءمیں پوکھران میں دھماکہ کرکے حاصل کر لی تھی۔ اسلحہ سازی کی صنعت میں نمایاں ایسا کونسا ملک ہے جس سے بھارت اسلحہ نہیں خرید رہا۔ اسرائیل کے اسلحہ کا سب سے بڑا گاہک بھارت ہے امریکہ، روس، فرانس، ہالینڈ، برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے بھارت روایتی اور ایٹمی اسلحہ خرید رہا ہے۔ پاکستان کو مجبوراً اپنے دفاع کیلئے اپنے گھوڑے تیار رکھنا پڑتے ہیں۔ خطے میں اسلحہ کی دوڑ بھارت نے شروع کی۔ اس کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ کے لگ بھگ ہے اگر اسلحہ پر صرف ہونی والی خطیر رقم دونوں ممالک اپنے اپنے عوام کی تعلیم و صحت اور بہبود پر خرچ کریں تو کم از کم خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو بھی تمام تر انسانی سہولتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔ اس کے لئے بھارت کو اپنے جارحانہ، توسیع پسندانہ اور پاکستان کو مشکلات سے دوچار رکھنے کے عزائم سے باز رہنا ہو گا مگر ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔
وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہش کا اظہار کرتا ہے جو سراسر منافقت ہے۔ ایک طرف ہماری شہ رگ پر دباﺅ میں اضافہ‘ پاکستان میں دہشت گردی‘ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی دوسری طرف دوستی کی باتیں۔ کیا بنیے کی بدنیتی کا کھلا ثبوت نہیں؟ آج ہمارے حکمران اور سوائے ایک محدود طبقے کے سارے سیاست دان بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کے حامی ہیں۔ موجودہ حکومت نے تو بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین ملک قرار دیدیا ہے۔ اس کے ساتھ تجارت ہو رہی ہے وہ بھی خسارے کی۔ ایسے میں بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کیا دباﺅ باقی رہ جاتا ہے؟ کروڑوں پاکستانیوں کی خواہش ہے کہ ملک کی باگ ڈور ان ہاتھوں میں ہو جو پاکستان کو اقبال و قائد کا پاکستان بنا دےں۔ بدقسمتی سے جس دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ضرورت ہے اس کے آگے ہماری ہر قابل ذکر اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی جماعت بچھی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اے این پی، ایم کیو ایم، جے یو آئی ف، اور سونامی خان بھی بھارت کے ساتھ تجارت کے حامی ہیں۔ یہی اگلے الیکشن میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ ان میں سے جو بھی اقتدار میں آئے مسئلہ کشمیر پر کسی پیشرفت کی توقع نہیں۔ گویا اس خطے پر بدامنی کے بادل چھائے رہیں گے اور دونوں طرف کے عوام کی زندگیوں میں کسی مثبت تبدیلی کی کوئی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ لوگ سوچتے ہیں کہ آخر وہ ووٹ کس کو دیں جو بھارت کے پنجہ استبداد سے کشمیر اور کشمیریوں کو آزادی دلا دے؟ پاکستان میں دو ہی پارٹیاں ہیں جو مسئلہ کشمیر پر اصول پسندی پر کاربند ہیں۔ ایک فوج اور دوسری دفاع پاکستان کونسل۔ دونوں غیر سیاسی ہیں فوج بھارت کے ساتھ تجارت کی حامی ہے نہ دوستی اور نہ ہی بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی۔ گو حکمران تاثر دے رہے ہیں کہ فوج کے مشورے سے بھارت کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ فوج کی طرف سے ایسے اقدام کی کبھی حمایت سامنے نہیں آئی۔ وزیر اعظم گیلانی 8اپریل کو لاہور میں تھے انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اور سیاسی جماعتیں بھارت سے دوستانہ تعلقات چاہتی ہیں فوج کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم کے بیان سے حکومت اور فوج کی ترجیحات کا تعین ہو جاتا ہے۔ دفاع پاکستان کونسل کشمیر ایشو پر عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے فوج کا موقف بھی یہی ہے لیکن دفاع پاکستان کونسل اس میں جماعت اسلامی کی موجودگی کے باوجود اور غیر سیاسی اتحاد ہے۔ کروڑوں پاکستانیوں کا ووٹ کشمیر پالیسی پر جرات مندانہ سوچ کی حامل جماعتوں کیلئے محفوظ ہے۔ اگر قابل ذکر سیاسی جماعتیں کشمیر پالیسی پر جرات سے کاربند نہیں رہتیں تو دفاع پاکستان کونسل صرف اس ایک ایشو کو لے کر آگے بڑھے۔ اس کے ساتھ سنی اتحاد کونسل اور ادھڑی ہوئی مجلس عمل کی کچھ جماعتیں بھی آ ملیں گی۔ پھر اگر عوام میں جڑیں رکھنے والی جماعتیں ان کے ساتھ مل جاتی ہیں تو عوام کو ان کے انتخاب میں آسانی رہے گی۔


Thursday, April 12, 2012

ستم رسیدہ

جمعرات ، 12 اپریل ، 2012

ستم رسیدہ
فضل حسین اعوان ـ 19 گھنٹے 59 منٹ پہلے شائع کی گئی
صدر جناب آصف علی زرداری منت پوری کرنے بھارت گئے۔ منموہن سے ملے۔خواجہ اجمیر کی درگاہ پر حاضری دی،چادر چڑھائی اور ایک ملین ڈالر نذرانے کا اعلان کیا۔یہ نذرانہ ادا کردیا گیا یا نہیں؟ اس بارے میںکچھ نہیں بتایا گیا۔ایک ملین یعنی دس لاکھ ڈالر نذرانے کے اعلان پر اعتراض،احتجاج کرنیوالے یہ سوچ لیں کہ صدر صاحب پاکستان میں بھی بہت سے اعلان کرچکے ہیں مثلاً روٹی کپڑا اور مکان کی فراہمی کا اعلان، عوام کو مہنگائی اور بیروزگاری سے نجات دلانے کا اعلان،عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل کا اعلان۔صدر کے دورے کو نشانہ تنقید بنانے والے صرف نذرانے کے اعلان پر یقین کئے بیٹھے ہیں۔ ویسے بھی یہ صدر صاحب کیلئے کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔ان کے اپنے اثاثوں کی مالیت دس بلین ڈالر کے قریب ہے۔ اس میں سے ایک ملین نذرانہ کیا معنی رکھتا ہے یہ ایسے ہی جیسے کوئی کسان ایک ایکڑ کی فصل سے مونگ پھلی کا ایک دانہ دان کردے۔زرداری صاحب کے کئی بدخواہ کہتے ہیں کہ چڑھاوا قومی خزانے سے چڑھایا گیا۔ یہ بھی کوئی غلط کام نہیں ہے آخر عوام نے پانچ سال کیلئے ان کی پارٹی کو منتخب کیا ہے فی الحال پانچ سال کیلئے پاکستان ان کا ہے جو چاہیں کریں ۔ماشاءاللہ کر بھی رہے ہیں۔ون ملین نذرانے سے میمو گیٹ سے منسلک ون ملین کی داستان یاد آجاتی ہے۔اس کا دیگر کوئی پس منظر نہیں محض وہ ون ملین اور یہ نذرانہ کے ون ملین میں ون ملین کی قدر مشترک ہے۔میڈیا میں کسی نے اڑائی کہ منصور اعجاز سے میمو مولن تک پہنچانے کی صورت میں اس سے 1ملین ادائیگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ میمو خوش اسلوبی سے پہنچانے پر حقانی نے ایمانداری سے ادائیگی کردی۔منصور کو نہیں کسی اور کو۔منصور اعجاز اپنی اجرت کی وصولی کیلئے گئے تو حقانی کے یار نے 2لاکھ ڈالر اس کے سامنے رکھ دئیے۔باقی 8لاکھ کے تقاضے پر کہا وہ ہمارا کمشن ہے.... کمشن رکھنے والی یہ ہستی صدر صاحب کی نہیں ہوسکتی کمشنوں کے حوالے سے ان کا اپنے وزیراعظم کی طرح دامن ایسا پاک و صاف ہے کہ ....ع
دامن نچوڑدیں تو فرشتے وضو کریں
نذرانے اور چڑھاوے میں کمشن کی کوئی بات کرے تو گناہ گار اور پاپی نہیں تو کیا ہوگا۔وہاں منت کیا مانی،اس کا بھی سوائے صدر اور بلاول کے کسی کو علم نہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حاکم علی زرداری کے فرزندِ ارجمند نے جس محنت اور خون پسینے کی کمائی سے اتنی دولت اور جائیداد بنائی اس کو کام میں لانے کیلئے ویسے تو ہزاروں سال زندہ رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے کم از کم ڈیڑھ دو سو سال کی زندگی تو مانگی ہوگی۔شاید آدھی مدت کیلئے صدارت بھی۔ غالباً اگلا دورہ منت پوری ہونے پر فرمائیں۔خدا صدر صاحب کی ہر خواہش پوری فرمائے ساتھ یہ بھی دعا ہے کہ وہ اب تمام مصلحتوں کو ایک طرف رکھ کر کچھ قوم و ملک کیلئے کرنے کی کوشش بھی کریں۔ وہ صرف کرپشن پر قابو پالیں تو تمام مسائل دور ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں وسائل کی ہرگز،ہرگز کمی نہیںان کو بروئے کار لائیں۔ ایماندار لوگوں کی ٹیم بنالیں تو مظلوم مقہور اور ستم رسیدہ طبقات ان کے دست و بازو بن جائیںگے۔ آج سب سے ستم رسیدہ تنخواہ دار طبقہ ہے۔وہ سرکاری ملازم ہویا غیر سرکاری یا بھٹے اور سائیکل ورکشاپ میں کام کرنے والا مزدور ،ان کی حالات زار کو دیکھیں،سمجھیں اور ان کے ریلیف کا حل تلاش کریں۔تنخواہ دار طبقے سے زیادہ ستم رسیدہ پنشنرز ہیںاور ان میں بھی بدحال اور پسے ہوئے ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشن OBI Eکے پنشنرز۔جن کی اس دور میں بھی پنشن تین ہزار روپے ماہوار ہے ۔ان کو پنشن کی ادائیگی قومی خزانے سے نہیں ان کی اپنی ادائیگیوں سے ہوتی ہے۔یہ سول اداروں کے ریٹائرڈ لوگ ہیں۔آج کے قانون کے مطابق جس انڈسٹری،ادارے یا دکان میں 5 سے زائد ملازم ہوں ان کی تنخواہ سے کٹوتی کرکے مالک کو OBI E میں جمع کرانے کا حکم ہے۔EOBI اس رقم سے مالدار بن چکا ہے۔اس کے پاس اربوں روپے نقدی اور کھربوں کے اثاثوں اور کاروبار کی صورت میں موجود ہیں۔ جن لوگوں کے دم قدم سے یہ ادارہ معرض وجود میں آیا مضبوط ہوا اور چل رہا ہے ان لوگوں کو ہی بری طرح سے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ مزدور آج اپنی ادائیگی بند کردیں تو جن افسروں کی گردنوں میں سریا اور وہ جس آسمانِ تکبر و تفاخر اور نخوت پر بیٹھے ہیں گردن کے بل زمین پر آگریں گے۔ستم یہ کہ ایک EOBI کا سربراہ 80 کروڑ روپے کا فراڈ کرکے ملک سے ہی بھاگ گیا ۔ اندازہ کیجئےEOBI کے عمر رسیدہ پنشنرز3 ہزار میں کیسے گزارہ کرتے ہوں گے۔ادویات اور بڑھاپے میں اچھی خوراک کے حوالے سے ان کی ضروریات عام آدمی سے زیادہ ہیں۔ ان کا تو خصوصی خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔حکمرانوں سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ اپنا دَھن دولت ان کے نام کردیں بلکہ ان ستم رسیدہ افراد کا ذرا سا کام کردیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے خون سے ملکی ترقی و خوشحالی کے دیپ جلاتے رہے ہیں۔ان کو حکومت کی طرف سے کوئی خصوصی مراعات نہیں دی جاتیں پنشن ان کی تنخواہوں سے کی گئی کٹوتی سے ادا کی جاتی ہے۔اس رقم سے ہی EOBI کی افسریاں چلتی،پھلتی پھولتی اور پلتی ہیں۔EOBI ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشن، عمر رسیدہ افراد کے بینی فٹ کا کیسا ادارہ ہے کہ ان کی خبر ہی نہیں لیتا۔EOBI کے پنشنروں کی پنشن میں سالانہ اضافہ نہیں ہوتا۔صدر صاحب ان کی طرف نظر التفات فرمائیں،آئندہ بجٹ میں ان کی پنشن کم از کم دس ہزار کردیںتو ان کی مشکلات کم ہوسکتی ہیںساتھ ہر سال سرکاری پنشنرز کی طرح اضافہ بھی ہوتا رہے تو یہ لوگ زندگی کی گاڑی دھکیلتے رہیں گے اس سے خزانے پر قطعی اثر نہیں پڑے گا۔ افسروں کی موجیں بھی بدستور جاری رہیں گی۔دیگر پنشنرز خوشحال نہیں ہیں ان کی پنشن میں کم از کم 100فیصد ہو جائے تو وہ بھی کافی حد تک مطمئن ہو سکتے ہیں۔


Tuesday, April 10, 2012

......شہید کی جو موت ہے

منگل ، 10 اپریل ، 2012

شہید کی جو موت ہے....
فضل حسین اعوان ـ 19 گھنٹے 12 منٹ پہلے شائع کی گئی
برف سے ڈھکی سرزمین‘ پرسکون خطے‘ سیاچن کو محاذ جنگ میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم اور قبضے کے خبط نے ڈھالا۔ پاکستان کو اپنے دفاع میں مورچہ بندی کرنا پڑی۔ سیاچن میں پاکستان اور بھارت دشمن کے طور پر ایک دوسرے کے سامنے ہیں۔ بھارت نے 13 اپریل 1984ءکو پاکستان کے اس علاقے پر قبضہ کیا۔ پاک فوج میدان میں اتری تو بھارت کی پیش قدمی رکی اور اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی تاہم سینکڑوں مربع میل علاقہ اب بھی بھارت کے قبضے میں ہے۔ اس دشمن کے قبضے میں جس کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ جس کے ساتھ سالانہ سوا ارب ڈالر خسارے کی تجارت ہو رہی ہے۔ ایک طرف وہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ستم ڈھا کر ان کی نعشیں گرا رہا ہے۔ عزت مآب خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کبھی نہیں رکے۔ اقوام متحدہ بھی مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر چیخ اٹھا ہے۔ دوسری طرف سیاچن میں بھارت کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ تف ہے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے‘ اس کے ساتھ تجارت اور امن کی آشا کی خواہش پر۔سیاچن محاذ پر صرف وہی دشمن نہیں جس کے خلاف فوج صف آرا ہے‘ یہاں دشمن کو دیکھ کر خون خول اٹھتا ہے۔ یہاں سب سے بڑا دشمن بے رحم سرد موسم اور آسمان بھی ہے۔ یہ زمین بھی زمین نہیں۔ برف کا قلزم ہے۔ یہاں انسانی خون تو کیا سانسیں بھی جم جاتی ہیں۔ 1984ءکے بعد سے 5 ہزار بھارتی اور 3 ہزار پاکستانی فوجی ایک دوسرے کی فائرنگ اور بمباری سے نہیں موسمی بے رحمی اور علاقائی دشواریوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ معذور ہونے والوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ بھارتی سینا کی یہ ہلاکتیں اور پاکستانی سپوتوں کی شہادتیں برف پوش پہاڑوں میں بھارت کی دہکائی ہوئی آگ کے باعث ہوئی ہیں۔ ان میں اضافہ جاری ہے۔ 
بھارت کے سیاچن پر قبضے پر صدر جنرل محمد ضیاءالحق نے کہا تھا ”سیاچن میں تو گھاس بھی نہیں اگتی“ خدا کا شکر ہے کہ کسی نے سمجھا دیا کہ وطن عزیز کی ہر انچ کا تحفظ پاک فوج کی ذمہ داری ہے۔ شاید اس کے بعد ہی سیاچن میں پاک فوج کو اتار کر بھارت کی پیش قدمی روکی گئی۔ اگر جنرل ضیاءکی سوچ پروان چڑھ جاتی تو آج پورے برفیلے علاقے پر بھارت کا قبضہ ہوتا اور اس کی توسیع پسندی نہ جانے کہاں جا کر رکتی۔
گذشتہ دنوں پاک فوج کے 124 سپوت سیاچن میں برف کے ایک کلومیٹر قطر کے تودے تلے دب گئے۔ بتایا گیا ہے کہ اس تودے کی اونچائی یا بلندی 80 فٹ ہے۔ گویا ہماری سرحدوں کے نگہبانوں اور پاسبانوں کی میتوں تک رسائی کے لئے 80 فٹ برف کو ہٹانا پڑے گا۔ آج 60 گھنٹوں کے بعد بھی شہدا کی میتوں تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ بڑا مشکل مرحلہ اور لمحہ ہے۔ ریسکیو آپریشن میں بھی جانیں جانے کا اندیشہ ہے۔ آج پوری قوم اس سانحہ پر سوگوار ہے۔ مذکورہ سپوتوں نے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا جذبہ و ولولہ لئے جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ یقیناً یہ ہماری قوم کے متفقہ اور غیر متنازعہ ہیروز ہیں۔ شاعر نے ایسے جانبازوں اور جانثاروں کے بارے میں ہی کہا ہے 
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوٰة ہے
قوم کی دعائیں فوج کے ساتھ ہیں۔ جو نامساعد حالات‘ آندھی و برسات کی پروا کئے بغیر برف کے طوفان اور آگ کے دریا میں بے خطر کود پڑتی ہے۔ سپہ سالار جنرل کیانی بھی اپنی مصروفیات چھوڑ کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی کے لئے برف پوش وادی میں چلے گئے۔ جس روز یہ سانحہ ہوا اسی روز جنرل کیانی نے تلہ جوگیاں رینج کے دورے کے دوران مشقیں دیکھیں اور اپنے خطاب میں کہا ”انتہا پسندی کے خلاف فوج کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔“ جنرل صاحب کا اشارہ اگر قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی طرف ہے‘ یقیناً اسی طرف ہی ہے کیونکہ قبل ازیں بھی عسکری قیادت ایسا کہتی رہی ہے۔ انتہا پسندی کے خلاف یہ جنگ امریکہ کے ایما پر لڑی جا رہی ہے۔ جس کو ہماری عسکری اور سیاسی قیادتیں اپنی جنگ قرار دیتی ہیں۔ اس جنگ میں 5 ہزار سے زائد پاک فوج کے سپوت بھی شہید ہوئے۔ یہ محاذ پر لڑتے ہوئے نہیں وطن عزیز کے اندر اپنے ہی لوگوں کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ یقیناً وہ ایک ڈسپلن کے تحت لڑتے ہوئے جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں۔ سیاچن‘ کارگل 65/71 اور 48ءکی بھارت کے خلاف جنگوں میں جان سے گزر جانے والے شہدا قوم کے غیر متنازعہ ہیروز ہیں۔ پاکستانی سپوت انتہا پسندی کی جنگ میں جو امریکہ کے ایما پر لڑی جا رہی ہے‘ شہید ہونے والے کیا پوری قوم کے غیر متنازعہ ہیرو ہیں؟ کم از کم وہ جن کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے وہ تو ان کو ایسا نہیں سمجھتے۔ ایک عوامی طبقہ بھی امریکہ کی جنگ میں لڑنے والوں کے بارے میں ”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے“ کہنے سے کتراتا اور ہچکچاتا ہے۔ سپہ سالار فوج ایسی کسی مہم جوئی کا حصہ کیوں بنتے ہیں؟ جس میں شہید ہونے والوں کی قربانیوں کو قوم کا خواہ محدود ہی سہی کوئی بھی طبقہ متنازعہ تصور کرتا ہے۔


Thursday, April 5, 2012

لقمہِ حرام


5-4-2012


04-05-2012
لقمہِ حرام
ہمارے ہاں اکثر شعرا کی شاعری شراب اور شباب کے گرد گھومتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ان موضوعات پر اتھارٹی مانے جانے والے سخنوران عظام ان خرافات میں خود بھی مبتلا ہوں جن کو وہ حسین پیرائے میں بیان کرتے ہیں۔ بلاشبہ ان کے کلام سے متاثر ہونے والے کئی لوگ اپنی زندگی برباد کر لیتے ہیں۔ ویسے تو کئی شعرا بلانوش بھی پائے جاتے ہیں مگر سب کے سب نہیں۔ ریاض خیر آبادی کا یہ شعر آج بھی زبان زدعام ہے۔
جامِ مے توبہ شکن توبہ میری جام شکن
سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا
خیر آبادی نے کبھی شراب نہیں پی تھی۔ ہو سکتا ہے اس شعر کی ترغیب سے کئی شرفاءبہک گئے ہوں۔ ہر شرابی شاعروں کا ہی تراشیدہ نہیں ہے۔ گلیوں بازاروں میں گندی نالی کے کیڑوں اور بھوک سے مدہوش کتوں کی طرح بے سدھ پڑے شرابیوں کی بلانوشی کی کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ کئی سوچ سمجھ کر پیتے اور اسی کے سہارے جیتے ہیں۔ گوروں کے پینے پلانے کا انداز ان کے مطابق قدرے مہذبانہ ہے۔ شیمپئن سکاش جیسی بڑی بڑی مہنگی شرابیں موجود ہیں جو ہمارے ہاں بھی آسانی سے دستیاب ہیں۔ دام بنائے کام۔ پیسہ ہو تو جائز ناجائز ہر چیز حاضر‘ لیکن شراب دیسی ہو یا ولایتی‘ سستی ہو یا سونے کے بھاو مہنگی۔ اس کے بنانے کا طریقہ کار ایک جیسا ہی ہے۔ اس کے خمیر میں گند‘ غلاظت اور نجاست ہی نجاست ہے۔ شراب تبھی کشید ہوتی ہے جب مختلف خوردنی اشیاءکو گلا اور سڑا دیا جاتا ہے۔ جب ان اشیاءسے سراندھ اٹھنے لگے تو کشیدگی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ بہترین شراب وہ ہے جس میں گلنے اور سڑنے کے عمل کے دوران مخصوص کیڑا پیدا ہو جاتا ہے۔ اسلام نے ان چیزوں کو ہی حرام قرار دیا ہے۔ جن کی بنیاد حرام پر استوار ہوئی ہے۔ خنزیر کو روئے زمین پر نجس ترین مخلوق اسی لئے قرار دیا گیا ہے اس جیسا بے غیرت جانور کوئی دوسرا نہیں اور یہی واحد جانور ہے جو اپنی نجاست کو اپنی خوراک بھی بنا لیتا ہے۔ انگریز اس کا گوشت رغبت سے کھاتے ہیں جبکہ ہمارے لئے یہ انتہا درجے کا قابل نفرت اور حرام ہے۔ کچھ لوگ تو اس کا نام بھی زبان سے ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حرام حرام ہے‘ وہ شراب ہو‘ سور کا گوشت ہو یا وہ لقمہ جو ہمارے کردار و عمل سے حرام کے زمرے میں آجائے۔ ارشاد خداوندی ہے۔ اے لوگو زمین کی چیزوں میں سے جو حلال اور پاکیزہ ہے کھاو اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے سورہ البقرہ آیت نمبر168ارشاد نبوی ہے جس نے تھوڑا سا مال حرام کھایا تو اس کے پیٹ میں آگ دہکائی جائے گی۔ مزید فرمایا کہ بلاشبہ ”پل صراط پر آگ کی بیڑیاں ہیں“ جس نے حرام کا ایک درہم بھی لیا اس کے پاوں میں آگ کی بیڑیاں ڈالی جائیں گی جس سے پل صراط سے گزرنا دشوار ہو جائے گا۔ فرائض میں غفلت‘ رشوت‘ ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی‘ جھوٹی قسمیں کھا کر تجارت‘ ناپ تول میں کمی۔ پیشہ وروں کا کام کرتے وقت نیت میں کھوٹ‘ قصور وار کو بچانا اور بے قصور کو سزا دلوانا یہ حرام کمائی کی چند مثالیں ہیں۔ جو ہمارے معاشرے میں عام دیکھنے میں آتی ہیں۔ آج کچھ لوگ حرام کمائی سے دولت کے انبار لگا رہے۔ جائز اور ناجائز میں فرق مٹ سا گیا ہے۔ حق تلفی عروج پر ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ حرام نہ صرف ہضم نہیں ہوتا بلکہ کمائے ہوئے حرام سے بڑھ کر اور تکلیف کے ساتھ نکلتا ہے۔ انسان کو لگنے والی بیماری من جانب اللہ ضرور ہوتی ہے۔ یہ نیکوکاروں کے لئے آزمائش اور بدکاروں کے لئے اپنے کئے کی اسی جہاں میں بھی سزا اور دوسروں کے لئے درس عبرت ہوتی ہے۔ ایسے حرام خور بھی دیکھے گئے ہیں جو ناجائز کمائی سے من چاہے کھانے کھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اوپر کی ساری کمائی اپنے‘ اپنی اولاد اور اہلیہ کی ادویات پر لگ جاتی ہے اربوں کھربوں رشوت اور کرپشن کی مد میں کمانے والوں کی زندگیوں کو قریب اور باریک بینی سے دیکھیں تو ان کی مسکراہٹ کے پیچھے بھی ایک غیر محسوس کرب چھپا ہوتا ہے۔ نوٹوں کی تجوریوں اور بوریوں پر بیٹھ کر ان کی حفاظت کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ کل اس دولت کا حساب نہ دینا پڑے گا یہی فکر ان کو گھائل کے ہوئے ہے۔ آج اقتدار کی مسند پر بیٹھے لوگ خود اور ان کی اولادوں تک لوٹ مار میں مصروف ہےں۔ تمام تر اختیارات پاس ہونے کے باوجود ان کی بدنامی اور عزت کا خاک میں مل کے رہ جانا کیا یہ کسی ذہنی اذیت سے کم ہے؟آج قوم بدترین حالات سے گزر رہی ہے اس کی وجہ بالادست طبقوں کا وسائل کو جبری طور پر اپنے استعمال میں لانا ہے۔ قوم کی دعائیں بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں ہمیں اپنے اعمال کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ کیا ہمارے حکمران ہمارا آئینہ ہیں یا ہم اپنے حکمرانوں کا آئینہ ہیں؟ ارشاد ہے کہ حرام کا ایک لقمہ کھانے سے چالیس دن تک دعا قبول نہیں ہوتی۔ ہماری دعا اور آہ و بکاء عرش تک کیوں نہیں پہنچ رہی؟ اس کے لئے خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

Tuesday, April 3, 2012

2....مہران گیٹ.... فوج.... اور سازشیں


20-3-2012

مہران گیٹ.... فوج.... اور سازشیں
فضل حسین اعوان ـ 20 مارچ ، 2012

 حیدر آباد میں پکا قلعہ آپریشن 1990ءمیں ہوا۔ اس پر نظریں رکھنے والے بھی آپریشن کی منصوبہ بندی کرنے والے کے شیطانی ذہن کی داد بغیر نہیں رہ سکے۔ آپریشن کی ٹائمنگ ایسی تھی کہ وزیر اعظم آرمی چیف اور کور کمانڈر کراچی جنرل آصف نواز ملک میں موجود نہیں تھے۔ فوجی چھاﺅنیاں معمول کی مشقوں کے باعث خالی تھیں۔ ایسے میں پولیس پکا قلعہ پر چڑھ دوڑی ۔ بچوں اور خواتین تک کو بھی بے دردی سے قتل کیا گیا قرآن اٹھا کر ستم کا یہ سلسلہ بند کرنے کی درخواست کرنے والی خواتین کے سینے بھی چھلنی کر دیئے گئے۔ فوج کی ہائی کمان تک خبر پہنچی تو فوری طور پر فوجی کارروائی کا حکم دیا گیا لیکن حیدر آباد اور گرد و نواح میں فوج موجود ہی نہیں تھی۔ یونٹوں میں موجود ڈیوٹی دینے والوں کو اٹھا کر وہاں بھیجا گیا تو پولیس کو پسپا ہونا پڑا۔ محترمہ لندن سے لوٹیں تو پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے آئی جی نے بتایا ہے کہ پکا قلعہ میں اسلحہ موجود تھا۔ اسے برآمد کرنے کیلئے آپریشن کیا گیا۔ وہاں تک پہنچنے ہی والے تھے کہ فوج نے رکاوٹ ڈال دی ۔ پولیس واپس گئی تو فوج اسلحہ ٹرکوں میں ڈال کر لے گئی۔یہ اسلحہ واہ فیکٹری کا بنا ہوا تھا۔ اپنی وزیراعظم کی طرف سے یہ کہنے پر فوج کا سٹپٹانا لازم تھا۔ لندن سے واپسی پر محترمہ نے جذباتی انداز میں یہ بھی کہا تھا کہ ہم نے ان (فوج) کو ریڈ لائن (یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے) کراس کرنے سے منع کیا تھا۔ ہماری نہیں مانی گئی۔ محترمہ نے بی بی سی کو انٹرویو کے دوران فخریہ انداز میں اعتراف کیا کہ خالصتان تحریک کے سرکردہ رہنماﺅں کی لسٹیں بھارت کو دی گئی ہیں۔ جن کو راجیو حکومت نے چن چن کر قتل کیا اور بھارت ٹوٹنے سے محفوظ رہا۔مزید یہ بھی سنئیے بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اسلام آباد میں کشمیر کے حوالے سے بورڈ وغیرہ ہٹا دیئے گئے۔ اس وقت میڈیا میں یہ باتیں بھی آئیں کہ وزیر اعظم ہاﺅس کی الیکٹرانک سویپنگ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے کرائی گئی۔ یہ پاکستانی ایجنسیوں اور خود پیپلز پارٹی کے حلقوں کے لئے پسندیدہ اقدام نہیں تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ا س کا مطالبہ راجیوگاندھی نے کیا ہو۔ پاکستانی ایجنسیوں کو لاتعلق تو کیا گیا لیکن بے بس نہیں کیا جا سکا۔ محترمہ اور راجیو کی ون ٹو ون ملاقات ہوئی۔ سننے میں آیا کہ اس کی ریکارڈنگ شام کو صدر اسحق خان کی میز پر تھی۔ اس میں راجیو کو ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کا یقین دلایا گیا تھا۔ کشمیر پر اس نے پاکستان کے ”واویلے “ کی بات کی تو بھی کہا گیا کہ ہم شور شرابا کرتے رہیں گے عملی طور پر کچھ نہیں ہو گا ۔ (دروغ برگردنِ راوی) ۔۔۔ جن ذمہ داروں کے سامنے یہ سب کچھ ہو وہ بھلا خاموش بیٹھیں گے؟ محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی برطرفی کی یہی اصل میں وجوہات بتائی اور گنوائی جاتی ہیں۔
1977ءمیں فیئر الیکشن بھی ہو جاتے تو ذوالفقار علی بھٹو یقینا جیت جاتے۔ 90ءمیں بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی ان کے جیتنے کا امکان تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صدر اسحاق خان نے ہدایت کی کہ حکومت کا خاتمہ اس لئے نہیں کیا کہ دوبارہ اقتدار ان کو دے دیا جائے۔ انہوں نے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کیلئے آرمی چیف کی ذمہ داری لگائی۔ 14کروڑ جس جس کو بھی ملے وہ آئی ایس آئی نے نہیں ملٹری انٹیلی جنس نے تقسیم کئے۔ ستمبر 1990ءمیں جب یہ کھیل کھیلا جا رہا تھا آئی ایس آئی کے ڈی جی آئی جنرل (ر) کلو تھے۔ ان کو اس معاملے سے بے خبر رکھا گیا ۔ میجر جنرل اسد درانی ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے ڈی جی تھے جو بعد ازاں ترقی پانے پر آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بنے تھے۔ رقوم کا لین دین اور زیادہ تر تقسیم سندھ میں ہوئی ان دنوں بریگیڈیئر حامد سعید اختر سندھ میں ایم آئی کے سربراہ تھے۔ وہ عدالت میں بلائے گئے ہیں نہ میڈیا میں سنائی اور دکھائی دیتے ہیں۔بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کی جو وجوہات صدر اسحق خان اور اسلم بیگ کے سامنے تھیں کیا ان کی موجودگی میں ایک جمہوری حکومت کے خاتمے کا جواز بنتا ہے؟ ۔ یقینا جمہوریت بڑی محترم ہے لیکن ملک اس سے بھی زیادہ مقدم و مقدس ہے۔پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشیں اب بھی رکی نہیں ہیں۔ آج بھی دشمن قوتوں کی نظر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہے۔ ایک بار پھر دہرا دیں چونکہ فوج ایٹمی پروگرام کی گارڈین اور کسٹوڈین ہے اس لئے آج بھی فوج کو کمزور کرنے کی نجس منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ جس میں اپنے بھی شامل ہیں۔ کیری لوگر بل اٹھائیے اس میں پاک فوج پر قدغنوں کی بات کی گئی۔ حسین حقانی کی کتاب
Between Mosque and Military بھی سامنے رکھئے۔ پورے کے پورے پیراگراف اس سے لئے گئے ہیں۔ بل حقانی نے تیار کیا یا ان کی معاونت لی گئی ۔ لیکن کس کے کہنے پر؟ اب میمو گیٹ کے مندرجات پر بھی ایک بار پھر نظر ڈالئے اس کی صداقت یا عدم صداقت واضح ہو جائے گی۔ پاکستان میں رائیٹسٹ ہمیشہ پاک فوج کے شانہ بشانہ رہے ہیں ۔اب مہران گیٹ کے ایک بار پھر سامنے آنے پر یہ لوگ فوج سے دور ہوتے دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ کس کی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے؟ ۔ جس کی بھی ہو لیفٹسٹ البتہ اس پر قہقہہ بار ہیں ۔ یوں تو مہران گیٹ کا عدلیہ کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچنا مشکل نظر آتا ہے۔ اگر پہنچا تو یقیناً جہاں بہت سے چہروں سے نقاب اترے گا وہیں ایٹمی پروگرام کی کسٹوڈین فوج کی بدنامی ہو گی جس سے فوج کمزور تو ہو گی ہی مزید تنہا بھی ہو جائے گی۔ یہی پاکستان دشمنوں اور اس کے ہاتھوں میں کھیلنے والے اپنوں کی سازش ہے۔ موجودہ حالات میں فوج کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ مضبوط فوج ہو گی تو ملک مضبوط اور محفوظ و مامون رہے گا۔ ملک نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ جمہوریت نہ غیر جانبدار اور آزاد عدلیہ۔ بھارت سے تجارت اور تعلقات فوج کا ایجنڈا کبھی نہیں رہا۔ آج تو پاکستان کے بدترین دشمن کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ محترمہ کے جس وژن سے رہنمائی لینے کی بات صدر اور وزیر اعظم کر رہے ہیں اگر وژن وہی ہے جس کے باعث 1990ءمیں ان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تو امریکہ کے ساتھ دوستی، ایبٹ آباد آپریشن کو عظیم کامیابی قرار دینے، نیٹو سپلائی کی بحالی کیلئے بے قراری اور بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے جیسے اقدامات کی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے۔آخر میں خلیل ملک مرحوم کے خبریں میں ”آئی ایس آئی کا جرم یا نیکی“ کے عنوان سے 12نومبر 1997ءکو شائع ہونے والے کالم کے اس اقتبا س پر نظر ڈال لیں جس سے میرا یا آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
پاکستان انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام ہے کہ اس نے اس ”مہربان“ خاندان کا اقتدار روکنے کیلئے چودہ کروڑ روپے صرف کئے۔کھیت میں گھس آنے والے سوّر کو ہلاک کرنے کیلئے گولی چلائیں تو اسے قتل نہیں کہتے۔ سانپ کو مار دیں تو یہ بے رحمی حیوانات نہیں ہے، انسانیت کی خدمت ہے، جس خاندان کی وجہ سے پاکستان دو ٹکڑے ہوا ہو، پاکستانی فوج نے سر میں جوتے کھائے ہوں، جس کی وجہ سے بھارت ٹکڑے ہونے سے بچا ہوا اور سکھوں کا قومی قتل عام ہو، جس کی وجہ سے کشمیری مسلمان پامال ہو گئے ہوں اور قتل عام کا سامنا کر رہے ہوں، اس خاندان کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے چودہ کروڑ روپے صرف کرنا گناہ نہیں۔ عین ثواب ہے۔ (ختم شد)

مہران گیٹ.... فوج.... اور سازشیں


فضل حسین اعوان ـ 17 مارچ ، 2012


17-3- 2012
مہران گیٹ.... فوج.... اور سازشیں
فضل حسین اعوان ـ 17 مارچ ، 2012

 قسط نمبر 1
مغرب اپنے مقاصد کے حصول اور تکمیل کیلئے صدیوں تک بھی پلاننگ اور انتظار کرتا ہے۔ عثمانیہ سلطنت کے خلاف سازشوں کا سلسلہ ہیمفرے نے شروع کیا جسے لارنس آف عریبیہ نے پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے عثمانیہ سلطنت توڑ کے مسلمانوں کے دل بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ۔ ان سازشوں کا سلسلہ سوا دو سو سال پر محیط ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز ہوا تو اس کے ساتھ ہی اس کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی بلاشبہ ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ انہوں نے ببانگ دہل کہا تھا ”گھاس کھا لیں گے ایٹم بم ضرور بنائیں گے“ ہمارے سیاستدانوں کا ایک ہی قابل فخر کارنامہ ہے کہ میاں نواز شریف کے 28 مئی 1998ءکو کیے جانے والے دھماکوں تک ہر بااختیار حکمران نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کوئی دباﺅ قبول نہ کیا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی آسانی سے تکمیل اس لئے بھی ہو گئی کہ امریکہ کو روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان کے تعاون کی اشد ضرورت تھی اس لئے امریکہ نے پاکستان کی نیو کلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں سے صرفِ نظر کیا۔ روس ٹوٹا تو ایک بار پھر امریکہ کیلئے پاکستان کا ایٹمی پروگرام ناقابل برداشت ہو گیا۔ اس کو رول بیک کرانے کیلئے امریکہ نے یہاں پاکستان پر کھلے بندوں دباﺅ ڈالا وہیں حکمرانوں کو اپنی راہ پر لانے کی کوششیں کیں تو کئی بِک بھی گئے۔ ایٹمی پروگرام فوج کی نگرانی میں شروع ہوا ، پایہ تکمیل تک پہنچا اور فوج ہی اس کی محافظ ہے۔ پاکستان میں اگر آئیڈیل جمہوریت ہوتی یا رہی ہوتی تو یقینا ایٹمی پروگرام کے حوالے سے حتمی فیصلے بھی سیاسی حکومتیں کرتیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے بدخواہوں کی طرح ایٹمی پروگرام کو پاکستان کے بعض حکمرانوں سے بھی خطرہ رہا ہے۔ کوئی خود کو کتنا بڑا ہی تیس مار خان اور طورم خان کیوںنہ سمجھے۔ سیاسی حکمرانوں کی ایٹمی پروگرام تک کبھی رسائی نہیں رہی۔ سوائے شوکت عزیز کے ۔ جن کو ایٹمی تنصیبات کا دورہ کرا دیا گیا۔ گو شوکت عزیز با اختیار وزیر اعظم نہیں تھے لیکن ان کی ڈوریاں یہاں سے ہلتی تھیں اس حوالے سے ان کا دورہ خطرناک تھا۔ مشرف سے سوال کرنے والے ان سے اس حوالے سے بھی سوال ضرور کریں۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی چونکہ محافظ پاک فوج ہے ، مضبوط فوج کی موجودگی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک رسائی اور اسے نقصان پہنچانا ممکن نہیں۔ جو قوتیں پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو نقصان پہنچانا اور اس کو اپنے زیر کنٹرول لانا چاہتی ہیں وہ مضبوط فوج کو اپنے نا پاک منصوبوں کے راستے میں سنگ گراں سمجھتی ہیں۔ پاکستان کو ایٹم بم سے محروم یا اس کی صلاحیت کو محدود کرنے کیلئے فوج کو کمزور کرنا اس کی پہلی اور آخری ترجیح ہے۔ اسی لئے سازشوں کے جال بنے جا رہے ہیں۔ سیاستدانوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے پاکستانی میڈیا پر 670ملین ڈالر انویسٹ کئے ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز دیکھنے اور اخبار و جرائد میں آرٹیکلز پڑھنے والوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ اس سرمایہ کاری سے کون کون مستفید ہوا ہو گا۔ 
کرنل قذافی کو بھی ایٹم بم بنانے کا شوق چرایا تھا اس نے ابتدا بھی کر دی۔ امریکہ کا دباﺅ پڑا اور بڑھا تو ایٹم بم کی تیاری کیلئے اکٹھا کیا گیا مواد اور آلات امریکہ بھجوا دیئے۔ امریکہ ایسی ہی توقعات عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان سے بھی رکھتا ہے۔ کرنل قذافی جیسے پاکستان میں بھی بااختیار حکمران ہوتے تو شاید امریکی خواہش بر آتی۔ یہ معاملہ چونکہ فوج کے ہاتھ میں ہے اس لئے یہ پروگرام محدود ہو سکا اورنہ رول بیک۔ فوج کو کمزور کرنے کیلئے اسی لئے سازشیں ہو رہی ہیں۔ مغرب تو اپنی سازشوں کی تکمیل کیلئے صدیوں کا انتظار بھی کر لیتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو شروع ہوئے تو ابھی چالیس سال، ایٹم بم کو بنے 30 اور باقاعدہ اعلان شدہ ایٹمی قوت بنے 14 سال ہوئے ہیں۔
آج مہران گیٹ کا پھر شہرہ ہے ا سکی بھنک 20سال قبل پڑی۔ 22سال قبل 1990ءمیں بینظیر بھٹو کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے یونس حبیب سے کروڑوں روپے حاصل کرکے سیاستدانوں میں تقسیم کئے گئے۔ مقصد محترمہ کے خلاف آئی جے آئی کے نام سے سیاسی اتحاد تشکیل دینا تھا۔ اس اتحاد کو تشکیل دینے والوں کے پیش نظر بھی پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا جو اپنی دانست میں اسے خطرات میں سمجھتے تھے۔ میں ان کروڑوں پاکستانیوں میں سے ہوں جن کا روئے زمین پر ایک ہی ٹھکانہ پاکستان ہے جو اس کی حفاظت کے لئے جان کی بازی تک بھی لگانے کی پروا نہیں کرتے وہ شخصیات ہوں یا ادارے، وہ ہمارے لئے باعث صد احترام ہیں . جو اس معاملے میں دوسرے کنارے پر ہیں ان سے اوّل تو قدرت کاملہ انتقام لے لیتی ہے اگر بچ نکلتے ہیں تو قوم کو ان کے بارے میں معلوم ضرور ہونا چاہیے۔
1990ءمیں بااختیار لوگوں کی طرف سے سیاستدانوں میں کروڑوں روپے تقسیم کرنے کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ اگر سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر سوچا جائے تو غلام اسحق خان ایسی شخصیت ہیں جن کے بارے میں بلامبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ He was the right man at right place انہوں نے ایک بار محترمہ کی حکومت توڑی دوسری بار نواز شریف کی۔ بالآخر ان کو خود بھی نواز شریف کے ساتھ گھر جانا پڑا اس لئے دونوں پارٹیوں کے لئے راندہ درگاہ ٹھہرے۔ جنرل اسلم بیگ یقینا اقتدار کے لالچ سے مبرا تھے اور ان کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ محترمہ کو اقتدار دلانے میں جنرل اسلم بیگ پیش پیش تھے۔ اسحاق خان کو صدر برقرار رکھنے کی پیپلز پارٹی نے حمایت کی تھی پھر محض ڈیڑھ دو سال بعد ہی صدر اور آرمی چیف ان سے بدظن کیوں ہو گئے کہ ان کی حکومت توڑ دی اور ان کے دوبارہ اقتدار میں واپسی ناممکن بنانے کیلئے آئی جے آئی کی تشکیل پر کروڑوں روپے بھی لگا دیئے؟ ۔ آگے چلنے سے قبل ماہرین کی یہ رائے ذہن میں رہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو جس عمر میں اقتدار ملا اس وقت ان کی سیاسی بصیرت اور بصارت کا خانہ تقریباً خالی تھا۔ البتہ پچاس کی عمر کے بعد دونوں پختہ کار سیاست دان بن گئے۔
محترمہ اقتدار میں آئیں تو سیاسی ناتجربہ کاری کے باعث معاملات پارٹی قائدین کی مشاورت سے چلاتی تھیں انہوں نے کچھ انکلوں سے اقتدار سے قبل اور کچھ سے اقتدار کے دوران جان چھڑا لی تھی۔ یہ تو عمومی رائے ہے کہ پاکستان میں حکومت کی تشکیل میں امریکہ کا کردار اہم ہوتا ہے ۔ شاید ہٹانے میں اتنا زیادہ نہیں۔ محترمہ کے پہلے دور میں بھی کرپشن کہانیاں عام تھیں۔ آصف علی زرداری کو 10پرسنٹ کہا جاتا تھا۔ لندن سے پاکستان میں ہسپتال کی تعمیر کا اشتیاق لے کر آنے والے بخاری بزنس مین سے ساڑھے تین کروڑ روپے وصول کرنے کیلئے ان کی ٹانگ سے بم باندھنے کی داستان بھی عام ہوئی۔ کراچی میں وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کا حکم دیا تو آرمی چیف جنرل بیگ نے کہا کہ فوجی آپریشن اندرون سندھ ڈاکوﺅں اور رسہ گیروں کے خلاف بھی کیا جائے گا جس سے محترمہ نے انکار کر دیا تھا۔ الذوالفقار کی کارروائیاں بھی لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیںیہ معاملات ایسے نہیں ہیں جن کو جواز بنا کر جمہوریت کو تلپٹ کر دیا جائے۔ .... تاہم....