About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Tuesday, April 24, 2012

127 افراد کا قتل


منگل ، 24 اپریل ، 2012

127 افراد کا قتل!
فضل حسین اعوان ـ 21 گھنٹے 54 منٹ پہلے شائع کی گئی
بھوجا ائرلائن کے طیارے کا حادثہ 127 افراد کی جان اور ان کے ہزاروں عزیز رشتہ داروں کے ارمان لے گیا۔ قوم ابھی 7 اپریل کو سیاچن میں تودے تلے دبے 139سپوتوں اور جاں نثاروں کے دکھ اور صدمے کی کیفیت میں ان کی سلامتی کے لئے دعاگو تھی کہ ایک اور المیے نے سوگوار کر دیا۔ جو شخص دنیا میں آیا اس نے ایک دن جانا ہی ہے۔ یہی اٹل حقیقت ہے۔ موت کو ایک بہانہ چاہئے۔ کوئی بیمار ہو کر چل پڑتا ہے‘ کوئی حادثے کا شکار ہو کر‘ کوئی محاذ جنگ پر جان دے دیتا ہے۔ کوئی ٹارگٹ کلنگ اور اندھی گولی کے باعث جان ہار دیتا ہے۔ جب سے کائنات تخلیق ہوئی انسان اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر آنسو بہاتا اور ماتم کرتا چلا آرہا ہے۔ صدمہ کتنا بھی گہرا ہو‘ انسان کو خدا کی رضا میں راضی ہی ہونا پڑتا ہے لیکن اپنے پیاروں کے قتل پر انصاف کے حصول تک انسان چین سے نہیں بیٹھتا۔
ائر بلیو کی پرواز کو 28 جولائی 2010ءکو اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں حادثہ پیش آیا۔ 153 انسان یک بیک لقمہ اجل بن گئے۔ تحقیقات میں ڈیڑھ سال لگ گیا۔ جس میں پائلٹ کو قصور وار ٹھہرایا گیا۔ ماہرین کے مطابق 84 فیصد حادثات انسانی غلطی کے باعث ہوتے ہیں۔ جس میں پائلٹ‘ ائر ٹریفک کنٹرولر اور انجینئرز کی غلطی‘ غفلت یا کوتاہی شمار ہوتی ہے۔ مسافر جہاز کے پائلٹ کے پاس غلطی کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ وہ زندگی میں صرف ایک ہی غلطی کرتا ہے۔ دوسری کے لئے اس کے پاس وقت ہوتا ہے نہ موقع ملتا ہے۔ اس کے ساتھ دیگر کئی انسانی جانوں کی سلامتی بھی وابستہ ہوتی ہے۔ اس لئے پائلٹ سے دانستہ غلطی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ غفلت اور کوتاہی کا ارتکاب بھی ناممکنات میں سے ہے۔ پائلٹ کی غلطی صرف اس کی مس ججمنٹ کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ بھوجا ائرلائن کے حادثے کی کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔ انسانی غلطی یا ٹیکنیکل خرابی.... اگر ایسا ہی ہوتا تو یقیناً حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اپنے پیاروں سے بچھڑنے کے غم میں آنسو بہاتے بہاتے صبر کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن ان کو قرار اس لئے نہیں آئے گا کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں۔ اس کے پیچھے بھی کرپشن‘ مفادات اور بدنظمی کی ایک داستان ہے۔ بلاشبہ نئے جہاز کو بھی حادثہ پیش آجاتا ہے لیکن اس کے پیچھے مفادات کی کوئی کہانی نہیں ہوتی۔ جس قسم کے جہاز کو اسلام آباد میں حادثہ پیش آیا یہ پوری دنیا میں متروک ہو چکا ہے۔ پھر بھوجا ائرلائن پر 2001ءمیں پابندی لگا دی گئی تھی۔ وہ گذشتہ ماہ اٹھائی گئی ہے۔ حادثے کے حوالے سے اہم ترین ایک ہی سوال ہے۔ ”کروڑوں روپے ہڑپ کرنے والی ائرلائن کو دوبارہ آپریشن کی اجازت کس نے دی اور وہ بھی بوسیدہ اور متروک جہاز کے ساتھ؟“ رولز اور پروسیجرز کی دھجیاں بکھیرے بغیر ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس تناظر میں حادثے کو دیکھا جائے تو 127 افراد کو قتل کیا گیا ہے۔ کس نے کیا؟ اس کی انکوائری کی ضرورت ہے۔ انکوائری کون کرائے؟ وہی جو کسی نہ کسی صورت میں ذمہ دار بھی ہیں؟ حکومت نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لئے گروپ کیپٹن (ر) مجاہد الاسلام کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی اور بھوجا ائرلائن کو لائسنس دینے کی تحقیقات کے لئے سابق ججوں پر مشتمل 3 رکنی کمیشن تشکیل دیا ہے۔ کمشن کی تشکیل پر مسلم لیگ (ن) نے شدید احتجاج اور اعتراض کرتے ہوئے اسے فراڈ قرار دیا ہے۔ یہ کوئی پتنگ نہیں تھا کہ بھوجا نے جنوبی افریقہ سے خریدا اور پاکستان میں اڑانا شروع کر دیا۔ طیاروں کو فٹنس کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی کمپنی بھی بھوجا کے ایم ڈی ارشد کی ملکیت ہے۔ اس کو بھی کسی نے سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی اجازت دی ہو گی؟ کس نے‘ کس بنیاد پر دی؟ یہ سب منظرعام پر آنا چاہئے۔ جو ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمشن نہیں حاضر سروس ججوں پر مشتمل کمشن ہی منظرعام پر لا سکتا ہے۔ وہ کمشن جو حکومت نہیں چیف جسٹس تشکیل دیں۔ اس کمیشن کی سفارشات‘ فائنڈنگز یا فیصلوں کا حال بھی ویسا ہی ہو گا جیسا آج حکومت اور حکمرانوں کے خلاف ہونے والے این آر او اور رینٹل پاور منصوبوں جیسے فیصلوں کا ہو رہا ہے۔ مایوس اس لئے نہیں ہونا چاہئے کہ فیصلوں پر عملدرآمد کبھی تو ہو گا اور یقیناً ہو گا۔ اگر وزیراعظم اسی جوڈیشل کمشن پر مصر رہے تو اس کی سفارشات کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی۔ وقت آنے پر جب یہ جا چکے ہوں گے کچھ جلاوطن اور کچھ جیل میں ہوں گے تو نیا کمشن بنے گا جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے گا۔ 
بھوجا ائرلائن کے حادثے میں مذکورہ کمپنی کی بدنامی تو ہوئی‘ مالی نقصان نہیں ہوا۔ طیارے کی ایک ملین ڈالر کی انشورنس ہو چکی تھی۔ پرانا طیارہ شاید کباڑ کے بھا ¶ خریدا گیا ہو۔ تھرڈ پارٹی انشورنس 30 کروڑ ڈالر میں ہوئی۔ یہ تھرڈ پارٹی طیارے کے مسافر ہیں۔ اس رقم کی منصفانہ تقسیم کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یہ بھی بھوجا ائرلائن کے مالکان‘ اس ائرلائن کو آپریشن اور کھٹارا جہاز اڑانے کی اجازت دینے والوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ یہی حکمران اور متعلقہ اداروں اور شعبوں میں لگائے ہوئے ان کے افسران رہے تو بھوجا ائرلائن کو ایک بار پھر آپریشن اور انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت دے دیں گے۔


No comments:

Post a Comment