About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, October 31, 2013

ڈالرنگ ، ڈارلنگ

ڈالرنگ ، ڈارلنگ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
31 اکتوبر 20130
Print  
ڈالرنگ ، ڈارلنگ
نواز لیگ نے توانائی، دہشت گردی اور لاقانونیت جیسی ابتلاﺅں میں مبتلا ریاست کی پشت پر سواری شروع کی تو انرجی کرائسز کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا، دوسری ترجیح دہشت گردی سے نجات تھی ۔ سردیوں کا آغاز ہو چکا، کل یکم نومبر ہے۔ اکثر گھروں، کاروباری مراکز اور دفتروں کے اے سی بند ہو چکے ہیں۔ حکومت نے آتے ہی 480 ارب روپے کا گردشی قرض بھی چکا دیا تھا لیکن لوڈشیڈنگ کا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ آج کی خبر ملاحظہ فرمائیے ”موسم کی صورتحال میں بہتری کے باوجود بجلی کا شارٹ فال بڑھ کر 3200 میگا واٹ سے تجاوز کر گیا۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانہ 10 سے 14 گھنٹے تک پہنچ گیا۔ این ٹی ڈی سی حکام کے مطابق مجموعی طلب 12800 جبکہ پیداوار 9500 میگاواٹ کی کم ترین سطح پر آ گئی۔“خدا نخواستہ انرجی بحران کا خاتمہ اگر پہلی ترجیح نہ ہوتا تو کیا ہوتا! دوسری ترجیح بھی اسی طرح سسک رہی ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر امریکہ سے اجازت ، برطانیہ سے آشیرباد لی جا رہی ہے۔ نواز شریف نے شام کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری وزیر داخلہ چودھری نثار کے سپرد کی تو انہوں نے جادو کی چھڑی لہرائی اور شام ڈھلے خوشخبری سُنا دی کہ ہوم ورک مکمل کر لیا‘ مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔ اُدھر مولانا فضل الرحمن کی اُچھل کود قابل دید ہے، وہ جان کیری کی موجودگی میں افغانستان گئے واپسی پر بڑے فخر سے خوشخبری سنائی ” ہم نے افغان امریکہ معاہدہ نہیں ہونے دیا۔“ اب اس دورے کو طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اپنے کردار سے منسلک کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ فضل الرحمن ”مولوی “ نہ ہوتے تو سب سے بڑے سیاستدان ہوتے۔ ایک شاعر انڈیا گئے کسی نے انہیں غالب سے بڑا شاعر کہا تو انہوں نے یقین کر لیا۔ ایک اور شاعر کو ایران میں کسی نے حافظ شیرازی کے ہم پلہ قرار دیا تو وہ اسی زعم میں مبتلا ہو گئے۔ مولانا خود کو ”غیر مولانا“ کی شرط پوری کئے بغیر سب سے بڑا سیاستدان سمجھ رہے ہیں۔ ان کا چہرے اور سر سے کلین شیو نیا ترجمان دنیا کو شاید یہی باور کرا رہا ہے کہ ہم اتنے بھی ”مولانا“ نہیں ،آزما کر تو دیکھو۔ وہ اپنی اہمیت بڑھانے، سیاست کو چار چاند لگانے اور وزارتیں پانے کے درپے جبکہ نواز شریف انہیں طالبان کے ساتھ مذاکرات کا پُل سمجھ بیٹھے ہیں۔ آج ہی حکیم اللہ محسود نے کہا ہے ” جنگ بندی ڈرون حملوں کے خاتمے سے مشروط ہے اور ڈرون حملے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔“ امریکی رکن کانگریس گرے سن نے یہی بات ذرامختلف انداز میں کہی ” ڈرون حملے غیر قانونی ہیں لیکن پاکستان کی رضا مندی کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ میاں نواز شریف کے امریکہ کے دورے کے موقع پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا ”دورے کا ایجنڈا ڈرون نہیں معیشت ہے۔“ یہی طالبان نے ان الفاظ میں کہا تھا ” نواز شریف ڈرون حملے بند کرانے نہیں امداد کیلئے امریکہ گئے ہیں۔“ وزیراعظم نواز شریف امریکہ سے لندن آئے تھوڑی سی ریسٹ کے بعد پاکستان تشریف لائے اور ویک اینڈ گزار کر پھر برطانیہ چلے گئے۔ جہاں فرمایا” طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے جب بھی بات آگے بڑھتی ہے کوئی واقعہ ہو جاتا ہے۔“ اب کیا گارنٹی ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہو گا؟ فریقین مخلص ہوں تو کوئی واقعہ رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ مذاکرات کیلئے قوم ایک پیج پر ہے نہ فوج مذاکرات کی حامی۔ ایسے مذاکرات کا کیا آغاز ہو گا اور کیا اختتام!!۔ ان حالات میں معالات کو خوش اسلوبی سے لیکر آئے بڑھنا اور منطقی انجام تک پہنچانا ہی سیاسی قیادت کی اہلیت کی آزمائش ہے کئی حلقوں کے نزدیک اس سے حکمران عاری ہیں جس کا ثبوت ان کی خود مقررکردہ ترجیحات کا حال ہے۔ البتہ پھرتیوں پر نظر ڈالی جائے تو اس میں مہارت کا آپ کو قائل ضرور ہونا پڑیگا۔ میاں نواز شریف لندن میں اور برادر خورد برلن میں پائے جاتے ہیں وہ بھی اس موقع پر والد محترم کی برسی تھی۔ کسی صحافی نے خودکار خبر لگا دی کہ 29 ستمبر کو برسی شایان شان طریقے سے رائیونڈ میں منائی جائیگی۔ جس میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف بھی شریک ہوں گے۔ برسی شایان شان طریقے سے نہیں عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے۔ شریف فیملی کے ہاں ابّا جی کا بدرجہ اتم احترام پایا جاتا تھا، وہ بڑے بڑے فیصلوں کو ایک ناں میں مسترد کرتے تو اس پر عمل ہوتا۔ قوم آج مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور بحرانوں کا رونا روتے ہوئے واوایلا کر رہی ہے کہ نواز لیگ اپنے وعدے بھول گئی۔ عوام کا گِلہ بے جا یوں کہ جو لوگ اقتدار کی چکا چوند اور غلام گردشوں میں گم ہو کر اپنے دیوتا جیسے والد کی برسی بھول گئے ان کیلئے یہ عوام کس باغ کی مولی ہیں۔ انہوں نے تو خیر برسی کو بھلایا ہے امیر حیدر ہوتی زندہ جاوید والد اعظم ہوتی کے خلاف اے این پی کے مو¿قف کا پرچم لہرا رہے ہیں۔اے این پی کی قیادت سیاسی آلائش کی چھینٹوں سے باپ بیٹے کے رشتہ کے تقدس کو داغدار نہ کرتی تو بہتر تھا تاہم امیر حیدر مُنہ میں چوسنی نہیں عقلِ سلیم رکھتے ہیں ،اسے استعمال کر لیتے۔ انہوں نے گھر کے کپڑے سرعام دھونے کا فیصلہ نجانے کیا سوچ کر ہی کیا۔
لوگ سوال کرتے ہیں کہ آخر نواز شریف صاحب کا مشیر خاص کون ہے؟ وہ کس کی مانتے ہیں کہ معاملات سلجھانے کا سرا ہاتھ نہیں آرہا۔ جواب عجب طرح کے ملتے ہیں۔ ایک نے اہلیت کو موضوع بنایا کہ موجودہ وسائل کو بروئے لا کر بحرانوں کے خاتمے کو ہی اہلیت و قابلیت کہتے ہیں، ٹیکس لگا کر مال دولت جمع کر کے تو نتھوخیراامور چلا لے گا لیکن یہاں تو بے تحاشا ٹیکس لگا کر بھی کہیں ریلیف نظر نہیں آتا۔ کسی نے کہا آجکل میاں صاحب کے سو رتن ہیں نہ نو رتن، ان کے تین دُلارے اور پانچ پیارے بھی نہیں البتہ سات ستمگرضرور ہیں لیکن ان کا میاں صاحب کو گائیڈ یا مس گائیڈ کرنے میں کوئی ہاتھ نہیں۔ میاں صاحب کیلئے آج ایک ہی شخص سقراط، بقراط اور افلاطون ہے۔ اوپر کارسازِزمانہ ربّ پروردگار اور نیچے وزیر خزانہ اسحاق ڈار ہے۔ڈار صاحب کی طبیعت میں ڈالرنگ کا عنصر بدرجہ اتم پایا جاتا ہے، قرض دینے والے ممالک اور اداروں کے لئے وہ ڈارلنگ ہیں۔عوام ڈالرنگ اورڈارلنگ کے درمیان پس سے گئے ہیں۔ اگر میاں صاحب اسحاق ڈار کے سحر سے باہر نہ آئے تو نواز لیگ کی سیاست مزید نفرت کا نشانہ بن سکتی ہے۔ شاید اسی خوف سے بلدیاتی انتخابات کے غیر جماعتی بنیادوں پر انعقاد کیلئے کمر باندھ رکھی ہے۔ کل مشرف کی غازی عبدالرشید کیس میں ضمانت  پرسوں ملک سے پُھر ہونے کا بھی امکان ہے ۔

Tuesday, October 29, 2013

حصار اور حفاظت

حصار اور حفاظت

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان
29 اکتوبر 20130
حصار اور حفاظت
سر تا پا سیاہ برقعوں میں ملبوس تین خواتین جس انداز سے پارک میں داخل ہوئیں اس پر توجہ کا مرکوز ہونا فطری امر تھا۔ چھوٹی سی پارک کی آج کل ایک ہی انٹرنس ہے۔ پارک میں صبح دسیوں لوگ سیر کیلئے آتے ہیں ان میں خواتین مردوں سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہوتیں۔ سرسبز پارک کے گرد چار سو میٹر کاچار پانچ فٹ چوڑا کچا ٹریک ہے جس پر سیر، واک یا جوکنگ کرنے والے ایک ہی سمت چلتے ہیں۔ ڈونگی پارک میں اُترتے ہی لوگ ٹریک پر رواں ہو جاتے ہیں۔ یہ خواتین اس کے برعکس گراﺅنڈ کے اندر داخل ہوئیں۔ یہ عید کے چوتھے روز صبح چھ سوا چھ بجے کا واقعہ ہے۔ ابھی سورج نے اپنی کرنیں نہیں بکھیریں تھیں، گھاس پر اوس کے قطرے موتیوں کی طرح موجود تھے۔ یہ عورتیں گھاس پر چند قدم چلتے ہوئے رکیں، اپنے نقاب اٹھائے تو چہرے برقعے جیسے کالے کپڑے سے سوائے آنکھوں کے ڈھانپے ہوئے تھے ۔انہوں نے ایک ہی ایکشن میں نقاب اٹھایا اورپلک جھپکتے میں پھر گرا دیا۔ اس کے ساتھ ہی گراﺅنڈ کے بیچوں بیچ چلنا شروع کر دیا۔ اس پارک کے کبھی دو داخلی راستے ہُوا کرتے تھے، دوسرا حافظ سعید کی سکیورٹی کے باعث بندجزوی طورپر کر دیا گیا۔ اس انٹرنس کے ساتھ ہی مسجد توحید اور اس کے ارد گرد کہیں حافظ صاحب کا گھر ہے۔ جس کے گرد 2008ءکے ممبئی حملوں اور اس کا الزام حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں پر لگائے جانے کے بعدسکیورٹی ٹائٹ کرتے ہوئے پولیس تعینات کر دی گئی۔ حافظ صاحب کو نظر بندی کی صورت میں ان کا سرکاری عوضانہ،اعزازیہ یا خرچہ مقرر کر کے شاید یہیں رکھا جاتا ہے۔ پولیس کی اس پبلک پارک پر بھی نظر ہوتی ہے۔ پولیس سیر کیلئے آنے والوں کے معمولات میں مخل نہیںہوتی۔ ۔۔چند منٹ یہ خواتین مسجد کے سامنے کھڑی رہیں اور پھر چل دیں۔ یہ کوئی غیر معمولی باتنہیں تھی اس کا سیر کرنے والوں نے اگر نوٹس بھی لیا تو وہ سرسری سا تھا۔ وہ جس راستے سے داخل ہوئیں وہاں پہنچنے والی تھیں کہ پارک میں ایک ہلچل سی محسوس ہوئی، چند لمحوں بعد دیکھا کہ ایک بندوق بردار پولیس اہلکار اور ایک سول کپڑوں میں ملبوس نوجوان ان کی طرف بھاگتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی طرف متوجہ دو معززین نے بتایا کہ خواتین مسجد کی فوٹو گرافی کر رہی تھیں ان کے ساتھ دو مرد بھی تھے۔ پولیس اہلکار کے ساتھ جانے والا نوجوان جماعت الدعوة کا مجاہد تھا۔ انہوں نے اس قافلے کو روکا تو انہوں نے بتایا کہ وہ قریب ہی رہتے ہیں، کرائے کے گھر میں منتقل ہوئے دو تین ماہ ہوئے ہیں۔ ہم لوگ جہاں سیر کے لئے آئے تھے بچی نے اگر تصویر بنا لی ہے تو کیا ہُوا۔ یہ دونوں حضرات باریش تھے۔اس وقت تک مزید پولیس اہلکاراور ذمہ دار بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔ پتہ چلا کہ موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو ڈیلیٹ کر دی گئی اور ان کو جانے دیا گیا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ پہلے یہ دو حضرات پارک میں داخل ہوئے، انہوں نے کلیرنس دی تو خواتین آگے بڑھیں۔ اس پارک سے عید سے قبل بھی ایک مشکوک شخص پکڑا گیا تھا۔
حافظ سعید کا بھارت کو مطلوب شخصیات کی فہرست میں سب سے اوپر نام ہے، وہ کشمیر میں حریت پسندی کو دہشت گردی کا نام دیکر اس میں لشکر طیبہ اور جماعت الدعوة کو ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ اس نے ممبئی حملوں کی ذمہ داری پاکستان، آئی ایس آئی، حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں پر ڈالی تھی۔ بھارت نے دنیا میں اس حوالے سے اس قدر واویلا کیا کہ امریکہ جیسا ملک بھی متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ اس نے وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورے کے موقع پر خود صدر اوباما نے بھارتی مو¿قف کی تائید اور وکالت کرتے کی۔ سینیئر امریکی حکام نے کہا کہ حافظ سعید کے بارے میں پاکستان کو ٹھوس ثبوت دے دئیے ہیں۔ پاکستان جماعة الدعوة پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کا احترام کرے۔
بھارت حافظ سعید کی سانسوں سے بھی خائف اور ان کو چھین کیلئے سرگرداں ہے، اس کی ایجنسیاں حافظ صاحب کے پیچھے لگی ہوئی ہیں۔ حافظ صاحب تک رسائی میں ناکام رہیں تو جماعةالدعوہ کے فعال رہنما خالد بشیر کو رواں سال مئی کے وسط میں لاہور سے اغوا کیا اورسفاکانہ طریقے سے قتل کر کے نعش شیخوپورہ نہر میں پھینک دی۔ان کے ناخن کھنچے ہوئے ، ہڈیاں ٹوٹی ہوئیںاور آنکھوں میں گولیاں ماری گئی تھیں۔قاتل گرفتار ہوئے۔ تحقیق اور تفتیش سے ثابت ہُوا کہ قتل کا ماسٹر مائنڈ دبئی میں اور پلاننگ ”را“ نے کی تھی۔ ”را“ جیسی ایجنسیاں ایسی کارروائیاں کرتی رہتی ہیں لیکن جو کچھ سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے کیا ایسا کوئی فوج نہیں کرتی۔ وی کے سنگھ نے حافظ سعید تک رسائی کیلئے فوج میں”ٹیکنیکل سروسز ڈویژن“ کے نام سے ایک یونٹ بنایاتھا۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سابق آرمی چیف وی کے سنگھ کی جانب سے 26 نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بنائے جانے والے انٹیلی جنس یونٹ (ٹیکنیکل سروسز ڈویژن) نے حافظ سعید کے قریبی ساتھیوں تک رسائی کے لئے پاکستان میں تعلقات قائم کررکھے تھے اور اس یونٹ نے پاکستان میں کئی خفیہ آپریشنز بھی کئے۔ سابق بھارتی آرمی چیف کا کہناہے کہ ہم حافظ سعید تک پہنچنے والے تھے کہ وہ یونٹ ختم کر دیا گیا۔ یہ یونٹ موجودہ بھارتی آرمی چیف جنرل بکرم سنگھ نے ان الزامات پر توڑا کہ اس میںکرپشن ہوئی ۔ سابق آرمی چیف کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے۔
اوباما نے حافظ سعید اور جماعت الدعوة کے خلاف پابندیوں کی بات بغیر تحقیق کے کر دی، شاید بھارت کو خوش کرنا مقصود تھا۔ عالمی سطح پر حافظ سعید اور ان کے متعدد ساتھیوں پر پابندی ہے، ان کی جماعت کے اکاﺅنٹس نہیں کھل سکتے، اسلحہ لائسنس کا اجرا ممنوع اور ٹریولنگ پر پابندی ہے۔ پاکستان میں بھی ان عالمی پابندیوں کا اطلاق ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جماعت الدعوة کو دینی جماعت قرار دیا گیا ہے اس رو سے اسے اجتماعات اور فنڈ اکٹھا کرنے کی اجازت بھی ہے۔ بہرحال حکومتی اور جماعتی سطح پر حافظ سعید کی ممکنہ حد تک حفاظت کی جاتی ہے جس کی وجہ سے بھارت کی تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ بھارت نے زیادہ زور دیا تو امریکہ شاید ڈرون برسانے پر آمادہ ہو جائے۔ پاکستان کی طرف ایسا اقدام ہضم نہ ہونے کے خدشے کے باعث شاید امریکہ بھارت کی محبت میں اس حد تک نہ جائے۔ بھارت البتہ دیگر ذرائع استعمال کر سکتا ہے اور یقیناً کر بھی رہا ہو۔
آج دنیا کی چار ارب میں سے ایک تہائی آبادی مسلمانوں کی ہے اگر غداری کا عنصر مائنس ہوتا تو بلاشبہ آج یہ آبادی نصف سے زیادہ ہوتی۔ حافظ صاحب کا حفاظتی حصار بڑا مضبوط ہے ۔دشمن اس میں نقب لگانے کی کوشش کر رہا ہو گا۔ غداروں کی خدمات کے بغیر دشمن اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جماعت الدعوة کو حفاظتی حصار کی ایک ایک اینٹ پر ہمہ وقت نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اینا سنوڈن معاشقھ


27-10-13....SUNDAY MAGZINE
روسی اور امریکی جاسوسوں اینا اور سنوڈن کے معاشقے کی پروان چڑھتی داستان
٭ماتا ہری کو اس کے شوق ،کسی اور جذبے یا حالات نے پہلی جنگ عظیم میں جاسوسہ بنا دیا
 ٭بندا ماتا ہری کی اکلوتی بیٹی تھی جو ماں ہی کی ڈگر پر چل نکلی اور اسی کے انجام سے دوچار ہوئی 
 ٭سوسال بعد ماتا ہری کے ٹرائل کے حقائق افشاءکردئیے جائیں گے ۔یہ 100سال 2017 میں ٭پورے ہورہے ہیں۔
٭سنوڈن نے امریکہ میں شہریوں کی جاسوسی کا راز فاش کیا اور بھاگ کر روس میں پنا ہ لینا پڑی
٭سابق روسی جاسوسہ اینا نے سنوڈن کو شادی کا پیغام بھجوادیا۔اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

جاسوسی یقینا ایک مہم جوئی بھی ہے ۔ایسی مہم جوئی کا شوق تو کئی لوگ پالتے ہیں لیکن عملی زند گی میں قدم رکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس شوق میں انسان کا سکون ہی غارت نہیں ہوتا جان ہمہ وقت ہتھیلی پر رہتی اورچلی بھی جاتی ہے ، کئی لوگ ایک دوسرے کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لگائی بجھائی کرتے ہیں۔وہ اس کو بھی جاسوسی کا درجہ دیتے ہیں۔ یہ جاسوسی نہیں لعنت ہے جس کا عکس ان کی شکلوں سے بھی عیاں ہوتاہے ۔ایجنسیوں کے مخبر اور پولیس کے ٹاﺅٹ بھی خود کو لارنس آف عریبیہ ،ہیمفرے اور ماتا ہری جیسا جاسوس گردانتے ہیں حالانکہ ان کی حیثیت کرائے کے ٹٹو سے زیادہ نہیں البتہ جو واقعتا ملکی و قومی مفاد اور انسانیت کی بھلائی کے پیش نظر دین دشمن اور وطن فروشوں کی سرگرمیوں سے متعلقہ اداروں کو آگاہ کرتے ہیں وہ بے نام ہوتے ہوئے بھی قابلِ احترام ہیں۔
ماتا ہری کو اس کے شوق ،کسی اور جذبے یا حالات نے پہلی جنگ عظیم میں جاسوسہ بنا دیا۔ اس کا اصل نام مارگریتھا جیرٹ روئی ڈازیلے ہے۔ولندیزی انڈونیشی مخلوط النسل رقاصہ بنیادی طور پر جرمنی کی جاسوسہ تھی لیکن نہایت چالاکی سے فرانس اور جرمنی کی جاسوسی دونوں دشمن ممالک کے لیے کرنے لگی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اس نے فرانسیسی اور اتحادیوں کے اہم جنگی راز جرمنوں تک پہنچائے۔ ماتا ہری رقص کے دوران جب لبادہ کھول دیتی تو اس سے فرانسیسی افواج کو یہ اشارہ ملتا کہ جرمن فوج فرانس پر ٹینکوں سے حملہ کرنے والی ہے ۔اگر وہ جسم کے کسی اور کپڑے کو اتار کر ہوا میں بلند کر دیتی تو اس سے یہ اشارہ ملتا کہ جرمن فوجیں ہوائی حملہ کرنے والی ہیں۔ ماتا ہری کا فرانس میں ٹرائل ہوا، سزا سنائی گئی اور اپنے دور کی ہوشربا حسینہ اور دلربا رقاصہ کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کے گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ٹرائل کے دوران جو کچھ سامنے آیا وہ دنیا سے مخفی رکھا گیا تاہم یہ کہا گیا کہ سوسال بعد ماتا ہری کے ٹرائل کے حقائق افشاءکردئیے جائیں گے ۔یہ 100سال 2017 میں پورے ہورہے ہیں۔
ماتا ہری نے 1910ء میں جزیرہ بالی میں ایک بچی کو جنم دیا جس کا نام بندا رکھا گیا۔ بندا ماتا ہری کی اکلوتی بیٹی تھی۔ جسے ماتا ہری صرف ڈیڑھ سال کی عمر میں ایک عزیز رشتے دار کے سپرد کر کے پیرس چلی گئی۔ پھر کبھی ان ماں بیٹی کی ملاقات نہ ہوئی۔ بندا کو اپنی ماں کی شکل تک یاد نہیں تھی۔ بس اسے اتنا معلوم تھا کہ اس کی ماں ایک کلب ڈانسر تھی۔ جس کے ڈانس کی شہرت بہت دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ اس کے پاس ماں کا
 ایک خط تھا ۔ ماتا ہری نے اسے خط میں تاکید کی تھی کہ وہ کسی کو بھی نہ بتائے کہ وہ ماتا ہری کی بیٹی ہے۔بندا اپنی ایک منہ بولی خالہ کے پاس رہتی تھی۔ اسے اسی خالہ نے ہی پالا تھا۔بالآخر وہ بھی اسی ڈگر پر چل نکلی جس پر چل کر اس کی ماں انجام کو پہنچی تھی۔اس نے بھی کئی ممالک کے لئے جاسوسی کی۔ بالآخرشمالی کوریا میں اسے امریکہ کی جاسوسہ کے طور پر گرفتار کرلیا گیا اور پھر بندا کو کوئی مقدمہ چلائے بغیر فوجی فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر جس مہینے، جس تاریخ اور جس وقت ماتا ہری کو فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کیا گیا تھا، ٹھیک اسی مہینے اسی تاریخ اور اسی وقت اس کی بیٹی بندا کو بھی فائرنگ کرکے بھون دیا گیا۔
آج ایڈورڈ سنوڈن کی صورت میں جاسوسی کی ایک نئی داستان سامنے آئی ہے جس میں جرات،خطرات ،سنسنی اور رومانس سب کچھ موجودہے ۔ 29 سالہ ایڈورڈ سنوڈن کی پرورش جنوبی کیرولائنا کے شہر الزبتھ میں ہوئی۔اس کے بعد میری لینڈ میں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی’این ایس اے‘ کے ہیڈکوارٹرز کے ساتھ فورٹ میئڈ منتقل ہوگئے۔ایڈروڈ سنوڈن نے میری لینڈ کے کمیونٹی کالج سے کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کی تاکہ ہائی سکول کا ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے ضروری کریڈٹ آورز حاصل کر سکیں لیکن انہوں نے اپنا کورس مکمل نہیں کیا۔انہوں نے سال دو ہزار تین میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور سپیشل فورسز کے ساتھ تربیت شروع کی لیکن تربیت کے دوران ان کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں جس پر انہیںاس فورس سے الگ ہونا پڑا۔انہوں نے اپنی پہلی نوکری نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے میری لینڈ یونیورسٹی میں واقع خفیہ مرکز میں گارڈ کے طور پر شروع کی اور اس کے بعد خفیہ ایجنسی سی آئی اے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی کے شعبے میں کام کیا۔ جہاں اس کے فرائض میں اپنے ہی شہریوںکی جاسوسی کرنا شامل تھا،ایک موقع پر وہ اپنے کام سے دلبرداشتہ ہوگیااور تمام خطرات مول لیتے ہوئے اس نے اپنی حکومت کی ایسی سرگرمیوں کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کر لیا۔2013ء کے اوائل میں سنوڈن نے گارجین کے اخبار نویس گلن گرینوالڈ کو پیغام بھیجا کہ اس کے پاس امریکی جاسوسی کے بارے میں مواد ہے مگر وہ صرف پی جی پی کے ذریعے سے رابط کرنا چاہتا ہے۔ گرینوالڈ اس طریقہ سے نابلد تھا، چنانچہ رابطہ میں تاخیر ہوئی تو سنوڈن نے گارجین اور واشنگٹن پوسٹ کو 41صفحات پر مشتمل مواد بھیج دیا۔ دونوں اخباروں نے امریکی سرکار سے رابطہ کیا اور صرف دو تین صفحات شائع کرنے کی جراءت ہی کر سکے۔ سنوڈن کی سرگرمیوں کا بھانڈہ پھوٹا تو وہ ہوائی سے ہانگ کانگ چلا گیا۔ جہاں اس نے گریندوالڈ سے ملاقات کی۔ امریکی حکام نے سنوڈن پر جاسوسی کی فردِ جرم عائد کرتے ہوئے اس کا گزرنامہ منسوخ کر دیا۔ تاہم سنوڈن ہانگ کانگ سے ماسکو فرار ہو گیا، جہاں اس نے 21ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں دیں۔ امریکہ کے دھمکانے پر اکثر ممالک نے حامی نہ بھری تاہم لاطینی امریکاکے دو ممالک نکاراگوا اور وینزویلا کے صدور نے سنوڈن کو سیاسی پناہ دینے کی پیشکش کی مگردبے الفاظ میں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سنوڈن کو پناہ دینے کے لئے راضی ہیں۔ سنوڈن نے روس میں پناہ کی درخواست کی جس پر امریکی حکومت نے روس کو باز رہنے کو کہا اور یقین دلایا کہ سنوڈن کو وطن واپسی پر اذیت دی جائے گی نہ ہی سزائے موت، اس لیے پناہ کی درخواست مسترد کر کے اسے ہمارے حوالے کردیا جائے ۔اس پر روسی صدر پیوٹن نے جواب دیا کہ روس اپنے ہاں پناہ لینے والے کو دوسرے ملک کے حوالے نہیںکرتا اور نہ کسی نے کسی کو کبھی روس کے حوالے کیا ہے۔جولائی2013ءمیں سنوڈن کو روس نے امریکی مخالفت کے باوجود پناہ دے دی۔
 یہ بات قابل غور ہے کہ سنوڈن نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا؟کیا سنوڈن کے دل میں عام شہریوں کے لئے اتنادرد تھا کہ اس کے لئے اس نے اپنی زندگی اور اپنی خوشیاں داﺅپر لگادیں یا پھر وہ کسی کے مفادات کے لئے کام کررہا تھا؟ امریکا نے اسے ایک غدار کہا ۔ان سوالوں کے جواب میں سنوڈن کا کہنا ہے” میں چاہتا ہوں کہ ہر شہری ایک آزادانہ زندگی بسرکرے۔میں ایسے معاشرے میں نہیں رہنا چاہتا جہاں اس قسم کا کام کیا جائے۔میں ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر وہ چیز جو میں کروں یا کہوں اس کو ریکارڈ کیا جائے۔امریکا نہ صر ف اپنے شہریوں بلکہ دیگر ممالک کی خفیہ دستاویز کی نگرانی بھی کرتا ہے۔اس میں پاکستان کے علاوہ ایران اور چین بھی شامل ہیں۔ سی آئی اے نے ایران اور چین کی ای میلز بھی ہیک کیں تاکہ ان کی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کی جاسکے۔اس سکینڈل کو تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈ ل قرار دیاجارہا ہے۔ میں اپنے کئے پر پشیمان نہیں ہوں۔آزادی ہر شخص کا حق ہے اور کوئی بھی حکومت اس سے اس کا یہ حق نہیں چھین سکتی۔ میں نے جنیوا میں جو زیادہ تر دیکھا، اس نے واقعتاً مجھے اس فریب سے باہر نکال دیا کہ کس طرح میری حکومت کام کرتی ہے اور اس کا دنیا پر کیا اثر ہوتا ہے۔مجھے اندازہ ہوا کہ میں ایک ایسی چیز کا حصہ ہوں جس کا فائدے کی بجائے بہت زیادہ نقصان ہے۔میں نے عوام میں جانے کا پہلے فیصلہ کیا تھا لیکن یہ دیکھنے کے لیے انتظار کیا کہ آیا سال دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں صدر اوباما کے آنے کے بعد امریکہ کے نقطہ نظر میں تبدیلی آتی ہے لیکن صدر اوباما نے اپنے پیشرو کی پالیسوں کو جاری رکھا“
سنوڈن کو امریکی شہریوں کی طرف سے متضاد رد عمل اور آرا کا سامنا ہے۔کئی لوگ اس اقدام سے خوش اور اسے اپنا ہیرو مانتے ہیں۔دوسری طرف ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کیلئے حکومت کو کچھ بھی کرنے کا حق ہے اور انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں۔یورپی یونین نے اس غلط حرکت پر امریکا سے وضاحت طلب کی جس پر نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے دہشتگردی کے کئی واقعات ناکام بنائے گئے ہیں اور ایسا شہریوں کی حفاظت کے لئے کیاگیا۔ سنوڈن کی اس درجہ پزیرائی ہورہی ہے کہ ان کی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کے ساتھ یورپ میں انسانی حقوق کے ایک بڑے انعام سخاروف کے لیے نامزد گی ہوئی تھی ۔یہ انعام خواتین کو تعلیم کا حق دلانے کے لیے کوشاں پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے جیت لیا ۔یورپی پارلیمان میں گرین گروپ سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں نے ایڈورڈ سنوڈن کو امریکی جاسوسی نظام کے بارے میں راز افشا کرنے پر اس انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔سنوڈن کی نامزدگی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی طرف سے امریکہ کے جاسوسی کرنے کے اقدام کے بارے میں راز افشا کرنا انسانی حقوق اور یورپی شہریوں کی ایک بڑی خدمت تھی۔آزادیِ اظہار کے لیے دیا جانے والا یورپی یونین کا یہ ایوارڈ روسی ماہرِ طبیعیات آندرے سخاروف کی یاد میں دیا جاتا ہے۔پچاس ہزار یورو مالیت کا یہ ایوارڈ یورپ میں حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا ایوارڈ مانا جاتا ہے۔
اس سارے قصے میں کس کا کیا مفاد تھا ؟ اس پر بحث ہوتی رہے گی ۔ مگر ایک سابق روسی جاسوسہ اور آج کی معروف ماڈل اینا چیپمین کے سنوڈن سے شادی کے پروپوزل نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ایک ہفت روزہ میں رابی خالد سنوڈن اینا کے پوان چڑھتے معاشقے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ؛۔اینا کو اپنے خوابوں کا شہزادہ مل گیا اس نے کیسے یہ جا ن لیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے ساتھ وہ اپنی زندگی کو بانٹ سکتی ہے۔ اس نے دیکھا ، سنا اور یکا یک اس کے درِ دل پر دستک دے دی ۔یہ کہانی کسی فلم کی نہیں نہ ہی کو ئی افسانہ ہے بلکہ یہ آج کے عالمی تناظر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبروں میں سے ایک ہے اب اس خبر کو پڑھنے والے آگے کیا ہوا کے اشتیاق میں مبتلا ہیں۔دونوں کا شوق ایک،کام ایک ہے سو اس کے ساتھ ایک ہی لڑی میں پروئے جانے کے لیے روسی دوشیزہ بے قرار ہے۔ د نیا کے سب سے آزاد خیال اور لبرل ملک امریکا کی جانب سے شہریوں کے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ ریکارڈ کئے جانے کے راز افشا کرنے والے سی آئی اے کے سابق ایجنٹ ایڈورڈ سنوڈن کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پرروس کی سابق جاسوسہ ،آج کی ماڈل اور اداکارہ اینا چیمپین نے شادی کا پروپوزل دیا ہے اور اسے ایک ہیرو مخاطب کرتے ہوئے یہ پیغام چھوڑا ہے کہ وہ امریکا کی نظر میں غدار سہی لیکن اس کے لئے ایک ہیروہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتی ہے۔اینانے لکھا ہے کہ وہ سنوڈن سے بہت متاثرہے اور اسے خوشی ہوگی اگر وہ اس سے شادی کرلیں۔
اینا چیپمین کی اس پسند کے پیچھے یقینا کچھ ایسے راز اور کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ان دونوں میں مشترک ہیں۔اینا2010میں نیویارک میں ایک سٹیٹ ایجنٹ کے طور پر کام کررہی تھیں۔وہ روس کے لئے امریکا کی جاسوسی کرتی تھیں۔امریکانے جاسوسی کے الزام میں انہیں گرفتار کیااورکئی روز تک زیر حراست رکھا۔ان کی گرفتاری کی کہانی ابھی ایسی ہی ڈرامائی ہے۔ایف بی آئی کو شک ہوا کہ اینا ایک جاسوس ہے۔اس کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اپنا ایک ایجنٹ جاسوس بنا کر اس کے پاس بھیجا جس نے ایناکوایک پاسپورٹ دیا اور کہاکہ اسے دوسرے جاسوس تک پہنچا دے۔اینا نے وہ پاسپورٹ قبول کرلیا اورکہا کہ وہ یہ ضرور پہنچا دے گی۔اس طرح یہ بات کھل گئی کہ اس کا تعلق اسی گروپ سے ہے جو امریکا کی جاسوسی کررہا ہے۔اینا کو حراست میں لے لیاگیا اور پھر کچھ عرصے بعد قیدیوں کے تبادلے کی صورت میں ڈی پورٹ کردیاگیا۔وطن واپسی کے بعد اینا نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اپنے ملک کے لئے کام کررہی تھیں۔روس واپس جا کر اینا نے ماڈلنگ کو اپنا پیشہ بنایا اورماڈلنگ کے ساتھ ساتھ وہ ایک ٹی وی شو بھی کرتی ہیں۔انہوں نے سنوڈن کو یہ آفر بھی کی ہے کہ وہ ان کے شو میں اپنا موقف دے کر اپنی پوزیشن کلئیر کرسکتے ہیں۔
23فروری1982کو روس میں پیدا ہونے والی اینا چیپمین کے والدنیروبی میں سوویت ایمبیسی میں ملازم تھے۔اینا نے ماسکو یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز کیا اور پھر2010 میں نیویارک چلی گئیں۔وہاں ان کی ملاقات الیکس چیپمین سے ہوئی۔دونوں کے درمیان روابط بڑھے اور انہوں نے شادی کرلی۔اس شادی کے نتیجے میں اینا کوبرطانوی پاسپورٹ اور دہری شہریت بھی مل گئی جس سے انہیں اپنے ملک کے لئے کام کرنے میں آسانی ہوگئی لیکن یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔جب ایناکو امریکا کی جاسوسی کے الزام میں دھرلیا گیا تواس وقت روسی حسینہ سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں اور ان کی تصاویر نے دنیا بھر کے اخبارات میں تھرتھلی مچا دی تھی۔اب ایک اور تھرتھلی دیکھئے دو جاسوسوں کی شادی کی صورت میں کب مچتی ہے۔آپ کا کیا خیال ہے کہ سنوڈن اپنے وطن کا غدار ہے یا وفادار میں تو ان لوگوں کے خیالات کا حامی ہوں جو سنوڈن کو اس کے ملک کا غدار سمجھتے ہیں۔











Wednesday, October 23, 2013

شیرانِ شیر

شیرانِ شیر


شیرانِ شیر


 آج پاکستان سے کرغیزستان امریکہ برطانیہ اور سعودی عرب تک شیر چھائے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں تو شیروں کی حکومت ہے۔ شیرانِ شیر میاں محمد نواز شریف امریکہ کے دورے پر ہیں ۔حمزہ شہباز کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں تھے ۔ اس حوالے سے 22اکتوبر کو اخبارات میں چھوٹی سی خبر کچھ یوں شائع ہوئی۔’’وزیر اعظم محمد نواز شریف نے رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف کو بشکیک میں 22اور 23اکتوبر کو منعقد ہونیوالے دور روز گلوبل سنولیپر ڈکنزرویشن فورم میں شرکت کرنیوالے وفد کا سربراہ مقررکیا ہے۔ اس عالمی کانفرنس کا مقصد برفانی چیتوں کی نسل کو ماحولیاتی تحفظ سے متعلق درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآہونا ہے۔‘‘ چونکہ ہم پہلے سے ہی نفرین یا تحسین کا ذہن بنائے بیٹھے ہوئے ہیں چنانچہ پہلی نظر میں لگا حمزہ شہباز کو خانہ پُری کیلئے اس فورم میں شرکت کیلئے بھیجا جارہا ہے۔ Conspiracy Theory (سی ٹی )شائد اسی کو کہاجاتا ہے۔ یہاں پاکستان میں گرمی سے جانور تو کیا انسان بھی جھلس جاتے ہیں وہاں برفانی چیتے کا وجود اور پھر اسکے تحفظ کے اقدامات اور عالمی کانفرنسوں میں شرکت کوایک ڈرامہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ تھوڑی سی تحقیق کی تو حقیقت بڑی دلچسپ اور دلکش نکلی۔ پاکستان تاریخی اور حسین مقامات کی طرح خوبصورت اورانمول جانوروں اور چرند پرند کی بھی سرزمین ہے۔ پاکستان ان بارہ ممالک میں شامل ہے‘ جہاں برفانی چیتے پائے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک افغانستان، بھوٹان، چین، بھارت، قازقستان، کرغیزستان، منگولیا، نیپال، تاجکستان اور ازبکستان ہیں ۔
 چیتا بھی عجیب جانور ہے ۔چیتا شکار کرتا ہے تو اس کا زیادہ تر انحصار رفتار پر ہوتا ہے جو 120 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ رفتار کرہ ارض پر اور کوئی جانور نہیں پا سکتا۔ چیتا 0 سے 100کلومیٹر کی رفتار صرف 3.5 سیکنڈ میں (Pick) حاصل کر لیتا ہے۔اس کی کھال خوبصورت اور قیمتی ہونے کی وجہ سے اس کا غیر قانونی طور پر شکار کیا جاتا ہے۔ موجودہ پابندیوں اور سختیوں کی وجہ سے اسکے شکار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن افریقہ میں غربت کی وجہ سے پھر بھی کچھ شکاری پکڑے جانے کا خطرہ مول لیتے ہوئے ان خوبصورت جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔آئی سی یو این کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برفانی چیتے کی نسل میں کمی کے اسباب میں مویشیوں کی چراگاہوں میں اضافہ، انکے رہائشی علاقوں میں کمی، مناسب شکار کے جانوروں کی آبادی میں کمی، ادویات کی تیاری کے لیے اسکے اعضاء کی غیر قانونی تجارت اور کھال کے حصول کے لیے اس کا شکار شامل ہے۔
ایک اور سی ٹی کہ نواز حکومت کا چونکہ انتخابی نشان شیر ہے اس لئے وہ شیروں کے تحفظ کیلئے زیادہ ہی سرگرم ہے۔اسے انتخابات میں مشہوری کیلئے شیر درکار ہیں۔برفانی چیتا پاکستان کی آب و ہوا کے حوالے سے اس مقصد کیلئے استعمال نہیں ہوسکتا۔برفانی علاقے سے ایک بچہ ملا تھا جسے چڑیا گھر میں اے سی لگا کررکھا گیا لیکن وہ پھر بھی بچ نہ سکا۔ سنا ہے کہ ن لیگ کا کام کچھ جانثار اصلی شیروں سے بڑھ کر کردیتے ہیں۔ ہر ایم این اے اور ایم پی اے وزیر بنناچاہتا ہے۔میرٹ پر آنے کیلئے اگلے انتخابات کا انتظار اور ایک ایک کھال کا انتظام کر رکھیں‘ ایک سیالکوٹی جنگلے میں شیر کی طرح ایسے دھاڑتا رہا کہ اپنی آواز بھی بھول چکاہے۔
ایک برفانی چیتا پاکستان اور امریکہ کے مابین خیر سگالی اور تعلقات کی بہتری میں اہم کردار ادا کررہا ہے اور کرتا ہی جا رہا ہے۔ تفصیل اسکی یوں ہے کہ چیتے کا ایک بچہ جولائی 2005 ء میں ایک چرواہے نے گلگت سے پینتیس کلو میٹر دور نلتار نامی گاؤں سے پکڑا گیا تھا۔ پاکستان میں اسکی حفاظت اور پرورش کا کوئی انتظام نہیں تھا اس لئے چھ ہفتے کے لیو کو امریکہ کے حوالے کردیا گیا جسے نیویارک کے برونکس(Bronx) چڑیا گھر میں رکھا گیا۔ اس بچے کی آمدکی خبر نے آپ وقت امریکہ میں ہلچل مچا دی تھی اور اب ایک مرتبہ پھر جب وہ صاحبِ اولاد ہوا تو خبروں موضوع بن گیا ۔’’دوہری شہریت کے حامل پاکستانی چیتے کے ہاں ننھے چیتے کی پیدائش کی خبر شہرت یافتہ اخبار نیویارک ٹائمز نے ان پر مسرت الفاظ میں دی’’اس موسمِ بہار میں برونکس کے چڑیا گھر میں پیدا ہونیوالے پانچ ماہ کے برفانی چیتے کے سترہ پونڈ وزنی بچے کو( اکتوبر کے پہلے ہفتے) نمائش کیلئے پیش کر دیا گیا۔ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ لیو کا مایا نامی شیرنی کے ساتھ جوڑا بنایا گیا تھا جس کے بعد اپریل میں یہ بچہ پیدا ہوا۔ انجم نیاز کے مطابق پاکستان میں امریکہ کے سفیر مسٹر رچرڈجی اولسن نے ایک بیان میں کہا ’’جب کہ یہ بچہ برونکس چڑیا گھر میں ہے، ہم امید کر سکتے ہیں کہ اسکی امریکی سرزمین پر موجودگی دونوں ممالک اور انکے عوام کے درمیان دو طرفہ تعاون اور تعلقات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گی۔‘‘واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے نگران افسر ڈاکٹر اسد محمد خان نے اپنے بیان میں کہا ’’ہمیں یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان سے لایا گیا برفانی نر چیتا ایک بچے کا ’’باپ‘‘ بن گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان گہری دوستی اور خیر سگالی کے جذبے کی علامت قرار پائے گا۔ ‘‘اگر ایسا ہی ہے تو پھر حکومتِ پاکستان کو اسے Do more کی ہدایت یا درخواست کرنی چاہیے۔ نواز شریف صاحب ابھی امریکہ میں مزید ایک دو روز رکیں گے۔ اس دوران ٹائیگر ڈپمومیسی کو بھی بروئے کار لا سکتے ہیں۔ حمزہ شہباز کے حوالے سے یہ انکشاف بھی مذکورہ خبر میں موجود تھا کہ وہ جنگلی حیات سے وابستہ ہیں اور چیتے کے حملے کے شکار لوگوں کی مدد کررہے ہیں۔ کئی لوگ انکو صرف مرغی خوراک ہی سے وابستہ سمجھتے تھے۔ سیاست میں اعلیٰ مرتبہ اور اولیٰ درجہ حاصل کرنے کے بعد حمزہ کو ایسے کاروبار سے اجتناب کرنا چاہئے‘ اس سے منافع تو ہورہا ہے لیکن کہیں زیادہ شہرت کو نقصان پہنچ رہا ہے اس سے بہتر تو ہے کہ وہ مرغ لڑانے لگیں۔




ڈرونز اور ڈالرز

ڈرونز اور ڈالرز

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
22 اکتوبر 2013 0

وزیراعظم میاں نوازشریف پاکستان سے روانہ ہوکر ابھی امریکہ پہنچے نہیں تھے کہ دورے کی ’’کامیابی‘‘ کا آغاز امریکہ کی طرف سے 1.6 ارب ڈالر کی فوجی و اقتصادی امداد کی بحالی کے اعلان سے ہوگیا۔ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کیخلاف فوجی آپریشن کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہو نے پر امریکہ نے یہ امداد بند کردی تھی۔ ابھی مزید نوازشات اور عنایات بھی فاقہ مست رعیت کے حکمران کے دامن سے لپٹنے کیلئے بے کل ہیں۔ دورے کی عرش معلی کو چھوتی ہوئی کامیابی کا احوال نمک خوارانِ شہِ اسلام آبادجس جلال اور کمال سے بیان کریں گے وہ قابل دید و شنید ہوگا۔ وزیراعظم نے بارہا ایڈ نہیں ٹریڈ کا عزم ظاہر کیا اس کے پیش نظر تو انہیں 1.6 ارب کی ایڈ کو ٹھکرا دینا چاہیے۔ اگر یہ ہماری خدمات کا معاوضہ ہے تو پھر ہم کرائے پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے لیکن ہم اسے تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
میاں نوازشریف کا امریکی دورے کے حوالے سے دو باتوں پر زور رہا، امریکہ چاہے تو مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے ۔ ڈرون حملوں کا معاملہ ایجنڈے میں سرِ فہرست ہے ۔ امریکی حکام کی طرف سے باور کرایا گیا کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل کریں۔ میاں صاحب کی طرف سے اس بیان پر بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کا پارہ بھی منموہن کی طرح چڑھ گیا۔ منموہن نے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ اور اس پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی متروک قرار دیا تھا۔ سلمان خورشید نے بھی منموہن کا بیان دہرا تے ہوئے مزید کہا کہ وہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔ کشمیر بھارت کا حصہ ہے‘ اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اب پاکستان کوکچھ اور ہی کرنا پڑیگا۔کیا؟ جو قائداعظم نے انگریز آرمی چیف کو کرنے کا حکم دیا تھا۔ آج ’’قائداعظم ثانی‘‘ کے حکم کی آرمی چیف سرتابی نہیں کرسکتا۔ڈرون حملے رکوانے کے لئے پاکستان میں ہر سطح پر واویلا کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف یہ بند کرانے پرکے لئے پریشر ہے۔ وہ اوباما سے اس معاملے پر بات کرنے کا بھی کہہ چکے ہیں۔ اس سب کے باوجود آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود اور اہم ہے ’’کیا حکومت ڈرون حملے بند کرانا چاہتی بھی ہے؟‘‘جب ڈرون حملوں پر اُس وقت بھی عسکری و سیاسی قیادت احتجاج کرتی، انہیں پاکستان کی سالمیت کے خلاف قرار دیتی تھی جب ڈرون پاکستان کے اندر سے ہی ایندھن اور اسلحہ سے لیس ہو کر اڑتے تھے۔ یہ سلسلہ 26 نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے جس میں پاک فوج کے 24 سپوت شہید ہوئے کے بعد بیسز خالی کرانے تک جاری رہا۔پاک فوج فاٹا میں شدت پسندوں کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے۔دونوں قتال میں کوئی رو رعایت نہیں کرتے۔ جن کو فوج مار رہی ہے ڈرون بھی ان پر برستے ہیں۔ ڈرونز اور پاک فوج کا جب ٹارگٹ ایک ہے تو پھر اس پر اعتراض اور احتجاج سے کیا مطلب لیا جائے۔ ایبٹ آباد کمشن کو اس وقت کے ڈی جی ‘آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ ڈرون حملے غیر قانونی ہیں لیکن یہ پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ جنگ کے دوران آپ کے گلے کو دشمن آیا ہو اور اسے اس کا دشمن مار ڈالے تو دشمن کا دشمن دوست ٹھہرتا ہے۔یہاں اس حقیقت سے انکار کیوں؟ نواز حکومت قوم کو وہ لکیر دکھا دے کہ اس کے بعد ڈرون حملے پاکستان کے مفادات کے خلاف تھے۔ برطانوی جریدے ’’اکانومسٹ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے ’’حکومت پاکستان نے سی آئی اے کے پروگرام کو اپنی خفیہ آشیرباد دے رکھی ہے۔ پاکستانیوں کی ایک حیرت انگیز تعداد قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے حق میں ہے جن کا مؤقف ہے ڈرون طیارے ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔‘‘
ایک طبقہ آج بھی بہ ا صرار اور تکرار کرتا ہے کہ ڈرون حملے حکومت کی رضا مندی سے ہو رہے ہیں۔ اوباما نواز ملاقات میں اس پر کوئی خاطر خواہ بات نہیں ہوگی۔ اعلامیہ میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ میاں صاحب اس پر کچھ ہٹ کر فرمائیں یا پاکستان میں بیٹھے ان کے ترجمان بتائیں اس پر وہی اعتبار کریں گے جو موجودہ اور سابق حکمرانوں کو ڈرون حملے رکوانے میں ’’ مخلص ‘‘سمجھتے ہیں۔اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ ایک کالم کار نے ادارہ بدلنے کا قصد کیا۔
نئے ادارے کے مالک نے انٹرویو کیا، پہلے سے تین گنا معاوضے کی پیش کش کی ۔ اس پر کالم کار بولے۔’’ فلاں کو تو آپ 6 لاکھ فلاں کو8 لاکھ دیتے ہیں۔ میں تو بہت بڑا کالم نگار ہوں، مجھے کم کیوں؟ مالک نے کہا کہ آپ باہر جا کر بارہ لاکھ بھی بتا دیں تو ہمیں اعتراض نہیں ہوگا۔ اوباما نوازملاقات میں جو بھی طے ہو باہر آکر وہ جو بھی بتائیں اوباما کو کیا اعتراض ہوگا۔ یہی ہوتا آیا ہے، یہی ہو رہا ہے اور ہماری مروجہ جمہوریت اور سیاست میں آئندہ بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ اندرونی طور پر دہشت گردی نے ملک وقوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نواز حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے عفریت سے نجات چاہتی ہے۔ طالبان گروپوں کی تعدادجنر ل حمید گل کے بقول 30 ہے ان میں سے پانچ پاکستان دشمن بیرونی قوتوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ ایسے گروپ بھی ہیں جو خودکش بمبار فروخت بھی کرتے ہیں۔
 اکتوبر 2008ء میں بھکر میں ایک ایم این اے کے ڈیرے پر خودکش دھماکے میں 30 افراد مارے گئے۔ ایک ٹی وی پر تھانیدار کا انٹرویو نشر ہوا اس نے ہولناک انکشاف کیا کہ یہ دو پارٹیوں کے درمیان پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا۔ رقم شاید ڈیڑھ کروڑ روپے کی تھی۔ جس پارٹی نے رقم دینی تھی اس نے بجائے اتنی زیادہ رقم دینے کے وزیرستان سے ایک عدد خود کش بمبار خرید لیا۔طالبان کے مذاکرات کے لئے جو مطالبات سامنے آرہے ہیں بادی النظر میںفوج اور حکومت ان کے سامنے سرنڈر نہیں کرسکتی۔ طالبان آپ کے آئین کو سیکولر سمجھتے اور اس آئین کے تحت مذاکرات سے بار بار انکار کرچکے ہیں۔کیا آئین میں طالبان کی منشاء کے مطابق ترمیم ممکن ہے؟ دہشت گردی کا خاتمہ مذاکرات سے ممکن ہے اور نہ اس جنگ سے جو جاری ہے۔ پھر دہشت گردی ختم کیسے ہو؟ یہی حکمرانوں کی صلاحیت، سوچ اور اہلیت کا امتحان ہے۔

بے راہ

ے راہ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
20 اکتوبر 2013 0

کراچی میں بینظیر بھٹو کے استقبالی قافلے پر حملے کو چھ سال ہو گئے۔ اس موقع کی مناسبت سے کراچی میںمنعقد کی گئی تقریب میں بلاول زرداری کے خطاب کے دوران جوش، جذبہ ،جنون ‘دیوانگی اور ہوش و حواس سے بے گانگی سب کچھ دیدنی تھا۔بلاول نے بیک وقت نواز لیگ ،تحریک انصاف اور متحدہ کو للکارتے ہوئے کہا ”خون پینے والے شیر کا شکار کریں گے۔کراچی آج بھی لندن کی کالونی ہے ، فون پر چلنے والی پتنگ کاٹ دینگے۔ خیبر پختون خواہ کو سونامی سے بچائیں گے۔ بزدل خان دہشت گردوں کی حمایت میں بیان دے رہے ہیں۔ 2018 ءکے انتخابات میں آصف زرداری جیالوں کی کمان ہوں گے اور میں تیر، ہم اکٹھے ہوکر شیر کا شکار کریں گے۔“ بڑی پارٹیوں اور انکی قیادت کے بارے میں واضح طور پر یا بین السطور جو کہا گیا ، ان پارٹیوں کی طرف سے برا منانا ایک فطری امراور ردعمل کا اظہار ترجمانوں کی مجبوری ہے۔یہ فریضہ ہر ترجمان نے ادا کرتے ہوئے خود کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرنے میں کوئی گنجائش نہ چھوڑی۔وزیر اطلاعات جناب پرویز رشیدنے قیادت اور کارکنوں کا حوصلہ یہ کہہ کر بڑھایا” 2018ءآئے گا تو دیکھ لیں گے،عوام مسلم لیگ ن ہی کو منتخب کریں گے “پانچ سال تک پیپلز پارٹی کے کئی پرویز رشید اور خصوصی طور پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور ان کے حادثاتی جانشین راجہ پرویز اشرف اپنے اپنے دور ِ اقتدار میں تواتر کے ساتھ یہ کہتے رہے۔ ”2013ءکے انتخابات آئے تو دیکھ لیں ، ان میں پیپلز پارٹی ہی جیتے گی۔“کامیابی اگر جوش خطابت‘ بیانات اور خوش فہمیوں کی مر ہونِ منت ہوتی تو ہر پارٹی تین سو امیدوار کھڑے کرکے سوا تین سو پر کامیابی حاصل کرتی۔ انتخابات میں بے شک شیطانوں(جن کوعرفِ عام میں فرشتے کہا جاتا ہے ) کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتااس کے باوجود بھی بڑا عمل دخل ووٹر کا ہی ہے۔ بلاول نے جوشیلے انداز میں ابا جی کو کمان اور خود کو تیر سے تشبیہ دی تو زرداری صاحب اور میاں نواز شریف کی عدالتوں میں پیشی اور رہائی کے موقعوں کی میڈیا میں نشر اور شائع ہونے والی تصویریں گھوم گئیں۔جن میں دونوں حضرات موقع بہ موقع نیم کمان کی شکل بنے نظر آتے تھے۔ گمان گزرتا تھا کہ ان کو چُک پڑ گئی ہے جس کے بارے میں میاں محمد نے فرمایا تھا۔ ....
 کوئی آکھے، پیڑ لکّے دی کوئی آکھے، چ±ک
ّ وچلی گل اے، محمد بخشا اندروں گئی اے مُک
لیکن جب جیلوں سے نکلے اور جلاوطنیوں سے لوٹے تو نو بر نواورمخالفوں کے ”پھٹے چکتے“ دکھائی دئیے۔زرداری صاحب پر تین چار سال کے لئے پھر برا وقت آیا تو وہ واقعتا کمان بن چکے ہونگے ایسی کمان جس سے تیر داغنا ممکن نہیں ہوگا ۔بلاول کی صورت میں تیر بغیر کمان کے چلے گا تو کیا اثر کرے گا۔ ویسے آصف علی زرداری نے ایسے لوگوں کو شیشے میں اتار لیا ہے جو ان پر ممکنہ طور پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں۔ایک طرف بلاول شیر کو للکار رہے ہیں دوسری طرف ان کے والدشیر کو پکار رہے ہیں۔”قدم بڑھاﺅ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“ قوم کی خواہش اور اسی میں ملکی مفاد ہے کہ نواز شریف ، زرداری کے ساتھ مفاہمت کے نتیجے میں مقرر ہونے والے چیئر مین نیب قمر زمان کو احتساب کے لئے فری ہینڈ دے دیںلیکن یہ ممکن اس لئے نظر نہیں آتا کہ پھر خود کو بھی احتساب کیلئے پیش کرنا ہوگا۔یہ بڑی خوش کن خبر ہے کہ بلاامتیاز مقدمات کھولے جا رہے ہیں۔ ماہرین کواس کے پسِ پردہ مقدمات کھول کر ہمیشہ کے لئے بند کرنے کی حکمتِ عملی نظر آرہی ہے۔ہم یہ تو کہتے ہیں مدینہ سے سیکڑوں میل دور” فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کا ذمہ دار عمرؓ ہے“اگر بھوک سے انسان مرنے ،اجتماعی خود کشیاں کر نے لگیں۔کوئی پیٹ کو آگ بجھانے کے لئے چوری پر اُتر آئے تو اس کا ذمہ دار نواز شریف،زرداری اور شہباز شریف خود کو نہ سمجھیں ،ہم عوام بھی منافقانہ مصلحت سے کام لیتے ہوئے سچ کہنے سے گریز کریں تو وہی کچھ ہوگا جو آج ہمارے ساتھ ہورہا ہے ۔ جب رہنما ہی بے راہ ہو جائیں‘ ڈوبتی کشتی کو بچانے کے بجائے ناخدا ہی کشتی ڈبونے پر اتر جائے تو قوم اور کشتی کا خدا ہی حافظ!
بلاول زرداری نے ایک سانس میںکہا” پیپلز پارٹی بزدل خان کی جماعت نہیں“ دوسری سانس میں گویا ہوئے ۔”گزشتہ انتخابات میںکارکنوں کی زندگی بچانے کیلئے 100نشستیں قربان کر دیں“ انتخابات میں کئی پارٹیوں کی قیادتیں صد حصاری ایوانوں کے اندر قلعہ بند ہو کے بیٹھ گئیں کئی روٹھ کر بیرونِ ممالک چلے گئے۔انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن، جماعتِ اسلامی ،جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے کئی لوگ دہشتگردی میں مارے گئے۔ جیالے اندازہ کرلیں کہ بزدل خان کون ٹھہرا۔
 تحریک انصاف اور اس کی خیبر پی کے میں حکومت اب بھی اس کے باوجود دہشتگردوں کے نشانے پر ہے کہ وہ انکے ساتھ مذاکرات اور ان کو مذاکرات کے لئے دفتر فراہم کرنے کی حامی ہے۔پی ٹی آئی کے تین ایم پی اے اور اسراراللہ گنڈا پور سمیت دو وزیر خود کش حملوں میں مارے گئے۔ گنڈا پور کو عید کے روز خود کش دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔ عمران کی سیاست میں پزیرائی پر سب سے جو لوگ دکھی اور جن کے طالبان کے بے شمارگروپوں میں سے چند ایک کے ساتھ گہرے روابط ہیں ان حملوں کے پیچھے ان کے سوا کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے؟ اسکی پی ٹی آئی کی قیادت کو سمجھ نہیں آئی یا پھر وہ مصلحتاً ان کا نام لینے سے گریزاں ہے ۔جمہوریت میں سب کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہے‘ بلاول کو بھی۔ انکے ٹیوٹر انہیں کچھ ادب بھی سکھا دیں تو بہتر ہے۔ 18 اکتوبر 2007ءکے حملے میں 177 جیالے جاں بحق اور 600 زخمی ہوئے۔ پی پی پی پانچ سال اقتدار میں رہی ‘ سندھ میں اب بھی ہے‘ لیکن کوئی حملہ آور گرفتار نہیں ہوا۔ اس کا جواب کون دیگا؟ زرداری صاحب‘ یا بلاول بھٹو زرداری۔

Tuesday, October 15, 2013

نوبل پرائز۔۔۔ حق بحق دار رسید؟

نوبل پرائز۔۔۔ حق بحق دار رسید؟

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
15 اکتوبر 20130
نوبل پرائز۔۔۔ حق بحق دار رسید؟
نوبل امن پرائز کے لئے ملالہ یوسف زئی کا نام بھی 259 افراد کی لسٹ میں سرِفہرست تھا۔ پاکستان میں ملالہ کے لئے لوگ دعا گو تھے تو کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ملالہ کو اس دنیا کے سب سے بڑے اعزاز کا حقدار نہیں سمجھتے۔ ان کی رائے میں ملالہ نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ اسے نوبل امن انعام دیا جائے۔ 2013ءکے نوبل انعام کی تقریب ناروے کے شہر اوسلو میں ہوئی جہاں امن کے نوبل انعام سے کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے عالمی ادارے آرگنائزیشن فار دی پروہیبشن آف کیمیکل ویپن (او پی سی ڈبلیو) کو نوازا گیا۔ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے کام کرنے والے عالمی ادارے او پی سی ڈبلیو کا تعلق نیدر لینڈ سے ہے جو 28 اپریل 1997ءمیں دنیا کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک کرنے غرض سے قائم کیا گیا اور اس کے رکن ممالک کی تعداد 189 ہے۔ اوپی سی ڈبلیو کے 30 ماہرین ان دنوں اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے ساتھ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا کام کررہے ہیں جبکہ اسی تنظیم نے عراق میں بھی کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کیلئے اہم کردار ادا کیا۔
پرائزاوپی سی ڈبلیو کو جانے پرملالہ کے چاہنے والوں کو مایوسی ہوئی۔ شیری رحمن اور ملیحہ لودھی جیسی معتبر خواتین بھی نے کہا کہ نوبل انعام سیاسی بنیاد پر دیا گیا۔ ان کی اس بات میں بڑا وزن ہے۔ تاہم اس انعام کی تفویض کے بعد ملالہ یوسف زئی نے جو کچھ کہا وہ حقیقت ہے، سچ اور بالکل درست ہے۔
 واشنگٹن میں اوباما سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں ملالہ یوسفزئی نے کہا” مجھے نوبل پرائز نہ ملنے پر کوئی دکھ نہیں ہے۔ نوبل انعام کے لئے نامزدگی ہی میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ میں خود کو فی الحال نوبل انعام کا حقدار نہیں سمجھتی‘ ابھی میں نے بہت کچھ کرنا ہے۔ میں نے بچوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی ہے لیکن ابھی ایسا کچھ نہیں کیا کہ خود کو نوبل پرائز کا حقدار ٹھہراﺅں۔“ یہی بات پاکستان میں موجود ایک حلقہ بھی کہہ رہا ہے۔ نوبل انعام کے اعلان سے ایک روز قبل ملالہ یوسف زئی کو یورپی یونین کا سخاروف ایوارڈ دیا گیا۔ اس انعام کے لئے ایڈورڈ سنوڈن بھی نامزد ہوئے۔ سنوڈن نے امریکی حکومت کا اپنے ہی شہریوں کی جاسوسی کا پردہ فاش کیا تھا جس پر اسے امریکہ سے بھاگنا پڑا۔ آج کل وہ روس کی پناہ میں ہے۔ سخاروف انعام سابق سوویت یونین کے نوبل انعام یافتہ سائنسدان اور منحرف رہنما آندرے سخاروف کی یاد میں ”سوچ کی آزادی“ کے لئے ہر سال دیا جاتا ہے۔ کوئی ملک شیخ مجیب یا شکیل آفریدی کے نام سے امن ایوارڈ کا اعلان کرے تو ہمیں کیسا لگے گا؟ ایسا ہی روس کو بھی سخاروف پرائز پر لگتا ہوگا۔ نوبل پرائز کے لئے اگر سیاسی وجوہات اور کچھ قوتوں کی خواہشات کا عمل دخل ہے تو اس مرتبہ فیصلہ یقینا میرٹ سے ہٹ کر پسند و ناپسند کی بنیاد پر کیا گیا۔
نوبل امن انعام، عالمی امن میں بہترین کردار ادا کرنیوالی شخصیت یا ادارے کو دیا جاتا ہے۔ 259 نامزدگیوں میں انعام حاصل کرنیوالے مذکورہ ادارے کے ساتھ پیوٹن، بل کلنٹن اور بانکی مون جیسی شخصیات کا نام شامل تھا۔ امریکی صدر اوباما کو بھی یہ انعام مل چکا ہے۔ اس کا امریکی صدارت سنبھالنے کے بعد ایک سال تو کیا ایک مہینہ، ہفتہ اور دن بھی خون آشامی سے خالی نہیں۔ چند ہفتے قبل اوباما کی سربراہی میںامریکہ شام پر دمشق میں باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگا کرحملے کی پوری تیاری کر چکا تھا۔ اس کے اتحادی شام کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے امریکہ سے بھی زیادہ بے تاب نظر آرہے تھے۔ امریکی فوج نے شام کا گھیراﺅ کرلیا تھا۔ میزائل اور راکٹ نشانہ لے چکے تھے ۔صرف اوباما کی طرف سے بِگل بجانے کا انتظار تھا۔ اوباما نے کہا کہ انہیں اقوام متحدہ اور اپنی کانگریس کی بھی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ایسے میں روسی صدر پیوٹن سامنے آئے، جارحیت پر تیار امریکہ کو حملہ سے للکارنے کے انداز میں باز رہنے کو کہا۔ ان کی آواز میں آواز دیگر متعدد ممالک نے بھی ملائی۔ اس پر امریکہ نے بادل نخواستہ شام پر چڑھائی کا فیصلہ واپس لے لیا۔ روس درمیان میں نہ آتا تو امریکہ اور اتحادیوں کی بمباری سے کتنے شامی ہلاک ہوتے، اس کا عراق اور افغانستان کی تباہی کو مدنظر رکھ کر آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ انسانیت کو ایک اور تباہی سے بچانے میں روس نے بہترین کردار ادا کیا۔ اس سال نوبل پرائز کا حقدار روسی صدر پیوٹن کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا اور سب سے کم مستحق ملالہ یوسف زئی تھی۔ ملالہ کی عالمی امن کے لئے کوئی کوشش نظر نہیں آئی، تعلیم کے فروغ کے لئے بھی فی الوقت اس کی جدوجہد اس پائے کی نہیں کہ اسے کوئی عالمی ایوارڈ دے دیا جائے۔ البتہ اس نے خطرات مول لے کر اپنی تعلیم کا سفر جاری رکھا۔ اس کی پاداش میں اس پر مبینہ طور پر حملہ ہوا۔ اس جرا¿ت پر اسے جو بھی پذیرائی ملے‘ وہ بجا ہے۔

Saturday, October 12, 2013

کیانی فوبیا

کیانی فوبیا

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
10 اکتوبر 20130
Print  
کیانی فوبیا
جنرل کیانی کو اپنی تین سال کی توسیعی مدت پوری کرنے پر 29 نومبر کو ریٹائر ہونا ہے۔ حکومت کو ان کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کا اختیار ہے۔ ریٹائرمنٹ کیلئے تو ایک عمر مقرر ہے۔ توسیع در توسیع کیلئے ایسی کوئی قید نہیں۔ جمہوری ممالک ہی پر موقوف نہیں آمریت اور ملوکیت میں بھی بڑے عہدوں پر تقرریاں بروقت کر دی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں مخصوص حالات میں آرمی چیف کو خصوصی اہمیت حاصل ہے لیکن اس سے تقرری کے معمولات میں فرق نہیں پڑتا۔ نواز حکومت آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔ قومی معاملات میں معمولی سی دلچسپی رکھنے والے بھی کیانی فوبیا میں مبتلا نظر آئے۔ مشرف کو میاں نواز شریف نے اپنا ”حق “(میاں صاحب اپنے اختیار کو بھی حق کہتے ہیں)استعمال کرتے ہوئے ہٹانے کی کوشش کی جس پر بات قید‘ مقدمات جیل اور جلاوطنی تک جا پہنچی۔ لگتا ہے میاں صاحب کی ان اذیتوں اور صعوبتوں کے بعد قوت فیصلہ سلب یا مصلوب ہو گئی ۔ انکو شاید اپنے وزیراعظم ہونے کا یقین نہیں آرہا۔ مرکزی معاملات پر شہباز شریف کی نظر اور پنجاب میں اختیارات پر حمزہ کا ہاتھ ہے ۔ وقت نیوز میں ایک کالر نے شیروں کی جوڑی کے حوالے سے کہا کہ اب ملک اور عوام ترقی و خوشحالی کی راہ پر چل پڑینگے کیوں کہ ایک ،ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں.... اب یہ کہنا ہی درست ہے کہ دو 11 اور تین 33 ہوتے ہیں۔ میاں نواز شریف کے نو رتن ہیں یا سو‘ پانچ پیارے ہیں یا پچاس‘ بے شک دو 11 سے 3‘ تنتیس ہو گئے ہیں مگر فیصلہ سازی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ چیئرمین نیب کی تقرری کو حکومت اور اپوزیشن نے اپنے لئے کڑی آزمائش بنا لیا۔ یہ کام حکومت میں آنے اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کے ساتھ ہی شروع ہو جانا چاہئے تھا۔ چیئرمین نیب کی تلاش میں تین ماہ لگ گئے۔ چیئرمین جائنٹ سروسز جنرل شمیم وائیں 7 اکتوبر کو ریٹائر ہو گئے ان کی جگہ تقرری ہی نہیں کی گئی‘ عارضی طورپر یہ عہدہ جنرل کیانی نے سنبھال لیا۔ اس تقری پر بھی کیا ن لیگ کو چیئر مین نیب چودھری قمر الزمان کی تقرری جتنا عرصہ درکار ہوگا ؟ میاں نواز شریف 1990ءمیں اقتدار میں آئے توجنرل اسلم بیگ کے متبادل کا اعلان ان کی ریٹائرمنٹ سے کئی ماہ قبل کر دیا تھا۔ شاید اس وقت شیر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکاتھا ۔جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل مشرف کو جھنڈی دکھاتے وقت شیر کی جوانی عنفوان شباب پر تھی اور اب شیر بوڑھا ہو چکا ہے جبکہ سو رتن اور پچاس پیارے دام بنانے والے کام میں مگن ہیں۔ کسی کو بجلی کی قیمتیں بڑھانے‘ کسی کو پٹرول اور ڈالر مہنگا کرنے کی فکر ہے ۔ایک وزیر نے کہہ دیا کہ چار ماہ سی این جی سٹیشن بند رکھیں گے۔ ہور چوپو.... گورننس ایسی ہی رہی تو نواز لیگ کیلئے پورا ملک فیصل آباد کا گھنٹہ گھر ثابت ہو گا جہاں شیر علی کے شہر سے شیر کی دم پر صوبائی سیٹ میں ”شرلی“ پھینک دی گئی۔
جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے کئی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ امریکی اخبار ان کو جوائنٹ سروسز چیف بنانے کی خبریں دے رہے تھے۔ اتوار 6 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات فرخ جاوید مون اور توفیق بٹ کی دعوت پر صحافی اکٹھے ہوئے ۔ لمبی میز کی سائیڈوں پر بیٹھے صحافی ،گروپوں میں بحث کر رہے تھے۔ عطاءالرحمن‘سلمان غنی‘ نوید چودھری اور علیم خان کے مابین بھی کچھ دیر کےلئے جنرل کیانی کی شخصیت زیر بحث رہی۔ عطاءالرحمن نے تاریخی حوالے سے بتایا کہ آرمی چیف کو دی گئی توسیع یا میرٹ سے ہٹ کر تقرری حکمرانوں کو کبھی راس نہیں آئی۔ فیروز خان نون نے ایوب کو توسیع دی اور وہی ان کا نشانہ بنے۔ عطاءالرحمن کا تجزیہ درست ،تاہم زرداریوں کو جنرل کیانی کو دی گئی توسیع بڑی راس آئی۔ سلمان غنی کا کہنا تھا کہ مزید ختیارات کے ساتھ جنرل کیانی کو جائنٹ سروسز چیف کا چیئرمین بنایا جا سکتا ہے۔میرا موقف تھا کہ جائنٹ سروسز کو مزید کیا اختیارات دئیے جا سکتے ہیں؟ جتنے بھی اختیارات دے دیں آرمی چیف کی ایک اپنی حیثیت ہے اور اس کی طاقت کا منبع وہ چھڑی ہے جو ریٹائر ہونے والا اس کے حوالے کر کے جاتا ہے اور فوج کی ہر یونٹ اس کیلئے ٹرپل ون بریگیڈ کی طرح طاقتور ہوتی ہے۔
جنرل کیانی نے خود اعلان کرکے حکومت کو ایک مخمصے سے نکالنے کی کوشش کی‘ شاید حکومت خود اس دلدل سے نہیں نکلنا چاہتی۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ جنرل کیانی نے ریٹائرمنٹ کی خواہش ظاہر کی حتمی فیصلہ حکومت نے کرنا ہے گویا حکومت ان کی خدمات سے مزید مستفید اور مستفیض ہونا چاہتی ہے۔ جو انسان دنیا میں آیا اس نے مرنا اور جس نے نوکری کی اس نے ریٹائر ہونا ہوتا ہے‘ یہی حقیقت ہے۔ جنرل کیانی تین سال قبل ریٹائر ہو جاتے تو بہتر تھا۔ تین سال میں ان کی شخصیت مزید متنازعہ ہوئی ہے ۔ کیا وہ جنرل اسلم بیگ کی طرح کی سکیورٹی پر قناعت کرینگے یا باقی زندگی جنرل مشرف کی طرح دہشت گردوں سے چھپ کر گزاریں گے؟
موجودہ حکومت ان کو تمغہ جمہوریت عنایت کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ جمہوری ممالک میں جمہوریت کی کار فرمائی میں فوج کا قطعی کوئی کردار نہیں ہوتا ہے۔ یہ ”عزت یا بدعت“ پاکستان ہی میں پائی جاتی ہے۔ جنرل کیانی نے جس قسم کی جمہوریت کی پانچ سال پشت پناہی ‘سرپرستی اور پرورش کی، وہ قوم کے پر احسان نہیں ظلم ہے۔ فوج پر حکمرانوں کی طرف زد پڑی تو آنکھیں دکھانے سے گریز نہیں کیا۔ کیری لوگر بل میں فوج کیخلاف شرائط‘ آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت کرنے اور میمو سکینڈل پر فوج کا اشتعال ضبط سے باہر تھا۔ قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا جاتا رہا ، عدالتی فیصلوں کی تضحیک ہوتی رہی‘ اس پر خاموشی کیوں؟ جنرل کیانی یا تو ہر معاملے میں جمہوریت کے سامنے سر جھکائے رکھتے یا پھر ہر بے ضابطگی‘ بدنظمی اور ملکی سلامتی و مفاد کے خلاف اقدامات پر وہی کرتے جوفوج کے مفادات کیخلاف ہونیوالے فیصلوں یا اقدامات پر کیا ۔
اس دنیا میں کوئی بھی شخص ناگزیر نہیں۔ روئے زمین کا سینہ ایسی ہستیوں سے ہی بھرا پڑا ہے جن کو ناگزیر سمجھا جاتا تھا۔ کوئی ادارہ بانجھ نہیںہے۔ نواز شریف اپنے اختیارات‘ صوابدید اور حق کے چکروں میں نہ پڑیں جو سینئر ہے اسے اس کا حق دیں۔جنرل راشد کی گرومنگ ہی آرمی چیف کے طور پر ہوئی ہے ۔
جنرل کیانی نے گذشتہ تین سال میں اپنے کندھوں پر ناگواریوں اور ناہمواریوں کا بوجھ بڑھا لیا ہے۔ اس کے سبب ان کا شاید پاکستان میں معمول کی سکیورٹی میں رہنا ممکن نہیں۔ وہ اسی پر بس کریں۔ حکومت ان کو توسیع دینے کی کوشش کرے تو بھی ہاں نہ کریں۔ اگلے تین یا پانچ سال بعد کی نسبت آج کی ریٹائرمنٹ باعزت ہے۔

Wednesday, October 9, 2013

مرشد کی تلاش

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان


روحانیت کی منزلیں مرشد کے بغیر طے نہیں ہو سکتیں۔ روحانیت حالِ دل کے ایک سینے سے دوسرے سینے میں منتقل ہوتے ہوتے خالق و مالک کائنات کے محبوب تک پہنچ جانے کا نام ہے۔ جب کوئی بھی شخص اس منزل پر پہنچ جائے تو مرشدِ کامل اور اقبال کا مردِ مومن ہے
نگاہِ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
 روحانیت کی طرف رجحان رکھنے والے لوگ مرشد کامل کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو اپنے مسائل مصائب اور مشکلات سے نجات کے لئے مرشد یا پیر کی جستجو ہوتی ہے۔ شاید کچھ کے لئے یہ شارٹ کٹ بھی ہو۔ کچھ دنیا دار روحانیت کے لبادے میں انسانیت کو فریب دیتے ہیں۔ ہم روحانیت اور مرشد ِکامل کی بحث میں نہیں پڑتے۔ ہم مرشد اور پیر کا جو مجموعی تصور ہے اس کو مدنظر رکھ کر بات کرتے ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔آپ کو جو بھی راہِ راست دکھا دے، کامیاب زندگی کا گُر بتا دے وہی رہنما ہے اور پیر و مرشد بھی۔ جنرل ضیاءالحق اپنے بے تکلف دوستوں کو مرشد کہا کرتے تھے۔ جنرل فیض علی چشتی کے ” جبر آزما“ قسم کے مشوروں پر ضیاءکہا کرتے تھے ”مرشد ! مروا نہ دینا“
گزشتہ دنوں پیر کے عنوان سے کالم لکھا۔ اس پر بے شمار فون اور ای میلز آئیں۔ لوگ ان دو حضرات کا پتہ اور رابطہ نمبر پوچھتے ہیں جن کا کالم میں ذکر تھا۔ عمران خان کے مرشد یا پیر کا ذکر شامی صاحب سے بالواسطہ سنا تھا اور بالواسطہ ہی پتہ چلا ہے کہ نام سے اُس وقت تک وہ بھی واقف نہیں تھے۔ دوسرا واقعہ جس نے سنایا تھا وہ صاحب رابطے میں نہیں۔
پریشان حال لوگوں کو جہاں امید کی کرن نظر آتی ہے وہ اسی طرف اپنا قبلہ کر لیتے ہیں۔ منزلِ مراد کو ،کوئی کوئی پہنچتا ہے ،اکثر سراب اور فریب نظر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کالم کے بعد کچھ اہل علم لوگوں نے بتایا گوجر خان میں پروفیسر احمد رفیق اختر اور لاہور میں سرفراز شاہ صاحب پریشان حال لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ دونوں حضرات معروف ہیں۔ ان تک رسائی میں دقت نہیں ہوتی۔
چند سال قبل ایک دوست نے بتایا کہ گھر کی تعمیر اور بیٹی کی شادی کے لئے سود پر قرض نہ لینے کا انسان عہد کرے تو اللہ کی جناب سے یقینی مدد ہو تی ہے۔ میں نے یہ بات پلے باندھ لی اور دونوں حوالوں سے سرخرو ہوا۔ میرے لئے تو میرا یہی دوست رہنما اور پیر و مرشد ٹھہرا۔ میں اس سے آگے کی بات کرتا ہوں کہ زندگی کے کسی بھی معاملے اور کاروبار میں آپ سود سے باز رہیں تو خدا مدد ضرور کرتا ہے۔ ویسے مجھے جب بھی مشکلیںپڑیں داتا دربار گیا تو آساں ہو گئیں۔ تمام اللہ والے اس پر متفق ہیں کہ جسے مرشد ِکامل کی تلاش ہو وہ کشف المحجوب پڑھ لے تو اسے مرشدِ کامل مل جاتا ہے ۔
آج ہماری حکومت بھی مشکل کا شکار ہے۔ معیشت کی زبوں حالی اور دہشت گردی جان کو آئی ہوئی ہے۔ معیشت کی ڈوبتی ناﺅ کو سہارا دینے کے لئے آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ایشیائی و اسلامی ترقیاتی بنک کو رہنما سمجھ کر قرض لے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایک مسلک کے علماءکو مرشد مان کر ان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا۔
حکومت نے اے پی سی کے بعد طالبان کو غیر مشروط مذاکرات کی دعوت دی تو اس سے بہت سے لوگوں نے بڑی بڑی توقعات وابستہ کرلیں۔ان کو پاکستان میں امن کی فصل لہلہاتی ہوئی نظر آنے لگی لیکن یہ سب سراب ثابت ہوا۔بارود کے مر غولے پہلے سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ بے گناہوں کے جسم کے چیتھڑے اور خون بکھیرنے لگے۔ پشاور کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ۔قبل ازیں جنر ل ثنا ءاور ساتھیوں کو دھماکے میں شہید کیا جاچکا تھا۔ ان واقعات سے مذاکرات کا انعقاد سوالیہ نشان بن کر رہ گیالیکن حکمران اور طالبان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے سیاسی گروپوں اور متعدد مذہبی تنظیموں نے مذاکرات ہی کو آخری آپشن قرار دیا ۔یہ طبقات ،گروپ یا گروہ طالبان سے بھی زیادہ طالبان کے وفادار نظر آئے ۔حکومت نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے خود کو ممتاز جید علماءکرام و مفتیان عظام کہلانے والوں سے اللہ اور رسول کے نام پر حکومت اور طالبان سے جنگ بندی کی اپیل کرائی ۔نامور اور بڑے مدارس سے تعلق رکھنے والے اکابرین کا اہم اور غیر معمولی نوعیت کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا تھا۔ا ن میں سے بہت سے جولائی 2007میں جامعہ حفصہ اپریشن سے قبل صلح کے لئے اسلام آباد گئے اور ہوٹلوں میں سوئے رہے۔سرکاری خرچ پر اکٹھے ہونے والے علماءکرام کو کوششوں کا طالبان نے اسی طرح خیر مقدم کیا جس طرح اے پی سی کا کیا تھا ۔اس پر چند علماءنے حکومت اور طالبان کے درمیان رابطہ کار کا تاثر دیاجو ہنگو میں مذاکرات کے حامی ایک طالبان گروپ کے کمانڈر ملا نبی حنفی کے مدرسے پر حملے سے زائل ہو گیا۔ اس حملے میں ملا حنفی زخمی اور ان کے 17 کمانڈر اور ساتھی مارے گئے۔حکومت کے ایما پر رابطہ کرنے والے علماءاور طالبان ایک ہی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں ۔کچھ علماءکا دعویٰ ہے کہ طالبان ان کو باپ کا درجہ دیتے ہیں۔یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ساٹھ ستر میں سے طالبان کے کتنے گروپوں کے دل میں ان کا احترام ہے؟ طالبان اور حکومت کتنے ہی سال سے ایک دوسرے کے خلاف بر سرِ پیکار ہیں۔دونوں کو جنگی بندی پر مائل کرنے کے لئے کیا سرکاری دعوت کا اہتمام ضروری تھا؟
کرنل امام اور خالد خواجہ کو بھی طالبان اپنا استاد اور مرشد کہتے تھے۔ ان کو اپنے ہاںبلایا اور دونوں سابق فوجی افسروں ویڈو کیمروں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا۔جن کے سامنے ریاست آئین،استاد اور مرشد کی کوئی حیثیت نہیں وہ بزعمِ خویش استاد اور باپ ہونے کے دعویداروں کو کیا خاطر میں لائیں گے؟
٭٭٭٭



مذاکرات سے قبل ڈرون حملے بند کرانے کا طالبان کا مطالبہ بجا ہے لیکن اس مطالبے پر عمل حکومت کے اختیار میں ہی نہیں ہے۔امریکہ تو ان کے ایک جگہ جمع ہونے کا منتظر ہے تاکہ ایک ہی وار میں زیادہ سے زیادہ کو پار کردے۔طالبان کی دیگر شرائط بھی کڑی ہیںاور ان کے گروپوں کی تعداد بھی کم نہیں ان میں سے کئی کو بقول جنرل حمید گل پاکستان دشمنوں کی مدد حاصل ہے۔ جن طالبان کے اپنی دانست میں مقاصد مذہبی ہیں وہ بھی ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہیں۔ان عوامل کے پیش نظر طالبان سے مذاکرات کا سرے سے کوئی امکان نہیں ہے البتہ حکومت اگر چند گروپوں کو مذاکرات کی میزپر لے آئے تو الگ بات ہے ۔ اس کا فائدہ یہ ہوسکتاہے کہ طالبان متحارب گروہ آپس میں لڑ لڑکر مر جائیںاور جو باقی بچیں وہ اتنے نحیف ہونگے کہ فوج ان کو آسانی سے دبوچ لے گی۔ حکومت کے مذاکرات کے عزم کے پس پردہ شاید یہی سوچ ہولیکن یہ ضروری نہیں کہ جو آپ نے سوچ لیا وہی حرف ِ آخر ہو۔پاکستان دشمن قوتوں کے پروردہ گروپ اپنے آقاﺅں کا کھایا نمک کیا حلال نہیں کریں گے؟