About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Monday, December 17, 2012

ووٹ کے مستحق


29-11-12
ووٹ کے مستحق

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

الیکشن کا سیزن سر پر ہے موسم کی مناسبت سے موسمی پرندے ٹھکانے بدلنے کیلئے پھڑپھڑا رہے ہیں۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی اُڑان میں تیزی، سرعت، چُستی قابلِ دید ہو گی۔ بڑی پارٹیوں کی قیادتیں دعوے بھی بڑے بڑے کرتی ہیں لیکن اندر سے سہمی، دبکی اور خوفزدہ سی ہیں, جیتنے کا یقین نہیں۔ اوباما کے انتخابی مہم کے ایڈوازئر ڈیوڈ ایکسل راڈ جیسا انتخابات میں کامیابی کا اعتماد کسی پارٹی کے کسی رہنما کے اندر نہیں ہے اگر ہے تو اس کا اظہار نہیں کیا جا رہا۔ ایکسل راڈ نے انتخابی نتائج سے قبل کہا تھا کہ مٹ رومنی جیتے تو وہ اپنی 40 سال سے پالی ہوئی مونچھیں منڈوا دوں گا۔ ہمارے سیاستدان بھی ایکسل راڈ کی طرح اپنی مونچھیں صاف کرانے کی بات کر سکتے ہیں، ان میں چودھری نثار ہیں، لطیف کھوسہ ہیں بلکہ یہ دونوں تو اپنے اپنے لیڈر کی جیت پر ٹنڈ کرانے کی بھی شرط رکھ سکتے ہیں۔ مونچھ کی شرط تو بلا کسی تردد و تردید کے ہر پارٹی کی مقدسات بھی رکھ دیں تو ان کی مونچھ نیچی نہیں ہو گی۔

اب تو ویسے بھی ماضی کی طرح ہر پارٹی جیتے گی۔ زرداری کی مفاہمتی روح میاں نواز شریف کے جسم میں بھی حلول کرتی نظر آ رہی ہے۔ ان کو اچانک زرداری صاحب پر پیار آیا یا 4 سال قبل کے مفاہمتی شرارے نے محبت و الفت کی شمع روشن کر دی یا زرداری کو وہ قول یاد کرا دیا” اب آپ کی باری پھر ہماری“۔ یہ بات میاں صاحب نے زرداری سے اپنی یاری کے دوران کہی تھی پھر جب مفاہمت کے چراغوں میں روشنی نہ رہی تو میاں شہباز شریف زرداری کو مداری اور نہ جانے کیا کیا خطاب دینے لگے، البتہ اب نواز شریف نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو زرداری صاحب کے بارے میں سخت بیان نہیں دینے چاہئیں۔ میاں نواز شریف کہتے ہیں زرداری سے وزیراعظم کا حلف لینے پر اعتراض نہیں ہو گا۔ وہ ان کا بطور منتخب صدر احترام کرتے دکھائی دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ میاں نواز شریف کے محبت پر مبنی جذبات سے جمہوریت کے پودے کی یقیناً آبیاری ہو گی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت کے بند راستے بھی کھلیں گے۔ میاں صاحب کے اس بیان سے ن لیگ اور پی پی کے مابین پائی جانے والی ناگواری اب خوشگواری میں ڈھلتی نظر آ رہی ہے۔ کائر ہ لاہور میںگویا ہوئے کہ نواز شریف کو الیکشن سے آ¶ٹ کرنے کی سوچ احمقانہ ہے۔ یہ بات کائرہ صاحب نے اس لئے کی کہ ان کے لیڈر زرداری کی اہمیت، حیثیت اور اہلیت کوکو ان کے حریفِ شریف

نے تسلیم کر لیا ہے۔ آجکل عمران خان کو ن لیگ اپنے لئے بڑا سیاسی خطرہ سمجھ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی صفوں میں بھی ہلچل ہے، ہو سکتا ہے ن لیگ اور پی پی آئندہ الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کر لیں۔ ویسے بھی ہماری سیاست میں کچھ بھی حرفِ آخر نہیں ہوتا اور ہمیں قدرت نے ایسے سیاستدانوں کی نعمت غیر مترقبہ سے سرفراز فرمایا ہے جو محبت اور جنگ کی طرح سیاست میں بھی ”سب کچھ جائز“ کے قائل ہیں۔

 پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس الیکشن میں جانے اور عوام کو اپنی حمایت میں پولنگ سٹیشن پر لانے کا اثاثہ کیا ہے؟ آج لوگ حکمرانوں سے ناراض ہی نہیں بلکہ ان کے خلاف غصے سے بھی بھرے بیٹھے ہیں شاید سارا غصہ پولنگ والے دن جا کر نکالیں۔ جہاں مرکز کی طرف سے عوام کیلئے مسائل سے زیادہ مصائب پیدا کئے گئے وہیں کسی صوبائی حکومت نے بھی دودھ اور شہید کی ندی نالے نہیں بہائے۔ لوگ کبھی مسائل سے تنگ آ کر فوج کی طرف دیکھا کرتے تھے تو آج وہ عدلیہ کو امید کی کرن قرار دے رہے ہیں۔شائد اسی بنا پر حکومت عدالتوں کو ٹیڑھی نظر سے دیکھتی ہے --- عوام کے حافظے سے سپریم کورٹ کی طرف سے چینی کی قیمتوں کے تعین کا فیصلہ احترام سے دیکھا جاتا ہے جس کو چینی مافیا نے سبوتاژ کر کے رکھ دیا۔اس ما میں ہر پارٹی کے اکابرین معظم ومحترم شامل ہیں۔ تین ساڑھے تین سال قبل 100 روپے کلو ملنے والی چینی اب 55 روپے میں مل رہی ہے۔ نیٹو ٹرانسپورٹ کیلئے پٹرول 42 روپے، پاکستانیوں کے لئے 102 روپے لیٹر ہے، منافع کی کوئی حد و حساب نہیں۔ سی این جی 92 روپے کلو تھی سپریم کورٹ نے کہا اس کی قیمت 25 جولائی 2012ءکی سطح پر لے آ¶ تو سی این جی مالکان تلملا اُٹھے، اس کے بعد کبھی ہڑتال اور کبھی صارفین کو خوار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سی این جی والوں نے صارفین کو تماشہ بنا دیا۔ اوگرا، وزارتِ پٹرولیم اور ڈاکٹر عاصم تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے 4 سو سی این جی سٹیشن سیل کریں گے ۔حکومت ان سٹیشنوں کو سیل کر رہی ہے جو منظوری سے زیادہ گیس فروخت کرتے ہیں جو ہڑتال پر ہیں ان کو آشیرباد حاصل ہے۔ نقصان اور خواری کسی کی؟ صارفین کی۔ جن کی تعداد بقول مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین 35 لاکھ ہے۔ ان میں بڑی چھوٹی گاڑیوں، ویگنوں، بسوں اور دیہاڑی دار رکشے والے بھی شامل ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، اقربا پروری، کرپشن اور دہشت گردی کے تحفے بھی اس حکومت کے دئیے ہوئے ہیں۔ ملک ریاض نے ڈاکٹر ارسلان افتخار کیس میں سڈل کمشن پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اسے فائیو سٹار کمشن قرار دیا۔ تحقیقات اور تفتیش پر عدم اعتماد صرف ملک ریاض نہیں دیگر سپر سٹار بھی کرتے ہیں۔ ارسلان افتخار نے نیب پولیس اور ایف آئی اے پر مشتمل کمیٹی پر عدم اعتماد کیا۔ یوسف رضا گیلانی حج کرپشن کیس میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر حسین اصغر پر عدم اعتماد کر رہے ہیں ۔یہ وہی حسین اصغر ہیں جنہوں نے حج کرپشن کیس میں چھوٹے گیلانی کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تو باپ وزیراعظم نے ان کو گلگت بلتستان میں آئی جی لگا دیا تھا۔ اب پُتر کے ساتھ ابّے کی تحقیقات بھی اسی حسین اصغر کے پاس ہے۔ یوسف رضا گیلانی کا مقام بدل گیا لیکن ناز انداز نہیں بدلا کہتےہیں اس سے تحقیقات قبول نہیں۔ ایسا صرف فائیو سٹار اور سپر سٹار کلچر میں ہی ہو سکتا ہے۔ کیا عام ملزم کہہ سکتا ہے کہ اسے فلاں کی تحقیقات اور فلاں جج کے سامنے پیش ہونا قبول نہیں۔ ہمارا انتخابی سسٹم جیسا بھی لوگوں کو اپنے اچھے بُرے کی پہچان ہے، ان کا رحمن ملک کے پینترا بدل بیاناتپر بھی دھیان ہے۔ رحمان کی دانست میں پاکستان میں ہر بُرائی طالبان کی زمین و سرزمین میں اُگتی اور پرورش پاتی ہے۔ حامد میر کی کار میں بارود فِٹ ہوا، اس کی ذمہ داری حسب سابق طالبان نے قبول کر لی حالانکہ میر صاحب کسی اور طرف اشارہ کر رہے تھے۔ اگر طالبان حامد میر کے دشمن ہیں تو پاکستان میں اُن کا کوئی سجن نہیں ہو سکتا۔ اِدھر طالبان نے ذمہ داری قبول کی اُدھر رحمن ملک جھٹ سے بولے ؛” کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان بیرونی عناصرکےلئے کام کررہا ہے، جلد عوام کے سامنے حقیقت پیش کرونگا۔ احسان اللہ احسان کا تعلق ٹی ٹی پی سے نہیں بلکہ یہ گروپ ملک میں بیرونی عناصر کیلئے کام کررہا ہے“۔ملالہ معاملے میں طالبان کے خلاف رحمان ملک اور دیگر نے اودھم طالبان کے اسی ترجمان کے ذمہ داری قبول کرنے پر مچایا گیا تھا۔دیکھئے ملک صاحب اپنے اس بیان پر کب تک ثابت قدم رہتے ہیں۔احسان اللہ کن عناصر کیلئے کام کررہے ہیں؟ ان کا تو نام رحمن ملک نے نہیں لیا البتہ اس خبر پر نظر ضرور ڈال لیجئے۔27نومبر 2012ءکو شائع ہونے ولی خبر میں کہا گیاہے ”تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے پشاور میں واقع ایک غیر ملکی سفارتی مشن کے سیف ہاﺅس میں مقیم ہیں۔ وہ وہاں سے نہ صرف ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے ہر واقعہ کی فوری ذمہ داری قبول کرتا ہے بلکہ غیر ملکی بالخصوص امریکی میڈیا کو بروقت دستیاب رہتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اداروں کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے یہ ہاﺅس دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والے صف اول کے ملک کے زیر استعمال ہے اور اس کی سکیورٹی نہ صرف فول پروف ہے بلکہ وہاں کسی بھی پاکستانی سکیورٹی ادارے کو رسائی حاصل نہیں۔ ترجمان کو مواصلاتی رابطے کے جدید الات فراہم کئے گئے ہیں۔ احسان اللہ احسان امریکی میڈیا سے بات چیت کے دوران پاکستان کے خلاف سنگین الزام تراشی کرتے ہیں“۔رحمان ملک سے کوئی پوچھے حکومتی رٹ کس کو کہتے ہی ں اور وہ کہاں ہے۔ یہ سب کچھ عوام کی نظروں کے سامنے عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کرنے والے کون ہیں؟ وہی جو چند ماہ بعد ووٹ لینے کیلئے عوام کے در پر ہوں گے۔ کیا عوام ان کو اس بار پھر ووٹ کی بھیک دیں گے؟

Saturday, November 24, 2012

امریکہ ٹوٹنے سے بچ پائے گا ؟







امریکہ ٹوٹنے سے بچ پائے گا ؟
17-11-2012

کالے صدر کے انتخاب پر امریکی گورے غصے سے لال پیلے ہوئے۔ جمہوری اقدار کا احترام لازم ہے۔ ویسے اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ اگلے چار سال وہ اوباما کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے۔ اشتعال اور ا ±بال میں کچھ اور تو نہ کر سکے فوری طور پر 20 ریاستوں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے وفاق سے الگ ہونے کی آئین میں گنجائش کے مطابق وائٹ ہا¶س کو درخواست دیدی۔ 6 نومبر کو صدارتی انتخابات ہوئے 9 نومبر کو علیحدگی کی سوچ سامنے آئی جو اب باقاعدہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ معمولی معاملے کو ہوّا بنا کر پوری دنیا میں طوفان اٹھا دینے والا امریکی اور اس کے زیر اثر مغربی میڈیا اس معاملے میں خاموش ہے۔

ایک عمل ایک بار، بار بار یا ہزار بار بھی دہرایا جائے، اس کے ردّعمل میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ معیشت ڈوبے تو بہت کچھ ڈوب جاتا ہے۔ شعبے، ادارے، معاشرے، ریاستیں اور سلطنتیں بھی۔ پہلی جنگ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ معیشت کی زبوں حالی کے باعث ٹوٹی تو یہی قہر سلطنتِ برطانیہ پر دوسری جنگِ عظیم میں ٹوٹا۔ ایک ہی ردعمل کا ایک جیسا ردعمل۔ برطانیہ بھی معیشت کے زوال پذیر ہونے پر سکڑا اور سمٹ کر محدود ہو گیا۔ روس کو اپنے سپر پاور ہونے کا زعم تھا اس کی معیشت افغانستان پر قبضے اور مجاہدین سے جنگ میں لڑکھڑائی اور زمین بوس ہو گئی۔ ایک ہی عمل کا یکساں ردعمل جہاں بھی دیکھنے کو ملا اور بالآخر وہ بھی ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ افغانستان سے پوری تار یخ میں کبھی کوئی جارح سرخرو ہو کر نہیں گیا۔ اس کا سب سے زیادہ تجربہ تاجِ برطانیہ کو ہے۔ امریکہ نے آزادی برطانیہ سے حاصل کی تھی۔ برطانیہ نے امریکیوں کو حقِ آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا تھا۔ امریکہ کی آزادی سے انگریزوں کے بدن میں ایک تیر پیوست ہو گیا تھا جس کی ٹیس تو ختم ہو گئی ہو گی زخم بھی مندمل، لیکن نشان تو نہیں مٹ سکتا۔ امریکی شاید صدیوں تک دنیا کی واحد سپر پاور کا سٹیٹس انجوائے کرنے کے خواب دیکھ رہے ہوں لیکن اب یہ بے تعبیر ہوتے نظر آ رہے ہیں جس کے پیچھے تدبیر برطانیہ کی ہو سکتی ہے۔ برطانیہ نے امریکہ کو اس کے شانہ بشانہ ہو کر افغانستان کی دلدل میں لا پھینکا جہاں سے کبھی کوئی حملہ آور سرخرو ہو کر نہیں لوٹا۔ برطانیہ سمیت آج افغان جنگ کے سبب امریکہ کی معیشت ڈوب چکی ہے۔ ہر عمل کا یکساں ردعمل، سلطنت عثمانیہ و برطانیہ اور سوویت یونین معیشت ڈوبنے سے ڈوبے اور اب امریکہ بھی سپر پاور کے طور پر غروب ہوتا نظر آتا ہے۔

امریکی اعلان آزادی میں ریاستوں کو وفاق سے الگ ہونے کا آپشن دیا گیا ہے۔ ایک ریاست کے 25 ہزار افراد دستخط کر دیں تو وائٹ ہا¶س کو اس ریاست کی درخواست پر غور کرنا ہوتا ہے، نہ صرف آزادی کی محرک ریاستوں میں سے 7 ریاستوں کی مطلوبہ تعداد نے دستخط کر دئیے ہیں بلکہ مزید دس ریاستوں کی طرف سے بھی آزادی کا مطالبہ آ گیا ہے ان میں مزید اضافہ بھی عین ممکن ہے۔ امریکہ، سوویت یونین کے ٹوٹنے سے واحد سپر پاور بنا۔ وہ اپنی حیثیت صدیوں تک برقرار رکھ سکتا تھا مگر اس کو تکبر اور غرور لے ڈوبا۔ اس کی واحد سپر پاور ہونے کی عمر بلبلے کی زندگی سے زیادہ ثابت نہ ہوئی۔ اس نے اپنی طاقت کو انسانی فلاح، بہبود اور بھلائی کے بجائے دنیا پر تھانیداری، انسانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے اور انسانیت کا گلا دبانے کیلئے استعمال کیا۔ عراق کے پاس اول تو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے ہی نہیں اگر تھے بھی تو کیا باقی دنیا ایسے مطلقاً ہتھیاروں سے پاک ہے؟ ”ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننے دیں گے“ جیسے بیانات بھی ان کے تکبر اور کرہ¿ ارض کا نظام اپنی خواہش کے مطابق چلانے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کائنات کا نظام قدرت کاملہ کی مرضی سے چلتا ہے انسان ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انجام نمرود، شداد اور فرعون و قارون جیسا ہونا ہی مقدر ہے۔

امریکیوں کے دل و دماغ میں وفاق سے علیحدگی کی سوچ پیدا ہونے کی وجہ امریکہ کی ڈوبتی ہوئی معیشت ہی ہے۔ ہر امریکی جنگجو نہیں ہے اس کے باوجود اسے ایسی جنگ کیلئے ٹیکس دینا پڑتا ہے جس میں معصوم بچوں اور خواتین سمیت لاکھوں کی تعداد میں بے گناہ افراد مارے گئے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ امن کی خواہش رکھنے والے امریکی سینڈی طوفان کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے لگایا جانے والا ٹیکس تو خوشدلی سے ادا کر دیں گے۔ انسانیت کے قتل کیلئے ٹیکسدیتے ہوئے وہ ضرور سوچتے ہوں گے۔ یہ سوچ آج آزادی کی صورت میں سامنے آ گئی ہے۔ یقیناً امریکہ کے ٹوٹنے کی بنیاد پڑ گئی ہے اور اس کی وجہ بھی افغانستان کی دلدل ہے جس میں امریکہ کی معیشت ڈوبی۔ ایک عمل کا ایک جیسا ہی ردعمل ہوتا ہے یہ عمل ایک بار ہو یا ہزار بار ہو۔

امریکی ایف بی آئی نے اپنے میڈیا کو نکیل ڈال کر سی آئی اے سربراہ پیٹریاس کا سکینڈل صدارتی انتخابات سے قبل طشت ازبام ہونے سے بچا لیا جس سے اوباما شکست سے بچ گئے۔ اوباما ہار گئے ہوتے تو امریکیوں کے ذہن میں وفاق سے علیحدگی کا خیال تک نہ آتا، یہ اہتمام نادانستگی میں خود ایف بی آئی نے کر دیا۔ روس کو سازش کرنی پڑی نہ ایران یا کسی اور ملک کو کوئی کردار ادا کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا۔

افغانستان میں نئے امریکی کمانڈر جنرل جوزف نے دعویٰ کیا ہے کہ 2014ئ کے بعد بھی امریکی افواج کا افغانستان میں قیام ضروری ہے۔ امریکہ میں علیحدگی کی لہر چل نکلی ہے اس پر امریکی میڈیا کی لاتعلقی کے باوجود امریکی انتظامیہ س ±کھ کا سانس نہیں لے سکتی۔ 2014ئ کے بعد امریکیوں کا افغانستان میں نام و نشان ملنا بھی محال ہو گا۔ امریکی ریاستوں نے بڑے مہذبانہ اور پ ±رامن طریقے سے سوا دو سو سال قبل دیا گیا حق مانگا ہے، اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں یا وہی رویہ اختیار کیا گیا جو برطانیہ نے امریکیوں کے ساتھ آزادی مانگنے پر اختیار کیا تھا تو انہی امریکیوں کی نسل بھی وہی کچھ کرے گی جو 18ویں صدی کے وسط کے بعد ان کے آبائ نے کیا تھا البتہ ان کے سامنے اب ہزاروں میل دور کے گورے نہیں اپنے ہی ملک کے گورے، کالے اور پیلے ہوں گے۔ نتیجہ کیا ہو گا؟ یکساں ردعمل۔ وہی جو 4 جولائی 1776ئ کو انگریزوں سے آزادی کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ اب امریکہ کو بکھرنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ شاید ایک امریکہ سے پچاس امریکہ بن جائیں۔

اسلحہ سے پاک







 نومبر
22  ,2012

اسلحہ سے پاک!

عالمی میڈیا میں آنے والے اعداد و شمار کے مطابق‘ 88.8 فیصد امریکیوں کے پاس آتشیں اسلحہ ہے۔ یمن کے شہری 54.8 فیصد کے ساتھ دوسرے سوئٹزر لینڈ اور فن لینڈ کے 45.7 اور45.3 کے ساتھ بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔ امریکہ میں اسلحہ کلچر کی جڑیں بہت گہری اور مضبوط ہیں۔بی بی سی اور دیگر ذرائع ابلاغ نے امریکیوں کی اسلحہ اندوزی کے حوالے سے دلچسپ رپورٹیں شائع کی ہیں امریکہ شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آئینی طور پر ہر بالغ شہری کو ہتھیار یا بندوق رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اگر آپ کی عمر اٹھارہ سال یا اس سے زائد ہے، آپ امریکی شہری ہیں اور آپ کا کوئی پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے تو آپ محض اپنا ڈرائیونگ لائسنس یا ریاستی شناختی دستاویز کسی بھی اسلحے کی دکان پر دکھا کر بندوق خرید سکتے ہیں۔امریکی ہتھیاروں سے عشق کرتے ہیں‘ اور یہی بات آپ کو کئی امریکی فخر سے بتائیں گے۔یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ امریکہ دنیا میں بندوق کا کلچر رکھنے والے ملکوں میں سب سے آگے ہے اور اس کی تاریخ اور قومی زندگی میں بندوق ایک جزو لاینفک رہا ہے۔ البتہ گولی کے زور پر ہی انہوں نے امریکہ پہنچ کر قبضہ کیا تھا۔

عوام کے پاس اسلحہ کی بہتات اور بھرمار‘ لاقانونیت‘ دہشت گردی و امن و امان کی خرابی کی وجہ ہوتی تو امریکہ سوئٹزر لینڈ اور فن لینڈ میں امن و امان اور استحکام کا نام و نشان بھی نہ ہوتا۔ ہمارے سیاستدان ”اسلحہ سے پاک“ کی بات کر رہے۔ آج کل اس نعرہ کو لے کر ہمارے پارلیمنٹیرین آگے آگے ہیں۔ 19 نومبر 2012ئ کو سینٹ میں کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد پیش اور پاس کی گئی۔ دوسرے روز قومی اسمبلی میں ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قرارداد لائی گئی وہ بھی منظور ہو گئی۔ سینٹ میں پیش ہونے والی قرارداد کی محرک اے این پی تھی جس کی مخالفت متحدہ قومی موومنٹ نے کی۔ اگلے روز قومی اسمبلی میں متحدہ کی پیش کردہ قرارداد مسلم لیگ ن‘ اے این پی اور جے یو آئی کے دل کو نہ لگی۔ گویا گریجوایٹ پارلیمنٹیرین کے مابین کراچی یا پورے ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے پر اتفاق نہیں ہے۔ البتہ قراردادیں اکثریت رائے سے منظور ہو چکی ہیں۔ کسی بھی قرارداد کی حیثیت تجویز کی سی ہوتی ہے اس کو قانون کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم پارلیمنٹ کے وقار کا تقاضا ہے کہ اس کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل کیا جائے۔ لیکن اس حوالے سے جتنی بے توقیری موجودہ پارلیمنٹ کی پارلیمنٹ کو سپریم قرار دینے والوں کے ہاتھوں ہوئی ہے اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے پارلیمان کی متفقہ قراردادوں کو حکومت نے کبھی درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور ہفتہ وار تعین کے خاتمے کی قراردادوں کو حکومت نے پذیرائی نہیں بخشی۔ تیل و گیس کی ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کا خاتمہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہوا۔ کراچی یا ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قراردادیں بھی گذشتہ کئی قراردادوں کی طرح بے توقیری کی مٹی میں مل جائیں گی۔ جہاں تو قانون کو کوئی نہیں پوچھتا قراردادوں کی کیا اہمیت ہو گی! کراچی و ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی قراردادوں کی حیثیت ڈرامہ اور تماشا سے زیادہ نہیں ہے۔ ان سے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرین کا وقت ضائع ہوا۔ سیاستدانوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا اور بعض کے مابین نئی تلخیوں نے جنم لیا۔ یہی ان قراردادوں کا حاصل ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ صرف کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کی مخالفت کر رہی ہے۔ متحدہ مرکز اور صوبہ سندھ میں حکومت کی اتحادی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے متحدہ کو ناراض کرکے کراچی میں بے رحم آپریشن کرنا ممکن نہیں۔ متحدہ کا موقف اصولی ہے کہ اسلحہ کے خلاف آپریشن صرف کراچی ہی میں کیوں۔ پورے ملک میں کیوں نہیں؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک میں اسلحہ کے خلاف آپریشن ممکن ہی نہیں ہے۔ خیبر پختون خواہ‘ فاٹا اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں لوگ اسلحہ کو اپنا زیور سمجھتے ہیں۔ ہر شخص بلاضرورت بھی اپنے پاس اسلحہ رکھتا ہے۔ یہ ان کی روایات اور کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ آپ کسی سے اس کا کلچر نہیں چھین سکتے۔ امریکہ میں کئی بار گن کنٹرول لائ لانے کی کوشش کی گئی وہ کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ آپ قبائل جیسے روایات پر ایمان کی حد تک کاربند معاشرے سے اسلحہ کیسے واپس لیں گے؟ بالفرض ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کی مہم شروع ہوئی ہے تو اس کا آغاز کہاں سے ہو گا؟ کراچی سے خیبر پی کے‘ فاٹا یا بلوچستان سے؟ کیا اس پر تمام پارٹیوں کا اتفاق رائے ہو جائے گا؟ اگر اتفاق رائے نہیں ہوتا تو کیا آج کے حکمران ہر مخالفت کو نظرانداز کرتے ہوئے بلاامتیاز آپریشن کی جرات رکھتے ہیں؟

سوال یہ ہے کہ کراچی یا ملک کو اسلحہ سے پاک کیوں کیا جائے؟ یہ ضرورت لاقانونیت بدامنی‘ بھتہ خوری‘ اغوا برائے تاوان اور قتل و غارت جیسے جرائم کے باعث محسوس کی گئی ہے کیا ملک کے دیگر علاقوں میں بھی کراچی جیسے بدترین حالات میں جہاں آپریشن کیا جائے؟ قبائل کے پاس تو اسلحہ صدیوں سے موجودہ ہے۔ ان علاقوں میں امن و امان بگڑا ہوا ضرور ہے لیکن اس کی وجہ ہر آدمی کے پاس من مرضی کا اسلحہ ہونا نہیں ہے۔ پھر وہاں اسلحہ کے خلاف آپریشن کا جواز نہیں رہتا۔ ضرورت کراچی سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں امن کے قیام کی ہے۔ کیا امن صرف ہر شخص سے اسلحہ چھین لینے سے قائم ہو سکتا ہے؟ ملک کے بہت سے حصوں میں اسلحہ نہ ہونے کے برابر ہے‘ جرائم وہاں بھی ہوتے ہیں۔ قتل و غارت بھی ہوتی ہے۔ سیاسی بنیادوں پر ممنوعہ بور کے اسلحہ کے بے شمار لائسنس جاری کئے گئے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھی جرائم پیشہ لوگ خطرناک اور غیر ممنوعہ اسلحہ خرید سکتے ہیں۔ پرامن شخص کے حوالے آپ ٹینک اور توپ بھی کردیں تو وہ اس کو تخریب دہشت اور وحشت کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔ اگر ہمارے حکمران‘ سیاستدان اور دیگر بااثر رہبرو رہنما لاقانونیت‘ ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کی وجوہات ختم کر دیں تو کسی کے پاس پڑ اسلحہ کسی کے لئے خطرناک ثابت ہو گا نہ اس سے واپس لینے کی ضرورت پڑے گی۔ قانون کی بالادستی ہو تو بھی ہر گھر میں اور ہر شخص کے پاس موجود اسلحہ سے کسی کو خطرہ نہیں ہے۔ کراچی میں کیا کبھی قانون کی عملداری کی کوشش کی گئی؟ پے رول پر رہائی کی سہولت قاتلوں اور دہشت گردوں کو نہیں دی جاتی اور وہ بھی ہمیشہ کے لئے رہائی کی۔ قانون پر عملداری یقینی بنا دی جائے تو جائز اور ناجائز اسلحہ کا استعمال خود بخود رک جائے گا۔

کراچی اور ملک کو اسلحہ سے پاک کرنے کا عزم ظاہر کرنے والے اگر پرخلوص‘ نیک نیت‘ دیانتدار اور قوم و ملک کے خیرخواہ ہوں تو اسلحہ کے خلاف مہم چلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ملا عمر کی ایک آواز پر اسلحہ کو زیور سمجھنے والوں نے برضا رغبت اسلحہ جمع کرا دیا اور پوست جو ان کے روزگار کا وسیلہ تھا اس کی کاشت ترک کر دی۔ قرون اولیٰ کی بات کریں تو‘ حرمت کا حکم ہوا تو شراب کے رسیا¶ں نے سربازار شراب کے مٹکے توڑ ڈالے۔ ہمارے حکمران بھی ایسے کردار کا مظاہرہ کریں تو کسی آپریشن کی ضرورت نہیں رہے گی۔





























ا ±مہ کا اتحاد بھی.... اقبال کا خواب

9-11-12


 فیملی میگزین کے تازہ شمارے میں امتنان ظفر کی دلکش تحریر کے ساتھ حسن البلقیہ کی دیدہ زیب تصویر بھی شائع ہوئی ہے‘ ان کو پڑھنے اور دیکھنے والا سونے اور سنہرے خیالات میں گم ہو جاتا ہے۔ برونائی دارالسلام کے سلطان حسن البلقیہ کی شان و شوکت کی دھوم ساری دنیا میں ہے اس کی ایک وجہ ان کا بادشاہوں جیسا طرز رہائش اور شاہانہ لباس ہی نہیں‘ انکے زیر استعمال قیمتی اشیائ بھی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق انکی دولت میں ہر سیکنڈ نوے یوروز کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حساب سے انکی دولت میں ہر منٹ پانچ ہزار چار سو‘ ہر گھنٹے تین لاکھ چوبیس ہزار‘ روزانہ ستر لاکھ چھہتر ہزار یورو اور ہر ہفتے پانچ کروڑ چوالیس لاکھ بتیس ہزار یورو کا اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ریشم و اطلس و کم خواب کے ایسے ملبوسات زیب تن کرتے ہیں جن پر سونے اور چاندی کے تاروں سے ایمبرائیڈری کا کام کیا گیا ہوتا ہے ان کا محل دنیا کا سب سے بڑا اور آرام دہ رائل پیلس ہے جس میں ایک ہزار سات سو اٹھاسی کمرے ہیں۔ ہر کمرے کی اشیائ پر سونے اور ہیروں کی تہ چڑھائی گئی ہے۔ یہاں سونے اور چاندی سے مرصع دو سو ستاون باتھ روم ہیں۔
حسن البلقیہ کے گیراج میں مختلف ماڈلز کی ایک سو دس قیمتی کاریں ہیں‘ رولز رائس کمپنی نے انکی خصوصی کار ڈیزائن کی ہے جو یہ برطانیہ میں قیام کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ یہ کار خالص سونے سے مرصع ہے۔ انکی ملکیت میں مجموعی طور پر ایک ہزار نو سو بتیس گاڑیاں ہیں۔ انکے جہازوں کے بیڑے میں ایک بوئنگ 747 بھی شامل ہے۔ جسے سلطان کی ہدایت پر ازسر نو سونے سے ڈیزائن اور سونے سے بنی اشیائ سے سجایا گیا ہے۔ اسکے علاوہ چھ چھوٹے ائیر کرافٹ اور دو ہیلی کاپٹر بھی شاہی بیڑے کا حصہ ہیں۔
اتنی دولت مندی اور سوائے سونے کے تناول ماحضر کے‘ سونے کے بجا اور بے جا استعمال کے سلطان حسن البلقیہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سرفہرست نہیں‘ بلومبرگ کی شائع کردہ تازہ ترین لسٹ کے مطابق 200 امیر ترین لوگوں میں سے چار کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ ویسے دنیا کے امیر ترین لوگوں میں بالترتیب میکسیکو کا کارلوس سلم‘ امریکی بل گیٹس اور ہسپانوی امانسیواوریگا‘ 77.5 ارب ڈالر 64.34 اور 53.6 کے ساتھ پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ سعودی روزنامے الوطن نے اپنے چار ہموطنوں کے اثاثوں کی مالیت 2.7 ٹریلین ڈالر بتائی ہے جو دنیا کی پانچویں بڑی اقتصادی طاقت فرانس کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔ سعودی عرب کے امیر ترین شخص ”کنڈم ہولڈنگ“ کے مالک شہزادہ ولید بن طلال ہیں جو اپنے 22.9 ارب ڈالر اثاثوں کے ساتھ دنیا کے 20ویں امیر ترین شخص ہیں۔
عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں‘ بادشاہوں اور شہزادوں کے اثاثوں کی مالیت ہو سکتا ہے کارلوس سلم‘ بل گیٹس کی دولت سے زیادہ ہو امیر ترین عالمی شخصیات کا تعین کرتے وقت ان کو انکی دولت کے کسی حد و حساب سے باہر ہونے پر متعینہ پیمانے سے ہی نہ جانچا جاتا ہو۔ مسلم ممالک کے ہاں ایک طرف دولت کی یہ ریل پیل تو دوسری طرف اسلامی ممالک میں سسکتی ہوئی انسانیت بھی دیکھی جاتی ہے۔ پاکستان‘ صومالیہ‘ بنگلہ دیش‘ یوگنڈہ جیسے ممالک میں ایلیٹ کلاس تو ضرور موجود ہے لیکن مفلوک الحال افراد کی تعداد کا کوئی شمار قطار نہیں جن کو دو وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہو۔ وہ اپنے بچوں کو سکول بھجوانے اور جوانی سے بڑھاپے کی عمر میں داخل ہوتی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر سکیں۔
کیا امیر مسلم ممالک اپنی دولت غریب برادر اسلامی ممالک کے بے چاروں اور لاچاروں پر نچھاور کر دیں؟ تاکہ یہ ویلیاں کھانے کے عادی ہو جائیں؟ ہمارے ہاں کسمپرسی کا شکار لوگوں کی دو قسمیں ہیں‘ ایک ہڈحرام اور دوسرے زندگی کی بقائ کیلئے لڑتے لڑتے اپنی توانائیوں کا بھرپور استعمال کرکے بھی غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔ یہ کچھ کر گزرنے کا عزم ضرور رکھتے ہیں لیکن مواقع اور وسائل ان سے کوسوں دور ہیں۔ اس دوسری قسم کے لوگوں کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام امیر ممالک مل کر آسانی سے کر سکتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کے خسارے کا احتمال نہیں
آج عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں میں مجموعی طور پر کروڑوں غیرملکی انجینئرز‘ پروفیسرز‘ بزنس مین‘ ہنرمند‘ نیم ہنرمند اور مزدور کام کر رہے ہیں۔ بعض ممالک کی فوج اور پولیس بھی غیرملکیوں پر مشتمل ہے۔ سوائے مکة المکرمہ اور مدینہ منورہ کے کسی شہر اور ملک میں غیرملکی بلاامتیاز مذہب موجود ہیں۔ مکہ اور مدینہ مقدس شہروں میں غیرمسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ کسی سے اس کا روزگار نہ چھینا جائے۔ اسلامی اخوت کے ناطے برادر اسلامی ممالک کے غریبوں کا بھی احساس ضروری ہے اس لئے امیر مسلمان ممالک اپنے ہاں موجود غیرمسلموں کو اپنا معینہ عرصہ مکمل کرنے دیں البتہ مزید نفری اور ہنرمند افرادی قوت مسلم ممالک سے حاصل کی جائے۔ یہ ایسا کارخیرہے جو امیر اسلامی ممالک اپنے برادر ممالک کے غریب اور ہنرمند افراد کی فلاح کیلئے اپنے پلے سے ایک بھی درہم و دینار خرچ کئے بغیر کر سکتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے قطر کے دورے کے موقع پر کہا کہ قطر کو 20 لاکھ ورکرز کی ضرورت ہے‘ یہ پاکستان سے منگوائے جائیں‘ کتنا اچھا ہو کہ قطر میں مقیم 90 ہزار پاکستانیوں کی تعداد 20 لاکھ نوے ہزار ہو جائے اور وہ بھی بغیر کمیشن کے۔
 امیر ممالک کے خزانے درہم ریال اور دینار کی بہتات سے چھلک چھلک جاتے ہیں۔ ہمارے صدر مملکت آصف علی زرداری پاکستان کے تیسرے امیر ترین آدمی ہیں‘ انکے اثاثوں کی مالیت 8 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ بعض ممالک کے سربراہان دس ارب ڈالر جوئے میں ایک ہی رات میں ہار کو بار نہیں سمجھتے۔ ایسے حکمرانوں کو کون تقویٰ اختیار کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے؟ البتہ ان سے بعض اسلامی ممالک کی پسماندگی دور کرنے اور پوری دنیا میں ستم زدہ مسلمانوں کی دادرسی کی درخواست تو کی جا سکتی ہے۔ جن کیلئے جوئے میں دس ارب تک بھی ہار دینا ایک مشغلہ ہے‘ جن کی دولت کی کوئی حد نہیں ہے‘ وہ ممالک اگر کچھ رقم مسلم ممالک کی دولت مشترکہ قائم کرکے اس میں جمع کرادیں‘ دولت مند لوگ بھی اس میں حصہ ڈالیں تو بلاشبہ یہ فنڈ کھربوں ڈالر میں ہو سکتا ہے جو پسماندہ اسلامی ممالک کو اپنے پا?ں پر کھڑا کرنے کیلئے استعمال ہو۔ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کی تحریکوں میں تیزی لائی جا سکے اور بدھوں کی ستمگری کا نشانہ بننے والے روہنگیا مسلمانوں کیلئے آزادی کا سامان کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی ممالک کی دولت ِمشترکہ اس قابل ہو سکتی ہے جو دنیا میں بے وطن مسلمانوں کو وطن تک خرید کے وہاں انکو بسا سکتی ہے۔ پاکستان ہم نے دو قومی نظریے پر حاصل کیا‘ قائد اس عزم پر قائم رہے کہ مسلمان الگ قوم ہیں تو پاکستان حاصل کرلیا۔ اقبال نے تو پوری دنیا کو مسلمانوں کا وطن قرار دیا تھا۔
چین و عرب ہمارا‘ ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں وطن ہے سارا جہاں ہمارا
حضرت اقبال? نے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کا تصور پیش کیا‘ اس کو حضرت قائداعظم? نے عملی شکل دیدی۔ علامہ اقبال مسلمانوں کے بھی اتحاد کے حامی تھے۔ عالم اسلام کا اتحاد بھی ان کا خواب تھا........
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
نبی کریم نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں‘ جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا بدن بے چین ہو جاتا ہے۔ اس سوچ سے اسلامی ممالک کے سربراہان کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام کون کرے؟ یہ کام عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت پاکستان کے کرنے کا ہے۔ پاکستان یہ کام کرنے کی ٹھان لے تو اسلامی دولت مشترکہ کا قیام بڑی آسانی سے عمل میں آسکتا ہے۔ آپکے پاس او آئی سی کا پلیٹ فارم پہلے سے موجود ہے‘ ضرورت اس کو تھوڑا سا فعال کرنے کی ہے۔


Tuesday, November 13, 2012

 
 
 
13-11-12

پرامن انقلاب بھی ممکن
کسی کی بھی غلطی دور کرانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو باور کرایا جائے کہ وہ واقعی کچھ غلط کر رہا ہے۔ جب تک وہ تسلیم نہ کرے آپ لاکھ کوشش کر لیں اس کی سوئی وہیں پر اٹکی رہے گی۔ مسلم لیگ (ن) نے آصف علی زرداری کے ”پارسائی“ کے دور میں ان کے ساتھ مفاہمت کی۔ یہ سلسلہ فروری 2008ءکے انتخابات کے بعد کئی ماہ بڑی کامیابی سے چلا۔ پھر حالات بدلتے‘ الجھتے اور گنجلک ہوتے ہوئے ایک دوسرے پر دشنام اور اتہام تک جا پہنچے۔ میاں شہباز شریف کا ٹارگٹ فریق مخالف کی دو شخصیات زرداری اور رحمن ملک بنی ہوئی ہیں۔ رحمن ملک کو وہ جھوٹوں کا آئی جی اور زرداری صاحب کو ڈاکو لٹیرا اور بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔ میاں صاحب کے ہمنوا¶ں کے کیا کہنے۔ اسی سر اور تال میں کان پر ایک ہاتھ رکھ کر نمک خواری اور وفاداری کا حق کر دیتے ہیں۔ مرکزی حکمرانوں کو مجموعی طور پر علی بابا اور چالیس چور کہہ کر پکارتے رہے۔ ”علی بابا“ ان کے نزدیک ڈاکو¶ں کا سردار تھا۔ میاں صاحب کئی سال سے یہی کہتے چلے آرہے ہیں۔ میڈیا میں کئی بار یہ صورت حال واضح کی گئی کہ علی بابا نے تو ڈاکو¶ں کا خاتمہ کیا تھا لیکن میاں صاحب کی سوئی جہاں اٹکی تھی وہی لٹکی اور بھٹکی رہی۔ البتہ چند روز سے انہوں نے علی بابا کو معاف کر دیا ہے۔ اب وہ ”زر بابا اور چالیس چوروں“ کے پیچھے پڑے ہیں۔ انہوں نے ایک غلطی کو ماننے اور اپنا موقف سدھارنے میں کئی سال لے لئے۔ دیر آید درست آید۔ غور فکر کی ضرورت ہے۔ ہم جن لوگوں کو کرپٹ‘ ڈاکو لٹیرے حرام خور وغیرہ وغیرہ قرار دیتے ہیں کیا ان کو معلوم ہے کہ واقعی وہ ایسے ہیں جیسا ہم ان کو سمجھتے ہیں؟ ہم نے ان کو سمجھانے کا جو طریقہ اختیار کیا ہے کیا وہ اس سے بھڑکتے ہیں یا اپنی اصلاح پر مائل ہوتے ہیں؟ ان کی نظر میں محض اپنا سیاسی مستقبل ہی سب سے اہم ہے یا ان کو اپنی عاقبت کا بھی فکر ہے؟ بہرحال معاملہ جو بھی ہے حقیقت یہ ہے کہ مسائل‘ مصائب اور بحرانوں کی وجہ سے ہر روح پریشان ہی نہیں اذیت میں بھی مبتلا ہے۔ مشکلات شمار کرانے کی ضرورت نہیں ان سے ہر ذی شعور آگاہ بلکہ ان میں مبتلا بھی ہے۔ گڈگورننس دور کی بات گورننس کا بھی کوئی نشان نہیں ہے۔ افسوس تو یہ جن کے ذمے سب کچھ کرنا ہے ان کا اس طرف دھیان ہی نہیں ہے۔ وہ سمجھانے والوں کی بات ہی سنتے جس طرح میاں شہباز شریف نے علی بابا والی کئی سال نہیں سنی۔ وہ بھی شاید خود کو عقل کل سمجھتے ہیں اور دوسروں کو مورکھ۔ گو ان کی حکمرانی کے بظاہر چند ماہ رہ گئے ہیں۔ اپنی بساط اور اوقات کے مطابق سمجھانے والوں کو اپنا فرض ادا کرتے رہنا چاہئے۔ جو باتوں سے سمجھا سکتے ہیں وہ باتوں سے سمجھانے کی کوشش جو لاتوں سے سمجھانے کی طاقت رکھتے ہیں وہ....
”روم ایک رات میں تعمیر نہیں ہوا‘ گرانے میں صرف ایک رات لگتی ہے“ یہ مقولہ روم کی عملی تعمیر کے حوالے سے تو درست ہو سکتا ہے اس سے ہم انسانی کردار اور قوم و معاشرہ کی تعمیر و تشکیل کا استدلال نہیں لے سکتے۔ اس کے لئے ایک رات بھی زیادہ ہے عزم راسخ اور کٹمنٹ ہو تو یہ کام لمحوں میں ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے معاشرے کے ساتھ چلنے کی چاہئے اور نہ لمبی چوڑی ٹیم کی۔ صرف ایک مرد خدا‘ جسے مسیحا کہہ لیں یا قائد و رہنما کی ضرورت ہے۔ آپ کے پاس ریاست ہے‘ آئین اور قانون ہے سب سے بڑھ کر ضابطہ حیات موجود ہے۔ تمام ادارے اور وسائل ہیں۔ اگر نہیں ہے تو کوئی قائد نہیں ہے رہنما نہیں اور جو ہیں ان کے پاس وژن نہیں۔ جن سے قوم کو امیدیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ 6 ماہ میں بحرانوں پر قابو پانے کے دعوے باطل ہیں۔ جن لوگوں نے ایوب دور دیکھا وہ راتوں رات انقلاب برپا ہونے کے گواہ ہیں۔ غلام مصطفیٰ کھر کو 1971ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے پنجاب کا گورنر بنایا تو چند دن میں چوروں‘ ڈاکو¶ں‘ رسہ گیروں اور منافع خوروں کا برق رفتاری سے خاتمہ ہو گیا تھا۔ آج سیاسی و انتظامی اختیارات کا منبع آصف علی زرداری کی ذات میں ہے ان کے اوصاف اوپر سے نیچے تک ساتھی سیاستدانوں اور بیورو کریسی تک میں محسوس ہو رہے ہیں۔
 ایوب خان آیا تو انتظامیہ ان کے رنگ میں رنگ گئی۔ کھر کا رنگ بھی پولیس پر چڑھا۔ جنرل ضیاءالحق کا بہت سے حلقوں میں نمازی اور پرہیزگار کے طور پر امیج ابھرا۔ وہ تجربے کی بنیاد پر کہا کرتے تھے اشارہ کروں تو سیاستدان دم ہلاتے چلے آئیں۔ ضیاءدور میں ان کے ساتھی سیاست دان‘ جرنیل اور بڑے افسران جیب میں ٹوپی رکھا کرتے تھے۔ ضیاءصاحب کی معیت میں بوقت قیام وضو کی پروا کئے بغیر صف میں شامل ہو جایا کرتے تھے۔ آپ آج ہی جنرل کی خواہش کے مطابق اس بیوروکریسی‘ کابینہ اور انتظامیہ کی موجودگی میں زمام اقتدار الماس بوبی کے حوالے کر دیں تو یہی انتظامیہ ٹھمکے لگاتے اور لوری لگاتے نظر آئے گی۔ اوپر آپ صرف ایک بندہ بدل دیں۔ نواز شریف کو بٹھا دیں‘ عمران خان کو اقتدار کی لگام تھما دیں۔ پورے ملک میں ان کی طبیعت کے مطابق تبدیلی واضح طور پر دکھائے دے گی۔ آج ہمیں ضرورت ایسی لیڈر شپ کی ہے جو برسوں میں تبدیلی کی امید کا دیپ نہ جلائے بلکہ راتوں رات انقلاب برپا کرنے کا عزم رکھنے والوں کی ضرورت ہے۔ ایسا بالکل ممکن ہے اور اسی کو انقلاب کہتے ہیں۔ خونیں نہیں پُرامن انقلاب‘ جس کی آج اشد ضرورت ہے۔
 

Sunday, November 11, 2012

خرافات سے پاک سیاست

 
 
اتوار ,11 نومبر ,2012

خرافات سے پاک سیاست
پاک فوج میں جوان سے جرنیل تک ڈسپلن کی ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ یہی مسلح افواج کی قوت اور کامیابی ہے۔ افواج میں جب تک ڈسپلن ہے یہ اس وقت تک مضبوط اور متحد رہے گی اگر اسے قانون کی موشگافیوں میں الجھا دیا گیا تو ڈسپلن کے بندھن ٹوٹ جائیں گے۔ کچھ حلقوں کی یہی منشا ہے اور کچھ نادانستگی میں ان حلقوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں اور کچھ اس ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں سرگرم بھی ہیں۔ فوج میںاوپر سے حکم ملتے ہی تعمیل میں تاخیر سے بھی معاملات بگڑ جاتے ہیں، انکار سے تو شر پھیلے گا اور پھر اسکے شرر اور شرارہ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ ڈسپلن کا تقاضا ہے کہ سپاہی کمانڈر کی ہدایت پر اپنی عقل کو استعمال میں لائے اور قانونی باریکیوں میں پڑے بغیر عمل کرے خواہ وہ اسے کنویں میں چھلانگ کا کہہ دے، حکم دینے والا بیوقوف نہیں ہے جو ایسا کہہ دے وہ سوچ سمجھ کر پوری ذمہ داری سے ہی ایسا کرنے کا حکم دیتا ہے جس کا ماتحت کو علم ہوتا ہے اور نہ وہ جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ ہماری فوج میں ایسا ہی نظم و ضبط ہے۔ جرنیلوں نے مارشل لاءلگائے یہ ان کا انفرادی فیصلہ ہو سکتا ہے ہر فوجی مارشلا¶ں کا حامی نہیں تھا لیکن ڈسپلن کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے مارشل لاءکا حصہ بننا پڑا۔ اگر قانون کا درس دینے والے ان کو قائل کر لیتے کہ مارشل لاءلگانے والوں نے آئین کی خلاف ورزی کی، ان کے اقدامات اور احکامات غیر قانونی ہیں، آپ ماننے سے انکار کر دیں تو کیا فوج میں نظم و ضبط نام کی کوئی چیز رہ جاتی؟ حالانکہ مارشل لاءیقیناً آئین شکن اقدام ہے جس کی سزا آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت موت ہے۔ فوج کو آئین اور قانون پڑھانے سے زیادہ، اسے نظم و ضبط کا پابند رہنے کا درس دیا جاتا ہے۔
صدر مملکت فوج کا سپریم کمانڈر ہے۔ آرمی چیف اسکے ماتحت ہے۔ باقی فوج آرمی چیف کے زیر کمان ہے۔ جو معاملات صدر اور آرمی چیف کے سامنے ہیں ضروری نہیں کہ دیگر لوگ بھی ان سے واقف ہوں۔ حکمت عملی ترتیب دینا کمانڈر کا کام اور اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنا اس کی ٹیم کی ذمہ داری ہے۔ مارشل لاءچند جرنیل لگاتے ہیں بعد میں پوری فوج ان کا ساتھ دیتی ہے۔ پاکستان میں جب کبھی حقائق جاننے کا کمشن بنا تو کیا اس میں مارشل لاءلگانے والا جرنیل اور اسکے حکم پر گلیوں بازاروں میں ڈیوٹی دینے والے بندوق بردار جوان یکساں سزا کے مستوجب ہوں گے؟ کیونکہ یہ بھی مارشل لاءکا حصہ تھے۔ جنرل درانی کا م¶قف درست ہے کہ انہوں نے جو کیا اپنے کمانڈر جنرل اسلم بیگ کے احکامات پر کیا۔ جنرل بیگ، سپریم کمانڈر کے حکم کے پابند تھے۔ فوج کے سپریم کمانڈر صدر غلام اسحاق خان نے ایسا کیوں کیا، وہ جواب دینے کےلئے دنیا میں موجود نہیں تاہم ان کی طرف سے ہو سکتا ہے کہ جواب جنرل درانی کے اس بیان میں ہو جو سپریم کورٹ نے پڑھ کر واپس کر دیا اور بریگیڈئر حامد سعید اختر کے 9 نکات جن کو خفیہ رکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے سامنے آنے والے حقائق کے مطابق فیصلہ دیا جس پر تحسین کے ساتھ ساتھ تنقید بھی ہو رہی ہے۔ فیصلے کی زد میں آنے والوں نے اپنی دانست میں اس وقت جو کیا وہ شاید ان کے نزدیک ملک کو بچانے کا تقاضا تھا۔ اگرچہ وہ عدالت میں ایسا ثابت نہیں کر سکے البتہ ان کے ضمیر مطمئن ہیں۔ آئندہ بھی سقراط پیدا ہوتے رہیں گے۔ وطن کو خطرے میں دیکھ کر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیںگے بعد میں خواہ ان کو زہر کا پیالہ پینا پڑے۔ ملک و ملت کو خطرات میں گھرتا ہوا دیکھ کر ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ قانون کی موشگافیوں میں پڑے بغیر اپنا کردار بعینہ ادا کرے۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
سپریم کورٹ کے اصغر خان کیس کے فیصلے کا وہ پہلو نہایت اہم ہے جس میں فوج سے پیسے وصول کرنے والوں سے سود سمیت وصولی کی ہدایت کی گئی۔ ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کن سیاستدانوں نے وصولیاں کیں۔ صرف محترمہ سیدہ عابدہ حسین نے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے اعتراف کیا اور ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ وہ منافع سمیت رقم لوٹانے کو تیار ہیں۔ جن پر فوج یا یونس حبیب سے نومبر 1990ءکے الیکشن سے قبل رقوم وصول کرنے کا الزام ہے ان کے ناموں پر ایک نظر ڈال لینے میں حرج نہیں۔ ان کا ذکر سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے۔ صوبہ سرحد سے امیر افضل نے ایک کروڑ روپے، پنجاب سے نواز شریف نے 35 لاکھ (آپ نے تردید کردی ہے)‘ جماعت اسلامی 50 لاکھ، عابدہ حسین 10 لاکھ، الطاف حسین قریشی اور مصطفی صادق,5 5 لاکھ۔ سندھ سے غلام مصطفی جتوئی 50 لاکھ، جام صادق 50 لاکھ، محمد خان جونیجو 25لاکھ، پیر پگاڑا 20 لاکھ، مولانا صلاح الدین 3 لاکھ ۔ بلوچستان سے ہمایوں مری 15 لاکھ، میر ظفر اللہ جمالی 40 لاکھ، کاکڑ 10 لاکھ، کے بلوچ 5 لاکھ، جام یوسف 750000، غوث بخش بزنجو 5 لاکھ، ندیم مینگل سے 10 لاکھ روپے وصول کئے۔ یونس حبیب کے بیان کے مطابق جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کو 14 کروڑ روپے، جام صادق علی کو 7 کروڑ روپے، الطاف حسین کو 2 کروڑ روپے اور جاوید ہاشمی وغیرہ کےلئے یوسف میمن کو 5 کروڑ روپے دئیے۔
1990ءکے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں آئی جے آئی کو کھڑا کیا گیا، آج اُسی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ حکمرانوں میں بہت سے ایسے ہیں جن کی ”وصولیوں“ کے سامنے 90 میںکی گئیں ادائیگیوں کی کوئی حقیقت ہی نہیں۔ بہتر نہیں ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد قومی خزانے سے ایک بھی پائی لوٹنے والوں سے سےاست کو پاک کر دیا جائے۔ اس کے ساتھ ملک میں آمریت مسلط کرنے والوں کا حساب بے باک کر دینا چاہئے۔سیاست دان اگر واقعی قوم و ملک کے ساتھ مخلص ہیں تو نہ صرف اپنی صفوں سے کرپٹ افراد کو نکال باہر کریں بلکہ کرپشن کیخلاف انتہائی سطح پر جانے کو اپنے منشور کا حصہ بھی بنائیں۔
 

Friday, November 9, 2012

 
 
 
امریکی صدارتی اور پاکستانی پارلیمانی الیکشن
6-11-12

امریکہ میں صدارتی انتخابات آج بروز منگل 6 نومبر 2012ءکو ہو رہے ہیں‘ امریکی عوام اگلے چار سال کیلئے ری پبلکن مٹ رومنی اور ڈیموکریٹک باراک اوباما میں سے کسی ایک کے سر پر اقتدار کا ہما بٹھا دینگے۔ چار سال قبل 2008ءنومبر کے پہلے منگل کو ہونیوالے انتخابات میں اوباما نے اپنے مدمقابل جان مکین کو شکست دی‘ اگلے امریکی صدارتی الیکشن میں مدِمقابل کون ہونگے؟ اس بارے میں وثوق سے پیشگوئی نہیں کی جا سکتی البتہ دو باتیں کرسٹل کلیئر ہیں کہ اگلے امریکی صدارتی انتخابات نومبر 2016ءکے پہلے منگل کو ہونگے اور مدمقابل ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیاں ہی ہونگی۔ ہماری جمہوری حکومت جن انتخابات کے نتیجے میں اقتدار کے آسمان تک پہنچی‘ وہ آج سے پورے چار سال ساڑھے آٹھ ماہ قبل 18 فروری 2008ءکو ہوئے تھے۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات ہر چار سال بعد نومبر کے پہلے منگل کو ہوتے ہیں۔ منتخب ہونیوالا صدر اگلے ہی روز وائٹ ہاﺅس میں براجمان نہیں ہو جاتا‘ اقتدار کی منتقلی جنوری میں مکمل ہوتی ہے۔ چار سال کے اندر سارا عمل مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اسکے مقابلے میں ہمارے ہاں حالت یہ ہے کہ 2008ءکے انتخابات پونے پانچ سال قبل ہوئے تھے۔ حکومت آئندہ انتخابات کا پروگرام دینے اور ایک تاریخ طے کرنے پر تیار نہیں۔ غصے سے بھرے ہر وقت سپریم کورٹ کے ساتھ آمادہ دنگل وزیر اطلاعات مسٹر کائرہ کبھی کہتے ہیں‘ عبوری حکومت 18 مارچ کو بنے گی‘ کبھی کہتے ہیں الیکشن مئی میں ہونگے۔ حکمرانوں کے رویے سے نظر آتا ہے کہ وہ مقررہ وقت پر الیکشن کرانے کیلئے سنجیدہ ہی نہیں۔ وہ آسمان سے ایسی آفت ٹوٹنے کے متمنی ہیں جس کو جواز بنا کر انتخابات ملتوی کر سکیں۔ پنجاب والوں کو بھی الیکشن سال چھ ماہ آگے لے جانے پر اعتراض نہیں کیونکہ انہوں نے بھی حکمرانی کے سینگوں پر ملک کا سب سے بڑا صوبہ اٹھایا ہوا ہے۔ امریکہ میں سینڈی طوفان نے تباہی مچا دی‘ 11 ریاستوں کے پانچ کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہوئے‘ حکومتی پارٹی کیلئے صدارتی الیکشن ملتوی کرنے کا یہ سنہری موقع اوربہانہ تھا‘ امریکی آئین میں اسکی گنجائش بھی ہے لیکن ایسی سوچ کسی امریکی عہدیدار کے دماغ میں نہ آئی‘ انہوں نے پورا زور متاثرین کی بحالی پر لگا دیا۔ ادھر ہم لوگ سینڈی طوفان کو امریکہ پر اللہ کا عذاب قرار دے رہے ہیں اور اس کو ہم اپنی دعاﺅں کے اللہ کے حضور قبولیت کا شرف عطا ہونے کا نتیجہ سمجھ رہے ہیں‘ یہ کیا عذاب ہوا جس میں مرنیوالوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے بھی کم ہے؟ اتنے لوگ تو ہمارے ہاں روزانہ کی بنیاد پر ڈرون حملوں‘ کراچی بلوچستان کی ٹارگٹ کلنگ اور گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں فرقہ واریت کی نذر ہو جاتے ہیں۔ عذاب تو وہ تھا جو قوم عاد اور ثمود پر آیا۔ علماءکرام بتائیں کہ ہم کسی ملک یا خاص طبقے کی تباہی و بربادی کی دعا کریں یا خدا سے ان کو راہِ راست پر لانے کی التجا کریں؟ ہم جن کی بربادی و ہلاکت کی دعا کرتے ہیں‘ ان کا تیار کردہ لباس پہنتے‘ ان کے چینلز دیکھتے‘ انکے کمپیوٹر‘ لیپ ٹاپ اور موبائل فون جیسے آلات استعمال کرتے ہیں۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے ان ممالک کے مشروبات و بوتلیں پینے اور فاسٹ فوڈ کھانے سے ہاتھ کھینچا ہے؟ دعائیں بھی اسی تناسب سے منظور ہونگی!
مٹ رومنی نے سینڈی طوفان کو ڈیموکریٹک کے کھاتے میں ڈال کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور نہ اوباما نے متاثرین کی برق رفتار بحالی کا کریڈٹ سمیٹنے کی ۔البتہ دونوں صدارتی امیدواروں نے وقتی طور پر اپنی اپنی انتخابی مہم روک کر متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی ضرور کیا اور پوری توجہ انکی بحالی کی طرف مبذول کر دی۔ ہمارے ہاں چھوٹی بڑی پارٹیاں جن کی تعداد ماشاءاللہ 160 ہے‘ سیلاب کو سروں پر اٹھائے پھرتی ہیں۔ خصوصی طور پر بڑی پارٹیاں سیلاب کی تباہ کاریوں کا الزام ایک دوسرے پر لگاتے ہوئے خود کو 2010ءاور 2011ءکے سیلاب متاثرین کا مسیحا ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ آئندہ الیکشن ہر پارٹی اپنے ایسے گن گنوا کر اور حریفوں کے لچھن سنا کر جیتنے کی کوشش کریگی۔
آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ الیکشن بروقت ہوئے تو جیتے گا کون؟ الیکشن کے بروقت انعقاد کا مطلب ہے کہ موجودہ حکومتوں کے آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد جو الیکشن ہونگے‘ ان میں جیتنے کے بارے میں حتمی طور پر کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ جس ملک میں سرکاری کھاتے میں آئی جے آئی بن جائے‘ الیکشن کے نتائج آنے کے بعد بھی بدل جائیں۔ مشرف صاحب اپنی جیبی کے لیڈروں کو بیس 25 سیٹیں دینے کی بات کریں اور پھر عدالتیں‘ ماشاءاللہ ہارے ہوئے امیدوار کی جیت کا اعلان کرنے میں پانچ سال لگا دیں‘ ایسے ملک میں دنیا کا بڑے سے بڑا تجزیہ کار بھی کوئی پیشگوئی نہیں کر سکتا۔ البتہ اندر کا بندہ کوئی راز افشا کر دے تو یہ پیشگوئی نہیں اطلاع ہو گی۔ فی الحال کسی طرف سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے۔ پھر بھی ہم تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کوئی انہونی نہ ہوئی‘ کوئی آئی جے آئی نہ بنی‘ الیکشن شفاف ہوئے تو کس پارٹی کا پلڑا بھاری رہے گا‘ برادری ازم‘ گلیوں‘ سڑکوں اور تھانہ کچہری کے عوامل اپنی جگہ‘ لیکن باشعور لوگ جتنے بھی ہیں‘ وہ اب اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کرینگے۔ خصوصی طور پر ان حالات میں جب ملک سنگین بحرانوں سے گزر رہا ہے جس کے ذمہ دار یقیناً حکمران ہی ہیں۔ ایسی حکمرانی سے آج ہر فرد متاثر ہے اور شدید متاثر ہے البتہ جن کے وارے نیارے ہیں‘ ظاہر ہے‘ وہ تو ان کو ہی سلام کرینگے جن کے دم قدم سے انکی گاڑی اڑان بھر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے اسکے سامنے تحریک انصاف کو لاکھڑا کیا۔ اس کا اعتراف نجی محفلوں میں پی ٹی آئی کے رہنما کرتے ہیں۔ آج تحریک انصاف ن لیگ کے بجائے پیپلز پارٹی کےلئے خطرہ بن چکی ہے۔ اس کو پذیرائی بھی خصوصی طور پر پیپلز پارٹی کی عوام میں ناپسندیدگی سے دیکھی جانیوالی پالیسیوں کے باعث ہی ملی ہے۔ جیالے کسی صورت اپنی پارٹی نہیں چھوڑتے لیکن پارٹی سے ناراضی کی صورت میں پولنگ سٹیشن پر نہیں جاتے۔ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ لاقانونیت‘ بجلی و گیس کی قلت‘ پٹرول کی قیمت میں بے تحاشا اضافے جیسے اقدامات کے باعث ہر پاکستانی بلاامتیاز جیالوں‘ متوالوں اور عمران کے نرالوں کے تنگ اور پریشان ہے۔ ان عوامل کو دیکھتے ہوئے یہ نظر آتا ہے کہ آئندہ الیکشن میں آج مرکزی حکمران اور اتحادی اسی طرح غروب ہو جائینگے جس طرح 1988ءاور 2008ءکے الیکشن میں آمریت کے پروردہ سیاست دان ڈوب گئے تھے۔ اصل مقابلہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے مابین ہو سکتا ہے جس میں بہرحال مسلم لیگ ن کی نسبتاً برتری کے امکانات ہیں۔ یہ صرف آج کے حالات اور سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے تجزیہ ہے‘ اصل صورتحال انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد ایک ہفتے میں واضح ہو گی۔ جب ہماری روایتی سیاست میں ہمدردیاں اور وفاداریاں بدلنے کا طوفان اٹھے گا‘ اس طوفان سے اٹھنے والی دھول کے بیٹھنے پر پاکستان کے سیاسی مستقبل کا نقشہ واضح ہو جائیگا۔
 
 
 
 
 
 
 
 

 
یہ جمہوریت!
4-11-12
 اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر ہر مسلمان کا پختہ یقین ہے۔ خلافتِ راشدہ کی صورت میں دنیا نے اس کا عملی نفاذ بھی دیکھا جس دوران اسلامی حکومت کی سرحدیں ایران سے بھی آگے مکران تک پہنچ گئی تھیں۔ سعودی عرب سمیت بعض دیگر ممالک میں آج بھی کسی حد تک وہی نظام نافذ ہے جسے ضابطہ حیات قرار دیا گیا ہے۔آج کی پاکستان میں مروجہ جمہوریت ہم نے مغرب سے درآمد کی جہاں شرح خواندگی100فیصد نہیں تو اس کے قریب ضرور ہے۔ ہمارے ہاں میٹرک تک پہنچنے والوں کو بھی تعلیم یافتہ قرار دیاجائے تو پڑھے لکھوں کی تعداد دس پندرہ فیصد سے زائد نہیں جبکہ ملک و قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنیوالوں کیلئے کوئی تعلیمی معیار مقرر نہیں ہے۔گو سکول و کالج کی تعلیم کو شعور کا پیمانہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ایک دن بھی سکول نہیں گئے لیکن وہ عقل و دانش میں اپنی مثال آپ ہیں جن لوگوں کے ووٹ بن چکے ہیں ان میں پڑھے لکھے،با شعور لوگوں کی تعداد 25 تیس فیصد سے زائد نہیں۔ ان میں سے بھی کتنے ہیں جو اپنے ووٹ کا حق اسے قو می امانت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں؟۔شہری حلقوں میں بالعموم اور دیہی علاقوں میں بالخصوص برادری ازم کو فوقیت دی جاتی ہے۔ امیدوار کے ذاتی کردار سے کوئی غرض نہیں ہوتی دیکھا جاتا ہے کہ اس نے گلیاں، نالیاں بنوا دیں، نوکریاں دلا دیں، تھانے کچہری میں ساتھ دیا۔ دوسرا امیدوار تعلیم یافتہ ہے اس کی قوم و ملک کےلئے کوئی کمٹمنٹ ہے وہ عالمی امور پر نظر رکھتا ہے قانون سازی میں کردارادا کرسکتا ہے اس سے ووٹر کو کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ امیدوار کی شہرت و کردار اور مقامی مسائل کے حل میں فعالیت کو بھی نظر انداز کرکے صرف اس کی پارٹی وابستگی کو دیکھتے ہوئے اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں ان کو جیالا اور متوالا قرار دیاجاتا ہے۔
پی پی پی کے جیالے ، ن لیگ کے متوالے اپنی اپنی پارٹی کے کلچر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تحریک انصاف گزشتہ سال 30اکتوبر کے جلسے کے بعد ایک نئی اٹھان اور اڑان کے ساتھ سامنے آئی تو اس کے ورکرز نے نیا کلچر متعارف کرایا جسے نرالا کلچر کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیاجاسکتا۔ جلسوں سے سامانِ آرائش اور کرسیوں تک اٹھا لیجانے کھانے اور کیک پر لپکنے اور جھپٹنے کے مناظر لعن و طعن وتبراّ نرالا کلچر کی ایجاد ہے۔آئندہ الیکشن میں نرالے پولنگ سٹیشن مع عملہ،بیلٹ باکسز اور تمبو کناتوں کو لپیٹ کے نہ لے جائیں۔
 ہمارے ہاں امیدوار کے کردار کو پرکھ کر، اس کی اہلیت کو جانچ اور اس کی پارٹی وابستگی کو دیکھ کر ووٹ دینے والوں کی تعداد،2فیصد سے زائد نہیں۔ہم اپنے آپ کو دیکھیں ساتھیوں سے پوچھیں تو عیاں ہوجاتا ہے کہ ہم کس کو کس بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ مجید نظامی صاحب نے محض اس لئے 70 ءکے الیکشن میں مجیب الرحمن کے امیدوار.... کو ووٹ دیا تھا کہ اسے احساس ہو کہ مغربی پاکستان میں ہر بندہ متعصب نہیں ہے۔ لوگ بھٹو کی محبت کی لہر میں نہ بہہ چکے ہوتے تو عوامی لیگ کا ایک امیدوار کامیاب ہوجاتا جس سے مجیب اور اس کی پارٹی کیلئے مغربی پاکستان کے خلاف نفرتیں پھیلانے کا کوئی جواز نہ رہتا۔
 جمہوریت میں ہم برطانیہ اور امریکہ کی نقالی کرتے ہیں۔ ایک میں پارلیمانی، دوسرے میں صدارتی نظام ہے۔دونوں ملکوں میں الگ الگ نظام بڑی کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ہم صدارتی نظام سے مستفیض ہوئے اب پارلیمانی نظام سے مستفید ہورہے ہیں۔ہر دو سسٹم نے ہماری سوچ کا کچھ نہیں بگاڑا۔ہم امیدوار کوجس بنیاد پر کامیاب کراتے ہیں۔ وہ یہ کام بڑی کامیابی سے کرتا ہے۔نالی گلی پختہ کرانے، کورٹ کچہری میں مدد کرنے،نوکری دلانے اور چوری چکاری معاف کرانے والے آگے جاکر اپنے جیسے ہی لوگوں کو صدر،وزیراعظم اور وزیراعلیٰ منتخب کرتے ہیں۔ پھر وہ وہی کچھ کریںگے جو آج ملک و قوم کے ساتھ ہورہا ہے۔
سسٹم کوئی بھی بُرا نہیں، وہ پارلیمانی ہے یا صدارتی، اگر سسٹم بُرا ہوتا تو یہ مغرب میں کامیابی سے نہ چل رہا ہوتا۔سسٹم چلانے والوں پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ہیں؟ ہم نے جن ممالک سے جمہوریت سیکھنے کی کوشش کی کیا کبھی وہاں ایسا دیکھا یا سنا گیا ہے کہ فلاں سیاست میں جوڑ توڑ کا بڑا ماہر ہے۔ بڑے سیاسی داﺅ پیچ جانتا ہے۔ فلاں کی وفاداری خریدنے کو فلاں کو بکنے سے بچانے کیلئے جتھوں کی صور ت میں مری، سوات اور چھانگا مانگا کے ریسٹ ہاﺅسں میں قید کردو۔ یہ ایسی شیریں حراست ہے جس پر محصور ہونے والا اش اش کر اٹھتا ہے۔ آج ہم دیکھ رہے فلاں سابق وزیر، مشیر، وڈیرہ، جاگیردار ہزاروں ساتھیو ں سمیت فلاں پارٹی چھوڑ کر فلاں میں شامل ہوگیا۔ مہذب جمہوری ممالک میں ایسا کب ہوتا ہے!
ججوں کو قید کرنا، ان کی تذلیل، عدالتوں پر حملے اور عدالتی فیصلوں کی تضحیک کس جمہوریت میں روا ہے؟ لیکن یہ سب کچھ ہمارے ہاں ہوتا ہے اور بڑے دھڑلے اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوتا ہے ۔سپریم کورٹ نے چینی کی قیمتیں کم کیں،اس پر عمل نہیں ہونے دیا گیا۔ این آر او فیصلہ تین سال سے عمل کا منتظر ہے،سپریم کورٹ لاپتہ افراد کے حوالے سے ایک ادارے کو ذمہ دار قرار دیتی ہے۔ اس کو سنجیدگی سے نہیں لیاجاتا۔ کراچی کی قتل و غارت کے حوالے سے عدلیہ کی ہدایت کو پسِ پشت ڈال دیاجاتا ہے۔ بلوچستان میں امن کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کو ناکام قرار دینے کے سپریم کورٹ کے حکم کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ نیب حکومت کے متعین کردہ لوگوں کو ملزم اور مجرم سمجھتا ہے ۔حکومت میں موجودہ سیاہ کاروں کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ۔ عدلیہ نے سی این جی کی قیمتیں کم کرنے کا حکم دیا تو اکثر مالکان نے منافع کم ہونے کا بہانہ بنا کر سٹیشن ہی بند کردئیے۔ سی این جی پر حکومت 40 روپے فی کلو منافع لے رہی ہے سٹیشن مالکان کی جیب میں اس گیس کا فی کلو 31 روپے منافع جاتا تھا جس کی لاگت 17 روپے فی کلو ہے۔حکومت اپنا منافع چھوڑنے پر تیار نہیں۔سی این جی سٹیشن مالکان حکومت سے منافع کم کرکے اپنا منافع بڑھانے کا مطالبہ کرنے کے بجائے صارفین کی چمڑی ادھیڑنے پر بضد ہیں۔ جمہوری دور میں کوئی ادارہ سلامت نہیں بچا۔ پی آئی اے سٹیل مل ریلوے اور دیگر ادارے اجاڑ دئیے گئے۔ حکمرانوں کے سونے کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ عوام کی جھونپڑیاں بھی جل رہی ہیں۔ کیا یہی جمہوریت کے ثمرات ہوتے ہیں؟ نقل ہم امریکہ و برطانیہ کے جمہوری نظام کی کرتے ہیں۔ امریکہ میں صرف دو اور برطانیہ میںسوادو سیاسی پارٹیاں ہیں۔ہمارے ہاں تعداد 160ہے جو الیکشن کمشن کے پاس باقاعدہ رجسٹریشن کراچکی ہیں۔ باقی لولی لنگڑی پارٹیوں کا کوئی شمار قطار نہیں ہے۔ مروجہ جمہوریت میں یہ تو ہوسکتا ہے کہ اچھے کردار کے لوگ حکومت میں آجائیں تو عوام کو کچھ ریلیف بھی مل جائے۔ پھر بھی جمہوریت کے مکمل ثمرات عوام تک پہنچنا ممکن نہیں۔ آپ یہ جمہوریت صدیوں آزما لیں اس کے ثمر بار ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ جمہوریت کیلئے ماحول بھی ویسا بنانا ہوگا جیسا ان ممالک میں ہے جہاں سے ہم نے جمہو ریت اڑائی ہے۔ووٹر کو باشعور بنانا ہوگا جس کیلئے شرح خواندگی کا سو فیصد یا اس کے قریب تر ہونا لازم ہے۔

ریٹائرمنٹ کی ضرورت ہی کیا؟







جمعرات ,01 نومبر ,2012
ریٹائرمنٹ کی ضرورت ہی کیا؟
”سرکاری ملازمین کیلئے ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال کردی گئی“۔ یہ خبر بڑے طوفانی انداز میں اڑی اور پانی کے بلبلے کی سی عمر پا کر موجود سے لاموجود بلکہ بے وجود ہوگئی۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کے نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ۔جو سرکاری ملازمین دو سال کے اضافے سے مستفید اور مستفیض ہوسکتے تھے وہ اسلم رئیسانی کے طے کردہ ” رہنما اصول“ سے دل بہلا سکتے ہیں کہ ”نوٹیفکیشن تونوٹیفکیشن ہوتا ہے اصلی ہویا نقلی“۔گو کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کا نوٹیفکیشن جعلی تھا لیکن وہ سوچ، فکر اور مستقبل سازی کے کئی درکھول گیا۔
کارکردگی کے سامنے عمر کوئی قید یا بند اور رکاوٹ نہیں ہوسکتی۔ عمر مختار نے لیبیا کی آزادی کیلئے اپنی گوریلا کاروائیوں سے اٹلی کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ 11ستمبر 1931 کو عمر مختار کو گرفتار کیا گیا تو وہ پہلے روز کی طرح فعال تھے حالانکہ ان کی عمر اس وقت 72سال تھی۔ امریکی جنرل میکارتھر کا دوسری جنگ عظیم میں کردار ناقابلِ فراموش ہے۔جنرل میکارتھر نے جاپانیوں سے ہتھیار ڈلوائے ۔2ستمبر 1945 کو خلیج ٹوکیو میں لنگر انداز امریکی بحری بیڑے یو ایس میسوری پر منعقدہ تقریب میں سرنڈر کی دستاویز پر جاپانی وزیر خارجہ مامور روشیگے اور جاپانی سپہ سالار یوشی میرو نے شکست کی قبولیت اور جنرل ڈگلس میکارتھر نے فاتح جرنیل کے طورپر دستخط کیے۔ یہ کریڈٹ بھی جنرل میکارتھر کو جاتا ہے کہ جاپانی بادشاہت کا پہلے کی طرح احترام برقرار رکھا گیا۔1951ءمیں صدر ہیری ٹرومین نے جنرل میکارتھر کو برطرف کیا تو اس وقت ان کی عمر 71سال سے متجاوز تھی۔ہمارے جرنیل صدر محمد ضیاءالحق 64سال کی عمر میںحادثاتی موت سے دوچار ہوئے ۔ غلام اسحق خان 80 کو پہنچتی عمر کے ساتھ بڑی مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ نے منیٰ میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ان کی عمر نوے سال کے قریب ہے۔ہمارے ہاں سرکاری ملازمین کیلئے ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال قرار دی گئی ہے۔ یہ اصول ہم نے عالمی قوانین سے اخذ کیا۔ نئے لوگوں کو ملازمتیں دینے کیلئے یہ ضابطہ تخلیق کیایا 60سال کی عمر کو مت ماری عمر قرار دے کر ریٹائرمنٹ کا قانون تشکیل دے دیا؟قانون اور ضوابط موجود ہیں اس کے باوجود60سال کی عمر کو حتمی قرار نہیں دیا جاتا۔سپریم کورٹ کے ججوںکی مدت ملازمت 65سال کی عمر تک ہے۔حکومت اپنی مرضی سے کسی کی بھی مدت ملازمت میں جتنی چاہے توسیع دے لیتی ہے۔امریکہ بلا شبہ مادی ترقی کے حوالے سے ایک رول ماڈل ہے۔اس کے دنیا کی واحد سپر پاور ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے۔اس کے ہاں ججوں کی مدت ملازمت کی راہ میں عمر رکاوٹ نہیں ہے۔جو جج بن گیا اسے صحت کے مسائل درپیش نہ ہوںتو وہ تاحیات جج ہے۔قاضی شریع سو سال سے زائد عمر تک عدالتی امور سرانجام دیتے رہے۔ ہمارے ہاں جج ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کو پنشن کے طورپر مکمل تنخواہ ادا کی جاتی ہے۔رہائش بھی سرکار کے ذمے ہوتی ہے۔ہمارے ہاں وکیل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔فخر الدین جی ابراہیم کی مثال دی سکتی ہے وہ 84سال کی عمر میں بھی وکالت کرتے رہے اب چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری بڑی فعالیت سے نبھا رہے ہیں 65,60سال کی عمر میں ہم ججوں کو نہ جانے کیوں گھر بٹھا دیتے ہیں؟
50سال کی عمر کو عموماًپختگی کی عمر سمجھا جاتا ہے ہم صرف دس سال ملازمین کی پختہ کاری سے استفادہ کرتے ہیں۔ سکول ٹیچر اور کالجوں یونیورسٹیوں کے اساتذہ اسی عمر میں اپنی بہترین کارکردگی کا اظہار کررہے ہوتے ہیں کہ ان کو گھروں کو بھیج دیا جاتا ہے۔بیورو کریٹس پر بھی یہی صادق آتا ہے۔ فوج،سول محکموں، عدلیہ،نیم سرکاری اداروں اور شعبوں میں مدت ملازمت میں آخری عمر کی کوئی قید نہیں ہونی چاہئے۔عمر جو بھی ہو،مدِ نظر صرف اور صرف کارکردگی اورفعالیت ہو ۔ اس سے پوری قوم اور ملک ان کے تجربات اور پختہ خیالات سے مستفید ہوں گے۔ البتہ کوئی مرضی سے ریٹائرمنٹ لیناچاہے تو اس کی خواہش کا احترام کیاجائے۔جہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نوجوانوں پر ملازمت کے دروازے بند ہوجائیں گے۔ ایسا محض ایک عارضی مدت کیلئے جزوی طورپر ہوگا۔ اس کے بعد ایک روٹین سیٹ ہوجائیگی۔حکومت جہاںریٹائرمنٹ کی عمر کا خاتمہ کرے وہیں اس کو ملازمت کیلئے عمر کے تعین کا بھی ”ورقہ پھاڑنا “ ہوگا۔ویکنسی خالی ہوتو آنیوالوں کیلئے عمر کی قید نہیں ہونی چاہئے۔ میرے ہائی سکول کے استاد مرزا اقبال محمد بیگ صاحب بتا رہے تھے کہ 70 کی دہائی میں ایک خبر شائع ہوئی کہ خواتین کی ملازمت کیلئے عمر کی حد پچاس سال مقرر کردی گئی۔ شاید اس دور کی حکومت کے کرتا دھرتاﺅں نے کوئی اپنی 50سالہ خاتون کو ملازمت دینی تھی۔ ایک دو سال کے بعد حکومت نے یہ سہولت واپس لے لی۔ اُس 50سالہ عمر کی حد کو آج بھی بروئے کار لایاجاسکتا ہے۔
عموماً ریٹائر ہونے والے استاداکیڈیمی کھول لیتے ہیں دیگر ملازمین جرنیلوں سمیت پرائیویٹ اداروں میں ملازمت اختیار کرتے ہیں۔ پرائیویٹ اداروں کو ریٹائرڈ ملازمین ہی دستیاب نہیں ہوں گے تو وہ اپنے کاروبار تو بند کرنے سے رہے ان کو لا محالہ دستیاب بہترین ٹیلنٹ ہی پر اعتماد کرنا ہوگا۔اس لئے ریٹائرمنٹ کی مدت ختم ہونے سے بے روزگاری میں اضافے کا کوئی اندیشہ باقی نہیں رہ جاتا۔ تاہم اس سے ترقی کے امکانات زیادہ روشن رہیں گے۔

اُمہ کا اتحاد بھی.... اقبال کا خواب


 
اُمہ کا اتحاد بھی.... اقبال کا خواب  
9-11-12

 فیملی میگزین کے تازہ شمارے میں امتنان ظفر کی دلکش تحریر کے ساتھ حسن البلقیہ کی دیدہ زیب تصویر بھی شائع ہوئی ہے‘ ان کو پڑھنے اور دیکھنے والا سونے اور سنہرے خیالات میں گم ہو جاتا ہے۔ برونائی دارالسلام کے سلطان حسن البلقیہ کی شان و شوکت کی دھوم ساری دنیا میں ہے اس کی ایک وجہ ان کا بادشاہوں جیسا طرز رہائش اور شاہانہ لباس ہی نہیں‘ انکے زیر استعمال قیمتی اشیاءبھی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق انکی دولت میں ہر سیکنڈ نوے یوروز کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حساب سے انکی دولت میں ہر منٹ پانچ ہزار چار سو‘ ہر گھنٹے تین لاکھ چوبیس ہزار‘ روزانہ ستر لاکھ چھہتر ہزار یورو اور ہر ہفتے پانچ کروڑ چوالیس لاکھ بتیس ہزار یورو کا اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ریشم و اطلس و کم خواب کے ایسے ملبوسات زیب تن کرتے ہیں جن پر سونے اور چاندی کے تاروں سے ایمبرائیڈری کا کام کیا گیا ہوتا ہے ان کا محل دنیا کا سب سے بڑا اور آرام دہ رائل پیلس ہے جس میں ایک ہزار سات سو اٹھاسی کمرے ہیں۔ ہر کمرے کی اشیاءپر سونے اور ہیروں کی تہ چڑھائی گئی ہے۔ یہاں سونے اور چاندی سے مرصع دو سو ستاون باتھ روم ہیں۔
حسن البلقیہ کے گیراج میں مختلف ماڈلز کی ایک سو دس قیمتی کاریں ہیں‘ رولز رائس کمپنی نے انکی خصوصی کار ڈیزائن کی ہے جو یہ برطانیہ میں قیام کے دوران استعمال کرتے ہیں۔ یہ کار خالص سونے سے مرصع ہے۔ انکی ملکیت میں مجموعی طور پر ایک ہزار نو سو بتیس گاڑیاں ہیں۔ انکے جہازوں کے بیڑے میں ایک بوئنگ 747 بھی شامل ہے۔ جسے سلطان کی ہدایت پر ازسر نو سونے سے ڈیزائن اور سونے سے بنی اشیاءسے سجایا گیا ہے۔ اسکے علاوہ چھ چھوٹے ائیر کرافٹ اور دو ہیلی کاپٹر بھی شاہی بیڑے کا حصہ ہیں۔
اتنی دولت مندی اور سوائے سونے کے تناول ماحضر کے‘ سونے کے بجا اور بے جا استعمال کے سلطان حسن البلقیہ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سرفہرست نہیں‘ بلومبرگ کی شائع کردہ تازہ ترین لسٹ کے مطابق 200 امیر ترین لوگوں میں سے چار کا تعلق سعودی عرب سے ہے۔ ویسے دنیا کے امیر ترین لوگوں میں بالترتیب میکسیکو کا کارلوس سلم‘ امریکی بل گیٹس اور ہسپانوی امانسیواوریگا‘ 77.5 ارب ڈالر 64.34 اور 53.6 کے ساتھ پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔ سعودی روزنامے الوطن نے اپنے چار ہموطنوں کے اثاثوں کی مالیت 2.7 ٹریلین ڈالر بتائی ہے جو دنیا کی پانچویں بڑی اقتصادی طاقت فرانس کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔ سعودی عرب کے امیر ترین شخص ”کنڈم ہولڈنگ“ کے مالک شہزادہ ولید بن طلال ہیں جو اپنے 22.9 ارب ڈالر اثاثوں کے ساتھ دنیا کے 20ویں امیر ترین شخص ہیں۔
عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں‘ بادشاہوں اور شہزادوں کے اثاثوں کی مالیت ہو سکتا ہے کارلوس سلم‘ بل گیٹس کی دولت سے زیادہ ہو امیر ترین عالمی شخصیات کا تعین کرتے وقت ان کو انکی دولت کے کسی حد و حساب سے باہر ہونے پر متعینہ پیمانے سے ہی نہ جانچا جاتا ہو۔ مسلم ممالک کے ہاں ایک طرف دولت کی یہ ریل پیل تو دوسری طرف اسلامی ممالک میں سسکتی ہوئی انسانیت بھی دیکھی جاتی ہے۔ پاکستان‘ صومالیہ‘ بنگلہ دیش‘ یوگنڈہ جیسے ممالک میں ایلیٹ کلاس تو ضرور موجود ہے لیکن مفلوک الحال افراد کی تعداد کا کوئی شمار قطار نہیں جن کو دو وقت کا کھانا نصیب ہوتا ہو۔ وہ اپنے بچوں کو سکول بھجوانے اور جوانی سے بڑھاپے کی عمر میں داخل ہوتی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر سکیں۔
کیا امیر مسلم ممالک اپنی دولت غریب برادر اسلامی ممالک کے بے چاروں اور لاچاروں پر نچھاور کر دیں؟ تاکہ یہ ویلیاں کھانے کے عادی ہو جائیں؟ ہمارے ہاں کسمپرسی کا شکار لوگوں کی دو قسمیں ہیں‘ ایک ہڈحرام اور دوسرے زندگی کی بقاءکیلئے لڑتے لڑتے اپنی توانائیوں کا بھرپور استعمال کرکے بھی غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔ یہ کچھ کر گزرنے کا عزم ضرور رکھتے ہیں لیکن مواقع اور وسائل ان سے کوسوں دور ہیں۔ اس دوسری قسم کے لوگوں کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام امیر ممالک مل کر آسانی سے کر سکتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کے خسارے کا احتمال نہیں
آج عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں میں مجموعی طور پر کروڑوں غیرملکی انجینئرز‘ پروفیسرز‘ بزنس مین‘ ہنرمند‘ نیم ہنرمند اور مزدور کام کر رہے ہیں۔ بعض ممالک کی فوج اور پولیس بھی غیرملکیوں پر مشتمل ہے۔ سوائے مکة المکرمہ اور مدینہ منورہ کے کسی شہر اور ملک میں غیرملکی بلاامتیاز مذہب موجود ہیں۔ مکہ اور مدینہ مقدس شہروں میں غیرمسلموں کو داخلے کی اجازت نہیں۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ کسی سے اس کا روزگار نہ چھینا جائے۔ اسلامی اخوت کے ناطے برادر اسلامی ممالک کے غریبوں کا بھی احساس ضروری ہے اس لئے امیر مسلمان ممالک اپنے ہاں موجود غیرمسلموں کو اپنا معینہ عرصہ مکمل کرنے دیں البتہ مزید نفری اور ہنرمند افرادی قوت مسلم ممالک سے حاصل کی جائے۔ یہ ایسا کارخیرہے جو امیر اسلامی ممالک اپنے برادر ممالک کے غریب اور ہنرمند افراد کی فلاح کیلئے اپنے پلے سے ایک بھی درہم و دینار خرچ کئے بغیر کر سکتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے قطر کے دورے کے موقع پر کہا کہ قطر کو 20 لاکھ ورکرز کی ضرورت ہے‘ یہ پاکستان سے منگوائے جائیں‘ کتنا اچھا ہو کہ قطر میں مقیم 90 ہزار پاکستانیوں کی تعداد 20 لاکھ نوے ہزار ہو جائے اور وہ بھی بغیر کمیشن کے۔
 امیر ممالک کے خزانے درہم ریال اور دینار کی بہتات سے چھلک چھلک جاتے ہیں۔ ہمارے صدر مملکت آصف علی زرداری پاکستان کے تیسرے امیر ترین آدمی ہیں‘ انکے اثاثوں کی مالیت 8 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ بعض ممالک کے سربراہان دس ارب ڈالر جوئے میں ایک ہی رات میں ہار کو بار نہیں سمجھتے۔ ایسے حکمرانوں کو کون تقویٰ اختیار کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے؟ البتہ ان سے بعض اسلامی ممالک کی پسماندگی دور کرنے اور پوری دنیا میں ستم زدہ مسلمانوں کی دادرسی کی درخواست تو کی جا سکتی ہے۔ جن کیلئے جوئے میں دس ارب تک بھی ہار دینا ایک مشغلہ ہے‘ جن کی دولت کی کوئی حد نہیں ہے‘ وہ ممالک اگر کچھ رقم مسلم ممالک کی دولت مشترکہ قائم کرکے اس میں جمع کرادیں‘ دولت مند لوگ بھی اس میں حصہ ڈالیں تو بلاشبہ یہ فنڈ کھربوں ڈالر میں ہو سکتا ہے جو پسماندہ اسلامی ممالک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کیلئے استعمال ہو۔ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کی تحریکوں میں تیزی لائی جا سکے اور بدھوں کی ستمگری کا نشانہ بننے والے روہنگیا مسلمانوں کیلئے آزادی کا سامان کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی ممالک کی دولت ِمشترکہ اس قابل ہو سکتی ہے جو دنیا میں بے وطن مسلمانوں کو وطن تک خرید کے وہاں انکو بسا سکتی ہے۔ پاکستان ہم نے دو قومی نظریے پر حاصل کیا‘ قائد اس عزم پر قائم رہے کہ مسلمان الگ قوم ہیں تو پاکستان حاصل کرلیا۔ اقبال نے تو پوری دنیا کو مسلمانوں کا وطن قرار دیا تھا۔
چین و عرب ہمارا‘ ہندوستاں ہمارا
مسلم ہیں وطن ہے سارا جہاں ہمارا
حضرت اقبالؒ نے مسلمانوں کیلئے الگ وطن کا تصور پیش کیا‘ اس کو حضرت قائداعظمؒ نے عملی شکل دیدی۔ علامہ اقبال مسلمانوں کے بھی اتحاد کے حامی تھے۔ عالم اسلام کا اتحاد بھی ان کا خواب تھا........
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
نبی کریم نے فرمایا تھا کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں‘ جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا بدن بے چین ہو جاتا ہے۔ اس سوچ سے اسلامی ممالک کے سربراہان کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کام کون کرے؟ یہ کام عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت پاکستان کے کرنے کا ہے۔ پاکستان یہ کام کرنے کی ٹھان لے تو اسلامی دولت مشترکہ کا قیام بڑی آسانی سے عمل میں آسکتا ہے۔ آپکے پاس او آئی سی کا پلیٹ فارم پہلے سے موجود ہے‘ ضرورت اس کو تھوڑا سا فعال کرنے کی ہے۔

Friday, October 26, 2012

سیدہ عابدہ کا اعتراف قابل تقلید


26-10-12



26 اکتوبر 2012 0

 سیدہ عابدہ حسین کی طرف سے آئی ایس آئی سے رقم وصول کرنے کا اعتراف اگر آج کی سب سے بڑی خبر نہیں تو بڑی خبروں میں سے ایک ضرور ہے۔90میں آئی ایس آئی یا ایم آئی نے آئی جے آئی بنانے میں جو پیسے تقسیم کئے اس میں سے محترمہ عابدہ کے حصے ایک رپورٹ کے مطابق 10 لاکھ روپے آئے تھے۔بیگم صاحبہ کی طرف سے رقم وصول کرنے کا بغیر کسی دباﺅ،تحقیق اور تفتیش کے اقرار ہوس زدہ اور جھلسی ہوئی سیاست میں بادِ صبا کا ایک جھونکا اور صبح نوید کی ایک کرن قرار دیا جاسکتا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں بیگم صاحبہ شاید پہلی سیاستدان ہیں جنہوںنے ایسا اعتراف کیا۔ بعض لوگ شاید اس میں بھی کوئی سازش تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ بہر حال ایک خاتون مردوں پر بازی لے گئیں۔ انہوں نے رقم کی وصولی کا اعتراف کرکے بڑے پن کا مظاہرہ کیا تو رقم منافع سمیت قومی خزانے میں جمع کرانے کا اعلان کرکے اپنے احترام میں مزید اضافہ کرالیا۔ ان کے اعتراف سے یہ تو واضح ہوگیا کہ اگر رقم دینے والے موجود تھے تو لینے والے بھی لا موجود نہیںتھے۔
سپریم کورٹ نے 1990 میں رقم وصول کرنیوالوں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے سود سمیت وصولی کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کو ہمارے سیاستدان اپنی مرضی کے معانی پہنارہے ہیں۔ اس حوالے سے ابھی تحقیق اور تفتیش ہونی ہے اس کے بعد سزا، وصولیوں اور مستقبل میں وصول کنندگان کے سیاست میں کردار کا فیصلہ ہونا ہے۔اِدھرسپریم کورٹ کا فیصلہ ہوا اُدھر حکومتی پارٹی اپنی کل کی اتحادی مسلم لیگ ن پر جھپٹ پڑی۔” نواز شریف سیاست چھوڑ دیں۔ ان کو نا اہل قرار دیاجائے،سزا سے بچنے کیلئے جدہ چلے جائیں“ ایسے اور اس سے بھی سخت بیانات سامنے آنے لگے۔حالانکہ ابھی یہ تعین ہونا ہے کہ کس کس نے کیا وصول کیا۔ جن کے نام پر جتنی رقم کی فہرستیں سامنے آئی ہیں۔ ان لوگوں نے واقعی رقم لی اور اتنی ہی لی؟ مرزا اسلم بیگ نے آج کہا ہے نواز شریف نے رقم نہیں لی۔ جنرل بیگ اس کیس کو اٹھانے پر اصغر خان کو غدار قرار دیتے ہیں۔ ہر فوجی قومی سلامتی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے اور قومی رازوں کو ہمیشہ کیلئے سینے میں دفن رکھنے کی قسم کھاتا ہے۔نصیر اللہ بابر مرحوم اور جنرل اسد درانی موجود نے بھی ایسا حلف اٹھایا تھا۔ کیا ان لوگوں نے اپنے حلف سے روگردانی کی؟ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق یہ معاملہ آگے چلا ، اگر آگے چلا تو یہ سوالات ضرور اٹھیں گے اور ان کے جوابات بھی مانگے جائیں گے۔قومی راز افشا کرنے والے مزید کئی کردار بھی سامنے آئیںگے جو آنے بھی چاہئے۔ قومی راز کسی صورت ،کسی بھی صورت افشا نہیں ہونے چاہئیں۔
 اصغر خان فیصلے پر تنقید ہورہی ہے اور اس کی تحسین بھی جاری ہے۔پیپلز پارٹی رقوم بانٹنے اور وصول کرنے والوں کے احتساب پر خوش جبکہ ایوان صدر کو سیاست سے پاک کرنے کے حکم پر منہ بسورتی ہے۔ ن لیگ کو جرنیلوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ تو من بھاتا ہے۔آئی جے آئی کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دینے کا حکم دل جلاتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم اس فیصلے کو سیاست میں انتشار کا باعث قرار دے رہے ہیں۔قانون واقعی اندھا ہوتا ہے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جاناچاہئے۔ قانون بنانے اور قانون نافذکرنیوالے اندھے نہیں ہونے چاہئےں۔ آئی جے آئی کی تشکیل سے سیاست میں ہلچل ضرور مچی۔ فوج نے پیسے تقسیم کرکے غلطی کی اور بدنامی مول لی۔ وہ یہ کام پیسوں کی تقسیم کے بغیر بھی کرسکتی تھی۔ آئی جے آئی کی تشکیل کے بعد جو انتخابی نتائج سامنے آئے کیا ان کو اُسی قسم کی دھاندلی کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے جیسی جنرل ضیا ءالحق و جنرل پرویز مشرف کے صدارتی ریفرنڈم اور ذوالفقار علی بھٹو کے کرائے گئے 1977 کے عام انتخابات میں ہوئی؟ فو ج کا سیاست میں قطعاً قطعاً کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے لیکن کونسی سیاست میں کس فطرت کے سیاستدانوں کی موجودگی میں؟ ہم چاہتے ہیں جمہوریت تو امریکہ و برطانیہ کی طرز کی ہو لیکن وہ دودھ ہمارے مفادات کے مطابق دے۔ ہماری90 فیصد آبادی انڈر میٹرک ہے، گو باشعور ہونے کیلئے سکول و کالج کی تعلیم ضروری نہیں۔ اس کے باوجود بھی باشعور ووٹر کی تعداد 15 فیصدسے زیادہ نہیں۔ ہمارے ہاں سیاست عموماً گلیوں، نالیوں، سڑکوں کی تعمیر ، کورٹ کچہری اور نوکریوں کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ برادری ازم بھی اہم فیکٹر ہے جب منتخب کرنے اور ہونیوالوں کا یہ معیار اہلیت اور قابلیت ہو گی تو جس قسم کی پارلیمنٹ وجود میں آئے گی، آج کی پارلیمنٹ اور اکثر پارلیمنٹرین اسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اب پارلیمنٹ میں داخلے کیلئے گریجوایشن کی شرط ختم ہوچکی ہے جس سے ان پڑھوں پر بھی پارلیمنٹ کے دروازے کھل چکے ہیں۔ ان کو جعلی ڈگری کا تکلف بھی نہیں کرنا پڑیگا۔ حکومت سمیت کسی بھی ادارے کو ٹریک پر رکھنے کیلئے عدلیہ کا کردارناقابل فراموش ہے۔ ہمارے ہاں ہر حکمران نے عدلیہ کو رام کرنے کی کوشش کی، مشرف نے کچھ زیادہ ہی کی، سلطانی جمہور کے دور دورے کے باوجود بھی آج کی حکومت عدلیہ کے حوالے سے مشرف کی صحیح جاں نشین ثابت ہوئی ہے گو کہ عدالت پر حملہ نہیں ہوا۔ مشرف کی طرح ججوںکو قید نہیں کیا گیا مگر فیصلوں کی ایسی بے توقیری کبھی دیکھنے میں نہیں آئی جو آج آرہی ہے۔ 
مغربی طرز کی جمہوریت کو اس کی روح کے مطابق رائج کیاجائے تو حکمران آئین و قانون سے سرتابی کی جسارت نہیں کرتے۔ اگر کہیں کوئی تنازع ہوتو عدلیہ اپنا کردارادا کرتی اور ہر کوئی اس کے سامنے سرتسلیم خم کرلیتا ہے۔ پاکستان میں فوج ہمیشہ سے آج تک ایک طاقت رہی ہے کبھی پس آئینہ اور کبھی سر آئینہ، اس کی وجہ وہی کہ ہر کسی کے اندر سیاست اپنے رنگ اور ڈھنگ سے کرنے کی بے پا یاں خواہش مچلتی ہے تو آئین اور قانون کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ایسے میں بتائیے ریاست کو ڈوبنے دیاجائے اور جو اسے کسی بھی طریقے سے بچانے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں کیا خاموش تماشائی بنے رہتے ہوئے ملک کی بربادی کا سامان اور اسے تباہ ہوتے دیکھتا رہیں؟ مغربی طرز سیاست قیامت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک آپ اس سیاست یا جمہوریت کیلئے وہی ماحول پیدا نہیں کردیتے جس میں مغربی جمہوریت پنپ رہی ہے۔ اس کیلئے سب سے بڑی اور شاید واحد ضرورت صد فی صدووٹرزکا باشعور ہونا ضروری ہے۔
سیدہ عابدہ حسین کا اعتراف قابل تحسین اور ہمارے سیاستدانوں، جرنیلوں ججوں اور بیورو کریٹس کیلئے قابل تقلید بھی ہے یہ بھی مہربانی فرمائیں۔ جس نے جو بھی غیر قانونی طریقے سے دولت کمائی ہے پاکستان کے خزانے میں جمع کرادیں بغیر منافع کے ہی سہی۔90 میں فوج سے وصولی کرنے والے بھی باضمیر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اعتراف فرما کر وصول شدہ رقمیں لوٹا دیں۔

Tuesday, October 23, 2012

روایتی‘ غیر روایتی میڈیا





روایتی‘ غیر روایتی میڈیا 23 اکتوبر 2012 0 روایتی میڈیا کی ترقی نے دنیا کو گلوبل ویلج بنایا تو غیر روایتی میڈیا نے دنیا کو ہر اس فرد کی ہتھیلی پر رکھ دیا جو سوشل میڈیا سے واقف اور اس کے استعمال کا فن جانتا ہے۔ اس فن میں مہارت کے لئے ماہ و سال کی ریاضت کی نہیں۔ محض کمپیوٹر تک رسائی اور ایک دو دن کی پڑھائی کی ضرورت ہے۔ بہت سے معاملات میں سوشل میڈیا نے روایتی میڈیا پر سبقت حاصل کی ہے۔ روایتی میڈیا کے ذمہ دار بعض معاملات میں گومگو کا شکار اور مخمصے میں پڑے ہوتے ہیں کہ سوشل میڈیا حقائق آنا فاناً دنیا کے ایک کونے سے دوسرے تک پہنچا دیتا ہے۔ مبشر لقمان مہر بخاری اور ملک ریاض حسین کی آف دی ریکارڈ باتیں سوشل میڈیا کے ذریعے آن ائیر ہوئیں۔ رابعہ عمران کی بیکری ملازم سے گرم گفتاری اور محافظوں کے تشدد کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا میں بریک ہوئی جسے ٹی وی چینل آن ایئر کرنے سے گریز کرتے رہے تاہم ویڈیو جب ایک پر چلی تو مقابلے میں چینلز نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ ملالہ کی پٹی بندھی تصویر خبر کے ساتھ ہی 10 اکتوبر کو اخبارات میں آگئی تھی۔ کوئین الزبتھ ہسپتال میں ہوش میں آنے کی تصویر 20 اکتوبر کو اخبارات میں شائع ہوئی۔ آج سوشل میڈیا میں دونوں تصویروں کا موازنہ بڑے زوروں پر جبکہ روایتی میڈیا خاموش ہے۔ بعض لوگ ٹی وی چینلز‘ اخبارات کے دفاتر اور کالم نگاروں کو فون کرکے اپنی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ جس جگہ گولی لگی اور پٹی بندھی تھی وہ 20 اکتوبر کو شائع ہونے والی تصویر میں بالکل کلیئر ہے۔ کوئی زخم اور نہ زخم کا نشان‘ ملالہ پر حملے کو ڈرامہ قرار دینے والے متعدد سوالوں کا باصرار جواب مانگتے ہیں۔ مریض زندگی و موت کی کشمکش میں ہو تو پہلی ترجیح اسکی جان بچانا ہوتی ہے۔ پلاسٹک سرجری نہیں۔ جہاں پٹی بندھی‘ اس جگہ گولی لگنے سے زندہ رہنا ممکن نہیں۔ گولی ابرو کے اوپر لگی 10 دن میں زخم مندمل ہو گئے؟ ڈاکٹروں کے مطابق دماغ کا میجر آپریشن ہوا ڈاکٹروں نے سر کا بال تک نہیں کاٹا۔ ملالہ مریضہ ہے‘ انگریزوں کی قیدی نہیں۔ برمنگھم کے ہسپتال میں پاکستان کے سب سے بڑے نمائندے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کو ملالہ کی تیمار داری کی اجازت نہیں دی گئی۔ فیس بک موبائل میسج اور ای میلز سوشل میڈیا میں اہم ترین ہیں۔ اس میڈیا میں ہر طبقہ فکر کے لئے اس کے مطلب کا سامان ہے۔ آپ کو قرآن و احادیث کے مطالب اور مفاہیم مل سکتے ہیں۔ بزرگوں کے اقوال موجود ہیں۔ فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے کی مطلب براری ہو سکتی ہے۔ کسی بھی شعبہ کے طالب علموں کےلئے یہ میڈیا ایک چشمہ و سرچشمہ ہے۔ گویا وہ کیا ہے جو سوشل میڈیا پر موجود نہیں۔ سیاستدانوں و حکمرانوں کی تعریف‘ تذلیل اور ان پر تنقید سمیت سب کچھ ہے۔ آپ جہاں کسی کی سن سکتے ہیں اپنی کہہ بھی سکتے ہیں جو پورا زمانہ دیکھے اور سنے گا۔ فیس بک پر کسی صاحب نے ایک سبق آموز کہانی چسپاں کی ہے۔ جو ہمارے سیاسی حالات کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی رہائش گاہ پر پہنچے جو صرف ایک جھونپڑی پر مشتمل تھی۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی.... کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا علیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔ مدعی نے کہا۔ ”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“ مدعا علیہ نے جواب میں کہا ”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے۔“ سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“ ”ہاں ہے!“ پھر مدعا علیہ سے پوچھا۔ ”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“ ”جی ہاں....“ مدعا علیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔ ”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“ اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا۔ سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“ ”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“ سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“شہنشاہ نے کہا کہ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ معاملہ ہمارے ملک میں ہوتا تو دونوں خزانے کی مالیت کے لئے آپس میں لڑ پڑتے۔سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے؟ شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ: ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“ ”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“ ”جی ہاں کیوں نہیں؟“ ”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“ ”بالکل!“ ”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“ ”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“ ”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کر رہی ہے۔ یہ کہانی صرف ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں ہی پر منطبق نہیں ہوتی ہمارے رویوں کی بھی چغلی کھاتی ہے۔ ہم ایسی ہی روایات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سو‘ سوا سو سال زندگی ہو وہ بھی ٹک ٹک کرکے گزر جاتی ہے۔ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے زندگی لمحہ لمحہ کرکے اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہے۔ انجام موت ہے اسکے سوا کچھ نہیں۔ لوٹ مار‘ دوسروں کا حق مارنے‘ ان کو ستانے اور رلانے سے کیا حاصل؟ چند روزہ عارضی مفادات اور پھر اس کا حساب تو ہونا ہی ہے۔ کیوں نہ کچھ ایسا کر جائیں کہ انسانیت کی بھلائی ہو اور موت کے بعد انسان آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں ۔نہ کہ کہیں مر گیا مردود۔

Friday, October 19, 2012

صدمات پر کڑھنے‘ غیروں کی بارات پر اچھلنے والی

صدمات پر کڑھنے‘ غیروں کی بارات پر اچھلنے والی قوم ملالہ پر حملے کا پوری دنیا میں عوامی اور حکمرانی‘ دونوں سطحوں پر شدید ردعمل ہوا۔ حملے کی کسی نے حمایت نہیں کی۔ جن کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ ہیں وہ بھی طالبان کی طرح نہیں بولے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ کارروائی ان قوتوں کی پلاننگ‘ منصوبہ بندی یا سازش ہے جو شمالی وزیرستان میں آپریشن کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے حلقے کی رائے ہے کہ جب طالبان خود ذمہ داری قبول کر رہے تو پھر کسی سازش کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب رحمان ملک نے طالبان ترجمان احسان اللہ کے سر کی قیمت بھی مقرر کر دی ہے اس کے ساتھ ہی ملالہ کے لئے تمغہ شجاعت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ طالبان ترجمان میڈیا سے گھنٹوں گفتگو کرتے ہیں۔ جبکہ اسامہ کا ٹھکانہ صرف ایک خفیہ چند لمحاتی کال سے ڈھونڈ نکالا گیا تھا۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ طالبان کی ایک ہی تنظیم ہے یا یہ گروپوں میں بٹے ہیں۔ ان کا افغان طالبان سے بھی کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ کرنل امام اور خالد خواجہ تو طالبان کے بڑے حامی اور ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ وہ دونوں طالبان کے کس گروپ کے ہاتھوں مار دئیے گئے؟ ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان کی اب ایک اور وضاحت سامنے آئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ملالہ کو تعلیم کی وجہ سے نشانہ نہیں بنایا گیا۔ وہ امریکہ کی حامی اور طالبان کی مخالف تھی۔ وہ امریکہ کے لئے جاسوسی کرتی تھی۔ جنگ میں دشمن کا ساتھ دینے والوں کو ہلاک کرنا جائز ہے۔ ملالہ پر حملے کی مذمت بلاشبہ ہر کسی نے کی لیکن اس کے ساتھ میڈیا میں اس واقعہ کی اس سطح پر پذیرائی اور کچھ حلقوں کی طرف سے پرجوش حمایت پر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا لال مسجد اور دہشت گردی کی جنگ میں مرنے والی اور ملالہ کے ساتھ زخمی ہونے والی بچیاں قوم کی بیٹیاں نہیں؟ عافیہ صدیقی کے لئے ایسے جذبات کیوں نہیں؟ اب شاید ملالہ کو تمغہ ملنے پر بھی تنقید ہو۔ جہاں ہمیں حقائق سے چشم پوشی نہیںق کرنی چاہئے۔ ردعمل‘ حمایت‘ مخالفت یا مخاصمت فرد یا شخص کی اہمیت کے مطابق ہوتی ہے۔ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ کتنے پاکستانی ہیں جو محترمہ کے ساتھ اسی جگہ جاں بحق ہونے والوں کے نام جانتے ہیں؟ چلئے کسی ایک کا نام ہی بتا دیجئے؟ سوائے ان کے لواحقین عزیزوں دوستوں یا پارٹی والوں کے کسی کو بھی معلوم نہیں۔ اجتماعی قتل جیسے روزانہ پرتشدد واقعات ہوتے ہیں لیکن لاہور میں ایک سیاسی خاندان کی بیٹی کے گارڈوں کے بیکری ملازم پر تشدد کی طرح کتنے واقعات اچھلتے ہیں؟ ہر لڑکی ملالہ نہیں ہو سکتی۔ اسے برطانیہ لے جانے پر بھی لے دے ہو رہی ہے۔ اگر عوامی نمائندے سرکاری خرچ پر علاج کے لئے بیرون ممالک جا سکتے ہیں تو ملالہ کے جانے پر بھی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ ملالہ کا علاج سرکاری خرچے پر ہو گا۔ اس سے قبل صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اور شہباز پاکستان میاں محمد شہباز شریف ملالہ کے علاج کے اخراجات اپنی جیب سے اٹھانے کا الگ الگ اعلان فرما چکے ہیں برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال سے بل آنے پر حکومت یہ بل دونوں صاحبان کو بھجوا دے۔ ایک کے پیسے ہسپتال کو بھجوا دئیے جائیں دوسرے کی رقم سے دہشت گردی کی جنگ اور لال مسجد میں شہید ہونے والی بچیوں کی اسلام آباد میں یادگار تعمیر کر دی جائے۔ ملک میں دہشت گردی‘ مہنگائی اور لاقانونیت جیسی خرابات کی بھرمار سے قوم صدمات سے دوچار تھی کہ سری لنکا میں ہونے والے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاکستان نے بھارت کو مات کرکے گویا سومنات کا مندر گرا لیا جس سے قوم کے چہرے کھل اٹھے۔ تمام دکھ درد دور ہوئے اور جشن منایا گیا۔ چند ماہ قبل راجیش کھنہ کا انتقال ہوا تو کیبلائی ہوئی قوم افسردہ تھی۔ اب لوگوں کے چہرے سیف علی اور کرینہ کپور کی شادی پر کھل اٹھے ہیں۔ ملالہ کا صدمہ کافور ہو رہا ہے۔ سنا تھا سیف علی خان نے شادی کے لئے کرینہ کپور کے مسلمان ہونے کی شرط رکھی تھی۔ بندھن کے بعد دونوں کی جو تصویر سامنے آئی اس میں پٹودی ریاست کے نواب بالکونی میں کھڑے ہو کر اپنے پرستاروں کو ہاتھ باندھ کر نمستے کر رہے ہیں۔ 32 سالہ ناری نے 42 سالہ دو بچوں کے باپ سے شادی کے لئے بھی کوئی شرط نہ رکھی ہوئی ہو؟ اور سنئے علمائے کرام نے بغیر نکاح کے شادی کو غیر شرعی قرار دیا ہے۔ بہرحال اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہندو نام اختیار کرکے بھارتی فلموں میں کامیابی کے پھریرے لہرانے والے دلیپ کمار اور راج کمار جیسے اداکار ہماری آنکھوں کا تارا ہیں۔ سیف علی نے نیا دھرم اختیار کر لیا تو نو پرابلم! نام تو مسلمانوں جیسا ہے۔ صدمات پر کڑھنا اور غیروں کی بارات پر خوشی سے ا ±ڑنا کودنا‘ ناچنا اور اچھلنا کوئی ہم سے سیکھے۔ چلئے اگلے وار تک مسکراہٹیں تو ہمارے لبوں پر آئیں۔

Thursday, October 18, 2012

صدمات پر کڑھنے‘ غیروں کی بارات پر اچھلنے والی قوم

ملالہ پر حملے کا پوری دنیا میں عوامی اور حکمرانی‘ دونوں سطحوں پر شدید ردعمل ہوا۔ حملے کی کسی نے حمایت نہیں کی۔ جن کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ ہیں وہ بھی طالبان کی طرح نہیں بولے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ کارروائی ان قوتوں کی پلاننگ‘ منصوبہ بندی یا سازش ہے جو شمالی وزیرستان میں آپریشن کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسرے حلقے کی رائے ہے کہ جب طالبان خود ذمہ داری قبول کر رہے تو پھر کسی سازش کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب رحمان ملک نے طالبان ترجمان احسان اللہ کے سر کی قیمت بھی مقرر کر دی ہے اس کے ساتھ ہی ملالہ کے لئے تمغہ شجاعت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ طالبان ترجمان میڈیا سے گھنٹوں گفتگو کرتے ہیں۔ جبکہ اسامہ کا ٹھکانہ صرف ایک خفیہ چند لمحاتی کال سے ڈھونڈ نکالا گیا تھا۔ خدا بہتر جانتا ہے کہ طالبان کی ایک ہی تنظیم ہے یا یہ گروپوں میں بٹے ہیں۔ ان کا افغان طالبان سے بھی کوئی تعلق ہے یا نہیں۔ کرنل امام اور خالد خواجہ تو طالبان کے بڑے حامی اور ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ وہ دونوں طالبان کے کس گروپ کے ہاتھوں مار دئیے گئے؟ ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان کی اب ایک اور وضاحت سامنے آئی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ملالہ کو تعلیم کی وجہ سے نشانہ نہیں بنایا گیا۔ وہ امریکہ کی حامی اور طالبان کی مخالف تھی۔ وہ امریکہ کے لئے جاسوسی کرتی تھی۔ جنگ میں دشمن کا ساتھ دینے والوں کو ہلاک کرنا جائز ہے۔ ملالہ پر حملے کی مذمت بلاشبہ ہر کسی نے کی لیکن اس کے ساتھ میڈیا میں اس واقعہ کی اس سطح پر پذیرائی اور کچھ حلقوں کی طرف سے پرجوش حمایت پر یہ سوال بھی اٹھایا جاتا رہا ہے کہ کیا لال مسجد اور دہشت گردی کی جنگ میں مرنے والی اور ملالہ کے ساتھ زخمی ہونے والی بچیاں قوم کی بیٹیاں نہیں؟ عافیہ صدیقی کے لئے ایسے جذبات کیوں نہیں؟ اب شاید ملالہ کو تمغہ ملنے پر بھی تنقید ہو۔ جہاں ہمیں حقائق سے چشم پوشی نہیںق کرنی چاہئے۔ ردعمل‘ حمایت‘ مخالفت یا مخاصمت فرد یا شخص کی اہمیت کے مطابق ہوتی ہے۔ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں۔ کتنے پاکستانی ہیں جو محترمہ کے ساتھ اسی جگہ جاں بحق ہونے والوں کے نام جانتے ہیں؟ چلئے کسی ایک کا نام ہی بتا دیجئے؟ سوائے ان کے لواحقین عزیزوں دوستوں یا پارٹی والوں کے کسی کو بھی معلوم نہیں۔ اجتماعی قتل جیسے روزانہ پرتشدد واقعات ہوتے ہیں لیکن لاہور میں ایک سیاسی خاندان کی بیٹی کے گارڈوں کے بیکری ملازم پر تشدد کی طرح کتنے واقعات اچھلتے ہیں؟ ہر لڑکی ملالہ نہیں ہو سکتی۔ اسے برطانیہ لے جانے پر بھی لے دے ہو رہی ہے۔ اگر عوامی نمائندے سرکاری خرچ پر علاج کے لئے بیرون ممالک جا سکتے ہیں تو ملالہ کے جانے پر بھی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ ملالہ کا علاج سرکاری خرچے پر ہو گا۔ اس سے قبل صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اور شہباز پاکستان میاں محمد شہباز شریف ملالہ کے علاج کے اخراجات اپنی جیب سے اٹھانے کا الگ الگ اعلان فرما چکے ہیں برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال سے بل آنے پر حکومت یہ بل دونوں صاحبان کو بھجوا دے۔ ایک کے پیسے ہسپتال کو بھجوا دئیے جائیں دوسرے کی رقم سے دہشت گردی کی جنگ اور لال مسجد میں شہید ہونے والی بچیوں کی اسلام آباد میں یادگار تعمیر کر دی جائے۔ ملک میں دہشت گردی‘ مہنگائی اور لاقانونیت جیسی خرابات کی بھرمار سے قوم صدمات سے دوچار تھی کہ سری لنکا میں ہونے والے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاکستان نے بھارت کو مات کرکے گویا سومنات کا مندر گرا لیا جس سے قوم کے چہرے کھل اٹھے۔ تمام دکھ درد دور ہوئے اور جشن منایا گیا۔ چند ماہ قبل راجیش کھنہ کا انتقال ہوا تو کیبلائی ہوئی قوم افسردہ تھی۔ اب لوگوں کے چہرے سیف علی اور کرینہ کپور کی شادی پر کھل اٹھے ہیں۔ ملالہ کا صدمہ کافور ہو رہا ہے۔ سنا تھا سیف علی خان نے شادی کے لئے کرینہ کپور کے مسلمان ہونے کی شرط رکھی تھی۔ بندھن کے بعد دونوں کی جو تصویر سامنے آئی اس میں پٹودی ریاست کے نواب بالکونی میں کھڑے ہو کر اپنے پرستاروں کو ہاتھ باندھ کر نمستے کر رہے ہیں۔ 32 سالہ ناری نے 42 سالہ دو بچوں کے باپ سے شادی کے لئے بھی کوئی شرط نہ رکھی ہوئی ہو؟ اور سنئے علمائے کرام نے بغیر نکاح کے شادی کو غیر شرعی قرار دیا ہے۔ بہرحال اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہندو نام اختیار کرکے بھارتی فلموں میں کامیابی کے پھریرے لہرانے والے دلیپ کمار اور راج کمار جیسے اداکار ہماری آنکھوں کا تارا ہیں۔ سیف علی نے نیا دھرم اختیار کر لیا تو نو پرابلم! نام تو مسلمانوں جیسا ہے۔ صدمات پر کڑھنا اور غیروں کی بارات پر خوشی سے ا ±ڑنا کودنا‘ ناچنا اور اچھلنا کوئی ہم سے سیکھے۔ چلئے اگلے وار تک مسکراہٹیں تو ہمارے لبوں پر آئیں۔

Tuesday, October 16, 2012

آپریشن بے سمت و ناحق کی تیاری؟






آپریشن بے سمت و ناحق کی تیاری؟

16 اکتوبر 2012 0   

ملالہ پر 9 اکتوبر 2012ءکو بہیمانہ اور سفاکانہ حملے کے پس پردہ حقائق اور محرکات جو بھی ہوں۔ اس دلدوز واقعہ جس میں دیگر دو بچیاں شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئیں‘ سے فوری طور پر فائدہ ان قوتوں‘ طبقوں اور حلقوں نے اٹھایا جو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کے اندر اس جنگ میں سرگرم کرداروں اور ان کے حامیوں کے لئے ایک خاص سوچ اور ذہنیت رکھتے ہیں۔ امریکہ اس کے اتحادی ممالک اور حامیوں کی طرف سے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ جس کو سیاسی و فوجی قیادت نے کبھی خاص پذیرائی نہیں بخشی۔ ملالہ پر حملے کے ساتھ ہی شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے مطالبات میں شدت آگئی۔ شاید کچھ لوگ اسے اتفاق قرار دیں کہ ایسے مطالبات کو مزید تقویت کے عوامل اور مظاہر بھی سامنے آرہے ہیں۔ مولوی فضل اللہ کی طرف سے ملالہ کے والد اور سکول ہیڈ ماسٹر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں، طالبان ترجمان کی جانب سے ملالہ کو زندہ نہ چھوڑنے کا بیان‘ سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں اور خودکش دھماکوں میں تیزی کی خبروں سے یوں لگتا ہے جیسے شدت پسند پوری دنیا کو للکار رہے ہیں۔ گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاج بھی ملالہ پر حملے کے باعث پسِ منظر میں چلا گیا۔ اس کا فائدہ کس کو ہوا؟ پاک فوج نے متعدد جنگیں لڑیں اور آپریشن کئے۔ آپریشن جیرالڈ آپریشن مڈنائٹ جیکال‘ آپریشن سائلنس‘ آپریشن راہ حق‘ آپریشن راہ نجات اور آپریشن راہ راست کے حوالے سے پاک فوج کے حصے میں نیک نامی سے زیادہ بدنامی آئی۔ حالانکہ یہ فوجی آپریشن حکومتوں کے حکم پر ہوئے تھے۔ اچھائی برائی بھی حکومت کے کھاتے میں ہی جانی چاہئے۔ ایک وہ وقت تھا کہ بسوں ٹرکوں اور دکانوں و مکانوں کے ماتھے پر پاک فوج کو سلام لکھا ہوتا تھا ایک موقع آیا کہ لال مسجد پر آپریشن سائلنس کے بعد فوج کو عوامی غیظ و غضب کا سامنا تھا۔ اس پر فوجیوں کو اپنے ہی وطن میں اپنے ہی لوگوں کے درمیان جانے کے لئے بھی اپنی شناخت چھپانے کی ہدایت کی گئی۔ یقیناً سیاستدانوں کی طرح فوج کو عوام میں مقبولیت کی ضرورت نہیں۔ فوج کا دلوں میں احترام ہونا چاہئے۔ مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو ملوث کرکے اسے کچھ حلقوں کے لئے متنازعہ بنا دیا۔ پرامن قبائلیوں کو شدت پسند بنانے اور فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر بھی مشرف کی پالیسیوں نے مجبور کیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پاک فوج اور سیاسی حکومت بھی اس جنگ کو اپنی جنگ کہتی ہے جس کا معاوضہ ڈالروں میں وصول کیا جاتا ہے۔ اگر یہ آپ کی اپنی جنگ ہے تو اپنے وسائل سے لڑیں۔ امریکی مطالبات پر اس میں توسیع کیوں کی جاتی ہے؟
شمالی وزیرستان میں آپریشن سے انکار کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ (1) فوج وہاں کے قبائل کو پاکستان دشمن نہیں سمجھتی یا (2) وہ اتنے طاقتور ہیں کہ فوج آپریشن سے خائف ہے۔ فوج نے سوات میں آپریشن کیا۔ جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا وہ ہنوز سیاسی حکومت سے نہیں سنبھلے۔ 
2009ءکے وسط میں ہونے والے آپریشن راہ راست نے سوات میں لڑکی کو کوڑے لگائے جانے کے ڈرامہ اور آپریشن راہ نجات نے جی ایچ کیو پر حملے کے واقعہ سے جنم لیا تھا۔ شدت پسند فوج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو مہران نیول اور کامرہ ائر بیس میں گھس کر مسلح افواج کی آنکھوں میں سلائی پھرتے ہوئے جانیں گنوانے کی ضرورت نہیں۔ ان حملوں کے پیچھے ان قوتوں کا ہاتھ ہے جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں سے خوفزدہ ہیں اور اس کے لئے استعمال ہونے والوں کو ملت فروش اور وطن کے غدار سے کم کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اب ملالہ پر حملے کے واقعہ سے ایک اور آپریشن کی بازگشت ایک گونج اور دھماکہ بنتی جا رہی ہے۔ رحمن ملک فرماتے ہیں حکومت آپریشن پر غور کر رہی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ پاکستان میں ملالہ حملہ کے خلاف سامنے آنے والے شدید ردعمل پر کہتی ہیں عوام طالبان کے شدید مخالف ہو گئے۔ حکومت کو ان کا پیچھا کرنے میں مدد ملے گی۔ گویا وہ لوہا گرم ہونے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ اب الطاف بھائی نے بھی کہہ دیا ہے کہ فوج طالبان کو نیست و نابود کر دے۔ فوج کی طرف سے شمالی وزیرستان میں آپریشن پر دیرینہ موقف میں بھی پہلے جیسا دم خم نہیں۔ فوج سیاسی حکومت کے احکامات کی پابند ہے‘ تاہم حکومت نے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لئے فیصلے کا اختیار پاک فوج کو دیا ہوا ہے۔ وہ آپریشن سے قبل ہزار بار سوچے۔ اس حقیقت کو کسی لمحے فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ کوئی بھی جنگ عوامی حمایت کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ کیا وہ جنگ جسے فوج اور حکومت اپنی جنگ قرار دیتی ہے قوم کو بھی اس سے اتفاق ہے؟ پارلیمنٹ قوم کی نمائندہ ہوتی ہے۔ آج کی پارلیمنٹ میں اکثریت مفادات کے اسیروں اور امریکہ کے فقیروں کی ہے۔ کیا یہ پارلیمنٹ بھی سیاسی و عسکری قیادت کی سوچ سے متفق ہے؟ حکمران جس پارلیمنٹ کو سپریم کہتے ہیں اس کو بھی بے توقیر کر دیتے ہیں۔ ڈرون حملوں کے خلاف قراردادوں پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ پرسوں قومی اسمبلی نے تیل کی قیمتوں میں ردوبدل کو ہفتہ وار کی بجائے ماہانہ بنیادوں پر لانے کی متفقہ قرارداد منظور کی کل حکومت نے اسے جوتے کی نوک پر رکھ کے ہفتہ واری ردوبدل کے فارمولے پر عمل کر دکھایا۔ دوسری طرف دیکھئے اوورسیز کال ریٹس میں پارلیمنٹ کو پوچھے بغیر ہی کئی گنا اضافہ کر دیا جس پر تارکین وطن اور ان کے پاکستان میں موجود عزیز رشتہ دار سخت پریشان ہیں۔ بھارت بنگلہ دیش کے لئے عرب ممالک سے کال 30 سے 35 پیسے فی منٹ ہے پاکستان کے لئے 16 روپے منٹ کر دی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس سے سالانہ 6 ارب ڈالر کا فائدہ ہو گا۔ تارکین وطن کالیں سے پہلے کی طرح کریں گے تو فائدہ ہو گا؟ پھر یہ 6 ارب ڈالر قومی خزانے میں نہیں۔ کابینہ میں موجود پھرتی دکھانے والوں کے بے پیندا پیٹوں میں اتر جائیں گے۔ اس نئے ٹیکس کے بارے میں حکومت نے پارلیمنٹ کو بتانا گوارہ کیا نہ پارلیمنٹ نے پوچھنے کو اپنا فرض سمجھا۔
صدر صاحب کا اچھا اقدام ہے کہ انہوں نے ملالہ کا علاج اپنے خرچے پر کرانے کا علان کیا اس اعلان کے تیسرے روز انہوں نے فرمان جاری کیا کہ شازیہ اور کائنات کا علاج سرکاری خرچ پرکیا جائے اس کا مطلب کہ ان زخمی بچیوں کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ ملالہ کے لئے کچھ لوگ واقعی ہمدردی پیار اور محبت کا اظہار کرتے ہیں کچھ جذبات کی لہر میں اس کو مافوق الفطرت اور دیومالائی کردار بھی بنا دیتے ہیں حالانکہ وہ ایک مسلمہ روایات کے معاشرے میں جدت کی علامت ہے اور یہی اعزاز اس کے لئے کافی ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو گلے پھاڑ پھاڑ کر اپنے آقا¶ں کی پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ واہ رے قوم‘ حکمرانوں اور سیاستدانوں کا ملالہ کے لئے آنسو بہانا درست ہے۔ اگر ایسے ہی جذبات کا اظہار دہشت گردی کی جنگ کے دوران اور لال مسجد اپریشن میں مرنے والی ہر بچی کے لئے کیا جاتا تو ان کے والدین کا آدھا غم کم ہو جاتا۔ حکمرانوں نے عافیہ صدیقی کو ملالہ کی طرح اپنی بیٹی سمجھا ہوتا تو وہ آج اپنے ملک میں اپنے خاندان اور ہم وطنوں کے درمیان ہوتی۔
حرف آخر یہ کہ فوج شمالی وزیرستان میں آپریشن کے تذبذب سے نکلے۔ ماضی کے آپریشنز کے نتائج و عواقب کو ایک بار پھر جانچ لے۔ اسلم بیگ اور حمید گل جیسے جرنیلوں کی رائے کو تو لے اور پھر جو بھی فیصلہ کرے اس پر ڈٹ جائے۔ یہ بھی مدنظر رکھے کہ ملالہ پر حملہ کہیں فوج کو ٹریپ میں لاکر شمالی وزیرستان پر حملہ کی راہ ہموار کرنا تو نہیں ہے۔ جلدی میں کیا جانے والا آپریشن، آپریشن بے سمت اور آپریشن ناحق ثابت ہو سکتا ہے۔