About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, October 23, 2013

ڈرونز اور ڈالرز

ڈرونز اور ڈالرز

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
22 اکتوبر 2013 0

وزیراعظم میاں نوازشریف پاکستان سے روانہ ہوکر ابھی امریکہ پہنچے نہیں تھے کہ دورے کی ’’کامیابی‘‘ کا آغاز امریکہ کی طرف سے 1.6 ارب ڈالر کی فوجی و اقتصادی امداد کی بحالی کے اعلان سے ہوگیا۔ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کیخلاف فوجی آپریشن کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہو نے پر امریکہ نے یہ امداد بند کردی تھی۔ ابھی مزید نوازشات اور عنایات بھی فاقہ مست رعیت کے حکمران کے دامن سے لپٹنے کیلئے بے کل ہیں۔ دورے کی عرش معلی کو چھوتی ہوئی کامیابی کا احوال نمک خوارانِ شہِ اسلام آبادجس جلال اور کمال سے بیان کریں گے وہ قابل دید و شنید ہوگا۔ وزیراعظم نے بارہا ایڈ نہیں ٹریڈ کا عزم ظاہر کیا اس کے پیش نظر تو انہیں 1.6 ارب کی ایڈ کو ٹھکرا دینا چاہیے۔ اگر یہ ہماری خدمات کا معاوضہ ہے تو پھر ہم کرائے پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے لیکن ہم اسے تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
میاں نوازشریف کا امریکی دورے کے حوالے سے دو باتوں پر زور رہا، امریکہ چاہے تو مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے ۔ ڈرون حملوں کا معاملہ ایجنڈے میں سرِ فہرست ہے ۔ امریکی حکام کی طرف سے باور کرایا گیا کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل کریں۔ میاں صاحب کی طرف سے اس بیان پر بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کا پارہ بھی منموہن کی طرح چڑھ گیا۔ منموہن نے جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ اور اس پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی متروک قرار دیا تھا۔ سلمان خورشید نے بھی منموہن کا بیان دہرا تے ہوئے مزید کہا کہ وہ کسی تیسرے ملک کی مداخلت قبول نہیں کریں گے۔ کشمیر بھارت کا حصہ ہے‘ اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اب پاکستان کوکچھ اور ہی کرنا پڑیگا۔کیا؟ جو قائداعظم نے انگریز آرمی چیف کو کرنے کا حکم دیا تھا۔ آج ’’قائداعظم ثانی‘‘ کے حکم کی آرمی چیف سرتابی نہیں کرسکتا۔ڈرون حملے رکوانے کے لئے پاکستان میں ہر سطح پر واویلا کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف یہ بند کرانے پرکے لئے پریشر ہے۔ وہ اوباما سے اس معاملے پر بات کرنے کا بھی کہہ چکے ہیں۔ اس سب کے باوجود آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود اور اہم ہے ’’کیا حکومت ڈرون حملے بند کرانا چاہتی بھی ہے؟‘‘جب ڈرون حملوں پر اُس وقت بھی عسکری و سیاسی قیادت احتجاج کرتی، انہیں پاکستان کی سالمیت کے خلاف قرار دیتی تھی جب ڈرون پاکستان کے اندر سے ہی ایندھن اور اسلحہ سے لیس ہو کر اڑتے تھے۔ یہ سلسلہ 26 نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے جس میں پاک فوج کے 24 سپوت شہید ہوئے کے بعد بیسز خالی کرانے تک جاری رہا۔پاک فوج فاٹا میں شدت پسندوں کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے۔دونوں قتال میں کوئی رو رعایت نہیں کرتے۔ جن کو فوج مار رہی ہے ڈرون بھی ان پر برستے ہیں۔ ڈرونز اور پاک فوج کا جب ٹارگٹ ایک ہے تو پھر اس پر اعتراض اور احتجاج سے کیا مطلب لیا جائے۔ ایبٹ آباد کمشن کو اس وقت کے ڈی جی ‘آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا کہ ڈرون حملے غیر قانونی ہیں لیکن یہ پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ جنگ کے دوران آپ کے گلے کو دشمن آیا ہو اور اسے اس کا دشمن مار ڈالے تو دشمن کا دشمن دوست ٹھہرتا ہے۔یہاں اس حقیقت سے انکار کیوں؟ نواز حکومت قوم کو وہ لکیر دکھا دے کہ اس کے بعد ڈرون حملے پاکستان کے مفادات کے خلاف تھے۔ برطانوی جریدے ’’اکانومسٹ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے ’’حکومت پاکستان نے سی آئی اے کے پروگرام کو اپنی خفیہ آشیرباد دے رکھی ہے۔ پاکستانیوں کی ایک حیرت انگیز تعداد قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے حق میں ہے جن کا مؤقف ہے ڈرون طیارے ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔‘‘
ایک طبقہ آج بھی بہ ا صرار اور تکرار کرتا ہے کہ ڈرون حملے حکومت کی رضا مندی سے ہو رہے ہیں۔ اوباما نواز ملاقات میں اس پر کوئی خاطر خواہ بات نہیں ہوگی۔ اعلامیہ میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ میاں صاحب اس پر کچھ ہٹ کر فرمائیں یا پاکستان میں بیٹھے ان کے ترجمان بتائیں اس پر وہی اعتبار کریں گے جو موجودہ اور سابق حکمرانوں کو ڈرون حملے رکوانے میں ’’ مخلص ‘‘سمجھتے ہیں۔اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ ایک کالم کار نے ادارہ بدلنے کا قصد کیا۔
نئے ادارے کے مالک نے انٹرویو کیا، پہلے سے تین گنا معاوضے کی پیش کش کی ۔ اس پر کالم کار بولے۔’’ فلاں کو تو آپ 6 لاکھ فلاں کو8 لاکھ دیتے ہیں۔ میں تو بہت بڑا کالم نگار ہوں، مجھے کم کیوں؟ مالک نے کہا کہ آپ باہر جا کر بارہ لاکھ بھی بتا دیں تو ہمیں اعتراض نہیں ہوگا۔ اوباما نوازملاقات میں جو بھی طے ہو باہر آکر وہ جو بھی بتائیں اوباما کو کیا اعتراض ہوگا۔ یہی ہوتا آیا ہے، یہی ہو رہا ہے اور ہماری مروجہ جمہوریت اور سیاست میں آئندہ بھی ایسا ہوتا رہے گا۔ اندرونی طور پر دہشت گردی نے ملک وقوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نواز حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کے عفریت سے نجات چاہتی ہے۔ طالبان گروپوں کی تعدادجنر ل حمید گل کے بقول 30 ہے ان میں سے پانچ پاکستان دشمن بیرونی قوتوں کے لئے کام کرتے ہیں۔ ایسے گروپ بھی ہیں جو خودکش بمبار فروخت بھی کرتے ہیں۔
 اکتوبر 2008ء میں بھکر میں ایک ایم این اے کے ڈیرے پر خودکش دھماکے میں 30 افراد مارے گئے۔ ایک ٹی وی پر تھانیدار کا انٹرویو نشر ہوا اس نے ہولناک انکشاف کیا کہ یہ دو پارٹیوں کے درمیان پیسوں کے لین دین کا معاملہ تھا۔ رقم شاید ڈیڑھ کروڑ روپے کی تھی۔ جس پارٹی نے رقم دینی تھی اس نے بجائے اتنی زیادہ رقم دینے کے وزیرستان سے ایک عدد خود کش بمبار خرید لیا۔طالبان کے مذاکرات کے لئے جو مطالبات سامنے آرہے ہیں بادی النظر میںفوج اور حکومت ان کے سامنے سرنڈر نہیں کرسکتی۔ طالبان آپ کے آئین کو سیکولر سمجھتے اور اس آئین کے تحت مذاکرات سے بار بار انکار کرچکے ہیں۔کیا آئین میں طالبان کی منشاء کے مطابق ترمیم ممکن ہے؟ دہشت گردی کا خاتمہ مذاکرات سے ممکن ہے اور نہ اس جنگ سے جو جاری ہے۔ پھر دہشت گردی ختم کیسے ہو؟ یہی حکمرانوں کی صلاحیت، سوچ اور اہلیت کا امتحان ہے۔

No comments:

Post a Comment