About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, November 27, 2011

شاہ کے وفادار

 اتوار ، 27 نومبر ، 2011


شاہ کے وفادار

شاہ سے زیادہ شاہ سے وفاداری کا اظہار کرنیوالے دراصل شاہ کی ذات سے زیادہ اپنی ذات کے وفادار اور اپنے مفادات کے پرستار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی چالاکیوں‘ عیاریوں‘ مکاریوں اور چرب زبانی و چاپلوسی سے جہاں اپنا گھر بقعہ نور بنانے کیلئے کوشاں رہتے ہیں‘ وہیں ضرورت پڑنے پر کسی دوسرے کی ذات پر گند اچھالنے اور اسکے آشیاں پر بجلیاں گرانے سے بھی گریز نہیں کرتے لیکن جب خدا کا بے آواز کوڑا برستا ہے تو خود کو عقل کل سمجھنے والے اوندھے منہ گرے‘ عبرت کا ساماں اور ذلت کا نشاں بنے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے افراد ہر شعبے اور ادارے میں آسانی سے دریافت ہو سکتے ہیں۔ سیاست میں دریافت کرنے کی ضرورت نہیں‘ اپنے کردار‘ اعمال‘ افعال اور اپنے آقا کیلئے جانثاری و جانبازی سے بھرے ریاکارانہ جذبات کے باعث ایسے لوگ نمایاں ہوتے ہیں۔ آگے چلنے سے پہلے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے جس سے آسانی سے واضح ہو جاتا ہے کہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کا طریقہ واردات کیا ہوتا ہے اور اپنے راستے سے کانٹے ہٹانے کیلئے کہاں تک چلے جاتے ہیں۔ 
”بادشاہ کی والدہ کا انتقال ہوا تو کچن کیبنٹ کے ایک ممبر نے عرض کیا کہ حضور قبر میں ماں جی پر کڑا وقت آسکتا ہے‘ وہ فرشتوں کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہ دے پائیں گی‘ کیوں نہ فلاں صاحب کو (جو کچن کیبنٹ کے دوسرے بارسوخ ممبر اور انکے حریف تھے) ماں کے مزار میں ساتھ بٹھا دیا جائے‘ تاکہ یہ ماں جی کی جگہ فرشتوں کے سوالات کے جواب دے دیں۔ بادشاہ سلامت کو تجویز پسند آئی اور حکم شاہی صادر فرما دیا جس پر دوسرے ممبر نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے بادشاہ سے عرض کیا کہ حضور ماں جی کے ساتھ مزار میں چلے جانا میرے لئے اعزاز ہے‘ آپ کو علم ہے کہ علم و فضل میں یہ صاحب مجھ سے برتر ہیں۔ مجھ سے لغزش ہو سکتی ہے‘ ان سے نہیں۔ لہٰذا یہ ساتھ جائیں تو زیادہ بہتر ہو گا اور ماں جی کی منزل سہل ہو جائیگی۔ بادشاہ سلامت نے دوسرے مشیر کی رائے کو زیادہ صائب جانا اور والدہ محترمہ کے ساتھ پہلے مشیر کو مزار میں بٹھا کر اردگرد بغیر دروازے اور کھڑکی کے دیوار چنوا دی۔“ 
ماضی قریب اور حال کا جائزہ لیں تو بہت سے وفادار مطلب نکل جانے پر عیار کے روپ میں نظر آئینگے۔ بھٹو کے کتنے ہی وفادار‘ ضیاءکے حبدار بن گئے‘ ضیاءالحق کی تراشی ہوئی‘ مسلم لیگ کہیں نہ کہیں لڑکھڑاتی پھرتی ہے لیکن جنرل ضیاءکے سامنے کورنش بجا لانے والوں میں سے منزلِ مراد کی تلاش میں کوئی ادھر گرا کوئی ادھر گرا۔ آج پاکستان میں صرف انکی اولاد ہی ان کی نام لیوا ہے۔ میاں نواز شریف وزیراعظم تھے تو نورتنوں میں گھرے رہتے تھے۔ مشرف نے شب خون مارا تو سب رتن دبک گئے۔ پھر کچھ مشرف کے دامن سے لپٹے اور کچھ تیل اور تیل کی دھار اور مارشل لاءکی نرمی دیکھ کر نواز شریف کی حمایت میں سرگرم ہو گئے۔ مشرف کو دس بار باوردی صدر منتخب کرانے کے دعویدار بھی انکی کمر خالی چھوڑ گئے۔ یوں مشرف آج دربدر، کبھی اس کے گھر، کبھی اس کے گھر ہیں۔آج حسین حقانی کو ایک کربلا اور ابتلا کا سامنا ہے‘ میمو کی تحقیقات بھی ہونا ہیں‘ اس میں وہ بے قصور بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ وہ بڑے شاطر قسم کے انسان کے طور پر جانے جاتے ہیں‘ میمو کے معاملے میں ایسے پھنسے کہ استعفیٰ دینا پڑا۔ وہ کسی کو بھی چکر دیکر اپنا موقف منوانے کا ملکا رکھتے ہیں۔ وہ 88ءمیں سیاست کے آسماں پر طلوع ہوئے پھر اپنی عیاریوں اور مکاریوں سے سیاست کے آسمان پر چھاتے چلے گئے۔ کبھی اپنی چرب زبانی سے میاں نواز شریف کے مصاحبوں میں شامل ہوتے تو کبھی چاپلوسی سے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں۔ 88ءسے 97ءتک حکومتوں کی شکست و ریخت اور تبدیلی کی طرح انکی وفاداریاں بھی بازیاں لگاتی رہیں۔ 2008ءمیں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو امریکہ میں پاکستان کی سفارت ان کی قسمت میں آئی۔ یہاں وہ آج تک شاہ سے زیادہ شاہ سے وفاداری کا اظہار کرتے رہے۔ انکے بیک وقت شاہ بھی دو تھے۔ پہلا امریکہ‘ دوسرا جس نے انہیں امریکہ میں سفیر تعینات کیا۔ کیری لوگر بل میں پاک فوج کے گرد شکنجہ کسنے کا مشورہ بھی شاید انہیں کا تھا۔ پاکستان میں امریکہ کی مداخلت انہیں کی پالیسیوں سے بڑھی۔ بغیر تحقیق کے ہزاروں امریکیوں کو ویزے بھی موصوف نے جاری کئے۔ یہ امریکی آج بھی پاکستان کی گلیوں میں گھومتے پھرتے خوف کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ اپنی وفاداری کا یقین دلانے کیلئے آج حقانی بھٹوز کے مزاروں کا مجاور تک بننے کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔ کل کیا ہو گا؟ وہی جو ہماری سیاست میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ مرغِ بادنما۔ بابر اعوان بھی اپنی وفاداریاں جتانے اور اپنے دلائل کے ذریعے دن کو رات ثابت کرنے کی بے پایاں صلاحیت رکھتے ہیں‘ ایسے میں بڑے قانون دان ہونے کے باوجود عدالتوں کا احترام بھی بھول جاتے ہیں۔ لیکن کب تک؟ کیا جب تک زرداری کے سر پر تاجِ سردارا ہے؟ پارٹیوں کے سربراہان ذہن میں رکھیں‘ جو کل آپکے مدمقابل تھے‘ آج آپکے ساتھ ہیں‘ کل کسی اور کے ساتھ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہاں میاں نواز شریف کا تاریخی جملہ موقع محل کے مطابق ہے ”آپ کہتے تھے قدم بڑھاﺅ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ میں نے قدم بڑھایا‘ پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا۔


No comments:

Post a Comment