About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Tuesday, March 13, 2012

اب مہران گیٹ کی زد میں کون آئیگا؟

 بدھ ، 14 مارچ ، 2012


اب مہران گیٹ کی زد میں کون آئیگا؟
فضل حسین اعوان ـ 19 گھنٹے 49 منٹ پہلے شائع کی گئی
پاکستان انہونیوں کے لئے زرخیز سرزمین ہے۔ بالا دست طبقات حتیٰ کہ قانون ساز بھی خود کو آئین اور قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ ہم نے مغربی طرز جمہوریت کو محض نام کی حد تک ہی اپنایا، جمہوری ادوار میں بھی آمرانہ رویے کار فرما رہے ہیں۔ یہی ہمارے مسائل اور مصائب کا سبب ہیں۔ اقتدار میں آنے والے سیاستدانوں کی آمرانہ سوچ کی کوکھ سے ہی عدلیہ اور فوج سمیت ہر ادارے کو مطیع کرنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ فوج تو کم کم ہی سیاسی حکومتوں کی فرمانبردار رہی ہے البتہ عدلیہ جس جرات کا اظہار آج کر رہی ہے اس کی پوری تاریخ میں مثال خال خال ہی ملتی ہے۔ ایوب، ضیاءاور مشرف کی آمریتوں کو عدلیہ نے سندِ جواز بخشی۔ آج کے جج ان ادوار کے ججوں کی طرح سہمے سہمے نہیں ہیں۔ بڑا فرق ہے اُس دور اور آج کے دور میں۔ جنرل ضیاءالحق نے اپنے ہی ہاتھ سے لگائے ہوئے جمہوریت کے پودے کو تناور تخت بننے سے قبل ہی 29مئی 1988ءکو اکھاڑ پھینکا تو 17اگست 1988ءکو خود بھی راہی ملک عدم ہو گئے۔ محمد خان جونیجو حکومت کی بحالی کی امید لے کر سپریم کورٹ چلے گئے۔ متوقع فیصلے میں مثبت اشارے تھے ۔ جونیجو صاحب کی گاڑی سپریم کورٹ کے باہر لہراتے جھنڈے کے ساتھ کھڑی تھی کہ آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کا پیامبر ججوں کو جا کر ملاجنرل اسلم بیگ کے بقول انہوں نے کہا تھا کہ اب چونکہ انتخابات کے انتظامات مکمل ہیں اس لئے حکومت بحال نہ کی جائے۔ آرمی چیف کی چٹ پر فیصلہ بدل دیا گیا۔ آج صورت حال بالکل بدل چکی ہے آرمی چیف ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیر اعظم تک کی سپریم کورٹ میں طلبی ہو رہی ہے۔ عدلیہ کا قبلہ تقریباً درست ہو چکا ہے جبکہ سیاستدانوں کی فوج اور عدلیہ کو زیر اثر رکھنے کی خواہش بدستور موجود ہے۔آج مہران بنک سکینڈل کا ایک بار پھر بڑا شہرہ ہے اس کی چاپ 1991ءمیں سنائی دی۔ 1993ءمیں سازش کی صورت میں اس کی شہرت ہوئی 1996ءمیں کیس سپریم کورٹ گیا۔ شروع دن سے ساستدانوں نے اصولوں کی پاسداری اور عدلیہ نے اپنی ذمہ داری ادا کی ہوتی تو فیصلہ کب کا ہو چکا ہوتا۔ مہران بنک سکینڈل اکیس سا ل سے کبھی منظر پر چھا جاتا رہا اور کبھی بارش میں دھول کی طرح بیٹھ جاتا رہا ہے۔ اس دوران آندھی، طوفان اور بگولوں کے اثرات چھوڑ گیا لیکن ہنوز فیصلہ طلب ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر نے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ سے سکینڈل کے ذمہ داران کے خلاف تحقیقات کی اجازت حاصل کرنے کے بعد کارروائی کیلئے سمری صدر فاروق خان لغاری کو بھجوا دی۔ صدر لغاری نے فوج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے اجازت دیدی۔ معاملہ سپریم کورٹ میں گیا جسٹس سجاد علی شاہ نے کیس کی پہلی سماعت ہی کی تھی کہ صدر لغاری نے اس کے دو دن بعد 5نومبر 1996ءکو بینظیر بھٹو کی حکومت توڑ دی۔ یہ اسی دور کی بات ہے جب صدر لغاری نے مبینہ طور پر اپنی بنجر زمین پلج کرکے یونس حبیب کے بنک سے کروڑوں روپے وصول کئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی کیس بھی نظر انداز ہو گیا۔ میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت حاصل کرکے حکومت میں آئے تھے۔ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ٹھنی اس دوران اصغر خان مہران بنک سکینڈل پر فیصلے کیلئے عدالت میں حاضر ہو گئے۔ سجاد علی شاہ نے بند فائل کھول دی۔ اس دوران ان کے ساتھی ججوں نے بغاوت کر دی۔ جسٹس سعید الزمان صدیقی کی سربراہی میں سجاد علی شاہ کے مقابل عدالت لگ گئی۔ نو مبر میں سجاد علی شاہ اور فاروق لغاری دونوں کو گھرجانا پڑا یوں یہ کیس ایک بار پھر بند ہو گیا چیف جسٹس سعید ازمان صدیقی نے اسے ایک بار پھر کھولا۔ اس کی آخری سماعت ہوئی اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا لیکن سنانے کی نوبت نہ آ سکی اگلے روز 12اکتوبر 1999ءکو مشرف نے نواز شریف حکومت پر شب خون مارا اور یہ کیس ایک بار پھر تاریکیوں میں گم ہو گیا۔
کہا جاتا ہے کہ مہران بنک سکینڈل دو حکومتوں کے خاتمے کا باعث بنا۔ اب تیسری حکومت کو ڈبو سکتا ہے۔ موجودہ حکومت نے اپنے خاتمے کے بہت سے دیگر ”انتظامات“ کر رکھے ہیں۔ اسے شاید مہران بنک کیس پر تکیہ نہ کرنا پڑے۔ اب مہران بنک سکینڈل کسی اور کو زد میں لیتا نظر آتا ہے۔ زرداری و گیلانی سرکار کا جو بھی ایجنڈا اب تک تشنہ تکمیل ہے اس کی وجہ اپوزیشن کی عدم حمایت ہے۔ 20ویں ترمیم اپوزیشن کے تعاون سے پاس ہوئی۔ جنرل شجاع پاشا سے جان چھڑانے کیلئے ن لیگ بھی حکومتی ایجنڈے سے متفق تھی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری بھی اسی طرح حکومتی ”گڈ بک“ میں شامل ہیں جس طرح جنرل کیانی اور جنرل پاشا۔ خصوصی طور پر میمو گیٹ میں گواہیوں کے بعد۔ مہران بنک سکینڈل کا فیصلہ آیا تو پیپلز پارٹی کیلئے ریلیف نہ بھی ہوا، اس کے نقصان میں تو ہر گز نہیں ہو گا۔ پیپلز پارٹی اس پر غیر جا نبدارانہ فیصلے کی توقع رکھتی ہے لیکن اس کا دوسرا ”کاز“ بہت بڑا ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری اس کیلئے اتنے ہی ”پسندیدہ“ ہیں جتنے وہ جنرل مشرف کے لئے تھے لیکن موجودہ حکومت ان کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں نہیں .... اب ذرا یونس حبیب کے بیانات اور مہران بنک سکینڈل کے حوالے سے تحقیقات پر نظر ڈالیں تو رقوم وصول کرنے والوں کا تعلق پیپلز پارٹی کے سوا تقریباً تمام قابل ذکر پارٹیوں سے ہے۔ حتمی فیصلے تک جو کچھ بھی منظر عام پر آئے گا وہ حقیقت رہی ہو یا افسانہ مذکورہ لوگوں پر کیچڑ تو اچھلے گا۔ اس لئے کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ یہ سکینڈل منطقی انجام تک پہنچے۔ اس کیس کو ایک بار پھر تاریکی کی گہرائی میں گرانے کی راہ میں صرف چیف جسٹس ہی رکاوٹ ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی راہ میں چیف جسٹس کو سنگ گراں سمجھتی ہے۔ اب یہ تمام پارٹیوں کا مشترکہ ایجنڈا بن گیا تو نتیجہ اخذ کرنے کیلئے کسی دانش افلاطون، عقل سقراط اور حکمت بقراط کی ضرورت نہیں۔


No comments:

Post a Comment