About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, March 8, 2012

پسندیدہ ترین.... کیا پاکستان بھارت رشتوں کی نوعیت بدل گئی؟

جمعرات ، 08 مارچ ، 2012

پسندیدہ ترین.... کیا پاکستان بھارت رشتوں کی نوعیت بدل گئی؟
فضل حسین اعوان 
وقت گزرنے کے ساتھ غاصبانہ مقبوضات کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ قائد اعظم کی ناگہانی رحلت کے بعد پاکستانی حکومتوں نے حیدر آباد دکن مناوادر اور جونا گڑھ پر بھارتی جارحیت کو یوں نظر انداز کیا کہ جیسے بھارت کو ان ریاستوں پر قبضے کی سند جواز دیدی گئی ہو۔ اب بھارت مقبوضہ کشمیر‘ سیاچن اور سرکریک میں سٹیٹس کو برقرار رکھ کر ان علاقوں کو بھی تاریخ کی تاریکیوں میں گم کر دینا چاہتا ہے۔ بھارت کے اس ایجنڈے کی آبیاری امریکہ، متعدد یورپی اور چند عرب ممالک بھی کرتے ہیں۔ اب بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں نے بھی بھارتی ایجنڈے کی حمایت پر کمر کس لی ہے۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا اسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔ وہ اسے ہر صورت بھارت کے پنجہ استبداد سے چھڑانا چاہتے تھے۔ انہوں نے قائم مقام آرمی چیف جنرل گریسی کو حملہ کرکے کشمیر کو آزاد کرانے کا حکم تک دے دیا تھا لیکن قائد کے بعد آنے والے حکمرانوں کی کشمیر پر قائد جیسی کمٹمنٹ نہ رہی یوں مسئلہ کشمیر لٹکتا چلا گیا۔ آج کے حکمرانوں کے طرز عمل سے لگتا ہے کہ یہ کشمیر کو بوجھ سمجھ کر اس سے خلاصی چاہتے ہیں۔ بھارت نے مسئلہ کشمیر اس نہج تک پہنچا دیا کہ اس کا حل جنگ کے سوا ممکن نہیں رہا۔ دوسری طرف پاکستان اسے یوں نظر انداز کر رہا ہے کہ گویا بھارت کو کشمیر پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر اور پاکستان دشمنی کے حوالے سے بنیا حکمرانوں اور ہندو مسلم میڈیا کی سوچ یکساں ہے۔ اس کا اظہار مہاراشٹر سے شائع ہونے والے روزنامہ سہارا میں لکھے گئے ”ہند....پاک تجارتی معاہدہ رشتوں کی نوعیت بدل گئی“ کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ اس کا ابتدایہ ملاحظہ فرمائیے جس میں بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی بھارت کے نقطہ نظر سے افادیت اور خوشی کا واضح اظہار دکھائی دیتا ہے۔
”کبھی جنگ، کبھی امن کی باتیں اور پھر جنگ، مختصر سی یہ تاریخ رہی ہے ہندو پاک رشتوں کی۔ ظاہر ہے ان حالات میں اگر یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہندو پاک کبھی پرامن ہمسایوں کی طرح رہ سکتے ہیں۔ یہ کوئی غلط سوال تو نہیں ہے لیکن پچھلے ہفتے ہند و پاک کے درمیان جو تجارتی معاہدہ ہوا ہے اس کے بعد ہند و پاک رشتوں کی نوعیت بدل گئی۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ ہند و پاک جنگ قصہ پارینہ ہوئی اور اب تو ان دونوں ملکوں کے درمیان امن کا بول بالا ہو گا تو یہ مبالغہ آرائی نہ ہو گی کیونکہ تجارت دو ملکوں کو نہ صرف ایک دوسرے سے قریب لاتی ہے بلکہ ایک دوسرے کے رشتوں کے درمیان ایسے مفاد پیدا کر دیتی ہے کہ پھر جنگ کا سوال ہی نہیں اٹھتا ہے“۔ گویا بھارتیوں کو اپنی دانست میں اب پاکستان بھارت تنازعات پر جنگ کا خدشہ نہیں رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تجارت کے ذریعے معاشی رشتوں کے بندھن میں بندھ جانے اور سیاسی مسائل کے حل پر یقین بھی ظاہر کرتے ہیں۔ مذکورہ مضمون میں اس خوش فہمی کا اظہار یوں کیا گیا ہے۔ ”الغرض اب ہند وپاک کو معاشی رشتے ایک دوسرے کو آپس میں باندھیں گے۔ جب معاشی رشتے بڑھیں گے تو پھر سیاسی مسائل کے حل ہونے کے راستے خود بخود کھلتے جائیں گے“۔ یقیناً ایسی ہی سوچ ادھر کے حکمرانوں چند مخصوص، سیاستدانوں اور تجارت کے خبط میں مبتلا مٹھی بھر فرزانوں کی بھی ہو سکتی ہے لیکن ملکی آبادی کا معتدبہ حصہ بشمول ایک آدھ گروپ کے سوا پورا پاکستانی میڈیا مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں بھارت کے ساتھ تجارت اور دوستی کا قائل نہیں ہے۔
بھارتی اخبار سہارا میں شائع ہونے والے ظفر آغاز کے کالم کے ایک ایک لفظ سے پاکستان دشمنی کی بو آتی ہے۔ پاک فوج کے حوالے سے میاں نواز شریف سے ملاقات کے دوران جو کچھ عطاءاللہ مینگل نے کہا تھا وہی مخصوص ہندو ذہنیت کا پھیلایا ہوا پراپیگنڈا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔ 
”سوال یہ ہے کہ آخر زرداری حکومت نے ہندو پاک کے درمیان تجارت کے رشتے بڑھانے کا اقدم کیوں اٹھایا اور اس سے پہلے اندرا گاندھی کے وقت سے ہندوستان یہی بات کہتا رہا ہے تو کسی پاکستانی حکومت نے یہ بات کیوں نہیں سنی؟ اس کی وجہ بالکل صاف ہے۔ دراصل جناح صاحب کی موت کے کچھ عرصہ بعد ہی پاکستانی نظام پر پنجابیوں کا قبضہ ہو گیا چونکہ فوج پنجاب کی روایت رہی ہے اس لیے پنجابیوں نے فوجی نظام کو ترجیح دی اور اس طرح پاکستان پر فوج حاوی ہو گئی جس کے ذریعہ پنجابیوں نے پاکستان پر اپنا قبضہ جمائے رکھا جب فوجی نظام ہو گا تو اس فوجی نظام کا کچھ جواز بھی ہونا چاہیے۔ چنانچہ پنجابی پاکستانی نظام نے وہ جواز پیدا کرنے کے لئے ہندوستان کا حوا کھڑا کیا۔ یعنی جو ہندوستان سے آ رہا ہے وہ تو پاکستان پر قابض ہو جائے گا؟ اب پاکستان کو بچایا کیسے جائے۔ جناب پاکستان کو صرف فوج بچا سکتی ہے اور یہ فوج کس کی۔ یہ فوج پنجابیوں کی جوہر ہندوستانی شر کے خلاف نفرت پیدا کرکے فوج کو پاکستانی نظام پر حاوی رکھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ فوج اور وہ پنجابی نظام ہندوستان کے ساتھ تجارت کیسے کر سکتا تھا“۔ پاکستان پر 33 سال فوجی آمریت مسلط رہی۔ ایوب، ضیاءاور مشرف تینوں کا تعلق پنجاب سے نہیں تھا مہاجر ضیاءجالندھر سے سیدھے پشاور گئے تھے۔ پاکستان بھارت کے مابین کشمیر تنازع ہے وہ طے ہو جائے تعلقات پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں بھارت کے ساتھ تعلقات شہدائے تحریک آزادی 65-48 اور 71ءکی جنگوں کے شہدا اور الحاق پاکستان کی خاطر جان دینے والے کشمیریوں کے خون سے بے وفائی ہے آج یہ بیوفائی ہو رہی ہے۔ فوج پر تنقید کرکے اسے قومی سلامتی کے معاملات سے لاتعلق ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مذکورہ کالم کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
”لیکن زرداری حکومت کے دوران پاکستانی نظام میں تبدیلی پیدا ہوئی۔ آصف علی زرداری نہ خود سندھی ہیں بلکہ انہوں نے پنجابیوں کے خلاف پاکستان کے دیگر صوبوں مثلاً پٹھانوں کے ساتھ مل کر ایک نیا محاذ کھولا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے پنجابیوں کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے لیکن اتنے برس پاکستانی فوج نے عام پاکستانیوں کی زندگی کو اس قدر جہنم بنایا کہ اب عام پاکستانی کو فوج منظور نہیں ہے لیکن پنجابی زرداری کو ہٹانے کو بے چین ہیں۔ یہی سبب ہے کہ زرداری اور فوج و آئی ایس آئی میں آئے دن سرکشی رہتی ہے لیکن زرداری برسر اقتدار رہتے ہوئے ہر وہ کام کر رہے ہیں کہ جس سے پاکستانی فوج کی گرفت پاکستانی نظام پر ڈھیلی ہو جائے۔ ایک جانب تو فوج سے ان کی ٹھنی ہوئی ہے۔ دوسری جانب انہوں نے ہندوستان سے رشتے بہتر کرنے کے تمام راستے کھولنے شروع کر دیئے ہیں۔ ان راستوں میں سے ایک اہم راستہ ہندوپاک تجارت کا ہے۔ چنانچہ فوج کی تمام تر مخالفت کے باوجود زرداری نے ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر لیا۔“
حکومت کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قراردینے کا واویلا نقطہ کھولاﺅ پر تھا تو حکومتی ترجمان نے وضاحت کی تھی کہ اس اقدام میں فوج کو اعتماد میں لیا گیا لیکن فوج کی طرف سے اس کی کبھی تصدیق نہیں کی گئی جس اقدام سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف سے انحراف ہو اس پر محب وطن حلقے اور فوج کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟
جسٹس افتخار چودھری اور میاں نواز شریف موقع بے موقع کہتے رہے ہیں کہ کوئی ماورائے آئین برداشت نہیں کریں گے۔ فوج شاید ان بیانات کے تناظر میں ہی پانی سر کے اوپر سے گزرتا دیکھ کر بھی خاموش ہے۔ وہ عوامی مطالبات کو بھی کوئی اہمیت نہیں دے رہی یقینا اس کا ایسا ہی کردار ہونا چاہیے لیکن فوج کے اس کردار اور عدلیہ و اپوزیشن کے فوج کے بارے سخت موقف کے باعث حکمرانوں نے خود کو اس قدر آزاد سمجھ لیا کہ قومی مفادات کو تج کر معاہدے کئے جا رہے ہیں۔ اب جسٹس افتخار محمد چودھری اور میاں نواز شریف حکمرانوں کو آئین کے دائرے میں رکھنے اور قائداعظم کے فرمودات خصوصی طور پر کشمیر کو پاکستان کو شہ رگ قرار دینے کے اعلان پر عمل پیرا ہونے پر کاربند کرنے کیلئے کردار ادار کریں۔
پاکستان بھارت رشتوں کی نوعیت قطعی اور کبھی نہیں بدل سکتی۔ بھارت کے ساتھ تعلقات کا اوبال حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔ جلد یا بدیر مسئلہ کشمیر کے حل کا فیصلہ کن دن ضرور آئے گا بھارت سے تجارت و تعلقات کا خبط حدوں کو پار کرنے لگا تو شاید سنجیدہ حلقوں کے زور پر پاک فوج کو وہی کچھ کرنا پڑے گا جو دوسری جنگ عظیم میں یوگوسلاویہ کی فوج نے کیا تھا۔ سیاسی حکومت اپنے لوگوں کی خواہشات کے برعکس ہٹلر کی اتحادی تھی۔ اس نے عوامی جذبات پر اپنے اقتدار کو ترجیح دی تو فوج اقتدار سنبھال کر ہٹلر کے مخالف کیمپ میں چلی گئی تھی۔


No comments:

Post a Comment