About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, August 22, 2013

پرنالہ

پرنالہ

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
15 اگست 2013 0
 یوم آزادی اور عید سعید ساتھ ساتھ، قوم کیلئے جشن شادمانی مسرت اور اللہ کا شکرادا کرنے کا پیغام لائے ۔ اسلام آباد کنونشن سنٹر میں پرچم کشائی کی دلکش تقریب میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے پرچم لہرایا۔ مترنم ترانے نے جذبات میں ترنگ پیدا کردی۔ بان کی مون کیساتھ اپوزیشن کی شمولیت سے تقریب میں عالمی اور قومی یکجہتی کا رنگ نمایاں ہوا۔ قائداعظم کے مزار پر گارڈز کی پُر وقار انداز میں تبدیلی و سلامی نے سماں باندھ دیا۔ واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی ہمیشہ سے جوش اور ولولے کا مظہررہی ہے۔ عید کی طرح یوم آزادی بھی ہمارے لئے مذہبی تہوار سے کم نہیں۔ آزادی کیلئے 14اگست کا دن جس نے بھی متعین کیا، وہ اپنی جگہ لیکن قدرت کاملہ کی اپنی پلاننگ تھی۔ یہ رمضان المبارک میں لیلة القدر اور جمعتہ الوداع کا دن تھا۔ ہر مسلمان کیلئے سب سے زیادہ عبادت اور سعادت کا دن اور رات۔قیام پاکستان کے مقاصد حاصل کرلئے گئے ہوتے جن میں ملک کو اسلامی اور فلاحی ریاست بنانا شامل تھا۔ جہاں معاشرہ تعلیم سے معمور اور بیماریوں سے دور ہوتا۔ قائداعظم کی خواہش کے مطابق پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ بن چکا اور کشمیر آزاد ہوگیا ہوتا تو ہر دن ہماری زندگی میں رنگ و نور کی برکھا برساتا۔
ہماری عید خون میں نہائی تو یوم آزادی پر بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی۔ عید اور یوم آزادی پر ہمسایہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر گرما گرمی پیدا کردی۔ کچھ لوگ بھارت کی لائن آف کنٹرول پر گولہ باری، دلی میں شدت پسند ہندوﺅں کے پاکستانی ہائی کمشن پر حملے، امرتسر میں دوستی بس پر دھاوے، بھارتی میڈیا، سیاستدانوں اور جرنیلوں کی طرف سے دھمکیوں کو جنگ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھی جواب آں غزل جاری ہے لیکن ہوگا کچھ بھی نہیں! یہ سب بھارت کا الیکشن سٹنٹ ہے۔ اگلے سال مئی میں انتخابات کے بعد بھارتی سیاستدانوں کی اڑائی دھول بیٹھ جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت جنگ کے متحمل ہی نہیں ہوسکتے۔ ایٹمی قوتوں کی جنگ میں فتح و شکست دیکھنے کیلئے کوئی بچتا ہی نہیں ہے۔ ویسے بھی وہاں بنیا حکمران ہے تو یہاں دکاندار، دونوں ایسے کاروبار سے بدکتے ہیں جس میں خسارے کا ہلکا سا بھی شائبہ ہو۔ بھارت صرف اسی صورت پاکستان پر جنگ مسلط کرسکتا ہے جب اسے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو بے اثر یا فروخت کرنیوالے والے میر جعفر و صادق مل جائیں۔ وطن کے نگہبانوں اور پاسبانوں کی نظر ایٹمی اثاثوں ہی کی طرح ایسے لوگوں پر ہونی چاہئے جن کے اندر غداری کے جراثیم پائے جاتے ہیں۔
پاکستان آج ترقی و خوشحالی کی منزل کا راہ نورد ہے۔ بلاشبہ پاکستان سیاستدانوں نے بنایا اور اسے ترقی کی منزل کی طرف لے جارہے ہیں۔ قائداعظم مزید چند سال حیات اور برسر اقتدار رہتے تو پاکستان کو ترقی کی معراج پر پہنچا دیتے۔ پاکستان کے دفاع کو سیاستدانوں ہی نے ایٹم بنا کر ناقابل تسخیر بنایا۔ سیاستدانوں کے کریڈٹ پر بہت کچھ ہے لیکن پاکستان کو مشکلات کے سمندر میں پھنسانے میں بھی سیاستدانوں ہی کا ہاتھ ہے۔ 33سال مارشلاﺅں کی نذر ہوئے۔ مارشل لا لگوانے اور پھر اسے کامیاب کرانے میں بھی سیاستدان حصہ دار رہے ہیں۔
بارانِ رحمت اگر عذاب بن جائے تو اس میں بھی حکومتیں قصور وار ہیں۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ اس سیلاب سے اتنے سال کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ جب پہلا سیلاب آیا تو اسکی تباہیوں سے سبق کیوں نہ سیکھا گیا؟ سیلابی پانی کو سیرابی اور شادابی کیلئے استعما ل نہ کرنے کے باعث بربادی ہوتی رہی ہے۔ شہری ہر سال ڈوبتے ہیں، نالہ لئی انسانوں کی جان لے لیتا ہے ۔ کراچی کی شاہراہیں دریا بنتی ہیں۔ہر شہر وینس بنا نظر آتا ہے۔ لاہور کا لکشمی چوک رواں مون سون میں تیسری بار ڈوب گیا۔ اپنے پہلے دور میں پائینچے” ٹُنگ“ کے شہباز شریف نے پانی میں اتر کر متعلقہ حکام کی خبر لی تھی۔ لیکن ”خانہ ٹُنگ“ حکام نے اسکی پروا نہ کی۔ 18سال بعد گذشتہ دنوں حمزہ شہباز بھی اسی جگہ اپنے والد کی طرح پانی میں کھڑے حکام کو جھاڑ رہے تھے۔ لاہوریوں کو شاید اٹھارہ سال بعد شہباز شریف کا پوتا اسی جگہ یہی کچھ کرتا نظر آئے۔
 پرنالے کے نیچے اینٹ، روڑے پتھر یا ٹھیکریاں نہ رکھی جائیں تو گڑھا پڑیگا۔ پرنالہ بند ہوجائے تو چھت بیٹھ جائیگی۔ پرنالہ بند ہونے کا الزام بھی ہم قدرت کو دیدیتے ہیں۔ ایک بڑے نے اپنی صلاحیتوں پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے محل نما کوٹھی خود ہی نقشہ بنا کر تیار کرالی۔ ضرورت کے مطابق بیڈرومز فرنشڈ ڈرائنگ روم اور بہترین ٹی وی لاﺅنج۔ وہاں شفٹ ہونے سے قبل رشتہ داروں کی دعوت کی۔ ہوٹل اور بیکری سے سامانِ خورو نوش منگوایا۔ جشن شروع ہوا تو کسی نے واش روم جانے کی ضرورت محسوس کی۔ صاحب ِخانہ نے سر پکڑلیا، وہ واش روم اور کچن بنانا بھول گئے تھے۔ ملک بسانے والوں نے پرنالہ لگایا اسکو کھلا رکھنا تو اسکے گھر کے باسیوں کی ذمہ داری ہے۔ لگتا ہے بعد میں آنیوالے پرنالہ لگانا ہی بھول گئے۔
 قوم نے عید اور یوم آزادی دہشت گردی، فرقہ واریت اور لاقانونیت کی بھڑکتی ہوئی آگ کے دوران منائی۔ ان خرافات کا کوئی سدباب ہوتا نظر نہیں آرہا۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، قومی سکیورٹی پالیسی لانے اور اسکے خالق ہونے کے دعویدار ہیں ساتھ ہی وہ قوم کو متحد کرنے کا بھی عزم کر رہے ہیں۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے قوم کا اتحاد ناگزیر ہے۔ وزیر داخلہ عسکریت پسندوں سے بلاشبہ تمام سیاسی و غیر سیاسی جماعتوں گروہوں اور گروپوں جن میں پی پی پی، اے این پی اور ایم کیو ایم کے بالمقابل جماعت اسلامی، جماعت الدعوة، جمعیت علمائے اسلام جیسی پارٹیاں بھی ہوں گی کو ایک جگہ تو بٹھا سکتے ہیں۔ کیا ان کو ایک دہشت گردی پر قابو پانے کے ایک رائے اور سوچ پر متفق و آمادہ کر سکتے ہیں؟ اگر ایسا کرلیں تو یہی قوم کا اتحاد اتفاق اور دہشت گردی و فرقہ واردیت پر قابو پانے کی کلید بھی ہوگی۔ اس سے بند پرنالہ یقیناً کھل جائے گا۔

No comments:

Post a Comment