About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, August 29, 2013

فتح مبین کانفرنس

فتح مبین کانفرنس

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
25 اگست 20131
Print  
فتح مبین کانفرس
 لبنانی نژاد باوقا ر محلے کی رہائشی خاتون پہلی بار دو سال قبل ہمار ے گھر آئیں تو ان کی گفتگو سے پتہ چلا کوئی غیر ملکی ہم پاکستانیوں سے کہیں بڑھ کر محب وطن پاکستانی ہوسکتا ہے۔ محترمہ عالمہ و فاضلہ ہیں۔ نبی اکرم کی دل میں اس قدر چاہت اور زبان پر ذکرکہ رابعہ بصری کی شخصیت کا خاکہ نظروں کے سامنے آگیا۔ عربی ان کی مادری زبان، انگریزی انگریزوں کی طرح روانی سے بولتی ہیں۔ اپنی گفتگو کے دوران قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیتی ہیں۔ انہوں نے اپنے بچپن کا روح پرور واقعہ س±نایا۔ ”میری عمر آٹھ نو سال تھی، رات کو خواب میں دیکھتی ہوں کہ بیروت کے بازاروں اور گلیوں میں گ±ھپ اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے میں میرے سامنے ایسی روشنی پھیل رہی ہے جس سے میرے لئے چلنا آسان ہو رہاہے، میں بازار میں چلی جا رہی ہوں۔ میرے ذہن میں آیا کہ روشنی کی صورت میں میری رہنمائی حضرت خضرؑ کر رہے ہیں۔ چلتے چلتے سامنے گرجا گھر نظر آیا تو میں دائیں م±ڑ جاتی ہوں۔ یہاں مجھے اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ کی مدہم سی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ میں اسی طرف بڑھتی چلی جارہی ہوں تاآنکہ مجھے نظر آیا کہ سبز پگڑیاں پہنے لوگوں کا ایک پ±رنور ہجوم رواں ہے۔ میں وہیں رک جاتی ہوں۔ ان کے ایک ہاتھ میں سن ریز (دف قسم کا آلہ) ہے، دوسرے سے وہ اس پر چوٹ لگاتے ہیں اور بڑی دلپذیر اور مترنم آواز میں کہے جا رہے ہیں ”اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ“ ان کی قیادت ایک خوبرو نوجوان کر رہا ہے۔ میرِ کارواں نے گردن گھما کر میری طرف مسکرا کر دیکھا۔ ایسا خوبصورت اور حسین وجمیل نوجوان میں نے آج تک بھی نہیں دیکھا‘ سبحان اللہ۔ گھنگریالے، سیاہ بال اور ایسی ہی ریش مبارک، کشادہ ونورانی پیشانی، چہرے کا رنگ سرخی مائل سفید، دانت موتیوں کی طرح چٹے سفید اور آنکھیں بادامی رنگ کی۔“
 خاتون نے بات کرتے کرتے ر±ک کر پوچھا ”پتہ ہے وہ نور مجسم شخص کون تھا“؟ خود ہی گویا ہوئیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کی معیت میں اللہ اکبر کے نعرے لگانے والے ایک لاکھ 24 ہزار انبیاءکرامؑ تھے.... آپ کے چہرہ اقدس کے نقوش جو اماں جی نے بتائے وہ بالکل ویسے ہی تھے جیسے پیر مہر علی شاہ صاحب کی معروف پنجابی نعت ”اج سک متراں دی ودھیری “ میں بیان کئے گئے ہیں ....
م±کھ چند بدر شعشانی اے، متھے چمکدی لاٹ نورانی اے
کالی زلف تے اکھ مستانی اے، مخمور اکھیں ہِن مدھ بھریاں
جناب محمد خان قادری نے ”سک متراں دی“ شرح لکھی ہے۔ میں نے خاتون سے پوچھا کہ کیا انہوں نے پیر مہر علی شاہ صاحب کی ”اج سک متراں دی ودھیری“ نعت پڑھی ہے۔ اماں جی نے کہا کہ وہ اردو لکھ پڑھ اور بول سکتی ہیں، پنجابی نہیں آتی۔ پیر مہر علی شاہ صاحب کی نعت میں حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس اور اماں جی کے بیان کردہ ر±خِ انور کے نقوش میں مماثلت حیران کن ہے۔ اماں جی نے کہا کہ ان کے دل میں ہمیشہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوبارہ دیکھنے کی حسرت اور تڑپ رہی ہے۔ ”خواب میں مَیں نے صاحبِ لولاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا وہ اتنے حسین ہیں کہ مجھے ان سے دل وجان سے محبت ہو گئی۔ میں نے” شرح سک متراں دی“ کتاب مطالعہ کیلئے بی اماں کو دیدی۔ چند روز قبل وہ اتفاقاً پھر ہمارے گھر چلی آئیں۔ انہوں نے خواب اور کتاب کا ذکرتے ہوئے بتایا کہ جس ہستی کو میں نے خواب میں دیکھا اس کتاب میں انہی کے ایک ایک نقش کی نہایت باریک بینی تصویر کشی کی گئی ہے۔
پیر مہر علی شاہ صاحب نے مذکورہ نعت نبی مرسل کے عشق میں ڈوب کر لکھی ایسا لگتا ہے کہ شاہِ دوجہاں سامنے تشریف فرما ہیں اور پیر صاحب آپ کی مدح کئے جارہے ہیں۔ کسی کے محبوب پر بہتان تو کیا الزام بھی آئے تو محب کی برداشت سے باہر ہوتا ہے۔ رسول کی ناموس پر کوئی انگلی اُٹھائے تو عاشق کیسے برداشت کر سکتا ہے۔ جب فرما دیا ”میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا“ تو بھی کوئی نبوت کا دعویٰ کرے توعاشقانِ رسول کی غیرت کیسے گوارہ کر سکتی ہے؟ غلام احمد قادیانی نے ایساکیا تو پیر مہر علی شاہ صاحب کو دلیل کی برہان اورقوت ِایمان کے ساتھ اسکے رد کیلئے کھڑا کردیا گیا۔
پیر مہر علی شاہ صاحبؒ 1890ءمیں حج کیلئے گئے تو حجاز مقدس ہی میں مستقبل قیام کا فیصلہ کیا۔ حرم کعبہ میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور دیگر بزرگوں سے ملاقات ہوئی۔ حضرت مہاجر مکیؒ نے پیر صاحب سے اصرار کیا کہ آپ کی ہندوستان میں موجودگی ضروری ہے۔ وہاں ایک فتنہ سر اٹھانے والا ہے جس کو کچلنے کیلئے آپ کو کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔ حضرت مہاجر مکیؒ کا کہا ایک سال بعد 1891ءمیں ہی درست ثابت ہوگیا جب مرزا غلام احمد نے پہلے مسیح موعود اور چند سال بعد نبوت کا بھی دعویٰ کردیا۔ پیر صاحب‘ مرزاکے راستے کی دیوار ثابت ہوئے۔ مرزا نے خود پیر صاحب کو مناظرے کی دعوت دی لیکن صرف تحریری مناظرے کی‘ جبکہ پیر صاحب اسکے ساتھ تقریری مناظرہ بھی کرنا چاہتے تھے۔ مرزا صاحب محض تحریری مناظرے پر بضد رہے تو اسے بھی قبول کر لیا گیا۔ 25 اگست 1900ءکو مناظرے کا مقام لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد قرار پایا۔ پورے ہندوستان سے مسلمانوں اور قادیانیوں کے قافلے لاہور پہنچ گئے۔ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ بھی لاہور تشریف لے آئے لیکن مرزا تقریری مناظرے کی شرط ختم کرانے کے باوجود لاہور نہ آئے ۔ پیر صاحب 29 اگست تک لاہور میں مرزا کی آمد کے منتظر رہے۔
کسی موقع پرمرزا نے کہا تھا آپ بھی تفسیر لکھیں‘ میں بھی لکھتا ہوں۔ اس پرپیر صاحب نے فرمایا کہ امت میں ایسے خادم بھی موجود ہیں‘ وہ قلم پر نگاہ ڈالیں تو قلم خودبخود تفسیر لکھ دے۔ قادیانیوں کے ایک وفد نے پیر صاحب سے کہا آپ اور مرزا ایک اندھے کی بینائی کیلئے دعا کریں جس کی دعا پوری ہوگی وہ سچا ہوگا۔ پیر صاحب نے فرمایا مرزا کو کہیں وہ آئیں‘ اگر مردے بھی زندہ کرنا پڑیں تو قبول ہے۔
 پیر صاحب نے 25 اگست 1900 کو لاہور کی بادشاہی مسجد میں فتنہ قادیانیت پر جوضرب کاری لگائی اس کی گونج آج بھی پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔25 اگست کی اس حوالے سے امت مسلمہ کے ہاں بڑی اہمیت ہے۔ اس تاریخ کو ہر سال مزید تاریخی بنا دیا جاتا ہے ۔ اس میں بھی حضرت پیر مہر علی شاہ کا خانوادہ ہی ہراول دستہ ثابت ہورہا ہے جو اس دن کو تزک احتشام سے مناتا ہے۔
امام المسلمین، مجدد دین و ملت، مامور من الرسول اعلیٰ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گیلانیؒ کی 25 اگست 1900ءکو بادشاہی مسجد لاہور میں تاریخ ساز فتح مبین کی یاد میں 113ویں خاتم النبین کانفرنس آج درگاہ عالیہ گولڑہ شریف میں زیرسرپرستی سید غلام معین الحق گیلانی منعقد ہو رہی ہے جس میں دور دراز سے عشاق کے قافلے شرکت کیلئے پہنچ رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment