About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, August 19, 2012

عید ‘ نویدمسرت کب بنے گی؟ 12-8-19





عید‘ نوید ِ مسرت کب بنے گی؟

 قوم کی یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ عیدالفطر ایک بار پھر نامساعد حالات ‘دہشت و وحشت ‘ بدامنی و لاقانونیت کی فضا اور حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث ہر طرف مہنگائی‘ بیروزگاری ‘ لوڈشیڈنگ جیسے کارناموں کی جفا میں آئی ہے۔ ابھی شمالی وزیرستان میں فوجی اپریشن کی سوچ ہی سامنے آئی تھی کہ کامرہ ایئر بیس کی سکیورٹی بکھیر کر رکھ دی گئی پھر اس شبِ قدر کی صبح کو ناران میںایک خاص مکتبہ فکر کے 25 انسانوں کو اس وقت بسوں سے اتار کر قتل کر دیا گیا جب انکے پیارے عید کے موقع پر انکے گھر پہنچنے کاانتظار کر رہے تھے۔ کراچی کا امن ایک عرصے سے داﺅ پر لگا ہے۔ گزشتہ روز فائرنگ اور بم دھماکے میں 14 افراد قتل کر دیئے گئے۔ آج کا سکور تادم تحریر 11 ہے۔ بلوچستان کے روئیں روئیں سے خون رس رہا ہے‘ قبائلی علاقے بدامنی کی آگ کا گولا بن گئے ہیں۔ ڈرون حملوں کے ردعمل میں خود کش بمبارسراپا بارود بنے اپنے پیاروں کا انتقام لینے نکل پڑتے ہیں‘ ان کا جہاں بس چلتا ہے ‘ لمحوں میں قیامت صغریٰ برپا کر دیتے ہیں۔
 یہ د نیا کہیںدکھوں کی وادی ہے توکہیں خوشیوں کا گہوارہ ۔ اور یوں بھی ہوتا ہے کہ خوشیوں بھرے گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے لیکن کہیں رب العالمین ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے کہ غم خوشیوں میں بدل جاتے ہیں۔ سوز اور سازطرب کا سلسلہ ازل سے چلتا آیا ہے ابد تک جاری رہے گا۔ یہی قانون قدرت ہے۔ آج ہم جن حالات میں عید منا رہے‘ وہ قابل رشک تو کجا‘نارمل بھی نہیں ہیں۔وطن عزیز کے دو صوبے مکمل طور پر شورش بدامنی اور آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ انکی تپش دوسرے صوبوں میں بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ سرحد اور بلوچستان میں بدامنی کی وجوہات مختلف ہیں لیکن چنگاری کو شعلہ اور شعلے کو الاﺅ کس نے بنایا؟ یقیناً اس میں غیر ملکی طاقتیں ملوث ہو سکتی ہیں لیکن اس آگ کو پھیلانے اور دہکانے میں ہماری قیادتوں کی بے بصیرتی ‘ ذاتی مصلحتیں‘ ناقص پالیسیاں جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہیں۔ 
عید کے موقع پر والدین کو اپنے ان ملازم پیشہ جگر گوشوں کا انتظار ہوتاجو پردیس میں روٹی روزگار کیلئے محنت مشقت کر رہے ہوتے ہیں۔بہنیں اپنے بھائیوں اور سہاگنیں اپنے سہاگ کی راہ دیکھتی ہیں۔ بچے اپنے باپ کی شفقت اور تحفے پا لینے کی حسرت لئے ہوتے ہیں۔ لیکن آج بہت کچھ بدلا ہوا ہے۔ دہشت گردی کےخلاف نام نہادجنگ اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں فوجی‘ پولیس افسر‘ جوان اور عام آدمی بھی شہادت کا رتبہ پا رہے ہیں‘ انکی لاشیں گھروں میں پہنچتی ہیں تو انکے والدین‘ بچوں اور سہاگنوں پر قیامت گزر جاتی ہے‘ انکی دنیا اندھیر ہو جاتی ہے‘ یااللہ یہ کیسی جنگ ہے جو اپنے اپنوں کیخلاف لڑ رہے ہیں۔ پچھلی کئی عیدوں کی طرح قو م کےلئے یہ عید بھی خون آشام اور خوں بار بن گئی۔ ایسے حالات میں قومی اتحاد‘ یگانگت اور یکسوئی ناگزیر ہے لیکن ہم نے اپنی سیاست کی ایسی جنگ شروع کی ہوئی ہے جس میں سیاستدان باہم دست و گریباں اور ایک دوسرے کو لٹیرا قرار دیتے ہیں۔ برسراقتدار جماعت اپنی ”قربانیاں“ گنوا کر ملک و قوم کے ساتھ کچھ بھی کر گزرنے کا حق جتلا رہی ہے۔ عدلیہ کو بے وقعت کیا جا رہا ہے۔ 
کئی برسوں کی طرح 1433 ہجری کی عید الفطر میں بھی ہمارے لیے پیغام مسرت ہے‘ نہ نوید راحت و فرحت۔ ا±مہ پر بدستور مایوسیوں کے سائے اور تاریکیوں کے سائبان تنے ہیں۔ جہاں اس کا سبب ہنود، یہود و نصاریٰ کا گٹھ جوڑ ہے وہیں‘ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی منافقت کی سی مصلحت بھی کار فرما ہے۔ افغانستان اور عراق میں انسانیت سسک اور بلک رہی ہے۔جو جنگ کا ایندھن بنے، انکے لواحقین کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ انکی عید کیسی ہو گی! فلسطین میں صہیونیت نے مسلمانوں کی گردن پر ڈریکولائی پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ غزہ کے لاکھوں محصورین خوراک اور ادویات کےلئے ترس اور تڑپ رہے ہیں۔ سینکڑوں بچے دودھ، ہزاروں بوڑھے ادویات کی کمی کے باعث لقمہ ا±جل بن گئے۔ بچنے والے پیروجواں زندگی و موت کے درمیان معلق ہیں۔ انکی عید کیسی ہو گی! مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی سفاک فوج کی گولیاں اور سنگینیں کشمیریوں کے جگر چیر رہی ہیں۔ ماتم کناں کشمیریوں کا جان ومال محفوظ ہے نہ عزت و آبرو، ان کی عید کیسی ہو گی!وطن عزیز و عظیم کے جسد کارواں رواں بارود سے دھواں دھواں ہے۔ غیروں کی جنگ میں پانچ ہزار سے زائد فوجیوں سمیت نصف لاکھ پاکستانی اس جنگ کا ایندھن بن گئے۔ کتنے سہاگ لٹے، کتنے بچے یتیم ہوئے، کتنی مائیں بے سہارا ہوئیں، کتنی بہنوں کی بھائیوں کی راہیں دیکھتے آنکھیں پتھرا گئیں۔ انکی عید کیسی ہو گی.... بوسنیا اور چیچنیا میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا گیا‘ اب یہی ظلم بڑی سفاکی سے برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھایا جا رہا ہے۔ تیس ہزار قتل ہوئے‘ 80 ہزار بے گھر ہو کر دربدر ہو گئے۔ اقوام متحدہ نے سخت نوٹس لیا نہ او آئی سی کے ضمیر پر خلش پیدا ہوئی۔ دونوں بڑی تنظیموں نے صرف واجبی بیانات دیئے۔ شاہ عبداللہ کی بلائی گئی کانفرنس سے امہ نے بڑی توقعات وابستہ کی ہوئی تھیں‘ وہ بھی نقشِ برآب ثابت ہوئیں۔ معاملہ اقوام متحدہ میں لے جانے کا فیصلہ ہوا‘ اقوام متحدہ نے مسلمانوں کے حقوق کیلئے پہلے کبھی کچھ کیا ‘ نہ اب کریگی۔ مسئلہ کشمیر 65 سال سے اسکے کباڑخانے میں پڑا ہے بھارت خود گیا تھا لیکن اب اٹوٹ انگ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ حل ایک ہی ہے اندرونِ ملک اتحاد و یگانگت کی فضا اور مسلم امہ کا سیسہ پلائی دیوار کی طرح مضبوط اتحاد جسے اسلامی ممالک میں شورش دور کرنے اور کسی بھی ملک میں مسلمانوں پر مظالم کی صورت میں طاقت سے روکنے کا اختیار ہو۔ دوسرے لفظوں میں نیٹو ممالک اور یورپی یونین کی طرح فعال او آئی سی۔ خدا اہل وطن اور مسلم امہ کیلئے عیدکو خوشیوں کی نوید بنا دے۔









No comments:

Post a Comment