About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Monday, October 8, 2012

چکر؟



چکر؟
 اکتوبر 2012,7    

سوئس حکام کو خط لکھنے والے کیس میں حکومت چکر دئیے اور مہلت لئے جا رہی ہے۔ گذشتہ سے پیوستہ پیشی پر حکم دیا گیا تھا کہ پانچ اکتوبر آخری مہلت ہے۔ آخری مہلت قرار دینے والوں کے ہاں آخری سے نہ جانے کیا مراد اور اس کا کیا مفہوم ہے۔؟ بہرحال ان کو ایک بار پھر 10 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے جن کا اٹل موقف ہے کہ شہید بی بی کی قبر کا ٹرائل نہیں ہوں گے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو اگلی پیشی‘ مزید مہلت‘ نئی تاریخ اور مہلت در مہلت حتیٰ کہ الیکشن‘ اپنی حکومت آگئی تو واہ بھلا‘ دوسرے جیتے تو زرداری صاحب ستمبر 2013ئ تک صدر ہیں۔ لو اور دو میں کمال‘ مفاہمت میں ملکہ بے مثال رکھتے ہیں۔ اپنی آئینی مدت پوری ہونے تک کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لیں گے۔ سنا ہے اسی پارلیمنٹ سے ایک بار پھر صدر منتخب ہونے کا خیال رکھتے ہیں۔ تاہم جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف جسٹس سپریم کورٹ ہوتے ہوئے غچہ دئیے چلے جانا‘ دئیے چل جانا ممکن نہیں۔ ان کی مدت ملازمت 12 دسمبر 2013ئ کو پوری ہو گی۔ دیکھئے کوئی کہاں تک چکر چلاتا ہے۔ ویسے ہمارے سیاستدان چکر چلانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ 
ترقی و خوشحالی کے لئے معیشت کی مضبوطی شرط اول ہے۔ مستحکم معیشت کا دار و مدار وافر اور سستی توانائی کی کار فرمائی پر ہے جس کا آج شدید بحران اور فقدان ہے۔ حکومت نیشنل گرڈ میں ساڑھے تین ہزار میگا واٹ بجلی شامل کرنے کی دعویدار ہے جس کی زمینی حقائق تصدیق نہیں کرتے۔ گذشتہ دور میں چند گھنٹے بجلی جاتی تھی آج چند گھنٹے آتی ہے۔ گیس کی کبھی لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی تھی۔ یہ رسم بھی جمہوری حکومت نے شروع کی۔ بجلی و گیس جتنی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے نرخ آسمان سے باتیں کرتے ہیں اور ان میں ہر ماہ اضافے کی بھی حکومت نے قسم کھا رکھی ہے۔ ساڑھے تین ہزار میگاواٹ نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے بیانات عوام کو تسلی نہیں چکر دینے کے لئے ہیں۔ راجہ پرویز پانی و بجلی کے وزیر تھے تو انہوں نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے کتنے بیاناتی چکر چلائے! کالا باغ ڈیم کا باب بھی راجہ صاحب نے بند کیا۔ اس کے بجائے بھاشا ڈیم کی تعمیر پر بڑے جوش کا منظر دیکھنے میں آتا رہا ہے وزیراعظم گیلانی نے اس کی تعمیر کا اکتوبر 2011ئ میں تیسرا سنگ بنیاد رکھا قبل ازیں 2006ئ مشرف 2007ئ میں شوکت عزیز سنگ بنیاد رکھ کر چکر چلا چکے تھے۔ گیلانی کی رکھی ہوئی سنگ بنیاد کی تیسری اینٹ بھی چکر ثابت ہوئی آج ایک سال بعد بھی تعمیر شروع نہیں ہو سکی۔ کب سے سن رہے ہیں کہ واپڈا گھر گھر انرجی سیور تقسیم کرے گی۔ شاید کاغذوں میں میں خریداری بھی ہو چکی ہو۔ یہ بھی چکر۔ دو سال قبل پی ایس او اس جذبے و ولولے سے دوہری ہوئے جا رہی تھی کہ پٹرول سستا کرنے کے لئے اس میں ایتھول ملا کر پٹرول پمپوں پر فراہم کیا جائے گا۔ بتائیے کسی کو ایسا پمپ پورے ملک میں کہیں نظر آیا؟ یہ ضرور کہا گیا کہ تجربہ ناکام ہو گیا۔ یہ تجربہ کتنے میں پڑا؟ یہ بھی چکر۔
بجلی کی سستی ترین پیداوار کا ذریعہ ہائیڈل یعنی پانی سے بجلی پیدا کرنے کے پراجیکٹس ہیں۔ آج 18 ہزار میگاواٹ میں سے 6 ہزار میگاواٹ بجلی پانی سے پیدا کی جاتی ہے۔ جو حکومت کو ڈیڑھ دو روپے یونٹ تک پڑتی ہے۔ پوری دنیا میں زیادہ خریداری کی صورت میں رعایت دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں عجب تماشا ہے زیادہ بجلی کے استعمال پر قیمت بھی بڑھا دی جاتی ہے۔ مصنوعات بنانے والے خریداروں کو زیادہ سے زیادہ خریداری کی ترغیب دیتے ہیں ہمیں بجلی و گیس فراہم کرنے والے محکمے کم سے کم استعمال کی تلقین کرتے ہیں حالانکہ یہ فری نہیں دیتے۔ اس کی وجہ بھی یقیناً انرجی کی کمی ہے۔ اس پر حکومتیں عزم و ارادے اور خلوص نیت سے آسانی کے ساتھ قابو پا سکتی ہے۔ تھرمل پاور پلانٹس سے مہنگی ترین اور ہائیڈل سے سستی ترین بجلی پیدا ہوتی ہے۔ ہماری آج کی ضروریات 18 ساڑھے 18 ہزار میگاواٹ ہے وہ بھی اس صورت میں کہ بجلی کی قلت کے باعث بند ہونے والی لاکھوں فیکٹریاں اور چھوٹے بڑے کاروبار بھی چل پڑیں۔ آج پانی سے 6 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ تمام ممکنہ ہائیڈل منصوبے مکمل ہو جائیں تو ہمیں ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی دستیاب ہو گی۔ کالا باغ ڈیم 3600 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا منصوبہ ہے۔ بھاشا ڈیم 4200 سکردو ڈیم 15000 بونجی ڈیم 7000 داسو ڈیم 4300 نیلم جہلم پراجیکٹ 1100 منڈا ڈیم 1000 اور اکھوڑی ڈیم 600 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یوں موجودہ 6 ہزار میگاواٹ اور مجوزہ 37 ہزار میگاواٹ بجلی کی دستیابی سے ہمیں تھرمل بجلی کی ضرورت نہیں رہے۔ سستی ترین بجلی سے صنعتوں کا جام ہوتا پہیہ پھر سے رواں دواں ہو جائے گا۔ پھر کسی کو بچت کا درس دینے کے بجائے بجلی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی ترغیب دی جائے گی اور زیادہ استعمال کرنے والوں کو رعایت بھی۔ 
وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے تھرکول انرجی بورڈ کے اجلا کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہمستقبل میں صرف تھر کے کوئلے کو تھرمل بجلی کی پیداوار کیلئے استعمال کیا جائے گا‘ موجودہ پاور پلانٹس کے ساتھ ساتھ نئے بجلی گھر بھی تھر کا کوئلہ کو بروئے کار لانے کیلئے تعمیر کئے جائیں گے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس سی ایم سی اور اینگرو کارپوریشن کول مائن اینڈ پاور پراجیکٹ تھر کول منصوبے کے بلاک II میں 65 لاکھ ٹن کوئلہ سالانہ نکالنے اور 1200 میگاواٹ کے بجلی گھر کیلئے کام کر رہی ہیں جس پر اخراجات کا تخمینہ 1.3 ارب ڈالر ہے۔ کچھ عرصہ قبل وزیر پانی و بجلی احمد مختار فرما چکے ہیں کہ کوئلہ برآمد کرکے اس کی قیمت سے تھرمل پراجیکٹس کے لئے تیل خریدا جائے گا۔ یہ بھی ایک چکر نظر آتا ہے۔ اب راجہ جی تھرمل منصوبے کوئلہ پر لانے کی حکمت عملی سے قوم کو آگاہ کر رہے ہیں۔ اس میں عرصہ کتنا لگے گا اور پھر آپ کی کمٹمنٹ کیا ہے؟ پاکستان میں موبائل کمپنیاں آئیں تو پی ٹی سی ایل کے حکام کے پیٹ تندو بن گئے یہ کمپنیاں اس میں ڈالر جھونکتی رہیں اور یو فون کی سروس کو موخر کراتی ہیں۔ آج بھی حکومت کی طرف سے ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی درآمد کی بات ہوتی ہے توڈیلر نوٹوں سے بھرے بیگ لے کر حکام کی درگاہ میں نذر کر دیتے ہیں۔ تھرمل پاور کمپنیوں کو ہر پیٹ کے سائز کا علم ہے۔ وہ کیسے آپ کے کوئلے اور ہائیڈل پاور پراجیکٹس کو روبہ عمل آنے دیں گی؟ اس کا سب سے زیادہ علم رینٹل پاور منصوبے کی جزیات سے واقف اور فیض یافتہ راجہ کو ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی طرف سے ایسا کوئی منصوبہ بنانا اور اسے عملی جامہ پہنانا حقیقت نہیں بلکہ چکر ہوسکتا ہے۔ البتہ کوئی قائد جیسا ملے تو انتہائی آسانی سے ملکی مفاد کے ہائیڈل اور کوئلے کے منصوبے عملی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔



No comments:

Post a Comment