About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, September 9, 2012

عبوری حکومت کا فارمولا


اتوار ,09 ستمبر ,2012

     
عبوری حکومت کا فارمولا

 جمہوریت آج ایک ڈر، خوف وحشت اور دہشت بن چکی ہے۔لوگ مروجہ جمہوریت کو دیکھ کر اس سے تائب ہوچکے ہیں۔ جمہوریت نے ملک اور عوام کو کیا دیا۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ،کاروباروں کی تباہی، اداروں کی بربادی، بیرونی قوتوں کی غلامی، خود مختاری کی نیلامی، عدلیہ کی تضحیک، حساس اداروں کی تذلیل، کشمیر پر دیرینہ موقف سے اغماض یہ اور ان جیسے دیگر بہت سے تحفے جمہوریت کا ثمر ہیں۔ کیا جمہوریت اسی کا نام ہے؟ کیا قائد پاکستان میں ایسی ہی جمہوریت کا نفاذ چاہتے تھے؟ ہم نے جن ممالک کی طرز پر اپنے ہاں جمہوریت رائج کرنے کی کوشش کی کیا ان ممالک میں بھی ایسی ہی جمہوریت رائج ہے؟ کوئی بھی سسٹم ہو اس کو نیک نیتی سے تشکیل اور ترتیب دیا جاتا ہے۔ عوام تک اس کے کیسے ثمرات منتقل ہوتے ہیں۔مثبت یا منفی۔ پھل میٹھا ہوتا ہے یا کڑوا۔ اس کا مکمل انحصار نظام کو نافذ کرنے والوں کی نیت اور اہلیت پر ہے جمہوری نظام مغرب میں کامیاب سے چل رہا ہے۔اسلامی ممالک کی بات کریں تو ترکی اور ملائیشیا جمہوریت کے کامیابی سے نفاذ کے حوالے سے خوبصورت مثالیں ہیں۔ پاکستان میں کیوں نہیں؟ وہ اس لئے کہ پاکستان کو کبھی جمہوری انداز میں چلانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ آمروں نے جمہوریت کے نفاذ میں ناکامی کا الزام لگا کر سیاسی حکمرانوں کے گلے پر انگوٹھا رکھا تو سیاستدانوں نے موقع ملنے پر جمہوریت کے نام پر آمرانہ رویے اختیار کئے۔ سیاستدانوں نے آمرانہ طریقے اگر ملکی ترقی، عوامی خوشحالی کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں کی تعمیر کےلئے استعمال کئے ہوتے تو وطن آج امن کا گہوارہ ہو گا اور یہاں کی ہوائیں اور فضائیں معطر و معتدل ہوتیں۔ جمہوری طریقے سے ملنے والے اختیارات ذاتی مفادات کیلئے استعمال ہوئے جس سے عام پاکستانی شدید متاثر ہوا۔ جمہوریت کو موم کی ناک سمجھ کر سیاستدان اپنے مفادات کی خاطر 
جس طرف چاہتے ہیں موڑ لیتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ آج ہر لمحے اور ہر قدم پر ہورہا ہے۔ آج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ ہو، حکمرانوں کی اقربا پروری ہو مہنگائی بیروزگاری اور لاقانونیت ہو تمام مسائل کی جڑ کرپشن ہے۔پٹواری لائن مین، پولیس سپاہی اور سرکاری محکموں کے اہلکار کی کرپشن نہیں، اعلیٰ شخصیات کی کرپشن، اربوں اور کھربوں روپے کی کرپشن ایک وزیر نے تو ٹی وی پر آکر کہہ دیا کہ کرپشن ہمارا حق ہے۔ جرنیل بھی پیچھے نہ رہے تین کو وردیاں پہنا کر ان سے 4 ارب روپے کی کرپشن کا حساب لیا جارہا ہے۔ملک سے صرف کرپشن کا خاتمہ ہوجائے تو عوام کے نوے فیصد مسائل حل ہوسکتے ہیں۔نیٹو کو فی لیٹر پٹرول44 روپے میں فروخت ہوتا ہے پاکستانی ایک سو پانچ روپے میں خریدتے ہیں جو رعایت غیر ملکیوں کو ہے وہ ہم وطنوں کو کیوں نہیں۔ نیٹو والے اسی پٹرول کو استعمال کرکے پاکستان پر یلغار کرکے اس دھرتی کا حلیہ بگاڑتے ہیں محب وطن پاکستانی ایک ایک تنکا اکٹھا کرکے وطن کو سنوارتے ہیں پھر رعایت کا زیادہ حق دارکون ہے؟
 اکثریت کے بل بوتے پر قومی مفادات میں کڑے فیصلے کرنے چاہئیں۔ کالا باغ ڈیم بنائیں دشمن سے اپنی شہ رگ چھڑائیں۔ اگر نیتیں درست ہوں تو سب کچھ ممکن ہے۔اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکتا ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت بن سکتا ہے تو کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ترقی کی اوج ثریا اور خوشحالی کی معراج تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن ہمیں پالا خود غرضوں اور بد نیتوں سے پڑا ہے جو کڑے فیصلوں کے بجائے کوڑھے فیصلے کرتے ہیں۔توہینِ رسالت قانون میں شکوک شبہات پیدا کرتے ہیں۔ عدالتوں کی توہین کیلئے قانون سازی کرتے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ احتساب بل لایا جائے گا جو ماضی کی کرپشن پر لاگو نہیں ہوگا جو کھربوں روپے نگل گیا اس کو معاف‘ جو اربوں کی ایفیڈریشن کو سوٹا لگا دیاگیا اس کا کھاتا صاف، این آر او، این ایل آئی سی، حج کرپشن اور این ایل سی کی پہاڑ جتنی رقمیں ہضم، کھلے ریفرنسز بند، ریلوے،سٹیل پی آئی اے جو ڈکار گئے سو ڈکار گئے۔ وزیر قانون نے کہا ہے کہ نیا بل ماضی کی کرپشن پر لاگو نہیں ہوگا۔یہ بل ابھی آنا ہے۔کرپٹ لوگوں کیلئے نائیک کا بیان نوید بن کر نازل ہوا۔جہاں ہاتھ پڑا ہے سرِ عام لوٹ لو،قومی خزانہ نوچ لو، ماس سے آگے ہڈیو ں کے گودے تک، کیوں؟ اس لئے کہ جو کیا جولوٹا جو کھایا جو نوچا سب معاف ہونیوالا ہے۔
 جمہوریت کو جو ہیت دیدی گئی وہ ہیبت بن چکی ہے۔بات حکمرانوں کی سیاست دانوں کی ہورہی ہے۔ ان سیاستدان کی جن کی جھولی میں اقتدار گرتا ہے کچھ باری باری آتے ہیں تو کچھ پارٹی بدل کر اور ضمیر بیچ کر لگاتار اقتدار میں رہتے ہیں۔آج اس ہیبت وحشت اور دہشت سے نکلنے کی ضرورت ہے۔یہ ضرورت مروجہ طریقے سے ہونیوالے انتخابات سے پوری نہیں ہوگی۔اس کیلئے ایک بڑے اپریشن کی ضرورت ہے جو سیاست اور جمہوریت کے بدن سے ایک ہی بار تمام ناسور نکا ل دے۔اس حوالے سے اس فارمولے کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے جس کا تذکرہ اہل دانش اکثر کرتے ہیں۔تین چار سال کی عبوری حکومت۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اس فارمولے پر پیشرفت کیلئے کمر کس لی ہے چند روز قبل ڈاکٹر صاحب نے کچھ صحافیوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کی۔ وہ نو مبر میں اپنے اسی فلسفے کے ساتھ پاکستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ خود کو انتخابی سیاست سے دور رکھ کر سسٹم کو پٹڑی پر چڑھانے کا عزم صمیم ظاہر کر رہے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی کے ایجنڈے کو آگے نہیں بڑھا رہے۔ ان سے کسی نے رابطہ نہیں کیا وہ قومی و ملکی بھلائی کیلئے چار سال تک ایسے سسٹم کے نفاذ کے متمنی ہیں وہ ملک کو جمہوریت کے اصل ٹریک پر چڑھا دے۔اگر ڈاکٹر صاحب کسی کے رابطے اور ایجنڈے پر بھی ایسا کررہے ہیں تو بھی اس خیر کے کام میں کوئی حرج نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ قوم اور عدلیہ اور ادارے مل کر محب وطن اور اہل لوگوں کو چار سال میں جمہوریت کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنیکا لائحہ عمل مرتب کریں ان کو جو وقت دیا گیا اس سے آگے ایک دن بھی نہ جانے دیا جائے۔ ان کی تعیناتی سے قبل خدوخال طے کرلیے جائیں کہ ان کو اپنا کام ہر صورت مقررہ مدت میں پایہ تکمیل کو پہنچانا ہے دوسری صورت میں ان کیلئے پہلے سے طے شدہ ضوابط میں کڑی سزا بھی متعین کر دی جائے۔ آمرانہ سوچ کے حامل سیاستدانوں اور روایتی حکمرانوں کیلئے ڈاکٹر صاحب کا فارمولا شیر کی ایک دھاڑ ہے ان کی آمد کا سن کر یقینا رن کانپ رہا ہے ۔بہر حال فارمولا معقول ہے۔
 شیخ الاسلام کی دعوت پر اکٹھے ہونیوالے صحافیوں میں سونے میں تولے ہوئے اور لاکھوںکی بولی لگوانے والے موجود نہیں تھے۔ پاکستان سے ہزاروں میل دو ر کینیڈا میں بیٹھے میزبان کو سعید آسی صاحب نے یاد دلایا کہ انہوں نے نوابزادہ نصر اللہ خان کو بھائی قرار دیا تھا جو خدا کو پیارے ہوگئے۔ آپ نے بینظیر بھٹو کو بہن بنایا تھا وہ قتل کردی گئیں آپ نے ایک اور سیاستدان مسرت شاہین کو ہمشیرہ کہا تھا وہ بفضل خدا حیات ہیںاس پر محفل کشت زعفران بن گئی جبکہ علامہ صاحب نے اس پر خاموشی اختیار کی البتہ چند روز قبل مسرت شاہین نے ایک بیان میں یہ کہا کہ ان کو عام انتخابات سے قبل قتل کردیاجائے گا۔ خدا شیخ الاسلام کی منہ بولی بہن کو محفوظ رکھے۔ اگر ڈاکٹر صاحب کے فارمولے پرعمل ہوجاتا ہے تو عام انتخابات آج سے ساڑھے چار سال بعد ہونگے۔ اگر قاتل ہاتھ انتخابات تک محترمہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں تو محترمہ کو کم از کم ساڑھے چار سال کی مہلت تو مل جائے گی۔اس دوران سیاسی صورت حال اور مسرت شاہین کے مبینہ قاتلوں کی سوچ کوئی دوسرا رخ بھی اختیار کرسکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment