About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, September 6, 2012

اللہ گواہی دیتا ہے ‘ شہید زندہ ہے


جمعرات ,06 ستمبر ,2012



     
اللہ گواہی دیتا ہے ‘ شہید زندہ ہے    

جنگ ِ65ءکیوں لڑی گئی‘ کن مقاصد کے تحت لڑی گئی ‘ کیا وہ مقاصد حاصل ہوئے‘ اگر اپنے دفاع میں لڑی گئی تو کس حد تک کامیابی ہوئی۔ بہرحال پاکستان نے یہ جنگ دشمن سے بڑی بہادری اور بے جگری سے لڑی اور دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ سوالات تو بہت سے ذہن میں ابھرتے ہیں جن پر تفصیلی بحث عموماً ہوتی رہتی ہے۔ 
ایوب خان نے چند ماہ قبل دنیا کے سب سے بڑے فراڈ صدارتی انتخابات کرائے تھے جن میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں اپنی جیت کا جھرلو کے ذریعے اہتمام کیا گیا تھا۔ جب وطن عزیز پر دشمن حملہ آور ہوا تو قوم وقتی طور پرہی سہی‘ تمام اختلافات اور تحفظات بھلا کر سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی۔ یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی قوم اپنی فوج کے شانہ بشانہ ہو‘ اسکی غداروں پر بھی کڑی نظر ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ اگلے محاذ پر لڑنا فوج ہی کا کام ہے۔ جذبہ جہاد اور ذوقِ شہادت سے معمور ایک سپوت دشمن کے کئی دستوں پر حاوی ہوتا اور بھاری پڑتا ہے۔ جذبہ شوقِ شہادت پاک فوج میں بدرجہ اتم موجود ہے جس کے مناظر قیام پاکستان کے بعد سے آج تک دیکھنے میں آتے رہے ہیں‘ اورکیوں نہ ہو! جبکہ شہید کے رتبہ و درجے کے بارے میں اللہ قرآن کریم میں فرماتا ہے:
 ”تم ہرگز اللہ کی راہ میں شہید ہونیوالوں کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔رزق دیئے جاتے ہیں اور خوش باش ہیں“۔ لوگ سوچتے ہیں شہید کیسے زندہ ہیں اور ان کورزق کیونکر دیاجاتا ہے؟ قرآنِ کریم کے اس دعوے کے مظاہر اور شواہد اسلام کے ابتدائی دور سے آج تک دیکھنے میں آرہے ہیں۔اللہ کے برگزیذہ بندوں کا تو کفن بھی میلا نہیں ہوتا۔ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی ان کا جسدِ خاکی ترو تازہ اور معطر رہتا ہے۔ سید الشہدا سیدنا امیر حمزہؓ کی آخری آرامگاہ کے قریب سے نہر کھودی جارہی تھی۔لا علمی میں اچانک نہر کھودنے والے کا پھاوڑا آپ کے قدم مبارک پر پڑ گیا اور آپ کا پاﺅں کٹ گیا تو اس میں سے تازہ خون بہہ نکلا،حالانکہ آپ کو دفن ہوئے چالیس سال گزر چکے تھے۔ (حجة اللہ علی العالمین،من کرامات عبداللہ،ص615 ملخصا،مطبوعہ برکاتِ رضا ہند) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا جسم مبارک دو مرتبہ قبر مبارک سے نکالا گیا۔پہلی مرتبہ شہادت کے چھ ماہ کے بعد نکالا گیا، تو وہ اسی حالات میں تھے جس حالت میں دفن کیا گیا تھا (صحیح البخاری،کتاب الجنائز، باب ھل، یخرج ا لمیت، الحدیث 1351، ج ا، ص 454، دارالکتب العلمیة بیروت) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دوسری مرتبہ چھیالیس برس کے بعد اپنے والد ماجد( یعنی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ) کی قبر کھود کر ان کے مقدس جسم کو نکالا تو میں نے ان کو اس حال میں پایا کہ اپنے زخم پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔جب ان کا ہاتھ اٹھایا گیا تو زخم سے خون بہنے لگاپھر جب ہاتھ زخم پر ہاتھ رکھ دیا گیا تو خون بند ہوگیا اور ان کا کفن جو ایک چادر کا تھا وہ بدستور صحیح و سالم تھا۔(حجة اللہ علی العالمین،من کرامات عبداللہ،ص615 ،مطبوعہ برکاتِ رضا ہند) پوری دنیا سے آنے والے لاکھوں زائرین کی موجودگی میں دو صحابہ کرام حضرت حذیفہ الیمانی اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اجسام مبارک کی منتقلی کا یہ واقعہ دیکھا غالباً20ذو الحجہ1351 ہجری میں پیش آیا۔ جس کی تفصیل کچھ یوںہے کہ دو رات برابر شاہِ عراق کو صحابی رسول حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں تشریف لا کر ارشاد فرمایا کہ میرے مزار میں پانی اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار میں نمی آنا شروع ہوگئی ہے۔اس لئے ہم دونوں کو اصل مقام سے منتقل کرکے دریائے دجلہ سے ذرا فاصلے پر دفن کردیاجائے۔ (  کتاب الاستیذان، باب من القی لہ و سادة، الحدیث6273، ج4، ص72، دار الکتب العلمیة بیروت) چند روز قبل ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک خوبصورت 18 انیس سال کا نوجوان دکھایا گیا ہے جس کو 1979 میں روسی فوجیوں نے طورخم میں شہید کردیا۔ چند روز قبل اس کے باپ نے خواب میں دیکھا کہ اس کا بیٹا اسے پکار رہا ہے۔اُس نے خواب میںہی اپنے جسد خاکی کی نشاندہی کی۔ بوڑھا والد خاندان کو لیکراس مقام پر پہنچا‘ مٹی ایک طرف کی تو خوبرو بیٹے کا بالکل ترو تازہ او ر معطر جسد برآمد ہوا اس کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک مثال لانس نائیک محمد محفوظ نشانِ حیدر کے ورثاءاور گاﺅں والوں نے ان کو قبرستان سے الگ دفنا کر مقبرہ بنانے کا فیصلہ کیا‘ اس وقت تک ان کو شہید ہوئے چھ ماہ 13 دن ہو چکے تھے۔ گرمیوں کا موسم تھا‘ قبر کی کھدائی شروع ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی اور آسمان پر بادل چھا گئے۔ میت نکالی گئی تو تابوت سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے جو گھر سے برتن منگوا کر محفوظ کر دیئے گئے۔ نئی قبر کھودی گئی تو وہ بھی پرانی قبر کی طرح معطر ہو گئی۔ شہید کے ایک بھائی نے دیدار نہیں کیا تھا‘ اس نے علماءسے دیدار کی درخواست کی‘ دوسروں کو کچھ نہ بتانے کی شرط پر اجازت دیدی گئی۔ بعد میں والدہ کے کہنے پر دیدار کرنےوالے نے بتایا کہ شہید کی داڑھی تین انچ بڑھی ہوئی تھی جو شہادت اور تدفین کے وقت موجود نہ تھی۔ چہرے پر بشاشت اور طمانیت تھی۔ سچ کہا ہے کہ....
محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا
شہید کے زندہ ہونے اور اسے اس کی آخری آرامگاہ میں رزق دئیے جانے کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہوسکتا ہے۔ شہیدوں کو رزق ملتا ہے تو ان کے بدن کے زخموں سے خون جاری رہتا ہے‘ یہی یقین اور جذبہ ہمیں دنیاوی زندگی کے مقابلے میں ابدی زندگی پر فوقیت دینے پر آمادہ و مائل کرتا ہے۔ بغیر کسی منفعت اور لالچ کے
شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن 
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی

No comments:

Post a Comment