About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, May 12, 2013

ڈریس کوڈ....سرکاری ملازمین کی زندگی میں ”انقلاب“




نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کے نافذ کردہ ڈریس کوڈ سے سرکاری ملا زمین کی زندگی میں ایک انقلاب آچکاہے‘ ان کیلئے پاکستان بدل گیا اور نیا پاکستان بن گیا ہے۔انتخابات سے دو روز قبل ہی ان کیلئے وہ تبدیلی آگئی جس کے خواب میاں نواز شریف اور عمران خان پوری قوم کو دکھا رہے تھے ۔ ویسے بھی پاکستان میں 11مئی کو پہلا ووٹ کا سٹ ہونے کے ساتھ ہی تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ جس کے آثار انتخابی شیڈول کے جاری ہونے اور پانچ سالہ اقتدار کے ایک ایک لمحے کو کشید کرنے والوں کے گھروں کو چلے جانے سے نظر آرہے تھے ۔ گذشتہ روز پہلی تبدیلی تو دیکھنے میں آئی کہ نگران حکومت نے لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ اس نے پورا کر دکھایا۔ بجلی تالاب میں پانی کی طرح ذخیرہ نہیں کی جاتی، وہ ایک طرف پیدا ہوتی اور دوسری طرف استعمال کی جاتی ہے۔ پورے ملک میں اگر مسلسل 24گھنٹے لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے ذرائع موجود نہیں۔ کمی صرف نیتوں میں کھوٹ تھا اور کھسوٹ کا شاخسانہ تھا۔ قومی تہواروں پر موبائل فون بند رکھنے کی روایت آئینی مدت پوری کرنیوالی حکومت نے شروع کی ۔ 13مئی کے انتخابات یقیناً پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ تھا اس روز موبائل فون سروس بحال رکھی گئی۔ یہ تبدیلی کی نشانیاں ہیں۔عوام نے اپنی تبدیلی کی خواہش کو انتخابات میں بھرپور شرکت کر کے عملی جامہ پہنا دیا۔ کل کو جو بھی حکومت آئے۔ جس کی کارکردگی جیسی بھی گذشتہ پانچ سال کی طرح بھیانک، ہولناک اور اندوہناک نہیں ہو سکتی۔ قوم نے اسی امید اور اپنی طرف سے تبدیلی کی سپرٹ کے ساتھ پولنگ سٹیشنوں کا رخ کیا تھا۔ گو عمران خان کو وہ کامیابی نہیں مل سکی جس کی وہ امید کر رہے تھے ۔انہوں نے البتہ سٹیٹس کو توڑا اور نوجوانوں کو متحرک ضرور کر دیا۔ بشریٰ رحمٰن صاحبہ کہتی ہیں کہ ان کا بیٹا امریکہ سے ووٹ ڈالنے پاکستان آیا۔ ایک واقف کار کا بیٹا لندن سے تبدیلی کی خواہش کے ساتھ پاکستان آیا۔ ایک بھی ووٹ سے فرق پڑتا ہے ،ایک ایک کر کے ہی سو، ہزار اور لاکھ و کروڑ بنتے ہیں۔ امریکہ سے آنے اور جانے میں پانچ چھ لاکھ تو لگتے ہی ہوں گے۔ اس سے ووٹ کی قدر اور قیمت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اللہ ان انتخابات کو ملک و قوم کیلئے خیر و برکت کا باعث بنائے۔ جس کے باعث ملک میں تبدیلی اور عوامی زندگی میں انقلاب آنا ہے۔ ایسا انقلاب کھوسو صاحب نے ڈریس کوڈ نافذ کر کے سرکاری ملازمین کی زندگی میں برپا کر دیا ہے۔
ہمارے اساتذہ، خصوصی طور پر ہائی سکول کے استاد خالد لطیف خالد صاحب نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ ہمیں آداب زندگی بھی سکھایا کرتے تھے۔انہوں نے چائے میں کیک اور بسکٹ ڈبو کر تناول فرمانے کو آداب کے برعکس بتایا تھا۔ بعد میں اسکی مزید تائید و تصدیق ہوتی چلی گئی۔البتہ جنرل ضیا ءالحق ایسا کرتے تھے شاید وہ آداب سے ناواقف تھے یا اسے بھی آئین کا حصہ سمجھ لیا۔ لکھنوی خاندان نے رشتے سے اس لئے انکار کردیا کہ لڑکے کونسبت کے بعد چائے میں بسکٹ بھگوتے دیکھ لیا گیا تھا۔ ہمیں اساتذہ نے یہ بھی بتایا کہ تسمے والے بوٹ ہی جوتوں میں شمار ہوتے ہیں ، بند جوتا بغیر تسمے کے چپل میں شمار ہوتا ہے۔ چپل اور بند جوتے کے ساتھ جرابیں پہننا اتنا ہی غیر مہذب ہے جتنا تسمے والے بوٹ بغیر جرابوں کے پہننا۔ پشاوری چپل خان صاحبان کے کلچر کا حصہ ہے۔ کلچر پر تنقید بذات خود جہالت ہے۔ وہ اگر سردی سے بچنے کیلئے چپل کے ساتھ جرابیں پہنتے ہیں تو حرج نہیں البتہ کوئی دوسرا ایسا کرے تو مہذب اور غیر مہذب والا کلیہ اس پر فٹ ہو گا۔ مولانا کوثر نیازی کے بقول وہ ایک سفارتخانے کی تقریب میں پشاوری چپل پہن کر چلے گئے تو بھٹو صاحب نے آداب محفل بتا دیئے اس کے بعد وہ بوٹ استعمال کرتے رہے تاآنکہ بوٹوں والے آگئے۔
 ایک پیرا ملٹری فورس کی یونیفارم کا حصہ پشاوری چپل ہے ۔شلوار قمیض کے ساتھ یہ چل جاتی ہے۔ ان کیلئے چیل کو یونیفارم کا حصہ شاید ہتھیار کے طور پر بنایا گیا۔ گھمسان کی جنگ میں اسلحہ ختم ہونے پر بوٹ کی نسبت چپل اتارنا آسان ہے۔ پتلون کے ساتھ ہمیشہ تسمے والے بوٹ پہننے کی تاکید کی گئی۔ 50 روز کے حکمران کھوسو صاحب کے کو کوئی خواب نظر آیا یا کسی نے کان میں کچھ پھونکا کہ ڈریس کوڈ نافذ فرما دیا جس میں کہا گیا ہے۔” سرکاری دفاتر میں صرف سفید یا لائٹ کلر کی شرٹس پہننے کی اجازت ہو گی، شلوار قمےض کے ساتھ واسکٹ پہننا لازمی ہو گا۔ خواتین سینڈل پہن کر دفتر آئیں گی جبکہ مردوں کے لئے بغیر تسموں کے جوتے پہننا لازمی ہوں گے“۔
خاکروب سے چیف سیکرٹری تک سرکاری ملازم اب اس ”کوڈ آف کنڈکٹ“کے پابند ہیں۔اب ان کیلئے تسمے والے بوٹ پہننا شجر ممنوع کی حیثیت رکھتا ہے۔ خاکروب، چپڑاسی چوکیدار اور اوپر تک سفید شرٹ پہنیں گے۔ اسکے ساتھ پتلون لازمی قرار نہیں دی گئی۔ جس کا جی چاہے شلوار پہنے یا دھوتی باندھے اوپر شرٹ ہونی چاہئے وہ بھی سب کیلئے ایک رنگ کی۔ کسر اب رہ گئی کہ کام شروع کرنے سے قبل دعا ۔ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری، بھی پڑھی جایا کرے۔ ہیلمٹ کا سٹاک نہ نکلا تو یار لوگوں نے اس کو لازمی کرا لیا۔ اب نہ جانے کس کی سفید شرٹوں کا سٹاک گل سڑ رہا تھا۔ سرکاری ملازم ڈریس کوڈ کے نفاذ پر شکرانے کے نفل ادا کر رہے ہیں کہ ان کو ڈیوٹی آور کے دوران ایک ہی قسم کے کھانے کا پابند نہیں کر دیا گیا۔ مٹی کے برتنوں کے سوا دیگر برتنوں کا استعمال ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔ نگران وزیر اعظم حضور! اپنے پیشے کی طرح تمام سرکاری ملازمین کے دو نہیں تو کم از کم ایک ہی درجہ بڑھا دیتے تو ڈریس کوڈ کے نفاذ پر ملازمین کے منہ سے نکلنے والی آہ یقیناً واہ میں بدل جاتی لیکن اب وہ کراہ رہے ہیں۔ تسمے والے بوٹوں میں ماڈی فیکیشن کوئی مشکل کام نہیں تسمے نکال کر الفی لگا دیں یا سوئی سے سی دیں۔ اس پر کھوسو خوش ہو گا۔ نظام سقہ بھی اس ایجاد پر قہقہہ بار ہو گا۔ خواتین شکر کریں ان کو صرف سینڈل پہننے پر پابند کیا ہے۔ ”شٹل کاک ’‘ٹوپی برقعہ کا آرڈر لگا دیتے تو ان کو کون پوچھنے والا تھا۔ سرکاری ملازموں کیلئے اے سی بھی حرام کر دیا گیا ہے۔ پہلے کام بھی ہوتا تھا اور ٹھنڈی فضا میں آرام بھی۔ اب آرام ہو گا نہ کام۔ شلوار قمیض کے ساتھ واسکٹ پہننے کا حکم ہے۔ ایسی گرمی میں تو کچھا اور بنیان کام دیتے ہیں۔ قبلہ! لوگوں نے اب گھر بجلی اور کچن گیس کی سہولت کے مطابق بنائے ہیں دونوں نہیں ہوتیں تو گھر عذاب اور کچن جہنم بن جاتا ہے۔ سرکاری عمارتیںبھی جدید سہولتوں کے پیش نظر بنائی گئی ہیں۔ اے سی بند کرنا ہے تو ان دفاتر کو گراﺅ نئے بناﺅ جن کے چاروں طرف کھڑکیاں ہوں اوران پر بوریاں بھگو کر لٹکا کے حرارت اور حبس سے بچا جا سکے۔ سرکاری ملازمین کو تبدیلی مبارک ہو۔ کھوسو صاحب تین چار سال وزیراعظم رہ جاتے تومحمد شاہ تغلق بھی ان کے ہاتھ پر بیعت کر لیتا۔




No comments:

Post a Comment