About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Tuesday, September 10, 2013

دل کا نگردل کا نگر

دل کا نگر


08 ستمبر 2013

 دل کا نگر
آصف علی زرداری بڑے شاہانہ جاہ وجلال اور تنومند و توانا اپنی پیپلز پارٹی ساتھ ایوانِ صدر داخل ہوئے۔پانچ سال پورے کرنے پر تاجِ صدارت تج کرصدارتی محل کو چھوڑا تونیم جاں پارٹی کندھے پر تھی۔پانچ سال میں بہت کچھ بدلامگر سیاستدانوں کی جبلت اور عوام کی قسمت نہیں بدلی۔عمران خان چلّاتے رہے کہ ” زرداری شریف “آپس میں ملے ہوئے ہیں۔لوگوں نے اسے اتنی ہی اہمیت دی جتنی امریکہ ڈرون حملوں پر پاکستان کے احتجاج کو دیتا ہے ۔5ستمبر 2013ءکو نواز شریف کا آصف زرداری کے اعزاز میں ظہرانہ اوردونوں کے ایک دوسرے کیلئے پیار بھرے جذبات اور نیک خواہشات اس امر کا علانیہ اظہار تھا کہ ” ہم ایک ہیں“۔نواز شریف نے ظہرانہ دیا تو اس میں قُرب کی باتیں کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہ تھی۔یہ پانچ سالہ عوامی کَرب کا رونا رونے کا سماں نہیں تھا۔عوام کے کَرب اوران پر روا رکھے جانے والے پانچ سالہ جبر کا احساس ہوتا تو ظہرانے کا اہتمام ہی نہ کیا جاتا۔آپس کے تعلقات اگر اس قدر خوشگوار تھے تو پبلک پلیٹ فارم پر زرداری صاحب کوچور،ڈاکو، لٹیرا،علی بابا چالیس چور،زربابا اورتمام بحرانوں کا ذمہ دار قرار دے ان کے پیٹ سے قومی خزانے سے لوٹی ہوئی پائی پائی برآمد کرنے کے گلاپھاڑ نعروں اور مائیک توڑ دعووں کی کیا ضرورت تھی؟
نواز شریف اور بے نظیر بھٹوبھائی بہن بن گئے تھے۔نواز شریف اورزرداری نے بھی بھائی بھائی بن کے دکھا دیا۔دونوں میں بہت سی قدریں مشترک ہیں۔اپنے محلات کی زیبائش عوامی صبر کی آزمائش،اپنی زندگی میں آسائش قوم سے کڑوی گولی نگلنے کی فرمائش۔ خارجہ معاملات میںبھارت کی دھمکیوں پر ”دَڑ وَٹ“ پالیسی،ڈرون حملوں پر”نِچھ مار ڈپلومیسی“ ، دہشت گردوں کی للکارپرٹانگوں میں لرزش اور قانون بدلنے پر آمادگی، اپنے سمیت خاندانوں کی اوباما طرز کی حفاظت ” ایک دن کی زندگی پر سو سالہ زندگی کو ترجیح دینے پر ایمان کی دلیل ہے۔
پی پی قائدین نے معاملات پر گرفت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ان کے جاں نشینوں کے قابو میں نہیں آرہے ۔کارکردگی کی خوشبو پھیلانے کے لئے نو دن ہی کافی ہوتے ہیں‘ جبکہ ان کو اقتدار میں آئے سو دن ہوگئے اس دوران عوام کے دکھوں کا کیا مداوا ہوا؟ دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت ” جو بچا ہے سب سمیٹ لو“ کے کلیے پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ اعلیٰ قیادت پیشروﺅں کے نقشِ قدم پر چل نکلی تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔عوامی عدالت تو پانچ سال بعد لگے گی۔ اس وقت تک عوام احتساب کرنے جوگے ہی نہیںہوں گے۔زرداری صاحب نے کہا ” پانچ برس سیاست نہیں ہوگی۔“ زرداری صاحب پابندی کے باوجود ایوانِ صدر میں بیٹھ کر بھی سیاست کرتے رہے۔ سیاست نہیں کرنی تو لاہور میں ڈیرے لگانے کا عزم بالجزم کیسا؟دلوں میں گھر بنانے کیلئے کسی شہر یا علاقے میں ڈیرے ڈالنے کی نہیں‘ بلکہ دلوں کے نگر آباد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعد اس کے صدر نے بھی اپنی مدت پوری کرلی‘ یہی اس پارٹی کا سب سے بڑا کریڈٹ ہے جس میں اس کا اپنا کوئی کمال نہیں۔آج پیپلز پارٹی اور زرداری صاحب کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے بڑے تذکرے ہیں۔ اس خبر پرشاید کسی کی نظر نہیں کہ تنویر زمانی نے زرداری صاحب سے شادی کا دعویٰ کرکے اس کی دھومیں مچا دی تھیں۔ زمانی کی عمر اس وقت یعنی فروری 2011ءمیں 40سال تھی ۔ ۔میڈیا نے شادی کے حوالے سے تردید یا تصدیق کرنے کو کہا تو امریکہ میں مستقلاً مقیم زمانی نے فرمایا۔ ”میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہوں گی۔“
دلوں کے نگر اُجاڑنے والی حکومت کوفرینڈلی اپوزیشن میاں نواز شریف اور جنرل کیانی نے نہیں گرنے دیا۔اب زرداری نے نواز شریف ہی کاقول زریں دہرا دیا ہے ”حکومت کو گرنے نہیں دیں گے ۔“ ممکن ہے اس وعدے کو وہ قرآن و حدیث سمجھ لیں۔ کوئی نئے حکمرانوں کے کان میں پھونک نہ ماردے کہ اپنے سر پر تاج سجائے ،عوام کو سبز باغ دکھائے اوران کے سروں پر مہنگائی لاقانونیت و لوڈشیڈنگ کی تلوار لہرائے رکھنے کیلئے جنرل کیانی کے عہدے میں توسیع کرتے رہیں کیونکہ وہ آزمودہ اورپیشہ ور سپاہی ہے۔
نئے حکمران شیر ہیں۔ ایسا شیر جو صرف جھاڑی پھلانگ سکتا ہے لیکن عوام اس سے قدیم برگد کی دوسری جانب کود جانے کی توقع کر رہے ہیں۔کمٹمنٹ میں زرداری سا طرز عمل ہے ۔کیبنٹ ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ میں طے کر کے اُٹھے کی شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات ان کے ہتھیار پھینکنے پر ہی ہوں گے اب اس معاملے پر اے پی سی بلا لی ہے ۔کراچی میں امن کی بحالی کیلئے لاﺅ لشکر کے ساتھ گئے۔آئی جی کو بدلنے کے اعلان کیا‘شرجیل میمن کی ایک للکار ہی بھاری پڑ گئی ۔ تبادلے اور پھر اسکی منسوخی کا مشورہ کس نے دیا؟فاروق ستار کو کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی دعوے کس کے کہنے پر دی گئی اور پھر کس کے کہنے پر واپس لے لی گئی ۔جن کیخلاف اپریشن ہونا ہے‘ ان سے مشورہ کیا جارہا ہے ۔اب وہی رینجر ز ہوگی‘ وہی پولیس، 86سالہ ”مردِآہن“ کی زیر کمان عزم قدیم کے ساتھ جدید ہتھیاررکھنے والوں کیخلاف اپریشن کریگی۔نتیجہ کیا ہوگا ؟وہی جو حلقہ پی پی 150میں دوبارہ گنتی کا ہوا۔ عمران خان کا امیدوار دوبارہ گنتی میں پہلے سے بھی زیادہ مارجن سے ہار گیا۔۔۔سیاست اسی ڈگر پر رواں رہی،نواز ،زردای بھائی بھائی بن کر بھی عوام کے دلوں کا نگر آباد نہیں کر سکیں گے۔اگلے الیکشن ضروری نہیں کہ پانچ سال بعد ہی ہوں۔جب بھی ہوئے عوام ضمنی ا لیکشن کی تاریخ دہرا دیں گے ۔جس میں نواز لیگ نے 33فیصد نشستیں حاصل کیں جبکہ 11مئی کے انتخابات میں چپڑ کناتیوں کی سیٹیں اور بن بلائے باراتیوں کو ملا کر کامیابی کی شرح60 فیصد کے قریب تھی ۔عمران کی اہلیت اور مقبولیت میں مزید اضافہ نہ بھی ہو پی پی پی کی طرح ن لیگ کی بھی زیرو ہوگئی جس کا وہ پوری ایمانداری سے اہتمام کررہی ہے تو فائدہ کس کو ہوگا؟میاں صاحب بشکیک میں ہونے والی شنگھائی کانفرنس میں شاید لاہور میں ویک انڈ منانے کے شوق میں روسی حکام کے پُر زوراصرار پر بھی خود شرکت نہیں کررہے۔حکمرانی میں طرز خسروی واکبری یونہی رہا توعوامی غضب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔۔۔اور پھر
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
پچھتاو¿گے، سنو ہو، یہ بستی ا±جاڑ کر
پنجاب اور لاہور کسی دور میں پیپلز پارٹی کی سیاست کا گڑھ تھا ۔مسلم لیگ کے کرتا دھرتا یہ ذہن میں  کر نہیں مارا جا رکھ کر سیاست کریں کہ میدان ہمیشہ ایمپائروں کو ساتھ ملاسکتا۔

No comments:

Post a Comment