About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, October 2, 2011

امریکہ اور اس کے غلاموں سے وقتِ نجات

یکم اکتوبر 2011


امریکہ اور اس کے غلاموں سے وقتِ نجات
 فضل حسین اعوان

 ہم پاکستانی عذاب میں مبتلا،مصائب کا شکار اور کرب و الم کی سولی پر چڑھے ہیں تو اس کا سبب پاکستان میں امریکہ کی جارحانہ پالیسیاں اور اس کے غلاموں کی حکمرانی ہے۔ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے امریکی پالیسیوں اور اس کے غلام حکمرانوں سے نجات ضروری ہی نہیں،ناگزیر بھی ہے۔دونوں سے نجات جس قدر جلد ممکن ہو، ہوجانی چاہئے ورنہ قوم کے مقدر میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں آئیگا۔
 حکومت نے ساڑھے تین سال مکمل کرلیے۔ اس کے اعمال کے لمحے لمحے کا حساب موجود ہے۔ اس میں سے محض دس منٹ نکال کر دکھا دیجئے کہ اس حکومت نے انسانیت کی خدمت کی ہو۔انسانوں کی خدمت کی ہو۔ پاکستان کی خدمت کی ہو۔ پاکستانیوں کی خدمت کی ہو۔ان کے ایجنڈے میں قومی و عوامی خدمت شامل ہی نہیں۔ ان کا ایجنڈہ ہی کچھ اور ہے۔ انگریز کے بارے میں مشہور تھا ڈیوائڈ اینڈ رول، ہمارے جمہوری حکمرانوں نے مقولہ اپنا لیا یونائٹ اینڈ لوٹ۔ان کی کہانی لوٹ مار سے شروع ہوکر لوٹ مار پہ ختم ہوتی ہے۔وطنِ عزیز میں گورننس کہاں نظر آتی ہے؟۔ حکومت کی کہیں پریزنٹیشن ہے نہ ری پریزنٹیشن! قرضوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ خزانہ خالی، ٹیکسوں کی بھر مار، مہنگائی کا طوفان، بجلی موجود نہ گیس، ذاتی اکاﺅنٹس بھرے جارہے ہیں۔سات نسلیں سونے کے لقمے بھی کھاتی رہیں تو دولت ختم ہونے میں نہ آئے۔ پھر بھی بس نہیں۔ مزید حرص اور طمع، عوام کے منہ سے روکھا سوکھا نوالہ بھی اچکنے کی پھرتیاں۔ لوٹ مار پہ ہی اکتفا کیا ہوتا تو قوم کو کسی قدر قرار آجاتا جہاںتو قومی خود مختاری کو بھی تیاگ دیا گیا۔ امریکی پالیسیوں کے نفاذ کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ایسی لیڈر شپ کبھی دیکھی نہ سنی۔ قیادتیں قوموں کو لیڈ کرتی ہیں۔ ہماری قیادت فوج کی طرف دیکھتی ہے، امریکہ کے خلاف جنرل کیانی گرجتے ہیں تو وزیراعظم گیلانی ان کی تان پر برستے ہیں۔ کیانی نرم لہجے میں بات کرتے ہیں وزیراعظم امریکہ کے آگے بچھے بچھے جاتے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے امریکیوں نے الزامات اور دھمکیوں کی یلغار کی تو فوجی قیادت نے سخت لب و لہجہ اختیار کیا، وزیراعظم گیلانی نے دہلی پر جھنڈا لہرانے اور لنکا ڈھانے کے انداز میں تمام سیاستدانوں کو فون کیا۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کو امریکہ سے فوری وطن واپسی کی کال دی لیکن اگلے ہی لمحے پیں اور چیں بول گئی۔ کیا ان میں وہ قائدانہ خوبیوں کی پرچھائیں بھی نظر آتی ہے جن کا تذکرہ اقبال نے لیڈر شپ کیلئے کیا ہے ۔
نگہ بلند، سخن دلنواز،جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لئے
 امریکہ کی جنگ لڑتے لڑتے پاکستان تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔ قوم و ملک ہر قسم کے بحران مسلط ہیں۔ اس پر ہمارے حکمرانوں کا ماتھا کبھی شکن آلود ہوا نہ اس پر عرقِ ندامت کی لکیر نمودار ہوئی۔ان کے سات آٹھ لاکھ کے سوٹ پر سلوٹ پڑی نہ ٹائی ڈھیلی ہوئی۔ اگر کسی میدان میں آگے ہیں تو بیان بازی، اچھل کود اور ایک ٹہنی سے دوسری ٹہنی پر چھلانگیں لگانے میں۔کوئی ٹھوس پالیسی نہ حکمتِ عملی۔ چین اور ایران مخلص دوست بن کر شانے سے شانہ ملا رہے ہیں۔ ان کی طرف سے حوصلہ بڑھانے پر تھوڑی ہمت پکڑتے ہیں لیکن ساتھ ہی حوصلہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ امریکہ کا خوف ہے یا ڈالروں کا خمار، یا دونوںکا اثر، زباں پر جعلی جرا ¿ت اظہار اور سرتسلیم خم۔ایسے حکمرانوں سے بعید نہیں ایران اور چین پر بھی ڈرون برسوا دیں۔ معرکہ حق و باطل کی بات کی جاتی ہے۔ خدا نہ کرے موجودہ حکمرانوں کے دور میں ایسا ہو۔یہ تو دشمن کے ہاتھ اپنا اسلحہ بھی فروخت کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ان کا تو ایجنڈا ہی مال بنانا ہے۔ جیسے بھی ہو۔ ان کا ضمیر زندہ ہوتا غیر ت کی کوئی رمق ہوتی تو بے گناہ عافیہ صدیقی یونہی امریکہ کی جیل میں نہ پڑی رہتی۔
 ساڑھے تین سال میں آخر اس حکومت نے کونسا کام کیا جس کی تحسین کی جائے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ اس حکومت کا دیا ہوا نیا تحفہ ہے۔2کھرب روپے کے رینٹل پاور پلانٹ کس کس کے پیٹ میں اتر گئے؟۔ کوئی حساب کتاب نہیں۔ وزیراعظم صاحب نے نیا فلسفہ بگھارا پرویز اشرف کو کہا سیاست میں ڈیڈ لائن نہیں دیتے ۔خود اپنی حکومت کی پانچ سالہ ڈیڈ لائن پر جمے ہوئے ہیں۔ نیت میں فتور نہ ہو، نیت نیک ہوتو ہر مشکل اور بحران گردِ راہ ثابت ہوسکتا ہے لیکن ان کا تو ایجنڈا ہی کچھ اور ہے جس کی کامیابی سے تکمیل جاری ہے۔آخر کب تک؟
 کسی کو تو قدم بڑھانا ہوگا۔جمہوریت بڑی اہم ہے لیکن جمہوریت کو ناسور بنانے والے قابل معافی ہیں؟۔پارلیمنٹ کی بالادستی کے زمزمے الاپنے والوں کو کیا پارلیمنٹ کی ڈرون حملوں کے خلاف قراردادیں بھول گئی ہیں۔ ان قرار دادوں کی موجودگی کے باوجود ڈرون حملے جاری ہیں۔ ایسی بے توقیری پر پارلیمنٹرین خاموش ہیں۔ جرنیل کئی بار کہہ چکے کہ اب ایسی کارروائی ہوئی تو جواب دیں گے۔کب؟۔ اے پی سی مزید ایک سو بلا لیں ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ ٹھوس فارن پالیسی بنائیں ۔ امریکی الزامات اور دھمکیوں پر باسی کڑی میں اُبال اور چائے کی پیالی میں طوفان جیسے بیانات پالیسی نہیں۔ اب اس روش کو چھوڑنا ہوگا۔ سیاسی قیادت تو امریکہ کے سامنے ہتھیار پھینک چکی۔ فوج سے امید ہے سرنڈر نہیں کرے گی۔ قوم ساتھ ہے فوج عوامی امنگوں کے مطابق پالیسی ترتیب دے۔اس کا تو ماٹو ہی جہاد فی سبیل اللہ ہے۔دشمن کے خلاف جہاد۔اب جہاد کا وقت آنہیں گیا؟۔ امریکہ کھلا اعلان جنگ کر رہا ہے۔اگر وہ اپنے قدم آگے بڑھاتا ہے تو پاک فوج بھی پیش قدمی کرے....
 قدوگیسو میں قیس و کوہکن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں ،وہاں دارورسن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعان کی ہوا خواہی
اسکے یوسف کی بوئے پیرہن کی آزمائش ہے

No comments:

Post a Comment