About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, June 17, 2012

میڈیا کی کالی بھیڑیں


اتوار ، 17 جون ، 2012

میڈیا کی کالی بھیڑیں
فضل حسین اعوان 
آج میڈیا کا بھی اسی طریقے سے ”میڈیا ٹرائل“ ہو رہا ہے۔ جس طرح کسی اور کا ہوتا رہتا ہے۔ سیاستدان عموماً میڈیا کے زیر عتاب رہتے ہیں۔ یہ پوچھنے میں وہ حق بجانب ہیں کہ ”اب بتا ¶“؟۔ ملک ریاض جن صحافیوں کو بلا کر چیف جسٹس کے بیٹے کے خلاف کرپشن کے ثبوت دکھاتے رہے ان میں اکثر جہاندیدہ صحافی ہیں۔ ان سے صحافتی تقاضے پورے کرنے میں یقیناً کوتاہی ہوئی۔ وہ اپنی پوری دانشوری کے باوجود ٹریپ ہوئے۔ میڈیا میں ریس یا مقابلے کی فضا کے باعث ان سے کوتاہی ہوئی یا کوئی اور عوامل تھے تاہم سپریم کورٹ میں سرزنش میڈیا میں ہی ملامت اور کسی کے لئے استعمال ہونے کے بعد جھٹکا لگا۔ خدا کی قدرت دیکھئے ”معصوم“ صحافیوں کو استعمال کرنے والے‘ چیف جسٹس کے خلاف سازش کے جال بننے والے کردار اڑتالیس گھنٹے بعد ہی بے نقاب ہونا شروع ہو گئے۔ انسان جتنا زیادہ بولتا ہے اتنی ہی زیادہ غلطیاں کرتا ہے۔ ملک صاحب عدالت میں پیشی کے بعد پریس کانفرنس نہ کرتے اور 13 جون کو دنیا نیوز کو انٹرویو نہ دیتے تو شاید اپنے ہی جال میں اتنا جلد نہ پھنستے۔ اب دنیا نیوز والے کہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ یقیناً سازش ہوئی لیکن اس سازش نے چیف جسٹس کے خلاف سازش کو بے نقاب کر دیا۔ عبدالقادر گیلانی کا بریک کے دوران فون آنے سے بہت کچھ واضح ہو گیا۔ بے تکلفی ملاحظہ فرمائیے۔ عبدالقادر کو گھر والے پیار سے بنیّ کہہ کر پکارتے ہیں ملک صاحب نے بھی کہا ”بنیّ بیٹا کیسا جا رہا ہے“
دنیا نیوز کے ساتھ سازش کرنے والے کوئی اور نہیں ان کے اپنے ہی ہیں۔ انہوں نے چوری کا مقدمہ درج کرا دیا ہے۔ ایسے مقدمہ کا مقصد چور کی گرفتاری سے بھی زیادہ مسروقہ مال کی برآمدگی ہوتا ہے۔ چور پکڑا جائے تو برآمدگی کیا ہو گی؟ چوری اپنی جگہ جرم ہے۔ آف دی ریکارڈ گفتگو کو زیر بحث لانا سوشل میڈیا پر چلا دینا غیر اخلاقی فعل ہے۔ مجرم کو اخلاقیات سے کیا لینا۔ جس نے بھی یہ کام کیا جس نے کرایا اس کا مقصد جو بھی ہو‘ اس سے چیف جسٹس نے سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ یہ ثابت ہو گیا کہ پراپرٹی ٹائیکون بھی کسی کے اشارے پر چل رہا تھا۔ دنیا چینل کے مالکان کی بدنامی ہوئی اور سب سے بڑھ کر کہ میڈیا شدید تنقید کا نشانہ بن گیا اور میڈیا گروپوں کے اندر کے اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔ میڈیا کی بدنامی میں سب سے بڑا اور بُرا کردار صحافتی ابجد سے بھی ناواقف میڈیا مالکان کا ہے ان میں سے کوئی ڈرگ فروش ہے کوئی دوائی فروش اور کوئی تعلیم فروش اور ان کے اکثر ملازمین کا بھی ہے‘ جو ان اداروں میں آنے کے بعد صحافی کہلائے۔ چند سال قبل میڈیا کی ترقی کی نئی راہیں کھلیں‘ سینکڑوں چینل اور درجنوں جرائد کا اجرا ہوا۔ ملک میں ان کی ضروریات کے مطابق ٹیلنٹ موجود نہیں تھا۔ مالکان نے کام چلانے کے لئے ایسے لوگوں کو بھی رکھ لیا جن کی صحافتی سطح پر کوئی تعلیم ہے نہ تربیت۔ ان دو کے لئے تجربے کی بات بعد میں ہوتی ہے۔ ڈاکٹری‘ معاشیات اور وکالت میں ناکام ہونے والے بھی اس شعبہ میں در آئے۔ خواتین اینکرز کے لئے عموماً معیار اہلیت‘ صلاحیت اور حسن کارکردگی کے بجائے ظاہری حسن ٹھہرا۔ نوزائیدہ میڈیائی اداروں میں کوئی اِدھر سے ٹپکا کوئی اُدھر سے ٹپکا۔ پیشہ ورانہ صلاحیت کے حامل بہت کم لوگ ان اداروں میں گئے دراصل ان چند ایک کے دم قدم سے ہی یہ ادارے چل رہے ہیں۔ جن میں جینوئن صحافی زیادہ میں وہی عروج پر ہیں۔ باقی مکھی پہ مکھی مارتے ہوئے اصل صحافت کے حسن کو بھی گہنا رہے ہیں۔ دنیا نیوز کے ساتھ بھی ہاتھ غیر صحافیانہ پس منظر کے حامل صحافت کے نام پر دھبہ قسم کے نام نہاد صحافیوں کے اوور کانفیڈنس ہونے کے باعث ہوا ہے۔ بغیر تربیت کے صحافت کی دنیا میں آنے والا ایسے ہی ہے جیسے اندھے کو کھوتے پر بٹھا دیا جائے جو قیامت تک اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا اوپر سے من بھی میلا ہو تو وہ صحافی نہیں کالی بھیڑ بن جاتا ہے۔ آج میڈیا ان چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے ہی بدنام ہے۔
ایڈمرل منصور الحق نے کرپشن کی انتہا کر دی اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری بحریہ کرپٹ ہے مشرف کی بزدلی اور اس کے مظالم پر فوج کو بزدل اور ظالم قرار نہیں دیا جا سکتا اسی طرح چند کالی بھیڑوں کے کئے دھرے کو صحافت کے کھاتے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ آج ملک ریاض سے مفادات حاصل کرنے والوں کے نام سامنے آرہے ہیں۔ یقیناً یہ لسٹ اور اس میں دئیے گئے اعداد و شمار کی صحت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا پھر بھی دھواں وہیں سے اٹھے گا جہاں آگ لگی ہو۔ صحافی حکومت کے پاس یا کسی پراپرٹی ڈیلر کے پاس قلم بیچتا ہے تو وہ بھی بے ضمیر اور کالی بھیڑ ہے۔ اس کا بھی نام نہاد صحافیوں کی طرح محاسبہ ہونا چاہئے۔ خواہ کتنا بڑا صحافی اور قلمکار ہو۔
ملک ریاض کے ڈاکٹر ارسلان پر عائد کئے گئے الزامات‘ پریس کانفرنس اور انٹرویو کے بعد ملک ایک بار تو ہل کر رہ گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ یہ سارا ڈرامہ میمو کمشن رپورٹ سے توجہ ہٹانے کے لئے رچایا گیا جس میں حسین حقانی کو غدار قرار دیا گیا ہے اور میمو سے جڑے دیگر کردار بھی جلد بے نقاب ہوں گے۔ جب اسی ماہ کے آخر میں سپریم کورٹ میں یہ کیس چلے گا۔ ملک ریاض کی طرف سے اڑائی گئی گرداب آہستہ آہستہ بیٹھ رہی ہے۔ ملک نے بم کو لات ماری تو اس کی زد میں تو انہوں نے آنا ہی تھا ساتھ سیاسی اور حکومتی حلقوں نے بھی سر جوڑ لیا۔ کل ججوں کا چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں اجلاس بھی ہو گیا یہ تشویشناک صورت حال کے باعث بلایا گیا تھا جو اسی تشویشناک حالت میں شروع ہوا تاہم دنیا والوں کی آف ایئر ریکارڈنگ اسی اجلاس میں لائی اور پیمرا کی اعلیٰ شخصیت بلائی گئی تو اجلاس کے اختتام تک ججوں کی تشویش ختم ہو چکی تھی۔ وہ اجلاس سے گئے تو پرسکون تھے۔ حکومت اور اس کے اتحادی مل بیٹھے۔ ججوں نے سر جوڑ لئے۔ لیکن کور کمانڈروں کا کوئی اکٹھ نہیں ہوا۔ کیا ان کو اس معاملے میں تشویش نہیں تھی؟ بہرحال کالی بھیڑیں جہاں بھی ہوں میڈیا میں سیاست میں‘ بیورو کریسی اور جوڈیشری میں حتیٰ کہ فوج میں بھی ان کو ان کے اصل مقام اور انجام تک پہنچا دینا چاہئے۔

No comments:

Post a Comment