About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, June 27, 2012

”دُھوڑ پٹ“ وزیراعظم


 جمعرات ، 28 جون ، 2012




”دُھوڑ پٹ“ وزیراعظم
فضل حسین اعوان 
”وزیراعظم“ یوسف رضا گیلانی کی وفاداری، وابستگی اور پیوستگی، صدر آصف علی کی ذات کے ساتھ تھی۔ وہ ایوان صدر کو ہی طاقت، اختیارات کا منبع اور زرداری صاحب کو اپنی قسمت کا یزداں سمجھتے رہے۔ 18ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کو جو اختیارات دئیے گئے ہیں‘ اسکے تناظر میں آصف علی زرداری کا بطور شریک چیئرمین‘ ہر رکن کی گردن پر انگوٹھا ہے۔ حالانکہ زرداری صاحب اس پارٹی کے سربراہ ہی نہیں جو برسراقتدار میں ہے۔ کائرہ بھی یہی کہتے ہیں ‘ وہ اس لئے کہ مشرف نے 2002ءکے انتخابات سے قبل تمام پارٹیوں کی رجسٹریشن لازم قرار دی تھی۔ پی پی پی کی قیادت نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے نام سے پارٹی رجسٹرڈ کرائی، اسی نے 2002 اور 2008 کے الیکشن میں حصہ لیا جس کے صدر مخدوم امین فہیم اور سیکرٹری جنرل وزیراعظم راجہ پرویز اشرف ہیں۔ پی پی پی کے پارلیمنٹرین مخدوم امین فہیم کے ڈسپلن میں آتے ہیں کسی اور کے نہیں۔ چونکہ سب کو طاقت کے اصل مرکز کا علم ہے اس لئے بلاچوں و چراں آصف علی زرداری کی بارگاہ میں سلامی پر مجبور ہیں۔ قانونی طور پر آصف علی زرداری کسی پارٹی کے چیئرمین نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا تو الیکشن کمشن کے کاغذوں میں وجود ہی نہیں۔ 
یوسف رضا گیلانی ‘آصف علی زرداری کو طاقت کا مرکز مانتے رہے اور مستقبل میں ایک بار پھر وزیراعظم ہا وس یا ایوان صدر میں براجمان ہونے کا خواب دیکھتے ہوئے ان پر نچھاور ہو گئے۔ گیلانی یہ بھول گئے کہ طاقت کے بڑے مرکز کے ساتھ ساتھ طاقت کی جڑیں اور کونپلیں بھی ہوتی ہیں‘ جن کی آبیاری بھی لازم ہے۔ وہ ایوان صدر میں تو اب بھی موجود ہیں لیکن نوکروں کے خالی کرائے گئے کمروں میں، یہاں نوکروں کی طرح ہی رہا جا سکتا ہے تاہم یہ بھی ملک اور قوم کےلئے نیک شگون ہے۔ گیلانی اقتدار سے گئے تو انکے دل میں قوم کا درد، چہرے پر اقتدار سے رخصتی کا کرب اور جیب میں قوم کے خون پسینے کی کمائی تھی۔ وزارت عظمیٰ سے ان کی چُھٹی ہوئی، راجہ پرویز اشرف بھی اسی منزل کے مسافر ہیں وہ گیلانی کو زرداری کی طرح ہی ”سنہرے کارناموں“ پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وہی کچھ کرنے کا عہد کر رہے ہیں جو گیلانی نے کیا، کل وہ بھی ایوان صدر میں ملازموں کے مزید 4 کمروں کے مکین ہو سکتے ہیں۔ اچھا ہے کل شب خون مارا جاتا ہے تو کھربوں ڈالر کی ”آسامیاں“ ایک ہی چھت کے نیچے سے ”برآمد“ ہو جائیں گی۔ 
گذشتہ روز کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سحری اور افطاری کے دوران لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، پتہ کرنا چاہئے کہ ان کے ہاں رمضان شروع تو نہیں ہو گیا؟ روزوں میں تو چوبیس پچیس دن پڑے ہیں یہ رمضان ان کے اقتدار میں رہتے ہوئے آئے گا بھی؟ ایک طرف راجہ کہتے ہیں کہ جو گیلانی نے کیا وہی کروں گا، گویا بجلی و گیس کی قلت کا عذاب جاری رہے گا، لاقانونیت، بے روزگاری کا خاتمہ نہیں ہو گا، لوٹ مار میں شاید گیلانی کا ریکارڈ توڑنے کی بھی کوشش کی جائے۔ دوسری طرف راجہ کہتے ہیں کہ وہ مسائل حل کرانے کے لئے ایک سو بیس میل کی سپیڈ سے دوڑیں گے جب کام ہی وہ کرنے ہیں جو آپ کا پیشرو کرتا رہا تو ایک 120 میل کی سپیڈ سے دوڑنے کا مطلب ”دھوڑپٹنے“ یعنی گرد اڑانے کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ لوگوں کو بتائیں گے دیکھو میں نے تو” دھوڑیں پٹ دی“ ہیں۔ اس کا ایک مظاہرہ انہوں نے وزارت عظمیٰ کا تاج پہننے کے پہلے روز کیا تھا جب عوام پر وزیراعظم ہا وس کے دروازے کھولے گئے تو لوگ اپنے مسائل سمیت اُمڈے چلے آئے، ہر کوئی جون کی جھلستی دوپہر میں نئے وزیراعظم کو جپھی ڈال کر ملنے کے لئے بے قرار تھا۔ آخر کب تک؟ وزیراعظم پسینے سے شرابور ہانپتے ہوئے یخ بستہ کمروں میں تشریف لے گئے شام ڈھلے وزیراعظم ہا وس کی چھت پر چڑھ کر خطاب کیا، جن لوگوں نے وزیراعظم ہا وس نہیں دیکھا وہ پوچھتے ہیں کہ وزیراعظم ہا وس میں کیاکوئی درخت نہیں ہے؟ 
مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ وزیراعظم بنتے ہی سیرو سلامی کیلئے کراچی میں دو دن گزار دیئے۔ اِدھر وفاقی وزیر اسرار اللہ زہری نے ملاقات کی خواہش کی تو کہا تین ماہ بعد آئیں۔ صدر زرداری نے پرویز الٰہی کو ”کھیلن کے لئے چاند“ یعنی ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ اپنی جناب سے عطا فرما دیا‘ وزیراعظم راجہ چاہتے ہیں کہ ان کو بھی ایسا ہی چاند ملے‘ ان کا گھر وزیراعظم ہا وس سے 16 میل کے فاصلے پر ہے۔ وہاں اترنے کے لئے ہیلی پیڈ بنوانا چاہتے ہیں۔ وہ چند روز کے وزیراعظم ہیں 16 میل کوئی زیادہ فاصلہ نہیں۔ گھر آنے جانے کا اتنا ہی شوق ہے تو اسی کو وزیراعظم ہاﺅس کا درجہ دیکر یہیں منتقل ہو جائیں۔ کیا اپنے محلہ داروں کو ہیلی کاپٹر سے اڑتی ہوئی دھول دکھانا مقصود ہے؟

No comments:

Post a Comment