About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, July 1, 2012

سیاسی کلچر


اتوار ، 01 جولائی ، 2012

سیاسی کلچر

دنگا فساد، دھینگا مشتی،ہلا گلا،لڑائی جھگڑا،گریباں چاک، جلاﺅ گھیراﺅ ،مارکٹائی کبھی ایک مخصوص سیاسی پارٹی کا طرہ امتیاز ہوا کرتا تھا۔آج یہ باقاعدہ سیاسی کلچر کا روپ دھار چکا ہے۔۔قومی اسمبلی، سینٹ،صوبائی اسمبلیوں میں احتجاج کے نام پر جو ہوتا ہے وہ تہذیب اور اخلاقیات کی حدود سے دورہے۔ وکلا حضرات نے بھی شاید اپنے پارلیمنٹرین کو ہی آئیڈیل بنا لیا کہ کورٹس میں نہ صرف پولیس سے ہاتھا پائی کے واقعات ہوتے نظر آتے ہیں بلکہ ججوں تک کو تشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے،اپنے نوجوان وکلا کی تقلید کی یا سیاسی کلچر کا جادو ان کے سر چڑھ کر بولا 14جون کو سپریم کورٹ میں سپیکر رولنگ کیس کے دوران، اودھم مچا کر اپنا نام” نیک ناموں“ میں رقم کروالیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے دست و گریبان اور جوتم جوتا ہونے کے واقعات حال ہی میں سامنے آئے ہیں۔ پگڑی اچھالنے دوپٹے اتارنے‘ کپڑے پھاڑنے کی تو دونوں پارٹیوں کی ایک تاریخ ہے۔ دونوں کاامریکہ،انڈیا اور کشمیر پر موقف بھی ایک جیسا ہے۔مار کٹائی کلچر میں MQM, ,ANP, PTI جیسی دیگر سیاسی پارٹیاں بھی ان دو بڑی جماعتوں کے ہم پلہ ہیں۔ تحریک انصاف کے حوالے سے ایک نیارجحان سامنے آیا ہے، جلسے کے بعد اپنی اپنی کرسی اور سٹیج سے جو ہاتھ لگا اُٹھا کر چلتے بننا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ پی ٹی آئی کے جن جلسوں میں یہ سب کچھ ہوا اس پر جلسہ کی انتظامیہ نے بھی کوئی خاص بُرا نہیں منایا۔شایدپارٹی کے امیر کبیر لیڈر اس کو بھی کارِ خیر اور عوام کی خدمت سمجھتے ہوں۔تحریک انصاف کے حوالے سے ایک انوکھا تجربہ مجھے بھی ہوا‘ اس کو سمجھنے کیلئے ذیل کی معلومات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔ہمارے پرائمری سکول کے استاد محترم نے بھینسیں پال رکھی تھیں، جن کے چارے اور پس افنگندہ یعنی ”گوئے کوڑے“کا بندوبست ہم طلبہ نے کرنا ہوتا تھا۔ وہ گھاس لانے کو کہتے تو35,30 لڑکے بھاگ کے قریبی کھیتوں سے گھاس کی دو دو مٹھیاں بھی لے آتے تو ایک گھٹڑی بن جاتی۔ سکول کے اردگرد کھیتوں میں ہم جیسے ہی داخل ہوتے ایک کی مالکہ خاتون دوسرے کا مالک ایک بابا، گالیوں کی بوچھاڑ کردیتے۔ تقسیم ہند سے قبل ہمارے گالم کار دونوں ان علاقوں میں پلے بڑھے ،جہاں سکھ اور ہندو آباد تھے۔ گویا ہندو اور سکھ معاشرے میں جو خرافات سکہ رائج الوقت تھیں، ان کوازبر تھیں۔ وہ تما م کی تمام ہر روز ہم گھاس کھودوں پر آزماتے تھے۔یوں بچپن میں ہی ہم پرہر زنانہ اور مردانہ مندابول ان جنت نصیبوں نے آزمایا تھا۔میں کراچی میں مقیم رہا یہاں اردو سپیکر ایک دوسرے سے لڑتے تو پنجابی گالیوں کا ترجمہ بڑے نستعلیق اندازمیں کیا ہوا محسو س ہوتا۔ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں کچھ عرصہ گزارنے کا موقع ملا، پشتو سپیکر آپس میں کوئی بات کرتے ہیں تو سمجھتاہوں کہ مجھے دشنام دے رہے ہیں،بلوچستان میں بولی جانے والی تقریباً تمام زبانوں کی بد کلامی بھی سمجھ آجاتی ہے۔ سندھی،سرائیکی اور پنجاب کی ”سخن طراری“ میں کوئی خاص فرق نہیں ۔جس نے ”مسلنوں“ کو لڑائی کے دوران مردانہ انداز میں بے نقط سناتے نہیں سنا ،دنیا میں آنے کے باوجود اس کی کیفیت لاہور نہ دیکھنے کے مترادف ہے۔میں نے لاہور ایسے بھی دیکھا ویسے بھی دیکھا۔
گزشتہ سال بھارت سے تعلقات اور تجارت کی حمایت میں عمران خان کے بیان پر میں نے کالم لکھا تو اگلے روز ایک ای میل مجھے موصول ہوئی اس جیسی بہت سی ای میلز ملنے کا تذکرہ عطاءالحق قاسمی صاحب متعدد بار کرچکے ہیںجو ای میل مذکورہ کالم کے بعد موصول ہوئی اس میں بہت سی نئی گوہر افشانیوں کے درو ا ہوئے تھے۔شاعر سخن واہیات نے نہ جانے کہاں سے ”مجموعہ گلام“ مرتب کیا تھایہ طوفان چونکہ عمران خان کی شان میں لکھے گئے کالم کے بعد آیا۔اس کا تذکرہ تحریک انصاف کے حامیوں سے کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ PTIکی مقبولیت سے خائف لوگوں کا کام ہے۔انہوں نے ساراملبہ ن لیگ پر ڈال دیا جبکہ ن لیگ والوں کے پاس تو اسکی قیادت پر لگائے گئے الزامات کی صفائی میں کچھ کہنے کا بھی وقت نہیں۔ اگر یہ کام پی ٹی آئی والوں کا ہے تو یوں سمجھئے شادی کی شام دلہن بیوہ ہوگئی۔بطور پاکستانی ہمیں عظیم قوم ہونے کا دعویٰ ہے یہ عظمت اور وقار ہمارے رویے سے بھی نمایاں ہوناچاہئے ہم خواہ پارلیمنٹرین ہوں،وکیل ، جج، جرنیل جرنلسٹ،طالب علم، ڈاکٹر ،تاجر، بیورو کریٹ مزدور یا کسی بھی شعبے سے متعلق ہوں، شائستگی لازم ہے۔

No comments:

Post a Comment