About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Friday, August 12, 2011

مہذب برطانیہ میں آگ کے شعلے


جمعۃالمبارک ، 12 اگست ، 2011


مہذب برطانیہ میں آگ کے شعلے
فضل حسین اعوان 
مہذب برطانیہ عظمیٰ کی تہذیب پانچ روز تک مسلسل بدتہذیبی کی آگ میں جلتی رہی۔ پولیس کے ہاتھوں مارک ڈگن کے قتل کے بعد برطانیہ میں جلاﺅ گھیراﺅ، لوٹ مار، بدامنی اور لاقانونیت کی انتہا ہو گئی۔ پاکستان جیسے معاشروں میں تو ایسا ہونا معمول ہے۔ برطانوی تو خود کو اعلیٰ نسل اور تہذیب کی اساس اور کمال قرار دیتے ہیں۔ پانچ روز تک برطانیہ عظمیٰ میں جنگل کا قانون رائج رہا۔ گھروں، دکانوں، گاڑیوں اور بنکوں تک کو آگ لگا دی گئی۔ لٹنے سے بنک محفوظ رہے نہ چھوٹے بڑے سٹور، 100 سے زائد پولیس اہلکار 200 عام آدمی زخمی ہوئے۔ بڑے شہروں میں جگہ جگہ آگ لگی رہی۔ نوجوان ٹولیوں کی صورت میں آگ لگاتے اور لوٹ مار کرتے رہے۔ بنکوں اور جیولری کی دکانوں کو خصوصی طور پر لوٹا گیا۔ پولیس نے ہنگامہ اٹھانے اور آگ بھڑکانے والے سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا ۔پولیس حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام رہی تو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دہشت اور وحشت پھیلانے والوں کا مقابلہ کیا۔ مارک ڈگن کو 6اگست کی رات کو قتل کیا گیا، فسادات 7 کو شروع ہوئے جن میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا۔ان میں دوسروں کی جان و املاک کی حفاظت کرتے ہوئے تین پاکستانیوں کی شہادت کے بعد 10اگست کو قدرے کمی واقع ہوئی۔ شاید یہ آگ پاکستانیوں کے خون سے بجھائی جانی مقصود تھی۔ پولیس مقابلے میں مارا جانے والا کوئی سیاستدان، مذہبی پیشوا یا سماجی رہنما نہیں تھا۔مارک ڈگن کے بارے میں گارڈین اور ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ وہ ماہر ڈرگ ڈیلر اور بُری شہرت کا حامل تھا۔ اس کے محلے کے لوگ بتاتے ہیں کہ وہ عموماً اپنے پاس گن رکھتا تھا۔ 29 سالہ مارک چار بچوں کا باپ تھا۔ ان بچوں کی مائیں دو تھیں، البتہ شادی کسی ایک سے بھی نہیں کی تھی۔ تین بچوں کی ماں 29 سالہ سیمون ولسن اس کی منگیتر تھی۔ ان کی دوستی 12 سال سے جاری تھی۔ برطانوی جرائد نے لکھا ہے کہ مارک ڈگن سٹار گینگ کا رکن تھا۔ سٹار گینگ منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ اور تخریب کاری میں بڑا نام اور اونچا مقام رکھتے تھے۔ اس کے قتل کے بعد برطانیہ میں قیامت اس کے گینگ اور اس قماش کے دیگر کئی گینگز نے برپا کی۔ 
نوٹنہم سے دوسرے شہروں برمنگھم، لیورپول اور مانچسٹر برسٹل تک فسادات بلیک بیری کے ذریعے میسجز سے پھیلائے گئے۔ ہنگامہ آرائی کے آغاز پر وزیر اعظم اور لندن کے میئر چھٹیوں پر تھے۔ دونوں نے فوری واپسی کی زحمت نہ کی۔ برطانیہ کے دل لندن کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لیا۔ مکینوں کے مال و اسباب اور جسم و جان جلے تو بھاگے چلے آئے۔ ہمارے صدر صاحب گزشتہ سال فرانس اور برطانیہ کے دورے پر تھے ان کا وطن اور اہل وطن بدترین سیلاب میں ڈوب رہے تھے جناب طے شدہ دورہ مکمل کرکے ہی لوٹے تھے۔
سنا ہے چین نے اوائل ترقی کے دور میں باز نہ آنے والے تمام نشیﺅں کو بحری جہاز میں سوار کرکے غرق بحر کر دیا تھا۔ اس سے بھی قبل یورپ نے ٹھگوں ،لٹیروں، انسان نما شیطانوں اور حیوانوں کو سرزمین امریکہ پر اٹھا پھینکا تھا۔ انسانیت کے دشمن شاید کچھ پیچھے رہ گئے تھے جن میں سے ایک نے چند روز قبل اوسلو ناروے میں 100 افراد کو قتل اور 90 کو زخموں سے چور کرکے قیامت ڈھائی اور اب سٹار گینگ نے برطانیہ میں آگ بھڑکائی۔ بتایا جاتا ہے کہ سٹار گینگ میں ہر عمر کے گروپ پائے جاتے ہیں۔ برطانیہ کو جہنم میں بدلنے والوں میں سے اکثر نو عمر تھے۔ کیسی قیامت تھی۔ شرپسند دندناتے پھرتے تھے، امن پسند گھروں میں محصور اور پولیس بے بس و مجبور نظر آتی تھی۔ مسلمانوں کو مغرب شدت پسند، انتہا پسند اور دہشت گرد تک قرار دے دیتا ہے۔ جب بے گناہ انسانوں کا خون بہایا جائے۔ اس پر مرنے والوں کے لواحقین کی طرف سے ردِ عمل تو ہو گا مسلم اُمہ میں چونکہ اسلامی اخوت کا اٹوٹ رشتہ پایا جاتا ہے۔ اس لیے دنیا کے کسی بھی کونے میں دشمن کے ہاتھوں ایک مسلمان کی شہادت پر پوری اُمہ صدمے سے دوچار ہو جاتی ہے لیکن ردِ عمل ایسا نہیں ہوتا جیسا برطانیہ میں ایک مجرم کے قتل پر دیکھنے میں آیا۔ مسلمان تو کسی کاز کے لیے علم احتجاج بلند کرتے ہیں۔ ناروے میں خون کی ہولی کیوں کھیلی گئی اور برطانیہ شعلہ فشاں کیوں بنا؟ دہشت گرد اسلام میں نہیں مغرب میں ہیں۔ اسلام تو ہمیں وہ درس دیتا ہے جس کا مظاہرہ انسانیت کو بچاتے ہوئے مصور علی، شہزاد اور ہارون تین پاکستانیوں نے برطانیہ میں اپنی جانیں دے کر کیا۔یہ نوجوان ہمیں یہ سبق بھی دے گئے کہ پاکستان میں دہشت گردوں، ٹارگٹ کلرز اور کراچی و بلوچستان کو جہنم زار بنانے والوں کا مقابلہ عوام کو خود متحد ہو کر کرنا ہو گا۔

No comments:

Post a Comment