About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, February 9, 2012

سینٹ الیکشن .... نواز شریف روایت شکن بنیں گے؟

جمعۃالمبارک ، 10 فروری ، 2012


سینٹ الیکشن .... نواز شریف روایت شکن بنیں گے؟
فضل حسین اعوان 
جاوید ہاشمی جیسا نواز شریف کا پارٹی میں سب سے زیادہ بااعتماد ساتھی، وفادار اور پارٹی و پارٹی قیادت کی خاطر پانچ سال جیل کاٹنے والا، مصائب سے نہ گھبرانے، آمریت کے سامنے جھکنے اور کسی قیمت پر بھی نہ بکنے والا شخص مسلم لیگ ن چھوڑ سکتا ہے تو کوئی بھی لیگی کارکن اور لیڈر پارٹی قیادت کے رویے اور حق تلفی کے باعث پارٹی سے کنارہ کشی اور لاتعلقی اختیار کر سکتا ہے۔ جاوید ہاشمی عمران خان کے دامن وابستہ ہوئے تو ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے انگڑائی لے کر ناراض اور نظر انداز ہونے والے کارکنوں کی دلجوئی کی ایک مہم کا آغاز کیا۔ میاں نواز شریف نے کارکنوں کو قیادت سے دور رکھنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت تنبیہ کی اور کارکنوں کے لیے دل اور گھر کے دروازے کھول دیئے۔ کان کی کھڑکیاں شاید بند یا نیم وا ہیں۔ سرانجام خان روٹھے روٹھے سے تھے ان کو منانے پشاور چلے گئے۔ عہدوں کی تقسیم کے دوران ان کی نہ سنی گئی تو وہ اجلاس سے واک آﺅٹ کر گئے گویا ان کو مزید ناراض کر دیا۔ اس کام میں میاں صاحب بڑے ماہر ہیں۔ جاوید ہاشمی کے مسلم لیگ ن سے جانے کے بعد مزید چند روز پت جھڑ جاری رہی جو نہ صرف جلد رُک گئی بلکہ پارٹی پر موسم بہار کا بھی گمان ہونے لگاہے یوں تو سارے سیاست دان کم و بیش ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن میاں نواز شریف اور روایتی سیاستدانوں میں تھوڑا سا فرق ہے۔ محمد خان جونیجو کرپٹ لوگوں کو برداشت نہیں کرتے تھے انہوں نے کئی بدعنوان وزراءکو فارغ کیا میاں نواز شریف میں محمد خان جونیجو جیسی کم از کم یہ ایک خوبی تو موجود ہے۔ میاں صاحب نے بھی اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران کئی وزراءکو کرپشن پر کابینہ سے نکال باہر کیا۔اگر میاں نواز شریف کی یہ خوبی زرداری صاحب کے اندر بھی حلول کر جائے تو شاید پوری کابینہ نئی بنانی پڑے۔عمران خان کے کزن انعام نیازی بھی جاوید ہاشمی کی طرح مسلم لیگ ن کے وفادار تھے۔ ان کا پارٹی چھوڑنا قیادت کیلئے ایک جھٹکا تھا۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد پارٹی قیادت نے اچھے اقدامات کیے جن سے کارکن مطمئن دکھائی دیتے ہیں مگر اصل مرحلہ انتخابات میں آئے گا جب پی پی پی، چودھری لیگ اور عمرانی گروپ کے خلاف کھڑے ہوں گے لیکن قیادت کے لیے فوری امتحان سینٹ کے الیکشن ہیں۔ اس میں دیکھئے پارٹی قیادت سرخرو ہوتی ہے یا ورکرز کی نظروں سے گر جاتی ہے۔ پنجاب سے مسلم لیگ ن سینٹ کی چار جنرل نشستوں سے کامیابی حاصل کر سکتی ہے جبکہ امیدواروں کی تعداد ڈیڑھ درجن کے قریب ہے۔ ان میں سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ (مشیر وزیر اعلیٰ پنجا ب) سعید مہدی (نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری رہے) صدیق الفاروق ، عارف سندھیلہ، خواجہ محمود ایڈووکیٹ، اسحٰق ڈار (اعلیٰ تجربے کے حامل آج بھی سینیٹر ہیں )، غلام دستگیر خان (متعدد بار ایم این اے رہے، گریجوایشن کے باعث بیٹے کو ایم این اے بنوایا)، چودھری سردار (برطانیہ میں عوامی نمائندگی کر چکے ہیں)، پروفیسر محمد مظفر مرزا، .... ہارون اختر خان، نعیم چٹھہ، طارق عظیم یہ حضرات آج بھی ق لیگ کے سینیٹر ہیں اور اگلی مدت کیلئے مسلم لیگ ن سے ٹکٹ کی باریابی کی امید لیے ہوئے ہیں۔ انور بیگ (پیپلز پارٹی کے سنیٹر ہیں)جعفر اقبال (اہلیہ ایم این اے، خود سنیٹر بننے کے خواہشمند ہیں)۔ اس کے علاوہ بھی شاید امیدوار ہوں بہرحال سردست ان کے نام ہی سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے چار پانچ کا انتخاب میاں صاحب کیلئے واقعی ایک آزمائش ہے۔ کچھ کارکن شاید پارٹی قیادت کے رویے کے شاکی ہیں کہ سینٹ کے ٹکٹ کیلئے بہت کم درخواستیں آئی ہیں ہو سکتا ہے کئی اہل کارکن بھاری بھر کم فیس کے باعث گھر بیٹھے رہے ہوں۔ بہرحال درخواست جمع کرانے کے حوالے سے پارٹی قیادت سے گلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اب میاں صاحب کو حساب کتاب کرنا ہو گا کہ ان کی قید اور جلاوطنی کے دوران کس نے ان سے وفاداری اور کس نے آمریت کی تابعداری کی۔ جن پر پہلے ہی نوازشات ہیں ان کیلئے مزید عنایات کی ضرورت ہے؟ مروجہ سیاست میں جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور بڑے لیڈروں کو مزید بڑا لیڈر بنانے کی روایت رہی ہے۔ میاں نواز شریف روایت شکن بنتے ہیں یا روایت پرور؟ دیکھئے کن لوگوں کو سینٹ میں لاتے جو پارٹی کی خدمات میں پیش پیش رہے اور پارٹی کا اثاثہ ہیں یا ....! اب کی بار ٹکٹوں کی تقسیم میں پرانی روایت اور روش کو ہی برقرار رکھا گیا تو مطمئن کارکن پھر بد دل ہوں گے۔ میاں صاحب کی کچھ سیاسی مجبوریاں ہو سکتی ہیں لیکن اپنے کارکنوں اور پارٹی اثاثے کسی قیمت پر مجبوری کو آڑ بنانا ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے گا ۔ مشرف کو سلامی اس کے نظریات کو فروغ دینے اور وردی میں بیسیوں سال منتخب کرانے کی دعویدار مسلم لیگ ق کے لیڈروں روایتی و مشکوک و فاداری کے حامل افراد کو ٹکٹ دینے سے قبل ہزار بار سوچئے گا۔

 

No comments:

Post a Comment