About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Saturday, August 21, 2010

حکومتی ریلیف فنڈ؟


فضل حسین اعوان ـ 16 اگست ، 2010

 نیدر لینڈ کو پھولوں کا ملک بھی کہا جاتا ہے۔ پھول اس کی معیشت میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہاں پھولوں کی کاشت سائنسی طریقے سے کی جاتی ہے۔ شام کو بیج بویا جاتا ہے۔ صبح تک پودا تیار ہو کر پھولوں سے لدا ہوتا ہے۔ ایمسٹرڈیم ہالینڈ کا دارالحکومت ہے۔ خوبصورتی کے حوالے سے اسے یورپ کی جنت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت ایمسٹرڈیم میں 150ممالک کے باشندے آباد ہیں۔ یہ شہر عین سمندر کے کنارے واقع ہے۔ نیڈر لینڈ کو ہالینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک تہائی رقبہ سطح سمندر سے نیچے سے کئی مقامات پر سطح سمندر خشکی سے 8میٹر تک بلند ہے۔ سمندر کی لہروں نے ہالینڈ کو کئی بار ڈبویا۔ ایمسٹرڈیم 2ویں صدی عیسویں تک محض مچھیروں کی بستی تھی۔ یہ شاید آج بھی مچھیروں کا مسکن ہوتا مگر ڈچ قوم نے بڑی جدوجہد کی۔ اس کے راستے میں بند باندھے گئے جو ہمارے بندوں کی طرح کئی بار پانی کی لہروں میں بہہ گئے۔ بالآخر ڈچ قوم ایسے فولادی اور دیوقامت بند بنانے میں کامیاب ہو گئی جن سے سمندر کی بپھری ہوئی لہریں سر ٹکرا کر سمندر میں واپس چلی جاتی ہیں۔ نیدر لینڈ میں آج سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں۔ آج سمندر ان عجوبہ بندوں کے سامنے اس قدر بے بس ہے کہ سمندر کا ایک بڑا حصہ ڈچ قوم نے خشکی میں تبدیل کر کے آبادی میں شامل کر لیا ہے۔ یہ کل رقبے کا پانچواں حصہ ہے۔ 
پاکستان میں بندوں کی حالت ملاحظہ فرمائیے۔ معمولی سیلاب بھی ان کو بہا کر لے جاتا ہے۔ یہ ریت سے بنائے جاتے ہیں۔ یا مٹی سے۔ طوفانوں اور سیلابوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بند بنانے والے ٹھیکیداروں اور سول انجینئروں کے خاندان بھی آج سیلاب زدگان میں شامل ہوں لیکن حرام خوری کی لت نہیں چھوٹتی۔ اب شاید عقل آ جائے۔ بندوں کے ساتھ پل اورسڑکیں سیلاب کیا ایک زوردار بارش کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ پاکستان میں وقفے وقفے سے سمندر میں طوفان اٹھتا۔ اور سیلاب آتے ہیں۔ حکومت کوئی بھی ہو کسی مستقل پیش بندی کی کوشش نہیں کی گئی۔ لوگ مصیبت سر پر آن پہنچے تب بھی کوئی تدبیر کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا بھی نہیں ہوتا۔ خیبر پی کے والوں نے سوات کو ڈوبتے دیکھا۔ پنجاب نے خیبر پی کے کو ڈوبتے دیکھا۔ سندھ نے پنجاب کو ڈوبتے دیکھا۔ لیکن صوبائی حکومتوں نے اپنے لوگوں کو بچانے کے اقدامات نہ کئے۔ اب بحالی کے لئے خلوص نیت سے کام کرنے کی بجائے ڈرامے بازی زیادہ ہو رہی ہے۔ 
اب فوری مسئلہ طوفانوں اور سیلابوں کی پیش بندی کا نہیں۔ سیلاب متاثرین کی فوری مدد اور بحالی کا ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی آفت آئی یا دشمن نے للکارا تو پوری قوم نے متحد ہو کر مقابلہ کیا۔ اب عام پاکستانی کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ متاثرین تک رسائی ہے۔ جو سڑکیں ٹوٹنے اور لوگوں کے بدستور پانی میں گھرے ہونے کی وجہ سے مدد کرنے والوں کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ متاثرین کی مدد فوج کر رہی ہے یا حکومت۔ فوج اپنی مدد آپ کے تحت سب کچھ کر رہی ہے۔ حکومت نے ریلیف فنڈ قائم کیا ہے جس میں نہ صرف پاکستانی حکومت کی وجہ شہرت سے فنڈ جمع نہیں کرا رہے بلکہ عالمی برادری بھی اس طرح مدد کو نہیں آ رہی جس طرح اسے آنا چاہئے وہ بھی حکمرانوں پر اعتبار کرنے پر تیار نہیں۔ برملا کہتے ہیں کہ ہمارے پیسے چوری ہو جائیں گے۔ ہمارے سول اداروں اور سیاستدانوں میں صرف 2فیصد ایماندار ۔ حکومت نے ریلیف فنڈ قائم کر کے اپنی ساکھ آزما لی۔ کچھ ان کا کردار مشکوک اور کچھ سابق حکمرانوں نے زلزلہ زدگان کی امداد مقیم کر کے لوگوں کے اعتماد کوٹھیس پہنچائی۔ قوم کو فوج پر اعتبار ہے۔ پاکستانی فوج پر، امریکی فوج پر نہیں جو سیلاب زدگان کی مدد کے لئے پہنچ رہی ہے۔ پاکستان حکومت امریکی فوج کی مدد سے معذرت کر لے۔ پاک فوج کو مستعدی سے کام کرنے دے۔ اگر جلد بحالی درکار ہے تو فوج کو ریلیف فنڈ قائم کرنے کی اجازت دے لوگ آج بھی اس میں دفاعی فنڈ کی طرح حصہ لیں گے۔

No comments:

Post a Comment