About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, June 22, 2011

مذاکرات کا ایک اور پاکھنڈ

 بدھ ، 22 جون ، 2011


مذاکرات کا ایک اور پاکھنڈ
فضل حسین اعوان
پوری دنیا کا احاطہ کیجئے۔ ایک ایک ملک کا جائزہ لیجئے۔ پاکستان ایسا ایک بھی نہیں ملے گا۔ جس میں اتحاد کا فقدان‘ انتشار سر میدان اور قائدین دست و گریبان ہوں۔ ہمارا ایک ہی بڑا قضیہ ہے۔ تنازع کشمیر۔ باقی تمام مسائل اور تنازعات نے اسی ایک مسئلہ کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ ہم اس کے حل کیلئے بھی متفق نہیں ہیں۔ اس مسئلہ کے ہوتے ہوئے وطن عزیز میں ٹھنڈی ہوا ¶ں کے خوش کن جھونکوں کی امید عنقا ہے۔ صرف سرخ آندھیاں اور جسموں کو جھلسا دینے والی لو ہی چل سکتی ہے۔ جس کے تھپیڑوں کا آج ہمیں سامنا ہے.... برطانوی دنیا کے جس خطے میں بیٹھا ہو اس کا اٹل موقف ہے۔ آئر لینڈ ہمارا ہے۔ جس یہودی نے کبھی اسرائیل دیکھا بھی نہیں وہ بھی فلسطین پر اپنی ملکیت کا دعویدار ہے۔ فلسطینی بچہ بچہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف سربکفن ہے۔ بھارت یو این میں کشمیریوں کے لئے استصواب کی تجویز پر دستخط کر کے آیا۔ اس کے باوجود بھارتی لیڈر شپ تو ایک طرف دنیا کے دوسرے کونے میں بھی بیٹھا ہندو اٹوٹ انگ کی رٹ لگائے ہوئے اور اکھنڈ بھارت کا پکھنڈ رچائے ہوئے ہے۔
پاکستان کا دیرینہ موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ اس موقف پر عام پاکستانی اور کشمیری تو کمٹڈ ہے۔ جن کے ہاتھ میں اقتدار کی باگ ہے یارہی ہے وہ قومی عزم و ارادے کا مظاہرہ کرنے سے قاصر رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر پر ہزار سال جنگ لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کے یہ الفاظ بھی عوام کی سماعتوں سے جوش و ولولہ بن کر ہمیشہ سے ٹکراتے رہے ہیں کہ گھاس کھا لیں گے ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ آج خود کو بھٹو کا جاں نشیں قرار دینے والے کشمیر کو پانی بجلی گیس اور پٹرول جیسے مسائل کی طرح مسئلہ سمجھتے ہیں نہ ان مسائل کی طرف دھیان نہ مسئلہ کشمیر توجہ کا مرکز‘ قوم نے گھاس کھایا یا نہیں ایٹم بم بن گیا۔ جس نے ہماری حفاظت کرنا تھی آج ہم اس کی حفاظت کےلئے سرگرداں ہیں۔ بچا ہوا اس لئے ہے کہ اسے بیچ کھانا ناممکن ہے۔ سیاچن پر بھارتی قبضے پر جنرل ضیاءالحق کہتے تھے وہاں تو گھاس بھی نہیں اگتی۔ ملکی سرزمین کے چپے چپے کے دفاع اور حفاظت کا حلف اٹھانے والا ہزاروں مربع کلو میٹر پر دشمن کے قبضے کو مذکورہ الفاظ میں جائز قرار دے ڈالے تو اس کی کشمیر پر کمٹمنٹ کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جنرل مشرف مسئلہ کشمیر کے ”الو باٹا“ حل تجویز کرتے رہے وہ تو مقبوضہ کشمیر کو بھارت کی جھولی میں ڈالنے پر بھی تیار تھے۔ بھارت پورے کشمیر کو ساتھ لے جانے کا مدعی ہے۔ نواز شریف کو واجپائی سے کشمیر کی آزادی کی امیدیں وابستہ تھیں۔ وزیراعظم گیلانی خوشی سے پھولے نہیں سماتے کہ انہوں نے منموہن سنگھ کو مسئلہ کشمیر کے حل پر قائل کر لیا ہے۔ اس میں قطعاً قطعاً شک کی گنجائش نہیں کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادہ ہے لیکن کن شرائط پر؟ وہ چاہتا ہے آزاد کشمیر بھی بھارت کا حصہ بن جائے۔ وہ بلتستان کو بھی کشمیر کا حصہ سمجھتا ہے۔ اس نے اپنے آئین میں مقبوضہ وادی کو بھارتی صوبہ قرار دے رکھا ہے۔ پاکستان نے بلتستان کو الگ صوبہ بنایا تو بھارت اس اقدام کے خلاف واویلا کر رہا ہے۔ اگر آپ نے بھارتی شرائط پر مسئلہ کشمیر حل کرنا ہے تو ایک دن میں حل ہو جائے گا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہے تو مذاکرات کے ذریعے قیامت تک حل نہیں ہو سکتا۔ 
آج بھارتی سیکرٹری خارجہ تمام تر‘ بندوآنہ کروفر‘ ابلیسی ایجنڈے‘ مکارانہ سوچ کے ساتھ اسلام آباد آرہی ہیں۔ گذشتہ سال سیکرٹری خارجہ دہلی میں ملے تھے تو نروپمارانی نے پورے سیشن کے دوران کشمیر کا ذکر تک نہ ہونے دیا۔ اب سنا ہے مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ایجنڈے کا اہم پوائنٹ ہے۔ کیا بھارت اٹوٹ انگ کا موقف چھوڑنے پر تیار ہے؟ اگر نہیں تو مذاکرات کا فائدہ؟ مسئلہ کشمیر پر اگر کہیں پیشرفت کی امید ہے تو اسے احمقانہ سوچ کے سوا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ مذاکرات لاحاصل ہیں۔ نروپما رانی آپ کو مزید چکر دے گی۔ بہتر ہے مدھانی جی کی ٹہل سیوا کی جائے۔ شکرپڑیاں‘ مری‘ ناران کاغان کی سیر کرا دی جائے۔ اٹوٹ انگ کی ضد کا علاج مذاکرات نہیں‘ صرف اور صرف جنگ ہے۔ ہماری حکومت بھی مذاکرات مذاکرات کھیل سے خلاصی حاصل کرکے مسئلہ کشمیر کا جو حقیقی حل ہے اس طرف توجہ دے۔ پہلے قوم میں اتحاد پیدا کیا جائے۔ سب کو ساتھ ملایا جائے۔ سرحدی گاندھی کے پیروکاروں کو بھی ہم نوا بنایا جائے۔ جس بم کی ہم حفاظت کےلئے مضطرب ہیں اب شاید وقت آگیا ہے کہ وہ ہماری حفاظت کرے۔ کشمیر کو ہندو بنئے کے آہنی بنچوں سے نکال لائے۔ ہماری سرزمین زرخیز کو ریگستان میں تبدیل کرنے کی ذلیل خواہش کو ترک کرا دے۔ پاکستان کے حصے کا پانی واگزار کرا دے۔

No comments:

Post a Comment