About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Sunday, June 26, 2011

آزادکشمیر الیکشن

 اتوار ، 26 جون ، 2011

آزادکشمیر الیکشن
فضل حسین اعوان 
دلربا ہواﺅں، پربہار فضاﺅں میں لہراتے، جھولتے چناروں، فلک بوس پہاڑوں، حسین سبزہ زاروں، مہکتے چمن زاروں، ابلتے چشموں، بل کھاتی ندیوں کی سرزمین وادی جنت نظیر، خطہ ¿ آزادکشمیر میں آج عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ وہی وادی جسے صوبہ سرحد کے قبائل نے بھارت کے پنجہ استبداد سے آزادی دلائی۔ قائداعظم نے قبائل کو بے جگری، دلیری اور شجاعت سے لڑنے پر پاکستان کا بازوئے شمشیر زن کا لقب دیا تھا۔ قائداعظم کے خطاب یافتہ بازوئے شمشیر زن آج زیر عتاب ہیں۔ ان پر حکمران مہربان ہونے کے بجائے قہرمان بن گئے۔ ان پر ایک طرف ان کی اپنی فوج کی یلغار اور دوسری طرف امریکی ڈرون حملوں کی بھرمار ہے۔ لاشیں گر رہی ہیں۔ اعضا کٹ رہے ہیں۔ دھرتی خون رنگ ہے، درختوں پودوں کی کونپلوں سے بھی خوں رس رہا ہے۔ جس پر بارود برستا ہے ان کی زندگی کا ہر لمحہ قیامت کا لمحہ اور صدیوں پر بھاری ہوتا ہے۔ ان کو تو دس سال سے قیامت خیز، اذیت ناک اور کربناک لمحات کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ”قبائلی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں تو فوج واپس چلی جائے گی“ قبائلی علاقوں میں امریکی جنگ تو چند سال قبل مسلط ہوئی اس سے قبل قبائل ہی ان علاقوں کی حفاظت کر رہے تھے اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ آج ہم نے ان میں محب وطن اور غیر محب وطن کی تفریق پیدا کر کے ان کو بھی باہم دست و گریباں کر دیا۔ جنرل کیانی فوج واپس لے جائیں تو قائداعظمؒ کے قرار دئیے ہوئے بازوئے شمشیر زن اپنے علاقوں سے را، موساد اور سی آئی اے کے ایجنٹوں سے نمٹ لیں گے۔ حکومتِ وقت ان پر قائداعظم جیسا اعتماد کرے تو یہ آج بھی 63 سال قبل کی تاریخ دہراتے ہوئے آزادکشمیر کی سرحدوں میں توسیع کر سکتے ہیں۔ کیانی صاحب نے جو کہا فوزالمراد یعنی اس کا مقصد بھی وہی ہے تو اس پر فوری عمل کر گزریں۔ اس اعلان یا فیصلے کا حشر بھی پارلیمنٹ کی قراردادوں اور عمائدین حکومت اور اکابرین عساکر کے دعوﺅں جیسا نہ ہو کہ ”اب ڈرون حملے برداشت نہیں کریں گے“
بات وادی کشمیر میں الیکشن کی ہو رہی ہے جس میں 22 پارٹیوں کے 421 امیدوار میدان میں ہیں کل نشستیں 41 ہیں۔ پاکستان اور آزادکشمیر میں آج سیاست کا ایک سا چلن اور بانکپن ہے۔ الزام، دشنام ہنگامہ، دھینگا مشتی، نورا کشتی، انسانوں کی سوداگری، لوٹ مار اقربا پروری اور اور اور.... سب کچھ .... یہاں کی ”رول ماڈل“ جمہوریت وہاں بھی آزمائی جا رہی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے جنم کا سلسلہ جاری ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کی خاطر ہزار سال جنگ لڑے کا عزم کیا تھا۔ لیکن جس جنگ کے بعد وہ اقتدار میں آئے اس میں پاکستان دو نیم ہو چکا تھا۔ وہ آزادکشمیر میں بھی پیپلز پارٹی کا تخم بونا چاہتے تھے۔ ان کے دل کی بات زبان پر آئی۔ اس پر عمل سے قبل نظامی صاحب نے ملاقات کر کے ان کو قائل کر لیا کہ کشمیریوں کو ان کی سیاست کرنے دی جائے۔ بھٹو صاحب مان گئے لیکن 91ءمیں ان کے جاں نشینوں نے آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کی داغ بیل ڈال دی۔ مسلم لیگ ن سردار عبدالقیوم کی انتخابی مہم کا سائبان رہے۔ سردار قیوم اپنے بیٹے آج کے وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق کو ساتھ لے کر ن لیگ کی انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں۔ اب ان کے درمیان نجانے وہ کونسے اختلافات ہوئے کہ میاں صاحب نے وہاں الیکشن میں مسلم لیگ ن اتار دی۔ دنیا دو پارٹی سسٹم کی طرف آ رہی ہے ہم 22 پارٹی سسٹم لا رہے ہیں۔ بہرحال انتخابی مہم بڑی زوردار رہی۔ نوازشریف اور شہباز شریف نے بڑی سرگرمی دکھائی۔ سردار عتیق بھی پیچھے نہ رہے، الطاف حسین فون پر سرگرم تھے۔ آصف علی زرداری نے گیلانی اور منظور وٹو پر تکیہ کیا۔ انہوں نے بھی خوب فٹیگ نبھائی۔ نوازشریف، سردار عتیق اور الطاف حسین اپنی اپنی پارٹی کی کامیابی کے لئے سرگرداں رہے، گیلانی اور وٹو زرداری کی پارٹی کا خود کو جتنا بیکراں ثابت کر سکتے تھے کر دیا۔ ماروی کی طرح اگلا الیکشن کسی اور پارٹی کے پلیٹ فارم سے بھی لڑ سکتے ہیں۔ آج جس مقام پر ہیں مسکراہٹ کے ساتھ یہ گنگناہٹ لبوں پر ضرور رقصاں رہتی ہو گی۔ جس میں ان کے مطلب کی بات بھی ہے۔ 
حجرے شاہ مقیم دے اک جٹی عرض کرے
میں بکرا دیواں پیر دا جے سر دا سائیں مرے
ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے دیوا نت بلے
کتی مرے فقیر دی، جیڑی چوں چوں نت کرے
پنج ست مرن گوانڈھناں، رہندیاں نوں تاپ چڑھے
گلیاں ہو جان سنجیاں، وچ مرزا یار پھرے



No comments:

Post a Comment