About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, March 31, 2011

جو چپ رہے گی زبانِ خنجر

31-3-11
فضل حسین اعوان 
ہزار پردہ پوشی سے قتل چھُپ سکتا ہے نہ لاکھ کوشش سے قاتل سزا سے بچ سکتا ہے…؎
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر ....... لہو پکارے گا آستیں کا
اعترافِ جرم سے وہ سزا اس سے بھُلی جو مجرم کو ہر لمحہ بے قرار اور اندرکی موت سے ہمکنار رکھتی ہے۔انسان کو تو ایک قتل بھی جینے نہیں دیتا۔جو سانحہ لال مسجد کے سینکڑوں محصورین اور امریکی جنگ میں ہزاروں پاکستانیوں کے خون کا ذمہ دار ہو اس کے کرب و الم اور احساسِ جرم کی کیا کیفیت ہوگی۔ وہ ہر لحظہ کتنی بار موت و حیات کے زیروبم سے دوچار ہوتا ہوگا۔ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ لال مسجد میں جو کچھ ہوا، بچے اور بچیاں اپریشن کے دوران بے دردی اور سفاکی سے قتل کردی گئیں۔ مشرف اس پر کہتے ہیں ان کا ضمیر مطمئن ہے۔ رٹ آف گورنمنٹ کیلئے بندوقیں چلانا اور بارود برسانا پڑا۔اس کاروائی میں انسانیت قتل تو ہوئی ایک بار نہیں بار بار ہوئی۔جتنی جانیں گئیں اُتنی بار ہوئی۔آگے چلنے سے پہلے ایک واقعہ پر نظر ڈالئے۔
صبح شفق رنگ تھی، شہر کے بے رونق بازار میں راہگیر کو پیٹ میں چُھرا گھونپ کر قتل کردیا گیا اس واقعہ کے عینی شاہد سیر کرتے ایک جج صاحب بھی تھے۔قاتل بھاگ گیا۔ شور بلند ہوا۔تھوڑی دیر بعد لوگوں نے سائیکل سوار کو پکڑ لیا ہاتھ میں خنجر کپڑوں پر خون کے چھینٹے۔شاید خنجرکی نوک سے بھی لہو کا ایک آدھ قطرہ ٹپک رہا ہو۔ یہی ملزم اور مجرم ٹھہرا۔اتفاق سے کیس قتل کے عینی شاہد جج کی عدالت میں لگا۔ اُدھیڑ عمر شخص نے اعتراف جرم کرلیا۔گواہوں کی ضرورت نہ شہادتوں کی۔ جج صاحب اس اعتراف پر ششدر۔ یہ وہ تو نہیں جس نے قتل کیا تھا۔بہر حال قانون کے سامنے بس سزائے موت سنادی لیکن دل میں خلش چبھن اور کھٹک موجود رہی۔ ایک دن ملاقات کیلئے چلے گئے۔قیدی سے ماجر ا پوچھا۔ سوئے دار سفر ہوتو سچ ہی بیان ہوتا ہے۔بتایا ’’ یہ قتل میں نے نہیں کیا۔چند سال قبل کسی اور کو قتل کیا تھا۔اس دن کے بعد دن میں بار بار جیتا اور مرتا تھا۔ دن کو سکون نہ رات کو آرام زندگی عذاب بن گئی تھی۔قصاب ہوں اس دن بکرا ذبح کرکے آرہا تھا لوگوں نے چُھرے سمیت پکڑ کر قانون کے حوالے کردیا۔میں نے ناکردہ قتل کا اعتراف کرکے کردہ قتل کی سزا سن لی۔اب ضمیر مطمئن ہے ہر لمحہ مرنے کے عذاب سے بچ گیا ہوں‘‘۔
بینظیر بھٹو کا قتل کیس پرویز مشرف کے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔خصوصی عدالت کی طرف سے انٹر پول کے ذریعے گرفتاری کے احکامات جاری ہوچکے ہیں۔ محترمہ کے کیس کے مدعی سُست اِدھر اُدھر والے چُست۔مشرف کو زرداری حکومت اپنی بی بی کے قتل کیس میں تو کیا کسی بھی کیس میں حتیٰ کہ آئین توڑنے کے الزام میں بھی واپس نہیں لا سکتی ہے۔ مشرف کا مسکن برطانیہ اور ابو ظہبی میں۔دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کا مجرموں کی حوالگی کا معاہدہ ہی نہیں ہے۔ عمران خان نے اپناپورا زور اور کافی پیسہ الطاف حسین کو لندن سے نکلوانے پر لگا دیا لیکن ناکام رہے۔ اب دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا ہے جو زور لگایا وہ تو واپس نہیں آسکتا،پیسہ شاید۔
مشرف کا بینظیر بھٹو کے قتل میں ہاتھ ہے یا نہیں، شاید نہ ہوں لیکن ان کی گردن کے گرداسی کیس کے حوالے سے پھندا کس کس ہورہا ہے۔ بظاہر سزا محترمہ کے ناکردہ قتل کیس میں ہوگی دراصل لال مسجد کی معصوم بچیوں کے کردہ قتل کے جرم کی ہوگی۔کیونکہ قتل چھپ سکتا نہ قاتل سزا سے بچ سکتا ہے۔مشرف ملک سے باہر محفوظ و مامون ہیں۔لیکن کب تک۔ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں لیکن انسان بھی ہیں۔روشن ہی سہی ضمیر تو رکھتے ہیں۔ ضمیر ہے تو خلش بھی ہوگی۔معصوم بچیوں کی دلدوز چیخیں کب چین سے بیٹھنے اور سونے دیتی ہوں گی۔ ہوسکتا ہے کسی دن محترمہ کے ناکردہ قتل کا اعتراف کرکے جامعہ حفصہ کی بچیوں کے کردہ قتل کی سزا کیلئے خود کو پیش کردیں۔

No comments:

Post a Comment