About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Saturday, March 19, 2011

آتش کدہ

 ہفتہ ، 19 مارچ ، 2011
فضل حسین اعوان
جاسوسی، دہشت گردی، تخریب کاری اور کسی ملک میں تباہی کی منصوبہ سازی تین چار انسانوں کے قتل سے کہیں بڑا جرم ہے۔ مانا ریمنڈ کو مقتولین کے ورثاءنے معاف کردیا۔ ریاست اور ہر پاکستانی کیخلاف جرم کیسے معاف ہوگیا؟ معاف کیا تو کس نے، کس اتھارٹی، کس قانون کے تحت؟ ریمنڈ کو امریکی میڈیا نے جاسوس قرار دیا۔ اس سے ملنے والے اسلحہ، آلات اور دستاویزات نے اسکے جاسوس ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ پھر اس پر جاسوسی کا مقدمہ چلانے کی کس کی ذمہ داری تھی؟ اس پہلو کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟ رہائی کے پیچھے کون سرگرم رہا؟ رہائی کے احکامات کیسے اور کہاں سے آئے؟ منصف اعوان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے ڈیل ایک ارب 5 کروڑ کی ہوئی، ورثاءکو 20 کروڑ روپے دئیے، 85 کروڑ بروکر دبا گئے۔ یہ بروکر کون تھے؟ اقدامِ بے ثباتی و توقیری میں مرکزی اور پنجاب حکومت شامل ہیں۔ انکے سیاسی اختلافات دشمنی کی حدوں کو چھو رہے ہیں لیکن اس معاملے میں مل گئے۔ مصرع میں تصرف کے ساتھ....ع
کھان دی واری وکھو وکھ، جان بچون کو کٹھے، 
حکمرانوں نے قوم کو ریوڑ، ہجوم اور بھیڑ بکریاں سمجھ لیا۔ قوم سمجھا ہوتا تو اسکے تحفظات کو یوں جوتے کی نوک پر نہ رکھتے۔ بوٹا گجراتی نے خوب کہا
سن مار کے بوٹیا چور نسے
گلیاں وچ پھردے چوکیدار رہ گئے
لیکن معاملہ تو اس سے بھی آگے ہے۔ جب چوروں سے چوکیدار اور کُتی بھی مل جائے تو مالک کیا کرسکتا ہے؟
پردے کے پیچھے بہت کچھ ہوتا رہا۔ ریمنڈ کو 16 مارچ بدھ کے روز اڑا لے جانا تھا۔ جہاز منگل کو علامہ اقبال ائرپورٹ پر اترا۔ مقتولین کے ورثاءاس خاک اڑنے کے روز سے بھی ایک دن قبل گھروں سے غائب ہوچکے تھے۔ پلاننگ راتوں رات نہیں ہوئی پھر بھی اسکی میڈیا کو بھنک نہیں پڑی۔ نیشن کے ایڈیٹر رپورٹنگ اشرف ممتاز صاحب پریشان، پشیمان اور دل گرفتہ تھے۔ وہ اسے پاکستانی میڈیا کی مکمل ناکامی قرار دے رہے تھے۔ صدر، وزیراعظم، گورنروں، وزرائے اعلیٰ، خفیہ اداروں کے بڑے افسروں سے رفاقت کے دعویدار اخبار نویس، اینکرز، کالم نگار اور ایڈیٹرز اتنے بڑے ایونٹ کی منصوبہ بندی سے کیسے بے خبر رہ گئے۔ کئی کو اعلیٰ حکمرانوں کے بیڈ رومز تک رسائی کا زعم، کئی مس کال دیں تو بڑوں کی طرف سے کال آنے کے قصے سناتے ہیں۔ خود کو تیس مار خان اور چیخ مار خان سمجھنے والے غور کریں، انکے ساتھ کیا ہوا۔ انکے اعلیٰ سورس صرف اتنی بات ہی بتاتے ہیں جو انکے مفاد میں ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کچھ لوگ فوج کیلئے کام کرتے ہیں اور کچھ فوج کو بدنام کرتے ہیں۔ کئی نے فوج پر الزام تراشی، دشنام طرازی کو فیشن بنالیا۔ جھوٹے سچے سکینڈل تراش کر خود کو طرم خان ظاہر کرتے ہیں، فوج کا بجٹ قومی بجٹ کا 13 یا 14 فیصد ہے۔ یہ اسے 40 فیصد قرار دیکر عوام میں نفرت پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مغربی خصوصی طور پر امریکی میڈیا ہمارے میڈیا کی نسبت کہیں زیادہ آزاد اور انکے نکتہ نظر سے ذمہ دار بھی ہے۔ بش، اوباما عراق اور افغانستان کا خفیہ دورہ کریں تو اس وقت تک معلوم ہونے کے باوجود خبر شائع ہوتی ہے نہ نشر، جب تک امریکی صدر دورہ مکمل کرکے واپس روانہ نہیں ہوجاتا۔ ریمنڈ کی رہائی کے حوالے سے امریکی میڈیا میں کہیں نہ کہیں آگاہی ضرور تھی۔ امریکہ کا مفاد اس خبر کو چھپانے میں تھا، سو اس نے چھپایا۔ ہمارے ہاں مفاد خبر چھاپنے میں تھا، لیکن اسکی خبر ہی نہ ہوئی۔
ایمل کانسی کیس میں امریکی وکیل نے کہا تھا پاکستانی پیسے کی خاطر اپنی ماں بھی بیچ دیتے ہیں۔ دنیا عام پاکستانی کے جذبات نہیں دیکھے گی۔ اسکی نظر 20 کروڑ کی ادائیگی سے ریمنڈ کی رہائی پر ہے۔ امریکہ کو ریمنڈ کو چھڑا لے جانے کی بڑی عجلت تھی۔ ہمارے حکمرانوں نے عدالت کا کندھا استعمال کرتے ہوئے بڑی سرعت سے امریکی خواہش کی تکمیل کردی۔ ہوسکتا ہے مبینہ طور پر لواحقین کی طرح جج کو یرغمال بنا کر فیصلہ لکھوالیا گیا ہو۔ 
امریکہ کی ریمنڈ کی رہائی پر ممنونیت ملاحظہ فرمائیے۔ ریمنڈ ابھی امریکہ پہنچا بھی نہیں تھا، بگرام میں تھا کہ پاکستان پر ڈرون کی یلغار ہوگئی۔ ایک دن میں 12 حملے، 84 شہادتیں۔ کیا حملے کرکے رہائی کا شکریہ ادا کیا گیا؟ ریمنڈ کی گرفتاری کے بعد تین ہفتے تک ڈرون حملے نہیں ہوئے تھے۔ بعض حلقے اسے ڈرون حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے تھے۔ ہوسکتا ہے گزشتہ روز کے حملے اسی نے کروائے ہوں۔
ریمنڈ کی رہائی کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی تاہم اگر ذمہ داروں پرکوئی قہر ٹوٹ رہا تھا تو کم از کم عافیہ صدیقی کی رہائی کی ہی بات کی ہوتی۔ ریمنڈ کی رہائی بیک وقت برف اور آگ کی طرح ہے۔ آج اس رہائی کے حوالے سے بہت سے سوالات پر برف پڑی اور دھند چھائی ہوئی ہے۔ آہستہ آہستہ برف پگھلے گی، دھند چَھٹے گی، مطلع صاف ہوگا اور ہر سوال کا جواب مل جائیگا۔ قومی مجرموں کا تعین ہوگا، سانحہ مشرقی پاکستان اور کارگل کے ذمہ داروں کا قومی سطح پر ابھی تک تعین نہیں ہوا لیکن قدرت نے مجرموں سے انتقام ضرور لے لیا۔ کوئی بے سَر ہوا کوئی دربدر، ریمنڈ کی رہائی کے مجرم بھی قہر خداوندی سے بچ نہیں پائینگے۔ ریمنڈ کی رہائی قومی غیرت و حمیت کا سودا ہے جس سے پاکستانیوں کے اندر آتش کدہ کی مانند آگ بھڑک رہی ہے۔ خشک لکڑی جلتی اور شعلہ بن کر بجھ جاتی ہے۔ گیلی لکڑی سلگتی رہتی ہے۔ انجام اسکا بھی جلد یا بدیر راکھ ہوجانا ہے۔ آتش کدہ مسلسل جلتا ہے اور قریب آنیوالی ہر چیز کو بھسم کردینا آگ کی فطرت ہے۔ ہم بکھرے رہے تو یہ آگ اندر ہی اندر ہمیں جلاتی رہے گی۔ قوم بن گئے تو ملک و ملت کے غداروں کو انجام تک پہنچا دیگی۔ انہیں راکھ کرکے رکھ دے گی۔
٭٭٭


No comments:

Post a Comment