About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Wednesday, September 8, 2010

اے این پی پر پاکستان کے دو قرض


نسان، اگر انسان ہوتو جیل میں رہتے ہوئے اس کے درو دیوار اور اس کی چکیوں تک سے انسیت محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔ یہ میرا ماہِ تاباں، ماہِ نیم ماہ اور ماہ وش کی طرح چمکتا دمکتا روشن پاکستان کچھ طبقوں کیلئے خزانہ قارون تو ہے لیکن ان کو اس سے انس ہوسکا ہے نہ محبت۔ وہ اس کے ساتھ محبوبہ یک شب کا سلوک کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے اور ان کی اولاد اس پر آج بھی فخر کرتی ہے۔کسی نے پاکستان بننے کی بھرپور مخالفت کی اور پاکستان میں دفن ہونا بھی گوارا نہ کیا ان کی اولاد کو بھی اس پر پشیمانی نہیں ہے۔اس کے باوجود کہ ان کو پاکستان نے بہت کچھ دیا اتنا کچھ، ان سے پوچھا جائے کہ پاکستان نے آپ لوگوں کو کیا کچھ نہیں دیا تو شاید ان سے اس کا جواب نہ بن پائے۔
پاکستان کے وجود پر سب سے بڑا زخم بھارت نے کشمیر پر جارحانہ قبضے کی صورت میں لگا رکھا ہے اسے کسی حد تک صوبہ سرحد کے سپوتوں نے اس وقت مندمل کیا جب یہ لوگ لشکر در لشکر دشمن کی صفوں میں جا گھسے اور وہ علاقہ آزاد کرالیا جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ قائداعظم نے ان سرحد کے سپوتوں کو پاکستان کا بازوئے شمشیر زن قراردیا تھا… لیکن یہ زخم بدستور رس رہا ہے۔پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ یہی بھارت کے قبضے میں پاکستان کو آزادی کیلئے پکارتا کشمیر ہی ہے۔ پاکستان کی شاہ رگ کو ارضِ پاک کیلئے ایک دکھ اور کرب بنانے میں انگریز اور ہندو تو شامل ہی تھے باچا خان نے بھی کوئی کسرنہیں چھوڑی۔
فدا احمد کاردار کی تحریک آزادی، تقسیم ہند اور تاریخ برصغیر پر گہری نظر ہے وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان بن جانے کے بعد خصوصی طورپر سرحد میں ریفرنڈم میں شکست سے سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان کے دل میں پاکستان کے خلاف جو جوالا مکھی مچنا شروع ہوئی وہ ان کو گاندھی کے درپر لے گئی انہوں نے گاندھی کو ساتھ لیا اور مہاراجہ کشمیر ہر ی سنگھ کے پاس سری نگر جا پہنچے۔ دونوں گاندھیوں نے ہری سنگھ کو اکسایا کہ ان اصولوں سے انحراف کرے جن کے تحت مسلم اکثریتی آبادی کے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا۔ ہری سنگھ نے ان کی بات مان لی اس کے بعد جو کچھ ہوا اور ہورہا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ اور اس سب کا ’’ ایصالِ ثواب‘‘ بھی اب تک سرحدی گاندھی کی روح کو پہنچ رہا ہوگا۔
پاکستان کی بقا سلامتی اور سا لمیت کا انحصار کشمیر اور کشمیر سے آنیوالے پانیوں پر ہے دونوں پر بھارت قابض ہے۔ اندرونی طور پر پاکستان میں بجلی اور پانی کی وافر فراہمی کا دارومدار کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر ہے۔ حالیہ سیلاب نے تو یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں اور تاراجیوں سے کالا باغ ہوتا تو بچا جا سکتا تھا۔ پیپلز پارٹی نے حکومت میں آتے ہی سب سے پہلے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا باب بند کیا سیلاب نے ملک کا ایک چوتھائی رقبہ ڈبو دیا تو وہ اب تعمیر کی بات کرتے ہیں لیکن شاید اندر سے مضبوط لابی کی وجہ سے بات جرأت اظہار سے جرأت عمل تک نہیں پہنچی۔ تاہم کالا باغ ڈیم کی سب سے بڑی مخالف اے این پی ہے۔ جس کی صوبہ خیبر پی کے میں حکومت قائم ہے اور حالیہ سیلاب میں سب سے زیادہ نقصان بھی خیبر پی کے کو ہوا۔ ان کے آبا ان کیلئے قابلِ احترام اس لئے تو ہونگے کہ وہ ان کو عالمِ لا وجود سے وجود میں لانے کا سبب ہیں لیکن وہ آج جو کچھ ہیں پاکستان کی بدولت ہیں۔ان کا جاہ وحشم سیاست حکمرانی پاکستان کے عظیم ترین وجود کے باعث ہی ہے۔ آج ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں بھارت سے الحاق ہوتا تو غلیلوں کے ساتھ شکار کرتے اور بیلچوں کے ساتھ دیواریں بنا کر اپنا او ر اپنے بچوں کا پیٹ پالتے۔ آج اے این پی پر پاکستان کے دو قرض ہیں جس نے ان کی شہرت اور عزت کو بامِ عروج پر پہنچایا ہے۔(1) باچا خان کے ہری سنگھ کو اکسانے کا مداوا کرنے کیلئے آزادی کشمیر کیلئے عملی اقدامات کریں۔ وہ لشکروں اور سفارتکاری کی صورت میں ہوسکتے ہیں(2) کالا باغ ڈیم کی مخالفت برائے مخالفت ترک کرتے ہوئے اس کی تعمیر میں ہر اول دستے کا کردار ادا کریں۔ اب یہ ان کا اور ہم سب کا پاکستان ہے۔63سال میں تو اس سے انس ہو جانا چاہیے۔

No comments:

Post a Comment