About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Saturday, September 25, 2010

تبلیغ ۔قذافی اور حسینائیں


25-9-10فضل حسین اعوان ـ
نومبر 2009ءمیں روم کے پوش علاقے میں ایک ہال کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔قمقموں سے جگمگاتے اور روشنیوں سے بقعہ نور بنے ہال میں 2سو حسیناﺅں کیلئے نشستوں کا اہتمام تھا۔ خوبصورت عورتوں کو بتایا گیا تھا کہ انہوں نے ایک لیکچر اٹنڈ کرنا ہے جس کے اختتام پر 70یورو نقد اور تحائف بھی دئیے جائیں گے۔لیکچر میں شرکت کیلئے ایک معیار مقرر کیا گیا تھا۔ جس پر سختی سے عمل ہوا۔ ضروری قرار دیا گیا تھاکہ کسی کی عمر 15سال سے کم اور 35سال سے زائد نہ ہو۔قد کم از کم پانچ فٹ سات انچ۔کھلے گلے کی شرٹ اور منی سکرٹ پہن کر آنے پر پابندی تھی۔ حسینائیں ہال میں اپنی نشستوں پر بیٹھ چکیں تو بھی ان کو معلوم نہ تھا کہ لیکچر کون دے گا۔ تھوڑ ی دیر بعد سٹیج پر جو شخصیت نمودار ہوئی وہ لیبیا کے صدر کرنل قذافی تھے۔ وہی اس تقریب کے میزبان اور مقرر بھی تھے۔ کرنل قذافی نے دو گھنٹے خطاب کیا جس میں انہوں نے خدا کی وحدانیت اور قرآن کی حقانیت پر بات کی۔ان کے اذہان سے اسلام کے خلاف وہ زہر نکالنے کی کوشش کی جو متعصب اور اسلام دشمن عیسائی اور یہودی سکالرز نے بھرا تھا۔ قذافی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اسلام میں عورت کے بطور بہن بیٹی بیوی اور ماں کے مقام احترام اور حقوق پر سیر حاصل گفتگو کی۔ پھر ایسی ہی تقریبات کا اہتمام اس سال جون اور اگست 2010میں بھی کیا گیا۔ جون میں 700اور اگست کے آخر میں 500خواتین نے لیکچر میں شرکت کی۔ان لیکچرز میں جہاں کرنل قذافی نے اسلام کے خلاف مخصوص ذہنیت کے حامل غیر مسلموں کے دروغ گوئی پر مبنی پراپیگنڈے کا مدلل جواب دیا وہیں انہوں نے شرکاءکو دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی بھی دعوت کی۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ آخری لیکچر کے بعد تین خواتین حلقہ بگوش اسلام ہوگئیں۔
آج غیر مسلم دنیا میں اسلام کے خلاف وسیع پیمانے پر ہرزہ سرائی کی جاتی ہے۔ مذہب اسلام کو شدت کا مذہب قرار دیا جاتا ہے۔اس کے ماننے والوں کو شدت پسند، انتہا پسند اور دہشت گرد تک ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تنقید اور تضحیک کرنے والے اسلام کی اصلیت سے واقف ہیں لیکن وہ اپنے مخصوص اور مذموم مقاصد کیلئے اسلام اور مسلمانوں کو بد نام کرتے ہیں۔آج اسلام پوری دنیا میں بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے یہ لوگ اسلام کے پھیلاﺅ کو جھوٹ کے زور پر روکنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ بد طنیت بزعم خوشِ سکالرز کی تقرریروںسے متاثر ہوکر ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں وہ اسلامی تعلیمات سے مکمل طورپر نابلد ہوتے ہیں۔آج ان تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی ضرورت ہے۔ کرنل قذافی ایک انوکھی اور انقلابی شخصیت ہیں۔انہوں نے تو مصر کو دعوت دی تھی لیبیا کو مصر میں ضم کرلیا جائے لیکن انور السادات نہیں مانے تھے۔ کرنل قذافی نے غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا ایک منفرد راستہ اختیار کیا۔ جماعت اسلامی، جماعت الدعوة، تحریک منہاج القرآن اور دیگر تنظیمیں غیر مسلموں پر اسلام کی امن پسندی واضح کرنے کیلئے اپنا کوئی لائحہ عمل اور حکمت عملی ترتیب دے سکتی ہیں جس سے ان ذہنوں میں اسلام کے خلاف بھری گئی نفرت کی آگ ٹھنڈی ہوسکے۔
کرنل قذافی کے 14سو غیر مسلم خواتین کو لیکچر دینے کا یہ فائدہ ہوا کہ ان خواتین نے قذافی کا یہ پیغام ہزاروں لوگوں تک پہنچایا، اکیلی برطانیہ کی معروف ایکٹریس سلیوایونزCLIO Evansجس نے قذافی کے تینوں لیکچرز میں شرکت کی تھی اپنے انٹرویوز کے ذریعے لاکھوں یورپی اور دیگر ممالک میں موجود اپنے پرستاروں تک لیکچرز کی مکمل تفصیلات پہنچائیں۔ سلیوایونز نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تاہم وہ قذافی کی مہمان نوازی اور اسلام قبول کرکے لیبیا آنیوالی خواتین کو مکمل تحفظ عزت او راحترام دینے کے اعلان پر بڑی ایکسائٹیڈ ہیں۔ وہ اس پر بھی بڑی خوش ہیں کہ ان تقریبات میں شراب جیسی خرافات کہیں موجود نہیں ہوتیں۔
وضاحت: گذشتہ کالم میں پیر سید صبغت اللہ شاہ کو پھانسی کی تاریخ سہواً غلط شائع ہو گی۔ ان کو 20 مارچ 1943ءکو سزائے موت سے ہمکنار کیا گیا تھا۔

No comments:

Post a Comment