About Me

My photo
Fazal Hussain Awan colomnist Daily NAWAI WAQT awan368@yahoo.com 03334215368

Thursday, September 30, 2010

کولمبس ۔۔ ہمارے آباءاور آج کے حاکم


 ا 30 ستمبر ، 2010



فضل حسین اعوان ـ 
امریکہ کو دریافت کرنے کا سہرا کرسٹوفر کولمبس کے سر باندھا گیا ہے۔ وہ 1451ءمیں پیدا ہوا۔ 1492ءمیں سپین کے شاہ فرڈی نینڈ اور ملکہ ازابیلا نے اسے نئی دنیا دریافت کرنے کیلئے اخراجات اور تین جہاز فراہم کر دئیے۔ اس کی پیدائش سے بھی بہت پہلے ایک نہیں کئی مسلمان اس علاقے میں اتر چکے تھے جسے بعد میں امریکہ کا نام دیا گیا۔ علی المسعودی (871-957) نے اپنی کتاب مروج الذہب میں بحراوقیاس میں ایک نامعلوم سرزمین کا ذکر کیا ہے جسے ارض مجہولہ کا نام دیا گیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جغرافیہ دان محمد الادرپسی (1166۔ 1110) نے بھی اپنی کتاب نزہت المشتاق میں بحراوقیاس (بحر ظلمات) اور نئی دنیا کی تلاش کیلئے مسلم جہاز رانوں کی کوششوں کے بارے میں لکھا ہے۔ وہ بحر ظلمات کے بارے میں لکھتے ہیں ”بحر ظلمات کے اس پار کیا ہے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ اس سمندر کو پار کرنا بہت مشکل ہے اس پر دھند کے گہرے بادل چھائے رہتے ہیں۔ اس کی لہریں بہت طاقتور ہیں۔ یہ خطرات سے پر ہے اور اس میں ہواوں کے تیز جھکڑ چلتے ہیں۔ بحر ظلمات کے جزائر پر سمندر کی لہریں غالب رہتی ہیں کوئی جہاز ان میںداخل نہیں ہوتا بلکہ ساحل سے قریب سے ہوتا ہوا گزر جاتا ہے“ لیکن مسلمان جہاز ران بحر ظلمات کا سینہ چیر کر ان جزائر پر اترے جہاں کے باشندوں کا رنگ سرخ تھا۔کولمبس نے بعدازاں ان جزائر پر پہنچ کر ان باشندوں کو Red Indian کا نام دیا تھا۔ 
ہم مسلمانوں کے جری اور بہادر آباءمیں سے ایک کا نام عقبہ بن نافع ہے۔ وہ بنو امیہ کے جرنیل تھے۔ 670ءمیں عقبہ نے مصر کے صحراوں کو تاراج کرکے شمالی افریقہ پر فتح کا پرچم لہرایا۔ اس کے بعد وہ بحر ظلمات تک پہنچے تو جذبات میں آکر اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا اس سمندر میں جس کی تندوتیز لہریں اور خوفناکی مشاق جہاز رانوں کو بھی بے بس کر دیتی ہیں۔ سمندر میں کھڑے ہوئے عقبہ نے اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ”اگر سمندر میری راہ میں حائل نہ ہوتا تو میں زمین کے آخری کونے تک تیرا نام بلند کرتا چلا جاتا۔ علامہ اقبال نے اسی مناسب سے کہا ہے
دشت تو دشت ہیں صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے
عقبہ جیسے آباءکے کارنامے یاد کرکے سر فخر سے بلند اور آج کے حکمرانوں کی پست سوچ‘ خود غرضی‘ لالچ ....قوی وقار‘ خودداری اور خود مختار ی سے عاری پالیسیوں کے باعث محب وطن لوگوں کی آنکھیں پرنم اور گردنیں جھک جاتی ہیں.... اتحادی فورسز ارض پاک کو لاوارث سمجھ کر جب چاہے ہاتھ میں گنیں تھامے نہتے لوگوں کو خاک اور خون میں ملا دیتی ہیں۔ عرصہ سے بغیر پائلٹ کے جہاز پاکستانی اڈوں سے اڑ کر پاکستانیوں پر بمباری کرتے چلے آرہے ہیں گذشتہ دو تین روز سے نیٹو کے جنگی ہیلی کاپٹروں نے بھی حملے شروع کر دئیے ہیں۔ امریکی حکام واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ ڈرون اور ہیلی کاپٹروں سے پاکستان پر حملوں کی ایک معاہدے کے تحت انہیں اجازت ہے۔ ڈرون حملوں میں ہلاکتوں پر حکومت پاکستان کی طرف سے آج کل قطعاً کوئی ردعمل سامنے نہیں آرہا۔ البتہ اب ہیلی کاپٹروں کی بمباری سے 50 کے قریب افراد مارے گئے تو وزارت خارجہ نے اس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں.... کہاں وہ آباءجنہوں نے گھوڑوں کی ننگی پیٹھ پر سوار رہ کر اسلام کا بول بالا کیا۔ کہاں آج کے ایٹمی قوت کے حامل حکمران جن سے اپنے ممالک کی خود مختاری کا دفاع نہیں ہو رہا۔ بھٹو کے جاں نشیں سوچیں بھٹو زندہ ہوتے تو کیا وہ ان کی طرح امریکی جارحیت کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے؟ غیرت اور قومی وقار کا تقاضا ہے کہ وطن عظیم کی طرف اٹھنے والی انگلی کاٹ دی جائے۔ یہاں تو معاملہ انگلی سے بہت آگے جا چکا ہے۔ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھنے سے پوری قوم پر عذاب نازل ہوتا رہے گا۔ ہمت اور جرات سے ایک ڈرون یا ہیلی کاپٹر گرا لیا جائے ان کی بمباری بھی رک جائے گی اور خودکش حملے بھی!

No comments:

Post a Comment